32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 32:1
ترکیب : الم یجوز ان یکون مبتدء و تنزیل خبرہ والتنزیل بمعنی المنزَّل۔ ھذا اذا جعل الم اسماً للسورۃ او القرآن فعلی ھذا لاریب فیہ حال من الکتاب والعامل تنزیل و من رب متعلق بتنزیل و لاریب ھھنا مبنیٌّ۔ وان جعل تعدید الحروف فقط کان تنزیل خبر مبتدء محذوف او مبتدء خبرہ لاریب فیہ فیکون من رب العالمین حالاً من الضمیر فی فیہ ویمکن ان یکون خبر ابعد خبر و لا ریب فیہ حال من الکتاب او اعتراض۔ ام منقطعۃ بمعنی بل ما اتہم مانافیۃ والجملۃ صفۃ لقوم من السماء الی الارض الجار متعلق یدبر علی تضمین معنی النزول 1 ؎ ویمکن ان یکون حالامن الامر۔ مماتعدون یجوزان یکون صفۃ لالف اولسنۃ الذی احسن خبر مبتدء 2 ؎ محذوف۔ 1 ؎ اے یدبر امر الدنیا باسباب سماویۃ کالملائکۃ واشعۃ الکواکب نازلۃ اثاربا الی الارض۔ 12 منہ 2 ؎ اے ھو الذی او خبر بعد خبر۔ او العزیز مبتداء والرحیم صفۃ الذی احسن خبرہ۔ وخلقہ بسکون اللام بدل من کل بدل الاشتمال اے احسن خلق کل شئی ویمکن ان یکون مفعولا ثانیا وکل شئی مفعولا اولاد احسن بمعنی عرف اے علم کیف یخلقہ کما قال علی ؓ قیمۃ المرء ما یحسنہ اے یحسن معرفۃ وقرأنا فع والکوفیون بفتح اللام علی انہ فعل ماض فیکون صفۃ لکل او لشئی۔ من روحہ اضافہ الی نفسہ تشریفاً او اشعاراً بانہ خلق عجیب ولہ شان یناسب الربوبیۃ۔ 12 منہ ابو محمد عبد الحق عفا اللہ عنہ۔
Ayahs 32:2–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شبہ نہیں کہ (یہ) کتاب پروردگار کی طرف سے اتری ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا وہ (یہ) کہیں گے کہ اس کو ازخود بنالیا ہے بلکہ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے (یہ اس لیے نازل کی گئی) تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنادیں کہ جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تاکہ وہ راہ پر آویں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ روز میں بنادیا۔ پھر عرش پر قائم ہوا۔ تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی کارساز ہے نہ سفارشی، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔

