Ayahs 30:1–7و فرحت ومسرت برائے اہل ایمان
قال اللہ تعالیٰ الم غلبت الروم۔۔۔ الی۔۔۔ وہم عن الاخرۃ ہم غفلون۔
شان نزول : ہجرت سے قبل جب حضور پر نور ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے تو فارس اور روم میں جنگ ہوئی اور اہل فارس بمقابلہ اہل روم غالب آئے مشرکین مکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ فارس روم پر غالب ہوں کیونکہ اہل فارس اہل مکہ کی طرح مشرک تھے اہل مکہ بت پرست تھے اور اہل فارس آتش پرست تھے اور مسلمان اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اہل روم فارس پر غالب ہوں اس لئے کہ اہل روم نصرانی تھے انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اور دین اسلام کے قریب تھے فارس کی فتح سے کفار قریش کو بہت خوشی ہوئی اور مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ تم بھی اہل کتاب ہونے کے مدعی ہو اور رومی بھی اہل کتاب ہیں اور اہل فارس تمہارے نزدیک مشرک ہیں اور ہم بھی مشرک ہیں اور ہم دونوں امی ہیں اس سے یہ فال نکالتے ہیں کہ جس طرح آج ہمارے بھائی تمہارے بھائیوں پر غالب آئے اسی طرح ہم بھی ایک دن تم پر غالب آئیں گے حق تعالیٰ نے کفار قریش کا منہ بند کرنے کے لئے اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل فرمائیں اور دو پیشین گوئیاں فرمائیں پہلی پیشین گوئی تو فارس اور روم کی سلطنتوں کے متعلق فرمائی کہ رومی فی الحال اگرچہ مغلوب ہوگئے مگر چند سالوں میں یعنی نو سال کے اندر اندر رومی فارسیوں پر غالب آجائیں گے اس پیشین گوئی سے مسلمانوں کو ایک قسم کی ڈھارس بندھ گئی اور یہ پیشین گوئی کوئی معمولی پیشین گوئی نہ تھی اس کا تعلق دنیا کی سب سے بڑی دو سلطنتوں سے تھا پھر یہ کہ یہ پیشین گوئی ظاہر حالت کے بھی خلاف تھی جو کسی کی عقل میں نہیں آسکتی تھی اس لئے کہ روم کی سلطنت فارس کی سلطنت کے مقابلہ میں چھوٹی تھی اور جدید اور حادث بھی تھی اور فارس کی سلطنت بہت بڑی تھی اور بہت قدیم تھی ہزارہا سال سے ایک ہی خاندان میں چلی آرہی تھی خزانے معمور تھے اور فوج اور لشکر کی کوئی انتہا نہ تھی لہٰذا ایسی عظیم الشان سلطنت کے متعلق یہ پیشین گوئی کرنا کہ ایک چھوٹی اور شکست خوردہ سلطنت سے یہ عظیم الشان سلطنت مغلوب ہوجائے گی کوئی معمولی پیشین گوئی نہیں بلکہ بہت بڑی پیشین گوئی ہے پھر پیشین گوئی بھی ایسی کہ جو بالکل واضح اور صاف ہے جس میں کسی قسم کا اجمال اور ابہام نہیں نجومیوں کی پیشین گوئی کی طرح گول مول نہیں پھر سیغلبون پر سین داخل کر کے اس کے قرب کو بتلا دیا کہ عنقریب رومی غالب آجائیں گے پھر بضع سنین کہہ کر یہ واضح کردیا کہ نوسال کے اندر اندر ایسا ہوجائے گا دوسری پیشین گوئی حق تعالیٰ نے مسلمانوں کے متعلق فرمائی کہ چند سال میں مسلمان مظفر ومنصور ہوں گے اور کافروں پر غالب آجائیں گے اس طرح مسلمانوں کو فتح اور نصرت نصیب ہونے کی بشارت دے دی۔
پھر صاف طور پر یہ فرما دیا وعد اللہ لا یخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ کرچکا ہے کہ چند روز میں مسلمانوں کو دونوں قوموں پر غالب کر دے گا لیکن اکثر لوگ ظاہری اسباب کے سوا کچھ نہیں جانتے یہ پیشین گوئی پہلی پیشین گوئی سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت اس درجہ کمزور اور پست تھی کہ کوئی عقل مند ان کے لئے معمولی ریاست کا بھی تصور نہیں کرسکتا تھا روم کی سلطنت اگرچہ فارس کی سلطنت کے اعتبار سے چھوٹی مگر فی حد ذاتہ ایک سلطنت تو تھی بخلاف مسلمانوں کے کہ وہ اس وقت اس درجہ کمزور تھے کہ عقل ان کے لئے کسی معمولی عزت ووجاہت کا بھی تصور نہیں کرسکتی تھی ایسی قوم کے لئے پیشین گوئی کرنا کہ وہ قیصر وکسریٰ جیسی سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی یہ تو خدائے توانا اور قادر مطلق ہی کا کام ہے اور ایسی محیرالعقول پیشین گوئی خدا ہی کا کلام ہوسکتی ہے۔
چناچہ خدائے علیم و حکیم اور قدیر وخبیر کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور دنیا نے اس کی صداقت کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کرلیا اس سے بڑھ کر قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے اس قسم کا قطعی فیصلہ سنا دینا کسی بشر کا کام نہیں عالم الغیب ہی اس کی خبر دے سکتا ہے۔
حق جل شانہ نے مشرکین مکہ کی فال کا اور ان کے استدلال سراپا خیال و خیال کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس دو پیشین گوئیاں فرما دیں اس لئے کہ ایک قوم کے دوسری قوم پر غالب آجانے سے عقلا یہ ضروری نہیں کہ اس قوم کی نظیر بھی دوسری قوم کی نظیر پر غالب آجائے اور پھر ان دو پیشین گوئیوں کے ساتھ ایک بشارت اور خبر مسرت بھی سنا دی کہ جس دن تم اپنی فتح اور غلبہ کی خوشی اور مسرت میں مشغول ہو گے اسی دن تم کو یہ خوشی کی خبر بھی پہنچے گی کہ روم فارس پر غالب آگئے اور یہ دونوں مسرتیں تم کو ایک ہی دن میں حاصل ہوں گی چناچہ مسلمان بدر کے میدان میں مشرکین مکہ پر فتح اور نصرت کی خوشیاں منا رہے تھے اسی دن یہ خبر سن کر اور زیادہ مسرور ہوئے کہ رومی اہل فارس پر غالب آگئے چناچہ فرماتے ہیں۔ ویومئذ یفرح ال مومن ون بنصر اللہ یعنی ایک ہی دن میں دو مسرتیں حاصل ہوں گی ایک خوشی غلبہ روم کی فارس پر اور دوسری خوشی غلبہ اہل اسلام کی کفار مکہ پر اور مسلمانوں کو جو خوشی حاصل ہوگی وہ حقیقی خوشی ہوگی بخلاف کفار مکہ کے کہ وہ اس وقت جو کچھ خوشی منا رہے ہیں وہ سب خیالی ہے اور انجام اس کا ذلت اور ندامت ہے اور ان نادانوں کو انجام کی خبر نہیں چناچہ یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غافلون میں اس طرف اشارہ فرمایا جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی ظاہری آرائش اور زیبائش اور آسائش کو دیکھ کر مفتون ہوگئے اور اصل حقیقت کا ان کو علم نہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ یہ پیشین گوئی حضور پر نور ﷺ کا معجزہ تھی اور معجزہ کا فائدہ یہ ہے کہ معجزہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کا تعلق عالم غیب اور علام الغیوب سے ہے جس کے لئے یہ معجزات ظاہرکئے جا رہے ہیں اب اس تمہید کے بعد آیات کی تفسیر پڑھئیے اور دیکھئے الم اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں اے رسول آج عرب کی قریبی سرزمین میں ایک موقع پر یعنی مقام اذرعات اور بصریٰ میں اہل روم فارس کے مقابلہ میں مغلوب ہوگئے اور اہل فارس ان پر غالب آگئے جس سے مشرکین مکہ خوش ہوگئے و لیکن ان کو اس فی الحال فتح سے خوش نہ ہونا چاہئے اہل روم کی یہ مغلوبی عارضی ہے اور وہ رومی اپنے اس مغلوب ہونے کے بعد عنقریب چند سال کے اندر یعنی تین سال سے لے کر نو سال کے اندر اندر ضرور غالب آجائیں گے اور اس طرح مغلوب اور کمزور ہوجانے کے بعد پھر غالب آجانا مشرکین کے لئے اور زیادہ باعث رنج وغم ہوگا خصوصا جب کہ قریبی مدت میں ایک شکست خوردہ ضعیف وکمزور ایک قوی اور فاتح پر غالب آجائے اور یہ غالب اور مغلوب ہوجانا سب حق تعالیٰ کی طرف سے ہے سب اختیار اللہ ہی کو ہے اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی جس کو چاہتا ہے وہ غالب کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مغلوب کرتا ہے غالب کو مغلوب کردینا اور مغلوب کو غالب کردینا سب اسی کے اختیار میں ہے لہٰذا کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو شخص ایک مرتبہ مغلوب ہوگیا اور کمزور پڑگیا وہ دوبارہ اپنے سے زیادہ قوی اور زور آور پر کیسے غالب آسکتا ہے۔
اور اس روز یعنی جب اہل روم اہل فارس پر غالب آئیں گے مسلمان خوش ہوں گے اللہ کی امداد سے کہ اہل کتاب کو مشرکین کے مقابلہ میں فتح ہوئی اور خوشی کی ایک وجہ یہ ہوگی کہ اہل کتاب دین اسلام کے قریب ہیں اور نبوت اور رسالت اور حشر ونشر اور قیامت کے قائل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ نے جو خبر دی ہے اس کا صدق ظاہر ہوگا اور مشرکین ذلیل و خوار ہوں گے مسلمانوں نے مشرکین کو غلبہ روم کی خبر دی تھی تو اس کا صدق ظاہر ہوگا اور مشرکین ذلیل و خوار ہوں گے مسلمانوں نے مشرکین کو غلبہ روم کی خبر دی تھی تو اس کا صدق ظاہر ہونا یہ اللہ کی مدد ہے چناچہ جس روز بدر میں مسلمانوں کو کفار مکہ پر فتح نصیب ہوئی اسی روز جبریل امین (علیہ السلام) نے آکر رومیوں کے فتح کی خبر دی تو مسلمانوں کی خوشی دو چند ہوگئی ایک خوشی تو جنگ بدر میں اپنے مظفر ومنصور ہونے کی تھی اور دوسری خوشی اس کے ساتھ یہ مل گئی کہ اہل کتاب (رومی) مجوس یعنی اہل فارس پر غالب آگئے اور قرآن کریم نے جو پیشین گوئی کی تھی اس کا صدق ظاہر ہوگیا حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی زبردست ہے اور رحم والا ہے جس کو چاہے عزت اور غلبہ دے اور جس پر چاہے مہربانی کرے حکومت اس کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے فتح دے اور جس کو چاہے شکست دے۔
زجاج کہتے ہیں کہ یہ آیت منجملہ ان آیتوں کے ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ اس نے ایسی بات کی خبر دی کہ جو آئندہ واقع ہوگی جس کا علم سوائے اللہ پاک کے کسی کو نہیں ہوسکتا۔
: علماء تفسیر کا کثیر گروہ یہ کہتا ہے کہ غلبہء روم کی خبر بدر کے دن آئی جیسا کہ ترمذی کی ایک حدیث میں آیا ہے اور ابن عباس ؓ اور سفیان ثوری (رح) کا بھی یہی قول ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ خبر صلح حدیبیہ کے دن آئی جس سے آپ ﷺ اور آپ کے ہمراہ مسلمان خوش ہوئے دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 426 ج 3 و تفسیر قرطبی ص 302 ج 14۔
بہرحال اللہ نے وعدہ کیا ہے غلبہ روم کا یا مسلمانوں کی خوشی کا یا ان کی نصرت اور مدد کا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرے گا لیکن اکثر لوگ اللہ کے تصرفات کو جانتے اور سمجھتے نہیں اکثر لوگوں کی نظر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے خدا پر ان کا بھروسہ نہیں ہوتا اور ایسے لوگ صرف دنیوی زندگی کی کچھ ظاہری سطح اور ظاہری زیبائش اور آرائش کو کچھ جانتے ہیں باقی دنیا کی حقیقت اور اس کے باطن کو کچھ نہیں جانتے اور یہ لوگ آخرت سے تو بالکل ہی بیخبر اور بےفکر ہیں دنیا ان کے قریب ہے اور ان کی نظروں کے سامنے ہے اس لئے اس کے ظاہر سے کچھ واقف ہوگئے اور آخرت تو دور ہے اور ان کی نظروں سے اوجھل ہے اس میں تو کبھی غوروفکر بھی نہیں کرتے اس لئے آئندہ آیت
اولم یتفکروا فی انفسہم میں تفکر کی ترغیب دیتے ہیں کہ خیر اور کچھ نہیں تو اپنے اندر ہی غور کرلو تاکہ تم پر خدا کی قدرت واضح ہو۔
لطالف ومعارف
(1) اس آیت یعنی غلبت الروم فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون : میں دو قراتیں ہیں مشہور قرات میں غلبت بصیغہء مجہول اور یسغلبون بصیغہء معروف ہے اور یہی جمہور کی قرات ہے اور گذشتہ تمام تفسیر اسی مشہور قرات کی بنا پر تھی۔
