29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 29:1–13

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ (صرف) یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئیے جائیں گے اور انکی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ جو یہ خیال کرتے ہیں برا ہے

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جو شخص خدا کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیو تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے ہو میں تم کو بتلاؤں گا

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں ؟

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کر کے رہے گا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور یہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی

تنبیہ اہل ایمان برحکمت اہل شدائد وآفات زمان کہ آں تمیز مخلص ومنافق است وتشجیع اہل ہدایت بر صبرواستقامت وتشنیع اہل ضلالت وغوایت قال اللہ تعالیٰ الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا۔۔۔ الی۔۔۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون۔ (شان نزول) ایک دن آنحضرت ﷺ کعبہ کی دیوار سے تکیہ لگائے سایہ میں بیٹھے تھے تو بعض صحابہ نے مشرکین کی شکایت کی کہ وہ ہمیں طرح طرح سے ایذائیں پہنچا رہے ہیں آپ ﷺ ہمارے لئے دعا کریں کہ کافروں کا یہ ظلم وستم ہم سے ٹل جائے یہ سن کر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے گزشتہ دینداروں کے سر آروں سے چیرے گئے اور ان کے دو ٹکڑے کئے گئے مگر وہ اپنے دین سے نہیں ہٹے اور بعضوں کے سروں میں لوہے کے کنگھے کئے گئے کہ گوشت چیر کر ہڈیوں تک پہنچ گئے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہیں پھرے اور قسم ہے خدا کی یہ دین اسلام مکمل اور پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ سوا صفاء سے لے کر حضرموت تک امن وامان کے ساتھ چلا جائے گا اور اسے کوئی اندیشہ اور خطرہ نہ ہوگا لیکن تم جلدی کرتے ہو۔ (رواہ البخاری عن خباب بن الارت ؓ مطلب یہ ہے کہ عجلت نہ کرو۔ صبر اور استقامت سے کام لو اور اللہ کے وعدہ کا انتظار کرو اور کافروں کی طرف سے جو تم کو ایذائیں پہنچ رہی ہیں وہ من جانب اللہ آزمائش اور امتحان ہیں تاکہ مخلص اور منافق کا فرق ظاہر ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں۔ الم اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں گزرا۔ خرد عاجز وفہم دروے گم است بعض مسلمان جب کافروں کی ایذاؤں سے گھبرائے اور آنحضرت ﷺ سے مشرکین کی شکایت کی تو اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم محض آمنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے اور ان کا کوئی امتحان نہ ہوگا یعنی کچھ لوگوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ محض زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم مومن ہیں فقط یہ کہہ دینا ان کے لئے کافی ہوگا۔ اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا اور بلاؤں اور مصیبتوں سے ان کی کوئی آزمائش نہ ہوگی جس سے ان کے دعوائے ایمان کی حقیقت کھل جائے اور دل کا نفاق اور اخلاص ظاہر ہوجائے یہ گمان صحیح نہیں ضرور ان کا امتحان ہوگا۔ عاشقاں را درد دل بسیار می باید کشید جو ریار وقصہء اغیار می باید کشید اور امتحان تین طرح سے ہوگا۔ (1) احکام خداوندی کی پابندی سے۔ (2) مصائب وامراض سے۔ (3) کافروں کی ایذا رسانیوں اور تکلیفوں سے۔ اور البتہ تحقیق ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو بھی مصیبتوں اور بلاؤں سے آزمایا ہے اور ان کے دعوائے ایمان کا امتحان لیا ہے پس اس آزمائش اور امتحان سے اللہ ظاہر کردیتا ہے ان لوگوں کو جو دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور ظاہر کردیتا ہے جھوٹے دعوے کرنے والوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان لوگوں کی غلطی پر متنبہ کیا جنہوں نے یہ گمان کرلیا کہ صرف ایمان واسلام کا دعویٰ کافی ہے لیکن یہ خیال غلط ہے دعوائے ایمان واسلام کے ساتھ ابتلاء اور امتحان بھی ضروری ہے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ اگر ابتلا نہ ہوتا تو جھوٹے اور سچے سب برابر ہوجاتے کسی کے دل کا حال کسی کو کیا معلوم ہوتا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ سنگ وسیم دونوں ایک بھاؤ بکتے غرض یہ کہ امتحان اور ابتلا سچ اور جھوٹ کے ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ علم خداوندی اور تقدیر الٰہی میں تو پہلے ہی سے دونوں فریق متمیز ہیں اور اللہ کو پہلے ہی معلوم تھا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ مگر دنیا کو معلوم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا مقصود اس امتحان سے اپنے علم ازلی کو ظاہر کرنا ہے کہ دنیا بھی دیکھ لے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے پس جس طرح امتحان دنیا میں کھرا کھوٹا ظاہر کرنے کے لئے ہے اسی طرح دعوائے ایمان میں امتحان صادق اور منافق کے صدق اور کذب ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ ایمان (ف 1) کے معنی دعوائے محبت کے ہیں کما قال اللہ تعالیٰ والذین امنوا اشد حبا للہ پس آمنا کہنا در پردہ احببنا اور عشقنا کہنے کے مترادف ہے اور دعوائے محبت کے لئے امتحان لازم ہے۔ در محبت ہر کہ اودعویٰ کند صد ہزار امتحان بروے تند گربود صادق کشد بار جفا در بود کاذب گریزد از بلا حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ شعبی (رح) سے روایت ہے کہ یہ آیت ان مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی جو مکہ میں گھر ہوئے تھے اور بخوف کفار ہجرت نہیں کرسکتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو اصحاب کرام ؓ نے انہیں لکھا کہ تمہارا اسلام مقبول نہیں ہوسکتا۔ جب تک تم ہجرت نہ کرو چناچہ انہوں نے ہجرت کی مگر کفار ان کو واپس لے گئے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ الم احسب الناس ان یترکوا الخ صحابہ کرام ؓ نے انہیں کہا بھیجا کہ تمہارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تو وہ اب ہجرت کے لئے نکلے اور کفار نے ان کا پیچھا کیا باوجود مقابلہ کرنے کے کچھ مسلمان مارے گئے اور کچھ بچ کر مدینہ پہنچے تو پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاھدوا وصبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم۔ (ازالۃ الخفا) اس تفسیر کی بنا پر یہ آیت مدنی ہوگی جیسا کہ ابن عباس ؓ کا ایک قول ہے کہ یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی۔ (واللہ اعلم) یہ تو مسلمانوں کی تسلی کے لئے شدائد اور مصائب کی حکمت بیان کی اب آگے ان کافروں کو تہدید فرماتے ہیں جو مسلمانوں کو ایذائیں اور تکلیفیں پہنچاتے تھے چناچہ فرماتے ہیں کیا وہ لوگ برائیاں کرتے ہیں جیسے کفر اور گناہ اور اہل اسلام کو ستانا اور ایذا پہنچانا اس گمان اور خیال میں ہیں کہ وہ ہماری گرفت سے چھوٹ جائیں گے اور بچ نکلیں گے سو ان کا یہ حکم لگانا بہت ہی برا ہے اور بالکل غلط ہے ہم عنقریب اپنے نبی کی مدد کریں گے اور سرکشوں کا سر توڑ ڈالیں گے۔ چناچہ چند روز بعد ایسا ہی ہوا۔ خدا کی مہلت سے یہ سمجھ لینا کہ آئندہ چل کر عذاب نہ ہوگا یہ غلط خیال ہے دنیا کی حکومت بھی اپنے مجرم کو فورا نہیں پکڑتی بلکہ کچھ مہلت دیتی ہے دنیاوی حکومت کی گرفت سے تو انسان چھوٹ بھی سکتا ہے مگر خدا کی گرفت سے کون چھوٹ سکتا ہے لہٰذا ان سرکشوں کا یہ خیال کہ اگرچہ ہم کتنی ہی نافرمانی کرتے رہیں ہم پر اللہ کا عذاب نازل نہ ہوگا یہ غلط حکم ہے جو عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے یہ تو تکلیف دینے والوں کو تنبیہ اور تہدید تھی اب آئندہ ان تکالیف کے برداشت کرنے والوں کی طرف روئے سخن کر کے فرماتے ہیں جس شخص کو خدا سے ملنے کا اشتیاق اور امید ہو یا جس کو خدا سے ملنے کا خوف ہو یعنی اس کو ڈر ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیشی ہوگی اور اس کے رو برو کھڑا ہونا ہوگا تو اس شخص کو دشمنوں کی ایذا رسانی سے مغموم اور پریشان نہ ہونا چاہئے بلکہ اس کو آخرت کی فکر کرنی چاہئے جس دن اس کی امید پوری ہوجائے گی اس لئے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے جس میں اس کی امید پوری ہوجائے گی اور خدا کی راہ میں سختیاں اٹھانے کا صلہ اس کو مل جائے گا اور اس کے سارے غم غلط ہوجائیں گے کما قال اللہ تعالیٰ وقالوا الحمد لللہ الذی اذھب عنا الحزن۔ اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے اس سے بندوں کا کوئی قول اور فعل مخفی نہیں۔ 1 کذا فی استمرار التوبہ ص 41 وعظ پنجم از سلسلہ البلاغ۔ فائدہ : جاننا چاہئے کہ یرجوا کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ایک امید اور دوسرے خوف۔ اس لئے تفسیر میں امید یا خوف کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اور فان اجل اللہ لات۔ اگرچہ بظاہر جزا معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت جزا محذوف کی علت ہے اور اصل کلام اس طرح سے ہے۔ من کان یرجوا لقاء اللہ فلیتھیا لہ ولیستعد لہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس کو خدا سے ملنے کا اشتیاق ہو اس کو آخرت کی تیاری کرنی چاہئے اور اس طرح جس کو خدا کا خوف ہو اس کو بھی تیاری لازم ہے امید ہو یا خوف ہر ایک کا مقتضی یہ ہے کہ آخرت کی تیاری کی جائے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سوچا کرے کہ خدا سے ملنے کا وقت ضرور آنے والا ہے اور جنت اور جہنم کے احوال کو دل سے سوچے اس سے طاعت میں رغبت اور معصیت سے نفرت پیدا ہوگی اور جوں جوں آخرت اور نعمائے آخرت کی رغبت بڑھے گی اسی قدر طاعت میں سستی اور غفلت اور کاہلی کم ہوتی جائے گی اسی وجہ سے حق تعالیٰ شانہ نے حضور ﷺ کی دو شانیں بیان فرمائی ہیں۔ مبشرا ونذیرا۔ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے یعنی بندوں میں رغبت اور خوف پیدا کرنے والے۔ خوف سے معصیت کا تقاضا دور ہوگا اور بشارت دینے سے طاعات میں سستی اور کاہلی دور ہوگی ملحض از رجاء اللقا وعظ نمبر 23 از سلسلہ تبلیغ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ابتلا اور تکلیف شرعی کی حکمت بیان کی اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ اس ابتلا اور تکلیف سے خدا کو خود کوئی فائدہ نہیں وہ تو اسے غنی ہے فائدہ خود بندہ کا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص اللہ کے کام میں محنت اور مشقت اٹھادے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے مشقت اور محنت اٹھاتا ہے ورنہ حق تعالیٰ تو بلاشبہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے وہ کسی مخلوق کی طاعت کا محتاج نہیں بندوں کو جو اعمال صالحہ کا حکم دیتا ہے وہ انہیں کے نفع کے لئے دیتا ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کئے ہیں ہم ان کی برائیوں کو دور کردیں گے ایمان اور عمل صالح سے سیہء کا اثر نسیا منسیا ہوجاتا ہے اور البتہ تحقیق ہم ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کریں گے جو ان کے عمل سے کہیں زیادہ بہتر ہوگی ایک کے بدلہ میں دس سے لے کر سات سو گنا تک دیں گے اس لئے اہل ایمان کو چاہئے کہ کافروں کی ایذا رسانی سے گھبرائیں نہیں اور دین اسلام پر قائم اور مستقیم رہیں حتی کہ اگر ان کے والدین بھی کفر اور شرک پر مجبور کریں۔ چناچہ آئندہ آیت میں اس بارے میں ہدایت فرماتے ہیں کہ والدین کے ساتھ سلوک اور احسان ضروری ہے اگرچہ وہ کافر ہوں مگر کفر اور معصیت میں ان کی اطاعت جائز نہیں بیشک دنیا میں ماں باپ سے زیادہ حق کسی کا حق نہیں مگر اللہ کا حق ان سے بھی زیادہ ہے ماں باپ کی خاطر خدا کو نہ چھوڑے۔ سعد بن ابی وقاص ؓ کے اسلام پر ان کی والدہ کا مقاطعہء جوعی (یعنی بھوک ہڑتال) سعد بن ابی وقاص ؓ جب اسلام لے آئے تو ان کی والدہ جو مشرکہ تھیں ان کو اس کی خبر پہنچی کہ ان کا بیٹا ” صابی “ ہوگیا ہے تو انہوں نے قسم کھائی کہ مجھ پر کھانا اور پینا اور چھت کے نیچے بیٹھنا حرام ہے جب تک سعد محمد ﷺ کا انکار نہ کرے اور اس کے دین سے علیحدہ اور بیزار نہ ہوجائے اس طرح ان کی ماں پر تین دن گزر گئے تب حضرت سعد ؓ نے ماں سے کہا کہ اے ماں اگر تو سو بار مرے اور زندہ ہو تو میں دین اسلام کو نہیں چھوڑوں گا۔ سعد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض حال کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہم نے انسان کو بحق تربیت والدین کے ساتھ عظیم احسان کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے اگرچہ والدین کافر اور مشرک ہوں جب تک کہ والدین کفر اور شرک اور اللہ کی معصیت کا حکم نہ دیں تو اللہ کے حق سے بڑھ کر کسی کا حق نہیں اور اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کسی کی اطاعت نہیں۔ ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ والدین کے ساتھ نیکی کرو اور اگر والدین تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی خبر اور دلیل نہیں تو تو ان کا کہنا نہ ماننا خالق کے مقابلہ میں مخلوق کی فرمانبرداری درست نہیں خوب سمجھ لو کہ تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے پس جزا دینے کے وقت تم کو آگاہ کر دوں گا جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے اور ایک ایک کر کے تمہارے اعمال تم کو جتا دوں گا خویش و اقارب کی پاسداری کا خیال نہ کرو ہمارے سامنے کی حاضری اور پیشی کو پیش نظر رکھو۔ بالآخر تم کو ہمارے ہی پاس آنا ہے اور ہمارے رو برو پیش ہونا ہے اور یہ نہ سمجھنا کہ اس وقت ہم تم سے دور اور غائب ہیں اور تمہارے خویش و اقارب تمہارے سامنے حاضر ہیں اور تم کو چاہئے کہ ہمارے اس قانون اور ضابطہ کو یاد رکھو کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور اللہ کے مقابلہ میں کسی کی اطاعت نہیں کی اور مرتے دم تک اسی پر قائم رہے تو ہم ان کو ضرور بالضرور صالحین کے زمرہ میں داخل اور شامل کریں گے ایمان اور عمل صالح کی برکت سے ان کے گناہ معاف ہوں گے اور ان کے ساتھ صالحین جیسا معاملہ ہوگا اور بعضے لوگ جو منافق اور ضعیف الایمان ہیں اور زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں پس ان کا حال یہ ہے کہ جب ان کو ایمان اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے راہ خدا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لوگوں کی اس ایذاء کو وہ اللہ کے عذاب کی مانند عظیم سمجھتا ہے اور اس فتنہ سے ڈر کر جو درحقیقت کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ایمان سے منہ موڑنے لگتا ہے اور لوگوں کی معمولی تکلیف کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھنے لگتا ہے منافق کا عجب حال ہے زبان سے تو اسلام کا دم بھرتا ہے مگر دل اس کا ہر دنیاوی مال ومنال کے گرد گھومتا رہتا ہے جدھر کوئی فائدہ نظر آتا ہے ادھر جھک جاتا ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ اے نبی اگر کسی وقت تیرے پروردگار کی طرف سے جہاد میں تجھے فتح ونصرت اور غنیمت آجائے تو یہ منافق لوگ اس وقت مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ تحقیق ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کلمہ گو ہیں اور مسلمان بھائی ہیں ہم کو بھی غنیمت میں شریک کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ خوب نہیں جانتا جو جہان والوں کے سینوں میں اخلاص اور نفاق چھپا ہوا ہے اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے واقعات سے مومنین کے اخلاص کو اور منافقین کے نفاق کو ظاہر کرتا رہتا ہے تاکہ ظاہری طور پر مخلص اور منافق کا امتیاز ہوجائے اللہ کو تو پہلے ہی سے معلوم تھا لیکن اس قسم کے امتحانات سے دنیا کو بھی منافق اور مخلص کا علم ہوجاتا ہے۔ ان آیات میں کفار مذبذبین اور منافقین اور ضیعف الایمان لوگوں کے فتنہ کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں ان پختہ کافروں کے فتنہ کا ذکر ہے کہ وہ کس طرح مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور بڑے پکے کافر نہایت ڈھٹائی سے اور بےباکی سے مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ کی پیروی کرو اور باپ دادا کے طریقہ پر رہو اور آخرت کی فکر نہ کرو جنت اور دوزخ کوئی چیز نہیں۔ بالفرض اگر قیامت ہوئی تو ہم تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ تم بےفکر رہو تمہارے کفر اور شرک اور معصیت کے ہم ذمہ دار ہیں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دعویٰ تو ان لوگوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن ہم تمہارے بوجھ اٹھالیں گے۔ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں سے کچھ بھی اٹھانے والے نہیں کسی میں یہ قدرت نہیں کہ وہ کسی کا گناہ اٹھا سکے۔ اور یہ لوگ قطعا جھوٹے ہیں محض ڈھٹائی اور بےباکی سے ایسی باتیں بناتے ہیں اور بلکہ اس کے برعکس ہوگا کہ یہ کفار قیامت کے دن اپنا بوجھ بھی اٹھا دیں گے اور اپنے بھاری بوجھوں کے ساتھ دوسرے بوجھ بھی اٹھا کر لادیں گے یعنی جن لوگوں کو انہوں نے گمراہ کیا تھا ان کے گناہوں کا بوجھ بھی ان کے سر پر لدا ہوا ہوگا۔ یعنی یہ لوگ دوسروں کو کیا سبکدوش کرسکتے ہیں ان کو تو دوہرا بوجھ اٹھانا پڑے گا اور قیامت کے دن تابع اور متبوع سب سے باز پرس ہوگی اس چیز کے متعلق جو باطل باتیں افترا کرتے تھے جس کے سبب مخلوق گمراہ ہوتی تھی اور پھر ان کو حسب جرم سزا دی جائے گی اب آئندہ آیات میں انبیاء سابقین کے ابتلا اور ان کے منکرین کے عبرتناک عذابوں کا ذکر کرتے ہیں۔
Ayahs 29:14–15

