Ayahs 25:1–4توحید و رسالت وقیامت
قال اللہ تعالی۔ تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولا نشورا۔
(ربط) اس سورت کی ابتدا حق جل شانہ نے اپنی صفت برکت سے فرمائی اور برکت اس خیر و خوبی کو کہتے ہیں کہ جو قائم اور دائم ہو اور صفت برکت کی دلیل اور برہان میں فرقان یعنی قرآن کی تنزیل کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہ قرآن حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اور حق اور باطل میں تمیز اور فرق سے بڑھ کر کوئی برکت اور خیرکثیر نہیں اس لئے فرماتے ہیں۔ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے برگزیدہ بندہ محمد ﷺ پر فرقان کو نازل کیا یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام نازل کیا جس سے بڑھ کر کوئی برکت والی چیز نہیں تاکہ نذیر ہو تمام جہانوں کے لئے یعنی حق یعنی تمام جن وانس کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہو۔ یا یہ معنی ہیں کہ یہ قرآن ہر زمانہ میں ہر قرن والوں کے لئے ان باتوں سے ڈرانے والا ہو جو اللہ کی ناراضی اور غصہ کا سبب ہیں۔
: ” للعالمین “ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور بعثت عام ہے اور آپ ﷺ جن وانس سب کے نبی اور رسول ہیں یہ رتبہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مجھ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا گیا وہ صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں جیسا کہ حق جل شانہ کا ارشاد ہے قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ ذات بابرکات جس نے مجھ کو تمام جہانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا وہ وہ ذات ہے جس کی ایک صفت یہ ہے کہ اسی کے لئے سلطنت آسمانوں اور زمین کی وہ ان کا خالق اور مالک ہے جس طرح چاہے ان میں تصرف کرے اور دوسری صفت اس کی یہ ہے کہ اس نے اپنے لئے کوئی اولاد اور فرزند نہیں بنایا کیونکہ فرزند باپ کے ہم جنس ہوتا ہے اور اس کے برابر ہوتا ہے اور خدا مماثلت اور برابری سے پاک اور منزہ ہے خدا تو بےمثل اور بےچون وچگوں ہے لیس کمثلہ شیء اور تیسری صفت اس کی یہ ہے کہ بادشاہت میں کوئی اس کا شریک نہیں اور چوتھی صفت اس کی یہ ہے کہ وہ خالق الکل ہے اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا اس کی قدرت غیر متناہی ہے کوئی ذرہ اس کی قدرت سے باہر نہیں ایسی ذات کا کون شریک اور سہیم ہوسکتا ہے اس خالق الکل نے کائنات کی انواع و اقسام کو پیدا کیا پھر اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا۔ اس سے وہ چیز نہ کم ہو اور نہ زیادہ۔ ہر چیز کی صورت اور صفت اور خاصیت الگ الگ بنائی اور ان نادانوں کو دیکھو کہ قادر مطلق اور عاجز مطلق میں فر ق نہی کرتے۔ اور ان مشرکوں نے خدا کے سوا ایسے معبود ٹھہرائے ہیں کہ جو ایک چیز کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں اور حال یہ ہے کہ ہے خود ایک خاص مقدار اور اندازہ پر پیدا کئے گئے ہیں کہ ایک لمحہ کے لئے اس اندازہ سے باہر نہیں ہوسکتے۔ اور ہر مخلوق اپنی ہستی میں خالق کا محتاج ہے اور محتاجگی خدائی کے لائق نہیں پس ان کے ہاتھ کے خود تراشیدہ بت کہاں خدائی کے لائق ہوسکتے ہیں اور وہ خالق تو کیا ہوتے وہ تو مالکیت کی صفت سے بھی عاری اور خالی ہیں اور اس درجہ عاجز ہیں کہ وہ اپنی ذات کے لئے بھی کسی ضرر اور نفع کے مالک نہیں۔ وہ اپنے سے ضرر کے رفع کرنے کی اور اپنے لئے نفع حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ حالانکہ خدا کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ نافع اور ضار ہو یعنی نفع اور ضرر کا مالک ہو اور نہ وہ موت اور زندگی کے مالگ ہیں کہ کسی میں جان ڈال دیں یا اس کی جان نکال لیں۔ موت اور حیات تو بڑی چیز ہے۔ یہ تو اپنے خواب اور بیداری کے بھی مالک نہیں سونا اور جاگنا کسی کے اختیار میں نہیں اور نہ کسی مردہ کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتے ہیں اور معبود وہ ہے کہ جو جان نکالنے اور جان ڈالنے پر قادر ہو۔ بندہ اگرچہ کسی کے قتل پر قار ہے مگر جان نکالنے پر قادر نہیں۔ قتل اور چیز ہے اور جان نکالنا اور چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ معبود وہ ہونا چاہئے کہ جو ان صفات کے ساتھ متصف ہو خالق الکل اور مالک الکل ہو اور نفع اور ضرر اور موت اور حیات کا مالک ہو یعنی کائنات کا وجود اور عدم اس کے اختیار میں ہو اور عاجز اور بےجان کو خدائی کا رتبہ دینا کمال حماقت ہے اور قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ احیا موتی کا ذکر آیا ہے سو اس کا یہ مطلب نہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) موت اور حیات کے مالک تھے بلکہ بحکم خداوندی پرندوں میں پھونک مارتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تو وہ مردہ باذن اللہ یعنی بحکم خداوندی زندہ ہوجاتا۔ اہل اسلام کے نزدیک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے مردوں کا زندہ ہونا یہ ان کا معجزہ تھا جو ان کی نبوت و رسالت کی دلیل تھا کہ یہ اللہ کے مقبول اور برگزیدہ بندہ ہیں کہ ان کی دعا سے خدا تعالیٰ مردہ کو زندہ کردیتا ہے۔ نصاریٰ نے اس قسم کے معجزات کو ان کی الوہیت کی دلیل سمجھا اور غلط سمجھا بقول نصاریٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) موت اور حیات کے مالک تھے تو جب یہود نے ان کو صلیب پر لٹکایا تو وہ اپنے سے موت کا پیالہ کیوں نہ ہٹا سکے اور صلیب پر ایلی ایلی لما سبقتانی کہہ کر جان دے دی، پس اس عجز اور لاچارگی کے ساتھ کسی کو معبود بنانا کمال حماقت ہے۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) موت اور زندگی کے مالک نہ تھے۔ نصاریٰ کو شرمانا چاہئے کہ وہ خدا ہی کیا ہو جس کو اس کے بندے پکڑ کر پھانسی دے سکٰن اور اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ اور رسول برحق تھے اور باذن اللہ اور بحکم خداوندی ان کے ہاتھ سے ان کی دعا کے بعد مردے زندہ ہوجاتے بذات خود تو وہ اپنی موت اور حیات کے بھی مالک نہ تھے اور جب یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندہ کو اسی جسم عنصری کے ساتھ صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اور ان کے دشمن دیکھتے ہی رہ گئے۔ قرآن نے اسی جسم عنصری کے رفع کی خبر دی ہے جس جسم عنصری کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اور روح کو پکڑنا اور اس کے قتل کا ارادہ کرنا یہ دیوانہ اور مجنون کی بڑ ہے جیسا کہ سورة نساء کے اخیر میں آیت وما قتلوہ وما صلبوہ۔ اور۔ وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ کی تفسیر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جو اپنے لئے بھی نفع اور ضرر کا مالک نہ ہو اور موت اور حیات اس کے اختیار میں نہ ہو اس کو خدا کا شریک اور فرزند ٹھہرانا کمال ابلہی ہے۔
Ayahs 25:5–6منکرین نبوت کا دوسرا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ کان غفورا رحیما۔
(ربط) یہ منکرین نبوت کا دوسرا شبہ بلکہ دوسرا بہتان ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن منجانب اللہ نہیں بلکہ اگلے لوگوں کے قصوں اور کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ایک جھوٹ ان لوگوں نے یہ بولا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے اور افسانے ہیں جن کو اس نبی نے اپنے لئے لکھوا لیا ہے کیونکہ وہ خود تو لکھ نہیں سکتے اس لئے دوسروں سے لکھوا لیے ہیں پس وہ نوشتے صبح وشام اس پر پڑھے جاتے ہیں تاکہ سن سن کر وہ ان کو یاد کرے، چناچہ جب وہ آپ ﷺ کو یاد ہوجاتا ہے تو اس کو پڑھ کر ہمیں سنا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی وحی ہے۔ اے نبی آپ ﷺ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ یہ قرآن کسی کا ساختہ اور نوشتہ نہیں بلکہ اس کو اس ذات نے اتارا ہے جو آسمان اور زمین کے پوشیدہ بھیدوں کو خوب جاتا ہے یعنی یہ اس ذات کا اتارا ہوا کلام ہے جو عالم الغیب ہے اور یہ کلام عجیب و غریب نصیحتوں اور عبرتوں اور اخبار غیبیہ اور اسرار مکنونہ پر مشتمل ہے جہاں عقل اور فہم کی رسائی نہیں اور علم غیب اللہ کا خاصہ ہے بندہ یہ قدرت نہیں کہ کسی کو غیب کی باتیں لکھ کر دے دے اور وہ نوشتہ اس کو یاد کرا دے اور ان کی اس گستاخانہ اور بےباکانہ بات کا تقاضا یہ تھا کہ اس قسم کی بیہودہ باتوں پر فورا عذاب سے ہلاک کر دئیے جائیں لیکن ان پر عذاب نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس قرآن کا اخبار غیبیہ اور اسرار مکنونہ پر مشتمل ہونا اس کی دلیل ہے کہ یہ کلام علام الغیوب کا نازل کردہ ہے نہ کہ کسی کا ساختہ اور نوشتہ ہے اس لئے کہ غیب کا علم سوائے خدا کے کسی کو ممکن نہیں۔ نیز یہ کہ قرآن تو فرقان ہے حق اور باطل کے فرق کو خوب واضح کرتا ہے اس میں تو کسی شک اور شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