اور ایک قرات شاذہ میں غلبت بصیغہء معروف اور سیغلبون بصیغہء مجہول وارد ہوا ہے اور یہ قرات پہلی قرات کے بالکل برعکس ہے اس لئے کہ مشہور قرات میں رومیوں کے مغلوب ہونے کا ذکر ہے اور دوسری قرات میں رومیوں کے غالب ہونے کا ذکر ہے بظاہر دونوں قراتیں ایک دوسرے کا بالکل عکس ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں قراتوں میں اختلاف ہے اور تفاوت ضرور ہے لیکن تناقض اور تضاد نہیں ہر قرات میں ایک نئی بشارت کا ذکر ہے جو اپنے اپنے وقت میں ظاہر ہوئی اور پوری ہوئی۔
مشہور قرات (یعنی غلبت بصیغہء مجہول اور سیغلبون بصیغہء معروف) پر آیت کا مطلب یہ ہے کہ رومی قریبی زمین میں اگرچہ فی الحال مغلوب ہوگئے ہیں مگر چند سال بعد رومی اہل فارس پر غالب آئیں گے اور اس روز مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے اور ہماری گذشتہ تفسیر اسی قرات مشہورہ اور متواترہ کی بنا پر تھی۔
اور دوسری قرات شاذہ (جس میں غلبت بصیغہء معروف اور سیغلبون بصیغہ مجہول پڑھا گیا ہے) کی بنا پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ رومی غالب آگئے مگر اس غالب آنے کے بعد رومی عنقریب مغلوب ہوں گے۔
پہلی قرات میں رومیوں کے مغلوب ہونے کے بعد ان کے غالب ہونے کی خبر کا ذکر ہے اور دوسری قرات میں رومیوں کے غالب ہونے کے بعد ان کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی ہے رومیوں کی یہ دوسری مغلوبی مسلمانوں کے ہاتھ سے ہوگی جیسا کہ تفیسر ابو السعود ص 707 ج 6 اور تفسیر بیضاوی اور حاشیہ شہاب خفاجی علی تفسیر البیضاوی ص 112 ج 7 میں ہے۔
سو (ف 1) جاننا چاہئے کہ ان دونوں قراتوں کے معنی اگرچہ مختلف ہیں لیکن ان دونوں معنی میں تناقض اور تضاد نہیں اس لئے کہ ہر قرات میں ایک نئی چیز کی خبر دی گئی ہے اور عقلا اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک فریق ایک زمانہ میں مغلوب ہو اور دوسرے زمانہ میں غالب ہو مشہور قرات میں تو یہ خبر دی گئی ہے کہ رومی یعنی اہل کتاب اگرچہ ایرانیوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوگئے ہیں مگر عنقریب چند سال میں رومی (اہل کتاب) ایرانیوں پر غالب آئیں گے اس خبر کا ظہور بدر کے دن ہوا جیسا کہ اس کی تفصیل گذر چکی گذشتہ تمام تفسیر اسی مشہور قرات کی بنا پر تھی یعنی جب کہ غلبت بصیغہ مجہول اور سیغلبون بصیغہ معروف پڑھا جاوے اور دوسری قرات میں یعنی جب کہ غلبت بصیغہ معروف اور سیغلبون بصیغہ مجہول پڑھا جاوے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ رومی غالب آئے مگر اس غالب آنے کے بعد رومی مسلمانوں کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے یعنی مسلمان ان پر غالب ہوں گے اس قرات میں مسلمانوں کا روم پر فتحیاب ہونے کا ذکر ہے کہ مسلمان عنقریب روم کو فتح کرلیں گے اور اس پر غلبہ پاویں گے یہ دوسری بشارت ہے جس کا اسی قرات میں ذکر ہے اور یہ بشارت آنحضرت ﷺ کے زمانہ سعادت میں واقع اور ظاہر نہیں ہوئی بلکہ شیخین (صدیق اکبر ؓ اور فاروق اعظم ؓ کے زمانہ سعادت میں واقع اور ظاہر ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ خلیفہ دوم یعنی فاروق اعظم ؓ کے پاتھ پر پورا ہوا مشہور قرات میں جس پیشین گوئی کا ذکر تھا وہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سعادت میں پوری ہوئی اور قرات شاذہ میں جس پیشین گوئی کا ذکر ہے وہ فاروق اعظم ؓ کے زمانہ خلافت میں پوری ہوئی۔
بہرحال آیت میں دو قراتیں ہیں اور ہر قرات میں نئی بشارت کا ذکر ہے پہلی بشارت یعنی رومیوں کا اہل فارس پر غلبہ یہ بشارت بدر کے دن پوری ہوئی اور دوسری بشارت یعنی رومیوں کا مسلمانوں کے ہاتھ مغلوب ہونا یہ بشارت فاروق اعظم ؓ کے زمانہ خلافت میں پوری ہوئی کہ مسلمان رومیوں اور فارسیوں پر بیک وقت غالب آئے اور اللہ کی ہر خبر اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوئی غرض یہ کہ چند روز بعد دونوں پیشین گوئیاں پوری ہوئیں اور ہر پیشین گوئی آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل تھی کہ مسلمان بےسروسامانی تھے مگر قیصر وکسریٰ جیسی سلطنتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
1 یہاں سے لے کر اخیر تک تمام کلام حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ کی ازالۃ الخفا سے ماخوذ ہے۔
تنبیہ : ان دو مختلف قراتوں میں یہ تطبیق وتوفیق جو ہم نے ہدیہ ناظرین کی ہے وہ سب حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس اللہ سرہ کے کلام کی تشریح ہے جو حضرت شاہ صاحب (رح) نے ازالۃ الخفا میں ذکر کی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ آیت میں دو قرآتیں ہیں اور ہر قرات میں ایک نئی پیشین گوئی کا ذکر ہے اور ہر پیشین گوئی قرآن کریم کے منجانب اللہ تعالیٰ ہونے کی بھی دلیل ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی بھی دلیل ہے کہ بغیر وحی الٰہی کے اس قسم کی پیشین گوئی ناممکن اور محال ہے۔
چناچہ علاء بن زبیر کلابی اپنے باپ زبیر کلابی سے راوی ہیں کہ میرے باپ زبیر نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ یہ تینوں غلبے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اول بار فارس کا غلبہ روم پر دیکھا دوسری بار روم کا غلبہ فارس پر دیکھا تیسری بار مسلمانوں کا غلبہ روم اور فارس دونوں پر دیکھا اور یہ سب کچھ پندرہ سال کے اندر اندر ہوا رواہ ابن ابی حاتم دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 426 ج 3۔
