Ayahs 26:1–9ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے خویش و اقارب کو آگ میں گرتا ہوا دیکھے تو لامحالہ اس کا دل بےچین ہوجائیگا۔ اسی طرح اللہ کا نبی جب یہ دیکھتا کہ یہ لوگ کفر کرکے جہنم میں گر رہے ہیں تو بےاختیار دل پر صدمہ ہوتا تو آپ ﷺ کو تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں۔ اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت یہ نہیں کہ سب ایمان لے آئیں۔ ولو شاء ربک لامن من فی الارض کلہم جمیعا۔ لہٰذا آپ ﷺ اس حسرت میں اپنے آپ ﷺ کو ہلاک نہ کریں۔ فلا تذھب نفسکم علیہم حسرات۔ فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفاہ بیشک بمقتضائے شفقت و رحمت دل ثاہتا ہے لیکن ایمان لانے پر مجبور کردینا وہ آپ ﷺ کے اختیار میں نہیں وہ ہمارے اختیار میں ہے اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے اپنے جلال اور قہر کی کوئی نشانی اتار دیں پھر ان کشوں کی گردنیں اس نشانی کے سامنے جکھی ہی رہیں۔ یعنی ان کو مان لیں اور اس سے گردنین نہ پھیر سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ایسی نشانی نازل کردیں کہ اس کو دیکھ کر ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں لیکن قضائے الٰہی جاری ہوچکی ہے کہ ایسی نشانی نازل نہیں کہ جائے گی جو ایمان کے ساتھ متعلق نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ کا ان کے ایمان کی حرص اور طمع میں پڑنا بےسود ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے عناد کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے تو یہ لوگ قرآن کو اور رسول کو جھٹلاچکے ہیں اور اس کو کھیل اور تمسخر بنا چکے ہیں اور اپنی تکذیب پر مصر ہیں پس عنقریب ان کے پاس اس چیز کی حقیقت ان کے سامنے آجائے گی جس کی یہ ہنسی اڑایا کرتے تھے یعنی ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اگر ان لوگوں کو خدا کی وحدانیت اور کمال عظمت وقدرت میں کوئی تردد ہے تو کیا ان ہنسی اڑانے والوں نے زمین کی طرف نظر نہیں کی کہ ہم نے محض اپنی قدرت سے ہر قسم کے عمدہ اور قابل قدر گھاس اگائے ہیں۔ کسی مادہ یا ایتھر میں یہ قوت نہیں کہ وہ زمین سے مختلف قسم کے گھاس اگا سکے یہ سب خداوند کریم کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے ان انواع و اقسام کو پیدا کیا۔ بیشک زمین سے اس طرح اگانے میں اللہ کے کمال قدرت و حکمت کی بڑی عظیم الشان نشانی ہے جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے ہے۔
اسی طرح کہ خدا تعالیٰ کو قدرت ہے کہ تمہاری زمین قلب میں جو استہزاء کا تخم موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس خبیث تخم سے تمہارے لئے ذلت اور مصیبت کا کوئی درخت پیدا کر دے جیسے تخم کے مطابق زمین سے قسم قسم کی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح ان کی زمین قلب سے ان کے عقائد اور اعمال کے مناسب نتائج ظاہر ہوتے ہیں اور خدا کی قدرت کی یہ نشانی نظروں سے مخفی نہیں و لیکن ان معاندین میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں اللہ کے علم میں وہ قطعی کافر ٹھہر چکے ہیں اور بیسک تیرا پروردگار بڑا غالب اور قاہر ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ کافروں پر کوئی بلا نازل کرے اور اپنے پیغمبروں کے دشمنوں سے انتقام لے اور وہ اپنے دوستوں پر بڑا مہربان ہے کہ باوجود بےسروسامانی کے ان کو عزت اور غلبہ دے لہٰذا جب حقیقت حال یہ ہے تو آپ ﷺ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کافروں کے کفر کو اللہ کی حکمت اور اس کی مشیت کے حوالہ کریں اور ان پر کچھ غم اور حسرت نہ کریں۔
اس کے بعد آپ کی تسلی کے لیے سات پیغمبروں کے قصے بیان کرتے ہیں کہ ان معاندین کا حال پہلی قوموں کے معاندین جیسا ہے ان کو کیسی ہی نشانیاں دکھلاؤ یہ لوگ ہرگز ایمان لانے والے نہیں لہٰذا آپ ﷺ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں۔
(1) حضرت نوح (علیہ السلام) نہایت درجہ کے صاحب صبر و تحمل تھے۔
(2) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صاحب جود و کرم تھے اور اللہ کے عشق اور محبت میں فنا تھے۔
(3) اور حضرت داؤد (علیہ السلام) اصحاب شکر میں سے تھے کہ اللہ کی ظاہری اور باطنی اور دینی اور دنیاوی نعمتیں ان پر مبذول ہوئیں مگر باوجود اس کے وہ شکر خداوندی میں غرق رہے اور منعم حقیقی سے غافل نہ ہوئے۔
