Ayahs 32:1–3آغاز سورت بحقانیت قرآن برائے اثبات رسالت محمدیہ
الم : اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں یہ نازل کردہ کتاب ہے جس میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے جس کا ظاہری اور معنوی اعجاز اس کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتری ہے بتائیں کہ کیا وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا دل یا ہے اور خدا کی طرف اس کو منسوب کردیا ہے یہ قول بالکل غلط ہے بلکہ وہ سچی کتاب ہے جو تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے تاکہ آپ اس کتاب حکمت کے ذریعہ ایسی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں آپ سے پہلے جس قدر نبی گذرے اگرچہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے مگر وہ بنی اسحاق اور بنی اسرائیل میں سے تھے جو قریش کے بنی الاعمام تھے اور آپ ﷺ بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے آپ ﷺ سے پہلے اس قوم میں کوئی نبی نہ آیا تھا اس لئے آپ ﷺ کو بھیجا تاکہ اللہ کی حجت اور ہدایت ان پر پوری ہوجائے۔
Ayahs 32:4–9دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔
(ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ تعالیٰ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ تعالیٰ کون ومکان سے ہے بےنیاز ہے اور بےمثل اور بےچون وچگون لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر پس جس طرح خدا تعالیٰ کا سمیع اور بصیر ہونا اس کی شان کے لائق ہے چونی وچگونی پر وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے تھا اسی شان پر عرش کے پیدا کرنے کے بعد بھی ہے وہ مخلوق کے خیال سے بالا اور برتر ہے مخلوق کا خیال بھی مخلوق ہے۔
ہرچہ ان اندیشی پذیرائے فناست وآن کہ در اندیشہ نا ید آں خدا مت
” عرش “ لغت میں سر پر الملک یعنی بادشاہ کے تخت کو کہتے ہیں اور شریعت میں عرش ایک جسم نورانی ہے جو تمام عالم کو محیط ہے قرآن کریم میں سات جگہ استوا علی العرش کا ذکر آیا ہے اس پر تو اجماع ہے کہ استوا علی العرش سے ظاہری اور حسی معنی یعنی تمکن استقرار کے معنی مراد نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش بلا کیف اور بلا مکان اور بلا جہت کے حق اور ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور یہ اعتقاد رکھنا فرض ہے کہ وہ بےچون وچگون ہے جیسا کہ امام مالک (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) کا قول سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نقل کرچکے ہیں باقی تفصیل وہاں دیکھ لی جائے۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ عرش تدبیر الٰہی کا مظہر ہے یعنی وہ ایسا مقام ہے کہ جہاں سے تدابیر الٰہیہ اور احکام خدا ندوی جاری ہوتے ہیں غرض یہ کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو بیان کیا کہ عرش سے لے کر فرش تک سب اسی کی مخلوق اور مملوک ہے اور اوپر سے لے کر نیچے تک کو بیان کیا کہ عرش سے لے کر فرش تک سب اسی کی مخلوق اور مملوک ہے اور اوپر سے لے کر نیچے تک ہر کون ومکان اور ہر زمین وزحان میں اسی کا حکم جاری ہے پس اپنی قدرت کاملہ کے بیان کرنے کے بعد آئندہ آیت میں مشرکین کو تہدید فرماتے ہیں کہ جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ خدا کی یہ شان ہے تو سمجھ لو کہ تمہارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی پس کیا تم سوچتے بھی نہیں اور ان کلمات حکمت کے سننے اور دیکھنے سے اندھے اور بہرے بن گئے ہو سب کو چھوڑو اور خدائے برحق کی رجوع کرو۔ یہاں تک آسمان اور زمین کی خلقت کو بیان کیا اب آئندہ ان کی تدبیر کو بیان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے لے کر زمین تک تمام امور کی تدبیر کرتا ہے یعنی اپنی حکمت تقدیر کے موافق حکم قضا جاری کرتا ہے۔ کوئی ذرہ اس کے حکم قضا سے باہر نہیں نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ تم دوسروں کی عبادت کرتے ہو اور ان پر بھروسہ کرتے ہو ذرا اپنی جہالت پر غور تو کرو پھر وہ امر الٰہی جو اللہ کی طرف سے اترا تھا لوٹ کر پھر اللہ ہی کی طرف چڑھ جاتا ہے ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری شمار کے حساب سے ایک ہزار سال ہے حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم عرش سے اترتا ہے اور ساتویں زمین تک پہنچتا ہے کما قال قال تعالیٰ اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن یتنزل الامر بینہن اور پھر وہ متعلقہ کاروائی مکمل ہونے کے بعد دفتر اعمال میں درج ہونے کے لئے زمین سے آسمان دنیا پر جاتی ہے اور جو فرشتہ اس کام کے لئے معین تھا بجا لانے کے بعد آسمان کی طرف چڑھ جاتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں اس کو پیش کرتا ہے اور آسمان دنیا پر جاتی ہے اور جو فرشتہ اس کام کے لئے معین تھا بجا لانے کے بعد آسمان کی طرف چڑھ جاتا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں اس کو پیش کرتا ہے اور آسمان سے لے کر زمین تک کا فاصلہ آدمی کی متوسط رفتار کے لحاظ سے پانسو برس کا ہے اور آمد ورفت اور اترنے اور چڑھنے کے لحاظ سے ایک ہزار سال کی مسافت ہے جس کو آدمی ایک ہزار سال سے کم عرصہ میں قطع نہیں کرسکتا اگرچہ فرشتے اس مسافت کو چشم زدن سے بھی کم وقت میں ملے کرلیتے ہیں اس لئے ایک ہزار سال حق تعالیٰ کے یہاں ایک دن قرار دیا گیا بہرحال مسافت تو اتنی ہے اگرچہ فرشتہ اس کو چند منٹ ہی میں طے کرلے حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ اس آیت کے حاشیہ میں لکھتے ہیں یعنی اگر مرد مان نزول تدبیر و عروج اور تصور کنندہ درکم از ہزار سال خیال ننمایند وایں ہمہ پیش خدا تعالیٰ دریک روز تمام می شود غرض آنست کہ اوہام ایشاں بقدرت اونمی رسند۔ واللہ اعلم (فتح الرحمن) ۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں یوم سے یوم قیامت مراد ہے جس دن تمام امور خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے کما قال تعالیٰ والیہ یرجع الامر کلہ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ گو تم اس وقت نہ ہمارا شکر کرتے ہو اور نہ ہماری طرف رجوع کرتے ہو لیکن قیامت کے دن تم اور تمہاری ہر بات ہمارے حضور میں پیش ہونے والی ہے خوب سمجھ لو کہ عرش سے لے فرش تک اس کی تدبیر جاری ہے پھر ایک وقت آئے گا کہ دنیا کا یہ سارا کارخانہ ختم ہوجائے گا اور سارا معاملہ اس کے حضور میں پیش ہوگا اور وہی اس کا فیصلہ کرے گا اور وہ قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنی سرکشی سے باز آجاؤ اور اس دن کے آنے سے ڈرو۔
ایک شبہ : اس آیت میں تو یہ آیا ہے فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون کہ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہے اور دوسری آیت تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے علما نے اس شبہ کے کئی جواب دئیے ہیں۔
جواب : ایک جواب یہ ہے کہ روز قیامت کی مقدار دنیا کے دنوں کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہوگی لیکن صعوبت اور شدت اور سختی اور مصیبت کے اعتبار سے مثل پچاس ہزار سال کے ہوگی۔
جواب دیگر : قیامت کے دن کا طول لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوگا کسی کے حق میں پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور کسی کے حق میں ایک ہزار سال کے برابر ہوگا اور کسی کے حق میں دنیا کے دن برابر ہوگا اور حدیث میں ہے کہ وہ دن مومن کے حق میں فرض نماز کے وقت کے برابر ہوگا۔ کما اخرجہ ابو یعلی وابن حبان والبیھقی بسند عن ابی سعید ؓ تفسیر مظھری ص 284 ج 7۔
جواب دیگر : ابن عباس (رح) فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کا ارشاد فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون یہ دنیا میں ہے اور حق تعالیٰ کا یہ ارشاد۔ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ آخرت میں ہے تفسیر مظہری ص 285 ج 7۔
تفسیر دیگر