(2) یعلمون ظاہر من الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غفلون کا مطلب (ف 1) یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی ظاہری آرائش اور آسائش کو دیکھ کر مفتون ہوگئے اور اصل حقیقت کا ان کو علم نہیں یہ دنیا ایک ایسی چڑیل بڑھیا کے مشابہ ہے جس کو ریشمی لباس پہنا کر بٹھا دیا گیا ہے اور منہ پر نقاب ڈال دیا گیا ہے جب نقاب اٹھا کر دیکھو گے تب حقیقت معلوم ہوگی۔
بس قامت خوش کہ چادر باشد چوں باز کنی مادر مادر باشد
کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
عار فے خواب رفت در فکرے دید دنیا بصورت بکرے
کرداز وے سوال کا ے دلبر بکر چونی بایں ہمہ شوہر
گفت یک حرف باتو گویم راست کہ مرا ہر کہ بود مرد نخواست
وآن کہ نامرد بود خواست مرا زاں بکارت ہمیں بجاست مرا
(3) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ روم مغلوب ہونے کے عنقریب پھر اہل فارس پر غالب آئیں گے لوگوں نے اس پیشین گوئی کو عجیب سمجھا اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ ان لوگوں کی نظر ظاہری اسباب پر ہے اور مسبب الاسباب سے غافل ہیں اس لئے جب وہ اس قسم کی پیشین گوئیاں سنتے ہیں تو ان کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ ہر چیز کا اصلی سبب حق تعالیٰ کا ارادہ ہے وہی فتح ونصرت کا مالک ہے اس لئے وعدہ میں تخلف ممکن نہیں اس لئے اخیرسورت تک دلائل قدرت کو بیان کیا تاکہ ان دلائل قدرت میں غور کریں اور ہوش میں آجائیں کہ سب کچھ اللہ ہی کی قدرت اور اختیار میں ہے عزت اور غلبہ ذلت اور مغلوبی سب اس کے اختیار میں ہے لہٰذا مسلمانوں کے اس وقتی فقر اور درویشی کو دیکھ کر مسلمانوں کو حقیر نہ سمجھیں اہل اسلام کو اس وقت ابتلا کی منزل سے گذارا جا رہا ہے جیسا کہ گذشتہ سورت میں گذرا الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وہم لا یفتنون عنقریب یہی درویشان اسلام قیصر وکسریٰ کے خزانوں کو مسجد نبوی کے کچے صحن میں بیٹھ کر تقسیم کریں گے۔
1 ماخوذ از ہم الآخرہ ص 30 وعظ وہم از سلسلہ البلاغ۔
Ayahs 30:8–19ذکر دلائل قدرت و عظمت برائے اثبات الوہیت و اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اولم یتفکروا فی انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا کہ جو دنیا کی ظاہری زیبائش اور آرائش پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت کی تنبیہ کے لئے آیات قدرت کو ذکر کرتے ہیں جن کے ذکر سے الوہیت اور وحدانیت کا بھی ثابت کرنا ہے اور قیامت اور جزا اور سزا کا بھی ثابت کرنا ہے تاکہ منکرین آخرت کو ایمان اور کفر کا مال معلوم ہوجائے نیز ان دلائل قدرت میں غور کر کے سمجھ جائیں کہ یہ اسباب ظاہری اعتماد اور بھروسہ کے لائق نہیں۔
اخیر سورت تک آیات قدرت کا ذکر چلا گیا ہے اور ان دلائل قدرت میں چھ جگہ لفظ آیت استعمال کیا گیا ہے جس کا منتہی اذا انتم تخرجون ہے اور ان دلائل قدرت (ف 1) کا آغاز انسان کی پیدائش سے کیا پھر عالم علوی اور عالم سفلی کی پیدائش کو بیان کیا اس لئے کہ کائنات عالم سے نفع اٹھانے والا وہ انسان ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں کیا ان لوگوں نے جو دنیا کے ظاہر پر فریفتہ ہیں اور آخرت سے غافل ہیں اپنے ضمیر میں اور دل میں یہ نہیں سوچا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نہیں پیدا کیا مگر حکمت کے ساتھ عالم کی ہر چیز حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے کوئی کھیل اور تماشا نہیں اور فقط ایک مدت معینہ اور وقت مقرر تک کے لئے یعنی آسمان و زمین ایک مدت معینہ کے لئے پیدا کئے گئے اس مدت کے گزرنے کے بعد ان کو فنا کردیا جائے گا ان کا وجود دائمی نہیں لہٰذا منکرین توحید اور منکرین نبوت اور منکرین قیامت کو ہوش میں آجانا چاہئے کہ وہ فنا سے بچ نہیں سکتے۔ (شیخزادہ ص 21 ج 4)
اگر یہ لوگ خدا کی قدرت کی نشانیوں میں تفکر کرتے تو اسباب ظاہری پر اعتماد نہ کرتے بلکہ اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرتے غرض یہ کہ الی اجل مسمی کے قید سے یہ بتلا دیا کہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں ازلی اور ابدی نہیں بلکہ ایک مدت معینہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے اس کے بعد ان کو فنا کردیا جائے گا پس اب حشر ونشر میں اور خدا کے سامنے پیش ہونے میں کیا شبہ رہا اور تحقیق بہت سے لوگ جو دنیا کے علم کے مدعی ہیں وہ خدا کے سامنے پیش ہونے کے منکر ہیں اور ان کا یہ انکار غفلت عن الآخرۃ اور عدم تفکر پر مبنی ہے کیا یہ شیدابان آرائش دنیا اور غافلان آخرت زمین میں پھرے نہیں اور کیا اثنائے سفر میں عاد اور ثمود کی بستیوں پر سے نہیں گذرے پس دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گذر گئے کہ انکار نبوت اور انکار آخرت کی وجہ سے کیسے تباہ اور برباد ہوئے وہ لوگ ان لوگوں سے قوت میں بہت زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو ان سے زیادہ جوتا یعنی ان سے زیادہ کھیتی باڑی کی اور ہل چلائے اور زراعت کو ترقی دی وہ لوگ زرعی ترقیات میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے اور ان لوگوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا جتنا کہ ان لوگوں نے آباد کیا ان گذشتہ کافروں نے دنیا کی آرائش اور زیبائش میں اور زرعی اور تعمیری ترقی میں ان