32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 32:1–2

الٓمّٓۚ Open ayah 32:1 in the Quran reader

الف لام میم

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا اس میں کچھ دھوکا نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے2

2 بلاشبہ یہ کتاب مقدس رب العالمین نے اتاری ہے نہ اس میں کچھ دھوکا ہے نہ شک و شبہ کی گنجائش۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ جھوٹ باندھ لایا ہے کوئی نہیں وہ ٹھیک ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو ڈر سناوے ان لوگوں کو جن کے پاس نہیں آیا کوئی ڈرانے والا تجھ سے پہلے تاکہ وہ راہ پر آئیں3

3 یعنی جس کی کتاب کا معجزہ اور من اللہ ہونا اس قدر واضح ہے کہ شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں، کیا اس کی نسبت کفار کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے گھڑ لایا ہے۔ اور معاذ اللہ جھوٹ طوفان خدا کی طرف نسبت کرتا ہے ؟ حد ہوگئی جب ایسی روشن چیز میں بھی شبہات پیدا کیے جانے لگے، ذرا غور و انصاف کرتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب ٹھیک پروردگار عالم کی طرف سے آئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے آپ اس قوم کو بیدار کرنے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے پاس قرنوں سے کوئی بیدار کرنے والا پیغمبر نہیں آیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ آدمی اپنی طرف سے وہ ہی چیز بنا کر لاتا ہے یا بنا سکتا ہے جس کی کوئی نظیر یا زبردست خواہش اس کے ماحول میں پائی جاتی ہو۔ کسی ملک میں ایسی بات دفعۃً منہ سے نکال دینا جو ان کی سینکڑوں برس کی مسخ شدہ ذہنیت اور مذاق کے یکسر مخالف ہو اور جس کے قبول کی ادنیٰ ترین استعداد بھی بظاہر نہ پائی جائے، کسی عاقل کا کام نہیں ہوسکتا۔ ہاں اللہ کی قدرت قاہرہ کسی کو مامور کرے وہ الگ بات ہے پس نبی امی ﷺ جن کا اعقل الناس ہونا ان کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے جو آپ کو (معاذاللہ) مفتری کہتے ہیں، اگر کوئی بات بنا کر لاتے تو یقینا ایسی لاتے جو عرب کی اس فضا کے مناسب اور عام جذبات کے موافق ہوتی اور جس کا کوئی نمونہ ان کے گردو پیش پایا جاتا۔ یہ ہی بات ایک انصاف پسند کو یقین دلا سکتی ہے کہ وہ خود اپنی ذاتی خواہش سے کھڑے نہیں ہوئے اور نہ جو پیغام لائے وہ ان کا تصنیف کیا ہوا تھا۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر4 کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے5

4 اس کا بیان سورة اعراف میں آٹھویں پارہ کے اختتام کے قریب گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔ 5 یعنی دھیان نہیں کرتے کہ اس کے پیغام اور پیغامبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے۔ تمام زمین و آسمان میں عرش سے فرش تک اللہ کی حکومت ہے۔ اگر پکڑے گئے تو اس کی اجازت و رضاء کے بدون کوئی حمایت اور سفارش کرنے والا بھی نہ ملے گا۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

تدبیر سے اتارتا ہے کام آسمان سے زمین تک پھر چڑھتا ہے وہ کام اس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں6