اس آیت کی دو تفسیریں ہوچکی ہیں اس آیت کی ایک تیسری تفسیر یہ بھی ہے جو مجاہد (رح) سے مروی ہے اور اس کو حضرت شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ایک ہزار سال کے لئے دنیا کے انتظامات اور تدبیرات کی بابت احکام عطا کرتا ہے اور یہ ایک ہزار سال اللہ کے نزدیک بمنزلہ ایک دن کے ہیں جب یہ ایک ہزار سال گذر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسرے ہزار سال کے لئے دوسرے احکام عطا کر دئیے جاتے ہیں اور اسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہے دیکھو تفسیر روح المعانی ص 108 ج 21 وزاد المسیر لابن الجوزی ص 334 ج 6 اور دیکھو حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 45 ج 4 و تفسیر قرطبی (ف 1) ص 87 ج 14
حضرت شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں بڑے بڑے کام کا حکم عرش سے مقرر ہو کر نیچے اترتا ہے سب اسباب اس کے آسمان و زمین سے جمع ہو کر بن جاتا ہے پھر ایک مدت تک جاری رہتا ہے پھر اٹھ جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسرا رنگ اترتا ہے جیسے بڑے بڑے پیغمبر جن کا اثر قرنوں تک رہا یا بڑی قوم میں سرداری جو عمروں چلی وہ ہزار برس اللہ کے یہاں ایک دن ہے (موضح القرآن )
حضرت شاہ عبد القادر (رح) کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں مجاہد (رح) کا قول اختیار فرمایا۔
یہی ذات والا صفات جس کا حکم اور جس کی تدبیر عرش سے لے کر فرش تک جاری ہے وہی پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور غالب ہے اور مہربان جس کی پیدائش فقط آسمان و زمین تک محدود نہیں بلکہ جس نے ہر چیز کو خوب بنایا جو چیز بھی اس نے پیدا کی وہ نہایت خوب ہے اور انسان کی پیدائش کو گارے مٹی سے شروع کیا اس کی نسل کو ایک حقیر پانی کے خلاصہ سے یعنی نطفہ سے بنایا نطفہ کو سلالہ اس لئے کہا کہ وہ سارے بدن سے کھینچا جاتا ہے پھر رحم مادر میں اس کا قالب درست کیا اور اس کے اعضا میں خاص تناسب رکھا پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے فائدہ کے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ کانوں سے سن سکو اور آنکھوں سے دیکھ سکو اور دل سے سمجھ سکو اللہ نے اپنی رحمت سے یہ نعمتیں تم میں جمع کردیں افسوس کہ تم ایسی عظیم نعمتوں کی بھی برائے نام قدر کرتے ہو بجائے منعم حقیقی کے ایتھر اور نیچر کا نام لیتے ہو کیا یہ کان اور آنکھ اور دل کسی ایتھر اور نیچر کا عطیہ ہیں فلاسفہ عصر کا اقرار ہے کہ ایتھر اور نیچر کے نہ کان ہیں اور نہ آنکھ ہے اور نہ دل ہے پس سوال یہ ہے کہ اس اندھے اور بہرے اور بےشعور مادہ اور ایتھر نے اس فلسفی کو کہاں سے کان اور آنکھ اور دل عطا کر دئیے جو خود فقیر اور نگوڑا ہے وہ دوسرے کو کیا دے گا۔
پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ ہے کہ جو کمال قدرت اور کمال حکمت کے ساتھ موصوف ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور کان اور آنکھ اور دل جیسی نعمتیں تم کو عطا کیں مگر تم اپنی جہالت سے خدا کی نعمتوں میں غور نہیں کرتے اور خدا کو ناقص سمجھ کر مادہ اور ایتھر کا محتاج بتاتے ہو عنقریب مرنے کے بعد جان لو گے کہ حقیقت کیا ہے۔
1 قال القرطبی المعنی انہ یقضی امر کل شیء لا لف سنۃ فی یوم واحدثم یلقیہ الی ملائکتہ فاذا مضت قضی لالف سنۃ اخری ثم کذالک ابدا قالہ مجاھدا (تفسیر قرطبی ص 87 ج 14 )
Ayahs 32:10–22منکرین قیامت کا رد اور مجرمین کی ذلت اور رسوائی کا اجمالی حال
قال اللہ تعالیٰ وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید۔۔۔ الی۔۔۔ انا من المجرمین منتقمون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں منکرین وحدانیت اور منکرین رسالت کا رد تھا اب ان آیات میں منکرین بعث وجزا وسزا کا رد ہے جو احیا موتی کے منکر تھے اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یہ اہل شقاوت کا گروہ ہے پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان اور اہل سعادت کا حال اور مآل ذکر کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستون چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ قیامت کے دن قبروں سے زندہ ہو کر اٹھنے کے منکر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر زمین میں رل مل گئے اور اس میں غائب اور گم ہوگئے اور ہمارے اعضا اور زمین کے اجزا میں کوئی تمیز نہ رہی تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ منکرین بعث کا یہ قول محض تعجب کی بنا پر نہیں بلکہ یہ لوگ ازراہ عناد خدا کے سامنے پیش ہونے کے بالکل منکر ہیں آپ ان منکرین آخرت کے جواب میں کہہ دیجئے کہ تم لوگ محض اس جسم خاکی کو آدمی سمجھتے ہو کہ جب وہ مرگیا تو مٹی میں رل مل کر نیست ونابود ہوگیا بلکہ تم جسم اور روح سے مل کر بنے ہو اور اصل حقیقت تمہاری وہ روح یعنی جان ہے اور یہ پیکر جسمانی روح انسانی کا لباس ہے اصل انسان وہ جان ہے مرنے کے وقت موت کا فرشتہ تمہاری روح اور جان کو تمام اعضا بدن سے پوری طرح قبض کر کے اور اس جسم خاکی سے نکال کر دوسرے عالم میں لے جاتا ہے اور یہ موت کا فرشتہ وہ ہے جو تمہاری جان نکالنے ہی کے لئے تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہاری جان نکال کرلے جاتا ہے اور جسم کو یہاں چھوڑ دیتا ہے موت سے بظاہر جسم اور روح الگ الگ ہوگئے جسم یہاں رہ گیا اور مٹی بن گیا اور روح دوسرے عالم میں چلی گئی پھر جب قیامت آئے گی تو تمہاری اس مٹی میں پھر روح پھونک دی جائے گی اور تم دوبارہ زندہ ہوجاؤ گے اور اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دئیے جاؤ گے اور اس کے سامنے حاضر کر دئیے جاؤ گے جس خدا نے تم کو پہلی بار مٹی سے پیدا کیا اور تم میں روح ڈالی وہی خدا پھر تمہارے خاکی اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ ان میں روح ڈال دے گا خلاشہ کلام یہ کہ موت سے انسان بالکل فنا اور نیست نہیں ہوجاتا بلکہ انسان کی روح کو فرشتہ لے جاتا ہے اور جسم خاکی یہاں رہ جاتا ہے اور حسب سابق مٹی بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان خاکی اجزا متفرقہ کو جمع کر کے پھر ان میں روح ڈال دے گا۔
اب آئندہ آیات میں کافروں کا وہ حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جو قیامت کے دن خدا کی طرف رجوع ہونے کے بعد ظاہر ہوگا چناچہ فرماتے ہیں اور اے مجرمین کے دیکھنے والے اگر تو اس وقت کو دیکھے کہ جب یہ مجرمین حشر (ف 1) کے منکر اپنے پروردگار کے سامنے کمال خجالت وندامت کے ساتھ سر جھکائے ہوئے ہوں گے تو اس وقت عجیب خوفناک کیفیت دیکھے گا جس کی شدت کا اندازہ نہیں ہوسکتا اس وقت یہ مجرمین نہایت ذلت و خواری اور غایت شرمساری سے یہ کہیں گے اے پروردگار ہم نے دیکھ لیا کہ تیری لقا اور جزا حق ہے اور انکار حشر پر تیری توبیخ کو اپنے کانوں سے سن لیا اور معلوم ہوگیا کہ تیرے پیغمبروں نے جو کہا تھا وہ حق تھا پس ہماری درخواست یہ ہے کہ ہم کو دنیا میں واپس بھیج دے ہم وہاں جا کر تیری ہدایت کے مطابق نیک عمل کریں گے ہم اب خوب یقین کئے ہوئے ہیں اور اب ہمیں کوئی شبہ باقی نہیں رہا اور دنیا میں ہم کو جو شکوک و شبہات تھے وہ سب زائل ہوگئے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اگر ہم اس طرح تم کو ہدایت دینا چاہتے تو پہلے ہی سے دنیا میں ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے یعنی اگر ہم کو اس طرح برأی العین ہدایت دینی منظور ہوتی تو ہم پہلے ہی سے یہ سب کچھ برأی العین دکھلا دیتے اور سب کے سب راہ یاب ہوجاتے پھر کوئی ان میں سے کافر نہ رہتا لیکن ہمیں یہ منظور نہ تھا کہ مشاہدہ حقیقت کے بعد مجبور ہو کر ہدایت کو قبول کریں بلکہ ہم نے بندہ کو قدرت واختیار دیا کہ وہ اپنے اختیار سے ہدایت قبول کرے میری بارگاہ میں جزا وسزا کا دارو مدار اختیاری ایمان اور عمل صالح پر ہے نہ کہ اضطراری ایمان پر مگر میں نے اپنے علم ازلی سے جان لیا تھا کہ تم میں سے بعض لوگ اپنے اختیار سے ایمان لائیں گے اور بعض اپنے اختیار سے کفر اور انکار کریں گے اور میری طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ میں دوزخ کو کافروں سے بھروں گا خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ہوں سب سے دوزخ کو بھر