32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

( سورة نمبر ٣٢۔ کل رکوع ٣۔ آیات ٣٠۔ الفاظ و کلمات ٢٧٤۔ حروف ١٥٧٧۔ مقام نزول مکہ مکرمہ) ( سورة سجدہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید و رسالت ۔ قیامت، آخرت، جزائ، سزا، جنت اور جہنم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں درحقیقت اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ اب قیامت تک دوسرا کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جن کی فرمانبرداری اور مکمل اطاعت ہی میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ ) مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اللہ کو ایک ماننے، اس کی فرمانبرداری کرنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو مان کر ان کی اطاعت کرنے اور آخرت پر یقین رکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن مجید کو اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آہستہ آہستہ نازل کیا ہے جس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ نزول قرآن کا بنیادی مقصد بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عرب کے لوگ جو صدیوں سے کسی بھی نبی کی آمد سے محروم تھے ان کے لیے اللہ نے اپنی رحمت بنا کر حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ یہ قرآن اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے واسطے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے لہٰذا کفارو مشرکین کا یہ کہنا کہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود گھڑ کر اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اس سے زیادہ لغو، فضول اور بےہودہ بات کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ کفار کی ان باتوں سے قطعاً رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ جو لوگ آج قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں مرنے کے بعد جب یہ لوگ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تہ ندامت اور شرمنگی سے اپنے سروں کو جھکائے کھڑے ہوں گے اور کہہ اٹھیں گے کہ الہٰی ! ہم اپنی حرکتوں پر شرمندہ ہیں اور یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہم ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے مگر ان کو اس وقت بہت ہی مایوسی ہوگی جب ان سے کہا جائے گا کہ اب نتیجہ کا وقت ہے لہٰذا دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو کفارو مشرکین اور دین کا مذاق اڑانے والوں کا انجام ہوگا دوسری طرف اہل ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کی نازل کی ہوئی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو اس سے ان میں خشوع و خضوع، عاجزی اور انکساری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں، وہ راتوں کو اپنے آرام اور سکون والے بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور کھڑے ہوتے اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے جنت کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی راحت بھری جنتوں کی کوش خبری سنائی ہے جو آخرت میں ہر طرح کامیاب و بامراد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سے پہلے ہدایت دینے والا نہیں آیا۔ “ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عرب سے باہر دوسرے علاقوں میں آنے والے انبیاء کرام کی تعلیمات تو ان تک پہنچی تھیں لیکن انہوں نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا تھا اور صدیوں سے ان کے پاس براہ راست کوئی نبی اور رسول ان کی ہدایت کے لیے نہیں آیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں سب سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) ، اور حضرت صالح (علیہ السلام) دین حق لے کر آئے تھے۔ پھر ان کے بعد حضرت ابرہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دین کی سچائیوں کے ساتھ تشریف لائے جس پر ڈھائی ہزارسال کا عرصہ گذرچکا تھا۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) دین مبین کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ دوڈھائی ہزارسال کا عرصہ طویل عرصہ ہے جس کے دوران حجاز والوں کی ہدایت کے لیے کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدیوں کے بعداہل عرب کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں جن کے بعد کسی نئے نبی اور رسول کا کوئی تصور تک موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اہل عرب کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کر کے اپنی نجات کا سامان کرلیں اگر انہوں نے اس موقع کو ضائع کردیا تو پھر قیامت تک وہ راہ ہدایت حاصل نہ کرسکیں گے۔ اس سورة کے آخر تک اللہ تعالیٰ نے تو حید و رسالت، آخرت، قیامت، جزاء و سزا، جنت و جہنم کا ذکر فرمایا ہے۔ بتایا ہے کہ اسی نے اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور خود انسان کے اپنے وجود کا پیدا کیا ہے جو اس بات پر گواہ ہے کہ سب کا خالق ومالک صرف ایک اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ وہ جب تک چاہے گا یہ دنیا اور اس کے بسنے والے انسان رہیں گے اور جب وہ چاہے گا ان سب چیزوں کو فنا کر کے ایک نیا جہاں تعمیر فرمائے گا۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ رہے گا۔ موت کے دروازے سے سب کا گذرنا ہوگا۔ جس نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا اور ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلی تو وہ ہمیشہ جنت کی راحتوں میں رہے گا۔ لیکن جس نے اس عمل کے وقت کو غفلت اور سستی میں گزار دیا تو پھر آخرت میں اس کی یہ حسرت کام نہ آئے گی کہ اگر اس کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذارے گا۔ فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح اس پیغام حق کو لے کر تشریف لائے ہیں وہ کوئی ایسی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے انبیاء کرام اور خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے نبیوں کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہی کامیاب ہوئے لیکن جو ہٹ دھرمی اور ضد پر جمے رہے اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کو ماننے سے انکار کیا وہ نا کام و نامراد ہوئے اور ان کے کھنڈرات جن سے دن رات یہ لوگ گذرتے ہیں اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام بڑا بھیانک ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ نظام کائنات جو تمہاری نظروں کے سامنے ہے خود بخود بن کر کھڑا نہیں ہوگیا بلکہ اللہ نے ایک خاص حکمت سے اس کو پیدا کیا۔ انسان کو وجود بخشا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت پر لگا دیا۔ زندگی اور موت سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہٰذا اس کے لیے یہ ہرگز مشکل نہیں ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ختم ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا کہ آخرت کی زندگی کے لیے ہر ایک کو مسلسل جدوجہد کرنا چاہیے کیونکہ مرنے کے بعد سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں کی جائے گی بلکہ ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ وہ لوگوں کے گناہوں کی کثرت اور شدت کے باوجود ان کو ایک دم اور اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ ہر انسان کو سنبھلنے سدھرنے کے لیے موقع اور مہلت عطا کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی ڈھیل اور مہلت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا تا اور وہ گناہوں پر جری ہوجاتا ہے تو پھر اللہ کا قانون متوجہ ہوتا ہے اور اللہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جس سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