Ayahs 25:7–10منکرین نبوت کا تیسرا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق۔۔۔ الی۔۔۔ ویجعل لک قصورا۔
(ربط) منکرین نبوت کا یہ تیسرا شبہ ہے۔ منکرین نبوت یہ کہتے ہیں کہ یہ مدعی نبوت پانچ صفتوں کے ساتھ موصوف ہے اور یہ پانچوں صفتیں نبوت کے منافی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ شخص ہماری طرح کھانا کھاتا ہے۔ دوم یہ کہ یہ شخص ہماری طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، پھر اس کو کیا فضیلت اور برتری کہ یہ ہمارا نبی بنے۔ سوم یہ کہ آپ ﷺ کے ہمراہ خدا کا کوئی فرشتہ نہیں جو لوگوں کو آپ ﷺ سے ڈرائے۔ چہارم یہ کہ آپ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ نہیں اترتا۔ جسے آپ لوگوں پر بےدریغ خرچ کر کے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں۔ اور اپنے پیرؤں کو بھوک اور فاقہ سے بچائیں۔ پنجم یہ کہ اگر آپ ﷺ کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ اترتا تو کم از کم آپ کے پاس ایک باغ تو ہوتا جس سے آپ بےفکری سے کھالیا کرتے، جب آپ ﷺ میں کوئی شان امتیازی نہیں تو ہم کیسے یقین کریں کہ آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ان خیالات مہملہ کو نقل کر کے بتلا دیا کہ یہ سب نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں اور اس قسم کے خیالات کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے، جزاء اور سزا کے قائل نہیں اس لئے احکام اور قوانین کی پابندی ان پر شاق اور گراں ہے۔ جب قیامت آئے گی تو پچھتائیں گے اور حسرتوں سے ہاتھ ملیں گے اور عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ پھر اخیر وما ارسلنا قبلک من المرسلین۔ میں ان کے تمام شبہات کا مختصر طور پر ایک الزامی جواب دیا کہ دیکھو کہ اگلے پیغمبر بھی کھاتے اور پیتے تھے اور بشری ضرورتوں کے لئے بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور نہ کسی کے ساتھ کوئی فرشتہ تھا اور نہ کسی کے پاس آسمان سے کوئی خزانہ اترا تھا اور نہ کوئی باغ اور زمین و جائیداد کا مالک تھا۔ معلوم ہوا کہ جو باتیں تم کہتے ہو وہ نبوت و رسالت کے منافی نہیں اور نہ شان نبی کے خلاف ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کہا سرداران قریش نے جیسے ابو جہل اور عتبہ اور امیہ وغیرہم نے کہ کیا حال ہے اس رسول کا کہ دعویٰ تو رسالت کا کرتا ہے اور لوگوں کی طرح کھانا کھاتا ہے اور طلب معاش کے لئے اوروں کی طرح بازاروں میں چلتا پھرتا ہے تو اس کو ہم پر کیسے فضیلت حاصل ہوگئی اور یہ نبی کیسے ہوگیا یہ شخص تو ہم جیسا آدمی ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ فرشتہ ہوتا خیر اگر یہ خود فرشتہ نہیں تو اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ جس کو ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے پس وہ اس کی نبوت کی گواہی دیتا اور اس کے ساتھ ہو کر لوگوں کو اس کی مخالفت سے ڈرانے والا ہوتا یا یہی ہوتا کہ اس پر آسمان سے کوئی خزانہ ڈال دیا جاتا تاکہ تحصیل معاش کے لئے بازاروں میں جانے سے مستغنی ہوجاتا اور لوگوں کو داد و دہش کرتا اور لوگ اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کی اس خصوصیت کو دیکھ کر لوگ اس کو رسول مان لیتے یا ادنیٰ درجہ یہ ہوتا کہ اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے یہ کھاتا اور کسب معاش کا محتاج نہ رہتا ان لوگوں نے نبوت و رسالت کو دنیاوی ریاست پر قیاس کیا اور نبی اور رسول میں دنیاوی امیروں اور رئیسوں کی طرح دنیاوی سامان عیش و عشرت کے طلبگار اور جو یا بنے اور ان ظالموں نے تو ظلم وستم کی حد ہی کردی کہ مسلمانوں سے یہ کہا کہ بس تم تو ایسے شخص کے پیرو بن گئے ہو کہ جس پر جادو کردیا گیا ہے اور وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور وہ عجیب عجیب قسم کی باتوں سے تم کو اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ یہ کہتے کہ اس مدعی رسالت کو کوئی شان امتیازی حاصل نہیں، ہماری طرح یہ بھی کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اور جب آپ ﷺ سے معجزات دیکھتے تو یہ کہتے کہ یہ شخص جادوگر ہے اور کبھی کہتے کہ یہ شاعر ہے اور کبھی کہتے کہ کاہن ہے اور کبھی کہتے کہ مجنون ہے۔ ان کا یہ اضطراب اس بات کی دلیل ہے کہ جو کہتے وہ آپ ﷺ پر منطبق نہیں ہوتا تھا کسی بات پر قرار نہیں تھا کبھی کچھ کہتے اور کبھی کچھ کہتے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے نبی دیکھئے تو سہی کہ ان ظالموں نے کیسی کیسی مثالیں آپ کے لئے بنائی ہیں جو ان کے اضطراب اور سراسیمگی کی ذلیل ہیں کسی بات پر ان کو قرار نہیں پس یہ لوگ حق سے بہک گئے پس اب راہ راست پر نہیں آسکتے بھٹکتے پھرتے ہیں اور پریشان باتیں بکتے ہیں کسی بات پر قائم نہیں ایسے کو راہ حق کہاں ملتی ہے۔
تفصیلی جواب
یہاں تک کافروں کے شبہ کا اجمالی جواب دیا، اب آئندہ آیات میں اس کا تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں۔ بڑی ہی برکت والا ہے وہ خدا جس نے آپ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ ﷺ پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے وہ اگر چاہے تو دنیا میں آپ کو اس سے بہتر چیزیں عطا کرے۔ جن کی کفار آپ ﷺ سے فرمائش کرتے ہیں یعنی دنیا ہی میں آپ کو ایسے باغات دے دے جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں اور دنیا ہی میں آپ کو ایسے عالیشان محل دے دے جو دنیا میں کسی فرمانروا نے دیکھے ہی نہ ہوں جن چیزوں کو کفار عجیب و غریب سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے اعتبار سے بہت حقیر ہیں۔ مال داران قریش نے جب حضرت رسالت پناہ کو فقروفاقہ کی وجہ سے حقیر سمجھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے میرے پروردگار نے کہا کہ اگر تو چاہے تو میں تیرے لئے مکہ کے پتھروں کو سونا بنا دوں میں نے عرض کیا کہ پروردگار میں یہ نہیں چاہتا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھروں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ جب بھوکا رہوں تو تیری طرف رجوع کروں اور گڑ گڑاؤں اور تجھے یاد کروں اور جب پیٹ بھروں تو تیری تعریف کروں اور شکر کروں اور اس قسم کی بیشمار حدیثیں ہیں جن میں آپ نے فقیری کو امیری پر ترجیح دی ان سب سے مقصود امت کی تعلیم و تفہیم تھی دنیاوی ثروت فتنہ ہے اس میں نہ پڑیں بلکہ آخرت کی فکر کریں۔
Ayahs 25:11–20تنبیہ برمنشا انکار رسالت
وبیان بعض احوال واھوال روز قیامت
بل کذبوا بالساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وکان ربک بصیرا۔
اب آئندہ آیات میں ان منکرین رسالت اور معترضین نبوت کے انکار کا منشا بیان کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب پر اس درجہ تلے ہوئے ہیں تو بتلاتے ہیں کہ ان شبہات اور اعتراضان کا منشا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی شان درویشی وفقیری ان کے ایمان اور ہدایت سے مانع بنی ہوئی ہے بلکہ اصلی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں جس سے آپ ان کو ڈراتے ہیں پس انکار نبوت اور تکذیب رسالت کا اصل منشاء تکذیب قیامت ہے۔ ان کی نظر صرف اسی عطام دنیا پر مقصود ہے ان کا گمان یہ ہے کہ عزت و کرامت کا دارومدار اسی دنیا کی مال و دولت پر ہے یہ لوگ آخرت کے ثواب اور عذاب کے قائل نہیں اور حالانکہ قیامت حق ہے اور جزاء وسزا حق ہے ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ” سعیر “ ہے اور اس دوزخ کی صفت یہ ہے کہ جب وہ ان منکرین قیامت کو دور سے دیکھے گی۔ یعنی سو برس کی مسافت کے فاصلہ سے دیکھے گی تو ان کو دیکھتے ہی جوش غضب سے بھڑک اٹھے گی اور یہ منکرین قیامت اس جہنم کے جوش غضب کو اور اس کے چلانے کی آواز کو دور سے سنیں گے۔ جیسے غصہ والا چلاتا ہے اور شیر غراتا ہے، اسی طرح جہنم ان منکرین قیامت کے دیکھ کر جوش میں آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم میں ایک قسم کی حیات اور ایک قسم کا شعور رکھا ہے۔ قیامت کے دن جب کافروں کو دیکھے گی تو غیظ وغضب سے بھڑک اٹھے گی۔ کما قال تعالیٰ اذا القوا فیھا سمعوا لھا شھیقا وھی تفور تکاد تمیز من الغیظ الایۃ۔