تفسیر : اس سے پہلی سورة میں توحید اور حشر کے دلائل بیان فرمائے تھے اور وہ دو طرف ہیں، اس لیے اس سورة میں امر اوسطہ یعنی اس رسالت کا ذکر کرتا ہے کہ جس پر قرآن کی برہان قائم ہے۔ فقال تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العالمین یہ کتاب یعنی قرآن (کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غور و تامل کے بعد کوئی بھی شبہ نہیں رہتا) رب العالمین کی طرف سے ہے۔ رب العالمین کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے، روحانی پرورش بھی اسی کا خاص حصہ ہے، اس لیے اس نے دنیا کی شائستگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے آپ گواہ ہے، مگر کوڑھ مغزی اور تیرہ باطنی بھی عجب بدبلا ہے، ایسے لوگ یہ کہہ دیتے تھے کہ اس کو محمد ﷺ نے ازخود بنالیا ہے، خدا نے نازل نہیں کیا ہے۔ ام یقولون افترہ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ بل ھو الحق من ربک کہ یہ قرآن برحق ہے تیرے رب کے ہاں سے آیا ہے، اس کی شان ربوبیت کا مقتضٰی ہے۔ یہ کس لیے نازل ہوا ؟ لتنذر قوما ما اتہم من نذیر من قبلک لعلہم یہتدون تاکہ تو اے محمد ﷺ خصوصاً ان لوگوں کو پر حذر کرے اور ان کو آنے والے عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا پیغمبر نہیں آیا ہے۔ اس قوم کی خصوصیت نہیں کہ آنحضرت ﷺ خاص عرب ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے، ان کا نام اس لیے آگیا کہ سب سے اول انہی سے کلام تھا، کس لیے کہ دوسری جگہ آگیا ہے۔ تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا اور آنحضرت ﷺ نے بھی فرمادیا ہے کہ میں تمام عالم کے لیے نبی کیا گیا ہوں۔ پس اس جملہ سے یہ سمجھ لینا کہ آنحضرت ﷺ خاص عرب کی قوم کے لیے مبعوث ہوئے تھے بڑی غلطی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے ایک عرصہ دراز تک عرب میں کوئی نبی مبعوث ہو کر نہیں آیا تھا اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے گمراہ ہونے کے بعد بجز حضرت کے ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ اس میں سب آگئے۔ اللہ الذی خلق السموات والارض الخ یہاں سے وہ بات بیان فرماتا ہے کہ جس کا پہنچانا رسول پر فرض ہے، جیسا کہ پہلے رسالت اور اس کی ضرورت بیان کی تھی، یعنی اللہ وہ ہے کہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا نہ وہ لوگ کہ جن کو مشرکین اس کے ساتھ ملا رہے ہیں۔ مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع، اس میں اس بات کا بھی رد ہے کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھ رہے ہو، وہ خدا تو کیا اس کی اجازت بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے ‘ نہ کسی کے حامی و مددگار بن سکتے ہیں، جس خیال سے کہ مشرکین غیر اللہ کو اس کا شریک سمجھتے ہیں۔ اس آیت میں جس طرح اس کی اجازت بغیر اوروں کی ولایت و شفاعت کی نفی ہے، اسی طرح اس کی طرف سے ولایت و شفاعت یعنی حمایت کا ثبوت ہے۔ اس میں بت پرستوں کی تجہیل ہے، وہ جو یہ اقرار کرکے کہ اس کے سوا اور کوئی خالق نہیں ‘ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہماری سفارش کریں گے، جب خلق کو بیان فرماچکا تو اس کے بعد امر کو بیان فرماتا ہے۔ یدبر الامرمن السماء الی الارض کہ وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر ایک کام کی آپ ہی تدبیر کرتا ہے، اس میں اس کا کوئی مشیر وزیر نہیں۔ آسمانوں یعنی علویات کی کل تدبیر و تصرف آسمانوں کی حرکت ‘ ستاروں کی حسب موقع گردش ‘ ان کے انوار کا تحفظ ‘ پھر وہاں کے رہنے والوں ملائکہ اور روحانیات کے متعلق سب کام وہ آپ ہی کیا کرتا ہے اور اسی طرح زمین یعنی عالم سفلی کے متعلق سب کام آپ ہی کرتا ہے۔ مینہ کا بروقت برسانا ‘ ہوائوں کا چلانا ‘ نباتات کا اگانا ‘ حیوان اور انسان کی بیماری و تندرستی ‘ موت وحیات سب باتیں وہی کیا کرتا ہے، یا یوں کہو ہر ایک کام کی تدبیر اسباب سماویہ کے ساتھ جو آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوا کرتے ہیں، وہی کیا کرتا ہے یہ تو دنیا کے بقاء تک کا معاملہ تھا ثم یعرج الیہ اس کے بعد جب کہ یہ عالم فنا ہوچکے گا اور نیا عالم پیدا ہوگا، جس کو عالم آخرت یا عالم حشر کہتے ہیں، اس روز بھی یہ سب تدبیر و تصرف یعرج الیہ ای یرجع الیہ اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔
Ayahs 32:5–6

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

ہر ایک کا خدا ہی انتظام کرتا ہے، آسمان سے لے کر زمین تک پھر اس دن بھی کہ جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار برس کی ہوگی۔ وہ انتظام اس کی طرف رجوع کرے گا،

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہ ہی چھپی اور کھلی بات کا جاننے والا ‘ زبردست مہربان ہے،

الف سنۃ کا بیان : مگر اس عالم کو فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون کے ساتھ تعبیر فرمایا، ہول دلانے کے لیے اور وہ عالم لایزال ہے، اس کے دنوں کا کوئی شمار نہیں لیکن اس عالم کے پہلے روز کو ذکر کردیا، یعنی قیامت کو، یعنی اس عالم کے پہلے دن ہی سے کہ جس کی مقدار تمہارے ہزار برس کے برابر ہے، سب کام وہاں کے اسی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اب یہ بات رہی کہ کہیں تو اس دن کی مقدار پچاس ہزار برس کی فرمائی ہے، جیسا کہ سورة معارج میں ہے، خمسین الف سنۃ اور کہیں ہزار برس جیسا کہ یہاں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس روز بڑی سختی ہوگی اور نہایت دہشت وہیبت۔ سو یہ ہر ہر شخص کی نسبت جداگانہ ہوگی، کیونکہ جیسا جرم ویسی دہشت اور مصیبت کے دن کی درازی بمقدار مصیبت ہوا کرتی ہے۔ وہ دن تو ایک معمولی دن ہوگا، مگر کفار کو پچاس ہزار برس کے برابر معلوم ہوگا اور گنہگاروں کو ہزار برس کے برابر اور نیکوں کو فریضہ نماز کے وقت کے برابر۔ پس اس لیے کبھی اس کو پچاس ہزار برس کے برابر کہہ دیا کبھی ہزار برس کے کبھی صلوٰۃ مکتوبہ کے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دن البتہ دراز معلوم ہوگا، تکلیف کے سبب سے اور اس کی درازی کو اعداد مختلفہ کے ساتھ تعبیر کردیا۔ جیسا کہ جب ہم کو انکار محض منظور ہوتا ہے تو کہا کرتے ہیں تو سو بار بھی کہے گا تو یہ کام نہ کروں گا، پھر تھوڑی دیر بعد اس کے جواب میں کہہ دیتے ہیں تو ہزار بار بھی کہے گا تو نہ کروں گا۔ یہ بات ایک محاورہ کے متعلق ہے یعنی محض کثرت مراد ہے۔ یدبرالامر کا بیان : عالم خلق و عالم امر کا مالک و مختار ہونا (اور وہ بھی دنیا و آخرت دونوں عالموں میں) بیان فرما کر کس زور کے ساتھ فرماتا ہے۔ ذلک عٰلم الغیب والشہادۃ یہ ہی غیب اور ظاہر کا جاننے والا جو تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے۔ دارین میں نہ وہ کہ جن کو تم پوجتے ہو، چونکہ دنیا اور آخرت اور خلق اور امر کا ذکر آیا تھا، ان کے مناسب دو لفظ آئے۔ غیب تو آخرت کے لیے کیونکہ وہ اور وہاں کے سب کام ہماری آنکھوں سے غائب ہیں اور اسی طرح عالم امر کے لیے بھی کیونکہ وہ بھی محسوس نہیں اور شہادۃ دنیا اور خلق کے لحاظ سے اور اسی طرح العزیز الرحیم بھی دونوں کے لحاظ سے آیا بلکہ ہر ایک کے لحاظ سے کس لیے کہ خلق اور امر اور دنیا اور آخرت میں جس طرح عزیز یعنی غالب و قادر ہونے کی ضرورت ہے اسی طرح رحیم ہونے کی بھی ہے، پھر عزیز و رحیم ہونے کا ثبوت دنیا میں عالم خلق کی ایک اعلیٰ اور عمدہ قسم کے پیدا کرنے کے بیان سے کرتا ہے، یعنی حضرت انسان کی پیدائش سے جس سے کلام ہورہا ہے کہ اس کو کس طرح سے بنایا۔
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے عمدگی سے ہر شے کو بنایا اور انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی۔

