27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمعارف القرآن

Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

ذکر انواع و اقسام دلائل توحید مع توبیخ وتہدید قال اللہ تعالیٰ امن خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کے انجام بد کا ذکر فرمایا جو خدا کی قدرت اور اس کے قہر کی نشانی تھی اب پھر مشرکین کی توبیخ وتہدید کے لئے اپنے آثار قدرت اور دلائل الوہیت ووحدانیت ذکر کرتے ہیں کہ شاید یہ نصیب شرک سے باز آجائیں ان کو چاہئے کہ خدا کے قہر کی نشانیوں میں بھی غور کریں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں بھی غور کریں جو سب کی سب اس کی توحید اور اس کے عظمت و جلال پر دلالت کرتی ہیں اور سمجھیں اور جانیں کہ خدا کے سواسب عاجز اور ذلیل میں لہٰذا شرک سے توبہ کریں اور یقین کریں کہ معبود برحق وہ ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور تمام صفات کمال کے ساتھ موصوف ہو۔ اور واحد قہار کے قہر سے بچنے کی فکر کریں گزشتہ آیت میں مجملا یہ فرمایا ! ء اللہ خیر اما یشرکون۔ بھلا اللہ بہتر ہے یا وہ بت بہتر ہیں جن کو مشرکین اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اس سے مقصود مشرکین کو سرزنش کرنا اور الزام دینا تھا کہ بت جو اپنے عابدوں کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان سے کوئی بلا ٹال سکتے ہیں وہ بہتر ہیں یا اللہ واحد قہار بہتر ہے اس کو کیوں نہیں پوجتے تاکہ اس کے قہر اور عذاب سے محفوظ رہیں۔ اب اس تمہید کے بعد اللہ کی وحدانیت کے چند دلائل بیان کرتے ہیں اور اجمال کے بعد قدرے کمالات قدرت کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ ان میں غور کریں اور بتلائیں کہ کون بہتر ہے۔ نوع اول متعلق بہ آسمان وزمین امن خلق السموت والارض۔۔۔۔۔ بل ہم قوم یعدلون۔ کیا یہ عاجز اور ان کے تراشیدہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمان اور زمین پیدا کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس پانی سے خوشنما اور بارونق باغ اگائے تم میں اتنی قدرت نہیں کہ تم درختوں کو اگا ہی سکو۔ تمہاری قدرت میں صرف اتنا ہے کہ زمین میں بیج ڈالو۔ باقی درختوں کے اگانے اور ان کی نشوونما پر تم کو ذرہ برابر بھی قدرت نہیں اور درختوں اور پھولوں اور پھلوں میں جو عجیب عجیب صنعتیں ہیں ان کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے آسمان اور زمین کے اختلاط سے یہ نعمتیں میسر آتی ہیں اور آسمان سے پانی برسنے میں اور زمین سے نباتات کے اگنے میں ذرہ برابر کسی کو دخل نہیں۔ کیا اللہ کے ساتھ جس کی شان یہ ہے کوئی اور معبود ہے جو الوہیت میں اس کا شریک ہے جو ان چیزوں کے پیدا کرنے میں اس کا معین اور مددگار ہو۔ کوئی نہیں۔ پر مشرکین راہ حق سے عدول کرتے ہیں اور بلا دلیل خدا کا شریک اور اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ غرض یہ کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور پھر آسمان سے پانی برسانا اور زمین سے قسم قسم کی نباتات کا اگانا یہ سب اس کی قدرت کے دلائل ہیں جن میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اوتار : ہندوستان کے مشرکین یعنی ہندو اوتاروں کے قائل ہیں۔ اوتار اس کو کہتے ہیں کہ جس میں خدا حلول کر جائے ” رام “ اور ” کنہیا “ کے متعلق ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ وہ اوتار تھے۔ اہل اسلام اس سے بری اور بیزار ہیں مسلمانوں کے نزدیک خدا اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ کسی چیز میں حلول کرے یا کسی چیز کا جز ہوجائے۔ سبحانہ وتعالی عما یصفون۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

نوع دوم متعلق بہ کائنات زمین امن جعل الارض قرارا وجعل خللھا انھارا۔۔۔۔ الی۔۔۔ بل اکثرہم لا یعلمون۔ بھلا بتلاؤ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے جس نے زمین کو آدمیوں اور چوپایوں کے لئے قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور اس نے زمین کو ٹھہرانے کے لئے پہاڑ بنائے یعنی اس نے اپنی قدرت سے زمین کو جائے قرار بنایا کہ جو اپنی جگہ ٹھہری ہوئی ہے اور جمع ہوئی ہے کہ نہ جھکتی ہے اور نہ ہلتی ہے اگر وہ ہلتی اور کانپتی رہتی تو کوئی ذی حیات اس پر زندگی نہ بسر کرسکتا اور نہ اس کی عیش خوشگوار ہوتی۔ اللہ نے اس کو اپنے فضل اور رحمت سے ایسا جما ہوا فرش بنا دیا کہ ہلتا نہیں۔ اور اس نے دو دریاؤں کے درمیان ایک پردہ بنا دیا یعنی ایک حد فاصل بنا دی کہ ایک کا پانی دوسرے سے ملنے نہیں پاتا حالانکہ ایک کا پانی کھاری ہے اور ایک کا میٹھا ہے مگر قدرت الٰہی نے ان کے درمیان ایسا پردہ حائل کردیا کہ دونوں مخلوط نہیں ہوتے اس کی تحقیق اور تفصیل سورة فرقان کی اس آیت وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینہما برزخا و حجرا محجورا کی تفسیر میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔ بھلا خدا کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے جس میں یہ قدرت ہو ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ کچھ جانتے اور بوجھتے نہیں اس لئے شرک میں مبتلا ہیں۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