6 بڑے کام اور اہم انتظامات کے متعلق عرش عظیم سے مقرر ہو کر نیچے حکم اترتا ہے۔ سب اسباب حسی و معنوی، ظاہری و باطنی، آسمان و زمین سے جمع ہو کر اس کے انصرام میں لگ جاتے ہیں۔ آخر وہ کام اور انتظام اللہ کی مشیت و حکمت سے مدتوں جاری رہتا ہے، پھر زمانہ دراز کے بعد اٹھ جاتا ہے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے دوسرا رنگ اترتا ہے۔ جیسے بڑے بڑے پیغمبر جن کا اثر قرنوں رہا، یا کسی بڑی قوم میں سرداری جو نسلوں تک چلی۔ وہ ہزار برس اللہ کے ہاں ایک دن ہے (موضح بتغیریسیر) مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہزار سال کے انتظامات و تدابیر فرشتوں کو القاء کرتا ہے۔ اور یہ اس کے ہاں ایک دن ہے۔ پھر فرشتے جب (انہیں انجام دے کر) فارغ ہوجاتے ہیں، آئندہ ہزار سال کے انتظامات القاء فرما دیتا ہے۔ یہ ہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ بعض مفسرین آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اللہ کا حکم آسمانوں کے اوپر سے زمین تک آتا ہے، پھر جو کاروائیاں اس کے متعلق یہاں ہوتی ہیں وہ دفتر اعمال میں درج ہونے کے لئے اوپر چڑھتی ہیں جو سمائے دنیا کے محدب پر واقع ہے۔ اور زمین سے وہاں تک کا فاصلہ آدمی کی متوسط رفتار سے ایک ہزار سال کا ہے جو خدا کے ہاں ایک دن قرار دیا گیا۔ مسافت تو اتنی ہے یہ جداگانہ بات ہے کہ فرشتہ ایک گھنٹہ یا اس سے بھی کم میں قطع کرلے۔ بعض مفسرین یوں معنی کرتے ہیں کہ ایک کام اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے تو اس کے مبادی و اسباب کا سلسلہ ہزار سال پہلے سے شروع کردیتے ہیں۔ پھر وہ حکمت بالغہ کے مطابق مختلف ادوار میں گزرتا اور مختلف صورتیں اختیار کرتا ہوا بتدریج اپنے منتہائے کمال کو پہنچتا ہے۔ اس وقت جو نتائج و آثار اس کے ظہور پذیر ہوتے ہیں بارگاہ ربوبیت میں پیش ہونے کے لئے چڑھتے ہیں۔ بعض کے نزدیک " یوم " سے یوم قیامت مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین تک تمام دنیا کا بندوبست کرتا ہے۔ پھر ایک وقت آئے گا جب یہ سارا قصہ ختم ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائے گا اور آخری فیصلہ کے لئے پیش ہوگا۔ اس کو قیامت کہتے ہیں۔ قیامت کا دن ہزار سال کے برابر ہے۔ بہرحال " فی یوم " کو بعض نے یعرج کے متعلق کیا ہے اور بعض نے تنازع فعلین مانا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہ ہے جاننے والا چھپے اور کھلے کا زبردست رحم والاف 1

1 یعنی ایسے اعلیٰ اور عظیم الشان انتظام و تدبیر کا قائم کرنا اسی پاک ہستی کا کام ہے جو ہر ایک ظاہرہ و پوشیدہ کی خبر رکھے، زبردست اور مہربان ہو۔
Ayahs 32:7–8

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے خوب بنائی جو چیز بنائی اور شروع کی انسان کی پیدائش ایک گارے سے

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر بنائی اس کی اولاد نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے2

2 یعنی نطفہ جو بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کو برابر کیا3 اور پھونکی اس میں اپنی ایک جان4 اور بنا دئیے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو5

3 یعنی شکل و صورت، اعضاء موزوں و متناسب رکھے۔ 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جو مخلوق ہے اسی کا مال ہے مگر جس کی عزت بڑھائی اس کو اپنا کہا جیسے فرمایا (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) 19 ۔ مریم :93) حالانکہ سب خدا کے بندے ہیں کما قال " اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا۔ " سو انسان کی جان عالم غیب سے آئی ہے مٹی پانی سے نہیں بنی اس کو اپنا کہا۔ ورنہ اللہ کی جان کا اگر وہ مطلب لیا جائے جو مثلاً آدمی کی جان کا لیتے ہیں تو چاہے جان کسی بدن میں ہو، بدن ہوا تو ترکیب آئی، ترکیب آئی تو حدوث آیا، ذات پاک کہاں رہی (موضح بتغییر) 5 ان نعمتوں کا شکریہ تھا کہ آنکھوں سے اس کی آیات تکوینیہ کو بنظر امعان دیکھتے۔ کانوں سے آیات تنزیلیہ کو توجہ وشوق کے ساتھ سنتے۔ دل سے دونوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کی کوشش کرتے، پھر سمجھ کر اس پر عامل ہوتے۔ مگر تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیا جب ہم رل گئے زمین میں کیا ہم کو نیا بننا ہے کچھ نہیں وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں6