فقال الذی احسن کل شی خلقہ کہ اس نے ہر شے کو عمدہ طور سے بنایا ہے، جس چیز کو بغور دیکھے گا تو وہ آپ ثابت کردے گی کہ میرے خالق کو اس امر میں وہ کمال ہے کہ جس کو کسی کے ساتھ تشبیہ بھی نہیں دی جاسکتی۔ اونٹ کو ملاحظہ کیجئے، اگر اس کی گردن دراز نہ ہوتی تو محض بیکار ہوجاتے۔ ہاتھی کو سونڈھ نہ ملتی تو بڑا اپاہج تھا۔ علیٰ ہذا القیاس ہر درند پرند چرند کے ایک ایک عضو اور اس کے بال اور کھال کو غور کرو گے تو ہر ایک منہ سے یہی بول اٹھے گا۔ ؎ ففی کل شی لہ شاہد یدل علیٰ انہ واحد یہ تو ایک تعمیم تھی، اس کے بعد ان میں سے حضرت انسان کی پیدائش کا حیرت انگیز حال بیان فرماتا ہے۔ وبداء خلق الانسان من طین کہ انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی یعنی اس نوع کا جو اول فرد ہے۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) اس کو کسی کے نطفہ سے نہیں بنایا، بلکہ اس کو خاک سے بنایا۔ گرچہ خاک کے ساتھ پانی وغیرہ اور بھی اجزائِ عنصری تھے، مگر چونکہ یہ زیادہ تھا، اس لیے اسی کا لحاظ کیا گیا اور کل کو جزئِ غالب سے تعبیر کرنا محاورہ کی بات ہے۔ ہم اس مقام پر اس ذکر کو چھوڑ دیتے ہیں کہ خاک سے کیونکر بنایا اور کہاں بنایا ؟ لفظ بداء نے یہ بھی بتلادیا کہ انواع قدیم نہیں جیسا کہ حکمائِ یونان کا خیال تھا، چناچہ ان کا رد علم کلام کی بڑی کتابوں میں بڑے زور سے کردیا گیا ہے۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی اولاد نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے بنائی۔

ثم جل نسلہ من سللۃ من ماء مہین پھر اس کی نسل جاری کرنے کا دستور بتلاتا ہے کہ ہم نے اس کی نسل کو نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے جاری کیا، یعنی منی سے جو تمام انسانی اخلاط کا نچوڑ یا عطر ہوتا ہے اور باوجود اس کے بےقدر ہوتا ہے۔ انسان اس کو چھپاتا ہے۔ بدن یا کپڑے پر لگ جاتی ہے تو دھو ڈالتا ہے۔ نسل کو اس لیے نسل کہتے ہیں کہ وہ جس کی نسل ہوتی ہے اس سے نکلتی ہے، نسل الصوف نسولاسقط (قاموس) نسلہ ذریۃً سمیت بہ لانھا تنسل منہ اے تنفصل (بیضاوی) سلالۃ سل سے ہے، جس کے معنی کھینچنے کے ہیں۔ سیف مسلول۔ سلالۃ ای ما استخرج من منی آدم ( علیہ السلام) مجمع بحار الانوار۔ منی کو سلالہ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ انسان کے جسم میں سے کھنچتی ہے۔ مہین المہین الضعیف والحقیر والقلیل۔ (قاموس)
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر انسان کو ٹھیک کیا اور اس میں اپنے پاس سے روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنایا۔ اس پر بھی تم بہت کم شکر کرتے ہو۔