موجودہ کافروں سے زیادہ کوششیں صرف کیں اور انہی لوگوں کے پاس اللہ کے رسول معجزات لے کر آئے اور ان کو آخرت کی دعوت دی مگر وہ لوگ دنیا کی ظاہری آرائش وزیبائش پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ رسول کے اور اہل ایمان کے دشمن ہوگئے بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ اور برباد ہوئے پس اس ہلاک کرنے میں اللہ تعالیٰ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا لیکن یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے کہ خدا کے رسولوں کا مقابلہ کیا اور اس پر قائم رہے اور اس جرم کی پاداش میں ہلاک ہوئے پھر ان بدکاروں کا انجام بھی بہت ہی برا ہوا بروں کا انجام بھی براہی ہوتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہوئی کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے استہزا اور تمسخر کا درجہ تکذیب اور انکار سے بڑھ کر ہے اور یہ استہزا ان کی عادت بن گئی تھی۔
ذکر مبدا ومعاد برائے تہدید اہل عناد
اب آئندہ آیات میں غافلان آخرت اور منکرین قیامت کی تہدید کے لئے مبدا ومعاد کا ذکر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو ابتدا پیدا فرماتا ہے پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا پھر تم سب حساب و کتاب کے لئے اسی کی جانب لوٹائے جاؤ گے تاکہ اس روز اپنے برے انجام کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو اور تم کو معلوم ہوجائے کہ تمہارے تمام اعمال محض جرم تھے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز یہ تمام مجرم ناامید اور حیرت زدہ رہ جائیں گے اس لئے کہ جرم ثابت ہوجائے اور انکار کی مجال نہ ہوگی اور حجت منقطع ہوجائے گی اور ان کے خود ساختہ شریکوں میں سے جن کو انہوں نے خدا کا شریک ٹھہرا رکھا تھا ان میں سے کوئی ان کی شفاعت کرنے والا نہ ہوگا یہ کافر دنیا میں یہ کہا کرتے تھے کہ یہ شرکا ہماری شفاعت کریں گے اس دن ظاہر ہوجائے گا کہ جن کو ہم نے شرکا سمجھا تھا وہ مجبور محض ہیں الوہیت کا ان میں نام ونشان بھی نہیں اور بلکہ اس وقت یہ مشرکین خود اپنے شرکا کے منکر ہوجائیں گے اور ان سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کما قال تعالیٰ قالوا واللہ ما کنا مشرکین اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز متفرق ہوجائیں گے ہر فریق دوسرے فریق جیسا ہوجائے گا ایک گروہ اعلیٰ علیین کی طرف جائے گا اور ایک گروہ اسفل السافلین کی طرف۔
یکے خنداں بصد عشرت یکے نالاں بصد عسرت
یکے در راحت وصلت یکے در شدت ہجراں
اہل جنت اہل جہنم سے جدا کر دئیے جائیں گے پس جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے تو وہ لوگ باغ جنت میں ایسے مسرور ہوں گے کہ سرور کا اثر ان کے چہروں سے ظاہر ہوگا اور جن لوگوں نے دنیا میں کفر کیا اور ہماری قدرت کی نشانیوں کو یا قرآن کی آیتوں کو جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا ایسے پا بجولاں عذاب میں حاضر کئے جائیں گے اس طرح اہل سعادت اہل شقاوت سے جدا ہوجائیں گے اس امتیاز کا دارو مدار ایمان اور کفر ہے۔
فائدہ : جمہور علماء تفسیر کے نزدیک فہم فی روضۃ یحبرون سے جنت کی خوش حالی مراد ہے۔
اور یحییٰ بن ابی کثیر (رح) یہ فرماتے ہیں کہ اس سے خوش الحانی کے ساتھ تسبیح وتحمید اور تہلیل کا سماع مراد ہے جس کو سن کر اہل جنت مسرور ہوں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اہل جنت کو میری تسبیح وتحمید وتہلیل کا گیت سناؤ پس فرشتے ایسی خوش الحانی کے ساتھ اللہ کی تسبیح وتحمید کا گیت سنا دیں گے کہ کسی سننے والے کے کان نے کبھی نہ سنا ہوگا اور فرشتوں کو یہ حکم ہوگا کہ میری تسبیح وتحمید کا گیت ان لوگوں کو سناؤ جنہوں نے دنیا میں اپنے کانوں کو شیطانی باجوں سے محفوظ رکھا تفصیل کے لئے تفسیر قرطبی ص 12 ج 14 دیکھیں اور تفسیر مظہری ص 234 ج 7 دیکھیں۔
مسئلہ : کسی خوش الحان سے اللہ کی تسبیح وتحمید کا سماع یا کسی ایسے اشعار کا سماع جو یاد آخرت میں ممد ہوں وہ جائز ہے بشرطیکہ ہو خوش الحان اور غزل خواں اجنبی عورت یا کم سن لڑکا نہ ہو اور بشرطیکہ طبلہ اور سارنگی نہ ہو اس لئے کہ اجنبی عورت کا تو قرآن سننا بھی حرام ہے غزل کا تو ذکر ہی کیا ہے اور طبلہ اور سارنگی اور اس قسم کے گانے بجانے کے آلات تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں حرام رہے ہیں البتہ اگر کسی کی بیوی خوش الحان ہو تو فقط اس کو اپنی بیوی کا سماع جائز ہے بشرطیکہ وہ خلوت اور تنہائی میں ہو اور کوئی نا محرم مرد اور نا محرم عورت وہاں موجود نہ ہو اور جو سماع قواعد شریعت کے تحت جائز ہو اس کے متعلق حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ کا یہ فتویٰ ہے۔
” زندہ دلاں مردہ تناں را رواست
مردہ دلاں زندہ تناں را خطا ست “
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔
بگویم سماع اے برادر کہ چیست مگر مستمع را بدانم کہ کیست
گراں برج معنی بود طیراو فرشتہ فرو مانداز سیر او
وگر مرد لہوست وبازی دلاغ قوی تر شود لہوش اندر دماغ
