32. Surah As-Sajda
السجدةThe Prostration · 30 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
( سورة نمبر ٣٢۔ کل رکوع ٣۔ آیات ٣٠۔ الفاظ و کلمات ٢٧٤۔ حروف ١٥٧٧۔ مقام نزول مکہ مکرمہ) ( سورة سجدہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید و رسالت ۔ قیامت، آخرت، جزائ، سزا، جنت اور جہنم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں درحقیقت اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ اب قیامت تک دوسرا کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کی فرمانبرداری اور مکمل اطاعت ہی میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ ) مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ کو ایک ماننے، اس کی فرمانبرداری کرنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو مان کر ان کی اطاعت کرنے اور آخرت پر یقین رکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن مجید کو اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے جس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عرب کے لوگ جو صدیوں سے کسی بھی نبی کی آمد سے محروم تھے ان کے لیے اللہ نے اپنی رحمت بنا کر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ یہ قرآن اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے واسطے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے لہٰذا کفارو مشرکین کا یہ کہنا کہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ کر اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اس سے زیادہ لغو، فضول اور بےہودہ بات کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار کی ان باتوں سے قطعاً رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ جو لوگ آج قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں مرنے کے بعد جب یہ لوگ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تہ ندامت اور شرمنگی سے اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہہ اٹھیں گے کہ الہٰی ! ہم اپنی حرکتوں پر شرمندہ ہیں اور یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہم ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے مگر ان کو اس وقت بہت ہی مایوسی ہوگی جب ان سے کہا جائے گا کہ اب نتیجہ کا وقت ہے لہٰذا دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو کفارو مشرکین اور دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام ہوگا دوسری طرف اہل ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس سے ان میں خشوع و خضوع، عاجزی اور انکساری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں، وہ راتوں کو اپنے آرام اور سکون والے بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور کھڑے ہوتے اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جنت کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی راحت بھری جنتوں کی کوش خبری سنائی ہے جو آخرت میں ہر طرح کامیاب و بامراد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے ہدایت دینے والا نہیں آیا۔ “ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عرب سے باہر دوسرے علاقوں میں آنے والے انبیاء کرام کی تعلیمات تو ان تک پہنچی تھیں لیکن انہوں نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا تھا اور صدیوں سے ان کے پاس براہ راست کوئی نبی اور رسول ان کی ہدایت کے لیے نہیں آیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں سب سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) ، اور حضرت صالح (علیہ السلام) دین حق لے کر آئے تھے۔ پھر ان کے بعد حضرت ابرہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دین کی سچائیوں کے ساتھ تشریف لائے جس پر ڈھائی ہزارسال کا عرصہ گذرچکا تھا۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) دین مبین کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ دوڈھائی ہزارسال کا عرصہ طویل عرصہ ہے جس کے دوران حجاز والوں کی ہدایت کے لیے کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدیوں کے بعداہل عرب کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں جن کے بعد کسی نئے نبی اور رسول کا کوئی تصور تک موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اہل عرب کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کر کے اپنی نجات کا سامان کرلیں اگر انہوں نے اس موقع کو ضائع کردیا تو پھر قیامت تک وہ راہ ہدایت حاصل نہ کرسکیں گے۔ اس سورة کے آخر تک اللہ تعالیٰ نے تو حید و رسالت، آخرت، قیامت، جزاء و سزا، جنت و جہنم کا ذکر فرمایا ہے۔ بتایا ہے کہ اسی نے اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور خود انسان کے اپنے وجود کا پیدا کیا ہے جو اس بات پر گواہ ہے کہ سب کا خالق ومالک صرف ایک اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ وہ جب تک چاہے گا یہ دنیا اور اس کے بسنے والے انسان رہیں گے اور جب وہ چاہے گا ان سب چیزوں کو فنا کر کے ایک نیا جہاں تعمیر فرمائے گا۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔ موت کے دروازے سے سب کا گذرنا ہوگا۔ جس نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلی تو وہ ہمیشہ جنت کی راحتوں میں رہے گا۔ لیکن جس نے اس عمل کے وقت کو غفلت اور سستی میں گزار دیا تو پھر آخرت میں اس کی یہ حسرت کام نہ آئے گی کہ اگر اس کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذارے گا۔ فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح اس پیغام حق کو لے کر تشریف لائے ہیں وہ کوئی ایسی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے انبیاء کرام اور خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے نبیوں کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہی کامیاب ہوئے لیکن جو ہٹ دھرمی اور ضد پر جمے رہے اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کیا وہ نا کام و نامراد ہوئے اور ان کے کھنڈرات جن سے دن رات یہ لوگ گذرتے ہیں اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام بڑا بھیانک ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ نظام کائنات جو تمہاری نظروں کے سامنے ہے خود بخود بن کر کھڑا نہیں ہوگیا بلکہ اللہ نے ایک خاص حکمت سے اس کو پیدا کیا۔ انسان کو وجود بخشا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ زندگی اور موت سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہٰذا اس کے لیے یہ ہرگز مشکل نہیں ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ختم ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا کہ آخرت کی زندگی کے لیے ہر ایک کو مسلسل جدوجہد کرنا چاہیے کیونکہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں کی جائے گی بلکہ ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ لوگوں کے گناہوں کی کثرت اور شدت کے باوجود ان کو ایک دم اور اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ ہر انسان کو سنبھلنے سدھرنے کے لیے موقع اور مہلت عطا کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی ڈھیل اور مہلت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا تا اور وہ گناہوں پر جری ہوجاتا ہے تو پھر اللہ کا قانون متوجہ ہوتا ہے اور اللہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جس سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader
الۗمّۗ
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader
اس میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب قرآن مجید تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل فرمائی ہے۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader
کیا وہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو خود گھڑ لیا ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق (کے ساتھ نازل) کیا گیا ہے تاکہ آپ اس سے اس قوم کا ڈرائیں (آگا کریں) جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ تاکہ وہ ہدایت حاصل کرسکیں۔
اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader
اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کی ہے۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ اس کے سوا تمہارا نہ تو کوئی حمایتی و مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader
وہ آسمانوں سے زمین تک ہر معاملہ کی دیکھ بھا ل کرتا ہے۔ پھر ہر معاملہ امر اس کے سامنے ایک ایسے دن میں پہنچ جاتا ہے جو تمہارے شمار میں ایک ہزار سال ہے۔
ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader
وہی ہے جو چھپی ہوئی اور ظاہری چیزوں سے واقف ہے اور زبردست رحمت والا ہے۔
الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader
جس نے ہر چیز کو خوب سے خوب تر بنایا ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کا آغاز مٹی سے کیا۔
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader
پھر اس کی نسل کو ایک بےقدر پانی سے بنایا
ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader
پھر (ماں کے پیٹ میں) اس کے تمام اعضاء درست کئے۔ پھر اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونکا۔ اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیا۔ تم میں سے بہت تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔
وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader
وہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں گم ہوجائیں گے (ذرہ ذرہ ہو کر بکھر جائیں گے) تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ (اصل میں باتی یہ ہے کہ ) یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔
قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تمہاری جان ایک فرشتہ قبض کرتا ہے جو تمہارے اوپر مقرر (متعین) کیا گیا ہے۔ پھر تم سب کو اللہ کی طرف لوٹا یا جائے گا۔
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ اگر آپ وہ وقت دیکھیں جب یہ مجرم اپنے رب کے سامنے (شرمندگی سے) اپنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ (اور کہیں گے کہ اے) ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ ہمیں آپ (دنیا میں) لوٹ جانے دیجئے تاکہ ہم عمل صالح کریں۔ بیشک ہمیں (پوری طرح) یقین آگیا ہے۔
وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader
(ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) اگر ہم جاہتے تو ہم ہر شخص کو (پہلے ہی) ہدایت دے دیتے۔ مگر میری یہ بات برحق ہے کہ میں تمام (نافرمان) جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھردوں گا۔
فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader
اب تم اس دن کی ملاقات کو بھلا دینے کی وجہ سے عذاب چکھتے رہو۔ (آج) ہم نے تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے تھے اس کے بدلے میں ہمیشگی کا عذاب کا مزہ چکھو۔
اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader
ہماری آیتوں پر تو وہ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader
ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کو امید اور خوف کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے وہ (اس میں سے) خرچ کرتے ہیں۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader
پھر کسی کو یہ نہیں معلوم (کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے بدلے) اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کہاں چھپارکھی ہے۔ یہ ان کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہوگا جو کچھ وہ کرتے تھے۔
اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader
کیا پھر وہ شخص جو مومن ہے ایک نافرمان کے برابر ہو سکتا ہے۔ یقینا وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader
وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کا ٹھاکانا جنتیں ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے تھے (اس کے بدلے میں) ان کی یہ مہمان نوازی ہوگی۔
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader
اور جنہوں نے نافرمانی کی ہوگی ان کا ٹھاکانا جہنم ہے۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو ان کو اسی میں دھکیل دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اس جہنم کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader
البتہ ہم (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے (دنیا میں چھوٹے چھوٹے) عذاب چکھاتے رہیں گے۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader
اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یا ددلائی گئیں تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ بیشک ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader
اس (قرآن کریم) سے پہلے ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ کتاب دے چکے ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی لہٰذا آپ اس چیز (قرآن مجید) کے ملنے پر شک نہ کیجئے۔
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader
ہم نے ان (بنی اسرئیل) میں جب تک وہ صبر سے کام لیتے رہے ایسے رہبر و رہنما بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جس بات میں وہ (بنی اسرائیل) اختلاف کرتے رہے ہیں۔
اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader
کیا ان کی ہدایت کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی قوموں کو تباہ برباد کردیا تھا جن کے گھروں (کھنڈرات) میں یہ چلتے پھرتے ہیں بلا شبہ ان میں بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر وہ (حق بات کو) سنتے نہیں ہیں۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader
کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم ایک خشک (مردہ) زمین کی طرف پانی بہا کرلے جاتے ہیں۔ پھر اسی سے ہم وہ فصل اگاتے ہیں جس سے ان کے جانور اور یہ خود اس سے کھاتے ہیں۔ کیا وہ (اس میں) غور و فکر نہیں کرتے ؟
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader
وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتائو) یہ فیصلے (کادن) کب ہوگا ؟
قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ فیصلے کے دن (ان کافروں کو) نہ تو ان کا ایمان لانا نفع دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے۔ (اللہ کی طرف سے فیصلے کا) انتظار کیجئے۔ بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