ثم سواء ونفخ فیہ من روحہ اس کے ماں کے پیٹ میں اس کو ٹھیک کیا، سر کی جگہ اس گوشت کے لوتھڑے میں سے سربنایا، کان کی جگہ کان ‘ آنکھ کی جگہ آنکھ، ناک کی جگہ ناک ہڈی، پٹھے، بال، کھال ایک تناسب طبعی سے بنائیں اور ہر چیز کو اس اندازہ سے بنایا کہ علم تشریح کے واقف ہونے کے بعد عاقل کو اس بات کا اقرار ہی کرنا پڑتا ہے کہ یہ کسی بڑے مدبر حکیم کا فعل اور بڑے باکمال کی کاریگری ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین اور اس کو ٹھیک کرکے اس میں اپنے ہاں کی روح پھونکی زندہ کردیا۔ من روحہ کے یہ معنی نہیں کہ اللہ نے اپنی روح یعنی اپنی جان کا کوئی ٹکڑا اس میں ڈال دیا، بلکہ یہ معنی وہ روح کہ جو اللہ کی عمدہ اور لطیف چیزوں میں کی ایک چیز ہے۔ وہ اس میں ڈال دی اور روح کو اپنی طرف اس کی خوبی و لطافت و شرافت کے لیے مضاف کردیا، جیسا کہ بادشاہ اپنے خاص نوکر کو عزت دینے کے لیے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارا نوکر ہمارا غلام۔ وجعل لکم السمع والابصار اس کے بعد تمہارے لیے شنوائی و بینائی یعنی حواس ظاہرہ عطاء کئے۔ والافئدۃ دل دیا، یعنی قوائے باطنیہ و مدرکات باطنیہ عطاء کئے، مگر اس پر بھی قلیلا ما تشکرون تم بہت ہی کم خدا کا شکریہ ادا کرتے ہو۔ ان باتوں کو اپنے گھر کی باتیں خیال کرتے ہو۔ روح پھونکنے سے پہلے تک تو غائب کے صیغوں سے تعبیر کیا۔ ثم سواہٗ فرمایا اور روح پھونکنے کے بعد جعل لکم خطاب کے صیغہ لایا، کیونکہ اب قابل خطاب کے ہوگیا۔
Ayahs 32:10–11

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کیا جب ہم زمین میں مل جل گئے تو کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ بلکہ وہ اپنے رب کے ملنے کے منکر ہیں۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو (ایک روز) تمہاری جان موت کا وہ فرشتہ قبض کرے گا کہ جو تم پر معین کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔

مشرکین مکہ ان چند توہمات باطلہ 1 ؎ میں مبتلا تھے۔ (1) آنحضرت ﷺ کو مفتری کہتے تھے۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور چیزوں کو بھی شریک کرتے تھے، ان دونوں باتوں کا یہاں تک جواب شافی دے دیا گیا۔ (3) حشر ممکن نہیں، اس کا جواب ان کے شبہ کو نقل کرکے دیتا ہے۔ وقالواء اذا ضللنا فی الارض وانا لفی خلق جدید کہ وہ کہتے ہیں، کیا ہم جب مر کر زمین میں گم ہوجاویں گے، یعنی بدن کے اجزاء متفرق ہو کر نیست و نابود ہوجاویں گے تو پھر کیا زندہ ہوجاویں گے ؟ جواب سے پہلے فرماتا ہے۔ بل ھم بلقاء ربہم کافرون کہ ان کا زمین میں ملنے کے بعد زندہ ہونے ہی پر تعجب نہیں بلکہ وہ دراصل اپنے رب کے پاس جانے کے منکر ہیں، اب جواب دیتا ہے۔ قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل 2 ؎ بکم کہ ان سے کہہ دے ایک روز وہ فرشتہ جو تمہاری جان قبض کرنے پر معین کیا گیا ہے۔ تمہاری جان قبض کرے گا۔ مرنے پر تو تمہارا بھی یقین ہے، اب رہا بار دگر زندہ ہونا، سو جس نے نیست سے ہست کردیا کیا وہ بارد گر زندہ نہیں کرسکتا ؟ کرسکتا ہے اور کرے گا۔ ثم الیٰ ربکم ترجعون پھر تم اپنے رب کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔ 1 ؎ کفار مکہ دو غلطیوں میں مبتلا تھے چونکہ خدا کو مخلوق و محسوس اشیا پر قیاس کرکے خدا کے ساتھ اور چیزوں کو یہی شریک کرتے تھے۔ اس کا رد تو آیات بالا میں نہایت واضح طریق پر کردیا دوسری غلطی یہ تھی کہ وہ مرنے کے بعد روح کا باقی رہنا عذاب وثواب پانا حق نہیں جانتے تھے قیامت کے قابل نہ تھے یہ ایک ایسا خیال ہے کہ انسانوں کو اکتساب سعادت سے روکنا اور لذات و شہوات اور طرح طرح کی بدکاری میں مبتلا کردینا ہے اس کا روان ایات میں کیا جاتا . 2 ؎ فرشتہ اللہ کی طرف سے موکل ہے اس کا قبض کرنا اللہ ہی کا قبض کرنا ہے دونوں باتوں میں تعارض نہیں۔ 12 منہ
Ayahs 32:12–14

