28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 28:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کے سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں

آغاز سورت بحقانیت قرآن وذکر اجمالی قصۂ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون برائے تہدید اہل نخوت و رعونت ومنکرین نبوت ورسالت قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایات الکتب المبین۔۔۔ الی۔۔۔۔ موسیٰ وفرعون بالحق لقوم یؤمنون۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی حقانیت قرآن سے فرمایا جو رسالت محمد یہ کی سب سے واضح اور روشن دلیل ہے اور فرعون کا قصہ ذکر کیا جس سے اہل نخوت و رعونت کی تہدید مقصود ہے کہ متکبرین کو چاہئے کہ فرعون کے قصہ سے عبرت پکڑیں کہ جس نے بنی اسرائیل کو ضعیف اور کمزور سمجھ کر ظلم وستم میں کسر نہ اٹھا رکھی اور اپنی وقتی طاقت کے غرور میں خدا کے حکم اور اس کی تاخیر اور مہلت سے غافل رہا اس کا جو انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے اسی طرح قریش مکہ کو چاہئے کہ مسلمانوں کو ضعیف اور کمزور سمجھ کر خدا کی گرفت سے بےخوف نہ ہوجائیں۔ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ انہی کمزور مسلمانوں کو ایسی قوت اور طاقت عطا کرے کہ انہی کو تم پر حکمران کر دے اللہ کی قضا و قدر کی کسی کو خبر نہیں۔ نیز گزشتہ سورت کے آخر میں مضطر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا۔ امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء ویجعلکم خلفاء الارض کہ اللہ تعالیٰ مضطر کی دعا قبول کرتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کرتا ہے اور مظلوم کو ظالم پر حکمران بناتا ہے اس سورت میں بھی بنی اسرائیل کے اضطرار اور بےچینی کو دور کرنے کا ذکر فرماتے ہیں۔ طسم اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں یہ آیتیں ہیں اس کتاب کی بین جو واضح اور جلی ہے اور حقائق ومعارف کی ظاہر کرنے والی ہے اے نبی ہم آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا کچھ حال ذکر کرتے ہیں۔ جو ٹھیک ٹھیک اور واقع کے مطابق ہے ان لوگوں کی بصیرت اور ہدایت کے لئے جو حق کے ماننے والے اور قبول کرنے والے ہیں۔ طالبان حق کی ہدایت اور عبرت کے لئے اس قصہ کو بیان کرتے ہیں تاکہ ان واقعات کو سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت حاصل کریں اور اپنی اصلاح اور تربیت کا ذریعہ بنائیں۔ قرآن کریم میں جابجا جو قصے بیان کئے جاتے ہیں ان کو محض قصہ اور افسانہ نہ سمجھیں۔ بلکہ ان کو ہدایت نامہ اور نصیحت نامہ سمجھیں۔
Ayahs 28:4–21

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور انکی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دئیے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (ملک کا) وارث کریں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ملک میں انکو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اسے پیغمبر بنادیں گے

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ ان کا دشمن اور (انکے لئے موجب) غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی بہن نے کہا کہ اسکے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں کے) دودھ حرام کر دئیے تھے تو موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اسکی خیر خواہی (سے پرورش) کریں

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

تو ہم نے (اس طریق سے) ان کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا کہ انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عنایت کیا اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے ہیں ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تو جو شخص انکی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰ سے مدد طلب کی تو انہوں نے اسکو مکا مارا اور اس کا کام تمام کردیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے انکو بخش دیا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو تو صریح گمراہ ہے