دوں یعنی میری قضا وقدر میں یہ طے ہوچکا ہے کہ بعضوں کو ہدایت دوں گا اور ان کو جنت میں داخل کروں گا اور بعضوں کو گمراہ کروں گا اور ان کو جہنم میں داخل کروں گا اور جنت اور جہنم دونوں سے میرا وعدہ ہے کہ میں تم کو رزق دوں گا میں سب کا رازق ہوں اور سب کا مالک ہوں بلاوجہ بھی دوزخ میں ڈال سکتا ہوں پس اے کافرو تم سب جہنم کا ایندھن ہو اس میں جاؤ اور عذاب کا مزہ چکھو بوجہ اس کے کہ تم مجرم ہو اس لئے کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا پس ہم نے بھی تم کو فراموش کردیا یعنی آج ہم تمہارے ساتھ وہ معاملہ کریں گے جو فراموش کے ساتھ ہوتا ہے اور چکھو دائمی عذاب کو بوجہ اس کے کہ جو عمل تم کرتے تھے کہ بجائے پیغمبروں کے تم نے شیطان کی پیروی اختیار کی یہ تو ان لوگوں کا حال بیان کیا کہ جنہوں نے دنیا میں رہ کر دار آخرت کو بھلا دیا اور اپنے اصل گھر کو یاد نہ کیا اب آئندہ آیات میں ان لوگوں کا حال بیان کرتے جو دنیا میں رہ کر بھی دار آخرت کی فکر میں اور مولائے برحق کی اطاعت میں لگے رہے تو کہ معلوم ہوجائے کہ اہل ہدایت کا حال اہل ضلالت کے برعکس ہے کہ کفار فجار اپنے رب سے منحرف اور برگشتہ ہیں اور اہل ایمان دن رات اپنے پروردگار کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں جس طرح دنیا میں فریقین کا حال مختلف ہے اسی طرح آخرت میں دونوں کا مآل مختلف ہے چناچہ فرماتے ہیں جزایں نیست ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کو سچا سمجھتے ہیں کہ جب ان کو ہماری آیتیں یاد لائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمدوتسبیح کرنے لگتے ہیں اور وہ ایمان لانے سے تکبر نہیں کرتے اور طاعت سے سرکشی نہیں کرتے اور ان کے کمال ایمان کی صفات میں ایک صفت یہ ہے کہ ان کے پہلو ان کی خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں خواہ فرض عشاء کے لئے یا تہجد کے لئے یا مغرب اور عشا کے درمیان صلاۃ الاوابین کے لئے اس حالت میں خوف اور امید کے ساتھ اپنے رب سے دعائیں مانگتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں یہ ہیں خدا تعالیٰ کے کامل الایمان بندے جو امید وبیم کی حالت میں اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جان ومال سے اس کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں پس کوئی نہیں جانتا کہ ان مومنین کاملین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان پوشیدہ رکھا گیا ہے بمقابلہ اس مخلصانہ بندگی کے جو یہ لوگ عمل میں لاتے ہیں ” قرۃ اعین “ سے وہ انعامات مارد ہیں جن کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کو لوگوں کی نظر سے مخفی رکھا ہے اس لئے کہ یہ عباد مخلصین اپنے اعمال کو لوگوں سے مخفی رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی جزا کو مخفی رکھا ہے کہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی بشر کے قلب پر اس کا خطرہ گذرا بھلا بتلاؤ سہی کہ جو شخص ایمان رکھتا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے کہ جو نافرمان ہے مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے ضدین اور نقیضین کا برابر ہونا عقلا محال ہے جس طرح دنیا میں مختلف تھے آخرت میں بھی مختلف رہیں گے ایمان نور ہے اور کفر ظلمت ہے پس مومن اور کافر کیسے برابر ہوسکتے ہیں سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے بطریق مہمانی ان کے لئے دائمی باغات ہوں گے جہاں وہ ٹھکانا پکڑیں گے بعوض ان اعمال کے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ” نزلا “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ پیش کش ہوگی وہ بطور ماحضر ہوگی جیسا کہ مہمانوں کے سامنے لائی جاتے ہے اور کلی نعمتیں تو جنت میں داخل ہونے کے بعد عطا ہوں گی اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح کی بنا پر اس عزت و کرامت کے مستحق ہوں گے اور جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا دائمی ٹھکانا دوزخ ہے اور جب کبھی دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو پھر ذلت و خواری کے ساتھ زبردستی اسی میں دھکیل دئیے جائیں گے اور کہا جائے گا ان سے کہ چکھو مزہ اس عذاب نار کا جس کو تم جھٹلاتے تھے یہ عذاب تو آخرت میں ہوگا اور البتہ تحقیق ہم ان اہل مکہ کو دنیا ہی میں قریبی عذاب چکھائیں گے یعنی قتل اور قحط کا اور دنیاوی آفات اور مصائب کا عذاب ان کو چکھائیں گے جو بڑے عذاب سے کم ہوگا یعنی عذاب دوزخ سے کم ہوگا شاید یہ لوگ اس قریب اور ہلکے عذاب کو دیکھ کر راہ حق کی طرف پھر جاویں اور کفر سے باز آجاویں مگر یہ ظالم باز آنے والے نہیں اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا کہ جسے اپنے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے یعنی بطریق وعظ ونصیحت اس کو اللہ کی آیتیں سنائی جائیں پھر وہ ان سے منہ پھیر لے اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرے تو ایسے شخص کے مجرم ہونے میں کیا شبہ ہے بیشک ہم مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے اور ان کے جرم کی ضرور ان کو سزا دیں گے جس درجہ کا جرم ہوگا اسی درجہ کا انتقام ہوگا۔
Ayahs 32:23–30رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے ظلم اور اعراض سے دلگیر نہ ہوں آپ ﷺ ان معاندین اور مجرمین سے اعراض کیجئے اور اللہ کی فتح کا انتظار کیجئے۔
توریت کی طرح آپ ﷺ کی کتاب بھی کتاب ہدایت و حکمت ہے اور جس طرح ہم نے بنی اسرائیل میں ائمہ ہدایت بنائے اسی طرح ہم آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین میں ایمہ ہدیٰ اور نجوم ہدایت بنائیں گے اور ساتھ ساتھ اس پر متنبہ کردیا کہ مقام امامت صبر اور استقامت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور یہ مقام اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اصحاب کے لئے مقدور کیا ہے اور اس تمام مضمون سے آپ کی تسلی اور آپ کے منکرین کی تہدید ووعید مقصود ہے چناچہ فرماتے ہیں اور تحقیق ہم نے اپنے بندہ اور رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی عظیم کتاب دی جیسے آپ ﷺ کو قرآن عظیم جیسی کتاب حکیم دی پس آپ اس کے ملنے سے کسی شک اور شبہ میں نہ رہیے یعنی آپ ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ملنے کے بارے میں کوئی شک اور تردد نہ کریں یہ معنی مجاہد (ف 1) اور زجاج (رح) سے منقول ہیں (تفسیر قرطبی ص 108 ج 14) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اللہ نے ان پر ایک کتاب اتاری اسی طرح تم بھی خدا کے پیغمبر ہو لہٰذا تم پر کتاب کا اتارا جانا کوئی امر جدید اور عجیب نہیں کما قال تعالیٰ قل ما کنت بدعا من الرسل اس آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو ہے کہ آپ ﷺ شک میں نہ پڑیں لیکن مقصود دوسروں کو سنانا ہے کہ وہ ان کی نبوت میں شک نہ کریں معاذ اللہ نبی کریم ﷺ کو کوئی شبہ نہ تھا لوگوں کے سنانے کے لئے کہا گیا کہ شبہ مت کرو (دیکھو حاشیہ قنوی علی تفسیر البیضاوی ص 104 ج 6 )
1 قال القرطبی قیل فلا تکن فی شک من لقاء موسیٰ الکتاب بالقبول قالہ مجاھد والزجاج تفسیر قرطبی ص 108 ج 14۔
یا مطلب : یہ ہے کہ آپ ﷺ نے آسمان اور زمین میں شب معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی ہے اس سے آپ ﷺ شک میں نہ پڑئیے وہ ایک حقیقت تھی کوئی دھوکہ اور فریب نہ تھا اشارہ اس طرف تھا کہ آپ کی امت میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی طرح ایمہء ہدایت ہوں گے جیسے خلفاء راشدین سرخیل ایمہء ہدایت تھے اور صحابہ کے بعد طبقہء تابعین میں ائمہ اجتہاد اور ائمہ حدیث اور ایمہء علم کلام پیدا ہوئے۔
یا مطلب : یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اپنی زندگی میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ضرور ملاقات کریں گے مگر سیاق آیت کے ساتھ زیادہ مربوط پہلے ہی معنی ہیں۔