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور جو آپ کبھی دیکھیں جبکہ گناہ گار اپنے رب کے آگے سر جھکائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج کہ اچھے کام کریں، ہم کو یقین آگیا

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت پر لے آتے، لیکن ہماری بات پوری ہو کر رہی کہ ہم جنوں اور آدمیوں سب سے جہنم بھر کر رہیں گے،

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پھر تم بھی (مزہ) چکھو اس لیے کہ تم آج کے دن پیش آنے کو بھول بیٹھے تھے۔ ہم نے بھی تم کو بھلادیا (لواب) اور عذاب دائمی چکھو، اپنے کئے کے بدلہ۔

ترکیب : ولو تریٰ ھو من رویۃ العین و المفعول محذوف ای ولو تری المجرمین۔ و اغنی عن ذکرہ المبتداء۔ واذ ھنا یرا دبھا المستقبل والتقدیر یقولون ربنا و موضع المحذوف حال والعامل فیھا ناکسوا۔ فذوقوا بما ای فذوقو العذاب ویجوزان یکون مفعول فذوقوا اللقاء علی مذہب الکوفیین فی اعمال الاول۔ ویجوزان یکون ھذا۔ تتجافیٰ موضع الحال و جواب لو محذوف ای لریت امر افظیعا ویکن ان یکون لو للتمنی خوفا وطمعا مفعول لہ والعامل یدعون۔ مابمعنی الذی ویجوزان یکون للاستفہام۔ تفسیر : ولوتری یہاں سے وہ حال بیان کرتا ہے جو خدا کے پاس رجوع ہونے کے بعد یعنی اس کے پاس جانے کے بعد ظہور میں آئے گا کہ اے محمد ﷺ یا اے ہر شخص مخاطب ! اگر تو ان کافروں کو اس وقت دیکھے جب کہ وہ اپنے رب کے سامنے شرمندگی اور خوف سے سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور یہ کہیں گے کہ اے رب ! اب ہم نے آنکھ سے حشر کا معاملہ دیکھ لیا اور تجھ سے رسولوں کا برحق ہونا سن لیا یا یہ معنی کہ وہ وہاں جاکر اپنے جرم کا اقرار کریں گے کہ ہم نے رسولوں اور ان کے معجزات کو دنیا میں دیکھ لیا تھا اور ان کے کلام کو سن لیا تھا۔ جیسا کہ آیا ہے قدجاء نا نذیر اب ہم کو بارد گر دنیا میں بھیج کہ وہاں جاکر اپنے کام کریں۔ اب ہم کو یقین آگیا، مگر اب کیا ہوتا ہے، کیونکہ ولوشئنا لاتینا الخ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت کرتے۔ ایماندار نیک کردار کردیتے، مگر ان میں صلاحیت نہ تھی، ان کو رسولوں نے بہت کچھ سمجھایا پر نہ مانا، کس لیے کہ اللہ کا نوشتہ ازلی پورا ہوگیا کہ یہ لوگ جہنم میں جاویں گے۔ مطلب یہ کہ اگر باردگر بھی دنیا میں جاویں تو کبھی راہ پر نہ آویں، پس حکم ہوگا کہ آج کے دن فراموش کرنے کا مزہ چکھو، اب ہم نے تم کو بھلادیا، یعنی ہمارے دل میں تمہاری جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ محاورہ کی بات ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو بھول جاوے گا، کس لیے کہ وہ سہو و نسیان سے پاک ہے وذوقوا اب عذاب دائمی کا مزہ چکھو اپنے اعمالِ بد کے سبب۔ تم دائم ان میں گرفتار تھے، اس لیے عذاب دائمی میں گرفتار ہوئے۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے سمجھایا جاتا ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی ستائش کرتے ہیں، اس کی خوبیاں بیان کرکے اور وہ تکبر نہیں کرتے،