Ayahs 32:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ یہ کتاب قرآن مجید تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل فرمائی ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو خود گھڑ لیا ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق (کے ساتھ نازل) کیا گیا ہے تاکہ آپ اس سے اس قوم کا ڈرائیں (آگا کریں) جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ تاکہ وہ ہدایت حاصل کرسکیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 3) تنزیل (آہستہ آہستہ اتارنا) ۔ افتریٰ (اس نے گھڑلیا۔ بنا لیا) ۔ الحق (سچ، سچائی) ۔ تنذر (توڈراتا ہے۔ آگاہ کرتا ہے) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” سورة السجدہ کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ ان حروف کے متعلق اس سے پہلی سورتوں میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے۔ یہ حروف آیات متشابھات میں سے ہیں یعنی ان کے معنی اور مراد کا علم اللہ رب العالمین کو ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں۔ “ اس سورت کی ابتداء اس اعلان سے کی گئی ہے کہ یہ وہ کتاب (قرآن مجید) ہے جس کو تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل کیا ہے۔ جس کی بنیاد یقین پر ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ کتاب سراسر ہدایت ، رلنمائی، نور اور روشنی ہے جو قیامت تک آنے والوں کے لئے رہبر و رہنما ہے۔ یہ کتاب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ سچائی کا پیغام ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ اور خبردار کردیا جائے جن کے پاس اس سے پہلے تک کوئی رہبر و رہنما نہیں آیا تھا۔ شاید اس طرح وہ راہ ہدایت حاصل کرلیں۔ اصل میں ایمان اور توحید کی دعوت جزیرۃ العرب کے رہنے والوں تک مختلف ذرائع سے پہنچ چکی تھی جس سے وہ اچھی طرح واقف تھے لیکن خود ان میں دوڈھائی ہزار سال سے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) جو جزیرۃ العرب میں اللہ کے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے ان کو گذرے ہوئے دو ہزار سال اور ان سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو آئے ہوئے اس سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس کتاب الہٰی کے ذریعہ ان کو آگاہ اور خبردار کر دیجئے جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ” نذیر “ ڈرانے والا آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ امید ہے اس طرح وہ راہ ہدایت حاصل کرسکیں گے۔ جب نبی کریم ﷺ حضرت محمد مصطفیمکو مبعوث فرمایا گیا اس وقت بھی ورقہ ابن نوفل اور زید ابن عمرو جیسے لوگ تھے جو حضرت ابرہیم (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کرام پر ایمان رکھتے تھے بلکہ بت پرستی اور نتوں پر قربانیوں کو برا سمجھنے والوں کی بھی بہت بڑی تعداد موجودہ تھی۔ خود ان بت پرستوں کا بھی اس بات پر ایک حد تک یقین تھا کہ اس پوری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ابتداء میں وہ بت پرست بھی نہ تھے بعد میں بت پرستی ان میں اس قدر سرایت کرگئی تھی کہ وہ اللہ کو خالق ومالک ماننے کے باوجودجب تک اپنے بتوں کے وسیلے سے دعا نہ کرتے اس وقت تک یہ سمجھتے تھے کہ ہماری دعائیں اور عبادتیں قبول نہیں ہو سکتیں۔ وسیلے اور رسموں کے چکر میں اس طرح پھنسے ہوئے تھے کہ ان کے مقابلے میں علم و عمل اور ہر سچائی کو بےحقیقت سمجھتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ اسے جو بھی پکارتا ہے، فریاد کرتا ہے، دعائیں کرتا ہے وہ ان کو سنتا اور ان کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ وہ انسان کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس کی بارگاہ میں مانگنے کے لیے کسی ذریعہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر انسان ہر وقت صرف اسی ایک اللہ کی بارگاہ میں جھکا رہے تو اس کو سب کچھ مل جاتا ہے۔ باپ دادا سے چلتی ہوئی رسموں کے متعلق فرمایا گیا کہ ایسے لوگ یہ بتائیں کہ اگر ان کے باپ دادا کو شیطان نے کسی غلط راستے پر ڈال دیا ہو تو کیا پھر بھی وہ اسی غلطی کو دھراتے رہیں گے ؟
Ayahs 32:4–11