نوع سوم متعلق بہ احتیاج انسان سوئے خداوند جہاں بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مصیبت زدہ مضطر کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے بیماری اور تنگی کے دور کرنے پر سوائے خدا کے کوئی قادر نہیں۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور بر وبحر کے عجائب قدرت سے استدلال کیا اب اس آیت میں انسان کی ذاتی حاجت سے اپنی الوہیت پر استدلال کرتے ہیں کہ مصیبت اور بیقراری کی حالت میں انسان کا خدا کو پکارنا یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی معرفت انسان کی طبیعت میں راسخ ہے۔ مصیبت میں صرف خدا ہی کو پکارتا ہے کسی بت کو نہیں پکارتا اور ” مضطر “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو ایسی شدت اور مصیبت میں مبتلا ہو جس سے بظاہر نہ نکل سکتا ہے اور نہ اس پر صبر کرسکتا ہے۔ ” نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن “ کا مصداق ہے پس خدائے برحق وہ ہے۔ کہ جب اسباب ظاہری تم کو جواب دیتے ہیں اور تم بالکل عاجز ہوجاتے ہو اور اس وقت تم اپنی سختیوں میں اس کو پکارتے ہو اور وہ تمہاری پریشانی دور کرتا ہے وہی تمہارا خدا ہے اور وہی خدا تم کو زمین میں اگلوں کا جانشین بناتا ہے کہ ان کو موت دیتا ہے اور ان کے بعد زمین کو تمہارے تصرف میں لاتا ہے اسی طرح ایک قوم کے بعد دوسری قوم اور ایک قرن کے بعد دوسرا قرن پیدا کرتا رہتا ہے جیسی اس کی حکمت اور مشیت ہوتی ہے اسی کے موافق پیدا کرتا ہے کیا اللہ کے ساتھ جس کی شان یہ ہے اور کوئی معبود ہے مگر تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو کہ ایسے دلائل حقہ اور واضحہ پر بھی دھیان نہیں کرتے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

نوع چہارم متعلق بہ حاجات مخصوصہ در اوقات مخصوصہ قال اللہ تعالیٰ امن یھدیکم فی ظلمت البر والبحر۔۔۔ الی۔۔۔ تعلی اللہ عما یشرکون۔ بھلا بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو تم کو بیانوں میں اور دریاؤں کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے یعنی اس نے تمہاری رہنمائی کے لئے ستارے پیدا کئے تاکہ اندھیروں میں ان کے ذریعہ راستہ معلوم کرسکو کما قال تعالیٰ وھو الذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر۔ اور ان ستاروں کا پیدا کرنے والا سوائے خدا کے کون ہے یہ تو ظاہری ستارے ہیں اور معنوی ستارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہیں جن کے متعلق حدیث میں آیا ہے۔ اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم میرے تمام صحابہ نجوم ہدایت ہیں تم جس کی پیروی کرو گے راہ یاب ہو گے۔ پس خدائے برحق تو وہ ہے جس کی شان یہ بیان ہوئی اور اس کی ایک شان یہ ہے کہ وہ اپنی باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے کہ وہ ہوائیں تم کو باران رحمت کی آمد کی خوشخبری سناتی ہیں۔ باران رحمت کے نزول سے پہلے ہواؤں کا چلانا سوائے خدا کے کسی کی قدرت میں نہیں۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے۔ ہرگز نہیں۔ اللہ بلند اور برتر ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو۔ ایک عاجز محض قادر برتر کا کہاں شریک ہوسکتا ہے۔
Ayahs 27:64–66