انما یؤمن الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ بدنصیب کیا ایمان لا ویں گے۔ ایمان لانا آیات الٰہی پر تو ازلی نیک بختوں کا کام ہے، پھر ان کے علامات اور عادات حمیدہ بیان فرماتا ہے۔ (1) کہ جب ان کو آیات الٰہی سناکر سمجھایا جاتا ہے تو خوفِ الٰہی کے مارے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ سبحان اللہ بحمدہ کہتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے، نہ تو دنیا میں کسی سے بتکبر پیش آتے ہیں نہ اللہ کے رسولوں اور اس کے احکام سے تکبر کرکے سرتابی کرتے ہیں، یعنی ان میں کمال صلاحیت ہے۔ اس آیت کو پڑھ کر یا سن کر سجدہ کرنا لازم ہے۔ (2) نماز تہجد : تتجا فی جنوبھم عن المضاجع اے ترتفع و تتنحی لحن الفرش و موضع النوم (بیضاوی) کہ وہ رات کو اپنے بستروں اور خواب گاہوں سے اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے ہیں، اس میں خوف اور امید کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں دعا کرتے ہیں، مناجات میں مشغول ہوتے ہیں۔ احادیث صحیحہ میں نماز تہجد کی تاکید اور فضائل بہت کچھ وارد ہیں۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ اور صالحینِ امت کا قدیم دستور ہے کہ وہ نصف شب کے بعد اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ بارہ رکعت میں دو دو کی نیت سے حضرت ﷺ پر یہ نماز فرض تھی، تمام امت کے لیے مسنون ہے۔ ابی امامہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ رات کا اٹھنا لازم کرو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کی عادت ہے، اس سے تمہارے رب کی نزدیکی پیدا ہوتی ہے۔ یہ گناہوں کو مٹاتا ہے، گناہوں سے روکتا ہے۔ رواہ الترمذی اور فرمایا کہ یہ بڑا قبولیت کا وقت ہے۔
Ayahs 32:16–17

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

(شب کو) اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ دیتے بھی ہیں

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پھر کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کی آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے، ان کے عمل کے بدلے میں۔

(3) ومما رزقناھم ینفقون کہ اللہ کے دیے میں سے دیتے ہیں، یعنی خیرات بھی کرتے ہیں۔ پھر ان کے اجر کی بابت فرماتا ہے۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین الخ کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی فرحت و سرور کی چیزیں جو کچھ ہم نے چھپا رکھی ہیں، ان کی پوری تعداد اور کیفیت کوئی نہیں جانتا ہے، یعنی وہ بےحساب چیزیں ہیں اور یہ ٹھیک ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم جنت اور اس کی کسی نعمت سے واقف نہیں۔ خصوصاً وہ کہ جن کو قرآن اور نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے بتادیا۔ جس نے یہ مطلب سمجھ کر نعمائِ جنت اور حور و قصور کا انکار کیا بڑی غلطی کی ہے۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو کیا مومن اس کے برابر ہوجائے گا جو بدکاری کررہا ہو۔ وہ برابر نہیں ہوسکتے،

ترکیب : افمن الاستفہام للانکار ای لیس المومن کالکافر، لایستون تاکید لماتضمنہ الاستفہام و الجمع لرعایۃ معنی وھو مفرد لفظا جمع معنی۔ اما الذین الخ ھذا التفصیل تقریر لایستون جنت الماوی ای التی فیھا المساکن والدور والغرف العالیۃ (ابن کثیر) الماویٰ مایاوی الیہ وقیل الماوی اسم للجنۃ۔ تفسیر : مومنوں کے درجاتِ آخرت سن کر ایک خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اللہ کے مومن و کافر نیک و بد سب بندے برابر ہیں۔ اس کو نہ نیک سے فائدہ نہ بد سے نقصان پھر نیکوں کے لیے یہ کچھ درجات ‘ بدوں کے واسطے یہ مصائب اس کے عدل و انصاف کے خلاف ہے اور کچھ عجیب نہیں کہ کفار بھی اپنی بت پرستی اور دیگر کوششوں پر اپنے تئیں ان نعمتوں کے مستحق سمجھتے ہوں، اس کا جواب اس آیت میں دیتا ہے۔ افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون کہ بھلا مومن اور فاسق دونوں برابر ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ پھر اس کی اور بھی توضیح کرتا ہے۔ اما الذین امنوا الخ کہ وہ جو ایمان لائے ہیں اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے نیک کام بھی کئے ہیں۔ نیک کاموں کی شرح پہلی آیتوں میں آچکی ہے۔ فلھم جنت الماوٰی کہ ان کا مقام جنت میں ہے۔ وہی ان کا اصلی مقام ہے، دنیا ایک کوچ کر جانے کی منزل ہے۔ نزلا بما کانوا یعلمون یہ مقام قدس ان کی مہمانی میں دیا جاوے گا، ان کے ان کاموں کے بدلہ میں جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Ayahs 32:19–20

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

لیکن وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے تو ان کے ان کاموں کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے مہمانی میں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے بدکاریاں کیں، سو ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ جب چاہیں گے کہ وہاں سے نکلیں تو اس میں پھر داخل کردیے جاویں گے اور ان کو کہا جاوے گا آگ کا وہ عذاب چکھو کہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