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان کو چھ دنوں میں پیدا کی ہے۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ اس کے سوا تمہارا نہ تو کوئی حمایتی و مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمانوں سے زمین تک ہر معاملہ کی دیکھ بھا ل کرتا ہے۔ پھر ہر معاملہ امر اس کے سامنے ایک ایسے دن میں پہنچ جاتا ہے جو تمہارے شمار میں ایک ہزار سال ہے۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی ہے جو چھپی ہوئی اور ظاہری چیزوں سے واقف ہے اور زبردست رحمت والا ہے۔

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو خوب سے خوب تر بنایا ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی پیدائش کا آغاز مٹی سے کیا۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل کو ایک بےقدر پانی سے بنایا

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر (ماں کے پیٹ میں) اس کے تمام اعضاء درست کئے۔ پھر اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونکا۔ اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیا۔ تم میں سے بہت تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

وہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں گم ہوجائیں گے (ذرہ ذرہ ہو کر بکھر جائیں گے) تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ (اصل میں باتی یہ ہے کہ ) یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تمہاری جان ایک فرشتہ قبض کرتا ہے جو تمہارے اوپر مقرر (متعین) کیا گیا ہے۔ پھر تم سب کو اللہ کی طرف لوٹا یا جائے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے کہ اس نے چھ دنوں میں زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کیا اور ساتویں دن وہ اپنی شان کے مطابق تخت سلطنت پر قائم اور جلوہ گر ہوا۔ اس میں یہودیوں کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ اللہ نے چھ دنوں میں اس پوری کائنات کو بنایا اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ یہودیوں نے یہ مسئلہ گھڑ رکھا ہے کہ جس طرح اللہ نے چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کیا تھا اسی طرح تمام لوگوں کو ہفتہ کے دن آرام کرنا چاہیے حالانکہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی حفاظت سے کبھی تھکتا نہیں لیکن یہودیوں نے اس عقیدے کو اپنے اوپر اس طرح مسلط کرلیا ہے کہ وہ ہفتہ کے دن اس طرح آرام کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز کو جاتھ تک نہیں لگاتے۔ اللہ نے یہودیوں کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک اللہ نے اس کائنات کو آہستہ آہستہ ایک خاص نظام کے تحت بنایا ہے اور چھ دنوں یا مدتوں میں اس کو مکمل کیا ہے لیکن اس نے ساتویں دن آرام نہیں کیا بلکہ وہ اپنی شان کے مطابق تخت سلطنت پر جلوہ گر ہوا یعنی اس نے نظام کائنات کو اپنی مرضی کے اور شان کے مطابق چلانا شروع کیا۔ فرمایا کہ وہ اللہ ہی سب چیزوں کا اور انسانوں کا مالک ہے اس کی اجازت کے بغیر نہ کوئی کسی کی حمایت کرسکتا ہے اور نہ سفارش ۔ کیا وہ اتنی سی بات پر دھیان نہیں دے سکتے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہی اس کائنات میں ہر چھوٹے، بڑے اور اہم معاملے کا انتظام فرماتا ہے۔ زمین سے آسمان تک جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اس کے پاس پہنچتا ہے اور پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے ایک دن کی مقدار انسانی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ برسوں سے ایک ہی بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی تو ان پر اللہ کا عذاب آئے گا، ان کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ لیکن ہم پر کوئی عذاب نہیں آیا لہذا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورة الحج میں فرمایا کہ یہ لوگ عذاب الہی کی جلدی مچا رہے ہیں تو وہ یادرکھیں کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے (جو پورا ہو کررہے گا کیونکہ) اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ کے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ایک ہزار سال جیسا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں آیا کرتے کیونکہ قوموں کی زندگیوں میں نتائج ظاہر ہونے کے لئے صدیاں بھی لگ جاتی ہیں۔ لہذا جب اس کا فیصلہ آجائے گا تو پھر اس میں دیر نہیں ہوگی۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ کوئی چیز ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہو اس سے وہ پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ زبردست ہے لیکن اس کی ہر صفت پر صفت رحمت غالب ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اس کائنات میں جتنی چیزیں بھی نبائی ہیں وہ بہترین ہیں۔ انسان لاکھ تدبیر کے باوجود قدرت کی نبائی ہوئی چیزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر اس نے انسان کو اس کی بنیادی کمزوریوں کے باوجود سب سے خوبصورت اور حسین بنایا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس بات پر غور کرو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جن کو مٹی، گارے اور تمام انسانوں کو ایک حقیر اور بےقیمت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ اس نے ماں کے پیٹ میں اس کے تمام اعضا کو تیار کیا۔ اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونک کر زندگی عطا کی، سننے کے لئے کان، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سوچنے کے لئے دل عطا فرمایا۔ یہ ایسی زبردست نعمتیں ہیں جن پر ہر انسان کو شکرادا کرنا چاہیے مگر بہت تھوڑے لوگ ہیں جو قدر کرتے ہیں ورنہ اکثر تو ناشکری ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور اس قدرت کو اچھی طرح ماننے کے باوجود یہی کہتے رہتے ہیں کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی میں رل مل جائیں گے۔ ہمارے وجود کے ذرات کا بھی پتہ نہ ہوگا کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ فرمایا کہ جس اللہ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے کیا وہ اس کو دوبارہ پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟ یقینا صرف اللہ ہی اس کی طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ اصل بات یہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی بد نصیبی ہے کہ وہ اللہ کے پاس پہنچنے کی امید نہیں رکھتے۔ اگر وہ اللہ سے ملاقات کا یقین رکھتے اور اس حقیقت کا انکار نہ کرتے تو پھر وہ ایسی بےتکی باتیں نہ کرتے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ تم آخرت میں پہنچ کر اللہ کی ملاقات پر یقین کرو نہ کرو بہر حال ایک وقت سب کو دیکھنا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے جس فرشتے کو (عزرائیل (علیہ السلام) کو) اس بات پر مقرر کیا ہے کہ وہ ہر نفس انسانی اور ہر جان دار کو موت سے ہم کنار کرے گا اور پھر سب کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ یعنی وہاں پھر ہر انسان کے اعمال کا جائزہ لیکر اس کو جنت یا جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اللہ کی قدرت ، طاقت اور نظام کائنات کی بقیہ تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہیں۔
Ayahs 32:12–17