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑلیں تو وہ (یعنی موسیٰ کی قوم کا آدمی) بول اٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا (اسی طرح) چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو ! تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے کہ نیکو کاروں میں ہو

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا کہ موسیٰ (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

موسیٰ وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے اور) دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں سے کہتا ہے۔ انا ربکم الاعلی۔ انا ربکم الاعلی میں سب کا رب اعلیٰ ہوں زمین پر رہنے والا تو اپنا بھی رب نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ زمین کے ایک خطہ کے باشندوں کا رب بن سکے۔ کسی نے سچ کہا الجنون فنون جنون کی بہت سی قسمیں ہیں۔ غرض یہ کہ فرعون نے بڑا تکبر کیا اور وہی اس کو لے کر ڈوبا۔ دیکھ لو اور سوچ لو کہ حق سے تکبر کا کیا انجام ہوتا ہے اور اہل مصر کو اس نے گروہ گروہ کردیا۔ قبطیوں کو معزز بنایا اور بنی اسرائیل کو ان کا خادم بنایا۔ وہاں کے باشندوں میں سے ایک گروہ کو یعنی بنی اسرائیل کو کمزور جانتا تھا اور ان سے بیگار لیتا تھا بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں یعنی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تاکہ ان سے خدمت لے نیز ان سے کوئی اندیشہ بھی نہ تھا۔ تحقیق یہ بدبخت بڑے ہی مفسدوں میں سے تھا۔ غرور کے نشہ میں جو دل میں آتا بےسوچے سمجھے کر گزرتا جھجکتا نہ تھا زجاج کہتے ہیں تعجب ہے فرعون کی حماقت پر۔ کیونکہ جس کاہن نے اس کو یہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھ پر اس کا ملک جاتا رہے گا اگر وہ کاہن فرعون کے نزدیک سچا تھا تو یہ قتل اور یہ بےرحمی اور ایذا رسانی اس کو نفع نہ دے گی۔ اور اگر جھوٹا تھا تو یہ قتل اور ظلم بےمعنی اور بیکار تھا۔ شیخ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) مع سارہ (علیہ السلام) کے ابتداء ہجرت میں ملک مصر میں داخل ہوئے تو شاہ مصر نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بدی کے خیال سے گرفتار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مرگی میں مبتلا کردیا اور اس کے ہاتھ اور پاؤں بیکار ہوگئے۔ اس نے اپنے اس خیال بد سے توبہ کی اور حضرت سارہ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کی۔ حضرت سارہ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اس سے یہ کیفیت دور ہوئی تو اس نے آپ کی خدمت کے لئے آپ کو ہاجرہ (علیہ السلام) دے کر رخصت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاجرہ (علیہ السلام) بعض ملوک قبط کی لونڈی تھیں اور بعض کہتے ہیں کہ ہاجرہ (علیہ السلام) فرعون مصر کی بیٹی تھیں۔ بطور اعزاز واکرام ان کو ہدیۃ دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو بشارت دی کہ تیری اولاد میں سے ایک شخص ہوگا کہ جس کے ذریعہ مصر کی بادشاہت ختم ہوگی اور مصر کا بادشاہ ہلاک ہوگا۔ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پیش گوئی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ شدہ شدہ یہ خبر فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ یہ خبر سن کر فرعون ڈر گیا اور بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کیا۔ احمق کو یہ خبر نہ تھی کہ حذر (احتیاط اور تدبیر) قضاء وقدر سے نہیں بچا سکتی جس سے اس کو ڈر تھا خدا تعالیٰ نے اس کی پرورش خود اس کے ہاتھ سے اسی کے گھر میں کرا دی۔ (تفسیر ابن کثیر ص 379 ج 3) در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصہء فرعون زیں افسانہ بود غرض یہ کہ فرعون اسی فکر میں تھا کہ بنی اسرائیل کو فنا کر دے یہاں تک کہ ان کا نام ونشان بھی نہ رہے اور ہمارا ارادہ اور مشیت یہ تھی کہ ہم ان لوگوں پر اپنا فضل وکرم کریں کہ جو زمین مصر میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور ان کو پیشوائے دین بنائیں اور دنیا میں ملک اور سلطنت کا وارث بنائیں اور زمین میں ان کو تمکین اور دست رسی بخشیں یعنی اپنی قدرت اور اختیار سے ملک مصر میں تصریف کریں اور حکم جاری کریں اور فرعون اور ہامان کو اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں سے وہ چیز دکھلادیں جس سے وہ ڈر رہے تھے اور بچ رہے تھے اور جس سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو ذبح کر رہے تھے مگر قضاء وقدر کے سامنے اس کی یہ تدبیر کام نہ آئی۔ چناچہ وہ مولود مسعود پیدا ہوا اور جس کے ڈر سے فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرا رہا تھا۔ خدا نے اسی بچہ کی تربیت اور سامان راحت کا انتظام فرعون ہی کے گھر میں کردیا چناچہ فرماتے ہیں اور انہی دنوں جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ پر خوف طاری ہوا کہ اب یہ بچہ مجھ سے لے کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت ہم نے ان کی والدہ کو الہام (ف 1) کیا کہ جب تک اخفا ممکن ہو تو تم بےخوف وخطر اس بچہ کو دودھ پلاتی رہو تاکہ وہ تیرے مبارک دودھ سے ایسا مانوس ہوجائے کہ پھر کسی اور کسی کا دودھ قبول ہی نہ کرے پھر جب تم اس کے متعلق کوئی اندیشہ لاحق ہو تو اس کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو اور نہ اس کے ڈوبنے کا اور نہ اس کے ضائع ہونے کا خوف کرو اور نہ اس کی جدائی سے حزیں اور غمگین ہو تو یقین رکھو کہ ہم پر بلاشبہ اس کو تمہاری طرف واپس کردیں گے اور اسی پر بس نہ کریں گے بلکہ آئندہ چل کر اس کو اپنے پیغمبروں میں سے بنائیں گے چناچہ ایسا ہی کیا گیا کہ ان کی والدہ نے ان کو ایک صندوق میں بند کر کے اللہ کے نام پر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اس دریا کی کوئی شاخ فرعون کے محل میں جاتی تھی۔ صندوق بہتا بہتا اسی جگہ جا پہنچا جہاں فرعون کی بیوی آسیہ اور دیگر اہل خانہ کھڑے تھے۔ پس فرعون کے اہل خانہ نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور کھولا۔ اس مولود مسعود کو جب دیکھا تو اس کے بےمثال حسن و جمال کو دیکھ کر فریفتہ ہوگئے جیسا کہ سورة طہ میں گزر چکا ہے۔ والقیت علیک محبتۃ منی یعنی جو شخص موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتا وہ بےاختیار آپ (علیہ السلام) سے محبت اور پیار کرنے لگتا اس لئے اس کے قتل سے باز رہے اور پالنے کی غرض سے اس کو اٹھا لیا تاکہ آئندہ چل کر فرعونیوں کے لئے دشمن ثابت ہو اور ان کے رنج وغم کا سامان ہو اس طرح خدا تعالیٰ نے فرعون کا دشمن خود اسی کے گھر میں پرورش کے لئے پہنچا دیا۔ بیشک فرعون اور اس کا وزیر ہامان اور ان کے لاؤ لشکر سب کے سب خطاکار تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ اس کے ہاتھ سے ہماری تباہی مقدر ہوچکی ہے اور اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ مجرمین اپنی سزا کو پہنچیں۔ گھر والے چاہتے تھے کہ اس بچہ کو قتل کردیں بایں خیال کہ یہ بچہ کہیں اسرائیلی نہ ہو اور کسی نے اس کی جان بچانے کے لئے اس کو دریا میں ڈال دیا ہو لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے فرعون سے کہا اس بچہ کے قتل کے درپے نہ ہو دیکھو کیسا پیارا بچہ ہے خیر اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف کے مارے اپنے بچہ کو ڈالا ہے تو اگر یہ لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ میرا گمان ہے کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس پر تو نظر ٹھہر (ف 2) جاتی ہے اس بچہ کو مت قتل کرو معلوم نہیں کہ کس سرزمین سے آیا ہے اور کس طرح سے آیا ہے۔ مجھے اس سے ضرر کا اندیشہ نہیں۔ شاید یہ ہمارے کام آوے اور ہم اس سے خیر کو پہنچیں کیونکہ مجھے اس میں خیر اور نفع کے آثار معلوم ہوتے ہیں یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ یہ اس لئے کہا کہ اس کے اولاد نہیں ہوتی تھی۔ فرعون بولا لک لالی تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا نہ کہ میری تقدیر ازلی نے یہ الفاظ اس کی زبان سے جبرا نکلوائے اگر آسیہ کی طرح فرعون بھی لی کہہ دیتا تو اس کو بھی ہدایت میں سے حصہ مل جاتا۔ بہرحال فرعون نے اور اہل خانہ نے اس بات کو مان لیا اور بچہ کو پالنے کے لئے اٹھا لیا 1 اشارہ اس طرف ہے کہ واوحینا الی ام موسیٰ میں وحی سے وحی الہام مراد ہے کہ جو اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے اس قسم کی وحی مراد نہیں جو انبیاء کرام کو ہوتی ہے۔ (ف 2) اشارہ اس طرف ہے کہ قرۃ۔ قرار سے مشتق ہے۔ منہ عفا اللہ عنہ۔ اور ان کو خبر نہ تھی کہ آئندہ چل کر کیا ہونے والا ہے اور ادھر یہ قصہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل صبر سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ بےقراری کی وجہ سے بچہ کا حال ظاہر کردیں اور بےتابی کی وجہ سے راز فاش کردیں گے اگر ہم نے ان کے دل کو صبر کی رسی سے نہ باندھ دیا ہوتا تو راز کے فاش ہونے میں کچھ دیر نہ رہی تھی اور ہم نے اس کے دل پر صبر اور ہمت کی گرہ اس لئے لگائی کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا اور اس کو وعدہ الٰہی کا عین الیقین حاصل ہوجائے۔ فرعون کی محل سرائے میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو تمام شہر میں اس کی شہرت ہوگئی کہ صندوق میں سے ایک لڑکا برآمد ہوا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ جن کا نام ” یو حانذ “ تھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اپنی بیٹی سے کہا جن کا نام ” مریم “ یا ” کلثوم “ تھا۔ کہ جا اپنے بھائی کو تلاش کر اور اس کی کھوج لگا دریا کے کنارے کنارے بھائی کے ساتھ چلی جا اور دیکھ کہ کیا پیش آتا ہے چناچہ وہ نکل کھڑی ہوئیں اور دور سے دیکھتی چلیں اور فرعون کے دروازہ تک پہنچیں۔ پس اس نے بچہ کو دور سے دیکھا کہ وہ زندہ اور صحیح سالم ہے دور سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کو اس طرح سے دیکھا کہ گویا اس کو کچھ غرض نہیں اور وہ لوگ جانتے نہ تھے کہ یہ دیکھنے والی اس کی بہن ہے اور کس تاک میں ہے غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح فرعون کے گھر میں پہنچے اور قتل سے بچ گئے اور ملکہ آسیہ نے پیار سے اس کو گود میں اٹھا لیا اور ان کے لئے اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ اور جب انائیں ان کے واسطے آئیں تو ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اناؤں کا دودھ ان پر حرام کردیا یعنی دودھ پینے سے روک دیا۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی انا کا دودھ نہ پی سکیں۔ یہ دیکھ کر ملکہ آسیہ اور سارے گھر والے پریشان ہوگئے اور شہر میں اناؤں کی تلاش شروع ہوئی۔ جو عورت بھی آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اس کا دودھ قبول نہ کرتے تکوینی اور تقدیری طور پر سب اناؤں کا دودھ ان پر حرام ہوچکا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن دور سے کھڑی یہ ماجرا دیکھتی رہیں کچھ دیر کے بعد بولیں کیا میں تم کو ایسے گھر والوں کو پتہ نہ دوں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کی کفالت کریں یعنی اس کی رضاعت اور تربیت کے ضامن ہوں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں یعنی اس پر مشفق اور مہربان بھی ہوں۔ یہاں خود اس کی جستجو تھی فورا جا کر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلا لائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی گود میں پہنچتے ہی دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون یا ملکہ آسیہ بولی کہ تو کون عورت ہے کہ اس بچہ نے سوائے تیرے پستان کے کسی کو منہ نہ لگایا۔ فرعون کے گھر والوں کو شبہ ہوا کہ یہ عورت کہیں اس کی ماں نہ ہو۔ عورت نے جواب دیا کہ میں ایک پاکیزہ عورت ہوں مجھ میں سے ایک خوشبو آتی ہے اور دودھ نہایت لطیف اور شیریں ہے جو بچہ بھی میرے پاس آتا ہے وہ میرا دودھ بہت خوشی سے پی لیتا ہے پس وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور ان سے یہ درخواست کی کہ یہیں رہا کریں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے عذر کردیا کہ میرا گھر ہے اور میرا شوہر ہے اور بچے ہیں اس لئے میں دن رات یہاں نہیں رہ سکتی لیکن اگر آپ پسند کریں تو اپنے گھر رکھ کر اس کو دودھ پلا سکتی ہوں۔ فرعون کے گھروالوں نے اس کو منظور کرلیا اور ایک دینار یومیہ اجرت مقرر ہوگئی۔ اور بچہ کو لے کر گھر واپس آگئیں۔ (تفسیر ابن کثیر ص 381 ج 3) حق تعالیٰ فرماتے ہیں پس اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کی طرف واپس کردیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور بیٹے کی جدائی کا غم نہ رہے اور تاکہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اللہ نے جو بچہ کی واپسی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوگیا۔ و لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ کس طرح پورا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا اور دین ودنیا ہر دو اعتبار سے ان کی والدہ کو بلکہ سارے گھرانہ کو فکر معاش سے بےفکر کردیا۔ گھر بیٹھے مال وزر بھی پہنچ رہا ہے اور دو وقت الوان نعمت کا خوان کلاں بھی پہنچ رہا ہے خدا اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں سے یہ فائدہ پہنچاتا ہے۔
Ayahs 28:22–28

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ بتائے

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور دیکھا کہ انکے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں موسیٰ نے (ان سے کہا) تمہارا کام کیا ہے ؟ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) نہ لے جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو موسیٰ نے ان کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے اور کہنے لگے کہ پروردگار میں محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی موسیٰ کے پاس آئی (اور) کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اجرت دیں جب وہ انکے پاس گئے اور ان سے (اپنا) ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ایک لڑکی بولی ابا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانتدار (ہو)

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

انہوں نے (موسی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک تم سے بیاہ دوں اس (عہد) پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کردو تو وہ تمہاری طرف سے (احسان ہے) اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا تم مجھے انشاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

(موسی نے) کہا مجھ میں آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کر دوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین کی جانب سفر قال اللہ تعالیٰ ولما توجہ تلقاء مدین۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی ما نقول وکیل۔ (ربط) گزشتہ آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ فورا مصر سے نکل جائیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔ رب نجنی من القوم الظالمین۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کی اور ظالموں سے نجات کا ایک ذریعہ بنایا چناچہ وہ مصر سے نکل کھڑے ہوئے راہ سے واقف نہ تھے توکلا علی اللہ ایک سمت پر چل پڑے اور جب بالقاء غیبی شہر مدین کی طرف متوجہ ہوئے اور قضاء وقدر نے وجہ (منہ) کو مدین کی طرف کردیا اور ” مدین “ ایک شہر کا نام ہے جو مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا تو جب ادھر متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھ کو سیدھے راستہ پر لے جائے گا اللہ نے ان کی امید کو پورا کیا اور دنیا اور آخرت کے اعتبار سے ان کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس پر چلایا اور منزل مقصود تک پہنچایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا ایسی تھی (ف 1) جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے شہر سے چلتے وقت کہا تھا۔ انی ذاھب الی ربی سیھدین۔ غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے روانہ ہوئے منہ مدین کی طرف تھا اور دل خداوند ذوالمنن کی طرف تھا اور جب چلتے چلتے شہر مدین کے پانی پر پہنچے یعنی اس کنویں پر پہنچے جو شہر کے کنارہ پر تھا تو اس کنویں پر ایک مجمع اور ہجوم دیکھا کہ لوگ وہاں جمع ہیں اور اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان لوگوں سے علیحدہ ایک طرف دو عورتیں پائیں کہ جو اپنی بکریوں کو ہانکتی اور روکتی تھیں کہ ان کی بکریاں دوسروں کی بکریوں میں نہ مل جائیں یہ دونوں شعیب (علیہ السلام) کی لڑکیاں تھیں مگر چونکہ بالغہ تھیں اس لئے ان کو عورتیں کہا۔ حیا اور شرم کی وجہ سے ایک طرف کھڑی تھیں ان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ مردوں کی مزاحمت کرسکیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے حال پر رحم آیا تو کہا کہ تم دونوں کا کیا حال ہے ان دونوں نے جواب دیا ہم اس وقت تک اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلائیں گے جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر نہ لے جائیں ہم کو اس ہجوم کی مزاحمت پسند نہیں اور ہم بحالت مجبوری یہاں آئی ہیں سوائے باپ کے ہمارا کوئی سہارا نہیں اور ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا اس لئے مجبورا ہم کو گھر سے نکل کر یہاں آنا پڑا ہم دو ضعیف عورتیں ہیں مردوں کی مزاحمت پر قادر نہیں اس لئے ان کے واپس ہونے کے بعد ہم اپنی بکریوں کو پانی پلاسکیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کی یہ بات سنی تو ان کے حال پر رحم آیا۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کھینچ کر ان کی بکریوں کو پلا دیا تاکہ لاچار کی اعانت اور امداد کا اجر اور ثواب ان کو ملے پھر وہاں سے مڑکر کسی سایہ کی جگہ کی طرف متوجہ ہوئے اور وہاں جا کر بیٹھ گئے اور لڑکیوں کی طرف کوئی التفات نہ کیا پس ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہوگئے اور یہ دعا کی۔ اے میرے پروردگار میں آپ کی نازل فرمودہ خیروبرکت اور رزق ونعمت کا محتاج ہوں۔ میں فقیر مطلق ہوں اور آپ کریم مطلق ہیں۔ آپ کے سامنے ہوں خزانہ غیب سے جو مل جائے اس کا امیدوار اور منتظر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے غیب سے ان کے لئے سامان کیا۔ دونوں لڑکیوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ایک جوان ہے اور ایسا توانا ہے کہ جس چٹان کو دس آدمی اٹھاتے ہیں اس نے اس کو تن تنہا ہٹا دیا اور اس کی امانت اور دیانت اور عفت اور پاکدامنی کا یہ حال ہے کہ خدائے تعالیٰ سے دعا اور التجا میں غرق ہے اس شخص کا حال اور قال اس کے باطن کی ترجمانی کر رہا ہے آخر وہ دونوں پیغمبر کی صاحبزادیاں تھیں اس قسم کی کیفیتوں اور حالتوں سے بیخبر نہ ہوں گی۔ دونوں لڑکیاں گھر واپس آگئیں باپ نے دریافت کیا کہ آج خلاف معمول کیسے جلد واپس آگئیں انہوں نے سارا ماجرا سنایا اور بتلایا کہ ایک نووارد مسافر آیا ہے اور بڑا نیک اور قوی معلوم ہوتا ہے اس نے ہماری مدد کی اور اے باپ آپ کو اپنی خدمت کے لئے اور گھر کے کاروبار کے لئے ایک آدمی درکار ہے اس شخص کو ملازم رکھ لیجئے یہ سن کر شعیب (علیہ السلام) کو اس کی سچائی میں کوئی تردد نہ ہوا اور شعیب (علیہ السلام) نے ایک لڑکی سے کہا کہ اچھا اس کو بلا لاؤ اور میرے پاس لے کر آؤ پس ان دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہایت حیا اور شرم سے چلتی ہوئی آئی اس طرح سے آنا صاحبزادی کے کمال ایمان کی دلیل تھی۔ کیونکہ حیا ایمان کا عظیم اور درمیانی شعبہ ہے جس پر تمام اخلاق فاضلہ کا مدار ہے اور آکر یہ کہا کہ میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے تاکہ تجھ کو اس چیز کا صلہ اور بدلہ دے کہ جو تو نے ہمارے لئے پانی کھینچا اور ہماری بکریوں کو پلایا۔ لڑکیوں نے یہ بات اپنے خیال سے کہی کہ باپ کا ارادہ اجرت اور معاوضہ دینے کا ہے۔ ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ ہمارے باپ کی عادت اور سرشت ہے۔ غالبا انہوں نے اسی احسان کے مکافات کے لئے بلایا ہوگا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے مزدوری حاصل کرنے کے لئے پانی نہیں پلایا تھا اور عجب نہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دل سے یہ بات ناگوار گزری ہو کہ میں نے یہ کام محض اللہ کے لئے کیا تھا نہ کہ مزدوری کے لئے۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک بوڑھے بزرگ کی دعوت کو موجب خیر و برکت سمجھ کر قبول کیا کہ ایک بوڑھا اور ناتواں شخص مجھے بلا رہا ہے اس لئے وہ اٹھے اور کہا کہ اچھا چلتا ہوں تم زبان سے مجھے راستہ بتاتی جاؤ۔ جب وہاں پہنچے تو شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تو بھوکا نہیں۔ کہا ہاں بھوکا ہوں لیکن اس بات سے ڈرتا ہوں کہ جانوروں کے پانی پلانے کے عوض لوں۔ میں اس خاندان کا ہوں کہ جو آخرت کے عمل کو روئے زمین کے برابر سونے کے عوض میں بھی نہیں بیچتے۔ شعیب (علیہ السلام) نے کہا لاؤ اللہ خدا قسم یہ مطلب ہرگز نہیں و لیکن میرے آباؤ اجداد کی عادت مہمانی ہے اس لئے ہم ہر مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (تفسیر قرطبی ص 271 ج 13) یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) بیٹھ گئے اور کھاناکھایا۔ پھر اپنا سارا قصہ بیان کیا اس طرح سمجھو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا دعوت قبول کرنا حکم خداوندی اور سنت انبیاء کے اتباع میں تھا کہ ایک بزرگ کی دعوت قبول کرنا انبیاء کی سنت ہے نہ کہ اپنے عمل پر اجرت لینے کے لئے تھا اگرچہ فاقہ کی شدت اور عند الضرورت اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کے قصہ میں گزر چکا ہے۔ لو شئت لاتخذت علیہ اجرا۔ غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کی بنا پر ان کے پاس آئے اور ان سے اپنا سارا قصہ بیان کیا اور ابتداء ولادت سے لے کر اب تک کا سارا حال ان کو بتایا۔ شعیب (علیہ السلام) نے سن کر ان کو تسلی دی اور کہا ڈرو مت تم نے ظالموں سے نجات پائی یعنی یہاں فرعون کی سلطنت نہیں بعد ازاں شعیب (علیہ السلام) کی دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی بولی جن کا نام صفورا تھا اے والد بزرگوار اس کو اپنا نوکر رکھ لیجئے تاکہ ہماری بکریاں چرایا کرے۔ تحقیق بہترین وہ شخص جس کو اپنا اجیر اور نوکر رکھیں وہ شخص ہے جو مضبوط اور توانا ہو اور امانت دار ہو۔ قوت اور توانائی کا تو یہ حال ہے کہ جو پتھر دس آدمیوں سے نہیں اٹھ سکتا تھا۔ اس شخص نے تن تنہا اس کو نہایت سہولت سے اٹھا کر رکھ دیا اور امانت کا یہ حال ہے کہ اس شخص نے مجھ کو پیچھے چلنے کو کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلو اور زبان سے راستہ بتاتی چلو۔ اور جس میں یہ دو خصلتیں ہوں یعنی قوت اور امانت وہ خوب خدمت انجام دے گا۔ شعیب (علیہ السلام) نے بیٹی کے اس مشورہ کو قبول کیا بعد ازاں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تحقیق میں یہ چاہتا ہوں کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کو تیرے نکاح میں دے دوں اس شرط اور اس قول وقرار پر کہ آٹھ برس تو میری نوکری کرے اور یہی نوکری اس نکاح کا بدل اور مہر ہے حاصل یہ کہ آٹھ سال کی خدمت یہی اس نکاح کا مہر ہے لہٰذا آٹھ سال تک تو یہاں رہنا ضروری ہے پس اگر تو دس سال پورے کر دے تو یہ تیری طرف سے تبرع اور احسان ہوگا اور میں تجھ پر کوئی مشقت ڈالنا نہیں چاہتا۔ عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ تو مجھے نیک بختوں میں سے پائے گا کہ میری صلاح اور نیکی کا اثر میری بیٹی میں دیکھے گا کہ وہ لڑکی بھی صالحات اور قانتات میں سے ہوگی اور میں تجھ سے کوئی ایسی خدمت نہ لوں گا کہ جو باعث مشقت اور گرانی ہو۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو لڑکیاں تھیں بڑی کا نام صفورا تھا اور چھوٹی کا نام لیا تھا۔ کما قالہ محمد بن اسحاق۔ تفسیر کبیر ص 470 ج 6۔ جب بیٹی نے باپ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت اور امانت کی تعریف کی تو شعیب (علیہ السلام) نے یہ خیال فرمایا کہ یہ نوجوان میری لڑکی کی نظر میں پسندیدہ ہے پس اگر میں اپنی لڑکی کا اس سے نکاح کردوں تو یہ اس پر راضی ہوگی اس لئے بیٹی کی بات کا تو جواب نہ دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھتین۔ کہ میں ان دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی تیرے نکاح میں دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ آٹھ سال تو میری نوکری کرے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس معاملہ کو منظور کرلیا اور کہا کہ میرے اور تیرے درمیان یہ عہد قرار پا گیا اور بات پکی ہوگئی۔ ان دونوں مدتوں میں سے جس مدت کو بھی میں پورا کردوں تو مجھ پر کوئی جبر اور زیادتی نہ ہوگی اور جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے اور کارساز ہے اللہ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کو پورا کرنا اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ وہی سب کا کارساز ہے۔ اللہ کی شہادت اور اس کے توکل پر معاملہ ختم کیا۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس کی مدت پوری کی۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں ” ہمارے حضرت ﷺ بھی وطن سے نکلے سو آٹھ برس پیچھے آکر مکہ فتح کیا اگر چاہتے تو اسی وقت کافروں سے شہر خالی کرا لیتے لیکن اپنی خوشی سے دس برس پیچھے کافروں سے مکہ کو پاک کیا “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ولی کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی لڑکی کو کسی مرد صالح پر پیش کرے جیسے ابوبکر ؓ وعمر ؓ نے اپنی اپنی بیٹیوں کو آنحضرت ﷺ پر پیش کیا۔ مسئلہ : خدمت کو لڑکی کا مہر مقرر کرنا پہلی شریعتوں میں جائز تھا اور ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ مہر کے لئے مال ہونا ضروری ہے۔ کما قال تعالیٰ ان تبتغوا باموالکم۔ اور حدیث میں ہے لامھر اقل من عشرۃ دراہم تفصیل کے لئے شروح ہدایہ دیکھیں۔ خلاصہء کلام یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) مدین آنے سے پہلے قصر شاہی میں عیش و عشرت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے اب خدا نے کو پیغمبر کے گھرانہ میں پہنچا دیا جہاں دن رات اللہ کی رحمتیں اور برکتیں برس رہی تھیں اس طرح ایک نبی کی خانقاہ اور دارالتربیت میں پہنچا دئیے گئے تاکہ دس سالہ نصاب تربیت مکمل ہوجانے کے بعد ان کو محض اپنے فضل و رحمت سے نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کریں اور فرعون اور فرعونیوں کو اپنی قدرت کے کرشمے اور اپنے نبی کے معجزے دکھلائیں اور جب مجرمین کا پیمانہ جرم لبریز ہوجائے تو یکلخت سب کو ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ شعیب (علیہ السلام) نے بظاہر معاملہ اجارہ کیا لیکن درحقیقت ان کی قوت اور امانت کو دیکھ کر اپنی صاحبزادی دینے کا ارادہ فرمایا اور نور نبوت سے ان کی صلاحیت اور باطنی استعداد کا اندازہ لگا لیا اور آٹھ دس سال قیام کی شرط لگا کر اپنی تربیت میں رکھنا مقصود تھا کہ مقام ارادت سے ترقی کر کے کمال استقامت کو پہنچ جائیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدین سے مصر کی طرف واپسی اور اثناء سفر میں منصب نبوت و رسالت سے سرفرازی اور بغرض تبلیغ و دعوت فرعون کی طرف جانے کا حکم اور حفاظت اور غلبہ کا وعدہ