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

نوع پنجم متعلق بہ مبداء ومعاد وحشر ونشر اجساد قال اللہ تعالیٰ امن یبدؤا الخلق ثم یعیدہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔۔ بل ہم منھا عمون۔ بھلا بتلاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات بہتر ہے کہ جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے جو تمہیں بھی مسلم ہے پھر وہی اپنی قدرت سے موت کے بعد قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ پس خدا وہ ہے کہ جو وجود اور عدم کا مالک ہو اور جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ بلا دلیل کفر کرتے ہیں کیونکہ جب پہلی مرتبہ کی پیدائش تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے تو دوبارہ پیدائش کو کیوں محال اور ناممکن بتلاتے ہو اور اس خدا کی شان یہ ہے کہ وہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے۔ آسمان سے بقدر معلوم پانی نازل کرتا ہے اور زمین سے قسم قسم کے نباتات اگاتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود ہے جو ان کاموں میں اس کا شریک ہے۔ اے نبی آپ ﷺ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے شرک پر کوئی دلیل لاؤ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو۔ یہ تو اللہ کے کمال قدرت کا بیان تھا اب آگے اس کے کمال علم کو بیان کرتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ ان مشرکین سے جو بطور استہزاء اور تمسخر آپ ﷺ سے قیامت کا وقت پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ان سے کہہ دیجئے کہ آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا جس طرح آسمان و زمین کے ہزارہا بلکہ لکھوکھ ہا چیزیں تم سے پوشیدہ ہیں اسی طرح قیامت کو بھی سمجھو کہ وہ بھی ہم سے پوشیدہ ہے اور اسی وجہ سے لوگوں کو اس کی خبر نہیں کہ مردے قبروں سے کب اٹھائیں جائیں گے مشرکین قیامت کے منکر تھے اور اس کو محال بتاتے تھے ان آیتوں میں اس کا جواب دے دیا گیا کہ خدا وہ ہے جو ہمارے مبداء اور معاد یعنی وجود اور عدم اور موت اور حیات اور سامان حیات یعنی رزق کا پیدا کرنے والا ہے پس جو خدا پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے پس یہ لوگ کیوں آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ اور یہ لوگ آخرت کے بارے میں فقط لا علم اور بیخبر نہیں بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں غائب اور گم ہوچکا ہے ان لوگوں کو تو نفس آخرت کی بھی خبر نہیں کہ وہ کیا چیز ہے گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو آخرت کا وقت معلوم نہیں اور اس آیت میں یہ بتلا یا کہ ان کو نفس آخرت کا بھی علم نہیں کہ وہ کیا چیز ہے بلکہ آخرت کے بارے میں شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ عظیم حیرت اور اضطراب میں ہیں ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کدھر جائیں کما قال تعالیٰ انھم کانوا فی شک مریب بلکہ آخرت سے اندھے ہیں۔ دل کی بینائی جاتی رہی کوئی دلیل اور کوئی حق بات ان کو نظر نہیں آتی۔ مطلب یہ ہے کہ فقط شک اور تردد میں نہیں بلکہ اندھے بن گئے ہیں اور حق سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ دنیاوی لذات وشہوات میں غرق ہیں حیوان ہوگئے ہیں سوائے شکم اور شرمگاہ کے اور کسی طرف توجہ نہیں۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں یعنی عقل دوڑا کر تھک گئے آخرت کی حقیقت نہ پائی کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں۔ (موضح القرآن)
Ayahs 27:67–75

