32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

(1۔ 2) الم۔ اس کے معنی سب سے زیادہ اللہ ہی جاننے والا ہے یا کہ بطور تاکید کے یہ ایک قسم کھائی گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

مگر کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن حکیم کو رسول اکرم ﷺ نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے بلکہ یہ قرآن کریم سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے بذریعہ جبریل آپ پر نازل ہوئی ہے تاکہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعے سے قریش کو ڈرائیں جن میں سے آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا رسول نہیں آیا تاکہ وہ گمراہی سے سیدھے راستے پر آجائیں۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا اس کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کو دنیاوی دنوں کے حساب سے ہر ایک دن ان میں سے ایک ہزار سال کے برابر تھا چھ دن میں پیدا کیا کہ اتوار کے روز سے شروع کیا اور جمعہ کے دن تکمیل فرمائی پھر اختیارات نافذ کرنے کے لیے عرش پر قائم ہوا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی عرش پر تھا۔ اے مکہ والو اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ تمہارا کوئی مددگار ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکے اور نہ کوئی سفارشی ہے جو عذاب الہی کے بارے میں تمہاری سفارش کرسکے پھر کیا تم قرآن حکیم کے ذریعے سے نصیحت حاصل کر کے ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے پھر وہ ایک روز جس کا مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا

وہ آسمان سے لیکر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے وحی فرشتوں کو دے کر بھیجتا ہے اور پھر فرشتے اسی کے حضور میں واپس ہوجاتے ہیں ایک ہی دن میں جس کی مقدار دنیاوی سالوں میں ہزار سال کے برابر ہے کہ فرشتوں کے علاوہ دوسروں کو اترنے اور چڑھنے کے لیے ہزار سال کا زمانہ چاہیے۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب (اور) رحم والا (خدا) ہے

اور وہ مدبر اور تمام باتوں کا جاننے والا ہے جو بندوں پر پوشیدہ ہیں اور ظاہر ہیں۔ کفار کو سزا دینے میں زبردست اور مسلمانوں پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

اس نے جو چیز بنائی وہ خوب اور مضبوط بنائی اور انسان یعنی آدم ؑ کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی

پھر ان کی نسل کو نطفہ یعنی مرد و عورت کے ایک بےقدر پانی سے بنایا۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسکو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

اور پھر ماں کے پیٹ میں اس کے اعضاء درست کیے اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے کان بنائے تاکہ تم ان سے حق اور ہدایت کی باتوں کو سنو اور تمہیں آنکھیں دیں تاکہ حق و ہدایت کو دیکھو اور حق و ہدایت کے سوچنے اور سمجھنے کے لیے دل دیے۔ مگر جتنے میں نے تم پر احسانات و انعامات کیے اس کے مقابلے میں تمہارا شکر کچھ بھی نہیں تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیا میٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں

اور ابو جہل وغیرہ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں نیست و نابود ہوگئے تو کیا پھر مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہوں گے ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ لوگ تو سرے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کا ہی انکار کرتے ہیں۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

آپ ان سے فرما دیجیے کہ تمہاری روحیں موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تمہاری جانیں قبض کرنے پر مقرر ہے اور پھر آخرت میں تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا کر لائے جاؤ گے۔
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (تم تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں

اور اگر آپ قیامت کے دن ان مشرکین کی حالت دیکھیں جب کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ اور کہتے ہوں گے کہ ہمارے پروردگار بس جو چیز ہمیں معلوم نہ تھی وہ اب معلوم ہوگئی اور جس کا یقین نہیں کرتے تھے اب یقین ہوگیا۔ تو ہمیں پھر واپس بھیج دیجیے ہم وہاں جاکر آپ پر ایمان لائیں گے اور خوب نیک کام کیا کریں گے اب ہمیں آپ پر اور آپ کی کتاب اور رسول پر بعث بعد الموت پر پورا یقین آگیا۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

مگر اگر ہمیں یہ منظور ہوتا تو ہر ایک شخص کو اس کی نجات کا راستہ عطا فرماتے لیکن میری بات محقق ہوچکی کہ میں جہنم کو جن و انس میں سے جو کافر ہیں سب سے بھروں گا اور اگر یہ نہ ہوتا تو پھر میں ہر ایک شخص کو معرفت و توحید سے سرفراز فرماتا۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے انکی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو

اب اپنی اس بھول کا مزہ چکھو جس کی وجہ سے تم نے اقرار و عمل سب کو چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اب تمہیں دوزخ میں ڈال دیا اب اپنے کفر کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تو وہی لوگ تصدیق کرتے ہیں کہ جب ان کو اذان و اقامت کے ذریعے پانچوں نمازوں کے لیے بلایا جاتا ہے تو فوراً تواضع و خاکساری کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور وہ لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے اور پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔ یہ آیت منافقین کی حالت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کیونکہ وہ نمازوں کو مجبوری و سستی کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اور ان کے پہلو رات میں سونے کے بعد تہجد کی نماز کے لیے خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کی پانچوں نمازوں کے ذریعے عبادت کرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید سے اور اس کے عذاب کے خوف سے یا یہ مطلب ہے کہ جب تک یہ حضرات عشاء کی نماز نہیں پڑھ لیتے ان کے پہلو بستروں سے علیحدہ رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ شان نزول : تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (الخ) بزاز نے بلال سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے اور کچھ صحابہ کرام مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء تک نماز پڑھنے میں مصروف رہتے تھے تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اس روایت کی سند میں عبداللہ بن شبیب ضعیف راوی ہیں اور امام ترمذی نے تصحیح کے ساتھ حضرت انس سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے انتظار کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