شیخ سعدی (رح) فرماتے ہیں کہ میں سماع کی حقیقت جب بیان کروں کہ جب یہ معلوم ہوجائے کہ مسمع (سننے والا) کون ہے آیا وہ سماع کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں اگر بو وقت سماع مستمع کا مرغ روح عالم بالا کی طرف ایسی پرواز کرے کہ جہاں تک پہنچنے سے فرشتہ بھی عاجز ہوجائے تو اس کا حکم دوسرا ہے یہ شخص سماع کا اہل ہے اور نااہل وہ ہے کہ سماع سے اس کے لہو ولعب اور نفسانیت میں اور اضافہ اور ترقی ہوجائے تو ایسا سماع بلاشبہ حرام ہے خاص کر جب کہ گانے والی کوئی خوبصورت عورت ہو یا کوئی حسین لڑکا ہو اور طبلہ اور سارنگی بھی ہو اور شیرینی اور مٹھائی کی ٹوکریاں بھی ہوں اور طبلہ بجانے والی چھوکریاں بھی ہوں تو اس کے حرام ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ قیامت کے دن ہر فریق کو دوسرے فریق سے ممتاز اور جدا کردیا جائے گا دنیا میں اہل سعادت اور اہل شقاوت مخلوط تھے دنیا میں فریقین کا امتیاز ایمان اور کفر تھا مگر ظاہری طور پر مجتمع تھے آخرت میں بھی اول سب مجمتع ہوں گے پھر سب کو الگ الگ کردیا جائے گا اہل سعادت منزل سعادت میں چلے جائیں گے اور اہل شقاوت منزل شقاوت میں چلے جاویں گے اور اہل سعادت کی صفت ایمان اور عمل صالح ہے اور مجملہ اعمال صالحہ کے محبوب ترین عمل اللہ کے نزدیک تسبیح وتحمید ہے اسی ہے جنت میں اہل سعادت کو تسبیح وتحمید کا گیت سنایا جائے گا اس لئے اب آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کو بیان کرتے ہیں جب تم کو اللہ کی کمال قدرت اور مبدا ومعاد کا علم ہوگیا تو تم نعمت ایمان کے شکر میں اللہ کی تسبیح وتحمید لگے رہو یعنی اس کی تنزیہ و تقدیس بیان کرتے رہو کہ وہ خدا وند قدوس جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جس نے ہم کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا کی وہ تمام عیبوں سے پاک اور منزہ ہے غرض یہ کہ تم ہر وقت اللہ کی تسبیح وتحمید میں لگے رہو خاص کر شام کے وقت میں اور صبح کے وقت میں یہ دونوں وقت اللہ کے خاص انوار و تجلیات کے ہیں اور اللہ ہی کے لئے حمد وثنا ہے آسمانوں میں اور زمین میں اخیر دن میں اور جس وقت کہ تم (ظہیرہ) دوپہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو ان اوقات میں خدا کا ذکر اور اس کی تسبیح وتحمید عذاب دوزخ سے رہائی کا ذریعہ ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب تم کو آسمان اور زمین کی پیدائش سے اللہ کی قدرت اور عظمت کا علم ہوگیا تو پھر صبح وشام اس کی تسبیح وتحمید اور تقدیس وتمجید میں لگے رہو ظاہری اسباب پر بھروسہ مت کرو حق عبودیت تو یہ ہے کہ بندہ کسی وقت بھی اللہ کی تسبیح وتحمید سے غافل نہ ہو لیکن صبح وشام اور دوپہر اور سہ پہر کے وقت خاص طور پر تسبیح وتحمید کا اہتمام ضروری ہے کہ ان اوقات میں خاص طور پر اللہ کی قدرت اور عظمت کے آثار خوب ظاہر ہوتے ہیں اس لئے ان اوقات میں خاص طور پر تسبیح کیا کرو نیز ان اوقات میں اللہ کی نعمتوں کا بھی خاص طور پر ظہور ہوتا ہے اس لئے ان اوقات میں بھی تسبیح و تمحید مناسب ہوئی پس اگر تم ان اوقات میں تسبیح وتحمید کرتے رہے تو تمہارا حشر اہل سعادت کے زمرہ میں ہوگا اور جنت کے باغوں میں تم کو حبور اور سرور نصیب ہوگا۔
جمہور علماء اسلام کے نزدیک یہ آیتیں مکہ میں نازل ہوئیں جب کہ پانچ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں اس لئے ان آیات میں مطلق تسبیح وتحمید مراد ہے کہ ان اوقات مذکور میں خاص طور پر اللہ کی تسبیح وتحمید کا اہتمام کریں اس وقت تک چونکہ پانچ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں اس لئے اوقات مذکورہ میں اللہ کی تسبیح وتحمید کافی تھی جس کی کوئی تعداد معین نہ تھی اور بعض علما اس طرف گئے ہیں کہ ان اوقات مذکورہ سے نماز پنجگانہ مراد ہیں جیسا کہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے دیکھو تفسیر قرطبی ص 14 ج 4 وروح المعانی ص 25 ج 21۔
حین تمسون سے مغرب اور عشا کی نماز مراد ہے اور ھین تصبحون سے صبح کی نماز مراد ہے اور عشیا سے نماز عصر مراد ہے اور حین تظھرون سے نماز ظہر مراد ہے غرض یہ کہ اس آیت میں نماز کے اوقات پنجگانہ کی طرف اشارہ ہے۔
عشیا کا ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے آخر روز سے کیا ہے اور شاہ رفیع الدین (رح) نے تیسرے پہر سے اور شاہ عبد القادر (رح) نے پچھلے وقت سے کیا ہے اس لئے عشیا سے عصر کی نماز مراد لینا صحیح اور درست ہے۔
اور ان تینوں ترجموں سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ عصر کا وقت تیسرے مثل سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کیونکہ عرف میں آخرت روز اور پچھلا وقت اور تیسرا پہر کا لفظ تو تیسرے ہی مثل پر صادق آتا ہے جو دن کا آخری حصہ ہے جیسا کہ سورة آل عمران میں ہے وقال طائفۃ من۔۔۔۔ الکتب امنوا بالذی انزل علی الذین امنوا وجہ النھار واکفروا اخرہ بظاہر اس آیت میں وجہ النہار سے صبح کی نماز کا وقت مراد ہے اور آخر النہار سے عصر کی نماز کا وقت مراد ہے جو دن کا آخری حصہ ہے۔
بہرحال اس آیت یعنی فسبحان اللہ حین تمسون وحین تصبحون کی تفسیر میں دو قول ہیں۔
پہلا قوم یہ ہے کہ آیت میں عام اور مطلق تسبیح وتحمید کی تلقین وترغیب مراد ہے کہ اوقات مذکورہ میں تسبیح وتحمید کرنی چاہئے اسی قول کو امام رازی (رح) نے اختیار فرمایا اس لئے کہ اس سے پہلے آیت فہم فی روضۃ یحبرون میں نعمائے جنت کا ذکر ہے جو ہر لمحہ تسبیح وتحمید سے معمور اور منور ہے اس لئے مناسب ہے کہ آیت کو مطلق تسبیح وتحمید کے حکم پر محمول کیا جائے اور علامہ آلوسی (رح) نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے دیکھو تفسیر روح المعانی ص 25 ج 21۔
اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں نماز پنجگانہ کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے دیکھو تفسیر روح المعانی ص 25 ج 21۔
اور دوسرا قول پہلے قول کے منافی نہیں اس لئے کہ نماز کا افتتاح بھی تسبیح وتحمید سے ہوتا ہے۔ سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک الی اخرہ لہٰذا نماز کی تسبیح وتحمید بھی عام تسبیح وتحمید میں داخل ہے اس لئے کہ عام میں خاص بھی داخل ہوتا ہے۔
ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
بہر حال اور بہر تقدیر حق تعالیٰ کی حمد وثنا میں مشغول رہنا چاہے اخروی سعادت اور شقاوت کا دارو مدار اسی پر ہے اور وہ بلاشبہ اسی کا مستحق ہے اور خدا وند قدوس کی قدرت کا عجیب حال ہے وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے جیسے نطفہ سے انسان کو اور بیضہ سے چوزہ کو اور مردہ کو یعنی بےجان کو زندہ سے نکالتا ہے جیسے انسان سے نطفہ اور مرغی سے بیضہ اور ہزاروں حشرات الارض کا یکلخت زمین سے وجود میں آتے رہنا اور پھر ان کا مٹی میں مل جانا اور خاک ہوجانا سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور زمین کو اس کے مردہ یعنی خشک ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی وہ نباتات سے ہری بھری ہوجاتی ہے پس قیامت میں یہی ہوگا اور قیامت کے دن اسی طرح تم زندہ کر کے زمین سے نکالے جاؤ گے انسان صبح کے وقت نیند سے بیداری کی طرف نکلتا ہے حدیث میں ہے کہ النوم اخو الموت نیند موت کا بھائی ہے اور بیداری زندگی کے مشابہ ہے تو صبح کے وقت نیند سے بیداری کی طرف نکلنا گویا کہ موت سے حیات کی طرف نکلنا ہے اور عشا کے بعد سو جانا یہ زندگی سے مردگی کی طرف نکلنا ہے۔ لہٰذا صبح کی بیداری اور عشا کے بعد کی نیند یہ موت سے حیات کی طرف اور حیات سے موت کی طرف نکلنے کا نمونہ ہے جس کا انکار ناممکن ہے لہٰذا اس کے مماثل پیش آنے والے واقعہ کا کیوں انکار کرتے ہو اور کیوں اس کو محال بتاتے ہو لہٰذا اس انکار اور اصرار کو چھوڑو اور خدا کی آیات قدرت پر نظر ڈالو صبح وشام اور دوپہر اور سہ پہر کے وقت میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا ظہور ہوتا ہے اور ان اوقات میں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا بھی ظہور ہوتا ہے لہٰذا ان وقتوں میں خاص طور پر تسبیح وتحمید کا اہتمام کرو تاکہ قیامت کے دن تم کو کام آئے اس لئے اب آئندہ آیات میں دوبارہ زندگی کے اثبات کے لئے دلائل قدرت بیان کرتے ہیں اور ان سے یہ بھی ثابت ہوگا کہ تسبیح وتحمید کی وہی ذات مستحق ہے کہ جو کمال قدرت کے ساتھ موصوف ہے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے چھ دلائل بیان کئے۔
Ayah 30:20دلیل اول
ومن ایتہ ان خلقکم من تراب ثم اذا انتم بشر تنتشرون۔
اور خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک امر یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اچانک تم آدمی ہو کر زمین میں پھیل پڑے اور اسباب معاش کے مہیا کرنے کے لئے چلنے پھرنے لگے انسان کی جسمانی صورت اور اس کی روحانی حقیقت جس سے وہ اشیاء کا ادراک کرتا ہے حکمت کاملہ کا مخزن ہے کہ یہ جسم خاکی کس طرح عناصر اربعہ سے مرکب ہو کر علم و حکمت کا چشمہ بن گیا ظاہر ہے کہ نہ تو خود بخود ایسا ہوگیا اور نہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضا ہے بلکہ کسی قدیر وعلیم کے علم وقدرت کا کرشمہ ہے اسی طرح قیامت کے دن اجزا منتشر کو جمع کر کے دوبارہ زندگی بخشی جائے گی۔
: بنی آدم کی اصل اول حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو مٹی سے پیدا ہوئے اور انسان کی قریبی اصل نطفہ ہے جو غذا سے بنتا ہے اور غذائیں سب زمین سے پیدا ہوتی ہیں اس لئے قرآن مجید میں کہیں خلقکم من تراب آیا ہے اور کہیں خلق من الماء بشرا اور من ماء مھین آیا ہے سب درست ہے کسی جگہ انسان کے مادہ بعیدہ کی طرف اشارہ ہے اور کسی جگہ مادہ قریبہ کی طرف اشارہ ہے انسان کی اصل اول مٹی ہے اور اصل ثانی پانی ہے۔
Ayah 30:21دلیل دوم
ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون۔
اور منجملہ اس کی آیات قدرت کے یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری ذاتوں سے یعنی تمہاری جنس سے جوڑے پیدا کئے یعنی عورتیں تاکہ ہم جنس ہونے کی وجہ سے ان کی طرف میل کرو اور ان سے مل کر سکون حاصل کرو اور چین پکڑو اس لئے کہ ہم جنس ہونا سیلان طبیعت اور رغبت کا سبب ہے اور خلاف جنس ہونا نفرت کا باعث ہے۔ نظم
بجنس خود کند ہر جنس آہنگ ندارد ہیچ کس از جنس خود ننگ
بجنس خویش دار ومیل ہرجنس فرشتہ با فرشتہ انس باانس
اور رکھ دیا تمہارے درمیان باہمی محبت والفت عقد تزویج ہوتے ہی آپس میں محبت اور الفت ہوجاتی ہے حالانکہ بسا اوقات پہلے سے کوئی جان پہچان ہی نہیں ہوتی اور تمہارے درمیان مہربان رکھ دی کہ ایک دوسرے پر رحم کرتا ہے بیشک ان باتوں میں یعنی انسان کے مٹی سے پیدا کرنے میں اور پھر اس کی جنس سے ایک جوڑا پیدا کرنے میں اور پھر باہم محبت اور الفت پیدا کرنے میں خدا کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو فکر کرتے ہیں اور صنائع الہٰیہ میں غور کرتے ہیں غرض یہ کہ زن وشوہر کی محبت صرف خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ دو چیزوں کو جوڑ کر ایک بنا دیا اسی طرح وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن پراگندہ اجزا کو جوڑ دے۔
Ayah 30:22دلیل سوم