6 یعنی اس پر غور نہ کیا کہ اللہ نے ان کو اول مٹی سے پیدا کیا ہے۔ الٹے شبہات نکالنے لگے کہ مٹی میں مل جانے کے بعد ہم دوبارہ کس طرح بنائے جائیں گے۔ اور شبہ یا استبعاد ہی نہیں بلکہ صاف طور پر یہ لوگ بعث بعدالموت سے منکر ہوگئے۔
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

تو کہہ قبض کرلیتا ہے تم کو فرشتہ موت کا جو تم پر مقرر ہے پھر اپنے رب کی طرف پھر جاؤ گے7

7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی " تم آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے۔ ایسا نہیں تم حقیقت میں جان ہو جسے فرشتہ لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ " (موضح)
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کبھی تو دیکھے جس وقت کہ منکر سر ڈالے ہوئے ہوں گے اپنے رب کے سامنے8 اے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو پھر بھیج دے کہ ہم کریں بھلے کام ہم کو یقین آگیا9

8 یعنی ذلت و ندامت سے محشر میں۔ 9 یعنی ہمارے کان اور آنکھیں کھل گئیں۔ پیغمبر جو باتیں فرمایا کرتے تھے ان کا یقین آگیا۔ بلکہ آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح ہی خدا کے ہاں کام دیتا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر دنیا میں بھیج دیجئے دیکھئیے کیسے کام کرتے ہیں۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو سجھا دیتے ہر جی کو اس کی راہ لیکن ٹھیک پڑچکی میری کہی بات کہ مجھ کو بھرنی ہے دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے10

10 دوسری جگہ فرمایا۔ (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :28) یعنی جھوٹے ہیں اگر دنیا کی طرف لوٹائے جائیں پھر وہ ہی شرارتیں کریں۔ ان کی طبیعت کی افتاد ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ شیطان کے اغواء کو قبول کرلیں اور اللہ کی رحمت سے دور بھاگیں۔ بیشک ہم کو قدرت تھی چاہتے تو ایک طرف سے تمام آدمیوں کو زبردست اسی راہ ہدایت پر قائم رکھتے جس کی طرف انسان کا دل فطرۃً راہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اس طرح سب کو ایک ہی طورو طریق اختیار کرنے کے لئے مضطر کردینا حکمت کے خلاف تھا جس کا بیان کئی جگہ پہلے ہوچکا ہے۔ لہذا وہ بات پوری ہوئی تھی جو ابلیس کے دعوے (لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ 82؀ۙ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ 83؀) 38 ۔ ص :83-82) کے جواب میں فرمائی تھی۔ ( قَالَ فَالْحَقُّ ۡ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ 84؀ۚ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ 85؀) 38 ۔ ص :86-85) معلوم ہوا کہ یہاں جن وانس سے مراد وہ ہی شیاطین اور ان کے اتباع ہیں۔
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو اب چکھو مزہ جیسے تم نے بھلا دیا تھا اس دن کے ملنے کو ہم نے بھی بھلا دیا تم کو11 اور چکھو عذاب سدا کا عوض اپنے کیے کا

11 ہم نے بھی تم کو بھلا دیا۔ یعنی کبھی رحمت سے یاد نہیں کئے جاؤ گے۔ آگے مجرمین کے مقابلہ میں مومنین کا حال و مآل بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری باتوں کو وہی مانتے ہیں جب ان کو سمجھائے ان سے گرپڑیں سجدہ کر کے اور پاک ذات کو یاد کریں اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ اور وہ بڑائی نہیں کرتے1

1 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں، زبان سے اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں، دل میں کبرو غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے جو آیات اللہ کے سامنے جھکنے سے مانع ہو۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

جدا رہتی ہیں ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہ سے2 پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈر سے اور لالچ سے3 اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے ہیں

2 یعنی میٹھی نیند اور نرم بستروں کو چھوڑ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ مراد تہجد کی نماز ہوئی جیسا کہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔ اور بعض نے صبح کی یا عشاء کی نماز یا مغرب و عشاء کے درمیان کی نوافل مراد لیے ہیں۔ گو الفاظ میں اس کی گنجائش ہے لیکن راجح وہ ہی پہلی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ 3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اللہ سے لالچ اور ڈر برا نہیں، دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور اس واسطے بندگی کرے تو قبول ہے۔ ہاں اگر کسی اور کے خوف ورجاء سے بندگی کرے تو ریاء ہے کچھ قبول نہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپا دھری ہے ان کے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ اس کا جو کرتے تھے4