اور یہ منکرین قیامت جب زنجیروں میں جکڑے ہوئے جہنم کی کسی تنگ و تاریک جگہ میں ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں ہلاکت اور موت کو پکاریں گے کہ اے موت اور اے ہلاکت تو کہاں ہے یہ وقت نہایت مصیبت کا ہے تو آجا تاکہ یہ بلا ہم سے ٹلے اور اس مصیبت کا خاتمہ ہو۔ حاصل یہ کہ منکرین قیامت جب کسی تنگ جگہ میں ٹھونس دئیے جائیں گے تو اس وقت اپنی ہلاکت اور حسرت کو آواز دیں گے، اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو کیونکہ ایک موت کے پکارنے سے تمہاری مصیبت کا خاتمہ نہ ہوگا کیونکہ وہاں انواع و اقسام عذاب کی کوئی شمار نہیں جو ایک موت اور ایک ہلاکت سے ختم ہوجائیں لہٰذا تم ہزاراں ہزار بار موت اور ہلاکت کو پکارتے رہو۔ کتنا ہی پکارو۔ تمہاری سب پکار بےفائدہ اور بےکار ہے۔
اے نبی آپ ان منکرین قیامت کو یہ حال اور مآل سنا کر کہہ دیجئے کہ تم نے مکذبین کا انجام سن لیا اب تم فیصلہ کرلو کہ یہ ذلت اور مصیبت بہتر ہے جو تمہارے انکار اور تکذیب کا نتیجہ ہے یا وہ جنت الخلد بہتر ہے جس کا اہل ایمان اور اہل تقویٰ سے وعدہ ہوچکا ہے یہ جنت الخلد ان کے اعمال کا صلہ ہے اور ان کا آخری ٹھکانہ ہے ان کے لئے وہاں وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہیں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں کسی نعمت کو زوال نہ ہوگا۔ اے پیغمبر یہ تیرے پروردگار کا ایک وعدہ ہے جو اس کے ذمہ ہے جو وعدہ کے مطابق اس سے مانگا جائے گا۔ اہل ایمان اس سے درخواست کریں گے ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک اور فرشتے بھی اہل ایمان کے لئے درخواست کریں گے ربنا وادخلہم جنات عدن التی وعدتہم۔
اب آئندہ آیات میں قیامت کے دن مشرکوں کی ملامت اور ندامت کا بیان ہے اور اے نبی آپ ﷺ ان کافروں کے سامنے اس دن کا ذکر کیجئے کہ جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔ میدان حشر میں سب کو جمع کرے گا پھر ان معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی راہ حق سے گمراہ ہوئے تو وہ معبودین عرض کریں گے ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں تو شریک سے پاک اور منزہ ہے کوئی تیرا شریک نہیں ہوسکتا، ہم تیرے بندے ہیں تیری تقدیس اور تنزیہ سے خوب واقف ہیں۔ ہمارے لئے یہ لائق نہیں کہ ہم تیرے سوا کسی کو دوست بنائیں۔ چہ جائیکہ تیرے سوا کسی کو معبود ٹھہرائیں ہماری کیا مجال تھی کہ ہم تیرے سوا کسی کو اپنا یارومددگار بناتے۔ یہ بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیز (علیہ السلام) اور فرشتے وغیرہ وغیرہ سب کہیں گے۔ مطلب جواب کا یہ ہے کہ ہم نے ان کو گمراہ نہیں کیا اور نہ ان کو گمراہی کی دعوت دی بلکہ یہ لوگ خود گمراہ ہوئے۔ حاصل یہ کہ خدا کی پیش فرمودہ دو شقوں میں سے جواب کے لئے ام ہم ضلوا السبیل کی شق کو اختیار کیا یعنی اے پروردگار یہ لوگ خود ہی تیری راہ سے بہک گئے ہم ان کی گمراہی کا سبب نہیں بنے و لیکن تو نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو دنیا میں طول عمر اور صحت اور نعمت کے ساتھ نفع پہنچایا یہاں تک کہ یہ لوگ دنیوی نعمتوں اور لذتوں پر پڑکر تیری یاد کو بھول گئے اور اس طرح یہ لوگ ہلاک ہونے والے ہوگئے یعنی تیری نعمت اور احسان کا مقتضایہ تھا، یہ لوگ اپنے منعم حقیقی کو پہچانتے اور اس کا شکر اور اطاعت بجا لاتے مگر وہ نفسانی شہوتوں اور لذتوں میں ایسے غرق ہوئے کہ اسباب شکر کو اسباب کفر بنا لیا اور اے پروردگار تیرے علم ازلی میں پہلے ہی سے یہ لوگ ہلاک ہونے والے تھے چونکہ اس سوال و جواب سے مشرکین کی توبیخ اور ملامت مقصود ہوگی اس لئے اس جواب کے بعد مشرکین کو مخاطب بنا کر کہا جائے گا اے مشرکو ! یہ تمہارے معبود ہیں تم نے ان کو جواب سن لیا۔ سو یہ معبود تم کو تمہارے قول میں جھٹلا چکے اور تمہارے منہ پر تم کو جھوٹا ٹھہرا دیا اور تمہاری حرکات سے اپنی بیزاری ظاہر کردی جس سے تمہارا جرم پوری طرح واضح ہوگیا پس اب تم نہ از خود عذاب کو اپنے اوپر سے دفع کرسکتے ہو اور نہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو اب تو وقت سزا کا ہے جس کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ اور تم میں سے جو کافر ہے یعنی مشرک ہے ہم اس کو بڑا عذاب چکھائیں گے کوئی شخص اس عذاب کا ظالموں سے پھیر نہیں سکے گا۔ اب آئندہ آیات میں مشرکین کے پھر اس طعن کا جواب دیتے ہیں کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ جو کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں۔ اے نبی ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے سب کی یہی شان اور صفت تھی کہ وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کھانا پینا اور بازاروں میں ضرورت کے لئے جانا منصب نبوت کے منافی نہیں، پس مشرکین کا آپ ﷺ پر یہ طعن کرنا کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں جاتا ہے بالکل بےجا ہے اللہ کی سنت تمام نبیوں میں یہی رہی۔