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

قصہء اول نوح (علیہ السلام) باقوم قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وجعلنھا ایۃ للعلمین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ابتلا اور آزمائش کا ذکر تھا اب اسی سلسلہ میں انبیا سابقین کے ابتلا کے واقعات ذکر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کے ابتلا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو تقریبا ایک ہزار سال تک ممتد رہا اتنا طویل ابتلا اور اتنا طویل صبر سوائے نوح (علیہ السلام) کے کسی نبی کو پیش نہیں آیا۔ اور باوجود اس قدر طویل و عریض اور شدید ومدیدابتلا کے دعوت وتبلیغ میں سست نہیں پڑے جب کافروں کی سرکشی حد سے گزر گئی تو بحکم خداوندی مع اپنے اصحاب کے ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ بعد میں طوفان آیا سب ہلاک ہوگئے اور نوح (علیہ السلام) اور ان کے صحابہ غرقابی سے بچ گئے اور نوح (علیہ السلام) کا کشتی پر سوار ہونا یہ بھی ایک قسم کی ہجرت تھی اور ہجرت بھی ایک قسم کا ابتلا ہے اس قصہ کے ذکر سے آنحضرت ﷺ کی اور مہاجرین کی تسلی مقصود ہے کہ آپ ﷺ کافروں کی ایذا رسانی سے دلگیر نہ ہوں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار سال تک ٹھہرے اور ان کو توحید کی طرف بلاتے رہے اور کفر اور شرک سے منع کرتے رہے مگر وہ کسی طرح راہ پر نہ آئے پس جب اس طویل و عریض فہمائش کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو طوفان نے ان کو آپکڑا اور وہ بڑے ہی ظالم تھے کہ کفروشرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور نوح (علیہ السلام) نے جب ان کو سمجھایا تو ان کو مجنون کہا اور جھڑکا اور مارا پس ہم نے نوح کو اور یاران کشتی کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے طوفان سے نجات دی اس لئے کہ یاران کشتی اس ظاہری سفینہ پر سوار ہونے سے پہلے سفینہ نجات یعنی ایمان اور عمل صالح کی کشتی پر سوار ہوچکے تھے اور ہم نے اس واقعہ کو اہل عالم کے لئے نشان عبرت بنایا کہ دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ حق کی مخالفت کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور عبرت پکڑیں یعنی دنیا فانی پر ایسے فریفتہ نہ ہوں کہ کسی ہادی کی نصیحت نہ سنیں بالآخر موت میں مبتلا ہو کر سب کو چھوڑ جائیں۔ فائدہ : عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی مدت میں نبوت ملی اور ساڑھے نو سو برس ان کو خدا کی طرف بلاتے رہے پھر طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے (اخرجہ ابن ابی شیبۃ والحاکم وصححہ) روح المعانی ص 123 ج 20۔ اس حساب سے نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت آئے تو یہ کہا کہ پیغمبروں میں سب سے دراز عمر آپ نے پائی آپ نے دنیا کو کیسا پایا تو کہا جیسے ایک شخص اس مکان میں داخل ہوا جس کے دور دروازے تھے ایک دروازہ سے داخل ہوا اور تھوڑی دیر ٹھہر کر دوسرے دروازہ سے نکل گیا۔ اخرجہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الدنیا عن انس ؓ روح المعانی ص 123 ج 20۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ سورة ہود میں مفصل گزر چکاہے
Ayahs 29:16–27

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جاؤ گے

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اسکو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے یہ خدا کو آسان ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