اور حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام اصحاب زہد میں سے تھے اور نفس اور شہوت پر غالب اور قاہر تھے اور دنیائے حلال سے بھی کنارہ کش تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) شکر اور صبر دونوں کے جامع تھے۔ ضراء میں صبر کیا اور سراء میں شکر کیا اور حضرت یونس (علیہ السلام) صاحب تفرع و تخشع تھے۔ بارگاہ خداوندی میں گریہ وزاری اور توجہ اور مراقبہ اور ذکر و تسبیح ان کی خاص شان تھی
اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب جاہ و جلال اور صاحب ہمت و شجاعت تھے بارگاہ خداوندی میں ان کو خاص وجاہت اور قرب خاص اور اختصاص حاصل تھا۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) فصاحت و بلاغت کے ساتھ صاحب رفق ولین بھی تھے مزاج میں غایت درجہ نرمی تھی اور ہمارے نبی اکرم سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تمام فضائل و کمالات کے جامع تھے۔
فبلغ العلم فیہ انہ بشر وانہ خیر خلق اللہ کلہم
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو معجزات عطاء فرمائے جو ان کی نبوت کی دلیل بنے اور ان کی صداقت اور امانت کے شاہد اور گواہ بنے مگر انبیاء سابقین کے معجزات ان کی نفس نبوت کے علاوہ تھے جو ان کی نبوت کی دلیل اور برہان تھے اور ہمارے نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نیجو معجزات عطاء کیے وہ بھی اکثر و پیشتر اسی قبیل سے تھے کہ آپ ﷺ کے دعوائے نبوت کی دلیل اور برہان تھے مگر معجزہ قرآن (جس کا ذکر سے اس سورت کا آغاز ہوا) جو آپ ﷺ کو عطاء ہوا اور عین نبوت بھی تھا اور دلیل نبوت بھی تھا دیگر معجزات گزر گئے مگر معجزہ قرآن اور علیٰ ہذا معجزہ شریعت وہ تاہنوز اسی طرح باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔
Ayahs 26:10–22قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا اور یہ حکم دیا کہ اے موسیٰ ظالم قوم فرعون کے پاس جا۔ جنہوں نے کفر کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور خدا کے ماننے والوں یعنی بنی اسرائیل کو غلام یا جن کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ خدا کو کیوں مانتے ہیں اور پیغمبروں کے حکم پر کیوں چلتے ہیں کیا یہ ظالم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔ اس لیے اے موسیٰ (علیہ السلام) تم کو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے کہ تم جا کر ان کو حق کی دعوت دو اور اللہ کے عذاب سے ان کو ڈراؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار یہ ظالم تو کیا ڈرتے اے میرے رب تحقیق میں ڈرتا ہوں کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں اور یہ کہیں کہ ہم تو رب العالمین ہی کے قائل نہیں اس کے لیے کسی رسول اور پیغمبر کے کیسے قائل ہوسکتے ہیں اور طبعی طور پر میرا سینہ گھتا جاتا ہے کہ ایسے سنگدلوں کو اللہ کا پیغام کس طرح پہنچاؤں اور علاوہ ازیں میری زبان بھی اچھی طرح نہیں چلتی اس میں کچھ لکنت ہے اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے پس آپ بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام) نبوت و رسالت کا پیغام ہارون کے پاس بھیج دیجئے اور ان کو میرا وزیر بنا دیجئے۔ تاکہ وہ تبلیغ رسالت میں مری مدد کریں اور علاوہ ازیں میرے خوف کی ایک وجہ یہ بھی ہے انکا مجھ پر ایک گناہ کا دعویٰ ہے میں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے جس کا قصہ سورة قصص میں آئیگا سو اس لیے مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ تبلیغ رسالت سے پہلے ہی مجھ کو اس قبطی کے عرض میں قتل نہ کر ڈالیں ایسی حالت میں کس طرح تیرا پیغام پہنچاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب میں فرمایا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی تم کو قتل کر ڈالے لہٰذا تم ہرگز نہ ڈرو۔ پس تم دونوں ہماری نشانیوں کو ساتھ لیکر فرعون کے پاس جاؤ۔ نشانیوں سے وہ معجزات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے تھے جیسے عصا اور یدبیضاء کہ جو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی دلیل اور صداقت کے نشان تھے پس ان نشانات کو لیکر بےخوف و خطر تم روانہ ہوجاؤ بیشک ہم اپنے لطف و عنایت و حمایت و حفاظت سے تمہارے ساتھ ہیں اور جو بات تمہارے اور فرعون کے درمیان میں ہوگی وہ ہم سے پوشیدہ نہ ہوگی۔ ہم اس کے خوب سننے والے ہیں جو تم کہو گے وہ بھی سنیں گے اور جو وہ کہے گا وہ بھی سنیں گے۔ پس تم دونوں بےخوف و خطر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کے سوالات سے مت گھبراؤ اور اس سے کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے رسول اور پیغمبر ہیں اس کا پیغام لیکر تیرے پاس آئے ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے تو رب العالمین کی ربوبیت پر اور اس کے رسولوں کی رسالت پر ایمان لا اور بعد ازاں بنی اسرائیل کو کہ جو رب العالمین کی ربوبیت اور اس کے رسولوں کی رسالت پر ایمان لائے ہوئے ہیں اور محض اس ایمان کی وجہ سے تو نے ان کو اپنے ظلم و ستم کا تختہ مشق بنایا ہوا ہے اس ظلم سے باز آجا اور ان سے دست بردار ہوجا اور ان کو ہمارے ساتھ بھیج دے تاکہ وہ اپنے آبائی اور جدی مقام یعنی سرزمین شام میں چلے جاویں۔
امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا پیغام لیکر فرعون کے پاس گئے تو ایک سال تک فرعون کے دربار میں ان کو رسائی نہ ہوئی آخر فرعون کے دربار میں ایک سال کے بعد آپ کو رسائی ہوئی۔ دربان نے فرعون سے جاکر کہا کہ یہاں ایک انسان ہے وہ یہ کہتا ہے کہ وہ رب العالمین کا رسول ہے۔ فرعون نے کہا کہ اچھا اس کو اندر آنے کی اجازت دیدو۔ کچھ ہنسی اور دل لگی کرنے لگے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں اندر داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔ دیکھو تفسیر قرطبی ص 94 ج 13۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے چونکہ فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اس لیے دیکھ کر ان کو پہچان لیا اور بچشم حقارت ان کی طرف نظر کرکے بولا کیا ہم نے تجھ کو اپنے گھر میں نہیں پالا۔ درآنحالیکہ تو ایک نومولود بچہ تھا اور تو نے اپنی عمر کے سالہا سال ہم میں گزارے ہیں۔ اٹھارہ یا بیس سال۔ اور پھر تو نے وہ کردار کیا جو تو نے کیا یعنی جو تجھے معلوم ہے مطلب یہ تھا کہ تو نے ہمارے گھر میں پرورش پائی اور جوان ہوا اور پھر اس احسان کے بدلہ میں ہماری قوم کے ایک آدمی یعنی قبطی کو مار ڈالا اور احسان فراموشی کی اور تو ہماری نعمت کی ناشکری کرنے والوں میں سے ہے۔ اب تو ہمارے احسانات کو بھلا کر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم تجھ پر ایمان لے آئیں اور تیرے تابع اور فرمانبردار بن جائیں۔ فرعون نے اول موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا احسان یاد دلایا تاکہ وہ شرمائیں اور بعد ازاں انکا ایک جرم یعنی قبطی کو قتل کرنے کا واقعہ یاد دلایا تاکہ ڈریں اور گھبرائیں کہ میں فرعون کا مجرم بھی ہوں اور ممنون احسان بھی ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دوسری بات کا پہلے جواب دیا۔ چناچہ فرماتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی اس ناسپاسی کے الزام میں کہا کہ بیشک میں نے وہ کام کیا اور میں اس وقت غلطی کرنے والوں میں سے تھا۔ یعنی میں نے اس قطبی کو قصداً قتل نہیں کیا۔ تنبیہ اور تادیب کی غرض سے اس کے ایک مکا مارا تھا جس سے دفعۃ وہ مرگیا مجھے یہ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ وہ ہٹا کٹا ایک مکا لگتے ہی مرجائیگا وہ کام مجھ سے نادانستہ ہوگیا جان بوجھ کر میں نے نہیں کیا مجھے کیا خبر تھی کہ ایک مکا مارنے سے ایک دم اس کا دم نکل جائیگا۔ کما قال تعالیٰ فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔
پس جب میں تمہارے ظلم و ستم سے ڈرا تو تم میں سے بھاگ نکلا اور مدین چلا گیا حالانکہ جو فعل مجھ سے نادانستہ طور پر ہوگیا تھا وہ اس درجہ کا نہ تھا کہ اس سے ڈر کر بھاگا جائے لیکن تمہارے ظلم و ستم اور جوش عداوت اور بےعقلی نے مجھ کو بھاگنے پر مجبور کردیا پس اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تم ظالموں سے نجات دی۔ اللہ کا ایک انعام تو یہ ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر دوسرا انعام یہ فرمایا کہ میرے پروردگار نے مجھ کو خاص علم و حکمت اور خاص فہم و فراست عطاء کیا اور مجھ کو پیغمبروں میں سے بنایا کہ رب العالمین کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو علم و حکمت دیکر اور رسول بنا کر بندوں کی ہدایت کے لیے بھیجا اگر تو نے مانا تو سلامت رہے گا ورنہ ہلاک ہوگا۔
