31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 31:1–11

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

آغاز سورت بمدح کتاب ہدایت و حکمت وبیان حال ومآل سعدا مفلحین واشقیا خاسرین قال اللہ تعالیٰ الم تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ بل الظلمون فی ضلل مبین۔ (ربط) یہ سورت ” سورة لقمان “ کے نام سے موسوم ہے جس میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر ہے اس لئے سورت کا آغاز قرآن کریم کی مدح اور توصیف سے کیا گیا کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب حکمت وہدایت ہے جس سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں گذشتہ سورت کے اخیر میں قرآن کریم کے اعجاز اور اس کے مکذبین کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے اہل علم اور اہل ایمان کا ذکر تھا اس لئے اس سورت کے شروع میں اول قرآن کی مدح اور توصیف ذکر فرمائی اور اس کے بعد سعدا (ف 1) مفلحین اور اشقیا خاسرین کا حال اور مآل اور ان کے مراتب اور مقامات کو بیان کیا تاکہ دونوں فریق میں کمال تباین ظاہر ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سورت کی آیت ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون میں ذکر تھا کہ قیامت کے دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ الگ کر دئیے جائیں گے۔ اور چونکہ سورة لقمان مکیہ ہے لہٰذا ان سعدا مفلحین کا مصداق مہاجرین اولین ہوں گے چناچہ فرماتے ہیں الم اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں یہ سورت آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی در آنحالیکہ وہ مشعل ہدایت اور عظیم رحمت ہیں نیکو کاروں کے لئے جو خدا کی اس طرح عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اپنے پروردگار کو دیکھ رہے ہیں جو نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ آخرت کا قطعی یقین رکھتے ہیں آخرت ہر وقت ان کے پیش نظر رہتی ہے اور وہ دنیا کو سرائے فانی سمجھتے ہیں ہدایت اور صلاح اور فلاح کی اصل جڑ آخرت کا یقین ہے ورنہ سب ہیچ ہے ایسے ہی بندے اپنے رب کی طرف سے عظیم ہدایت پر ہیں اور ایسے ہی بندے فلاح پانی والے ہیں یعنی رضائے الٰہی اور نعمائے غیر متناہی سے سرفراز ہوں گے جو کسی بشر کے وہم و گمان میں نہیں آسکتیں یہاں تک سعدا یعنی محسنین مفلحین کا بیان تھا اب آگے ان کے بالمقابل اشقیا کا حال بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور ان سعدا مفلحین کے بالمقابل کچھ لوگ ایسے ہیں جو قرآن سے اعراض کر کے کھیل کی باتوں کے یعنی قصے کہانیوں اور خرافات اور گانے بجانے والی لونڈیوں کے خریدار ہیں تاکہ یہ قصے سنا کر محفل گرم کریں اور لوگوں کو خدا کی راہ سے یعنی اس کے دین سے بےسمجھے بوجھے یعنی بوجہ بےعلمی اور جہالت کے گمراہ کریں خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی فکر میں ہیں اور یہ گمراہ اس فکر میں ہے کہ اللہ کی آیتوں کی ہنسی اڑا دے یعنی بالکل جاہل ہے نیک وبد کو کچھ نہیں سمجھتا آیات الٰہی کا لہو الحدیث سے مقابلہ کرتا ہے اور راہ حق کا ٹھٹھا بناتا ہے اور اللہ کی باتوں کے ساتھ تمسخر کرتا ہے ایسے ہی لوگوں کے لئے ذلت اور رسوائی کا عذاب ہے آپ ان کو اسی عذاب کی خبر سنا دیجئے اور اس شخص کی حالت یہ ہے کہ جب اس کے سامنے ہمارے آیت تلاوت کی جاتی ہیں تو یہ شخص مغرور بن کر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے گویا کہ اس نے آیات کو سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے کانوں میں سخت گرانی یعنی بہرہ پن ہے آیات الٰہی کی عظمت کا حق تو یہ تھا کہ ان کے سامنے سر جھکاتا اور بصد تواضع وادب ہدایت ومعرفت کا خواستگار ہوتا لیکن اس نے بجائے توجہ کے بےالتفاتی برتی اور بجائے عاجزی کے تکبر کیا اور بجائے مدح کے ان کے ساتھ ٹھٹھہ کیا اور عین ہدایت و حکمت کے مقابلہ میں لہو الحدیث یعنی لغو اور باطل کو لایا پس آپ ایسے شخص کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے کیونکہ ایسا شخص خدا کا اور اس کے دین کا دشمن ہے اور دشمن ایسی ہی بشارت کا مستحق ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ومن الناس من یشتری لھو الحدیث سے فبشرہ بعذاب الیم تک نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو تجارت کرتا تھا اور حیرہ وغیرہ سے قصص اور اخباء کی لغو کتابیں خرید کر لایا کرتا تھا جس میں اکاسرہ ایران اور رستم اور اسفند یار کی داستانیں ہوتی تھیں اور قریش اور اہل مکہ کو قرآن سے روکنے کے لئے یہ داستانیں سناتا اور کہتا کہ محمد ﷺ تم کو عاد اور ثمود کے قصے سناتے ہیں اور میں تم کو رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کے قصے سناتا ہوں اور کچھ گانے والی لونڈیاں بھی خرید لایا تھا جس کو اسلام کی طرف راغب دیکھتا تو اس کو بلا کر لاتا اور شراب پلاتا اور گانا سنواتا اور کہتا کہ بتلا یہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جس کی طرف تم کو محمد ﷺ بلاتے ہیں کہ نماز پڑھو اور روزوہ رکھو اور اس کے ساتھ ہو کر اپنی جان کھپاؤ یعنی جہاد کرو مقصود اس کا یہ تھا کہ لوگ قرآن چھوڑ کر یہ قصے سنیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ اور عبد اللہ ؓ وغیرہم سے یہی منقول ہے کہ یہ آیت گانے بجانے اور لغو کہانیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 51 ج 14 ) اور عکرمہ ؓ اور سعید بن جبیر ؓ اور مجاہد ؓ اور مکحول (رح) اور عمرو بن شعیب ؓ اور علی بن بذسمیہ ؓ اور حسن بصری (رح) (علما تابعین) سے یہی منقول ہے کہ یہ آیت غنامزامیر کے بارے میں نازل ہوئی۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 443 ص 2 اور جو غنا تحریک اصوات اور تحسین نغمات کے ساتھ برعایت قواعد موسیقی ہو وہ بالاتفاق حرام ہے۔ غرض کہ یہ کہ اس آیت میں لہو الحدیث کے قصے کہانیاں اور گانے بجانے کا سامان مراد ہے جیسے باجا اور بانسری اور موسیقی اور ستار اور سارنگی اور خرافات اور مضحکہ خیز باتیں اور ناول اور افسانہ جات اور گانے بجانے والی لڑکیاں یہ سب چیزیں لہو الحدیث کے عموم میں داخل ہیں اور یہ سب چیزیں باجماع صحابہ وتابعین وباتفاق ایمہ مجتہدین حرام ہیں جن کے حرام ہونے میں ذرہ برابر شبہ نہیں اور گانا بجانا تو تمام ملتوں اور دینوں میں حرام رہا ہے یہ نفسانی اور شہوانی چیزیں کسی دین میں کبھی بھی جائز نہیں ہوئیں اور غنا اور مزامیر کی حرمت میں بیشمار احادیث آتی ہیں جن کو علامہ ابن حجر مکی (رح) وسلم نے کتاب الزواجر میں ذکر کیا ہے۔ جاننا چاہئے کہ اس قسم کے ہفوات اور خرافات اور ناولوں اور افسانوں کا پڑھنا بلاشبہ حرام ہے اور جب کہ اس سے مقصود استماع حق اور سماعت قرآن سے روکنا ہو تو وہ بلاشبہ کفر ہے دشمنان حق کا طریقہ ہی یہ ہے کہ استماع حق سے باز رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی مشغلہ نکال کھڑا کرتے ہیں اور حق کا مذاق اڑاتے ہیں اور جب ان کو حق بات سنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ گویا کہ انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور مغرورانہ گردن ہلاتے ہوئے چلتے ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا اور وعید اور عذاب کی بشارت دی ہے۔ اہل ایمان اور عاشقان قرآن کے لئے بشارت اب آئندہ آیات میں اہل ایمان کا حال اور مآل کا ذکر کرتے ہیں کہ اہل ایمان کا حال ان کے برعکس ہے کہ وہ لوگ جب آیات قرآنی کو سنتے ہیں تو گردن جھکا دیتے ہیں اور ہمہ تن گوش بن جاتے ہیں ان کا انجام وہ ہے جس کو آئندہ آیت میں بیان کرتے ہیں بالیقین جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے نعمتوں کے باغ ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں اللہ عزوجل نے ان سے پکا وعدہ کیا ہے جو پورا ہو کر رہے گا اور وہ خدا تعالیٰ عزت والا اور حکمت والا ہے اور اگر تم اس کی شان عزت و حکمت کو پہنچاننا چاہتے ہو تو اس کے عجائب قدرت میں غور کرو تحقیق اسی نے آسمانوں کو بلاستون کے پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ آسمان بلاعمود کے قائم ہیں یہ اس کی کمال صنعت کی دلیل ہے کہ اس نے اتنا بلند اور طویل و عریض جسم بغیر عمود کے پیدا کردیا اور بلاستون اور سہارے کے اسے قائم کردیا جس کو تم ہر وقت اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہتے ہو دیکھ لو کہ یہ آسمان خود بخود باقتضا طبیعت موجود نہیں ہوگئے بلکہ خدا کی قدرت سے وجود میں آئے ہیں اور فضا اور خلا میں بغیر کسی ستون کے قائم ہیں اور ان آسمانوں کا کوئی مکان بھی نہیں کہ جہاں یہ سات آسمان مستقر اور متمکن ہیں اگر ہر جسم اور ہر مکان کے لئے مکان لازم ہو تو تسلسل لازم آئے اور اس نے زمین میں بڑے بھاری پہاڑ ڈال دئیے کہ زمین تم کو لے جنبش نہ کرے یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی پشت پر پہاڑوں کو اس لئے جما دیا تاکہ وہ تم کو لے کر جھک نہ پڑے زمین پانی کی پشت پر قائم ہے اور اوپر سے ہوائیں ہیں اگر اس کے اوپر پہاڑوں کا ثقل سے زمین کو ثابت اور مستقر کردیا۔ زمین از تپ ولرزہ آمد ستوہ فرو کوفت بردامنش میخ کوہ فلاسفہ عصر کہتے ہیں کہ زمین پہلے گیلی مٹی کی طرح دلدل تھی جب اس نے ذاتی قوت سے حرکت شروع کی تو سخت پڑگئی یہ سب اٹکل کی باتیں ہیں جن پر دلیل کوئی نہیں پہاڑ تو گہرے سمندروں کے اندر بھی موجود ہیں جن سے بعض مرتبہ جہاز ٹکرا کر تباہ ہوجاتا ہے معلوم ہوا کہ یہ سب اللہ کی صنعت ہے زمین کی حرکت اور اس کے اجزا کی باہمی کشش کو اس میں دخل نہیں اور زمین کے لئے کشش ثابت کرنے کے لئے پہاڑ جیسی دلیل تو کہاں سے آئے ایک ڈھیلے کے برابر بھی فلاسفہ عصر کے پاس دلیل نہیں اور اس نے اپنی قدرت سے زمین میں ہر قسم کے جانور بکھیر دئیے جن صورتیں اور شکلیں مختلف ہیں اور ہر ایک کے اعضا دوسرے سے متمیز ہوئے کوئی جانور کسی زمین میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی کسی زمین میں زمین ساکن ہے اور جانور اس پر چلتے پھرتے ہیں اگر زمین میں تزلزل اور اضطراب ہوتا تو اس پر ٹھہرنا اور چلنا مشکل ہوجاتا بقول فلاسفہ عصر اگر زمین متحرک ہوتی تو ہندوستان کی زمین حرکت کر کے امریکہ کی جگہ اور امریکہ حرکت کر کے ہندوستان کی جگہ آجاتا اور ہندوستان کا طلوع و غروب اور موسم امریکہ جیسا ہوجاتا۔ اور ہم نے اپنی قدرت سے آسمان سے پانی اتارا جو تمہاری زندگی کا اور نجاستوں کے دور کرنے کا سامان ہے اور پھر ہم نے زمین میں ہر قسم کے کے عمدہ عمدہ نباتات اگائے جن کے فوائد اور منافع کو کوئی شمار نہیں کرسکتا زمین میں تخم ریزی ہوتی ہے اور آسمان سے پانی برستا ہے اگر بارش نہ ہوتی تو زمین سے پیداوار کس طرح ہوتی مطلب یہ ہے کہ آسمان سے زمین پر بارش ہوتی ہے اور اس علوی اور سفلی کے امتزاج سے قسم قسم کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں دیکھ لو کہ یہ سب چیزیں اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں آسمان اور زمین اور پہاڑ اور حیوانات اور نباتات یہ سب اللہ ہی کی مخلوقات ہیں پس اے مشرکین مجھے دکھاؤ تو سہی کہ جن کو تم اللہ کے سوا معبود مانتے ہو انہوں نے خدا کے سوا کون سی چیز پیدا کی ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ چیز تمہارے معبودوں کی پیدا کی ہوئی ہے مگر یہ لوگ زینہار کوئی ایسی چیز پیش نہیں کرسکتے جو ان کے مزعوم معبودوں نے بنائی ہو بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں اور گمراہی کا ازالہ کلمات حکمت وہدایت ہی کے سننے سے ہوسکتا ہے اس لئے آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کی نورانی حکمت کا نمونہ ذکر کرتے ہیں تاکہ ان ظالموں اور گمراہوں کو تنبیہ ہو۔
Ayahs 31:12–32

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

ذکر نصائح لقمان (علیہ السلام) سراپا حکمت وعرفان قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا لقمن الحکمۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان انکو الاصوات لصوت الحمیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے فساد اعتقاد کو بیان کیا اور بتلایا کہ جہالت اور عناد کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ کتاب حکمت وہدایت لوگوں کو جہالت سے نکالنے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کا حق یہ تھا کہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے مگر کفر اور کفران میں مبتلا ہوگئے اب آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کے کلمات حکمت وموعظت کو ذکر کرتے ہیں کہ لقمان حکیم نے کس طرح اپنے بیٹے کو توحید اور اخلاص اور شکر اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی وصیت اور نصیحت کی اور یہی امور، امور حکمت ہیں اور مدار سعادت و فلاح ہیں اور بلاشبہ یہ وصیتیں اور نصیحتیں لوح قلب پر کندہ کرنے کے قابل ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے اپنے بندہ لقمان کو علم و حکمت یعنی دانائی عطا کی جو تمام نعمتوں کا سرچشمہ ہے اور یہ نعمت ہمارا عطیہ ہے لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ لقمان حکیم (علیہ السلام) کی حکمتوں اور نصیحتوں کو یاد رکھیں اور ان پر عمل کریں وہ حکمتیں ہماری الہام کردہ ہیں۔ ” حکمت “ کی تفسیر میں بہت سے قول ہیں، حکمت اس علم صحیح اور فہم صحیح کا نام ہے جس کے ساتھ عمل بھی مقرون ہو اس مجموعہ کا نام حکمت ہے ورنہ علم خواہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو لیکن اگر عمل صحیح اس کے ساتھ نہ ہو تو وہ حکمت کا مصداق نہیں ہوسکتا اسی لئے اللہ تعالیٰ حکمت کی شان میں فرماتا ہے ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا یعنی حکمت بڑی خیر کثیر ہے ورنہ علم بےعمل ہیچ ہے حکمت کا جز اول علم صحیح اور فہم صحیح ہے اور جزء متمم عمل صحیح ہے اور جو حکمت کی باتیں لقمان (علیہ السلام) کو عطا کی گئیں وہ بطور الہام کے عطا کی گئیں لقمان (علیہ السلام) نبی نہ تھے حکم تھے اور ملہم من اللہ تھے۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت اور عنایت سے لقمان کو علم اور حکمت کی نعمت عطا کی اور اس کو حکم دیا کہ اے لقمان اللہ کا شکر کر کہ جس نے تجھ کو علم و حکمت اور فہم و فراست جیسی عظیم نعمت عطا کی اس لئے مقتضائے حکمت یہ ہے کہ محسن اور منعم کا شکر ادا کیا جائے جس درجہ کی نعمت ہوا سی درجہ کا شکر بھی ہونا چاہئے پس اے لقمان جب ہم نے تم کو حکمت جیسی نعمت سراپا کرامت عطا کی تو تمہارا پہلا کام یہ ہے کہ جس نے تم کو یہ نعمت عطا کی اس کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم کو خیر کثیر عطا کی خوب سمجھ لو کہ جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ اور بھلے کے لئے کرتا ہے شکر سے نعمت باقی رہتی ہے اور اس میں زیادتی ہوتی ہے یہ نفع شکر کرنے والے کو پہنچتا ہے خدا کو کسی کے شکر کی ضرورت نہیں اور نہ بندوں کے شکر سے اسے کوئی فائدہ اور جو ناشکری کرتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے پس تحقیق اللہ تعالیٰ تو بالکل بےنیاز ہے اور بذات خود ہر حال میں ستو دہ ہے خواہ کوئی اس کی ستائش کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں سے غنی اور بےنیاز ہے اور وہ اپنی صفات وافعال میں بذات خود حمید اور پسندیدہ ہے اس کا کمال و جمال کسی کی حمد اور ستائش کا محتاج نہیں۔ زعشق ناتمام ماجمال یار مستغنی است اور حکمت اور دانائی کا تقاضہ یہ ہے کہ اول خود اپنے منعم اور محسن کا شکر گذار بنے اور پھر اپنے اہل و عیال کو شکر کی تعلیم دے اور شرک سے منع کرے اس لئے آئندہ آیات میں لقمان حکیم (علیہ السلام) کی ان نصیحتوں کو ذکر کرتے ہیں جو اس نے اپنے بیٹے کو کیں تاکہ لوگ ان سے ہدایت اور نصیحت پکڑیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ لقمان نے اپنے فرزند دلبند کو کہا در آنحالیکہ وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا اے میرے پیارے بیٹے کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا بیشک بڑی بےانصافی ہے منعم اور غیر منعم کو اور حقیر اور کبیر کو اور ذلیل اور جلیل کو اور قادر اور عاجز کو اور مخلوق اور خالق کو برابر کرنا صریح ظلم ہے مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نصیحت ہے کہ جو حکیم لقمان (علیہ السلام) نے اپنے فرزند دلبند کو کی تھی کسی غیر کو نہیں کی تھی کہ جس میں کوئی وہم پرست یہ شبہ کرسکے کہ شاید کسی دوسرے کو بہکا دیا ہو معلوم نہیں کہ لقمان کا بیٹا مشرک تھا کہ اس کو سمجھا کر راہ راست پر لانا چاہتے تھے یا موحد تھا کہ اس کو توحید پر مستحکم اور مضبوط کرنے کی غرض سے یہ وصیت فرمائی دور تک لقمان حکیم کے کلمات حکمت کا ذکر چلا گیا ہے لقمان نے اپنے بیٹے کو سب سے پہلے جو وصیت اور نصیحت نہیں کی جس میں اپنی غرض کا احتمال تھا تو اللہ تعالیٰ نے وصا یائے لقمان کے ضمن میں بطور جملہ معترضہ والدین کی شکر گذاری کا ذکر فرمایا تاکہ لقمان کی نصیحت مکمل ہوجائے چناچہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں اور ہم نے انسان کو وصیت کی ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کی کہ انسان کو لازم ہے کہ حق تعالیٰ کے بعد والدین کا حق جانے جنہوں نے اس کو پرورش کیا ہے والد کے احسانات ہوش اور شعور کے زمانہ میں ہوتے ہیں بخلاف ماں کے کہ اس کے احسانات بیخبری کے عالم میں ہوتے ہیں اس لئے ماں کے احسانات کو خاص طور پر یاد دلایا کہ ماں نے انسان کو پیٹ میں رکھا سستی پر سستی اور ناطاقتی پر نا طاقتی یعنی بچہ کے حمل میں ضعف پر ضعف کی حالت میں مشقت پر مشقت اٹھاتی رہی اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا حم سے تمہارے وجود کی ابتدا ہوئی اور دودھ پلانے سے تمہاری تربیت ہوئی اور تمہارے وجود کو بقا حاصل ہوئی اور ان تین سال کے عرصہ میں ماں نے جو تمہاری خدمت گذاری اور بیماری میں مشقتیں اٹھائیں جو طرح طرح کے دکھ اور درد اٹھائے وہ بیان سے باہر ہیں غرض یہ کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ماں نے ضعف کی حالت میں اس کی پرورش میں بڑی مشقت اٹھائی اس لئے ہم نے اپنے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا اور