کہہ دا کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا پھر خدا ہی پچھلی پیدائش کرے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم (اسکو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو انکی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر خدا نے ان کو آگ (کی سوزش) سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور (ابراہیم) نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کردو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کردی اور انکو دنیا میں بھی اس کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔ یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی مذہب رکھتے تھے یعنی عناصر اور کواکب اور روحانیات کی مورتیں بنا کر ان کو پوجتے تھے اور ان کو دنیاوی سامان حیات کا مالک اور متصرف جانتے تھے اور آخرت کے منکر تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اولا دلائل اور براہین سے توحید کو سمجھایا اور خالص اللہ کی عبادت اور تقویٰ کا ان کو حکم دیا اور چونکہ یہ لوگ آخرت اور حشر ونشر کے بالکل منکر تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مسئلہ بھی ان کو دلیل سے سمجھایا اور اولم یروا کیف یبدیء اللہ الخلق ثم یعیدہ سے مبدا ومعاد اور حشر ونشر کے مسئلہ کو واضح فرمایا کہ جو چیز خود بخود وجود میں نہیں آسکتی وہ خود بخود باقی نہیں رہ سکتی ہر حادث کے لئے فنا ضروری ہے اور ہر حادث کا وجود دو عدموں کے درمیان میں گھرا ہوا ہے ایک عدم سابق اور ایک عدم لاحق۔ انسان کا اور حیوان کا اور شجر وحجر کا ہر لمحہ تغیر وتبدل اس کے حدوث کی دلیل ہے اور آنے والی گھڑی فناء کی گھنٹی ہے عالم کے تغیرات اور انقلابات بزبان حال اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہم وجود کی پتلیاں ہیں کوئی پوشیدہ دست قدرت ہم کو اپنی انگلیوں پر نچا رہا ہے اور ہمارا تماشہ دکھلا رہا ہے بڑا ہی نادان ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ان پتلوں کا مادہ اور ایتھر ہی ان کو نچا رہا ہے اور دنیا کو ان کا تماشہ دکھا رہا ہے۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نوح (علیہ السلام) کے ابتلا کا اور ان کی قوم کے غرق ہونے کا ذکر فرمایا اب ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ذکر فرماتے ہیں کہ پہلا ابتلاء ابتلاء غرق تھا اور یہ ابتلا حرق ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو ابراہیم (علیہ السلام) کو جن کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کا امتحان کیا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا جو بابل کے رہنے والے تھے اے قوم ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے قہر اور عذاب سے ڈرو۔ حق جل شانہ کی اطاعت اور عبادت اور تقویٰ اور پرہیزگاری ہی سفینہ نجات ہے اللہ کی عبادت کرو اور دریائے قہر کی غرقابی سے ڈرو۔ عبادت اور تقویٰ کی کشتی میں سوار ہو کر ہی غرقابی سے بچ سکتے ہو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں کچھ علم اور فہم ہے جس کے ذریعہ تم خیر وشر اور نفع اور ضرر کو سمجھ سکو لیکن تم علم اور عقل سے عاری نظر آتے ہو اس لئے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پرستش کرتے ہو جن کی دونیت یعنی حقارت تمہارے سامنے ہے کہ تم نے ان کو بسولوں سے تراش کر بنایا ہے اور ظاہر ہے کہ خود تراشیدہ چیز اول تو غایت درجہ حقیر ہے اور پھر یہ کہ وہ تراشیدہ چیز اپنے تراشنے والے کے سامنے بالکل بےبس اور عاجز ہے اور اپنی تراشیدہ چیز کو اپنا معبود بنانا غایت درجہ کی حماقت ہے اور درحقیقت تم جھوٹ بناتے ہو کہ اپنی تراشیدہ چیز کا نام خدا رکھ لیا اور ان سے رزق مانگنا شروع کردیا۔ تحقیق جن کو تم سوائے خدا کے معبود بنائے ہوئے ہو اور ان سے تم رزق مانگتے ہو وہ تمہیں رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے جو خود کسی چیز کا مالک نہ ہو وہ دوسرے کو کیا دے دے گا پس رزق اللہ کے پاس سے طلب کرو جو آسمان اور زمین کے خزانوں کا مالک ہے اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو جس نے تم کو یہ نعمتیں عطا کیں مطلب یہ ہے کہ جو روزی دیتا ہے اسی کی بندگی کرو اور اسی کا حق مانو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس وقت ہر شخص کو اس کی عبادت کا اور اس کے شکر کا صلہ ملے گا۔ اور کفر اور شرک سے باز پرس ہوگی۔ روزی دینے والا تو اللہ ہے اور میں اس کا رسول ہوں اس کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں تم کو چاہئے کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور اگر تم میری تصدیق کرتے ہو تو تم کو سعادت دارین حاصل ہوگی اور اگر تم میری تکذیب کرتے ہو تو میرا کوئی ضرر نہیں۔ تحقیق تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکی ہیں اور ان کی تکذیب سے پیغمبروں کو کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ بلکہ خود انہی کو ضرر پہنچتا اور تباہ ہوئے اور نہیں ہے رسول کے ذمہ مگر پیغام کو صاف طور پر پہنچا دینا۔ اب ماننا نہ تمہارا کام ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اول توحید کو واضح کیا جو دین کی پہلی اصل ہے اور پھر وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ سے رسالت کو بیان کیا جو دین کی دوسری اصل ہے اب آگے حشر ونشر کو بیان کرتے ہیں جو دین کی تیسری اصل ہے فرماتے ہیں کیا یہ لوگ جو خدا کی طرف لوٹنے کے منکر ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو بار اول پیدا کرتا ہے کہ نیست سے اس کو ہست کرتا ہے پھر وہی خدا ان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا پہلی زندگی کو تو تم نے دیکھ لیا۔ اب دوسری زندگی کو اس پر قیاس کرلو۔ کیا دیکھتے نہیں کہ بدن پر دمل پھوڑا پھنسی نمودار ہوتا ہے اور اس حصہ کا گوشت اور پوست زائل ہوجاتا ہے پھر چند روز کے بعد دوسرا گوشت اور پوست نمودار ہوجاتا ہے اسی طرح جسم روح کا لباس ہے جو مرنے کے بعد بوسیدہ ہوجاتا ہے قیامت کے دن اسی قسم کا دوسرا نیا لباس پہنا دیا جائے گا۔ دمبدم گرشود لباس بدل شخص صاحب لباس راچہ خلل بیشک یہ بات اللہ پر بہت آسان ہے۔ ایک دلیل تو یہ ہوئی۔ اب آگے دوسری دلیل بیان ہوتی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اے ابراہیم (علیہ السلام) آپ اپنی قوم سے کہہ دیجئے کہ اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور تم اگر دوبارہ زندگی میں کچھ تردد رہے تو زمین میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے زمین میں قسم قسم کی مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کیا ہے قسم قسم کے درخت فنا ہوجاتے ہیں اور پھر دوسری بار پیدا ہوجاتے ہیں جن کا شب وروز تم مشاہدہ کرتے ہو تو سمجھ لو کہ پھر پچھلی بار بھی اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرے گا۔ دوسری زندگی کو پہلی زندگی پر قیاس کرلو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے اس کی قدرت کاملہ کے اعتبار سے پہلی بار پیدا کرنا اور دوسری بار سب برابر ہے۔ بلاشبہ وہی اپنی قدرت کاملہ سے سب کو دوبارہ زندہ کرے گا پھر جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا وہ مالک اور مختار ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور موت اس کا نمونہ اور پیش خیمہ ہے کسی میں یہ قدرت نہیں کہ موت کو ٹلا سکے اور تمہاری عاجزی اور درماندگی کا یہ حال ہے کہ تم آسمان میں ہو یا زمین میں ہو خدا تعالیٰ کو اپنی پکڑنے سے عاجز نہیں کرسکتے۔ تمام مخلوق اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس کے پیدا کردہ آسمان و زمین میں محصور ہے اس کے احاطہ سے نہیں نکل سکتی اور تمہارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی حمایتی ہے اور نہ کوئی مددگار ہے اور جو لوگ اللہ کی آیتوں کے اور قیامت کے دن کی پیشی سے منکر ہوئے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو میری رحمت سے ناامید ہوئے اور ایسے ہی لوگوں کے واسطے دردناک عذاب ہے۔ یہاں (ف 1) تک ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو نصیحت کا ذکر تھا جس میں انہوں نے دین کے تین اصول۔ توحید اور رسالت اور قیامت کو دلائل اور براہین سے واضح کردیا اور ان پر حجت قائم کردی اب آگے ان کی قوم کا جواب ذکر کرتے ہیں۔ قوم جب ابراہیم (علیہ السلام) کی ان معقول باتوں اور دلائل اور براہین کا جواب نہ دے سکی تو قوت اور طاقت کے استعمال پر اتر آئی کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے تاکہ قصہ ہی تمام ہو چناچہ آئندہ آیات میں اسی کا ذکر ہے۔ قوم کا جواب پس جب ابراہیم (علیہ السلام) قوم کو نصیحت کرچکے سو قوم ابراہیم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ یہ کہنے لگے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کردو یا اس کو آگ میں جلادو اور دیکھو کہ اس کا معبود ہم کو جلانے سے کیسے عاجز کرتا ہے مقصد یہ تھا کہ اگر قتل کر ڈالو تو ہمیشہ کے لئے اس شخص سے بےفکری ہوجائے اور اگر آگ میں ڈالو تو ممکن ہے کہ آگ سے ڈر کر اپنی بات سے رجوع کرے۔ غرض یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت وموعظت کا اثر اس بدبخت قوم پر یہ ہوا کہ قتل کرنے اور جلانے کے مشورے کرنے لگے آخری مشورہ یہ ٹھہرا کہ ان کو جلا دیا جائے۔ بڑی عظیم آگ تیار کی اور منجنیق کے ذریعہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا پس اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو آگ سے نجات دی اور آگ کے ضرر سے ان کو محفوظ کردیا کہ وہ آگ ان کے حق میں برد وسلام اور باغ و بہار ہوگئی۔ بیشک اس واقعہ میں خدا کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو خدا کی قدرت پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنی قدرت سے آگ کو بجھایا اور اس کو بردو سلام اور گلزار اور باغ و بہار بنایا۔ معلوم ہوا کہ آگ بذات خود کسی کو جلانے والی نہیں جب تک خدا کا حکم نہ ہوجائے آگ میں حرارت اور پانی میں برودت کا جو کا اثر نظر آتا ہے وہ آگ اور پانی کی ذات اور طبیعت کا ذاتی اقتضا نہیں بلکہ وہ خدا کی قدرت اور مشیت کا کرشمہ ہے بحر قلزم اپنی ذات سے اور اپنی طبیعت سے حقیقت واحدہ اور ماہیت بسیط تھا مگر وہی بحر قلزم جب موسیٰ (علیہ السلام) گزرے تو رحمت بن گیا اور فرعون اور فرعونیوں کے لئے مصیبت اور ہلاکت بن گیا۔ یہ کسی مادہ اور طبیعت ایتھر اور نیچر کا اقتضا نہ تھا بلکہ قدرت خدا وندی کا کرشمہ تھا۔ اگر بتوں میں کچھ قدرت ہوتی تو آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر بردوسلام نہ بننے دیتے مگر وہ بدبخت ان آثار قدرت اور کرشمہائے کرامت کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اور یہ قصہ سورة انبیاء میں مفصل گزر چکا ہے۔ 1 حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کیا کہ یہ تمام کلام از اول تا آخر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ کما قال ابن کثیر والظاہر من السیاق ان کل ھذا من کلام ابراہیم الخلیل (علیہ السلام) یحتج علیہم لا ثبات المعاد لقولہ بعد ھذا کلہ فما کان جواب قومہ الخ۔ واللہ اعلم۔ ابن کثیر ص 408 ج 3۔ بالآخر جب ابراہیم (علیہ السلام) اس آگ سے صحیح سالم نکل آئے تو پھر قوم کو نصیحت فرمائی اور کہا اے قوم کے لوگوں تم نے خدا کے سوا ان بتوں کو اس لئے اختیار نہیں کیا کہ وہ حق چیز ہے بلکہ اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ تمہارا یہ باہمی اتحاد اور اتفاق دنیاوی زندگانی میں محبت کا ذریعہ بنے اور اس اتفاق سے آپس میں میل ملاپ اور رشتہ اخوت ومودت قائم رہے کیونکہ دنیا میں ایک ملت و مذہب والے اور ایک نظریہ رکھنے والے باہم متفق ہوتے ہیں لیکن یہ باہمی محبت دنیاوی زندگی تک محدود رہتی ہے۔ پھر قیامت کے دن یہ محبت مبدل بعداوت ہوجائے گی اس روز تم میں سے بعض بعض کا کافر اور منکر ہوگا یعنی اس روز ایک دوسرے سے بیزار ہوگا اور تم میں کا بعض بعض پر لعنت کرے گا اور پیروی کرنے والے اپنے سرداروں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور یہ مشرکین آج جن کے پیرو اور دوست بنے ہوئے ہیں قیامت کے دن ان سے پناہ مانگیں گے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو ان کے حال اور مآل سے آگاہ کردیا دیکھ لو کہ تمام نصاریٰ تثلیث پر متفق ہیں اور تمام مشرکین بت پرستی پر متفق ہیں سو یہ اتفاق حق اور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ آبائی رسم و رواج پر مبنی ہے تاکہ تمام قوم اس پر متفق اور متحد رہے اور بتلا دیا کہ تم سب کا ٹھکانہ آگ ہے اور کوئی بھی تمہارے لئے مددگار نہیں جن لوگوں کو تم مددگار سمجھے ہوئے ہو کوئی تمہارے کام نہ آئے گا۔ پس جب ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے نکلے اور قوم کو یہ نصیحت کی تو ان کی قوم میں سے صرف لوط (علیہ السلام) ایمان لائے یعنی سوائے لوط (علیہ السلام) کے کوئی مرد ان کی قوم میں سے ایمان نہ لایا اور عورتوں میں سے حضرت سارہ (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان رکھتی تھیں اور بعد ازاں ابراہیم (علیہ السلام) (ف 1) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اب میں تمہارے ساتھ نہ رہوں گا بلکہ اب میں تم سے ہجرت کر کے اپنے رب کی طرف جاتا ہوں جہاں جانے کا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے بیشک میرا پروردگار عزت والا اور حکمت والا ہے ہجرت کے بعد مجھ کو عزت دے گا اور دشمنوں سے میری حفاظت کرے گا اور اس نے جو مجھے ہجرت کا حکم دیا ہے وہ عین حکمت ہے اس نے جو مجھے ہجرت کا حکم دیا ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ دین خداوندی کو تمکین اور عزت اور غلبہ حاصل ہو۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آگ سے صحیح سالم نکلنا دیکھ لیا تو نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی کہ آپ یہ ملک چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جائیں ابراہیم (علیہ السلام) نے وحی الٰہی کے مطابق اس کو منظور کرلیا اور بہ نیت ہجرت وہاں سے روانہ ہوئے۔ حضرت سارہ (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) سفر ہجرت میں آپ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ (ف 1) اشارہ اس طرف ہے کہ وقال کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور بعض کہتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی اور اپنی قوم کو کفر کی وجہ سے چھوڑا اور تمام خویش و اقارب سے مفارقت اختیار کی تو ہم نے اس کے صلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے کی حالت میں اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا اس کو عطا کیا تاکہ اولاد صالح سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ وہ اس سفر ہجرت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ نہ تھے بلکہ بحکم خداوندی اس سے بہت بیشتر حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ کی سرزمین میں چھوڑ آئے تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے چودہ برس پہلے پیدا ہوئے۔ غرض یہ کہ ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد صالح عطا کی اور مزید برآں یہ فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت اور آسمانی کتاب کو رکھ دیا کہ آئندہ جس کو نبوت اور کتاب ملے گی وہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی اولاد میں سے ہوگا چناچہ نبوت ابتدا میں بنی اسرائیل میں رہی پھر آخر میں بنی اسماعیل میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور نبوت آپ ﷺ پر ختم ہوگئی اور توریت اور انجیل اور زبور اور قرآن یہ تمام کتابیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی اولاد پر اتریں۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے صدق اور اخلاص کا صلہ دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں تو وہ بلاشبہ بڑے کامل نیک بندوں کے زمرہ میں سے ہوگا۔ اعلیٰ درجہ کے صالحین انبیاء اولو العزم کی جماعت ہے مطلب یہ ہے کہ آخرت کا صلہ تو آخرت میں ظاہر ہوگا باقی دنیا میں ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دی اور ظالم و جابر بادشاہ کو ذلیل و خوار کیا اور اولاد صالح عطا کی اور نبوت کو ان کی اولاد کے ساتھ مخصوص کردیا اور تمام امتوں میں ان کا ذکر خیر جاری فرمایا وغیرہ وغیرہ۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔ اور یہ مضمون وہی ہے جو سورة بقرہ میں گزرا۔ ولقد اصطفیناہ فی الدنیا اور انہ فی الاخرۃ لمن الصالحین۔
Ayahs 29:28–35