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگر آپ وہ وقت دیکھیں جب یہ مجرم اپنے رب کے سامنے (شرمندگی سے) اپنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ (اور کہیں گے کہ اے) ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ ہمیں آپ (دنیا میں) لوٹ جانے دیجئے تاکہ ہم عمل صالح کریں۔ بیشک ہمیں (پوری طرح) یقین آگیا ہے۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

(ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے) اگر ہم جاہتے تو ہم ہر شخص کو (پہلے ہی) ہدایت دے دیتے۔ مگر میری یہ بات برحق ہے کہ میں تمام (نافرمان) جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھردوں گا۔

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

اب تم اس دن کی ملاقات کو بھلا دینے کی وجہ سے عذاب چکھتے رہو۔ (آج) ہم نے تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے تھے اس کے بدلے میں ہمیشگی کا عذاب کا مزہ چکھو۔

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں یاد دلایا جاتا ہے تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کو امید اور خوف کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے وہ (اس میں سے) خرچ کرتے ہیں۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پھر کسی کو یہ نہیں معلوم (کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے بدلے) اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کہاں چھپارکھی ہے۔ یہ ان کے کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہوگا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ناکسوا (جھکانے والے) ۔ موقنون (یقین کرنے والے) ۔ حق القول (سچی بات ثابت ہونا) ۔ املٔن (میں ضرور بھردوں گا) ۔ ذوقوا (تم چکھو) ۔ نسیتم (تم نے بھلادیا) ۔ خروا (وہ گر پڑے) ۔ تتجافی (الگ رہتی ہے) ۔ جنوب (جنب) (پہلو) ۔ المضاجع (آرام کی جگہ) ۔ اخفی (چھپا دیا گیا) ۔ قرۃ (ٹھنڈک) ۔ اعین (عین) (آنکھیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (12 تا 17) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ چیزوں میں اختیار دیا ہے اور کچھ چیزوں میں مجبور بنایا ہے۔ قیامت کے دن فیصلہ اس کے اختیار کئے ہوئے راستے اور اعمال پر ہوگا۔ اگر کسی نے ہدایت آنے کے باوجود غلط اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو قیامت کے دن جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا وہ شرمندگی کے مارے اپنا سر نہ اٹھا سکے گا اور یہی کہے گا کہ الہی اب تو میں نے سب کچھ اپنی آنکھ سے دیکھ لیا اور سب کچھ سن بھی لیا۔ مجھے پورا یقین حاصل ہوگیا ہے بس مجھے ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع دے دیجئے میں وہاں جا کر ایمان اور عمل صالح اختیار کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اگر ہم چاہتے تو سب کو سیدھے راستے پر قائم کردیتے یعنی اس کو کسی طرح کا اختیارنہ دیتے لیکن جب دنیا میں اس نے اپنے اختیار کا غلط انداز قائم کیا تو اب فیصلے کا دن ہے اور پیغمبروں کے ذریعہ جس بات کو پہنچایا گیا تھا اب وہ بات سچی ہو کر رہے گی اور میں نافرمانوں، گناہ گاروں اور کفر وشرک اختیار کرنے والوں سے جہنم کو بھردوں گا۔ ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کو بھلا دیا تھا آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں۔ اب جہنم کے عذاب کا مزہ چکھو ۔ یہ عذاب تمہارے کئے ہوئے غلط کاموں کے بدلے میں دائمی عذاب کی شکل میں دیا جا رہا ہے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ (1) جو اللہ کی آیتوں پر کامل یقین رکھنے والے تھے (2) جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی تھیں تو وہ سجدوں میں گر کر اپنے پروردگار کی حمد وثناء کرتے تھے (3) کسی طرح کا تکبر اور غرور نہ کرتے تھے (4) جو راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادتوں میں مشغول رہتے تھے (5) جو خوف اور اس کی رحمت کی امید پر اپنے رب کو پکارتے تھے (6) اور اللہ نے ان کو جو کچھ عطا فرمایا تھا اس میں کنجوسی کے بجائے اسے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے ایسی جنتیں عطا کی جائیں گی جن کا اس دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کو یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اللہ نے کہاں چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ ایسے اہل ایمان کا ہو عمل اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں کو جنت کی ابدی اور دائمی راحتیں عطا فرمائیں گے جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کے سکون کا ذریعہ ہوں گی۔ نبی کریم ﷺ نے جنت کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ جنت وہ ہے جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ اس کا تصور کسی کے دل پر گذرا ہے۔ یعنی وہ جنتیں کیا ہوں گی اس دنیا میں رہ کر ان کو تصور ، خیال اور فکر ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayahs 32:18–22