یہ وصیت کی کہ اے انسان اول میرا شکر کر کہ میں نے تجھ کو پیدا کیا اور پھر اپنے والدین کا شکر گذار بن جو تیرے پیدا ہونے کا ظاہری سبب بنے حقیقی مربی تو میں ہوں اور والدین کی تربیت میری تربیت کا نمونہ ہے ان کے سامنے اف بھی نہ کرنا یہ چند روزہ زندگی ہے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس دن شکر اور شرک کی جزادوں گا یعنی میں تیرے اصل وجود کا مدا اور منتہٰی ہوں اور ماں باپ محض تیرے وجود مجازی کے سبب ہیں بقدر نعمت ہر ایک کا شکر تجھ پر واجب ہے اور باوجودیکہ ہم نے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا اور ان کی خدمت اور اطاعت کا اور ان کے حق تربیت کے فکر کا تجھ کو تاکیدی حکم دیا ہے لیکن اگر تیرے والدین کوشش کر کے تجھے اس بات پر آمادہ کریں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کی صحت اور حقیقت کا نہ تجھے کچھ علم ہے اور نہ تیرے پاس کوئی دلیل ہے تو ایسی صورت میں ماں باپ کی فرمانبرداری نہ کرنا خالق کے مقابلہ میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں حقیقت کے مقابلہ میں مجاز کو ترجیح نہیں ہوسکتی اور البتہ دنیاوی زندگی میں والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو حتی کہ اگر والدین کافر ہوں تو کھانے پینے کی ضرورت سے ان کی خبر گیری کرو اور ان کو کوئی جسمانی تکلیف نہ پہنچاؤ غرض یہ کہ دنیاوی زندگی میں ان کی خدمت اور راحت رسانی میں کمی نہ کرو بہرحال دنیا میں والدین کے ساتھ ادب اور مروت کا برتاؤ ضروری ہے اور دین کے بارے میں اس شخص کی راہ پر چلو جو ہمہ تن میری جانب جھکا ہوا ہے یعنی دین کے بارے میں عباد صالحین اور ائمہ دین کی تقلید کرو جو خدا کے سامنے سر افگندہ ہیں ماں باپ کی تقلید اور اطاعت نہ کرو خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ الذین انعمت یعنی اہل انعام کی پیروی ہے والدین تیرے جسم کے مربی ہیں اور ائمہ دین تیری عقل کے مربی ہیں لہٰذا جو شخص منیبین کے پیچھے پیچھے چلے گا وہ ہی انشاء اللہ تعالیٰ خدا تک پہنچ جائے گا پھر اس دنیوی زندگی گذارنے کے بعد تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے پس اس وقت میں تم کو آگاہ کروں گا کہ تم کیا عمل کرتے تھے پس جس نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور میرے حکم کے مقابلہ میں والدین کی اطاعت نہیں کی اس کی جزا جمیل عطا کروں گا اور والدین کے ساتھ سلوک اور احسان کا بھی بدلہ دوں گا یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ سورة عنکبوت میں گذرا ہے۔ فائدہ : والدین کے ساتھ احسان کرنے میں والدین کے لئے دعا مغفرت کرنا بھی جائز ہے۔ نکتہ : ان اشکرلی ولوالدیک اللہ تعالیٰ نے والدین کے شکر کو اپنے شکر کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا کیونکہ والدین انسان کے وجود مجازی کے اصل ہیں جیسا کہ وجود حقیقی کی اصل اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے حقیقی شکر اللہ کے لئے ہے اور مجازی شکر غیر اللہ کے لئے ہے۔ (روح البیان ص 78 ج 7) تنبیہ : سلسلہ کلام کا آغاز لقمان حکیم (علیہ السلام) کی نصیحتوں اور وصیتوں سے ہوا پھر درمیان میں بطور جملہ معترضہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی نصیحت اور وصیت کا ذکر فرمایا جس کی ابتدا ووصینا الانسان بوالدیہ سے ہوئی ووصینا الانسان بوالدیہ سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ کا کلام تھا اب اس کے بعد پھر لقمان کی وصیتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس نے اپنے بیٹے کو کی تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں لقمان (علیہ السلام) کی وصیتوں اور نصیحتوں کا اس لئے ذکر فرمایا کہ لوگ خود بھی ان پر عمل کریں اور اپنی اولاد کو بھی ان باتوں کی نصیحت اور وصیت کریں چناچہ فرماتے ہیں کہ جب لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی تو اس نے اپنے سے عرض کیا کہ اگر میں ایسے مقام پر گناہ کروں جہاں کوئی نہ دیکھتا ہو تو کیا اللہ اس کو جان لے گا اور اس پر مواخذہ کرے گا تو لقمان نے کہا بیٹا اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل ہو نیک ہو یا بد ہو اور پھر وہ عمل جو رائی کے دانہ کے برابر ہے کسی سخت پتھر کے اندر چھپا ہوا ہو اور وہ پتھر ایسا ہو کہ جس میں کوئی سوراخ بھی نہ ہو یا وہ عمل آسمانوں میں ہو جہاں عام طور پر کسی کی رسائی نہیں یا وہ عمل زمین کی تہ میں کہیں چھپا ہوا ہو آسمان سے زیادہ بلند کوئی چیز نہیں اور زمین سے زیادہ پست کوئی چیز نہیں اور اندرون صحزہ سے زیادہ کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں اس لئے ان تین چیزوں کا ذکر کیا اور رائی کے دانہ سے بڑھ کر کوئی چھوٹی چیز نہیں غرض یہ کہ عمل کتنا ہی چھوٹا اور پوشیدہ کیوں نہ ہو قیامت کے دن حساب و کتاب کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو لا کر حاضر کرے گا اور کرنے والے سے اس کا حساب لے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے اس کا علم دقیق اور غیر متناہی ہے اور ذرہ ذرہ کو محیط ہے چٹان ہو یا آسمان ہو۔ یا زیر زمین کوئی تہ خانہ ہو باریک سے باریک چیز بھی اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ لقمان حکیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پہلی نصیحت اور وصیت یہ کی کہ کفر اور شرک نہ کرنا جس کا حاصل توحید اور اخلاص تھا اور دوسری نصیحت اور وصیت یہ کہ ہر عمل کے وقت خدا تعالیٰ کو حاضر وناظر سمجھنا اور یہ یقین رکھنا کہ بندہ کا کوئی عمل اللہ سے مخفی نہیں اور یہ تصور اور استحضار کہ اللہ تعالیٰ سے ہمارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں گناہوں سے بچنے میں تریاق کا حکم رکھتا ہے بندہ پر پہلا فرض توحید اور اخلاص ہے اور دوسرا فرض اللہ کے علم و حکمت اور اللہ کی عظمت اور قدرت اور ہیبت کا استحضار ہے اور اس کے بعد درجہ ہے اطاعت اور عبودیت کا اس لئے لقمان حکیم نے اپنے فرزند کو اول دو بنیادی فرض بتلائے بعد ازاں اپنے فرزند کو