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے کہا اے میرے پروردگار (ان) مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کردینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں ہم انکو اور انکے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے (فرشتوں نے کہا) کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے سمجھنے والوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی

قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔ یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق اور بےحیا اور مسخرے اور مرغ باز اور کبوتر باز تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے کو بہتیرا سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔ بالآخر عذاب الٰہی سے ہلاک ہوئے۔ دیکھو تفسیر ابن کثیرص 441 ج 3۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس کی قوم کا امتحان لینے کے لئے اہل سدوم کی طرف بنی بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک تم ایسی بےحیائی (لواطت) کے مرتکب ہو کہ تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے یہ کام نہیں۔ کیا تم بقصد شہوت مردوں کے پاس آتے ہو اور ان سے مباشرت کرتے ہو اور اس کے علاوہ تم رہزنی بھی کرتے ہو۔ رہزنی اور قتل سے جان ومال لوٹتے ہو اور لواطت سے نسل قطع کرتے ہو اور پھر اس پر بھی بس نہیں بلکہ اپنی کھلی مجلس میں بھی تم ناپسندیدہ اور نازیبا امور کا ارتکاب کرتے ہو جو اہل عقل کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں جیسے گالی دینا اور فحش باتیں کرنا اور قہق ہے لگانا اور شراب پینا اور تنبورے بجانا اور راہ چلنے والوں کو کنکریاں مارنا وغیرہ وغیرہ۔ تم اپنی مجالس میں ایسے اقوال وافعال قبیحہ وشنیعہ کا ارتکاب کرتے ہو جن کو ادنیٰ عقل والا بھی پسند نہیں کرتا۔ لوط (علیہ السلام) نے نہایت خیر خواہی سے ان کو بہتری کی راہ سمجھائی۔ پس نہ ہوا ان کی قوم کا جواب سوائے اس کے کہ یہ کہنے لگے کہ آپ ہم پر اللہ کا عذاب لے آئیے اگر آپ سچوں میں سے ہیں کہ ان افعال شنیعہ کا ارتکاب موجب عذاب ہے لوط (علیہ السلام) نے اس جواب سے محسوس کرلیا کہ دلیری اور بےباکی حد کو پہنچ گئی ہے اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے تو جناب الٰہی سے متوجہ ہوئے اور عرض کیا اے میرے پروردگار اس مفسد قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما اور اس قوم پر اپنا غضب اور قہر نازل فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ملائکہ عذاب کو حکم دیا کہ اس مفسد قوم کو تباہ اور برباد کردیں اور حسب الحکم وہ فرشتے روانہ ہوگئے اور دو کام ان کے سپرد کئے گئے ایک تو یہ کہ قوم لوط پر عذاب نازل کریں اور دوسرا یہ کہ عذاب نازل کرنے سے پہلے لوط (علیہ السلام) کے چچا یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی خبر دے دیں کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تولد فرزند کی بشارت بھی دے دیں چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اصل تھے اور لوط (علیہ السلام) ان کے تابع تھے اس لئے وہ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ چناچہ جب وہ ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے تولد فرزند کی بشارت لے کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو بصورت انسان اور بطور مہمان آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمان سمجھ کر ان کے لئے کھانا تیار کرایا۔ جب دیکھا کہ یہ لوگ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے تو گھبرائے تو اس وقت فرشتوں نے کہا آپ گھبرائیے نہیں ہم فرشتے ہیں اور آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کی مدد کے لئے آئے ہیں تحقیق ہم اس بستی والوں کو یعنی اہل سدوم کو ہلاک کرنے والے ہیں اس لئے کہ تحقیق اس بستی کے رہنے والے بڑے ہی ظالم ہیں۔ کفر کے علاوہ انواع و اقسام کی برائیوں کے مرتکب ہیں۔ فرشتوں نے بشارت فرزند کے علاوہ یہ دوسری بشارت دی کہ ہم قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور کافروں اور ظالموں کی ہلاکت کی خبر دینا یہ بھی عظیم بشارت ہے ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ خبر سنی تو گھبرا کر بولے کہ تحقیق اس بستی میں لوط (علیہ السلام) بھی رہتے ہیں اور وہ تو طالمین میں سے نہیں اس کا کیا ہوگا تو فرشتے بولے آپ گھبرائیے نہیں ہم خوب جانتے ہیں جو اس بستی میں رہتا ہے کون کافروظالم ہے۔ اور کون مومن و صالح ہے۔ تحقیق ہم ضرور بالضرور لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خ اس متعلقین کو عذاب سے بچالیں گے اور عذاب سے پہلے ہی ان کو بستی سے نکال لے جائیں گے مگر ان کی زوجہ کہ وہ باقی ماندہ لوگوں میں سے ہوگی جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا وہ بھی ان کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہوگی اس لئے کہ یہ زوجہ اگرچہ ان افعال شنیعہ میں شامل نہ تھی مگر اپنی قوم سے محبت رکھتی تھی اور ان سے راضی تھی لہٰذا وہ بھی انہی کے ساتھ باقی رہے گی پھر یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہو کر لڑکوں کی صورت میں لوط (علیہ السلام) کی طرف روانہ ہوئے چناچہ فرماتے ہیں اور ہمارے یہ فرشتے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے فارغ ہو کر حسین و جمیل لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور لوط (علیہ السلام) نے اول ان کو پہچانا نہیں اس لئے اس طرح سے آنے کی وجہ سے لوط (علیہم السلام) مغموم اور تنگ دل ہوئے کہ دیکھئے قوم کے اوباش ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں۔ فرشتے جب حسین و جمیل لڑکوں کی شکل میں پہنچے تو آنا فانا اوباش جمع ہوگئے۔ لوط (علیہ السلام) یہ منظر دیکھ کر گھبرائے اور مہمانوں کی رسوائی اور اپنی شرمندگی سے خوف زدہ ہوگئے فرشتوں نے جب رنج وغم اور پریشانی کے آثار لوط (علیہ السلام) کے چہرہ پر دیکھے تو ان کو تسلی دی اور بولے اے لوط نہ ڈرو اور نہ رنجیدہ اور غمگین ہو ہم انسان نہیں بلکہ ہم عذاب کے فرشتے ہیں۔ انا رسل ربک تحقیق ہم تمہاری دعا رب انصرنی علی القوم المفسدین کے مطابق تمہاری مدد کے لئے آئے ہیں ہم تجھ کو اور تیرے گھر والوں کو عذاب سے بچائیں گے مگر تمہاری بیوی کہ وہ پیچھے رہنے والوں اور ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگی تحقیق ہم اس بستی والوں پر بغیر اسباب طبعیہ ومادیہ آسمان سے ایک خاص قسم کا عذاب نازل کرنے والے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ برابر فسق وفجور کرتے رہے اس لئے یہ عذاب کے مستحق ہوئے اور فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہ آپ راتی رات اس بستی سے اپنے متعلقین کو لے کر نکل جائیے۔ صبح کے قریب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ چناچہ لوط (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد وہ بستی الٹ دی گئی اور اوپر سے ان پر پتھر برسائے گئے اور ہلاک کر دئیے گئے اور البتہ تحقیق ہم نے اس بستی میں ایک واضح نشان بھی چھوڑ دیا ہے ان لوگوں کی عبرت کے لئے جو کچھ عقل اور سمجھ رکھتے ہیں جن کو عقل ہے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اور عذاب الٰہی سے ڈرتے ہیں اور جن کی عقل فلسفہ اور سائنس سے خراب ہوچکی ہے اور ان کا دائرہ ادراک محسوسات سے متجاوز نہیں ان کا گمان یہ ہے کہ اس تختہ زمین کے نیچے کوئلہ اور گندھک کی کان تھی باہمی رگڑ سے آتشی مادہ میں اشتعال پیدا اس لئے وہ بستی ہلاک اور تباہ ہوگئی۔ سبحان اللہ وہ خطہ زمین تو نہایت سر سبز اور شاداب تھا ہر طرف پانی کے چشمے جاری تھے وہاں آتشی مادہ کہاں سے آیا اور کیا آگ اور پانی کا مادہ ایک جگہ جمع ہوسکتا ہے۔ مفصل قصہ سورة اعراف اور سورة ہود اور سورة حجر میں گذر چکا ہے۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن (کے آنے) کی امید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے انکو جھوٹا سمجھا سو ان کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

