30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 30:28–40

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں ؟ اور کیا تم اس میں (ان کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو ؟ (اور کیا) تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ اسی طرح ہم عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو تم ایک طرف کے ہو کر دین (خدا کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

مومنو ! اسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

(اور نہ) ان لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے سب فرقے اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں پھر جب وہ انکو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائے گا

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ ان کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے ؟

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جسکے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے ؟ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو اہل قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے خدا کی رضامندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجب برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک سے بلند ہے

بیان مثال برائے اظہار جہالت اہل شرک وضلال قال اللہ تعالیٰ ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ سبحنہ و تعلی عما یشرکون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے دلائل ذکر کئے۔ اب مشرکین کی جہالت اور ضلالت ظاہر کرنے کے لئے خود انہی کے احوال میں سے ایک مثال بیان فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود تمہارے ہی احوال میں سے شرک کی برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا اے آزاد لوگو تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ جس چیز کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے لونڈی غلام جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں اور محض ظاہری اور مجازی طور پر تم ان کے مالک ہو اور یہ ملک مجازی بھی دائمی اور مستقل نہیں بیع اور ہبہ کے ذریعہ سے دوسرے کی طرف منتقل ہوسکتی ہے بخلاف ملک خداوندی کے کہ وہ حقیقی اور دائمی ہے خدا کا بندہ کسی طرف بھی خدا کی ملک سے نکل نہیں سکتا پس کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ ان مجازی غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس مال و دولت میں شریک اور ساجھی اور حصہ دار بن جائے جو ہم نے تم کو عطا کیا ہے یعنی وہ رزق جو تمہارے پاس ہے وہ ہمارا ہی عطا کردہ ہے تمہارا پیدا کردہ نہیں جیسے مشترک جائیداد میں کئی بھائی حصہ دار ہوتے ہیں پھر تم اور وہ سب اس میں مساوی اور برابر ہوجائیں یعنی اس مال و دولت کے تصرف میں سب یکساں ہوجائیں حاصل یہ کہ تم میں سے کوئی اس پر راضی نہیں کہ اس کا مجازی غلام اس کے مال و دولت میں برابر کا ساجھی اور شریک ہوجائے تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم اپنے مملوک غلاموں سے ایسا ڈرتے ہو جیسے تم اپنے جیسوں آزاد بھائیوں اور خویش و اقارب سے ڈرتے ہو پس جب تم اپنے مجازی غلاموں کو ہمارے دئیے ہوئے رزق میں اپنا شریک بنانا پسند نہیں کرتے تو بندوں کا مالک حقیقی کے ساتھ شریک کرنا کیسے پسند کرتے ہو جس کی ملکیت ایسی دائم اور قائم ہے کہ کوئی کسی طرح بھی اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوسکتا پس جب کہ مملوک مجازی مالک مجازی کے برابر نہیں ہوسکتا تو مملوک حقیقی مالک حقیقی کے کیسے برابر ہوسکتا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی ظاہر کرنے کے لئے ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو ان کے احوال کے مناسب ہے اور درحقیقت وہ وحدانیت کی دلیل ہے اور مسکت دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے لوگو ! اگر تم اپنے حال اور مآل کی خبر رکھتے ہو تو ذرا دیکھو تو سہی تم بھی بزعم خود غلاموں کے مالک ہو گویہ ملکیت محض اضافی اور مجازی ہے اور چند روزہ ہے جس کو خدا کی ملکیت سے کوئی نسبت نہیں یہ غلام تمہارے پیدا کردہ نہیں اور یہ مال و دولت جو ہم نے تم کو دے رکھا ہے وہ بھی تمہارا پیدا کردہ نہیں تم سب اللہ ہی کی روزی کھاتے ہو پس جب تم اپنے مجازی غلاموں کا اپنا شریک ہونا پسند نہیں کرتے تو خدا کے مخلوق کا خالق حقیقی اور مالک حقیقی کے ساتھ شریک گرداننا کیسے پسند کرتے ہو اور جب تم اپنے مجازی غلاموں کی پرواہ نہیں کرتے جو تمہارے ہم جنس ہیں تو مالک حقیقی تمہاری کیا پروا کرے۔ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں دلائل قدرت ووحدت کو اس گروہ کے واسطے جو عقل سے کام لیتے ہیں مگر ظالم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ ان مشرکوں نے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا بجائے عقل سے کام لینے کے بغیر جانے اور بغیر سمجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے اور گمراہ ہوئے پس اس شخص کو کون ہدایت دے جس کو اللہ نے گمراہ کیا ہو اور نہ ایسوں کا کوئی مددگار ہے کہ جو عذاب دوزخ سے ان کو بچا سکے۔ دین فطرت پر قائم رہنے کی ہدایت پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ دین اسلام حق ہے اور عین عقل اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہے تو اے طالب ہدایت سب ادیان باطلہ سے ہٹ کر اپنا چہرہ اور اپنا رخ سیدھا دین حق کی طرف کر دے اور ہر دین باطل سے منہ پھیر کر اور منہ موڑ کر دین اسلام کی طرف جھک جا جو دین توحید ہے اور دین فطرت ہے سب کو چھوڑ کر فطرت الٰہی کو لازم پکڑو اور اس پر قائم ہوجاؤ جس پر اللہ نے بنی آدم کو پیدا کیا ہے فطرت کے معنی خلقت کے ہیں اس جگہ ” فطرت “ سے مراد دین اسلام اور توحید ہے اور حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس لئے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جو بچہ خواہ وہ مسلمان کا یا کافر کا نابالغی کی حالت میں مرجائے تو وہ مسلمان مرا اس پر عذاب نہ ہوگا۔ اور علماء محققین یہ کہتے ہیں کہ فطرت سے عین اسلام مراد نہیں بلکہ استعداد اور صلاحیت اور قابلیت مراد ہے اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر بچہ فطری اور طبعی طور پر اسلام کے طریقہ پر پیدا ہوتا ہے اور اس کی فطرت میں اسلام قبول کرنے کا مادہ رکھا جاتا ہے کہ اگر اس کو مانع پیش نہ آئے تو وہ بلاشبہ اسلام ہی کو قبول کرے لیکن ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں یعنی جس دین پر اس کے ماں باپ ہوتے ہیں اسی پر اس مولود کو کرلیتے ہیں لیکن اس سے اس کی اصل استعداد اور صلاحیت زائل نہیں ہوجاتی بلکہ وہ ہمیشہ اس کی طبیعت میں قائم رہتی ہے لیکن عوارض اور موانع کی وجہ سے مستور ہوجاتی ہے اور جب وہ مانع اور عارض دور ہوجاتا ہے تو وہ استعداد پھر ظاہر ہوجاتی ہے جیسا کہ آئندہ آیت یعنی لا تبدیل لخلق اللہ میں اس کی طرف اشارہ ہے جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کی بنائی فطرت اور پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں اس آیت کی تفسیر میں علما کے دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ لا تبدیل لخلق اللہ جملہ خبریہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت اور اصل طبیعت میں قبول حق کی صلاحیت اور استعداد رکھی گئی ہے کسی میں یہ قدرت نہیں کہ اللہ کی فطرت اور خلقت میں تغیر وتبدل کرسکے یہودی اور نصرانی ہوجانے کے بعد بھی قبول حق کی استعداد اور صلاحیت باقی رہتی ہے ورنہ اگر فرض کرو کہ فرعون اور ہامان اور ابو جہل اور ابولہب میں قبول حق اور قبول اسلام کی صلاحیت اور استعداد ہی نہ ہوتی تو وہ ایمان اور اسلام کے مکلف ہی نہ ہوتے اینٹ اور پتھر یا جانور کی طرح ہوتے اور اتباع شریعت کے مکلف نہ ہوتے۔ اور اس آیت یعنی لا تبدیل لخلق اللہ کی تفسیر میں دو سرا قول یہ ہے کہ یہ جملہ انشائیہ ہے یعنی لا تبدیل سے نفی کے معنی مراد نہیں بلکہ نہی کے معنی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ کفرو شرک کر کے اللہ کی فطرت کو متغیر اور متبدل نہ کرو جس فطرت پر اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے وہ ایک تخم ہدایت ہے اس کو تم اپنے اختیار سے خراب نہ کرو اور بےتوجہی سے اس کو ضائع نہ کرو یہ فطرت سلیمہ حق جل شانہ کا خاص عطیہ ہے اس کی پوری پوری حفاظت کرو اندیشہ ہے کہ شیاطین الانس والجن اس کو خراب نہ کردیں یہی دین جس کی طرف تم کو منہ سیدھا کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہی سیدھا اور درست دین ہے جو عین خداداد فطرت کے مطابق ہے جس میں کجی کا نام ونشان نہیں سیدھا خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا ہے اور اس کے سوا جو اور دین ہیں وہ سب ہوا وہوس اور نفسانی خواہشوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں لیکن بہت سے لوگ جانتے اور سمجھتے نہیں کج طبعی کی وجہ سے سیدھی راہ کو چھوڑ کر ٹیڑھی راہ پر جا رہے ہیں۔ اور بعض علما یہ کہتے ہیں کہ فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا میں فطرت سے عہد الست مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر بچہ عہد الست اور اقرار ربوبیت پر پیدا ہوتا ہے اور یہ اقرار ربوبیت ہر شخص کی فطرت میں راسخ ہے کما قال اللہ تعالیٰ ولئن سألتہم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ لیکن شریعت میں اس ایمان فطری کا اعتبار نہیں اس لئے کہ یہ امر محض اضطراری ہے اور شریعت میں اس ایمان کا اعتبار ہے جو اختیاری ہو یعنی اپنے ارادہ اور اختیار سے حق کو قبول کرے اور احکام خداوندی کی تصدیق کرے اور اس تحقیق سے پہلے قول والوں کا بھی جواب ہوگیا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ فطرت سے عین اسلام مراد ہے اس لئے کہ وہ ایمان فطری ہے جس میں شعور اور اختیار کو کوئی دخل نہیں اور نجات اخروی کا دارو مدار ایمان اختیاری پر ہے۔ (شیخزادہ حاشیہ تفسیر بیضاوی ص 27 ج 4) خلاصہ کلام یہ کہ اے لوگو فطرت اسلامی کو مضبوط پکڑو اور عہد الست اور اقرار ربوبیت پر قائم رہو درآنحالیکہ تم سب سے منہ موڑ کر بالکلیہ اور ہمہ تن اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور متوجہ ہونے والے ہوجاؤ تاکہ تمہاری فطرت سلیمہ خراب نہ ہو اور اقرار ربوبیت کے بعد اپنے عہد اور اقرار سے رجوع نہ کرو اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو اور نماز کو قائم رکھو جو دین کا ستون ہے اور شرک کرنے والوں میں سے مت بنو ہر عمل خالص اللہ کے لئے کرو اعتقادا اور عملا کسی کو اس میں شریک نہ کرو کفر اور شرک سے عہد الست اور اقرار ٹوٹ جاتا ہے اور جس فطرت سلیمہ پر اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے وہ خراب یا ضائع ہوجاتی ہے خداداد فطرت کی اگر حفاظت مطلوب ہے تو ان باتوں کو ملحوظ رکھو۔ (1) اخلاص اور (2) تقوی اور (3) نماز گذشتہ آیت یعنی ولا تکونوا من المشرکین میں یہ ارشاد فرمایا کہ شرک کرنے والوں کی جماعت میں نہ داخل ہونا اب آئندہ آیت میں اس جماعت کی تشریح فرماتے ہیں یعنی ان لوگوں کی جماعت میں سے نہ ہوجانا کہ جنہوں نے اپنے اصل دین کے یعنی دین فطرت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور جس دین فطرت پر ان کو قائم رہنے کا حکم تھا اس پر تو قائم اور متفق نہ رہے بلکہ اپنی خواہشوں اور خیالات کی بنا پر گروہ گروہ بن گئے اور شیعہ ہوگئے اور ہر گروہ اور ہر فرقہ اس چیز پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے ہر فرقہ اپنے خیال پر ایسا فریفتہ اور مفتون ہے کہ اسے اپنی غلطی کے امکان کا تصور بھی نہیں اب آگے یہ بتلاتے ہیں کہ لوگوں نے دنیا میں نئے نئے مذہب نکال لئے ہیں لیکن دین اسلام اوردین توحید یہی دین، فطرت سلیمہ کے مطابق ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور دلیل اس کی کہ توحید اسلام دین فطرت ہے یہ ہے کہ جب لوگوں کو کوئی سختی اور شدت اور مصیبت پہنچتی ہے اور ظاہری اسباب جواب دے دیتے ہیں تو اس وقت فطرت اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور فطرت کا جو ذاتی اقتضا ہے وہ ظاہر ہونے لگتا ہے بایں طور کہ جب اس شدت اور سختی میں پھنس جاتے ہیں تو بےاختیار ہو کر اپنے اسی رب کو پکارتے ہیں جس کی ربوبیت کا عہد الست کے وقت اقرار کرچکے ہیں اور یہ اقرار ربوبیت اس درجہ طبیعت میں راسخ ہوچکا ہے کہ جب مصیبت پڑتی ہے تو بےقرار ہو کر اسی رب کی طرف رجوع کرنے والے ہوجاتے ہیں جس کی ربوبیت کا ازل میں اقرار کرچکے ہیں اس وقت خدا کے سوا جن کو مشکل کشا سمجھے ہوئے تھے ان کو بھول جاتے ہیں مصیبت کے وقت نفسانی خواہشیں دور ہوجاتی ہیں اور فطرت اپنی اصلی حالت پر لوٹ آتی ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ” مصیبت کے وقت خدا یاد آتا ہے “ مگر پھر قریب ہی میں ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے کسی مہربانی کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ پھر خدا کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے گویا کہ ان کے اس طرز عمل کا حاصل یہ ہے کہ تاکہ ناشکری کریں اس نعمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی یعنی ہم نے تو ان کو اپنی رحمت سے بلا سے نجات دی مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے شکر اور اطاعت کے کفران نعمت اور معصیت کرنے لگے اچھا اے لوگو ! چند روز مزے اڑا لو عنقریب جان لو گے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے کیا ہم نے ان لوگوں پر کوئی دلیل اور برہان اتاری ہے پس وہ دلیل بولتی ہو اس چیز کے متعلق جو یہ شرک کرتے ہیں یعنی وہ دلیل ان کو شرک کی تعلیم دیتی ہو یہ تو کھلے مشرکوں کے حال کا بیان تھا اب آئندہ آیت میں عام انسانی جبلت کا حال بیان کرتے ہیں خواہ وہ علانیہ طور پر مشرک ہوں یا نہ ہوں اس لئے کہ بعض ضعیف الایمان اور ناقص الایمان اللہ کے فضل ہونے سے خوش ہوجاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں اور سختی اور مصیبت کی حالت میں مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں چونکہ یہ مایوسی بھی ایک قسم کا کفر ہے اس لئے خاص مشرکین اور کافرین کے حال کے بعد عام لوگوں کا حال بیان فرمایا تاکہ اس ضمن میں اہل ایمان کو تنبیہ ہوجائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے اعمال بد کے بدلہ میں جو ان کے ہاتھوں نے کئے ہیں انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پس وہ فورا مایوس ہوجاتے ہیں بخلاف اہل ایمان کے کہ وہ فراخی میں نہ اتراتے ہیں اور نہ تنگی میں ناامید ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ رزق کی وسعت اور تنگی سب اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت اور حکمت سے ہے کیا ان کافروں نے نہیں دیکھا اور نہیں جانا کہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے تنگی کرتا ہے بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں دونوں صورتیں اللہ کی حکمت اور مشیت سے ہیں رزق کی وسعت کا دارومدار کسی کے ذاتی استحقاق پر نہیں لہٰذا اہل ایمان کو چاہئے کہ تنگی میں پریشان اور ناامید نہ ہوں اور فراخی میں مغرور اور مست ہو کر خدا کو نہ بھول جائیں لہٰذا فطرت سلیمہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ ہی کو رازق سمجھے اسباب ظاہری پر اعتماد نہ کرے پس مومن کو چاہئے کہ تنگی ہو یا فراخی ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہے اور اس کی رضا اور خوشنودی کا طلب گار رہے اپنے فائدہ پر نظر نہ رکھے پس اے انسان جب تجھے یہ معلوم ہوگیا کہ اصل رزق دینے والا حق تعالیٰ ہے تو تجھ کو چاہئے کہ خدا کے دئیے ہوئے رزق کو اس کے حکم کے مطابق خرچ کرے لہٰذا صاحب قرابت کو حق قرابت دے اور اس کے ساتھ صلہ رحمی کر اور مسکین اور مسافر کو ان کا حق دے یعنی اگر اللہ تجھ کو فراخی دے تو یہ تین کام کر۔ شریعت نے اقربا اور فقرا کے ساتھ جس طرح تم کو سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کرو یعنی شریعت کے مطابق مالی حقوق ادا کرنا بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کے طلب گار ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہیں نہ کہ نام آوری اور کسی دنیاوی غرض کے لئے اور خویش و اقارب اور فقرا و مساکین کی اعانت اور امداد محض اللہ کی رضا مندی کے لئے یہی اعلیٰ ترین تمدن ہے۔ اہل زمانہ چونکہ سودی کا روبار میں مبتلا تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ سود سے مال میں زیادتی اور ترقی ہوتی ہے اور صدقہ و خیرات سے مال میں کمی آجاتی ہے اس لئے آئندہ آیات میں متنبہ فرماتے ہیں کہ یہ مت سمجھنا کہ اقربا اور فقرا کے ساتھ سلوک اور احسان کرنے سے مال میں کمی آجائے گی سلوک اور احسان سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ سود سے کم ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو تم سود دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں زیادتی ہوجائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا حرام کے ذریعہ سے جو مال آئے وہ ظاہر میں بڑھتا ہے مگر حقیقت میں گھٹتا ہے جیسے رشوت سے بظاہر مال بڑھتا نظر آتا ہے مگر درحقیقت وہ مال پیشاب اور پاخانہ کا سنڈاس ہے نجاست کے سنڈاس کو ترقی سمجھنا حماقت ہے فطرت سلیمہ اس حرص اور طمع کی اجازت نہیں دیتی اور سارا قرآن اور حدیث اسی سے بھرا پڑا ہے نجاست کے کیڑے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سودی کاروبار بند ہوجائے تو ہم سب پر موت آجائے گی اس لئے کانفرنسیں کرتے ہیں اور علما سے کہتے ہیں کہ سود کی حرمت ترقی کی راہ میں مزاحم ہے سبحان اللہ فطرت سلیمہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ پیشاب کو عرق گلاب کہنے لگے اور بعض علما اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت میں ربا سے سود بیاج مراد نہیں بلکہ ربا سے وہ ہدیہ اور ہبہ مراد ہے جو کسی کو اس نیت سے دیا جائے کہ وہ شخص اس سے بڑھ کر احسان کر دے گا تو ایسا احسان اللہ کے نزدیک موجب خیروبرکت نہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ولا تمنن تستکثر ایسا مال اللہ کے نزدیک پھلتا اور پھولتا نہیں کسی شخص کو کوئی چیز اس نیت سے دینا کہ وہ مجھے اس سے زیادہ دے دے گا بظاہر اگرچہ یہ ربا حرام نہیں مگر نیت اور ارادہ کے اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کا ربا ہے۔ آیت کی یہ تفسیر ابن عباس ؓ سے اور امام شافعی (رح) سے منقول ہے خوب سمجھ لو شریعت کی نظر میں جس طرح ظاہری ربا حرام ہے اسی طرح باطنی اور پوشیدہ ربا بھی حرام ہے فرق صرف اس قدر ہے کہ کسی کی حرمت اور نجاست ظاہر ہے اور کسی کی پوشیدہ ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا کہ سود سے مال میں ترقی اور زیادتی نہیں ہوتی اب آگے اس کے بالمقابل زکوٰۃ اور صدقات کو بیان کرتے ہیں کہ خدا کی راہ میں خدا کی راہ میں خدا کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنے سے مال میں برکت اور ترقی اور زیادتی ہوتی ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو تم زکوٰۃ اور خیرات دو جس سے تمہارا مقصود محض اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی ہو