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟ ) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں دل تنگ ہونا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وقال الذین کفروا ءاذا کنا ترابا۔۔۔ الی۔۔۔ الا فی کتب مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار بعث یعنی دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اب ان آیات میں معاد کے متعلق ان کے شک اور شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ کفار قیامت کے قائل نہ تھے اور بطور مضحکہ یہ کہا کرتے تھے کہ بھلا آدمی مر کر بھی زندہ ہوتا ہے یہ سب محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو ! منکرین قیامت کا کیا انجام ہوا اور کیسے تباہ اور برباد ہوئے اور زمین ان کے ناپاک وجود سے پاک کردی گئی ان کی تباہی اور بربادی کے نشان موجود ہیں راستہ میں تم کو دکھائی دیتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت بل ہم مھا عمون۔ میں ان کافروں کا ذکر تھا کہ جو آخرت سے اندھے بن گئے اور حیوانات کی طرح ان کو سوائے کھانے اور پینے اور سونے کے کسی طرف توجہ نہیں رہی اب آگے ان اندھوں کا ذکر کرتے ہیں کہ جو آخرت کے بارے میں شک اور تردد میں نہیں بلکہ سختی سے آخرت کے منکر ہیں اور حیوان سے بڑھ کر حیوان بن گئے۔ اس لئے آئندہ آیت میں ان کا قول حیوانی نقل کر کے جواب دیتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یہ کافر یعنی منکرین قیامت چشم بصیرت کے اندھا ہوجانے کے سبب سے یہ کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے آباء و اجداد بالکل خاک ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے نکالے جائیں گے البتہ تحقیق یہ حشر ونشر کا وعدہ ہم کو بھی دیا گیا اور ہم سے پہلے ہمارے آباو اجداد کو بھی دیا گیا لیکن آج تک تو یہ وعدہ پورا نہیں ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں صرف اگلے لوگوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں یعنی حشر ونشر کی کوئی اصلیت نہیں۔ یوں ہی لوگوں نے افسانے بنائے ہیں۔ اے نبی ﷺ آپ ان مکذبین اور منکرین سے کہہ دیجئے کہ تم ملک کی سیر کرو پھر دیکھو کہ ان مجرمین اور منکرین آخرت کا انجام کیا ہوا کہ اس تکذیب اور انکار کے سبب کیسے تباہ اور برباد ہوئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک جن امتوں نے آخرت کو نہیں مانا وہ سب عذاب الٰہی سے ہلاک ہوئے اور اے نبی ﷺ آپ اپنی امت کے مشرکوں کی تکذیب اور انکار کی وجہ سے اور ان کے مکرو فریب کی وجہ سے۔۔۔۔ تنگدل اور غمگین نہ ہو جیئے وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میں تیرا نگہبان ہوں اور تیری حفاظت کا کفیل ہوں۔ (نظم) غم مخورز آنزوز کہ غمخوارت منم وزہمہ برہا نگہدارت منم از تو گر اغیار بردارند روی ایں جہان وآں جہاں یارت منم اور کہتے ہیں یہ کافر کہ وہ وعدۂ عذاب کہاں ہے اور کب ہوگا اے مسلمانو اگر تم سچے ہو اور عذاب سے ڈراتے ہو تو بتلاؤ کہ وہ عذاب کہاں ہے اگر تم سچے ہو تو اس وعدہ کو پورا کر کے دکھلاؤ اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ شاید وہ عذاب جس کی تم جلدی مچا رہے ہو اس میں کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے ہی پیچھے آجائے۔ اشارہ بدر کے دن کے عذاب کی طرف ہے یا قحط اور گرانی کی مصیبت کی طرف ہے یا عذاب قبر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بھی جلدی آنے والا ہے اور اب تک جو عذاب میں دیر ہو رہی ہے۔ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرا پروردگار لوگوں پر فضل کرنے والا ہے اور کہ فورا سزا نہیں دیتا لیکن لوگوں میں بہتیرے ایسے ہیں کہ جو شکر نہیں کرتے اور تاخیر عذاب جو کہ ایک نعمت ہے اس کا حق نہیں پہچانتے اور بیشک تیرا پروردگار خوب جانتا ہے اس عداوت کو جس کو وہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں اور خوب جانتا ہے اس تکذیب اور انکار کو جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں عذاب میں تاخیر بیخبر ی کی وجہ سے نہیں اللہ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے بلکہ حکمت اور مصلحت کی بناء پر ہے اور وہ حلیم وکریم ہے وہ عذاب میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے دشمنوں کو مہلت دیتا ہے اور آسمان و زمین کی کوئی چھپی بات ایسی نہیں کہ جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی نہ ہو اور ان پر جو عذاب بالفعل ان کی نظروں سے پوشیدہ ہے وہ بھی لوح محفوظ میں مقدر اور مقرر ہے وہ اپنے وقت پر آئے گا۔
Ayahs 27:76–81