قصہء چہارم شعیب (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاہم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔ یہ چوتھا قصہ شعیب (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک صاحبزادے کا نام تھا جو بی بی قتورا کے شکم سے تھے آپ دریائے قلزم کے ایک کنارہ پر بستے تھے اور آپ ہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے حضرت شعیب (علیہ السلام) انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ اس بستی میں نبی بنا کر بھیجے گئے یہ لوگ نہ صرف بت پرست اور منکر قیامت تھے بلکہ قزاقی کا پیشہ بھی کرتے تھے اور مفسد اور فتنہ پرداز تھے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ہرچند ان کو سمجھایا مگر انہوں نہ مانا بالآخر قہر خداوندی نازل ہوا اور سب ہلاک اور برباد ہوئے گزشتہ رکوع میں لوط کے صالحین اور فاسقین کا انجام بیان کیا اب ان آیات میں قوم شعیب (علیہ السلام) کا حال ذکر کرتے ہیں اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا پس شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت اور اطاعت کرو اور امید رکھو دنیا کے آخری دن کی جس میں بد اعمالیوں کی سزا ملے گی اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو پس انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور فتنہ فساد سے باز نہ آئے پس ان کو ایک سخت زلزلہ نے آپکڑا پس انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مرے تھے۔ جب زلزلہ آیا تو اوندھے منہ گر کر مرگئے۔ معلوم نہیں کہ فلاسفہء عصر اس واقعہ کو کس مادہ کا اقتضا اور اثر بتلائیں گے۔
Ayahs 29:38–40

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چناچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کردیا) اور انکے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور وہ (ہمارے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کردیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

قصہء پنجم مشتمل بر ذکر اجمالی عاد وثمود وقارون وفرعون وہامان قال اللہ تعالیٰ وعادا وثمودا وقد تبین لکم من مسکنہم۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ یہ پانچواں قصہ ہے جو اجمالی طور پر عاد اور ثمود اور قارون اور فرعون اور ہامان کے ذکر پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان پانچ سرکشوں کا ذکر کر کے ایک جملہ میں اجمالا سب کی سزا کو بیان کردیا۔ فکلا اخذنا بذنبہ۔ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے سبب پکڑ لیا اور بتلادیا کہ یہ ازلی بدنصیب تھے ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہی لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق سزادی اور ہلاک کیا ان آیات میں ان سرکشوں کی سزاؤں کا اجمالا ذکر کیا۔ تفصیل نہیں کی اس لئے کہ تفصیل دوسری جگہ گزر چکی ہے۔ اور ہم نے قوم عاد کو اور ثمود کو بھی اسی تکذیب اور عناد کے جرم میں ہلاک کیا اور ان یہ تباہی اور بربادی ان کے مکانوں سے ظاہر ہوتی ہے کہ اجاڑ اور کھنڈر پڑے ہیں جن کو تم یمن آتے جاتے دیکھتے ہو اور ان کی کھنڈروں سے آثار عذاب محسوس کرتے ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو یعنی کفر اور تکذیب کو ان کی نظر میں آراستہ کردیا تھا حالانکہ وہ لوگ دنیا کے کام میں بڑے ہوشیار تھے اور اپنے نزدیک بڑے عقل مند تھے مگر شیطان نے ان پر ایسا جادو کیا کہ پیغمبروں کی معقول باتیں تو ان کی سمجھ میں نہ آئیں اور شیطان کے جال اور فریب میں پھنس گئے۔ اور ہم نے قارون کو اور فرعون کو اور ہامان کو ہلاک کیا اور یہ اسی کے مستحق تھے اس لئے کہ البتہ تحقیق موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس روشن دلائل اور واضح واضح حجتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے جن میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی گنجائش نہ تھی پس ان لوگوں نے زمین میں رہتے ہوئے بڑے بننے کی کوشش کی اور آسمانی حکم کا اپنی فانی اور مجازی قوت اور طاقت سے مقابلہ کیا اور چاہا کہ اللہ سے سبقت لے جائیں اور نہیں تھے یہ حکم الٰہی پر سبقت لے جانے والے بلکہ حکم الٰہی ان پر جاری ہوا پس ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ اور جرم کے سبب پکڑا اور کوئی ہماری گرفت سے نکل نہ سکا۔ پس ان میں سے بعض پر تو ہم نے پتھراؤ کیا جیسے قوم لوط۔ اور ان میں سے بعض کو سخت آواز سے پکڑا جیسے قوم ثمود جن کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے جیسے کتوں کو سخت آواز سے زجر کیا جاتا ہے اسی طرح ان سنگدلوں کو سگان دنیا کی طرح سخت آواز سے ہلاک کردیا گیا اور بعضوں کو زلزلہ سے ہلاک کیا گیا جن کو اپنی سنگین عمارتوں پر فخر تھا۔ اور بعضوں کو یعنی قوم عاد کو ہوا سے ہلاک اور ریزہ ریزہ کیا گیا جو من اشد منا قوۃ۔ کا نعرہ لگاتے تھے کہ تم ہوا کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے اور ان میں سے بعض کو زمین میں دھنسایا جیسے قارون جسے اپنے خزینوں اور دفینوں پر فخر تھا کہ اس کے خزینے زمین میں مدفون ہیں اور اس کو مع اس کے خزانوں کے زمین میں دفن کردیا اور ان میں سے بعض کو غرق کیا۔ جیسے قوم نوح اور فرعون جو کفر میں غرق تھے۔ فرعون بطور فخریہ کہا کرتا تھا۔ الیس لی ملک مصر وھذہ الانھار تجری من تحتی اس کو اسی کی قابل فخر نہر میں غرق کردیا گیا پس ان قوموں کی دنیا اور آخرت دونوں ہی تباہ اور برباد ہوئیں اور ممکن نہیں کہ اللہ کسی پر ظلم کرے لیکن یہ لوگ خود ہی ایسے تھے کہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور کفرومعصیت کر کے خود ہی اپنے آپ کو تیر عذاب کا نشانہ بنا رہے تھے۔ رباعی اے کہ حکم شرح راردمیکنی راہ باطل میروی بد میکنی چوں تو بدکردی بدی یابی جزاء پس بدیہا جملہ باخود میکنی