اور کردیا ہم نے اس کتاب کو جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی تھی بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی کتاب کو لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا اور پھر ہم نے بنی اسرائیل میں سے مقتدا اور پیشوا بنائے کہ جو لوگوں کو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور خدا کی راہ میں ان کو جو تکلیفیں اور مشقتیں پہنچیں ان کو برداشت کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے اس آیت میں حق تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے حال کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حال سے تشبیہ دیتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے پیغمبر جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی اسی طرح ہم نے تم کو قرآن دیا اور امت مرحومہ کے لئے ذریعہ ہدایت ٹھہرایا اور جس طرح ان کے اصحاب کو ائمہء ہدایت بنایا اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کے اصحاب کو ائمہ ہدایت بنایا جیسا کہ حدیث میں ہے اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اھتدیتم رواہ الدار قطنی وابن عبد البر من حدیث ابن عمر وقدروی بمعناہ من حدیث انس وفی اسانیدہ مقال لکن یشد بعضھا بعضا کذا فی ظفر الامانی بشرح مختصر الجرجانی للشیخ عبد الحی الکھنوی (رح) ص 180۔
: خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کے بعد ائمہ مجتہدین بلاشبہ ائمۃ یھدون بامرنا کا مصداق تھے ان کا اتباع موجب رشد وہدایت ہے اور خود رائی تو رائی کے دانہ کے برابر بھی مہلک ہے نیز اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ امامت کے استحقاق کے لئے صبر کامل اور یقین کامل ضروری ہے بغیر اس کے پیشوائی کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔
غرض یہ کہ ائمہ ہدایت لوگوں کو حق کی طرف بلائیں گے کوئی سنے گا اور کوئی نہیں سنے گا قیامت تک اختلاف کا سلسلہ جاری رہے گا البتہ تیرا رب ہی قیامت کے دن ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا حق کو باطل سے جدا کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال جزاء دے گا اب آئندہ آیت میں منکرین نبوت کی تہدید فرماتے ہیں کیا ان عذابوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ہم اس سے پہلے کتنی قوموں اور امتوں کو آسمانی اور زمینی عذابوں سے ہلاک کرچکے ہیں حالانکہ یہ لوگ ان کے گھروں میں چلتے پھرتے ہیں اور اثنا سفر میں ان پر سے گذرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مگر اپنی تیرہ بختی اور شامت اعمال کی وجہ سے عبرت پذیر نہیں ہوتے بیشک اس میں ہمارے قہر وغضب کی نشانیاں موجود ہیں کہ یہ قومیں پیغمبروں کے جھٹلانے کی وجہ سے غضب الٰہی سے ایسی تباہ اور برباد ہوئیں کہ ان میں سے کسی کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا اور یہ ان کی بلند عمارتیں ہیں جن پر ان کو غرور تھا وہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے کیا یہ لوگ ان کے قصے بھی نہیں سنتے جو زبان زد خلائق ہیں اب اس کے بعد منکرین قیامت کی تہدید فرماتے ہیں کیا یہ منکرین حشر ونشر دیکھتے نہیں کہ ہم پانی یعنی بادل کو بنجر اور خشک زمین کی طرف ہانکتے ہیں پھر ہم اس کے ذریعہ کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں سو کیا یہ لوگ اس نشان قدرت کو نہیں دیکھتے پس جو خدا خشک زمین سے گھاس اگانے پر قادر رہے وہ انسانوں کو مٹی ہوجانے کے بعد بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے بوقت زراعت ہم اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں کہ دانہ زمین میں دفن ہوگیا مگر اس کی باطنی کیفیت نہیں جانتے کہ وہ دانہ کس طرح غلہ اور پھل کی شکل میں نمودار ہوا اور انسان خود اپنی پیدائش میں اصلی کیفیت کو نہیں جانتا کہ غذا جسم میں متحیل ہو کر کس طرح خون بنی اور کس طرح قطرہ منی پیدا ہوا اور کس طرح رحم مادر میں پہنچ کر نو ماہ میں ولادت کی منزلیں کس طرح طے ہوئیں اور پھر ولادت سے لے کر لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں کس طرح طے ہوئیں اور پھر ولادت سے لے کر لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں کس طرح طے ہوئیں اور یہ سب باتیں نظروں کے سامنے ہیں مگر باطنی کیفیت اور اندرونی حقیقت کسی فلسفی کو بھی معلوم نہیں پس اگر کسی کو دوبارہ زندہ ہونے کی کیفیت اور حقیقت معلوم نہ ہو سکے تو اس سے دوبارہ زندہ ہونے کا محال ہونا لازم نہیں آتا دنیا کی ہزارہا زچیزیں محسوس ہیں مگر عقل ان کی حقیقت اور کیفیت کے ادراک سے قاصر ہے تو فقط اتنی بات سے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی کسی چیز کا محال ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔
خلاصہء کلام یہ کہ جب احیا موتی کے نمونے تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں تو پھر دوبارہ زندگی کا کیوں انکار کرتے ہو۔
اب آگے مشرکین مکہ کے ایک اور شبہ کا جواب دیتے ہیں اور یہ لوگ بطور استہزاء اور تمسخر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتلاؤ تمہاری فتح اور غلبہ کا دن کب آئے گا اگر تم اپنے وعدے اور دعوے میں سچے ہو کہ اللہ دین اسلام کو اور مسلمانوں کو فتح اور غلبہ دے گا بتلاؤ وہ دن کب آئے گا اور بعض کہتے ہیں کہ فتح سے فیصلہ کا دن یعنی قیامت کا دن مراد ہے منکرین قیامت مسلمانوں سے کہتے کہ تم قیامت قیامت کہے جاتے ہو یہ تو بتلاؤ کہ قیامت کا دن کب آئے گا اے نبی آپ ﷺ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ وہ یوم فتح ایسا دن ہے کہ اس دن کافروں کو ایمان لانا بالکل نفع نہ دے گا کہ نجات پا جائیں اور نجاب تو درکنار ان کو تو مہلت بھی نہ ملے گی یعنی آپ ان لوگوں کو آگاہ کر دیجئے کہ ” یوم الفتح “ کے سوال سے تمہاری کیا غرض ہے اگر یہ مطلب ہے کہ اس دن کے عذاب اور قہر کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو یہ غلط ہے موت کو یا نزول عذاب کود یکھ کر ایمان بےسود ہے دیکھ کر تو سب ہی ایمان لے آئیں گے اور اگر اس سوال سے تمہاری غرض یہ ہے کہ آخرت کوئی چیز نہیں تو بیشک عالم آخرت اور عالم جاودانی کے سامنے تمہاری دنیاوی زندگانی پلک مارنے کے برابر بھی نہیں لیکن خوب سمجھ لو کہ وہ وقت یقیناً آکر رہے گا تمہاری ان باتوں سے اس کا آنا ٹل نہیں سکتا۔
اور اگر ” یوم فتح “ سے فتح مکہ کا دن یا بدر کا دن مراد ہو تو پھر الذین کفروا سے عام کافر مراد نہ ہوں گے بلکہ وہ خاص مقتولین بدر اور مقتولین بدر اور مقتولین فتح مکہ مراد ہوں گے کہ جو بدر کے دن یا فتح مکہ کے دن مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے تو حالت قتل اور حالت موت میں ایمان لانا ان کو نفع نہ دے گا جیسے فرعون کو حالت غرق میں ایمان لانے سے کچھ نفع نہ ہوا۔
دیکھو حاشیہ شیخ زادہ علی تفسیر البیضاوی ص 51 ج 4 وحاشیہ قنوی علی تفسیر البیضاوی ص 107 ج 6۔
پس اے نبی ﷺ آپ ان ہنسی کرنے والوں سے منہ پھیر لیجئے اور ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اور آپ اس وقت کے منتظر رہیے تحقیق وہ بھی اس کے منتظر ہیں یعنی آپ ﷺ قیامت کے دن کا بھی انتظار کریں جس دن سب کا فیصلہ ہوجائے گا اور فتح مکہ اور بدر کے دن کا بھی انتظار کریں وہ دن بھی عنقریب آرہا ہے اس دن یہ استہزا کرنے والے تلوار کے گھاٹ اتار دئیے جائیں گے لہٰذا یہ بداندیش جو آواز کس رہے ہیں آپ ﷺ اس کی پرواہ نہ کیجئے یوم فتح کا انتظار کیجئے اور ان کی تباہی کے منتظر رہیے جیسے یہ لوگ اپنے زعم میں آپ کی تباہی کے منتظر ہیں یہ لوگ باطل کے منتظر ہیں آپ ﷺ حق کا انتظار کیجئے انشاء اللہ تعالیٰ حق اپنے وقت پر ظاہر ہوجائے گا اور یہ لوگ ناحق بات کے منتظر ہیں۔
الحمد للہ آج بروز چہار شنبہ بوقت چاشت بتاریخ 18 شعبان المعظم 1392 ھ سورة سجدہ کی تفسیر سے فراغت ہوئی ولللہ الحمد اولا واخرا یا اللہ جس طرح تو نے اپنے فضل وکرم سے یہاں تک لکھنے کی توفیق دی اسی طرح اپنے فضل وکرم سے باقی قرآن پاک کی تفسیر لکھنے کی بھی توفیق عطا فرما اور قبول فرما اور مجھ کو اور میری اولاد کو اوراقارب اور احباب کو دین ودنیا میں اس سے نفع دے اور ہر شر اور فتنہ سے محفوظ رکھ آمین یا رب العالمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