4 جس طرح راتوں کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کر انہوں نے بےریا عبادت کی۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں چھپا رکھی ہیں ان کی پوری کیفیت کسی کو معلوم نہیں۔ جس وقت دیکھیں گے آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ حدیث میں ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنت میں وہ چیز چھپا رکھی ہے جو نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ کسی بشر کے دل میں گزری۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا ایک جو ہے ایمان پر برابر ہے اس کے جو نافرمان ہے نہیں برابر ہوتے5

5 اگر ایک ایماندار اور بےایمان کا انجام برابر ہوجائے تو سمجھو خدا کے ہاں بالکل اندھیر ہے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

سو وہ لوگ جو یقین لائے اور کیے کام بھلے تو ان کے لئے باغ ہیں رہنے کے مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو کرتے تھے6

6 یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے عمل جنت کی مہمانی کا سبب بن جائیں گے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو نافرمان ہوئے سو ان کا گھر ہے آگ جب چاہیں کہ نکل پڑیں اس میں سے الٹا دئیے جائیں پھر اسی میں اور کہیں ان کو چکھو آگ کا عذاب جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے7

7 کبھی کبھی آگ کے شعلے جہنمیوں کو دروازہ کی طرف پھینکیں گے۔ اس وقت شاید نکلنے کا خیال کریں۔ فرشتے پھر ادھر ہی دھکیل دیں گے کہ جاتے کہاں ہو۔ جس چیز کو جھٹلاتے تھے ذرا اس کا مزہ چکھو (اللھم اعذنی من النار واجرنی من غضبک)
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور البتہ چکھائیں گے ہم ان کو تھوڑا عذاب ورے اس بڑے عذاب سے تاکہ وہ پھر آئیں8

8 یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے قبل دنیا میں ذرا کم درجہ کا عذاب بھیجیں گے تاکہ جسے رجوع کی توفیق ہو ڈر کر خدا کی طرف رجوع ہوجائے۔ کم درجہ کا عذاب یہی دنیا کے مصائب، بیماری، قحط، قتل، قید، مال اولاد وغیرہ کی تباہی وغیرہ۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور کون بےانصاف زیادہ اس سے جس کو سمجھایا گیا اس کے رب کی باتوں سے، پھر ان سے منہ موڑ گیا9 مقرر ہم کو ان گناہ گاروں سے بدلہ لینا ہے10

9 یعنی سمجھنے کے بعد پھر گیا۔ 10 جب تمام گنہگاروں اور ظالم مجرموں سے بدلہ لینا ہے تو یہ اظلم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ آگے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے ظلم و اعراض سے دلگیر نہ ہوں۔ پہلے موسیٰ کو ہم نے کتاب دی تھی جس سے بنی اسرائیل کو ہدایت ہوئی۔ اور اس کی پیروی کرنے والوں میں بڑے بڑے دینی پیشوا اور امام ہو گزرے۔ آپ کو بھی بلاشبہ اللہ کی طرف سے عظیم الشان کتاب ملی ہے جس سے بڑی مخلوق ہدایت پائے گی۔ اور بنی اسرائیل سے بڑھ کر آپ کی امت میں امام اور سردار اٹھیں گے۔ رہے منکر، ان کا فیصلہ حق تعالیٰ خود کردے گا۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے دی ہے موسیٰ کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سے11 اور کیا ہم نے اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے

11 یہ درمیان میں جملہ متعرضہ ہے یعنی بیشک و شبہ موسیٰ کو کتاب دی گئی اور آپ کو بھی اسی طرح کی کتاب ملی اس میں کوئی دھوکا اور فریب نہیں۔ یا موسیٰ کے ذکر پر فرمادیا کہ تم جو موسیٰ سے شب معراج میں ملے تھے وہ سچی حقیقت ہے کوئی دھوکا یا نظر بندی نہیں۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور کیے ہم نے ان میں پیشوا جو راہ چلاتے تھے ہمارے حکم سے جب وہ صبر کرتے رہے1 اور رہے ہماری باتوں پر یقین کرتے2

1 دنیا کے شدائد اور منکرین کے جور و ستم پر۔ 2 یعنی مسلمان اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں اور سختیوں پر صبر کر کے اپنے کام پر جمے رہیں تو ان کے ساتھ بھی خدا کا یہ ہی معاملہ ہوگا۔ چناچہ ہوا اور خوب ہوا۔
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