اور ہم نے بعض کو بعض کے لئے آزمائش بنایا ہے امیروں کی آزمائش غریبوں سے ہے کہ وہ ان کو نظر حقارت سے نہ دیکھیں اور غریبوں کی آزمائش امیروں سے ہے کہ وہ ان پر حسد نہ کریں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انبیا کی صورت بشریہ اور حوائج انسانیہ کو لوگوں کے لئے آزمائش بنایا کہ لوگ ان کے ظاہر کو دیکھ کر یہ خیال کریں کہ ان میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔ ظاہری صورت کے اعتبار سے تو ایک نادان اور حکیم لقمان میں کوئی فرق نہیں۔
اے مسلمانو۔ کیا تم کافروں کی اس طعن وتشنیع پر صبر کرو گے۔ کافروں کی یہ طعن وتشنیع تمہارے لئے آزمائش ہے۔ دیکھیں کس حد تک صبر کرتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے وہ کافروں کی ایذا اور طعن وتشنیع کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے صبر و تحمل کو بھی دیکھ رہا ہے ہر ایک کو اس کے مطابق اجر دے گا۔
الحمد للہ اٹھارویں سپارے کی تفسیر مکمل ہوئی۔
Ayahs 25:21–31منکرین نبوت کا چوتھا شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقال الذین لا یرجعون لقاء نا ...... الیٰ ..... ھادیا ونصیرا۔
(ربط) منکرین نبوت کا چوتھا شبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازلکیے جو ہمارے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیتے کہ یہ شخص دعوائے نبوت میں صادق ہے یا ہم بلاوسطہ اللہ کو دیکھتے اور بلاوسطہ خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت پوچھ لیتے اور اللہ تعالیٰ ہم کو خود بتلا دیتا کہ یہ شخص میرا نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جاہلانہ اور احمقانہ اور گستاخانہ اور مغرورانہ سوال کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ بڑے ہی سرکش اور متبکر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس مرتبہ کا سمجھتے ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھیں اور خود اللہ تعالیٰ سے آپکی بابت دریافت کرلیں یا کوئی فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر اس کے پاس آئے خوب سمجھ لیں کہ فرشتے ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر نہیں آئے گا بلکہ عذاب الٰہی لیکر آئے گا اس وقت غرور کا سارا نشہ کافور ہوجائے گا، چناچہ فرماتے ہیں اور کہا ان لوگوں نے جو ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید نہیں رکھتے یعنی جو قیامت اور جزاء و سزا کے قائل نہیں اور اسی وجہ سے وہ نبوت کے منکر ہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے جو ہم سے آکر اللہ کا پیغام پہنچا دیتے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں یا ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے اور وہ خود ہم سے کہہ دیتا کہ یہ ہمارا رسول ہے۔ تحقیق ان لوگوں نے اپنے زعم میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا کہا پنے آپ کو اس لائق خیال کیا کہ خدا تعالیٰ ان سے بالمشافہ کلام کرے یا فرشتوں کو اپنا پیغام دیکر ان کے پاس بھیجے اور سرکشی کرنا کہ اپنے گندے اور خبیث نفسوں کے لیے ایسے بلند مقام کے طالب ہوئے جو خدا تعالیٰ کے خالص الخالص برگزیدہ بندوں کے لئے مخصوص ہے۔ خیر خدا تعالیٰ کے دیکھنے کے تو کیا لائق ہوتے البتہ یہ لوگ فرشتوں کے دیکھنے کے مشتاق ہیں سو اس کی صورت یہ ہوگی کہ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے یعنی قیامت کے دن یا مرنے کے وقت تو اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت اور خوشی کا وقت نہ ہوگا بلکہ ذلت و خواری اور غضب الٰہی کے سنانے اور دکھلانے کا وقت ہوگا اور فرشتے اس وقت کافروں سے کہیں گے کہ آج تم پر فلاح اور خوبی حرام اور ممنوع قرار دی گئی۔ یعنی آج کے روز تم پر راحت و آرام سب حرام ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ویقولون کی ضمیر مجرمین کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ مجرمین ملائکہ عذاب کو دیکھ کر کہیں گے پناہ پناہ ہے یعنی ہم کو پناہ دو اور چھوڑ دو لیکن ان کو پناہ کچھ نہیں ملے گی بہرحال مطلب یہ ہے کہ کفار یہ چاہتے ہیں کہ ان پر فرشتے اتریں اور وہ ظاہر طور پر ان کو دیکھیں۔ سو جان لینا چاہئے کہ فرشتے ان کو موت کے وقت نظر آئیں گے اور ان کے مونہوں پر اور ان کے سروں پر گرز ماریں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملائکۃ یضربون وجوھھم و ادبارھم۔
اور علی ہذا یہ مجرمین قیامت کے دن بھی فرشتوں کو دیکھیں گے مگر بشارت اور مسرت کا کوئی سامان نہ ہوگا بلکہ ذلت اور خواری کا سامان ہوگا۔ بخلاف اہل ایمان کے کہ موت کے وقت فرشتے ان پر نازل ہونگے اور خیرات و مسرات کی ان کو خوشخبری سنائیں گے۔ کما قال تعالیٰ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکۃ الا تخافوا ولاتحزنو وابشروا بالجنۃ التی کنتم تو عدون نحن اولیاء کم فی الحیاۃ الدنیا وفیالاخرۃ ولکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیہا ما تدعون نزلا من غفور رحیم۔
خلاصہ کلام یہ کہ اب تو تم فرشتوں کو دیکھنے کی تمنا کر رہے ہو اور جب وہ فرشتے آئیں گے تو تم پناہ مانگو گے تم اس قابل نہیں کہ تم پر اللہ کا فرشتہ اللہ کا پیغام لے کر آئے بلکہ تم اس قابل ہو کہ تم پر اللہ کا فرشتہ اللہ کا قہر اور عذاب لے کر نازل ہو اور پھر اس روز ہم ان کے ان اعمال کی طرف متوجہ ہونگے جن کو دنیا میں انہوں نے نیک کام سمجھ کر کیا تھا جیسے صلہ رحمی اور مہمان داری اور مظلوموں کی دادرسی اور یتیموں کی خبر گیری۔ سو ہم ان کو ہوا میں بکھا ہوا غبار کردیں گے یعنی بکھرے ہوئے غبار کی طرح ان کو رائیگاں اور بیکار کردیں گے مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال کو حبط اور بےکار کردیں گے اس لیے کہ وہ اعمال اگرچہ ظاہری صورت کے اعتبار سے اچھے اور خوشنما تھے مگر بےجان اور بےروح تھے اعمال کی روح ایمان اور اخلاص ہے لہٰذا جو عمل ایمان اور اخلاص سے خالی ہو وہ بےروح اور بےان ہے اور شریعت میں قبول اعمال کے لیے ایمان اور اخلاص شرط ہے اور ایمان ان کو نصیب نہ تھا ایسے اعمال جو ایمان سے خالی ہوں وہ آخرت کے لائق نہیں آخرت پر ملتا ہے جو ایمان پر مبنی ہوں اور کافروں کے اعمال ایمان نہ ہونے کی وجہ سے بےجان ہیں لہٰذا کفار آخرت میں خالی ہاتھ ہوں گے اور ان کے تمام اعمال نیست و نابود اور ملیامیٹ کر دئیے جائیں گے۔ برخلاف اہل ایمان کے کہ انکا حال ان کے برعکس ہوگا۔ ان کو ان کے اعمال کا صلہ ملے گا اس روز اہل جنت قیامگاہ اور قرار گاہ کے اعتبار سے بہت اچھے اور بلحاظ خواب گاہ اور آرام گاہ کے بھی بہت عمدہ ہونگے ” مستقر “ کے معنی قرار گاہ یعنی ٹھکانہ کے ہیں جہاں خاص اوقات میں اپنی ازواج کے ساتھ راحت حاصل کرتا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو عیش و راحت کے تمام سامان حاصل ہونگے حق جل شانہ کے اس قول کے ساتھ راحت حاصل کرتا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو عیش و راحت کے تمام سامان حاصل ہونگے حق جل شانہ کے اس قول یوم یرون الملئکۃ۔ میں روز قیامت کی عظمت وہیبت کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیت میں پھر روز قیامت کے ہول و دہشت کو بیان کرتے ہیں، چناچہ فرماتے ہیں اور منجملہ اور عظمیہ کے جو قیامت کے دن عیش آئیں گے آسمان کا شق ہوجانا اور فرشتوں کا نازل ہونا ہے جس دن آسمان بدلی سے پھٹ جائیگا یعنی آسمان پھٹے گا اور اس سے ایک بادل نمودار ہوگا یہ حق جل شانہ کی ایک خاص تجلی ہوگی اس وقت اللہ جل شانہ ثقلین کے حساب و کتاب کے لیے تجلی فرمائیں گے اور بکثرت فرشتے اتارے جائیں گے اور ان کے ہاتھوں میں مخلوق کے نامہائے اعمال ہوں گے، نازل ہو کر سب مخلوق کو گھیر لیں گے۔
اس آیت کا مضمون تقریباً وہی ہے جو پارہ دوم کے نصف کے قریب ھل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ۔