طاعت اور عبودیت اور چند فضائل ادا کرنے اور چند رذائل افعال سے باز رہنے کی نصیحت کی اس لئے کہ اعتقاد بمنزلہ بنیاد کے ہے اور عمل بمنزلہ عمارت کے ہے اس لئے آئندہ آیات میں اعمال کے متعلق نصیحتوں کا بیان ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو ایک نصیحت یہ کی کہ بیٹا نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہنا یعنی نماز کو اپنے حدود اور آداب اور اوقات کے ساتھ قائم رکھنا نماز دین کا ستون ہے اس کے قائم رہنے سے دین قائم رہتا ہے نماز کے قائم کرنے سے تو خود تمہاری تکمیل ہوگی اور اس کے بعد درجہ دوسروں کی تکمیل کا ہے وہ یہ ہے کہ دوسروں کو نیک باتوں اور پسندیدہ باتوں کا حکم کر اور بری اور ناپسندیدہ باتوں سے ان کو منع کر اور اس خصوص میں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں تجھ کو جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر بیشک ایذاؤں پر صبر کرنا بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے جو شخص صبر نہ کرے وہ اس لائق نہیں کہ اس کا امام اور پیشوا بنایا جائے اول شکر کی تعلیم دی جس کا تعلق نعمتوں سے ہے اور پھر اخیر میں صبر کی تعلیم دی جس کا تعلق مصیبتوں سے ہے خاص کر نصیحت کے وقت صبر کرنا بہت مشکل کام ہے صبر ایسا جامع اور کامل مقام ہے کہ جو تمام فضائل اور شمائل کو شامل ہے اور تمام اخلاق فاضلہ کا سرتاج ہے اب صبر کی تاکید کے بعد بعض اخلاق رذیلہ سے منع کیا جن کا تعلق حقوق عامہ سے ہے اور جن آنے والے رذائل سے اپنے بیٹے کو منع کیا ان سب کا اصل مادہ تکبر اور تفاخر ہے چناچہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ایک نصیحت یہ کی اور اے بیٹے جب تو لوگوں سے ملاقات کرے تو ان کو حقیر سمجھ کر ان سے اپنا رخسار نہ موڑنا جیسا کہ متکبرین کا طریقہ ہے کہ وہ منہ اور گردن موڑ کر بات کرتے ہیں ادب اور تواضح کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی طرف متوجہ ہو کر بات کرو اور اے بیٹے زمین پر اتراتے ہوئے اور اکڑتے ہوئے مت چلنا بیشک اللہ ہر تکبر کرنے والے اور شیخی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا زمین جو کہ نہایت پست جگہ ہے وہاں کے باشندہ کے لئے تو تواضع ہی مناسب ہے بڑائی اور شیخی اس کو زیب نہیں دیتی مختال کا لفظ لا لمش فی الارض مرحا کے مقابلہ میں ہے اور فخور کا لفظ ولا تصعر خدک للناس کے مقابلہ میں ہے اور اے بیٹے اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر یعنی بیچ کی چال چل اور فروتنی سے قدم رکھ اور اے بیٹے جب بولے تو اپنی آواز کو نرم اور پست کر دے بےضرورت آواز کو بلند کرنا برا ہے سخت اور کرخت آواز لوگوں پر گراں ہوتی ہے اور باعث ایذا ہے بیشک تمام آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے لہٰذا تجھ کو چاہئے کہ بےضرورت اور بےفائدہ آواز بلند کر کے گدھوں کے مشابہ نہ بنے۔ نکتہ : سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں حیوانات میں گدھے کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ ہر حیوان کی آواز اللہ کی تسبیح ہے مگر گدھے کی آواز شیطان کے دیکھنے کے سبب سے ہوتی ہے اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کہ جب گدھے کی آواز سنو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو اس لئے کہ گدھے نے شیطان کو دیکھا ہے (اس لئے وہ چیخ رہا ہے) اور بعض بزرگوں نے یہ کہا ہے کہ گدھے کا چیخنا اور چلانا گھاس اور پانی کے لئے ہوتا ہے یا شہوت جھاڑنے کے لئے ہوتا ہے یا دوسرے گدھے سے لڑنے کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو آواز بہیمیت اور سبعیت کے سبب سے پیدا ہوگی وہ سب آوازوں سے بدتر ہوگی اور اسی وجہ سے حدیث میں گدھے کے نماز کے سامنے سے گذرنے کو قاطع صلاۃ قرار دیا ہے نیز قرآن کریم میں جہنمیوں کے چیخنے اور چلانے کے متعلق لہم فیھا زفیر وشھیق آیا ہے اور زفیر اور شہیق لغت میں گدھے کی باریک آواز اور بلند آواز کو کہتے ہیں اسی وجہ سے شاہ ولی اللہ (رح) نے لہم فیھا زفیر وشھیق کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ (ایشاں را آں جامانند زیرو بم خر باشد) یہاں تک لقمان (علیہ السلام) کا کلام حکمت التسام ختم ہوا اب آئندہ آیات میں حسب سابق پھر اپنی عظمت و جلال اور جودو نوال کا ذکر کر کے شکر اور توحید کی طرف متوجہ کرتے ہیں چناچہ اس کے بعد کی آیتوں میں الم تروا ان اللہ سخر لکم ما فی السموت وما فی الارض واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ میں اپنی قدرت کی نشانیوں کو اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کو ذکر کرتے ہیں تاکہ بندے اپنے منعم حقیقی کو پہچانیں اور اس کا شکر کریں اور تمام حکمتوں کا سر اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے امام غزالی (رح) فرماتے ہیں جس نے سب چیزوں کو پہچان لیا مگر خدا کو نہ پہچانا تو وہ حکیم کہلانے کا مستحق نہیں۔ لطائف ومعارف حق جل شانہ نے قرآن کریم میں جن وصایاء لقمان کا ذکر کیا ہے ان کا ثبوت تو لقمان (علیہ السلام) سے قطعی اور یقینی ہے اور ان کے علاوہ جو دیگر کلمات حکمت ونصیحت لقمان (علیہ السلام) سے روایت کئے گئے ہیں اگرچہ ان کا ثبوت قرآن کی طرح قطعی تو نہیں مگر ان میں سے بعض چیزیں احادیث میں مذکور ہیں اور بعض بزرگوں کے کلام میں مذکور ہیں اس لئے بطور نمونہ کچھ ہدیہ ناظرین کرتے ہیں حق جل شانہ نے وصایائے لقمان (علیہ السلام) میں ایک وصیت یہ ذکر فرمائی ہے واتبع سبیل من اناب الی جس کا مقتضا یہ ہے کہ عباد صالحین اور ربانیین تقلید عقلا وشرعا واجب ہے۔ (1) عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لقمان حکیم (علیہ السلام) یہ کہا کرتا تھا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی چیز ودیعت رکھی اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے (رواہ احمد) لہٰذا مسلمان کو چاہئے کہ اپنا ایمان اور اسلام اللہ کے پاس ودیعت رکھ دے تاکہ وہ شیطان کی دستبرد سے محفوظ ہوجائے۔ (2) قاسم بن مخیمرہ (رح) سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ایک نصیحت یہ کہ اے بیٹے تقنع سے بچنا (تقنع کے معنی سر کے اوپر اس طرح چادر لپیٹنا کہ گھونگٹ کی طرح ہوجائے) اس لئے کہ تقنع سے رات میں ٹھوکر کھا جانے کا ڈر ہے اور دن میں مذمت کا ڈر ہے کہ لوگ اس ہیئت کو برا سمجھیں گے اور برا کہیں گے۔ اخوجہ ابن ابی حاتم ورجالہ ثقات ولکنہ مرسل۔ (3) عون بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ جب تو کسی مجلس میں جائے تو ان پر اسلام کا تیر چلا یعنی ان پر سلام کر پھر ایک گوشہ میں خاموش بیٹھ جا اور ان کو دیکھتا رہ پس جب وہ بولیں تو اگر ذکر الٰہی کی باتیں شروع کریں تو تو بھی ان میں حصہ لے اور اگر ادھر ادھر کی باتیں کریں تو وہاں سے نکل کر اور اٹھ کر کہیں اور چلا جا (ابن ابی حاتم) یہ تینوں روایتیں تفسیر ابن کثیر ص 447 ج 3 سے لی گئی ہیں۔ امام خلیل بن احمد (رح) کی دعا امام نحو یہ دعا مانگا کرتے تھے اللہم اجعلنی عندک من ارفع خلقک واجعلنی فی نفسی من اوضع خلقک وعند الناس من اوسط خلقک تفسیر ابن کثیر ص 448 ج 3۔ ترجمہ : اے اللہ مجھ کو اپنے نزدیک بلند ترین مخلوق میں سے بنا اور میرے نفس میں مجھ کو کمترین مخلوق میں سے بنا کہ میں اپنے دل میں اپنے آپ کو حقیقۃ سب سے حقیر اور کمتر جانوں (نہ یہ کہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ہیچ اور ناچیز کہوں) اور اے اللہ مجھ کو لوگوں کے نزدیک متوسط درجہ کی مخلوق میں سے بنا۔ آمین۔ خطیب شربینی (رح) نے اپنی تفسیر سراج منیر میں مختصر طریق پر بلا سند کے ان نصائح کو ذکر کیا ہے کہ جو لقمان حکیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہیں جو بلاشبہ خزینہ حکمت اور گنجینہ معرفت ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خطیب شربینی کی طرح ہم بھی ان نصائح کا ترجمہ اپنی تفسیر میں ذکر کریں۔ (1) اے پسر اللہ کے تقویٰ کو اپنی تجارت بنا بغیر سرمایہ مال کے تجھ کو نفع حاصل ہوگا۔ (2) اے پسر جنازوں پر حاضر ہوا کر اور شادیوں کی محفل میں مت جایا کر کیونکہ جنازے تجھ کو آخرت یاد دلائیں گے اور شادی کی محفلیں تجھ کو دنیا یاد دلائیں گی کہ دنیا ایسی ہوتی ہے۔ (3) اے پسر پیٹ بھر کر نہ کھانا، کتے کے سامنے ڈال دینا زیادہ کھانے سے بہتر ہے۔ (4) اے پسر مرغ کو دیکھ کہ صبح کو اٹھ کر اذان دیتا ہے اور تو بستر پر سویا ہوا ہوتا ہے لہٰذا مرغ سے زیادہ عاجز نہ بن۔ (5) اے پسر توبہ میں تاخیر نہ کر کیونکہ موت اچانک آتی ہے خبر کر کے نہیں آتی۔ (6) اے پسر تو مرد جاہل سے دوستی کرنے کی طرف راغب نہ ہو دیکھنے والا یہ سمجھے گا کہ تو بھی اس کے عمل اور طریقہ سے راضی ہے تو تیری وجہ سے لوگ دھوکہ میں پڑیں گے۔ (7) اے پسر اللہ سے ڈرتا رہ اور اس کے تقویٰ کو لازم پکڑ مگر اس طرح رہ کہ لوگوں پر تیرا تقویٰ ظاہر نہ ہو اور لوگ یہ سمجھ کر کہ یہ شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس لئے تیرا اکرام کریں اور حالانکہ اندر سے تیرا دل بدکار ہو۔ (8) اے پسر خاموشی کو لازم پکڑ خاموشی پر کبھی تجھ کو ندامت نہ ہوگی کیونکہ اگر تیرا کلام چاندی کا ہے تو تیری خاموشی خالص سونا ہے۔ (9) اے پسر شر سے علیحدہ اور دور رہ ایک شر دوسرے شر کا خلیفہ ہوتا ہے۔ (10) اے پسر شدت غضب سے پرہیز کرنا، شدت غضب دل کو خراب کردیتا ہے اور شدت غضب سے حکیم کے دل کا نور مٹ جاتا ہے (11) اے پسر علماء کی مجلس کو لازم پکڑ اور حکما کا کلام سنا کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نور حکمت سے مردہ دل کو زندہ کردیتا ہے جیسا کہ مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرتا ہے اور جو جھوٹ بولتا ہے اس کے چہرہ کی رونق جاتی رہتی ہے اور بدخلق آدمی کو غم بہت لاحق ہوجاتا ہے اور پہاڑ سے پتھر لانا آسان ہے بہ نسبت نادان اور بےعقل کے سمجھانے کے۔ (12) اے پسر کسی نادان اور بےعقل کو ایلچی بنا کر نہ بھیج اور اگر تجھ کو کوئی دانا میسر نہ آوے تو خود چلا جا۔ (13) اے پسر کسی کی باندی سے نکاح نہ کرنا کہ اپنی اولاد کو ہمیشہ کی غلامی کے غم میں ڈال دے۔ (14) اے پسر لوگوں پر ایک زمانہ آئے جس میں علم اور حلم والے کی آنکھ ٹھنڈی نہ ہوگی۔ (15) اے پسر وہ مجلس اختیار کر جس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہو کیونکہ ان پر جو اللہ کی رحمت آوے گی اس میں سے تو بھی حصہ پاوے گا اور اس مجلس میں نہ بیٹھنا جہاں اللہ کا ذکر نہ ہو کیونکہ اگر ان پر کوئی غضب الٰہی آیا تو تو بھی ان کے ساتھ اس میں پس جائے گا۔ (16) ا ے پسر چاہئے کہ تیرا کھانا صرف متقی اور پرہیزگار لوگ کھائیں بےلوگوں کو کھانا نہ کھلا۔ (17) اہل علم اور اہل فہم سے مشورہ کر۔ (18) اے پسر دنیا بحر عمیق ہے یعنی بڑا گہرا دریا ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہوگئے پس اگر تو نجات چاہتا ہے تو اللہ کے تقویٰ کو اپنی کشتی بنا اور اس کو ایمان کے سامان سے بھر لے اور اللہ پر توکل اس کا لنگر بنادے تو امید ہے کہ تو ڈوبنے سے بچ جائے گا۔ (19) اے پسر میں نے بڑے بڑے پتھر اور بڑے بڑے لوہے اٹھائے ہیں مگر برے پڑوسی سے زیادہ کسی کو ثقیل اور بوجھل نہیں پایا۔ (20) اور میں نے بڑی بڑی تلخیاں چکھی ہیں مگر فقیری اور محتاجی سے بڑھ کر کوئی تلخ چیز نہیں دیکھی۔ (21) اے پسر علم اور حکمت نے فقرا اور مساکین کو ملوک اور سلاطین کی جگہ پر بٹھلا دیا۔ (22) اے پسر تو ان لوگوں میں سے نہ ہونا کہ جو اپنی تعریف کے طلب گار رہتے ہیں۔ (23) اے پسر جب علم حاصل کرو تو اس پر عمل کرنے کی بھی پوری کوشش کرو (علم بغیر عمل کے ہیچ ہے ) ۔ (24) اے پسر علماء اور صلحاء کی صحبت کو لازم پکڑ اور دو زانوں ان کے سامنے بیٹھا کر۔ (25) اے پسر جب کسی سے دوستی کرنا مقصود ہو تو اس کا امتحان کرلو اس کے غضب ناک کرو اور دیکھو کہ وہ اس غصہ کی حالت میں تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کرتا ہے اگر وہ انصاف کرتا ہے تو وہ دوستی کے لائق ہے ورنہ اس سے پرہیز کرنا۔ (26) اے پسر قرضہ سے بچنا قرضہ دن میں ذلت ہے اور رات میں فکر اور غم ہے۔ (27) اے پسر جب سے تو دنیا میں اتر ہے تو تیری پشت دنیا کی طرف ہے اور منہ تیرا آخرت کی طرف ہے پس جس گھر کی طرف تو جا رہا ہے وہ اس گھر سے کہیں زیادہ قریب ہے جس سے تو دور ہوتا جا رہا ہے۔ (28) اے پسر اپنی زبان کو اللہم اغفرلی کا عادی اور خوگر بنا لے کیونکہ دن رات میں ایک ساعت ایسی آتی ہے جس میں دعا رد نہیں ہوتی۔ (29) اے پسر اللہ تعالیٰ سے امید لگائے رکھ مگر ایسی امید نہ ہو کہ جو تجھے گناہوں پر جری اور دلیر بنا دے اور اللہ سے ڈرتا رہ مگر وہ خوف ایسا نہ ہو کہ جو تجھ کو اللہ کی رحمت سے ناامید بنا دے۔ لقمان حکیم (علیہ السلام) کی حکمتوں اور نصیحتوں کی تو کوئی شمار نہیں یہ چند نصائح میں نے تفسیر السراج المنیز للخطیب الشر بینی ص 150 ج 3 اور حاشیہ صاوی علی تفسیر الجلالین ص 255 ج 2 سے نقل کردی ہیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ناچیز کو اور ناظرین کو ان سے نفع دے آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 31:33–34

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

خاتمہ سورت برحکم تقویٰ وتذکیر آخرت قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علیم خبیر۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور مبدا اور معاد کی تفصیل تھی اب سورت کو تقویٰ کی نصیحت اور وصیت پر ختم کرتے ہیں کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ یعنی صرف ایک خدا سے ڈرو اور قیامت کے دن سے ڈرو کہ جس دن سوائے تقویٰ کے کوئی قرابت اور مودت کام نہ آئے گی تقویٰ کی وصیت اور نصیحت سے بڑھ کر کوئی وصیت اور نصیحت نہیں اور آخرت کے لئے تقویٰ سے بڑھ کر کوئی توشہ نہیں۔ بعد ازاں یہ بتلایا کہ روز جزا کا کسی کو علم نہیں اور کسی کو خبر نہیں کہ میری موت کب آئے گی خوب سمجھ لو کہ جس طرح کسی کو مبدا کا علم نہیں اسی طرح کسی کو معاد کا بھی علم نہیں۔ اور اس آخری آیت میں یہود اور نصاریٰ کے عقائد باطلہ کے رد کی طرف بھی اشارہ فرما دیا یہود اور نصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اس لئے ہم پر کوئی عذاب نہ ہوگا اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سب کی طرف سے کفارہ ہوگئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ نجات کا دارومدار ایمان اور تقویٰ اور عمل صالح پر ہے نہ کہ ان باتوں پر جو یہ کہتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے انسانو خواہ تم کشتی میں ہو یا خشکی میں اپنے پروردگار کے قہر سے ڈرو اور اس کی نافرمانی سے بچو وہ بر اور بحر سب کا مالک ہے اس کی قدرت سب جگہ یکساں ہے اور اس دن سے ڈرو کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا اس دن تو نفسی نفسی ہوگی بیشک اللہ نے جو یوم حساب کے آنے کا وعدہ کیا ہے وہ بالکل سچا ہے اور پکا ہے اور یقیناً تمہارے سامنے آنے والا ہے اللہ کے وعدہ پر بھروسہ کرو جنات اور شیاطین اور نجومیوں اور کاہنوں کے وعدوں کے چکر میں نہ پڑو سو یہ دنیاوی زندگی اور اس کی آرائش ونمائش تم کو دھوکہ میں نہ دال دے اور یہ شیطان تم کو اللہ کے بارے میں دھوکہ نہ دے دے کہ تم کو لمبی لمبی امیدوں اور آرزؤں میں مبتلا کرے اور کہے کہ جو کچھ مزہ اڑانا ہے وہ یہیں اڑا لو اس دنیا کے سوا اور کوئی جہان نہیں اور اگر مسلمان ہو تو شیطان اسے یہ دھوکہ دیتا ہے کہ خوب مزے اڑاؤ اللہ بڑا غفور رحیم ہے یہ سب دھوکہ ہے کسی کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کب پکڑ لے دن رات مصیبتیں اور آفتیں آتی رہتی ہیں مگر پہلے سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا اور دن رات موت اور بیماری کا آنکھوں سے مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ یکایک آجاتی ہے اور پہلے سے کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اسی طرح سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے جو یوم حساب کا وعدہ کیا ہے وہ بالکل حق اور صدق ہے مگر تم کو اس کا وقت نہیں بتلایا وہ ایسا امر غیب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کسی چیز کا وقت نہ معلوم ہونے سے اس کے وقوع کا انکار کردینا سراسر خلاف عقل ہے اس لئے کہ دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں واقعات ایسے ہیں کہ واقع ہورہے ہیں مگر پہلے سے ان کا وقت معلوم نہیں، معلوم ہوا کہ وقت کے نہ معلوم ہونے سے کسی چیز کے وقوع کا انکار جہالت اور حماقت ہے چناچہ فرماتے ہیں بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ کب قائم ہوگی قیامت قائم ہونے کا وقت نہ کسی پیغمبر کو معلوم ہے اور نہ کسی مقرب فرشتے کو البتہ قیامت کی کچھ علامتیں جو احادیث سے ثابت اور معلوم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بارش نازل کرتا ہے جو لوگوں کے رزق کا سامان ہے اور جس پر لوگوں کی حیات اور بقا موقوف ہے بارش نازل ہونے کا وقت بھی پہلے سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا اور بادل دیکھنے کے بعد بھی یہ معلوم نہیں کہ یہ بادل کہاں برسے گا اور کتنا پانی برسائے گا اور کس طرح برسائے گا اور اس بادل میں کتنے ٹن پانی ہے بارش تیز ہوگی یا ہلکی ہوگی اور کتنی دیر تک بارش ہوگی اور رات کو ہوگی یا دن کو ہوگی اور کس وقت پر ہوگی ٹھیک وقت کوئی بھی نہیں بتلا سکتا اور اگر کسی ” فلسفی صاحب “ کو کچھ بخارات زمین سے یا پہاڑ سے اٹھتے ہوئے نظر آگئے تو فلسفی صاحب کو ان بخارات کی نہ کمیت معلوم اور نہ کیفیت معلوم اور نہ وقت اور ساعت معلوم فلسفی صاحب جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب ان کے قیاسات ہیں جن کو علم قطعی اور یقینی ہرگز نہیں کہا جاسکتا دوسروں کو تو کیا یقین آئے خود فلسفی صاحب کو بھی اپنے قیاسات پر یقین نہیں ہوتا۔ اور اللہ ہی کو معلوم ہے جو رحم مادر میں ہے کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے ناقص ہے یا پورا ہے کالا ہے یا گورا ہے نیک ہے یا بد ہے عاقل ہے یا غافل ہے آئندہ چل کر وہ وزیر ہوگا یا فقیر ہوگا بڑا ہو کر امیری کرے گا یا مزدوری اور اس کی عمر کیا ہوگی جب نطفہ رحم میں قرار پکڑ تا ہے تو اللہ کو اس کے تمام احوال کا بتمام و کمال علم ہوتا ہے یہ علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں انسان کو جب اپنے محل ولادت اور مکان خلقت کا علم نہیں تو قیامت کا علم اس کے لئے کیسے ممکن ہے۔ اور کسی نفس کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کل کو کیا کام کرے گا بھلائی کرے گا یا برائی اور اگر بالفرض کمائی کی کوئی خاص عادت تھی تو معلوم نہیں کہ صبح کو اٹھ کر تندرست ہوگا یا بیمار ہوگا اور اگر تندرست ہوا تو معلوم نہیں کیا مزدوری کرے گا اور کس قسم کی نوکری یا چاکری کرے گا بندہ کو تو اپنے افعال و اعمال کا بھی علم نہیں کہ کل کو کیا کرے گا اور کون سا کام کس وقت کرے گا حالانکہ بندہ جو کماتا ہے اس میں اس کی قدرت اور اختیار کو دخل ہوتا ہے تو پھر قیامت کا علم اس کو کیسے ہوسکتا ہے جس میں اس کے علم اور قدرت کو بھی دخل نہیں۔ اور کسی نفسی کو تو اپنی صفات اور اپنے موت وحیات کا بھی علم نہیں اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کس زمین میں مرے گا اور کس وقت مرے گا اور کس حالت میں مرے گا بسا اوقات ایسی جگہ جا کر مرتا ہے کہ جہاں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا پس جب تجھے اپنے بچہ کی ولادت کا زمانہ نہیں اور نہ تجھے اپنی موت کا زمانہ معلوم ہے اور نہ تجھے اپنے آئندہ کے امور معاش کا علم ہے کہ کل کو کیا کرے گا اور کیا کماوے گا تو سارے عالم کی موت وحیات کا زمانہ تو کیسے جان سکتا ہے بندہ تو مخلوق اور محدود ہے تو لامحالہ اس کا علم بھی محدود ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ ہی سب چیزوں کا جاننے والا ہے اور خبردار ہے ہر چیز کا ظاہر و باطن اس کی نظروں کے سامنے ہے ان پانچ چیزوں کو جن کا ذکر آیت میں ہے ان کو مفاتیح الغیب کہتے ہیں یعنی غیب کی کنجیاں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا کہ پانچ باتیں ایسی ہیں کہ جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا پھر یہ آیت یعنی ان اللہ عندہ علم الساعۃ اخیر تک پڑھی رواہ احمد باسناد صحیح اور عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا پھر یہی آیت پڑھی۔ (رواہ البخاری بسادین واحمد باسانید ) مقاتل (رح) سے مروی ہے کہ یہ آیت ایک اعرابی کے بارے میں نازل ہوئی جس کا نام وارث بن عمروبن حارثہ تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری بیوی حاملہ ہے مجھے خبر دیجئے کہ وہ کیا جنے گی اور ہمارے بلاد قحط زدہ ہیں مجھے خبر دیجئے کہ بارش کب ہوگی مجھے معلوم ہے کہ میں کب پیدا ہوا مجھے خبر دیجئے کہ میں کب مروں گا مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کام کیا مجھے خبر دیجئے کہ کل آئندہ میں کیا کام کروں گا اور مجھے خبر دیجئے کہ قیامت کب قائم ہوگی اس پر یہ آیت نازل ہوئی دیکھو تفسیر قرطبی ص 83 ج 14 اور تفسیر ابن کثیر ص 455 ج 3 مگر تفسیر ابن کثیر میں بجائے مقاتل (رح) کے مجاہد (رح) کا نام ہے۔ نکتہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کا ذکر فرمایا اول کی تین چیزوں نہایت عظیم تھیں (یعنی قیام قیامت اور نزول غیث اور مافی الارحام) اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان تین چیزوں کی اسناد اور نسبت اپنی طرف فرمائی اور اخیر کی دو چیزیں بندہ کی صفات اور افعال سے متعلق تھیں یعنی کسب اور موت اس لئے ان دو چیزوں کی نسبت بندوں کی طرف فرمائی۔ (صاوی حاشیہء جلالین ص 261 ج 3) فائدہ : آیت میں پانچ چیزوں کا ذکر فرمایا مگر مقصود حصر نہیں غالبا چونکہ سوال انہی پانچ چیزوں کے متعلق تھا اس لئے آیت میں انہی پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا۔ (یا یوں کہو) کہ یعلم ما فی الارحام سے انسان کے مبدا حیات کی طرف اشارہ ہے اور ینزل الغیث سے انسان اور حیوان کے سامان حیات کی طرف اشارہ ہے اور وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا سے انسان کے امور معیشت کی طرف اشارہ ہے اور وما تدری نفس بای ارض تموت سے انسان کے منتہائے حیات کی طرف اشارہ ہے اور عندہ علم الساعۃ سے تمام عالم کے معاد کی طرف اشارہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ کل عالم کے مبدا اور معاد اور معاش کا علم کلی اور تفصیل اور بہمہ وجوہ محیط اور قطعی اور یقینی سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں اکوان غیبیہ کا علم کلی اور تفصیلی اور محیط اللہ رب العزۃ کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر کسی نبی کو بذریعہ وحی کے اور کسی ولی کو بذریعہ الہام کے اور کسی مرد صالح کو بذریعہ خواب کے کسی کی موت اور حیات کا کچھ علم ہوجائے تو وہ ایک علم جزئی اور ناتمام ہے جس کو خدا تعالیٰ کے علم محیط کے ساتھ وہ نسبت بھی نہیں جو قطرہ کو دریا کے ساتھ ہو اور بعض اوقات کافروں کو بھی بذریعہ خواب یا کشف کچھ امور دکھلادئیے جاتے ہیں جو واقع کے مطابق ہوتے ہیں جیسا کہ دجال کی حدیث میں اس قسم کے امور کا ذکر آیا ہے تو وہ بطور استدراج ہے نہ کہ بطریق کرامت۔ حکایت : شاہ منصور خلیفہء عباسی نے ملک الموت کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ میری عمر کتنی ہے تو ملک الموت نے پانچ انگلیوں سے اشارہ کردیا بادشاہ جب خواب سے بیدار ہوا تو معبرین سے اس کی تفسیر پوچھی کسی نے پانچ برس اور کسی نے پانچ مہینہ اور کسی نے پانچ دن اس کی تعبیر دی امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کی یہ تعبیر دی کہ پانچ انگلیوں کے اشارہ سے اس آیت یعنی ان اللہ عندہ علم الساعۃ الی اخرہ کی طرف اشارہ ہے جس میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ تفسیر مظہری ص 280 ج 7۔ الحمد للہ آج بروز شنبہ بوقت 4 بجے دن کے بتاریخ 6 رجب الحرام 1392 ھ بمقام جامعہ اشرفیہ لاہور سورة لقمان کی تفسیر سے فراغت ہوئی وللہ الحمد اولا واخرا وظاہرا و باطنا اے اللہ اپنی رحمت اور توفیق اور عنایت سے باقی قرآن کریم کی تفسیر بھی اس حقیر سراپا تقصیر کے ہاتھ مکمل فرما ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