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہو تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں

اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ان ھذا القران یقص علی بنی اسراء یل۔۔۔ الی۔۔۔۔ فہم مسلمون۔ (ربط) مبداء اور معاد کے بیان کے بعد رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن حکیم ہے یعنی یہ قرآن حکم اور حاکم بن کر آیا ہے جو اہل کتاب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو اہل کتاب کا اختلاف ہے اس کا فیصلہ کرتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے خدا اور خدا کے بیٹے نہ تھے جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں اور نہ معاذاللہ ساحر اور کاہن اور ولد الحرام تھے جیسا کہ یہود بےبہبود کہتے ہیں۔ نیز حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود ونصاریٰ کا جو اختلاف تھا قرآن کریم نے اس کا بھی فیصلہ کردیا اور بتمام و کمال حضرت مریم (علیہ السلام) کی عصمت اور نزاہت کو تفصیل کے ساتھ بتلا دیا۔ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر جو سحر کا اتہام تھا۔ قرآن نے اس کا بھی ازالہ کردیا اور رجم اور حرمت لحم وغیرہ کے اختلاف کا بھی فیصلہ کردیا۔ خلاصۂ کلام یہ کہ گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا اب اس کے بعد صدق رسالت اور دلیل نبوت کو بیان فرماتے ہیں۔ البتہ یہ قرآن پاک بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں کھولتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی فرقے تھے ہر فرقہ کا دین دوسرے فرقہ کے دین سے مختلف تھا مثلا توحید اور تثلیث میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کی الوہیت اور ابنیت میں اور جنت و جہنم کے جسمانی اور روحانی ہونے میں جو اختلاف تھا قرآن نے حق اور باطل کو واضح کردیا اور بتلا دیا کہ یہ بات حق اور صحیح ہے اور ایک دلیل یہ ہے کہ یہ قرآن بلاشبہ ہدایت ہے جس سے حق کا راستہ معلوم ہوتا ہے اور ایمانداروں کے لئے سراسر رحمت اور موجب خیروبرکت ہے کہ اس پر ایمان لا کر عذاب سے نجات ملتی ہے اے نبی آپ ﷺ ان معاندین کی مخالفت اور عداوت سے رنجیدہ نہ ہوں۔ تحقیق تیرا پروردگار ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہی ہے زبردست اور جاننے والا۔ اس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ پس آپ اللہ پر بھروسہ رکھیے اور ان کی عداوت اور مخالفت کی پروانہ کیجئے بیشک آپ صریح اور واضح حق پر ہیں اور یہ صریح باطل پر ہیں پس آپ ﷺ ان کی مخالفت اور عداوت کی پروانہ کیجئے اللہ آپ کا مددگار ہے اور ان کی ہدایت اور اصلاح کی امید دل سے نکال دیجئے۔ یہ لوگ مردہ دل ہیں۔ اے نبی آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے مردوں کو سنانا آپ کی قدرت میں نہیں اور اگر بالفرض یہ لوگ مردہ بھی نہ ہوں تو بہرے تو ضرور ہیں اور آپ بہروں کو بھی اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ خاص کر جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں۔ بہرا سنتا تو نہیں پر اشارہ سے سمجھ سکتا ہے مگر جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے تو اشارہ سے بھی نہیں سمجھ سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو ان کے دلوں کے کان بہرے ہیں اس لئے ان کو سنانا مشکل ہے اور جب بہرا پکارنے والے کی طرف سے منہ بھی پھیرلے اور بجائے منہ کے اس کی طرف پشت کر دے تو پھر اس کو سنانا بہت مشکل ہے اس لئے کہ جب وہ اشارہ اور کنایہ کو بھی نہ دیکھے گا تو کس طرح سمجھے گا اور اگر بالفرض یہ پشت بھی نہ پھیریں تو تب بھی ان کا سمجھانا ممکن نہیں اس لئے کہ یہ اندھے ہوچکے ہیں اور آپ ﷺ میں یہ قدرت نہیں کہ آپ اندھوں کو راستہ دکھا دیں کہ وہ اپنی گمراہی سے باز آجائیں۔ کفر سے آدمی اندھا ہوجاتا ہے۔ بینائی تو ایمان سے آتی ہے۔ لہٰذا آپ صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پھر وہ اللہ کے مطیع اور فرمانبردار بن گئے ہیں اور ایمان اور اسلام لانے کی برکت سے وہ زندہ اور بینا شنوا ہوگئے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ کہ آپ ﷺ جو لے کر آئے ہیں وہ بلاشبہ صریح حق ہے لیکن اس کے قبول کے لئے کچھ شرائط ہیں محض حق کا واضھ اور روشن ہونا کافی نہیں جب تک قبول کرنے والے میں شرائط قبول نہ پائے جائیں مثلا یہ کہ وہ زندہ ہو مردہ نہ ہو۔ بینا ہو اور نابینا نہ ہو۔ شنوا ہو بہرا نہ ہو۔ ایمان لانے سے آدمی زندہ ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں۔ فائدہ دربارۂ سماع موتی : اس آیت سے بعض علماء نے استدلال کیا کہ مردے نہیں سنتے اس لئے کہ آیت میں موتی سے کفار مراد ہیں ان کے دل مردہ ہوچکے ہیں مگر کفار کو موتی کے ساتھ تشبیہ دینا جب ہی درست ہوسکتا ہے کہ جب مردے نہ سنتے ہوں لیکن احادیث صحیحہ سے مردوں کا سننا اور قبر پر حاضر ہونے والے کے سلام کو سننا ثابت ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ آیت احادیث کے معارض نہیں اس لئے کہ آیت میں سماع موتی کی نفی نہیں بلکہ اسماع موتی کی نفی کی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے نبی یہ کفار بمنزلہ مردوں کے ہیں اور عالم اسباب میں مردوں کو سنانا بشری قدرت سے باہر ہے باقی حق تعالیٰ اگر اپنی قدرت سے کسی مردہ کو سنانا چاہیں تو یہ ممکن ہے جیسے۔ وما انت بھاد العمی کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت بمعنی توفیق نبی کی قدرت اور اختیار میں نہیں جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے۔ انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء نبی کا کام حق کا بتلا دینا اور اس کا سنا دینا ہو باقی حق کا دل میں اتار دینا یہ اللہ کا کام ہے اسی طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی یہ کافر دل کے مردہ ہیں۔ ان کو حق بات سنانا آپ کی قدرت میں نہیں ہے نیز احادیث میں زیارت قبور کی تاکید اور مردوں کو بصیغۂ خطاب ” السلام علیکم “۔ سلام کرنے کا حکم آیا ہے۔ سلام کرنے کا حکم آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ مردے بحکم خداوندی سنتے ہیں اور قبر پر حاضر ہونے والے کو اگر زندگی میں پہچانتے تھے تو مرنے کے بعد بھی پہچانتے ہیں۔
Ayahs 27:82–86