تیرا رب جو ہے وہی فیصلہ کرے گا ان میں دن قیامت کے جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے3

3 یعنی اہل حق اور منکرین کے درمیان دو ٹوک اور عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ ہاں دنیا میں بھی کئی مثالیں ایسی دکھلائی جا چکی ہیں کہ آدمی انھیں دیکھ کر سمجھ اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیا عاد وثمود کی بستیوں کے تباہ شدہ کھنڈر اور نشان ان منکروں نے نہیں دیکھے ؟ جن پر شام وغیرہ کے سفر میں ان کا گزر ہوتا رہتا ہے۔ اور کیا ان کی ہلاکت کی داستانیں نہیں سنیں۔ مقام تعجب ہے کہ وہ چیزیں دیکھنے اور سننے کے بعد بھی ان کو تنبہ نہ ہوا اور نجات و فلاح کا راستہ نظر نہ آیا۔
Ayahs 32:26–27

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو راہ نہ سوجھی اس بات سے کہ کتنی غارت کر ڈالیں ہم نے ان سے پہلے جماعتیں کہ پھرتے ہیں یہ ان کے گھروں میں اس میں بہت نشانیاں ہیں کیا وہ سنتے نہیں4

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا دیکھا نہیں انہوں نے کہ ہم ہانک دیتے ہیں پانی کو ایک زمین چٹیل کی طرف5 پھر ہم نکالتے ہیں اس سے کھیتی کہ کھاتے ہیں اس میں سے انکے چوپائے اور خود وہ بھی پھر کیا دیکھتے نہیں6

4 یعنی نہروں اور دریاؤں کا پانی یا بارش کا۔ 5 " ارض جرز " سے ہر ایک خشک زمین جو نباتات سے خالی ہو مراد ہے بعض نے خاص سرزمین مصر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور " نسوق المآء " سے دریائے نیل کا پانی مراد لیا ہے۔ اس تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں۔ کما نبہ علیہ ابن کثیر (رح) ۔ 6 یعنی ان نشانات کو دیکھ کر چاہیے تھا کہ حق تعالیٰ کی قدرت اور رحمت و حکمت کے قائل ہوتے اور سمجھتے کہ اسی طرح مردہ لاشوں میں دوبارہ جان ڈال دینا بھی اس کے لئے کچھ دشوار نہیں۔ نیز اللہ کی نعمتوں کے جان و دل سے شکر گزار بنتے۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو7

7 پہلے فرمایا تھا کہ ان کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا۔ اس پر منکرین کہتے ہیں کہ قیامت قیامت کہے جاتے ہو، اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ دن کب آچکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ خالی دھمکیاں ہیں قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

تو کہہ کر فیصلہ کے دن کام نہ آئے گا منکروں کو ان کا ایمان لانا اور نہ ان کو ڈھیل ملے گی8

8 یعنی ابھی موقع ہے کہ اللہ و رسول کے کہنے پر یقین کرو اور اس دن سے بچنے کی تیاری کرلو ورنہ اس کے پہنچ جانے پر نہ ایمان لانا کام دے گا نہ سزا میں ڈھیل ہوگی اور نہ مہلت ملے گی کہ آئندہ چال چلن درست کر کے حاضر ہوجاؤ اس وقت کی مہلت کو غنیمت سمجھو۔ استہزاء و تکذیب میں رائیگاں مت کرو جو گھڑی آنے والی ہے یقینا آکر رہے گی، کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ پھر یہ کہنا فضول ہے کہ کب آئے گی اور کب فیصلہ ہوگا۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

سو تو خیال چھوڑ ان کا اور منتظر رہ وہ بھی منتظر ہیں9

9 یعنی جو ایسے بےفکرے اور بےحس ہیں کہ باوجود انتہائی مجرم اور مستوجب سزا ہونے کے فیصلہ اور سزا کے دن کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے راہ راست پر آنے کی کیا توقع ہے۔ لہذا آپ فرض دعوت و تبلیغ ادا کرنے کے بعد ان کا خیال چھوڑیے اور ان کی تباہی کے منتظر رہیے جیسے وہ اپنے زعم میں معاذاللہ آپ کی تباہی کے منظر ہیں۔ تم سورة السجدہ وللہ الحمد والمنۃ۔