27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمعارف القرآن

Ayah 27:1

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

Ayah 27:2

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔ (ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔ (3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء صالح علیہ السلام۔ (5) قصہء لوط (علیہ السلام) بعدہ چند حکمت اور موعظت کی باتیں بیان فرمائیں۔ اول موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ سناتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کو رسالت کا منصب عطا فرمایا اور کیسے معجزات قاہرہ ان کو عطا کئے تاکہ ان کی نبوت و رسالت کے دلائل اور براہین عام لوگوں کے سامنے آجائیں تاکہ معلوم ہو کہ مکذبین اور منکرین کا کیا انجام ہوتا ہے اس عبرتناک قصہ کو سن کر ایمان کو تسلی ہوگی اور منکرین اور مکذبین کو عبرت ہوگی۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے کہ جب موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) مدین سے واپس ہوئے اور مصر کی طرف متوجہ ہوئے اور رات کا وقت تھا اور سردی تھی اور بیوی صفوراء بنت شعیب (علیہ السلام) ہمراہ تھیں۔ اور راستہ بھول گئے تھے اس وقت اپنی اہلیہ سے اور ساتھ والوں سے کہا کہ میں نے کوہ طور کی طرف ایک آگ دیکھی ہے ابھی جا کر میں وہاں سے یا تو راستہ کی کوئی خبر اور پتہ لے کر آؤں گا اگر کوئی اس آگ کے قریب ہوا تو اس سے راستہ کی خبر پوچھ لوں گا یا تمہارے پاس آگ کا شعلہ لے کر آؤں گا تاکہ تم اس سے تاپو اور گرمی حاصل کرو۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) جب اس آگ کے پاس پہنچے تو من جانب اللہ ان کی ندا کی گئی یعنی آواز دی گئی کہ برکت دیا گیا وہ شخص کہ جو آگ کے مقام پر ہے یا آگ کی تلاش اور طلب میں ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور برکت دیا گیا جو اس آگ کے آس پاس ہے یعنی جو فرشتے اس وقت وہاں آگ کے گردا گرد موجود اور حاضر تھے وہ بھی مبارک ہیں۔ اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ من فی النار۔ سے وہ ملائکہ مراد ہیں جو اس آگ میں جلوہ افروز تھے۔ اور من حولھا۔ سے وہ اشخاص مراد ہیں جو آگ کے اردگرد تھے جن میں موسیٰ (علیہ السلام) بھی داخل تھے۔ اور بعض علمایہ کہتے ہیں کہ من فی النار سے وہ نورانی فرشتے مراد ہیں جو آگ کے اندر جلوہ افروز تھے اور من حولھا سے وہ فرشتے مراد ہیں جو آگ کے قریب تھے اور آگ کے اردگرد تھے اور یہ فرشتے ان فرشتوں سے کم درجہ والے تھے جو خاص اس آگ کے اندر تھے بہر حال جو بھی معنی ہوں مبارک ہو تم کو اور ملائکہ حاضرین کو۔ جیسے فرشتے جب ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے تو من جانب اللہ یہ کہا رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت۔ یہ فرشتوں کی طرف سے سلام اور تحیہء اکرام تھا اور ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر ؓ اور حسن بصری (رح) سے یہ منقول ہے کہ من فی النار۔ سے اللہ پاک مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا نور اس کی قدرت کا جلوہ مراد ہے اور ایک روایت میں ابن عباس ؓ سے اس طرح آیا ہے کہ وہ آگ درحقیقت آگ نہ تھی بلکہ وہ ایک نور تھا جو آگ کی صورت میں ظاہر ہوا اور اس روایت کی بنا پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ باربرکت ہے وہ ذات پاک جو اس آگ میں جلوہ فرما ہے اور جس کا نور اس آگ میں ظاہر ہو رہا ہے یہ نور الٰہی کی ایک تجلی تھی جو اس آگ کے آئینے میں ظاہر ہو رہی تھی جیسے آنکھ کی پتلی میں آسمان کا جلوہ نظر آجاتا ہے اور یہ مطلب نہیں کہ آنکھ میں آسمان سما گیا۔ غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو دیکھا وہ نور الٰہی کی ایک تجلی تھی جو چمک رہی تھی اور وہ دنیا کی آگ نہ تھی بلکہ ایک نورانی اور غیبی آگ تھی جس میں نور الٰہی ظاہر ہو رہا تھا اور یہ ظاہری آگ نور الٰہی کا ایک حجاب اور ایک پردہ یا آئینہ تھی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے حجابہ النار۔ اور ظاہر ہے کہ جو چیز کسی آئینہ میں ظاہر ہو وہ اس آئینہ کا عین نہیں ہوتی اور نہ آئینہ اس کا عین ہوتا ہے آئینہ اس چیز کا مظہر ہوتا ہے اور آئینہ میں ظاہر ہونے والی اصل ظاہر کا جلوہ ہوتا ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ من فی النار۔ سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ مراد ہیں تو ممکن تھا کہ کسی نادان کو یہ وہم ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی مکان اور کسی چیز میں سمایا ہوا ہے تو آئندہ آیت وسبحان اللہ رب العالمین۔ میں اس کی تنزیہ و تقدیس پر متنبہ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے اور اللہ جو جہانوں کا پروردگار ہے وہ مخلوقات کی مشابہت سے اور مکان سے اور سمت سے اور جہت سے اور کسی محل نزول اور حلول کرنے سے پاک اور منزہ ہے۔ اس آگ میں جو کچھ نظر آیا وہ اللہ کے نور کی ایک تجلی تھی جو آگ میں نمودار ہوئی جیسے آفتاب کسی آئینہ میں متجلی ہوسکتا ہے مگر اس میں سما نہیں سکتا اسی طرح سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں متجلی اور جلوہ افروز ہوسکتا ہے مگر اس میں سما نہیں سکتا۔ اس جملہ سے اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا کہ کوئی اس آگ کو اللہ کا مکان نہ سمجھے جس میں اس کا نور ظاہر ہو رہا ہے اور محل اور مظہر میں اہل عقل کے نزدیک فر ق ظاہر ہے۔ محل کے معنی مکان کے ہیں جس کے اندر متمکن موجود ہوتا ہے۔ مظہر کے معنی جائے طہور کے ہیں جیسے آئینہ اور ظاہر ہونے والی مظہر (آئینہ) کے اندر موجود نہیں ہوتی بلکہ اس سے باہر ہوتی ہے الحاصل یہ تجلی تھی۔ حلول اور نزول نہ تھا۔ خلاصہء کلام یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ ندا سنی تو کہا کہ یہ ندا کرنے والا کون ہے تو پھر یہ ندا آئی کہ اے موسیٰ تحقیق یہ ندا کرنے والا اور تجھ سے خطاب اور کلام کرنے والا میں ہی ہوں اللہ جو تیرا پروردگار ہوں زبردست حکمتوں والا جس نے یہ ندا کر کے تجھ کو اپنی تکلیم سے عزت بخشی اور تجھ کو اپنانبی اور رسول بنایا اور میرا ارادہ یہ ہے کہ تجھ کو کچھ معجزات بھی عطا کروں جو تمہاری نبوت اور رسالت کی دلیل وبرھان بنیں۔ پس اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اپنا عصا زمین پر ڈال دو ۔ حسب الحکم جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس عصا کو اپنے ہاتھ سے زمین پر ڈال دیا تو وہ سانپ ہوگیا۔ پس جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس عصا کو سانپ کی ہلتے اور چلتے دیکھا تو ڈر کے مارے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا یہ خوف طبعی اور بشری تھا اس قسم کا خوف نبوت کے منافی نہیں۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کچھ خوف نہ کو کرو ہم نے تم کو پیغمبری دی ہے اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے ہم نے یہ معجزہ تم کو فرعون کے لئے دیا ہے۔ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے خوف سے میرے رسول بالکل مامون ہیں م اگر وہ شخص کہ جس نے اپنا جان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی کی ہو اور اللہ کی نافرمانی کی ہو وہ اگر ڈرے تو اس کا ڈرنا ٹھیک ہے پھر اگر اسی شخص نے برائی اور ظلم اور زیادتی کے بعد اپنی برائی کو نیکی سے بدل لیا ہو یعنی توبہ کرلی ہو تو اس پر بھی کوئی خوف وخطر نہیں۔ بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا اور مہربان ہوں توبہ سے اس کا گناہ معاف کردیتا ہوں۔ خلاصہ کلام یہ کہ خدا کے حضور میں اندیشہ صرف اس شخص کو ہے کہ جس نے کسی ظلم وستم یعنی کسی معصیت کا ارتکاب کیا ہو اور اس کے لئے بھی قاعدہ یہ ہے کہ اگر توبہ کرلے تو پھر اس کو خوف اور اندیشہ نہیں رہتا لہٰذا تم کو ڈرنے کی ضرورت نہیں اگر تم سے کوئی خطا بھی ہوئی ہے جس کی بناء پر تم ڈر رہے ہو تو ہم معاف کردیں گے۔ جاننا چاہئے کہ اس آیت یعنی لا یخاف لدی المرسلون۔ میں خوف مواخذہ کی نفی مراد ہے۔ اللہ کی عظمت و جلال کے خوف کی نفی مراد نہیں۔ کما قال اللہ تعالیٰ انما یخشی اللہ من عبادہ العلموء۔ نکتہ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا ڈالنے کا حکم اس لئے دیا کہ جب اس کرشمہ قدرت اور خارق عادت کو دیکھیں تو پہچان لیں کہ یہ کلام کرنے والا اور ندا دینے والا رب العالمین ہے۔ ان آیات میں معجزہ عصا کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد دوسرے معجزہ کے اظہار کا حکم دیتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ (علیہ السلام) اس معجزہ عصا کے سوا ایک اور بھی معجزہ ہے جو ہم تجھ کو عطا کرتے ہیں وہ یہ کہ تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور پھر اس کو نکال تو وہ بلا کسی عیب اور بلا کسی مرض کے یعنی بلا برص وغیرہ کے نہایت سفید اور روشن ہو کر ن کے گا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا کہ اپنا ہاتھ بغل کے نیچے لے جا کر نکالا تو نہایت دلکش نور کے ساتھ ظاہر ہوا کہ آنکھوں کو اپنی طرف جذب کرتا تھا اور خوب لہلہاتا تھا آفتاب کی روشنی اگرچہ بہت تیز ہے مگر گرم ہے آنکھوں کو چندھیانے والی ہے کچھ دلچسپ نہیں اور ماہتاب کی روشنی اگرچہ ناگوار نہیں مگر اس میں ملاحت اور دلکشی نہیں۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ان دونوں نشانیوں کو من جملہ نو نشانیوں کے جو ہم نے تجھ کو عطا کی ہیں ان کو لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے جا یہ نشانات دیکھ کر تجھ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ بڑے ہی بدکار لوگ تھے۔ اور حد سے نکل گئے تھے نو نشانیوں کا بیان سورة بنی اسماعیل کی آیت ولقد اتینا موسیٰ تسع ایات بینات۔ کے تحت گزر چکا ہے اور ان کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے دو نشانیاں تو یہ ہوئیں۔ عصا اور ید بیضا۔ تیسری انفلاق بحر۔ دریا کا پھٹ جانا۔ چوتھی طوفان۔ پانچویں جراد یعنی ٹڈی چھٹی قمل یعنی چچڑیاں۔ ساتویں ضفادع یعنی مینڈک۔ آٹھویں دم یعنی خون۔ نویں طمس اموال کما قال اللہ تعالیٰ ربنا اطمس علی اموالہم۔ دسویں جذب یعنی خشک سالی۔ گیا رھویں نقصان اثمار و مزارع جن کا بیان سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ پس جب اس قوم کے پاس ہماری نشانیاں پہنچیں جس سے آنکھیں کھل جائیں تو بولے یہ تو کھلا جادو ہے اللہ تعالیٰ نے ابتدا دعوت میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دو معجزے عطا فرمائے پھر وقتا فوقتا اور معجزات دئیے مگر ان معاندین نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے اور ان لوگوں نے ازراہ ظلم وتکبر زبان سے ان معجزات کا انکار کیا لیکن ان کے دلوں نے اس بات کو یقین کرلیا کہ یہ نشانیاں اللہ کی طرف سے ہیں جادو نہیں یعنی فرعون کو اور اس کی قوم کو دل سے یقین کامل ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور جادوگر نہیں مگر محض عناد اور سرکشی کی بنا پر انکار کرتے تھے۔ پس دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کیا برا ہوا کہ سب بحر قلزم میں غرق ہوئے اور ساری سرکشی خاک میں مل گئی اور دنیا کا جاہ و جلال اور مال ومنال سب ختم ہوا۔ متکبرین کو چاہئے کہ اس قصہ سے عبرت پکڑیں۔
Ayahs 27:15–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔ ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان بنایا اور چرند پرند کی زبان کا علم ان کو عطا فرمایا اور علاوہ ازیں یہ قصہ عجیب و غریب خوارق پر مشتمل ہے جس سب کے سب سلیمان (علیہ السلام) کے معجزات اور دلائل نبوت تھے منطق الطیر اور تسخیر ریاح اور تسخیر جنات اور واقعہ عرش بلقیس سلیمان (علیہ السلام) کے معجزات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پیغمبروں کو نبوت کے ساتھ بےمثال سلطنت سے نوازا اور جس قسم کی سلطنت ان دونوں پیغمبروں کو عطا کی وہ درحقیقت ان دونوں کا معجزہ تھی۔ اور ان کی نبوت کی دلیل اور برہان تھی کہ لوگ اس بےمثال سلطنت کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ یہ سلطنت اس قسم کی نہیں کہ جو دنیا کے بادشاہوں کو حاصل ہوتی ہے۔ بلکہ یہ من جانب اللہ ہے کہ جس میں دنیا اور آخرت اور نبوت اور بادشاہت دونوں جمع کردی گئی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) کو ایک خاص علم عطا کیا جو قانون شریعت اور قانون حکومت دونوں کا جامع تھا۔ اور دین و حکمت اور قضاء وسیاست دونوں پر مشتمل تھا۔ اصلی علم شریعت اور نبوت کا تھا اور حکومت اور سلطنت اس کی خادم تھی اور داؤد اور سلیمان (علیہم السلام) نے اس نعمت عظمیٰ کے شکر میں یہ کہا۔ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضلیت دی کہ نبوت و رسالت کے ساتھ سلطنت بھی عطا کی اور جنات اور شیاطین کو ہمارا مطیع اور فرمانبردار بنایا اور ہوا کو اور پرندوں کو ہمارے لئے مسخر کردیا اور مزید برآں ہم کو ان نعمتوں کے شکر کی توفیق عطا فرمائی جو خود ایک مستقل نعمت ہے اور داؤد (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) ان کے وارث ہوئے۔ داؤد (علیہ السلام) کے تمام بیٹوں میں سے صرف سلیمان (علیہ السلام) نے نبوت اور سلطنت کی وراثت پائی۔ نبوت کے ساتھ سلطنت بھی ملی جو کمالات باپ کو عطا ہوئے تھے وہی اس فرزند رشید یعنی سلیمان (علیہ السلام) کو بھی ملے اس آیت میں وراثت سے علم و حکمت اور کمالات نبوت کی وراثت مراد ہے مالی وراثت مراد نہیں کیونکہ باجماع اہل تاریخ داؤد (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے تو پھر سلیمان (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت۔ مال و دولت کی وارث تو ساری ہی اولاد ہوتی ہے اس خبر دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ معلوم ہوا کہ وراثت سے علم و حکمت اور نبوت کی وراثت مراد ہے جس میں ان کے دوسرے بھائی شریک نہ تھے نیز بیٹا تو باپ کا وارث ہوا ہی کرتا ہے اس میں کوئی خاص فضیلت نہیں اور یہ جملہ۔ یعنی وورث سلیمن الخ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مدح اور تعریف کے لئے لایا گیا ہے پس اگر اس آیت میں مال و دولت کی وراثت مراد لی جائے تو پھر اس جملہ کا مقام مدح اور تعریف میں ذکر کرنا فضول ہے۔ ہر بیٹا اپنے باپ کا وارث ہوا ہی کرتا ہے۔ اس میں کمال ہی کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت میں مال کی وراثت ہرگز ہرگز مراد نہیں جیسا کہ شیعوں کا گمان ہے بلکہ علم اور نبوت کی وراثت مراد ہے۔ باپ کے مرنے کے بعد یہ ضروری نہیں کہ بیٹا باپ کے علم و حکمت کا بھی وارث بنے۔ شیعہ لوگ لفظ وراثت کو مال کی وراثت کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں سو یہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وکنا نحن الوارثین۔ ہم ان کے وارث ہوئے تو کیا شیعوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ بھی کسی کے مال و دولت کے وارث بنتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا باپ کے علم و حکمت کا وارث بنے اس لئے اس آیت وورث سلیمان داؤد میں یہ بتلایا کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ کے بعد ان کے علم و حکمت اور نبوت کے وارث ہوئے اور باپ کی طرح بیٹے کو بھی من جانب اللہ معجزات اور کرامات عطا ہوئے اس لئے سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی نعمتوں کا شکر کیا اور اس کی حمد وثنا کی اور بطور تحدیث نعمت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ہم کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے کہ پرندے جو آپس میں بولتے ہیں ہم ان کی بولی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے علاوہ کسی اور کو میسر نہیں اور علاوہ ازیں ہم کو ہر قسم کی نعمت سے ایک خاص حصہ دیا گیا ہے۔ یعنی مجھ کو اور میرے والد داؤد (علیہ السلام) کو دنیا اور آخرت کی نعمتوں میں سے ہر قسم کی چیز دی گئی جس کی ہم کو ضرورت تھی یعنی نبوت اور علم و حکمت کے ساتھ سلطنت اور مال و دولت اور تسخیر جن وانس اور تسخیر طیر وہوا بھی مجھ کو عطا ہوئی کہ سب میرے مطیع اور فرمانبردار ہیں اور عجیب عجیب صنعتوں کے لئے جنات کو میرے لئے مسخر کیا۔ بیشک یہ کھلا ہوا فضل الٰہی ہے جس شخص کو ذرا بھی عقل ہے جب وہ ان چیزوں پر نظر کرے تو اس پر ظاہر ہوجائے کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے جس میں بندہ کے کسی کسب اور اختیار کو ذرہ برابر دخل نہیں مقصود یہ تھا کہ یہ جو کچھ مجھ کو دیا گیا ہے وہ سب فضل الٰہی ہے اور اکرام خداوندی ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ ان غیبی کرامتوں کو دیکھ کر مجھ پر ایمان لاؤ اور سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کلمہ بطور تشکر کہا نہ کہ بطور فخر۔ پرندوں کی بولی سمجھ لینا عقلاً کوئی محال امر نہیں۔ قرآن کریم نے خبر دی ہے کہ ہر چیز اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتی ہے مگر تم اس کی تسبیح وتحمید کو نہیں سمجھتے وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحہم۔ اور ہر چرند وپرند اپنی تسبیح سے واقف ہے۔ کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ۔ پس اگر خداوند قدیر اس علم میں کا کوئی حصہ اپنے کسی برگزیدہ بندہ کو عطا فرمادے تو کوئی محال نہیں۔ حیوانات کا تکلم اور جمادات کی تسبیح اور حضور پر نور ﷺ کو شجر وحجر کا سلام کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کے پرندوں کی بولی سمجھتے کے واقعات کتب تفاسیر میں مذکور ہیں۔ غرض یہ کہ نبوت اور سلطنت دونوں چیزوں کا ملنا بلا شبہ فضل الٰہی ہے اور بڑی فضیلت اور بزرگی ہے۔ ذکر قصہء شکر دیگر اب آئندہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری نعمت پر شکر گزاری کا قصہ بیان فرماتے ہیں۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مختلف قسم کے لشکر جمع کئے گئے از قسم جن اور از قسم انسان اور از قسم پرند اور پھر روانگی سے قبل وہ ٹھہرائے جاتے تھے تاکہ پیچھے آنے والے بھی شامل ہوجائیں۔ کوئی رہ نہ جائے۔ اور سب باقاعدہ جمع کر روانہ ہوں۔ دنیا میں اس قسم کی سلطنت نہ کسی نے دیکھی اور نہ سنی چناچہ ایک مرتبہ سلیمان (علیہ السلام) اس شان سے اپنے لشکریوں کو لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے یہ کہا اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر تم کچل دے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ اس چیونٹی کو یقن تھا کہ نبی اور اس کے اصحاب جان بوجھ کر کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرسکے یہ چیونٹی رافضیوں سے زیادہ عقلمند تھی جو صحابہ کرام سے بدگمان ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کی آل واولاد پر جان کر ظلم کیا۔ معلوم ہوا کہ حیوانات کو بھی اس کا علم ہے کہ انبیا کرام اور ان کے اصحاب سے دیدہ و دانستہ کسی پر ظلم اور زیادتی ممکن نہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دور سے اس کی آواز کو سن لیا اور سمجھ گئے پس سلیمان (علیہ السلام) اس کی اس بات سے مسکراتے ہوئے ہنسنے لگے اور خوش ہوئے کہ جانوروں کو بھی مجھ پر اطمینان ہے کہ میں اور میرے اصحاب ان پر ظلم نہیں کریں گے نیز جانوروں کی بولی سمجھ لینا حق جل شانہ کی ایک عظیم نعمت اور کرامت ہے اس ایک نعمت کو دیکھ کر اور نعمتیں یاد آگئیں تو نعمت کو چھوڑ کر منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوگئے اور شکر اور مناجات میں مشغول ہوگئے اور کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر برابر ان کا شکر کرتا رہوں۔ آپ نے رحمت سے مجھ کو منطق الطیر کے علم جیسی نعمت عطا کی۔ اب درخواست یہ ہے کہ ان نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق بھی عطا فرما اور اس بات کی بھی توفیق دے کہ ایسے نیک کام کرتا رہوں جس سے آپ راضی ہوں۔ بغیر آپ کی رضا کے سب ہیچ ہے اور مجھ کو اپنی رحمت اور عنایت سے اپنے خاص نیک بندوں کے زمرہ میں داخل فرما یعنی تیری بارگاہ سے جو الطاف و عنایات عباد صالحین پر مبذول ہوئے ہیں مجھ کو بھی ان میں شریک فرما۔ نیک بندوں سے انبیاء کرام (علیہم السلام) مراد ہیں جیسے حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب علیہم الصلوۃ والسلام۔ نکتہ : گزشتہ آیات میں فھم یوزعون کا لفظ آیا ہے اور اس آیت میں رب اوزعنی آیا ہے دونوں کا اصل مادہ ایک ہے دونوں لفظ وزع بمعنی منع سے مشتق ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ مجھ کو اپنی ناشکر سے روک دے اور تیرا شکر میرے پاس درکار ہے اور میں اس کو ایسا باندھ کر رکھوں کہ تیرا شکر میرے ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے۔ کما فی الکشاف اجعلنی ازع شکر نعمتک عندی واکفہ وارتبطہ لا ینفلت عنی حتی لا انفک شاکر الک انتھی۔