سو ان کو خبر نہیں جو جنت میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان اور ثواب و اعزاز خزانہ غیب میں موجود ہے یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ ہے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہیں۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

لہذا اب بتا کہ جو شخص سچا مسلمان ہوگیا یعنی حضرت علی تو کیا وہ منافق یعنی ولید بن عقبہ بن ابی محی جیسا ہوجائے گا۔ شان نزول : اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا (الخ) واحدی اور ابن عساکر نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ولید بن عقبہ بن معیط نے حضرت علی سے کہا کہ میں آپ سے ہتھیار کے اعتبار سے بھی تیز اور زبان کے اعتبار سے بڑھ کر اور لشکر کے اعتبار سے بھی بڑا ہوں۔ حضرت علی نے اس سے فرمایا خاموش ہوجا تو فاسق ہے اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن عدی اور خطیب نے اپنی تاریخ میں کلبی اور ابو صالح کے واسطے سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور خطیب اور ابن عساکر نے ابن لہیعہ، عمرو بن دینار کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت علی اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی تھی۔ اور اسی طرح اس روایت میں ہے کہ یہ آیت عقبہ بن ولید کے بارے میں نازل ہوئی ہے ولید کے بارے میں نہیں نازل ہوئی۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

اب پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں جماعتوں کا مرنے کے بعد کیا ٹھکانا ہوگا اس کو یوں بیان فرما رہا ہے کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ان کے دنیاوی نیک اعمال کے صلہ میں ان کو آخرت میں ٹھہرے اور قیام کرنے کے لیے جنتیں ملیں گی۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

اور منافقین کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب بھی یہ لوگ دوزخ سے باہر نکلنا چاہیں گے تو لوہے کے گرز مار کر پھر اسی کو دھکیل دیے جائیں گے اور داروغہ ان سے کہے گا کہ دوزخ کا وہ عذاب چکھو کہ جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

اور ہم ان کفار مکہ کو دنیا کا عذاب بھی یعنی قحط بھوک خشکی قتل وغیرہ یا یہ کہ عذاب قبر بھی دوزخ کے عذاب سے پہلے چکھا دیں گے اور ان کو اس لیے ڈرایا جاتا ہے تاکہ یہ کفر سے باز آئیں اور توبہ کریں۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات یاد دلائی جائیں اور پھر وہ ان کا انکار کرے تو ہم ایسے مشرکین پر عذاب نازل کریں گے یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ قرآن حکیم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

اور ہم نے حضرت موسیٰ کو توریت دی تھی تو آپ کی حضرت موسیٰ سے معراج کی شب میں جو بیت المقدس میں ملاقات ہوئی اس کے بارے میں کچھ شک نہ کیجیے اور ہم نے کتاب موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اور بنی اسرائیل جب ایمان و اطاعت پر ثابت قدم رہے تو ہم نے ان میں بہت سے پیشوا بنا دیے تھے جو مخلوق کو ہمارے حکم کی طرف بلاتے تھے اور وہ لوگ اپنی کتاب کی پیش گوئی کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا یقین رکھتے تھے۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

اے محمد ﷺ کا رب مسلمان و کافر یا یہ کہ بنی اسرائیل کے درمیان قیامت کے دن ان دینی امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں یہ باہمی اختلاف کرتے تھے۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

کیا ان کفار مکہ کے سامنے اس چیز سے بھی وضاحت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتوں کو عذاب نازل کر کے ہلاک کرچکے ہیں۔ مثلا قوم شعیب، قوم صالح اور قوم ہود، جن کے رہنے کے مقامات میں لوگ آتے جاتے ہیں۔ یہ جو ہم نے ان قوموں کے ساتھ معاملہ کیا اس میں بعد والوں کے لیے صاف صاف نشانیاں ہیں۔ کیا یہ لوگ پھر بھی اس ذات کی اطاعت نہیں کرتے جو ان کے ساتھ یہ معاملہ کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

کیا کفار مکہ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ ہم خشک بنجر زمین کی طرف پانی پہنچاتے ہیں پھر اس ذریعے سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس سے ان کے مویشی اور وہ خود کھاتے ہیں۔ کیا پھر بھی نہیں جانتے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی طرف سے ہیں۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

اور بنی خزیمہ اور بنی کنانہ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کب فتح ہوگا اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ مکہ فتح ہوگا یہ خاندان والے اس طریقہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ شان نزول : وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ نے فرمایا ہمارے لیے ایک ایسا دن آئے گا جس میں ہم آرام پائیں گے اور دشمن سے راحت میں ہوں گے اس پر مشرکین کہنے لگے وہ ایسی کامیابی کا دن کب آئے گا اگر تم سچے ہو تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ فیصلہ کب ہوگا۔ الخ
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

تو اس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ان سے فرما دجیے کہ فتح مکہ کا دن وہ دن ہے کہ جس دن بنی خزیمہ کا ایمان لانا ان کو قتل سے نہیں بچا سکے گا اور ان کو قتل سے مہلت دی جائے گی۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

سو اے نبی کریم ﷺ آپ بنی خزیمہ کی باتوں کا خیال نہ کیجیے اور آپ فتح مکہ کے دن ان کی ہلاکت کے منتظر رہیے یہ بھی انتظار ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے دن ان لوگوں کو ہلاک کردیا۔ تمت بالخیر