واما الذین فسقوا اور وہ جو فاسق ہوگئے یعنی خدا کے حکم سے نافرمان ہوگئے۔ یہ عام ہے کفر و معصیت دونوں فسق ہیں۔ فماوھم النار ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ ان کا گھر ہے۔ یہ دنیا کے عمدہ محل اور نفیس باغ تو چند روز کے لیے ہیں۔ دنیا میں شہوت کی آگ میں مبتلا تھے، وہی آتش شہوت نار جہنم پہنچادے گی۔ کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا جب وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر وہیں دھکے دے کر پہنچا دیے جائیں گی، یعنی نکلنے نہ پاویں گے کس لیے کہ وہ دنیا میں اس آگ سے نہ نکلے تھے۔ وقیل لھم الخ اور ان سے کہہ دیا جاوے گا کہ آج اس آتش کے عذاب کا مزہ چکھو کہ جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جب کوئی کہتا تھا کہ اس فعل بد کی سزا جہنم ہے تو کہہ دیتے تھے، یہ جنت اور جہنم سب فرضی باتیں ہیں۔ بیوقوفوں کے ڈرانے کے لیے اس پر وہ اپنی دولت و حشمت کے گھمنڈ پر قہق ہے لگایا کرتے تھے، چناچہ کسی بدکردار شاعر نے اس پر بہت کچھ مضحکہ کیا ہے اور آج کل عیاش ‘ ملحد منش اپنی محفلوں میں بہت کچھ قہق ہے اڑایا کرتے ہیں، وہاں ان کو کہا جاوے گا۔ یہ وہ آگ ہے کہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayahs 32:21–22

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور البتہ (دنیا میں بھی) ہم ان کو تھوڑا سا عذاب چکھا دیں گے، بڑے عذاب سے پہلے تاکہ وہ رجوع کریں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور بھلا اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا کہ جس کو اس کے رب کی آیتوں سے سمجھایا جاوے، پھر وہ ان سے منہ موڑے ہم کو تو گناہ گاروں سے ضرور بدلہ لینا ہے۔

ولنذیقنھم من العذاب الادنٰی الخ اب یہ بات ارشاد فرماتا ہے کہ اس خیال میں نہ رہنا کہ آخرت ہی میں عذاب آوے گا۔ دنیا میں تو مزے سے گزرتی ہے بلکہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی ہم ان کو عذاب دیں گے، گویا وہ کتنا ہی بڑا ہو مگر عذاب آخرت کے مقابلہ میں ادنیٰ ہے، چناچہ اس پیشین گوئی کے موافق اہل مکہ پر عذاب ادنیٰ آیا سات برس تک وہ قحط 1 ؎ پڑا کہ مردار اور کتوں کے کھانے کی نوبت آگئی۔ اگرچہ آیت میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے، مگر سب فاسقوں کی طرف اشارہ ہے۔ کتب تواریخ شاہد ہیں کہ دنیا میں جس قوم نے بدکاری ‘ شہوت پرستی اختیار کی وہ دنیا ہی میں برباد اور تباہ کئے گئے۔ سلطنتیں چھین لی گئیں، لوگوں کے ہاتھوں سے قتل ہوئے۔ ان کی جورو اور بیٹیوں کو بےحرمت کیا گیا۔ یہ عذاب ان کو اس لیے دیا جاتا ہے کہ لعلہم یرجعون کہ کاش وہ خدا کی طرف رجوع کریں توبہ کرکے صلاحیت اختیار کریں، مگر افسوس کہ جو اس کے بعد بھی رجوع نہیں کرتے۔ جان لو کہ وہ خدا کی بارگاہ سے راندے ہوئے ہیں، ان کو کبھی خوش وقتی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔ اہل اسلام کے امراء کو عبرت کرنا چاہیے۔ ومن اظلم الخ میں یہی بات بتلاتا ہے کہ اس سے زیادہ کون بدبخت ظالم ہے کہ جس کو اللہ کی آیتوں سے سمجھایا جاتا ہے، پھر وہ اس سے اعراض کرتا ہو، پھر ہم ایسے مجرموں سے کیوں نہ انتقام لیں گے۔ 1 ؎ نسائی نے عذاب الادنیٰ کی تفسیر میں بھی روایت کی ہے اور ابن عباس کہتے ہیں اس سے مصائب دنیا مراد ہیں ابن بشیر 12 منہ۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور البتہ موسیٰ کو بھی ہم نے کتاب دی تھی، پھر تو اس کے ملنے میں شبہ نہ کریں اور ہم نے ہی اس کو بنی اسرائیل کے لیے رہنما بنایا تھا