تو سمجھ لو کہ ایسے ہی لوگ اپنے مال کو اضعافا مضاعفۃ (زیادہ در زیادہ) کرنے والے ہیں ایک کے کم از کم دس بنانے والے ہیں ترقی تو یہ ہے حدیث میں ہے کہ صدقہ اللہ کے ہاتھ میں پہنچتا ہے اور پھر اللہ اس کو بڑھاتا ہے یہاں تک کہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ اب آگے پھر مشرکین کی تنبیہ کے لئے توحید کو بیان کرتے ہیں خدائے برحق وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا، تم کو روزی دی تاکہ تم اس کی روزی سے زندہ رہ سکو پھر تم کو موت دے گا پھر قیامت کے دن تم کو زندہ کرے گا بھلا تمہارے شرکا میں سے بھی کوئی ایسا ہے کہ جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرسکے یا مار سکے یا جلا سکے اور ظاہر ہے کہ کوئی کچھ نہیں کرسکتا پس ثابت ہوگیا کہ وہ پاک اور برتر ہے اس چیز سے جس کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں کوئی اس کا شریک نہیں وہ وحدہ لا شریک ہے۔
Ayahs 30:41–47

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا انکو انکے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آ کر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا اپنے فضل سے بدلا دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو اور عجب نہیں تم شکر کرو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلا لیکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

ذکر وبال ونحوست کفر ومعصیت در دار دنیا قال اللہ تعالیٰ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون۔۔۔ الی۔۔۔ وکان حقا علینا نصر المومنین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفر اور شرک اور معصیت پر تہدید تھی اب ان آیات میں کفر اور معصیت کی نحوست کو بیان کرتے ہیں کہ یہ ایسی منحوس چیزیں ہیں کہ بسا اوقات دنیا ہی میں بد اعمالی کی وجہ سے طرح طرح کی بلائیں اور آفتیں اور مصیبتیں پیش آتی ہیں جیسے قحط اور سیلاب اور طاعون وغیرہ اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سزا کا کچھ مزا چکھا دیا جاتا ہے باقی پوری سزا تو آخرت میں ملے گی اور ان دنیاوی مصائب وآفات کے نازل کرنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی بداعمالی پر متنبہ ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے دنیا میں چل پھر کر دیکھ لے کہ دنیا کی بڑی بڑی قومیں کفر اور معصیت کے جرم میں کیسی تباہ اور برباد ہوئیں کہ آج صفحہ ہستی پر کہیں ان کا نام ونشان نظر نہیں آتا چناچہ فرماتے ہیں خشکی اور تری میں جنگل اور دریا میں یعنی تمام دنیا میں لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے فساد اور تباہی ظاہر ہوگئی کہیں قحط اور وبا ہے اور بیماری ہے اور کہیں طوفان اور سیلاب ہے ہر طرف لوٹ مار ہے یہ ساری بلائیں لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ظاہر ہو رہی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا کچھ مزہ دنیا ہی میں چکھا دے پوری سزا تو آخرت میں ملے گی شاید وہ سزا کا کچھ مزہ چکھنے سے اپنے کفر اور معصیت سے باز آجائیں یعنی وباؤں اور بلاؤں کو دیکھ کر غفلت سے بیدار ہوں اور شرک اور بداعمالیوں کو چھوڑ دیں اور توحید اور طاعت کی طرف رجوع کریں۔ ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ جس نے زمین میں اللہ کی نافرمانی کی اس نے زمین میں فساد پھیلایا اور جس نے طاعت کی اس نے زمین کو درست کیا۔ اے نبی اگر مشرکین کو اس بارے میں کچھ تردد ہے تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جاؤ اور زمین میں چلو پھرو پھر آنکھیں کھول کر دیکھو کہ پچھلے لوگوں کا کیسا برا انجام ہوا ان ہلاک ہونے والوں میں اکثر مشرک ہی تھے سوائے مخاطب تو اپنا رخ اسی دین راست یعنی توحید اسلام کی طرف کرلے قبل اس کے خدا کی طرف سے وہ دن آئے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا جب وہ دن آئے گا تو لوگ الگ الگ ہوجائیں گے ہر فریق دوسرے فریق سے جدا ہوجائے گا فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر بایں طور کہ جس نے دنیا میں کفر کیا تو اس پر کفر کا وبال ہوگا اور جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں وہ اپنی ہی راحت کا سامان کر رہے ہیں اور قیامت کے دن ہر فریق کا جدا ہونا اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا خیر دے جو اول ایمان لائے اور پھر جنہوں نے نیک کام کئے اس لئے کہ بغیر ایمان کے کوئی عمل خیر معتبر نہیں بالیقین اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا اس لئے کافروں کو جدا کر کے دوزخ میں بھیجے گا وہ فضل کے مستحق نہیں دن رات خدا کی قدرتوں کا اور اس کی نعمتوں کا مشاہدہ کرتا رہا پھر بھی ایمان نہ لایا اور نہ خدا کی نعمتوں کی قدر کی چناچہ فرماتے ہیں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ باران رحمت کی خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں تاکہ تم خوش ہوجاؤ اور تاکہ تم کو اپنی رحمت کا کچھ مزہ چکھائے تاکہ تمہاری کھیتیاں اور باغات سرسبز و شاداب ہوں اور تم ان کا پھل کھاؤ اور تاکہ ان ہواؤں کے ذریعہ کشتیاں اللہ کے حکم سے رواں ہوں اور تم بسہولت سفر کرسکو اور تاکہ تم دریا کا سفر کر کے اللہ کے فضل کی جستجو اور تلاش کرسکو یعنی کشتیوں کے ذریعہ تجارت کرسکو تاکہ سمجھ لو کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا ظہور اسباب کے پردہ میں ہوتا ہے اور تاکہ تم اللہ کی ان نعمتوں کا شکر کرو اور کفر اور معصیت کو چھوڑو اللہ نے تمہارے لئے یہ سامان راحت مہیا کئے تاکہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکر کرو اور ہمارے رسول کی ہدایت کے مطابق ہماری اطاعت کرو اور اے نبی ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا پس وہ رسول اپنی قوموں کے پاس معجزات واضحہ لے کر آئے اور ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا پس بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعض نے کفر اور انکار کیا اور مجرم بنے اور رسول کی اور اہل ایمان کی عداوت اور ایذا رسانی پر تل گئے پس ہم نے مجرمین سے رسول کا اور اہل ایمان کا انتقام لے لیا مجرموں کو ہلاک کیا اور اہل ایمان کی مدد کی اور ہم پر اہل ایمان کی مدد کرنا۔ حسب وعدہ لازم تھا مطلب یہ تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کوئی نئے نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے آپ ﷺ سے پہلے جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) سے سر کشی کی ہم نے ان کو سزا دی ان آیات سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے آپ ﷺ ان کی تکذیب اور عداوت سے رنجیدہ نہ ہوں یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہم حسب سابق آپ کی اور اہل ایمان کی مدد کریں گے اور ان مجرموں سے آپ کا انتقام لیں گے اور اہل ایمان کی نصرت منجملہ آثار رحمت کے ہے اور سب چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اس لئے آئندہ آیات میں پھر اپنے آثار قدرت اور آثار رحمت کو ذکر کرتے ہیں کہ مختلف قسم کی ہوائیں اور مختلف قسم کے بادل اور مختلف قسم کی بارشیں سب اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔
Ayahs 30:48–57

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں جن پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اسکے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اسکے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو تم تو انھیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح وہ (راستہ سے) الٹے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی

ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔ چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے درمیان سے نکلتی ہے اور جہاں جتنی بارش چاہتا ہے اتنی ہی بارش ہوتی ہے پھر جب خدا اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جس کو پہنچاتا ہے تو ناگاہ وہ خوش ہوجاتے ہیں اور ان کو قحط کے دور ہونے کی امید ہوجاتی ہے اور تحقیق وہ اس بارش کے نازل ہونے سے پہلے ناامید تھے بارش کے نازل ہونے سے ان کی نا امیدی امید میں بدل گئی باران رحمت کے نزول کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کا ارادہ اور مشیت ہے اور فلاسفہ جو یہ کہتے ہیں کہ سمندر سے بخارات بذریعہ ہوا بلند ہو کر سحاب بن کر برستے ہیں اگر یہ امر کسی دلیل قطعی سے ثابت بھی ہوجائے تو یہ محض ایک ظاہری سبب ہے اور ظنی ہے قطعی نہیں یہ سب چیزیں اللہ کے فضل کے ظہور کے اسباب ہیں بالذات موثر نہیں ان میں سے بندہ کے اختیار میں کوئی چیز نہیں لہٰذا چاہئے کہ خدا کی قدرت کاملہ پر نظر رکھیں اور اسی پر اعتماد کریں بندوں کا کبھی خوش ہونا اور کبھی رنجیدہ ہونا یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کی نظر اسباب ظاہری پر ہے اللہ کی قدرت کاملہ پر نظر نہیں اور اس کی رحمت پر اعتماد نہیں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ خبطہ جمعہ پڑھ رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ قحط کی وجہ سے اہل و عیال بھوکے ہیں آپ ﷺ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر باران رحمت نازل فرمائے آپ ﷺ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی حضرت انس ؓ کہتے ہیں واللہ اس وقت سوائے آفتاب کی تمازت کے آسمان پر ابر کا نام ونشان نہ تھا ادھر آنحضرت ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا فرمائی کہ یکایک کوہ سلع کی طرف سے ابر کا ایک ٹکڑ نمودار ہوا اور پھیل کر آسمان کو محیط ہوگیا اور بارش شروع ہوگئی اور نماز سے