ومن ایتہ خلق السموت والارض۔
اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے کہ آسمان تو غایت درجہ بلند اور زمین غایت درجہ پست اور زمین کے قطعات باہم مختلف اور من جملہ دلائل قدرت کے تمہاری زبانوں کا اور رنگتوں کا مختلف ہوتا ہے ہر خطہ کی زبان الگ کوئی عربی کوئی فارسی اور کوئی ترکی اور کوئی ہندی وغیرہ وغیرہ اور ہر ایک کا لب و لہجہ مختلف اور کسی کا رنگ سرخ اور کسی کا سفید اور کسی کا کالا وغیرہ وغیرہ یہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضا نہیں بلکہ خداوند عالم کی کاریگری ہے بیشک اس میں یعنی زبانوں اور لہجوں اور رنگتوں کے مختلف ہونے میں اس کی قدرت و حکمت کی بہت سی نشانیاں ہیں علم والوں کے لئے اور جس کو یہ دلائل قدرت نظر نہ آئیں وہ قطعا جاہل ہے آسمان و زمین کی عظمت پر نظر ڈالو اور اپنی مختلف قسم کی بولی اور اپنی صورتوں اور شکلوں کی رنگا رنگی پر نظر ڈالو کیا یہ چیزیں خدا کی غیر متناہی قدرت پر دلالت نہیں کرتیں پس جس طرح دنیا میں صفات اور حالات مختلف ہیں اسی طرح اگر آخرت میں بھی درجات مختلف ہوں تو کیا استعباد ہے۔
Ayah 30:23دلیل چہارم
ومن ایتہ منامکم بالیل والنھار وابتغاؤکم من فضلہ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔
اور من جملہ اس کی آیات قدرت کے تمہارا رات میں اور دن میں سونا ہے کہ سونے سے قوائے بدنیہ کو راحت اور سکون حاصل ہوتا ہے اور منجملہ دلائل قدرت کے اللہ کے فضل کو یعنی رزق کو تلاش کرنا ہے کہ اس کی تلاش میں محنت اور مشقت اٹھاتے ہو اس میں یعنی سونے میں اور طلب معاش میں بہت سی آیات قدرت ہیں ان لوگوں کے لئے جو گوش ہوش سے سنتے ہیں اور جو بدبخت نیچر کے سامنے گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں وہ کچھ نہیں سنتے۔
یہاں تک دلائل انفس کا ذکر تھا اب آگے دلائل آفاق کا ذکر ہے۔
Ayah 30:24دلیل پنجم
ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا وینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون۔
اور منجملہ دلائل قدرت کے نشانیوں کے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے ڈر کے لئے اور امید کے لئے بجلی کے گرنے سے تم کو جان کا ڈر ہوتا ہے اور بارش کی طمع ہوتی ہے خدا کی قدرت کو دیکھو کہ اس نے ایک چیز میں بیک وقت دو متضاد صفتوں کو جمع کردیا برق ایک ہے کوئی اس سے ڈر رہا ہے اور کوئی اس سے امید لگا رہا ہے اور آسمان کی طرف سے یا بادل سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس کے سبب سے زمین کو مردگی اور پژمردگی کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی اس سر سبز اور شاداب کردیتا ہے بیشک اس برق اور باراں میں قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب خدا کی قدرت کے کرشمے ہیں کسی نیچر اور ایتھر کا اثر نہیں اور اگر کسی کا گمان یہ ہے کہ یہ سب ایتھر اور نیچر کا اثر ہے تو بتلائے اور سمجھائے کہ کس طرح سے ہے محض زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ابر کو دیکھو کہ آب اور ہوا کا مجموعہ ہے یا خالص پانی ہے جو آگ کا دشمن ہے خدا کی قدرت کو دیکھو کہ وہ آب خالص میں سے ہوا اور پانی میں سے آگ نکال رہا ہے ضد میں سے ضد کا نکالنا اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
Ayahs 30:25–27دلیل ششم
ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ۔
اور منجملہ اس کی قدرت کی نشانیوں کے یہ ہے کہ آسمان بدون ستون کے قائم ہے اور زمین پانی پر ٹھہری ہوئی ہے اور یہ سب اللہ کے حکم سے ہے اس میں کسی ایتھر اور نیچر کو ذرہ برابر دخل نہیں۔
یہاں تک دلائل قدرت کا بیان ختم ہوا ظاہر میں یہ دلائل چھ ہیں لیکن درحقیقت دس سے زیادہ ہیں۔ ایک من ایاتہ کے ساتھ ایک دوسری دلیل بھی مذکور ہے ان سب دلائل کا حاصل یہ ہے کہ یہ تمام نظام عالم جس کا ان آیات قدرت میں ذکر ہوا وہ سب اللہ کے ارادہ اور مشیت سے چل رہا ہے اور ایک دن یہ سارا نظام درہم وبرہم ہوجائے گا پھر اس وقت یہ ہوگا کہ وہ جب تم کو پکار کر زمین کے اندر سے بلاوے گا تو تم سب ایک بارگی زمین سے یعنی اپنی قبروں سے نکل پڑو گے تو اس وقت دوسرا نظام شروع ہوجائے گا اور یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگی۔
مطلب یہ ہے کہ یہ آیات قدرت تمہارے سمجھانے کے لئے بیان کی گئیں ورنہ بات یہ ہے کہ قیامت کے دن ایک خدائی ندا ہوگی جس کو سنتے ہیں تم کھڑے ہوجاؤ گے اور قبروں سے نکل کر ہمارے سامنے حاضر ہوجاؤ گے اور کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوگی اور اسی کے لئے مسخر ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ سب کا خالق اور مالک اور رب ہے سب اسی کے حکم کے تابع ہیں کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرکشی کرسکے اور وہی اللہ عزوجل ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر مار ڈالتا ہے پھر اس کو وہ دوبارہ زندہ کرے گا اور وہ دوبارہ زندہ کرنا اس پر بہت آسان ہے تو پھر تم دوبارہ پیدا کرنے کے کیوں منکر ہو اور اسی کے لئے شان اور صفت سب سے اعلیٰ اور برتر ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی غالب ہے عاجز اور مغلوب نہیں اور وہی حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں جن کے دل زنگ آلودہ نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی چیز اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