ترکیب : من لقائہ یجوزان یرجع الضمیر فی لقاء الی اللہ ای من لقاء موسیٰ اللّٰہ فالمصدر مضاف الی المفعول۔ وان یرجع الی موسیٰ ای من لقاء موسیٰ الکتاب او الشدۃ والانکار من قومہ فیکون المصدر مضافاً الی الفاعل۔ وقیل یرجع الی الکتاب ای فلاتکن فی شک من لقاء الکتاب من اللہ تعالیٰ کما قال، انک تلقی القرآن و قیل من لقاءک موسیٰ ۔ کما وقع فی لیلۃ المعراج او فی القیامۃ لما بالتشدید ظرف والعامل یہدون اوجعلنا۔ وبالتخفیف مصدریۃ۔ تفسیر : ولقد اتینا موسیٰ الکتب الخ یہاں سے پھر مسئلہ رسالت کا ثبوت کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی، پھر اے محمد ﷺ آپ کتاب کے ملنے میں شبہ نہ کریں کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے عہد میں گمراہی بڑھ گئی تھی، بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے توریت نازل کی گئی، اسی طرح آپ کے عہد میں تمام عالم گمراہ ہوگیا تھا، ان کی ہدایت کے لیے تم کو نبی بنانا اور تم کو کتاب دینا ضرور ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا۔ کتاب یعنی قرآن پاچکے تھے، بلکہ یہ اور لوگوں کے لیے فرمایا کہ تم اس میں شبہ نہ کرو بعض مفسرین کہتے ہیں۔ جیسا کہ مجاہد و کلبی وسدی کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے محمد ﷺ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملاقات کریں گے، چناچہ شب معراج میں آپ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے بیت المقدس یا آسمان میں ملاقات کی۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ میں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے شب معراج میں ملاقات کی ہے، وہ بلند قامت گھنگر والے بالوں والے تھے۔ جیسا کہ شنؤۃ کے آدمی ہوتے ہیں، اسی طرح بخاری نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے شب معراج میں موسیٰ ( علیہ السلام) کو سرخ ڈھیر کے پاس اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، بعض کہتے ہیں یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) نے قوم سے تکلیف پائی، آپ بھی پاویں گے۔ اس میں شک نہ کرنا۔ حسن
Ayahs 32:24–25

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جبکہ انہوں نے صبر کیا تھا۔ ہماری آیتوں پر یقین بھی رکھتے تھے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا کہ جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں،

وجعلنا منھم ائمۃ یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد بھی ہم نے یہ سلسلہ جاری رکھا کہ انہی سے پیشوا لوگوں کی ہدایت کے لیے قائم کئے، وہ برداشت کرکے ہدایت کئے جاتے تھے، پھر محمد ﷺ کا رسول بنانا اور اس پر قرآن نازل کرنا کون سی نئی بات ہوگئی، جس پر کفار اس قدر تعجب و انکار کرتے ہیں ؟ ان ربک مگر موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد نبیوں کے آنے پر بھی لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا، دین اور کتاب میں تحریف شروع ہوئی جس کا فیصلہ ہم کردیں گے کہ کون حق پر تھا ؟ کون ناحق پر ؟ اس جملہ میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء کے طریقہ میں اختلاف پڑجانے کے سبب آنحضرت ﷺ کو اصلاح کے لیے نبی کرکے بھیجا گیا۔
Ayahs 32:26–30

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس سے بھی رہنمائی نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے کتنے قرن غارت کردیے کہ لوگ جن کے گھروں میں (چلتے) پھرتے ہیں، البتہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ پھر کیا وہ سنتے بھی نہیں،

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف رواں کرکے اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ جس کو ان کے چارپائے اور وہ خود بھی کھاتے ہیں، پھر کیا وہ دیکھتے بھی نہیں

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کب ہے یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو،

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو فیصلہ کے دن تو کافروں کو ایمان لانا کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

پس ان سے کنارہ کرو اور انتظار کرتے رہو۔ وہ بھی انتظار کررہے ہیں۔

اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم باردگر پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ پہلی دلیل میں افنا، دوسری میں ایجاد کی طرف اشارہ ہے۔ پہلی دلیل کے بعد افلا یسمعون فرمایا تھا۔ کس لیے کہ گزشتہ لوگوں کا حال سننے سے علاقہ رکھتا ہے، دوسری کے اخیر میں افلا یبصرون کس لیے کہ زمین کا خشک ہونے کے بعد شاداب دیکھنا بصارت سے متعلق ہے۔ اہل اسلام ان کے انکار پر آیندہ بلائوں کا آنا ایک دن پر محول کرتے تھے، جس پر کفار نے پوچھا متی ھذا الفتح کہ وہ فیصلہ کا دن کب ہے، اس سے مراد قیامت 2 ؎ کا دن ہے (مجاہد) قل یوم الفتح جواب دیتا ہے کہ اس کی تعیین دریافت کرنے سے تم کو فائدہ۔ اگر یہ غرض ہے کہ اس دن ایمان لے آویں گے تو اس دن ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا نہ ان کو مہلت ملے گی، پس اے نبی ! ان سے کنارہ کرو بحث نہ کرو اور منتظر رہو وہ بھی منتظر ہیں۔ 1 ؎ بخاری نے کتاب الجمعہ میں روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں سورة سجدہ اور سورة ھل اتی پڑھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں بھی یہی آیا ہے۔ احمد دارمی و ترمذی و نسائی و حاکم نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ بغیر سورة سجدہ اور سورة تبارک الذی کے پڑھے نہ سویا کرتے تھے ان کے فضائل میں اور بھی احادیث ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ فراء وقتیبی کہتے ہیں فتح مکہ سدی کہتے ہیں بدکار کا دن۔ 12 منہ