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ان کے بارے میں (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کردے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں کی پر ایمان نہیں لاتے تھے

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس روز ہم ہر امت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو ان کی جماعت بندی کی جائے گی

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا بھلا تم کیا کرتے تھے ؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان کے ظلم کے سبب ان کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہو کر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا کہ اس میں کام کریں ؟ ) بیشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں

ذکر بعض اشراط ساعت یعنی علامات قیامت قال اللہ تعالیٰ واذا وقع القول علیہم اخرجنا لہم دابۃ من الارض۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قاہرہ سے اپنے کمال قدرت اور کمال علم کو بیان کر کے امکان حشر اور امکان قیامت کو ثابت کیا پھر اس پر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بطور تفریح ذکر کیا۔ اب ان آیات میں مقدمات قیامت یعنی قیامت کی بعض علامتوں کو ذکر کرتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دابہ (جانور) زمین سے نکلے گا اور لوگوں سے کلام کرے گا اور دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا قیامت کی نشانی ہوگی اور قیامت کی علامتوں کا بتلانا سوائے نبی کے کسی کے لئے ممکن نہیں۔ قیامت کی علامتوں کا علم صرف نبی ہی کے بتلانے سے ہوسکتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب یہ منکرین قیامت عناد اور سرکشی میں اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ کسی عالم اور واعظ کی نصیحت اور موعظت ان کے حق میں کارگر نہ ہوگی اور اللہ کا حکم ناطق ان پر آپڑے گا یعنی ان پر حجت پوری ہوجائے گی اور ہر طرح غضب الٰہی کے مستحق ہوجائیں گے تو اس وقت تک ان کی فضیحت کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے انسان کی طرح کلام کرے گا اس لئے کہ وہ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔ جو بات پیغمبروں کے وارثوں کے کہنے سے نہیں مانی تھی اب وہ ایک جانور کی زبانی ماننی پڑے گی۔ مگر اس وقت کا ماننا کچھ نفع نہیں دے گا ماننے کا وقت گزر گیا۔ ” دابۃ الارض “ سے ایک جانور مراد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے بعد قیامت کے قریب مکہ مکرمہ کی سرزمین سے نکلے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کے لئے پتھر سے ایک اونٹنی نکالی تھی اسی طرح قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ مکہ کی زمین سے ایک دابۃ (جانور) نکالے گا اور اس کے پاس ایک مہر ہوگی جس سے مومن اور کافر کی پیشانی پر داغ اور نشانی لگائے گا۔ مومن کی پیشانی پر سفید نشان لگائے گا اور کافر کی پیشانی پر سیاہ داغ لگائے گا اس نشان کے بعد مومن اور کافر ظاہری طور پر پہچانا جائے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ دابۃ الارض کا قیامت کے قریب زمین سے نکلنا قرآن کریم کی اس آیت سے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے جس میں شک اور شبہ کی گنجائش نہیں۔ رہا یہ امر کہ اس کی شکل کیسی ہوگی اور کہاں سے نکلے گا اور اس وقت کیا واقعات پیش آئیں گے سو اس بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ اخبار آحاد کے درجہ میں ہیں خروج دابۃ الارض کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان کی قدرے تفصیل تفسیر قرطبی ص 234 ج 13، اور تفسیر ابن کثیر ص 374 ج 3۔ اور شرح عقیدہ سفارینیہ از ص 137 ج 2۔ تا ص 142 میں مذکور ہیں۔ احادیث میں جن مشہور ومعروف علامات قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک علامت خروج دابۃ الارض بھی ہے اور دابۃ الارض کا خروج اس وقت ہوگا کہ جب آفتاب بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع کرے گا۔ اور اس کے بعد آفتاب بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع کرے گا۔ اور اس کے بعد لگاتار یکے بعد دیگرے قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ سماوی آیات کے لحاظ سے قیامت کی پہلی نشانی آفتاب کا مغرب سے طلو ع ہونا ہے اور آیات ارضیہ کے اعتبار سے پہلی نشانی دابۃ الارض کا زمین سے نکلنا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی قریبی نشانی کا ذکر ذکر فرمایا اب آئندہ آیت میں مجمل طریقہ سے روز حشر کے کچھ احوال و اہوال کا ذکر فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو ہم جمع کریں گے ہر امت میں سے ایک جماعت اور ایک جتھہ کو ایسے لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اس روز ہر جماعت اور ہر جتھہ الگ الگ ہوگا۔ ہر گناہ کرنے والوں کی جماعتیں اور جتھے الگ الگ ہوں گے پھر وہ جتھے روکے جاویں گے یعنی ایک جماعت کو دوسری جماعت کے آنے تک الگ جگہ کھڑا کیا جائے گا تاکہ سب جماعتیں ایک جگہ جمع ہوجائیں اور کوئی رہ نہ جائے یہاں تک کہ جب سب میدان حشر میں پہنچ جائیں گے تو حساب و کتاب شروع ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم ہی نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم نے میری آیتوں کو اچھی طرح سمجھا بوجھا ہی نہ تھا بغیر سوچے سمجھے ہی جھٹلانا شروع کردیا آخر بتلاؤ تو سہی کہ تم کرتے کیا تھے۔ بےسوچے سمجھے اعمال کفریہ میں مبتلا تھے یعنی سوائے تکذیب کے تمہارا کام ہی کیا تھا اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا حکم واقع ہوجائے گا اور وہ بول بھی نہیں سکیں گے جرم ثابت ہوجائے گا اور دم مارنے کی مجال نہ ہوگی کیا نہیں دیکھا ہے حشر سے انکار کرنے والوں نے کہ ہم نے رات کو بنایا تاکہ سو کر اس میں آرام کریں اور دن کو بنایا روشن تاکہ دیکھ بھال کر اپنے کاروبار کریں مطلب یہ ہے کہ رات کا سونا موت کا نمونہ ہے اور صبح کی بیداری دوبارہ زندگی کا نمونہ ہے روزانہ حشر ونشر کا نمونہ دیکھتے ہیں اور پھر بھی حشر کا انکار کرتے ہیں۔ پس جو خدا روشنی کے بعد اندھیرا اور اندھیرے کے بعد روشنی لانے پر قادر ہے وہ بلاشہ مردوں کے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے بیشک لیل ونہار کی اس طرح آمدو رفت میں حشر ونشر کی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین لاتے ہیں رات کا سونا ایک قسم کی موت ہے سونے کے بعد انسان کو اس جہان کی کچھ خبر نہیں رہتی پس خدا تعالیٰ جس وقت چاہتا ہے تم کو سلاتا ہے اور جب چاہتا ہے تو تم کو جگا دیتا ہے اسی طرح وہ جب چاہے گا تو تم کو موت کے بعد اٹھا دے گا لہٰذا تم اس دنیوی زندگی کو بمنزلہ خواب کے سمجھو اور قبر سے اٹھنے کو بیداری سمجھو کہ سب چیزیں تمہاری آنکھوں کے سامنے روشن ہوجائیں گی۔
Ayahs 27:87–90

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب گھبرا اٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اڑے پھریں گے جیسے بادل (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا بیشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