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

کیا پھر وہ شخص جو مومن ہے ایک نافرمان کے برابر ہو سکتا ہے۔ یقینا وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کا ٹھاکانا جنتیں ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے تھے (اس کے بدلے میں) ان کی یہ مہمان نوازی ہوگی۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ہوگی ان کا ٹھاکانا جہنم ہے۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے تو ان کو اسی میں دھکیل دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اس جہنم کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

البتہ ہم (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے (دنیا میں چھوٹے چھوٹے) عذاب چکھاتے رہیں گے۔ شاید کہ وہ باز آجائیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات یا ددلائی گئیں تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ بیشک ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر (18 تا 22) ۔ لا یستون (وہ برابر نہیں ہیں) ۔ الماوی (ٹھکانا) ۔ نزلا (مہمان داری۔ مہمان نوازی) ۔ اعیدوا (لوٹا دیئے گئے) ۔ نذیقن (ہم ضرور چکھائیں گے) ۔ الادنی (چھوٹا۔ گھٹیا) ۔ ذکر (یاد دلایا گیا) ۔ اعرض (اس نے منہ پھیرلیا) ۔ منتقمون (انتقام لینے والے۔ بدلہ لینے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر (18 تا 22) ۔ ” مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات اور دین کی ہر سچائی کو دل سے قبول کر کے عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف فاسق وہ نافرمان شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے خلاف چلتا ہے۔ جب اس کے سامنے دین کی سچائی اور روشنی آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر کے بغاوت اور نافرمانی پر اتر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دونوں الگ الگ مزاج اور عمل کے لوگ ہیں یہ دونوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں ؟ دنیا اور آخرت میں مومن و فاسق کا انجام ایک جیسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لئے ایسی جنتیں ہوں گی جو ان کا مستقل ٹھکانا ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے مشفق و مہربان پروردگار کی طرف سے ہر طرف سے ہر طرح دل داری اور میزبانی ہوگی۔ اسکے بر خلاف وہ لوگ جو دنیا میں فاسق و نافرمان ہوں گے۔ کفروشرک میں مبتلا اور اللہ کے احکامات کے باغی ہوں گے ان کی سزا جہنم کی وہ بھڑکتی آگ میں دھکیل دیں گے اور ان نافرمانوں سے کہیں گے کہ اب تم اپنے کرتوتوں کو سزا بھگتو اور عذاب کا مزہ چکھو۔ فرمایا کہ یہ تو ” عذاب اکبر “ یعنی بڑا عذاب ہوگا جس سے چھٹکارا نہ مل سکے گا لیکن ایسے لوگوں کو آگاہ کرتے اور اپنے اعمال بد سے توبہ کرکے رجوع کرنے کے لئے دنیا میں ” عذاب ادنی “ کم درجہ کا عذاب دیا جائے گا جیسے چھوٹے بڑے نقصانات، ہر چیز میں بےبرکتی، حادثات، ذلت و رسوائی، اجتماعی زندگی میں طوفان، زلزلے، بارشوں کی کمی، قحط سالی، طرح طرح کی وبائیں، بیماریاں، باہمی لڑائی جھگڑے، قتل و غارت گری، فسادات اور بد امنی یہ سب عذاب ادنی ہیں۔ یہ عذاب اس لئے آتے ہیں تاکہ ان جھٹکوں سے بری اور نافرمانی کی راہ پر چلنے والے عقل و سمجھ سے کام لیں۔ لیکن اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں اور مرنے سے پہلے اس سے توبہ نہ کریں تو دنیا کے ان معمولی عذابوں کے بعدوہ آخرت کے ابدی عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اپنے برے انجام سے دو چار ہوں گے۔ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور بےانصاف کون شخص ہوگا جس کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے آگاہی اور یاد دھانی آئی لیکن اس کے باوجود وہ اپنی روشن زندگی سے باز نہیں آیا ؟ فرمایا کی ایسے ظالموں سے اللہ انتقام ضرور لے گا اور ایسے لوگ دنیا اور آخرت میں شدید نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ اس جگہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر مصیبتیں، مشکلات اللہ کی فرماں برداری اور دین کی سر بلندی میں آئیں تو وہ عذاب نہیں ہوتیں بلکہ دنیا اور آخرت میں درجات کی بلندی اور آخرت میں نجات کا باعث ہیں۔ لیکن اگر اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے احکامات سے بغاوت کی وجہ سے یہ تکلیفیں آئیں تو وہ اللہ کی طرف سے سزا کے طور پر ہیں۔ انبیاء کرام ؓ اور ان کے راستے پر چلنے والوں کو جو مشکلات، مصائب پیش آتے ہیں وہ اللہ کی رحمت ہیں اور ان کا آخرت میں بہت بڑا اجر وثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فسق و فجور سے محفوظ فرما کر نیکی اور تقوی کی زندگی اور آخرت کی نجات عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 32:23–30