فارغ ہو کر اسی بارش میں ہم اپنے گھروں کو واپس ہوئے اسی طرح وہ پانی آٹھ روز تک مسلسل برستا رہا یہاں تک کہ دوسرے جمعہ میں وہی شخص یا کوئی دوسرا شخص اثنا خطبہ کھڑا ہوا جس نے پہلے جمع کو بارش کی التجاء کی تھی اس نے یا کسی اور شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کثرت بارش سے راستے بند ہوگئے اور مکانات منہدم ہوگئے آپ ﷺ نے پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اللہم حوالینا ولا علینا اے اللہ ہمارے اردگرد پہاڑوں اور ٹیلوں پر بارش ہو اور ہم پر نہ ہو اسی وقت بادل کھل گیا اور بارش بند ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ یہ اسباب ظاہری جن کے فلاسفہ مدعی ہیں اگر ثابت ہوجائیں تو کوئی مستقل اور قطعی چیز نہیں اصل سبب اللہ کی قدرت اور اس کا ارادہ اور مشیت ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ اسباب ظاہری جن کے فلاسفہ مدعی ہیں اگر ثابت ہوجائیں تو کوئی مستقل اور قطعی چیز نہیں اصل سبب اللہ کی قدرت اور اس کا ارادہ اور مشیت ہے۔ پس اے ظاہر بین اللہ تعالیٰ کے آثار رحمت کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ وہ خدا کس طرح زمین کو مردگی اور افسردگی کے بعد زندہ کردیتا ہے تحقیق جو ذات پاک زمین کو مردگی کے بعد زندہ کرتی ہے وہی ذات قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی اور وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اس کی قدرت تمام مخلوقات کے ساتھ یکساں ہے اور بارش کا بہرہ مند اور سود مند ہونا اس کی طبیعت کا ذاتی اقتضا نہیں بلکہ ہماری مشیت کے تابع ہے اس لئے کہ اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں جو کھیتوں کو ہلاک کرنے والی ہو تو یہ اپنے کھیتوں کو زرد دیکھیں کہ وہ کھیتی خشک ہوجائے اور اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے والے ہوجائیں اور کیا کیا باتیں منہ سے بکنے لگیں غرض یہ کہ اللہ کی قدرت طرح طرح کے رنگ دکھاتی ہے کبھی مبشر ات کے رنگ میں اور کبھی آفات کے رنگ میں پس اے نبی جس شخص نے ان واضح آیت قدرت اور صریح آثار رحمت کا انکار کیا اور مردہ زمین کے زندہ ہونے کا انکار کیا تو ایسا شخص خود مردہ ہے آپ ﷺ اس کے انکار سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہو جیے تحقیق آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز اور پکار سنا سکتے ہیں خاص کر جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں ” بہرا “ اول تو کسی کی پکار نہیں سنتا اور اس پر مزید یہ کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو ایسی حالت میں اس کا سننا اور بھی ناممکن ہوجاتا ہے اس لئے کہ اگر بہرے کا منہ پکارنے والے کی طرف ہو تو ممکن ہے کہ لب ودہان کی سیر کی حرکت سے یا ہاتھ کے اشارہ سے کچھ سمجھ لے لیکن جب بہرے نے بات کرنے والے کی طرف پشت کردی تو اس سے بھی محروم ہوگیا اے نبی آپ ﷺ میں یہ قدرت نہیں کہ آپ ان اندھوں کو راہ دکھا سکیں اور ان کی گمراہی سے ان کو ہٹا سکیں پس اگر ایسے مردے اور اندھے اور بہرے ان آیات قدرت پر ایمان نہ لائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں آپ ان ہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری نشانیوں پر یقین رکھتے ہیں اور پھر وہ ہمارے مطیع اور فرمانبردار ہیں یعنی جن لوگوں کے دل زندہ ہیں وہ ہماری باتوں کو سنتے اور مانتے ہیں۔ : اس آیت میں۔ ” الموتی “ سے کفار مراد ہیں مردہ دل ہونے کی وجہ سے ان پر موتی کا اطلاق کردیا گیا یعنی جن کے دل مردہ ہوچکے ان پر کلام ہدایت کچھ اثر نہیں کرتا باقی سماع موتی کی تحقیق سورة نمل کے آخری رکوع میں گذر چکی ہے سماع موتی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔ : ظاہر اسباب میں مردہ کا سنانا محال ہے اور بہرے اور اندھے کا سنانا کسی درجہ میں ممکن ہے اشارہ اس طرف ہے کہ بعض کافر تو بالکل مردہ ہوچکے ہیں اور بعضے بمنزلہ اندھے اور بہرے کے ہیں اگر توجہ کریں تو ممکن ہے کہ راہ راست پر آجائیں یہ لوگ اگر اپنے جسمانی اور بدنی تغیرات اور انقلاب میں غور کریں تو وحدانیت کے بھی قائل ہوجائیں اور حشر ونشر کے بھی قائل ہوجائیں آئندہ آیت میں یہی مضمون ہے خداوند مطلق اور معبود برحق وہ ہے جس نے تم کو ناتوانی اور کمزوری سے پیدا کیا نطفہ سے لے کر بچپن تک زمانہ کمزوری کا ہے پھر کمزوری کے بعد اللہ نے تم کو قوت دی یعنی جوانی دی پھر قوت اور توانائی کے بعد تم کو کمزوری اور بڑھاپا دیا جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کبھی کمزوری اور کبھی توانائی کبھی تندرستی اور کبھی بیماری اسی طرح قوت اور ضعف کے بیابانوں میں تمہیں پلٹیاں دے رہا ہے اور وہ علم والا اور قدرت والا ہے ضعف اور قوت کی پلٹیاں دے کر تمہیں اپنی قدرت اور تمہاری لاچارگی کا تماشا دکھا رہا ہے اور علیم وقدیر وہ ہے کہ جو صفتوں اور کیفیتوں کے بدلنے پر قادر ہو یہ مشرکین اور منکرین قیامت اگر اپنے جسمانی تغیرات میں ذرا غور کریں تو وحدانیت کے بھی قائل ہوجائیں اور قیامت کے بھی قائل ہوجائیں۔ یہ تو کافروں کی دنیاوی حماقت اور جہالت کا بیان تھا کہ دنیا میں کفر اور شرک کیا اور انبیا (علیہم السلام) کی دعوت کو رد کیا اب آئندہ آیت میں ان کی اخروی جہالت اور حماقت کو بیان کرتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرمین قسم کھائیں گے کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے اسی طرح دنیا میں جھوٹ بولا کرتے تھے یعنی انہوں نے اس وقت جھوٹ بولا جس طرح کہ اس سے پہلے دنیا میں جھوٹ بولا کرتے تھے عالم آخرت میں پہنچنے کے بعد دنیا یا برزخ کا رہنا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا کہ دنیا میں ایک ساعت رہے آخرت کی عقوبات اور آفات دیکھنے کے بعد دنیا خواب و خیال ہوجائے گی اور جن کو علم اور ایمان دیا گیا وہ ان مجرمین سے کہیں گے تم جھوٹ بولتے ہو۔ البتہ تحقیق تم دنیا میں اللہ کے کہنے کے مطابق قیامت تک ٹھہرے ہو پس یہی وہ جی اٹھنے کا دن ہے جس کا پہلے تم انکار کیا کرتے تھے لیکن اب اس کا انکار ناممکن ہے اس لئے کہ وہ دن اب تمہارے سامنے آگیا اور مشاہدہ کے بعد انکار محال ہے لیکن تم تو پہلے ہی جاہل نادان تھے ایسی واہی تباہی باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ پس آج کے دن ان ظالموں کو ان کی معذرت یعنی عذر خواہی کوئی نفع نہ دے گی تاکہ عذر کریں کوئی عذر ان کو فائدہ نہ دے گا اور ان کو خدا کی رضا جوئی کا کوئی موقعہ نہ دیا جائے گا بلکہ صرف جزا اور سزا کا دن ہوگا اس دن نہ کسی کا کوئی عذر مقبول ہوگا اور نہ توبہ وغیرہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ملے گا وہ اگر توبہ کریں اور آئندہ کے لئے ایمان اور طاعت کا وعدہ کریں اور یہ درخواست کریں کہ ہم کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو یہ درخواست قبول نہ ہوگی۔ کما قال تعالیٰ وان یستعبوا فماہم من المعتبین۔
Ayahs 30:58–60

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

خاتمہ سورت بر اعجاز قرآن قال اللہ تعالیٰ ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یستخفنک الذین لا یؤقنون۔ (ربط) سورت کا آغاز ایک دلیل نبوت سے فرمایا اب اس سورت کو پھر ایک دلیل نبوت پر ختم کرتے ہیں کہ یہ قرآن عجیب و غریب کتاب حکمت اور دستور ہدایت ہے اس کی خوبی پر نظر کرو تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ آسمانی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے جو قیامت تک باقی رہے گی انبیا سابقین کے معجزات ختم ہوگئے مگر قرآن ایسا معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا اور ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان مشرکین کے عناد اور جہالت پر صبر کیجئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو فتح ونصرت کا وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اپنے وقت پر ظاہر ہوگا چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے اتمام حجت کے لئے لوگوں کے واسطے اس قرآن میں جابجا ہر قسم کی مثال بیان کردی جس سے حق اور باطل کا فرق واضح ہوجائے اور غافلوں تنبیہ ہوجائے یہ قرآن ان کی ہدایت کے لئے کافی تھا مگر غایت عناد کی وجہ سے اس حجت واضحہ کو قبول نہ کیا اور اے نبی اگر آپ ان کے پاس کیسی ہی واضح اور روشن نشانی لے کر آئیں تو یہ کافر غایت عناد اور عداوت اور سرکشی کے باعث یہی کہیں گے کہ نہیں ہو تم یعنی پیغمبر اور اہل ایمان مگر بےہودہ گو اور جھوٹے دیکھ لو کہ اسی طرح اللہ مہر لگاتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے اور بےعقلی اور بدعقلی سے انکار کرتے ہیں جن لوگوں کے دلوں پر خدا مہر لگا دیتا ہے وہ ایسے ہوجاتے ہیں پس اے نبی ان معاندین کی ایذارسانی پر صبر کیجئے بیشک اللہ نے اظہار دین کا جو وعدہ آپ سے کیا ہے وہ حق ہے اللہ اپنے وعدہ ضرور پورا کرے گا اور جو لوگ خدا کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے چاہئے کہ وہ آپ کو یقین اور اذعان سے جنبش نہ سکیں اللہ نے آپ ﷺ سے جو وعدہ کیا ہے وہ بالکل حق اور درست ہے یقیناً ضرور پورا ہوگا مبادا یہ بےیقین لوگ آپ ﷺ کو گھبراہٹ میں ڈال دیں اور آپ ﷺ کو ہلکا بنا دیں آپ بالکل مطمئن رہیں مبادا یہ بےیقین آپ کو اضطراب میں نہ ڈال دیں۔ الحمد للہ آج بروز یکشنبہ بوقت 4 بجے دن کے بتاریخ 16 رجب الحرام 1392 ھج سورة روم کی تفسیر سے فراغت ہوئی اے اللہ اپنی رحمت سے اس کو قبول فرما اور تفسیر کے اتمام کی توفیق عطا فرما۔ امین یا رب العالمین الحمد للہ الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھدانا اللہ و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین۔