فرعون کے دوسرے الزام کا جواب
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کا احسان جتلایا تھا۔ الم نربک فینا ولیدا۔ اس کا جواب تو موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ دیا کہ جو گزر گیا اب اس کے دوسرے الزام کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور وہ تربیت اور پرورش جس کا تو ذکر کرتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ نعمت ہے اور نعمت کا احسان مجھ پر رکھتا ہے اس کو جتلا رہا ہے وہ درحقیقت نعمت اور احسان نہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا اور ان کی نرینہ اولاد کو ذبح کرنے کا حکم دیا اس خوف سے میری ماں نے مجھ کو تابوت میں بند کرکے دریا میں ڈال دیا جو اتفاق سے تجھ تک پہنچ گیا اور تو نے مجھ کو لیکر اور بیٹا بنا کر پال لیا اس طرح کئی سال میں تیری پرورش میں رہا۔ تو اس تربیت کی اصل علت تیرا ظلم و ستم اور شقاوت اور قساوت ہے اگر بنی اسرائیل کے بچوں کے ذبح کا حکم نہ دیتا تو میری ماں مجھ کو تابوت میں بند کرکے دریا میں نہ ڈالتی اور مجھے تیری پرورش کی ضرورت نہ ہوتی تمام بنی اسرائیل پر تیرا یہ بےمثال ظلم و ستم ہے جو میری ولادت سے بھی مقدم ہے لہٰذا ایک فرد واحد کی تربیت پوری قوم کی عبدیت کے جواز کی کیسے دلیل بن سکتی ہے۔ تو نے مجھ کو اپنا بیٹا بنا کر میری پرورش تو بعد میں کی اور میری قوم کو میری پیدائش سے پہلے ہی غلام بنا چکا تھا، جس رب العالمین نے مجھ کو تیرے زہرہ گداز مظالم سے بچا کر تیرے ہی گھر میں میری پرورش کرائی ہے اسی رب العالمین نے مجھ کو تیری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔
در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصہ فرعون زیں افسانہ بود
اور اسی رب العالمین کی طرف سے جو پیغام ہدایت لے کر تیرے پاس آیا ہوں وہ تیری روحانی تربیت بلکہ روحانی حیات اور دائمی زندگی کا سامان ہے جس کے سامنے وہ چند روز تربیت جس کا تو مجھ پر احسان جتلا رہا ہے۔ ہیچ ہے تو مردہ ہے میں تیرے لیے ہدایت کا تریاق لیکر آیا ہوں ایک گھونٹ پی لے زندہ ہوجائیگا۔
تو نے مجھے اپنا بیٹا بنا کر میری پرورش کی۔ مجھے تو تو نے چھوڑ دیا اور میرے سوا ساری قوم کو غلام بنا لیا تو کیا اسی طرح کی اس چند روزہ پرورش سے میری نبوت و رسالت کو دفع کرنا چاہتا ہے میں نے اگر تیری چند روزہ نعمت تربیت کا کفران کیا ہے تو تو رب العالمین کی بیشمار نعمتوں کے کفران میں مبتلا ہے اور جس رب العلامین نے تجھ کو اور تیرے آباؤ اجداد کو پیدا کیا ہی تو تو اسی رب العالمین کا کافر اور منکر بنا ہوا ہے اور جس رب العالمین نے تیری روحانی تربیت اور ہدایت کیلیے رسول بھیجا ہے تو تو اسکی ہی تکذیب اور کفر پر تلا ہوا ہے اور رب العالمین نے جو مجھے آب حیات دے کر بھیجا ہے تو اس کا ایک گھونٹ بھی پینے کے لیے تیار نہیں کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی کفران نعمت ہوسکتا ہے۔
Ayahs 26:23–33مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون
دربارہ ربوبیت خداوند کون
قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔
فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل (بھیجنے والے پروردگار) کو بتلاؤ کہ وہ کون ہے اور کیا چیز ہے چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو رب العالمین کی عبادت اور اطاعت کی طرف بلایا اس لیے اس لعین نے پہلے رب العالمین کے متعلق سوال شروع کیا کہ اول تو تم اس کی الوہیت اور ربوبیت کو ثابت کرو تمہاری نبوت اور رسالت کے بارے میں تو بعد میں غور کیا جائیگا۔
فرعون دہری تھا سرے سے خدا کے وجود کا منکر تھا وہ یہ کہتا تھا۔ ما علمت لکم من الہ غیری۔ میں اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانتا اور انا ربکم الا علی میں ہی تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ تمام ملک کے باشندے میرے محتاج ہیں لہٰذا میں ہی تمہارا خدا ہوں۔ فرعون دہری (منکر خدا) تھا کسی خدا اور خالق کا قائل نہ تھا اس احمق نے خدا کے معنی یہ سمجھ رکھے تھے۔ کہ لوگ جس کے محتاج ہوں وہی انکا خدا ہے جاہلوں کو یہ باور کرایا کہ ملک کا جو بادشاہ اور فرما نروا ہے وہی دعا یا کا رب اعلی ہے۔ کما قال تعالیٰ فاستخف قومہ فاطاعوہ۔ فرعون دہری تھا اس کا عقیدہ یہ تھا کہ آسمان و زمین اور یہ تمام عالم قدیم ہے ازل سے ہمیشہ اسی طرح سلسلہ چلا آرہا ہے اور ابدالآباد تک اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا اور عالم میں موت اور حیات اور تغیرات جو سلسلہ جاری ہے وہ کواکب اور نجوم کی تاثیر سے ہے کسی قادر مختار کی قدرت اور ارادہ کو اس میں دخل نہیں زمانہ حال کے جدید فلاسفہ بھی اسی کے قریب قریب یہ کہتے ہیں کہ تنوعات عالم مادہ قدیمہ اور اس کی حرکت قدیمہ کا ثمرہ اور نتیجہ ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے خیال خام کا رد فرمایا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب
جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا وما رب العلمین۔ رب العالمین کیا چیز ہے اور وہ کون ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ رب العالمین جس نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے وہ ذات ہے کہ جو آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان تمام چیزوں کا مربی اور مدبر ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو تو یقین کرلو کہ جو میں نے کہا ہے وہ بالکل حق ہے کہ جو ذات عالم علوی اور عالم سفلی اور ان کے درمیان کائنات کی خالق اور مربی اور مدبر اور متصرف ہے وہی ذات رب العلمین ہے تم کو یقین ہے کہ یہ تمام اشیاء تمہارے سامنے موجود ہیں اور نہایت بڑے بڑے اجسام ہیں اور کمیت اور کیفیت اور صفت اور حالت کے اعتبار سے چابت درجہ مختلف ہیں اور یہ تمام اجسام اس قدر عظیم اور جسیم ہیں کہ ان کے اجزاء کی شمار عقلا محال معلوم ہوتی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا بیشمار اجزاء خود بخود مل کر خودبخود آسمان و زمین اور انسان اور حیوان بن گئے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ ہر مرکب شئے کے لئے کوئی مرکب (ترکیب دینے والا چاہئے) پس جس ذات نے ان بیشمار اجزاء کو ترکیب دے کر اس عالم علوی اور سفلی کو بنایا اور جو ان کا مدبر اور ان میں متصرف ہے وہی رب العالمین ہے اور اے فرعون تو تو ایک حقیر اور ذلیل ہستی ہے تیرا رب ہونا عقلا محال ہے۔ فرعون نے خدا کی جنس اور ماہیت سے سوال کیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نی اس کی صفات اور آثار قدرت سے جواب دیا اس لیے فرعون یہ جواب سن کر حیران رہ گیا۔ فرعون چونکہ وجود صانع کا قائل نہ تھا اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا۔ وما رب العلمین۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا جواب دیا۔
فرعون کا جواب
فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سن کر اپنے پاس والوں سے بطور تمسخر کہنے لگا کہ سنتے بھی ہو کہ کیسا جواب ہے اور یہ شخص کیا کہہ رہا ہے بڑی عجیب بات کہہ رہا ہے کیا میرے سوا بھی تمہارا کوئی رب ہے اس شخص کا زعم یہ ہے کہ آسمان اور زمین کا بھی کوئی رب ہے حالانکہ آسمان اور زمین تو قدیم ہیں ہمیشہ سے اسی طرح چلے آئے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح قائم رہیں گے اور حرکت کرتے رہیں گے اس کے لیے رب اور صانع کی ضرورت نہیں اور عالم کی تغیرات اور انقلابات نجوم اور کواکب کی حرکات مختلفہ کے آثار ہیں اس لیے عالم کے لیے مؤثر اور مدبر کی ضرورت نہیں جیسا کہ فرقہ دہریہ کا مذہب ہے۔ فرقہ دہریہ کا مذہب یہ ہے کہ آسمان اور زمین سب قدیم ہیں اسی طرح فرعون نے اپنے ارکان دولت سراپا جہالت سے کہا کہ کیا تم لوگ غور سے نہیں سنتے کہ یہ شخص آسمانوں اور زمین کا رب بتلاتا ہے حالانکہ آسمان و زمین سب قدیم ہیں انکا کوئی رب نہیں۔ یا کم از کم اب تک ہمارے نزدیک آسمان و زمین کا کسی رب اور کسی مدبر اور مؤثر کی طرف محتاج ہونا ثابت نہیں ہوا۔ دیکھو تفسیر مظہری ص 60 ج 7۔ جدید فلاسفہ اور دیم فلاسفہ دونوں گروہ عالم کے قدیم ماننے میں شریک اور متفق ہیں۔ فرعون نے اپنی قوم کو مغالطہ دینے کے لئے یہ بات کہی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر دوسرا جواب دیا جس میں فرعون کا یہ مغالطہ نہ چل سکے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا دوسرا جواب
موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی اس بات کے جواب میں یہ کہا کہ رب العالمین وہ ہے جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب ہے آسمان و زمین کے بارے میں تو فرعون کا مغالطہ کچھ چل گیا کہ آسمان و زمین تو قدیم ہیں ہمیشہ ایک حال پر چلے آ رہے ہیں انہیں کسی رب اور کسی مؤثر اور مدبر کی ضرورت نہیں اس لیے کہ لوگوں کو زمین و آسمان کی پیدائش کا حال معلوم نہیں کہ کب پیدا ہوئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری بار ایسی دلیل پیش کی کہ جس میں ارکان دولت کو اور کسی سننے والے کو شک اور شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے اس لیے دوسری بار یہ فرمایا کہ رب العالمین وہ ذات ہے کہ جو تمہارے اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے اس لیے کہ یہ امر مشاہدہ سے سب کو معلوم ہے کہ ایک وہ وقت تھا کہ نہ فرعون تھا اور نہ اسکی قوم کا وجود تھا اور نہ ان کے آباؤاجداد کا وجود تھا یہ تمام آباؤاجداد اول پیدا ہوئے اور پھر اپنی طبعی عمر پوری کر کے مرگئے۔ آسمان اور زمین کی طرح آباؤ اجداد کو تو قدیم نہیں کہا جاسکتا اور نہ کوئی ایسا کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ آسمان و زمین کی طرح آباؤاجداد بھی قدیم ہیں۔ عدم سے وجود میں آئے تھے اور چند روز اس دنیا میں رہے اور اپنے وجود کی مدت پوری کر کے پھر پردہ عدم میں جا چھپے اور زمین میں دفن ہوگئے۔
لہذا آباؤ اولین کا قدیم اور واجب الوجود ہونا تو عقلاً بھی محال ہے اور مشاہدہ کے بھی خلاف ہے ان سب کا عدم کے بعد وجود میں آنا اور پھر چند روزہ وجود کے بعد عدم وجود میں چلے جانا سب کی نظروں کے سامنے ہے جس کی کوئی تکذیب نہیں کرسکتا اور عدم سے وجود میں آنا بھی حقیقت حدوث کی ہے اور وجود کے بعد عدم میں چلا جانا بھی حقیقت فنا اور زوال کی ہے پس جس چیز کا حدوث اور فناء وزوال نظروں کے سامنے ہو اسکو قدیم اور واجب الوجود کھلی ہوئی حماقت ہے، آسمان و زمین کا حدوث اور انکا فناء وزوال عام نظروں سے پوشیدہ ہے اس لیے آسمان و زمین کو تو ظاہر میں قدیم کہنے کی گنجائش ہے بھی، لیکن آباؤ اجداد کا حدوث اور فناء وزوال تو سب کی نظروں کے سامنے ہے کوئی نادان سے نادان بھی آباؤ اجداد کو قدیم اور واجب الوجود کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا اور اے فرعون اسی طرح تو بھی پہلے زمانے میں معدوم تھا بعد میں پیدا ہوا اب چند روز بعد آباؤ اولین کی طرح تجھے بھی موت آنے والی ہے۔ لہذا تو بھی حادث ہے اور فانی ہے کس برتے پر تو الوہیت اور ربوبیت کا دعوے دار بنا ہوا ہے خوب سمجھ لے کہ رب العالمین تو وہ ہے کہ جو دائم اور قدیم اور حیی لایموت ہے جس کی بارگاہ میں عدم اور فناء کا کہیں گزر نہیں اے فرعون تجھے معلوم ہے کہ تو ایک طویل اور غیر محدود عدم کے بعد وجود میں آیا ہے۔ نو مہینے تو نے مادر شکم میں گزارے ہیں اور چند روزہ زندگی گزارنے کے بعد اپنے آباؤ اجداد کی طرح مر کر زمین میں دفن ہونے والا ہے تو پھر تو رب کیسے ہوسکتا ہے۔ تیرا اور تیرے آباؤ اجداد کا دائرہ سلطنت مصر سے باہر نہ تھا۔ اور میں جس رب کی عبادت کی طرف تم کو بلا رہا ہوں اسکی حکومت و سلطنت کا دائرہ مشرق و مغرب کو محیط ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب تیرا اور تیرے آباؤ اجداد کا حادث ہونا یعنی عدم سے وجود میں آنا ایسا واضح اور روشن ہے کہ جس کا تو انکار نہیں کرسکتا تو عقلاً ضروری ہے کہ ہر حادث کے لیے ایک محدث چاہئے کہ جو اس کو عدم سے نکال کر وجود میں لایا ہے کیونکہ یہ امر تو ظاہر ہے کہ یہ حادث چیزیں یعنی تو اور تیرے آباؤ اجداد خود بخود تو عدم سے نکل کر وجود میں نہیں آگئے پس اے فرعون جو ذات تجھ کو اور تیرے آباؤ اولین کو عدم سے نکال کر وجود میں لائی ہے وہی رب العالمین ہے اور اے فرعون تو اور تیرے آباؤ اجداد اجسام مرکبہ ہیں جو مختلف اجزاء سے مل کر بنے ہیں اور ذی حیات ہیں اور صاحب عقل ہیں اور پیدائش کے وقت سے لے کر مرنے تک عجیب و غریب تغیرات ان کو لاحق ہوتے ہیں۔ تو کیا یہ تمام خود بخود بلا کسی مرکب (ترکیب داہندہ) کے خود بخود مرکب ہوگئے اور خود بخود مرگئے اور خود بخود جا کر قبروں میں لیٹ گئے۔ لامحالہ اس ہیئت ترکیبیہ کے لیے کوئی مرکب چاہیے اور ان تغیرات کے لیے کوئی مغیرہ چاہیے اور ان تاثرات کے لئے کوئی مؤثر چاہیے پس جس ذات بابرکات کے ہاتھ میں تیرے اور تیرے آباؤ اجداد کے تغیرات اور تنوعات اور ان کے وجود اور عدم کی باگ ہے اور تیری اور تیرے آباؤ اجداد کی موت وحیات جس کے اختیار میں ہے وہی ذات رب العالمین ہے اور اسی رب العالمین نے مجھ کو رسول بنا کر تیری طرف بھیجا ہے اور جس طرح تیرے آباؤ اجداد کے اجسام حادث اور فانی ہیں اور اپنے حدوث اور وجود میں صانع کے محتاج ہیں اسی طرح آسمان و زمین بھی اجسام حادثہ اور فانیہ ہیں اپنے حدوث میں پروردگار کے محتاج ہیں اور فلسفۂ جدیدہ یہ کہتا ہے کہ زمانے کے تنوعات اور تغیرات مادہ اور ایتھر کی تدریجی حرکت سے ظہور میں آرہے ہیں۔ جدید فلسفہ کی تحقیق اور فرعون کے قول میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔
فرعون کا جواب
فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب حکمت تاب سن کر گھبرا اٹھا اور اس کو ڈر ہوا کہ اس دلیل کو سن کر میری قوم شک میں نہ پڑجائے تو اپنے حاشیہ نشینوں کو دھوکہ دینے کے لیے اور اپنا رعب جمانے کے لیے جھلا کر یہ بولا کہ اے لوگو بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یعنی جو اپنے آپ کو رب العالمین کا رسول بتاتا ہے یہ یقین جانو کہ وہ بلاشبہ دیوانہ اور باؤلا ہے۔ اسکی بات پر کان نہ دھرنا۔ حالانکہ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقل الناس ہو اور یہ شخص تو بالکل مجنون ہے اور بےعقل ہے کہ موت اور حیات کو اور حوادث زمانہ کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔
یعنی موت اور حیات کا سلسلہ قدیم سے اسی طرح چلا آرہا ہے اور یہ سب زمانہ کے تنوعات اور تغیرات اور انقلابات ہیں جو کواکب اور نجوم کی تاثیر سے اور بقول جدید فلاسفہ مادہ اور ایتھر کی تدریجی حرکت سے ظہور میں آرہے ہیں اور یہ دیوانہ ان تمام تغیرات اور تنوعات کو خدا کی طرف نسبت کرتا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا تیسرا جواب
موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ شخص تو کواکب اور نجوم کی تاثیر پر شیدا اور فریفتہ ہے اور کواکب اور نجوم کی حرکات کو تغیرات عالم کی علت سمجھتا ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں اب تیسری حجت پیش کی کہ رب العالمین وہ ہے کہ جو رب ہے مشرق کا اور مغرب کا اور ان کے تمام درمیانی چیزوں کا یعنی رب العالمین وہ ہے کہ جو مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور طلوع اور غروب کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہے۔ طلوع آفتاب اور غروب سب اس قادر حکیم کی تقدیر محکم سے ہے جس سے عالم کا نظام قائم ہے۔ نادان سے نادان بھی ان حوادث یومیہ کو قدیم بالعرض اور قدیم بالزمان کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا اگر تمہیں کچھ عقل ہے تو سمجھ لو کہ یہ فرعون جو مدعی ربوبیت بنا ہوا ہے ایک محدود خطہ زمین کا فرما نروا ہے جس کا حکم مدین میں بھی نہ چلتا ہو یہ کیسے رب ہوسکتا ہے۔ رب العالمین تو وہ ہے کہ جس کے حکم سے سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ اگر یہ فرعون اپنے دعوائے ربوبیت میں سچا ہے تو اسکا عکس کر کے دکھلا دے یا کم از کم طلوع اور غروب کے موجودہ نظام میں کچھ تغیر و تبدل ہی کر کے دکھلا دے عقل کی بات تو یہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں اور تم ایسے بےعقل اور جاہل ہو کہ بتلانے اور سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے مقابلہ میں یہ جواب ایسا ہے جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کے جواب میں یہ فرمایا تھا۔ فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر۔ جدید فلسفہ یہ کہتا ہے کہ عالم کے انقلاب اور تغیرات مادہ کے ذرات بسیطہ کی دائمی حرکت اور باہمی امتزاج کے سبب سے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ قول بھی فرعون کے قول سے ملتا جلتا ہے دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔
فرعون کی حیرانی اور پریشانی اور مغرورانہ اور ظالمانہ تہدید
فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سن کر حیران اور دنگ رہ گیا اور گھبرا اٹھا اور دیکھا کہ میں اس حجت اور برہان کے جواب سے بالکل عاجز ہوں تو اپنی سلطنت کے زعم میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکانا شروع کیا اور یہ گمان نہ کیا کہ اس مغرورانہ تہدید سے معجزات قاہرات کے ظہور کا دروازہ کھلے گا اس لیے فرعون جب حضرت موسیٰ کی حجت قاہرہ کے جواب سے ناامید ہوا تو بولا کہ اے موسیٰ اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود ٹھہرایا تو میں تجھ کو قیدیوں میں سے بنا دوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو خدائی جیل خانہ (جہنم) سے ڈراتے تھے اس لیے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے قید خانہ سے ڈرایا۔ فرعون کا جیل خانہ قتل سے بھی بدتر تھا۔ فرعون نے ایک تنگ و تاریک جیل خانہ بنایا تھا کہ جو اس میں ڈالا جاتا تھا وہ وہیں مرجاتا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی کنوئیں میں قیدیوں کو ڈال کر اوپر سے منہ بند کردیتے تھے یہاں تک کہ وہ اس میں مرجاتے جیسا کہ ہندو راجاؤں کے عہد میں دستور تھا فرعون کا یہ جیل خانہ قتل سے بھی بدتر تھا۔ فرعون جب موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کے جواب سے عاجز ہوا تو دھمکیوں پر اتر آیا۔
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خاش برہم کشد روئے را
جیل خانہ کی دھمکی سے فرعون کا مقصد اپنی ربوبیت کی دلیل بیان کرنا ہے کہ چونکہ میں جیل خانہ میں ڈالنے پر قادر ہوں اس لیے میں تمہارا خدا اور رب اعلیٰ ہوں۔ سبحان اللہ کیا دلیل ہے جیل خانہ سے الوہیت اور ربوبیت تو ثابت نہیں ہوسکتی البتہ جہالت اور حماقت خوب ثابت ہوجاتی ہے جب فرعون نے موسیٰ علی السلام کو اس طرح دھمکایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے نرمی سے فرمایا کہ دلائل ربوبیت تو آپ نے سن لیے۔ اب دلائل رسالت سنئیے اور اپنے اس فیصلہ میں ذرا جلدی نہ کیجئے کیا آپ مجھے جیل خانہ میں ڈال دیں گے اگرچہ میں تیرے پاس ایسی واضح اور روشن چیز لیکر آیا ہوں جس سے صاف طور پر میری صداقت ظاہر ہوجائے اور رب العالمین کی ربوبیت اور الوہیت ظاہر ہوجائے تو کیا پھر بھی تیرا یہی فیصلہ رہے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں نرمی برتی اور باگ ڈھیلی چھوڑ دی تاکہ الوہیت اور ربوبیت کے مسئلہ کے بعد نبوت و رسالت کے مسئلہ میں مکالمہ اور مناظرہ کا دروازہ کھلے اور پہلے مسئلہ کی طرح دوسرے مسئلہ میں بھی وہ حجت اور برہان سے مغلوب اور مقہور ہوجائے اور کم از کم دل سے ماننے پر تو مجبور ہوجائے اس لیے فرمایا۔ او لو جئتک بشی مبین۔ اس جواب کے بعد یعنی کیا اگر میں اپنی رسالت کی کوئی روشن دلیل تیرے سامنے پیش کروں تو کیا تو میری رسالت کو قبول کرے گا۔ فرعون شرما کر بولا کہ اچھا وہ روشن دلیل لا اگر تو سچوں میں سے ہے اگر روشن دلیل سے تیری صداقت ظاہر ہوجائے تو ہم تجھے قید نہیں کریں گے پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نبوت اور صداقت ثابت کرنے کے لیے دو معجزے دکھلائے ایک معجزہ عصا اور دوسرا کرشمہ ید بیضا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا۔ پس وہ ڈالتے ہی صاف اور صریح اژدہا تھا۔ یعنی حقیقتہ اور بلاشبہ اژدہا بن گیا جب وہ عصا سانپ بن کر لہرانے لگا فرعون اور تمام درباری حواس باختہ ہو کر بھاگ اٹھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ پیشاب پاخانہ بھی خطا ہوگیا۔ دعوائے خدائی کی ساری قلعی کھل گئی موسیٰ نے ازراہ تلطف اپنے عصا کو زمین سے اٹھا لیا تو وہ پہلے کی طرح پھر عصا ہوگیا۔ اس کے بعد جب ہوش و حواس کچھ واپس آئے تو بولا کیا اس کے سوا اور بھی کوئی معجزہ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسرا معجزہ دکھلایا جس کا آئندہ آیت میں ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور بعد ازاں موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ایک دوسرا معجزہ دکھلایا کہ اپنا ہاتھ بغل کے نیچے سے نکالا تو ناگاہ وہ سپید اور روشن تھا دیکھنے والوں کے لئے جس کو سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ آفتاب اور ماہتاب کی طرح روشن ہے۔ فرعون اور اس کے درباری یہ دونوں مجزے دیکھ کر دم بخو رہ گئے۔
معجزہ عصا اہل کفر اور اہل معصیت کی تنبیہ کے لئے تھا کہ مرنے کے بعد قبر میں کافروں کو اژدہا ڈسے گا اور معجزہ یدبیضا سینہ موسوی کی نورانیت کا نمونہ اور کرشمہ دکھلانے کے لیے تھا مگر مشکل یہ ہے کہ جس کے دل کی آنکھ اندھی ہو اس کو آفتاب کی روشنی کس طرح دکھائی دے۔ معجزہ عصا، معجزہ قہر تھا اور معجزہ یدبیضا معجزہ نور اور معجزہ مہر تھا۔ لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور۔