بیان حال قیامت وجزاء آخرت قال اللہ تعالیٰ ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اول قیامت کا امکان ثابت کیا پھر روز قیامت کے کچھ مبادی اور چند علامتوں کا ذکر کیا اب ان آیات میں روز قیامت کا حال اور حشر کی کچھ مجمل کیفیت بیان کرتے ہیں کہ خروج دابۃ الارض اور طلوع الشمس من المغرب کے بعد قیامت کا آغاز اس طرح ہوگا کہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور چونکہ روز قیامت روز جزاء ہے اس لئے اخیر میں قانون جزا بیان کیا۔ من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا الی اخر الایات چناچہ فرماتے ہیں اور ذکر کیجئے آپ ان سے اس دن کا جس میں قیامت کا آغاز اس طرح ہوگا کہ اول صور پھونکا جائے گا پس اس کی ہیبت اور ہول سے سب گھبرا جائیں گے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے یہ دنیا کی عمر کا آخری دن ہوگا جس کا آغاز نفخ صور سے ہوگا جس کی شدت اور ہول سے آسمان کے فرشتے اور زمین کے باشندے گھبرا جائیں گے مگر جس کو خدا چاہے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رہے گا بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ الا من شاء اللہ۔ سے جبریل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) اور عزرائیل (علیہ السلام) اور ارواح انبیاء (علیہ السلام) اور ارواح شہداء مراد ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس استثناء سے عام مومنین صالح مراد ہیں جیسا کہ آئندہ آیت میں ہے۔ من جاء بالحنسۃ فلہ خیر منھا وہم من فزع یومئذ امنون۔ دیکھو تفسیر ص 241 ج 13۔ مگر کچھ عرصہ بعد جبریل (علیہ السلام) ومیکائیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) و عزرائیل (علیہ السلام) اور حاملان عرش بھی بدون اثر نفخہ صور وفات پاجائیں گے۔ کما فی الدر المنشور فی تفسیر سورة الزمر اس سے مراد نفخہ اولیٰ ہے جس کا اثر آسمان و زمین کی تمام مخلوق کو پہنچے گا۔ جو زندہ ہیں وہ گھبرا کے مرجائیں گے اور جو مرچکے ہیں ان کی روحیں بےہوش ہوجائیں گے۔ البتہ جبریل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) اور عزرائیل (علیہ السلام) اور حاملان عرش اس سے محفوظ رہیں گے مگر بعد میں وہ بھی بحکم خداوندی وفات پا جائیں گے اور بجز واحد قہار کے کوئی باقی نہ رہے گا پھر نفخہ ثانیہ پر سب زندہ ہوجائیں گے۔ حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (رح) لکھتے ہیں۔ ایک بار صور پھنکے گا جس سے خلق مرجائے گی۔ دوسرا پھنکے گا تو جی اٹھیں گے اس کے بعد پھنکے گا تو گھبرا جائیں گے۔ پھر پھنکے گا تو بےہوش ہوجائیں گے اور پھر پھنکے گا تو ہوشیار ہوں گے۔ صور پھنکنا کئی بار ہے (موضح القرآن) اور جمہور علماء کا قول ہے کہ نفخ صرف دو ہیں یعنی صور صرف دو مرتبہ پھنکے گا اور باقی سب احوال واہوال انہی دو نفخوں میں درج ہیں۔ پہلی بار جب صور پھونکا جائے گا تو ابتدا میں آہستہ ہوگا اس لئے اس کو نفخہ فزع کہا جائے گا پھر یہ جب یہ نفخہ دراز ہوگا تو ایسا سخت ہوجائے گا کہ ” صعقہ “ ہوجائے گا یعنی زندوں کے لئے موت ہوگا اور مردوں کے ارواح کے لئے بےہوشی ہوگا تو اس اعتبار سے اس کو نفخہ صعق کہا جائے گا اس نفخہ صعق سے تمام مخلوق مردہ ہوجائے گی پھر چالیس سال (1) کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے۔ (تفسیر قرطبی) پہلے نفخہ کے بعد جب لوگ مردہ ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ایک خفیف بارش نازل کریں گے جو اوس کے مشابہ ہوگی۔ جس سے اجسام میں اگنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔ اس بارش کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو مردے زندہ ہوجائیں گے اور ایک ایک کر کے سب عاجز اور مطیع ہو کر خدا کے سامنے حاضر ہوجائیں گے اور یہ حاضری حساب و کتاب کے لئے ہوگی۔ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور سروں سے خاک جھاڑتے ہوئے حساب و کتاب کے لئے میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اور پستی اور عاجزی کے ساتھ اللہ کی عظمت وکبریائی کے سامنے حاضر ہوں گے۔ انسان ضعیف البنیان کی حقیقت تو کیا ہے۔ اس عظمت اور کبریائی کے سامنے تو پہاڑ بھی اڑتے ہوئے نظر آئیں گے جیسا کہ آئندہ آیت میں آتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو اے مخاطب تو اس دن پہاڑوں کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ ظاہر نظر میں تو ان کو جامد یعنی ایک جگہ ٹھہرا ہوا خیال کرے گا حالانکہ وہ بادلوں کی طرح رواں ہوں گے اور اے مخاطب تو اس پر تعجب نہ کر بلکہ خدا کی صنعت پر نظر (ف 2) کر اور اس کی کاریگری کو دیکھ جس نے ہر چیز کو مضبوط اور مستحکم بنایا ہے پس جو خدا پہاڑوں کے مضبوط بنانے پر قادر ہے وہ ان کے اکھیڑنے پر بھی قادر ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال سے پورا باخبر ہے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دی جائے گی یہ تو یوم حساب کا کچھ حال تھا اب آگے جزا وسزا کا قانون اور ضابطہ بیان کرتے ہیں جو شخص اس دن نیکی لے کر آئے گا یعنی ایمان اور عمل صالح لے کر آئے گا تو اس کی نیکی سے بہتر اجر ملے گا اور ایسے ہی لوگ اس دن گھبراہٹ سے مامون اور محفوظ ہوں گے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ آیت میں نفخہ فزع سے جو استثناء کیا گیا تھا وہ عام مومنین صالحین کو شامل ہے جیسا کہ دوسری جگہ ہے لا یحزنہم الفزع الاکبر۔ اور عجب نہیں کہ یہ مطلب ہو کہ نفخ صور کا فزع صرف کافروں کو ہوگا۔ اہل ایمان اس سے محفوظ اور مامون رہیں گے اور اس روز جو لوگ بدی یعنی کفر اور شرک کو لے آویں گے تو وہ منہ کے بل آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نہیں سزا دئیے جا رہے ہو مگر ان اعمال کی جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے اور اس کے بعد ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا تاکہ ان کو معلوم ہو کہ اس جرم کی سزا میں ہم کو جہنم میں ڈالا جا رہا ہے۔ 1 : قد روی ابن المبارک عن الحسن قال قال رسول اللہ ﷺ بین النفختین اربعون سنۃ الاولی یمیت اللہ بھا کل حی والاخری یحییٰ اللہ بھا کل میت (تفسیر قرطبی ص 240 ج 13 ) 2: فیہ اشارۃ الی ان صنع اللہ منصوب علی الاغراء بمعنی انظر واصنع اللہ۔ (روح المعانی
Ayahs 27:91–93