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اس (قرآن کریم) سے پہلے ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ کتاب دے چکے ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی لہٰذا آپ اس چیز (قرآن مجید) کے ملنے پر شک نہ کیجئے۔

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

ہم نے ان (بنی اسرئیل) میں جب تک وہ صبر سے کام لیتے رہے ایسے رہبر و رہنما بنائے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا جس بات میں وہ (بنی اسرائیل) اختلاف کرتے رہے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کی ہدایت کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی قوموں کو تباہ برباد کردیا تھا جن کے گھروں (کھنڈرات) میں یہ چلتے پھرتے ہیں بلا شبہ ان میں بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر وہ (حق بات کو) سنتے نہیں ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم ایک خشک (مردہ) زمین کی طرف پانی بہا کرلے جاتے ہیں۔ پھر اسی سے ہم وہ فصل اگاتے ہیں جس سے ان کے جانور اور یہ خود اس سے کھاتے ہیں۔ کیا وہ (اس میں) غور و فکر نہیں کرتے ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

وہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتائو) یہ فیصلے (کادن) کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ فیصلے کے دن (ان کافروں کو) نہ تو ان کا ایمان لانا نفع دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) آپ ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے۔ (اللہ کی طرف سے فیصلے کا) انتظار کیجئے۔ بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔ مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔ تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔ اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی وجہ سے سخت رنجیدہ ہوجایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ اور آپ کے جان نثاروں کی تسلی اور اطمینان کے لئے فرمایا کہ آپ ان کفارو مشرکین کی باتوں سے رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں اور نہ اپنے دل میں کسی طرح کا شک و شبہ آنے دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں اپنے بہت سے رسولوں کو کتاب ہدایت دے کر بھیجا ہے جس کو ماننے والے لوگ جب بھی حق و صداقت پر ڈٹ گئے اور صبر و برداشت سے کام لیا تو ان کو امت کی رہنمائی اور رہبری کے لیے پیشوائیت و امامت کا اعلی مقام عطا کیا گیا۔ ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا نازل ہونا اور حق و صداقت کے راستے میں شدید تر حالات کا پیش آجانا کوئی ایسی انوکھی یا نئی بات نہیں ہے جس پر کفار باتیں بنا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توریت جیسی کتاب ہدایت عطا کی گئی تھی جس سے بنی اسرائیل کی بھٹکی ہوئی قوم کو راہ ہدایت نصیب ہوئی اور جن لوگوں نے اللہ کی کتاب اور نبی کی رسالت کو مان کر صبر و تحمل اور برداشت سے ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دین کو غالب کرنے کے لئے ہر طرح کی جدوجہد کی وہ دین و دنیا میں کامیاب وبا مراد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ ہمارا کلام ہے جو بھی اس کو مان کر اس پر عمل کرے گا اس کو دنیا اور آخرت کی عظمتیں نصیب ہوں گی لیکن جو اس کو نہیں مانتا یا اختلاف کرتا ہے تو اس کا فیصلہ قیامت کے دن کردیا جائے گا۔ فرمایا کہ آپ ان باتوں کی پرواہ نہ کیجئے اور پیغام حق پہنچانے میں کمی نہ کیجئے۔ فرمایا کہ ان کی ہدایت اور عبرت و نصیحت کے لئے تو گذری ہوئی قوموں کے کھنڈرات ہی کافی ہیں جن میں یا جن کے پاس سے یہ لوگ رات دن آتے جاتے رہتے ہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ قوم عاد اور ثمود جو دنیا کی ترقی یافتہ عظیم قومیں تھیں جنہوں نے ایک اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر اپنے سیکڑوں بت بنالئے تھے اور ہر وہ طریقہ اپنا لیا تھا جس سے اللہ کی نافرمانی ہو تو پھر ان قوموں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا جن کے کھنڈرات اللہ کے غضب اور ان قوموں کی نافرمانیوں کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی اپنی نافرمانیوں کو نہیں چھوڑ تے تو ان کو اپنے برے انجام کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ جب کفار عرب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی غریبانہ زندگی کو دیکھتے تو اس کا بھی مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج یہ اہل ایمان جس غربت اور مفلسی کی حالت میں ہیں یہ اسی طرح نہیں رہے گی بلکہ حالات بدلیں گے اور ان کو نہ صرف دنیا کی خوش حالی نصیب ہوگی بلکہ آخرت کی تمام کامیابیاں بھی ان کو عطا کی جائیں گی۔ اسی بات کو ایک محسوس مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ ایک خشک اور مردہ زمین کو دیکھ کر بظاہریہ ناممکن نظر آتا ہے کہ یہ زمین بھی کبھی سر سبز و شاداب ہوگی مگر پانی کے ایک ہی ریلے سے زمین کا رنگ بدل جاتا ہے۔ درختوں پر شادابی آجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں، سبزہ ہر طرف نظر آنے لگتا ہے اور ہر طرف ایک زندگی اور بہار نظر آنے لگتی ہے۔ ایسی ایسی چیزیں اگنا شروع ہوجاتی ہیں جو انسانوں، چوپایوں اور دوسرے جان داروں کی غذابننا شروع ہوجاتی ہیں۔ فرمایا کہ اسی طرح دین اسلام کی دعوت اور صحابہ کرام ؓ کی حالت بےرنگ سی نظر آتی ہے مگر جب حق و صداقت پوری طرح نکھر کر اور ابھر کر سامنے آیے گی تو یر طرف ایمان کی روشنی سے دل جگمگا اٹھیں گے، رونقیں، بہاریں ہوں گی اور دنیاو آخرت میں سر بلندیاں حاصل ہونا شروع ہوجائیں گی۔ لہذا ان کا یہ کہنا کہ وہ فیصلے اور فتح کا دن کب آئے گا ایک بےمعنی سی بات نظر آتی ہے کیونکہ جب وہ فیصلے اور فتح کا دن آئے گا تو وہ دن کفار و مشرکین کے لئے کوئی اچھا دن نہ ہوگا کیونکہ اس دن نہ تو ان کا ایمان لاناقبول کیا جائے گا اور نہ سنبھلنے کا ان کو موقع دیا جائے گا۔ انہیں تو اس دن کے آنے سے پہلے ہی توبہ کرلینی چاہیے کیونکہ وقت گذرنے کے بعد صرف ایک پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ اس وقت کو غنیمت چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار کی فضول باتوں کی پرواہ نہ کیجئے۔ ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دیجئے کیونکہ اللہ نے جس فیصلے کے دن کا وعدہ کر رکھا ہے وہ آکر رہے گا۔ آپ اس کا انتظار کیجئے۔ اور ان لوگوں کو اپنے خیالوں کی دنیا میں منتظر اور بھٹکنے لے لئے چھوڑ دیجئے۔ الحمدللہ سورة السجدہ کا ترجمہ و تشریح مکمل ہوا۔ اللہ ہمیں حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین واخر دعواناان الحمد للہ رب العالمین