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(کہدو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہو کہ خدا کا شکر ہے وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انکو پہچان لو گے اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا پروردگار ان سے بیخبر نہیں ہے

خاتمہء سورت برحکم عبادت وتلاوت قرآن قال اللہ تعالیٰ انما امرت ان اعبدرت ھذہ البلدۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون۔ (ربط) جب اللہ تعالیٰ مبدا اور معاد اور قیامت اور علامات قیامت اور قانون جزا اور سزا کو بیان کرچکے تو اب اس سورت کو تین احکام کے بیان پر ختم کرتے ہیں جن پر آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ (1) ایک تو خدا کی عبادت۔ یعنی توحید خالص۔ (2) دوم دین اسلام پر استقامت۔ (3) سوم قرآن مجید کی تلاوت جو تبلیغ احکام اور دعوت اسلام کا اولین ذریعہ ہے۔ اور بتلا دیا کہ راہ راست پر چلنے سے بندہ ہی کا فائدہ ہے۔ اور نہ چلنے سے بندہ ہی کا نقصان ہے اور اللہ بندوں کے اعمال سے غافل نہیں۔ لہٰذا اعمال صالحہ عبادت اور تلاوت میں لگے رہو تاکہ آخرت میں کام آویں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مبداء اور معاد کو اور ایمان اور ہدایت کو بیان کیا اب نبی اکرم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ تبلیغ رسالت کرچکے اور حق دعوت ادا کرچکے۔ منکرین پر حجت پوری ہوگئی۔ لہٰذا آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہیں۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور ان مخالفین کی پروا نہ کریں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان لوگوں سے یہ کہہ دیجئے کہ بس مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں شہر مکہ کے پروردگار کی عبادت اور بندگی میں لگا رہوں جس پروردگار نے اس کو حرم محرم ٹھہرایا ہے کہ اس نے اس شہر میں قتل و قتال کو اور شکار کرنے کو اور اس کے گھاس کاٹنے کو اور بغیر احرام کے اس میں داخل ہونے کو ممنوع قرار دیا ہے اور اس کی تحریم خدا کی طرف سے ہے بتوں کی طرف سے نہیں ہے اور ہر شے اسی پروردگار کی ملک ہے اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص اللہ کے فرمانبرداروں میں سے رہوں یعنی توحید اور اخلاص اور عبودیت پر قائم اور ثابت قدم رہوں اور مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں یعنی خود بھی پڑھتا رہوں اور تم کو بھی پڑھ کر سناتا رہوں اس آیت میں تلاوت قرآن کے حکم سے تلاوت قرآن پر مواظبت اور مداومت مراد ہے خواہ وہ تلاوت بطریق عبادت ہو یا بطریق دعوت ہو یعنی مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں برابر قرآن کی تلاوت میں لگا رہوں اور مسلسل تم کو اللہ کا پیغام اور اس کے احکام پہنچاتا رہوں سو جو کوئی میری ہدایت سے راہ ہدایت پر آجاوے تو وہ اپنے ہی بھلے کے لئے راہ ہدایت پر آتا ہے اس کا نفع اسی کی ذات کو ہے اس نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا اور جو شخص راہ ہدایت بتلانے کے بعد بھی گمراہ رہا تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈرانے والوں میں سے ہوں اور بس۔ یعنی مراد کام تو صرف پہنچا دینا ہے۔ ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے میرا یہ کام نہیں کہ تم سے زبردستی منواؤں اور آپ کہہ دیجئے کہ شکر ہے خدا تعالیٰ کا جس نے مجھ کو منصب رسالت پر فائر کیا اور اپنے پیغام پہنچانے کی توفیق دی۔ اب نتیجہ اور انجام سب اس کے ہاتھ میں ہے سو وہ عنقریب تم کو اپنی قدرت کی اور میری نبوت کی نشانیاں دکھلائے گا جن کی خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ پھر تم ان کو پہچان لو گے جن کا تم اب انکار کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو عذاب نہیں دیتا جب تک ان پر حجت پوری نہ کردے اس لئے وہ وقتا فوقتا تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں اور آخرت کی نشانیاں دکھلائے گا۔ آخرت کی آخری نشانیوں میں سے زمین سے سے دابۃ الارض کا خروج ہے مگر نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لانا چنداں مفید نہیں اب اگر ایمان لے آؤ تو نفع دے گا۔ اور اے نبی تیرا پروردگار بنی آدم کے اعمال سے غافل نہیں وہ ان کے اعمال سے خبردار ہے۔ اعمال کے مطابق ان کو سزا دے گا لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ آخرت پر ایمان لائیں گے اور اس کی تیاری کریں۔ براحتے نرسید آنکحہ زحمتے نکشید