غمام کے معنی سفید بادل کے ہیں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت میں غمام سے نور عظیم کا سائبان مراد ہے جس سے آنکھیں چکا چوند ہوجائیں اور غالبا اسی نورانی بادل کو ابو زرین ؓ کی حدیث میں عمآء سے اور نسائی کی ایک روایت میں جو معراج سے متعلق ہے غیابۃ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ شب معراج میں سدرۃ المتہیٰ سے ایک بادل میں اوپر تشریف لے گئے۔ واللہ اعلم۔
ابن عباس ؓ علیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اس آیت کو یعنی یوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزلیلا۔ کو پڑھا اور پھر فرمایا کہ جب قیامت کے دن تمام جن اور انس اور وحوش و طیور میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے تو اول آسمان دنیا شق ہوگیا اور اسے فرشتے نازل ہونگے پھر بقیہ ساتواں آسمان شق ہونگے اور فرشتے نازل ہو کر تمام خلائق کا احاطہ کرلیں گے بعد ازاں ابر کے سائبانوں میں حق جل شانہ کا نزول اجلال ہوگا تاکہ بندوں کے اعمال کا حساب و کتاب کردیا جائے اور ان کی جزاء و سزا کا فیصلہ سنا دیا جائے (دیکھو تفسیر ابن کثیر)
تنبیہ : جاننا چاہئے کہ قرآن اور حدیث میں جو حق تعالیٰ کی نسبت آنا اور اترنا مذکور ہوا ہے سو اس سے حق جل شانہ کی تجلی اور اس کا ظہور مراد ہے جو اس کی شان کے لائق ہے جس طرح حق تعالیٰ کی ذات بےچون و چگوں ہے اور جسمانی مشابہت اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اسی طرح اس کی صفات اور اس کے افعال مخلوق کی مشابہت سے پاک ہیں جیسے قل جاء الحق وزھق الباطل۔ میں حق کے آنے سے حق کا ظہور مراد ہے اور باطل کے جانے سے اس کا فناء اور زوال مراد ہے جس کی طرح آنا اور جانا مراد نہیں کہ جس طرح جسم کے آنے اور جانے سے انتقال مکانی مراد ہوتا اس قسم کا انتقال مکانی مراد نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نزول اجلال کو سمجھو۔
اس روز یعنی جس دن آسمان شق ہوگا ظاہراً و باطناً سلطنت رحمن ہی کی ہوگی۔ صرف اسی کا حکم چلے گا ظاہری اور مجازی بادشاہت بھی کسی کو حاصل نہ ہوگی۔ اس جگہ آیت میں لفظ رحمن کا ہے اور دوسری آیت میں لفظ قہار کا آیا ہے کما قال لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار۔ شاید اس آیت میں رحمن کا لفظ اہل ایمان کی تسلی کے لیے لایا گیا ہو کہ وہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ اور یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور رہے مومن تو ان پر سخت نہ ہوگا۔ کما قال تعالیٰ لا یحزنھم الفزع الاکبر الایہ اور جس دن ظالم کو اپنی بدکاری یاد آوے گی اور حسرت و ندامت سے اپنے دونوں ہاتھوں پر دانت مارے گا کہ انکو چنا جائے جیسے حسرت کر نیوالا کیا کرتا ہے اس آیت میں ظالم سے عقبہ بن ابی معیظ مراد ہے جو مسلمان ہوگیا تھا۔ یا مائل بہ اسلام ہوگیا تھا مگر ابی بن خلف کے کہنے سے اسلام سے برگشتہ ہوگیا اور بار بار کہے گا کہکاش میں دنیا میں رسول کے ساتھ راہ بنا لیتا۔ ہائے میری ہلاکت اور بربادی، کاش میں دنیا میں فلاں شخص کو یعنی ابی بن خلف کو اپنا دوست نہ بناتا۔ بیشک اسی فلانے دوست نے مجھ کو نصیحت اور ہدایت سے بہکایا جب کہ وہ نصیحت اور ہدایت میرے پاس آچکی تھی۔ اور شیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس دن یہ کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری قوم قریش نے اس قرآن کو متروک یعنی چھوڑا ہوا بنا دیا کہ اس قرآن کی طرف توجہ نہ کہ نہ خود سنا اور نہ دوسروں کو سننے دیا جب میں ان کے سامنے پڑھتا تھا تو شوروغل مچا دیتے تھے۔ کما قال تعالیٰ وقال الذین کفرو الا تسمعوا لھذا القران والغوا فیہ۔
اب آگے آپ کی تسلی فرماتے ہیں اور اے نبی آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں جس طرح ہم نے تیری قوم کے کافروں کو تیرا دشمن بنایا ہے اسی طرح ہم مجرم لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بناتے رہے ہیں اور وہ صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح آپ ﷺ بھی صبر کیجئے اور تیرا پروردگار کافی ہادی اور مددگار ہے تو تسلی رکھ تیرا ہر وردگار تجھ سے ہدایت جاری کریگا اور دشمنوں کے مقابلہ میں تیری نصرت اور یاوری کرے گا۔
Ayahs 25:32–36منکرین نبوت کا پانچواں شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جعلۃ واحدۃ .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق کفار کا ایک شبہ یہ تھا کہ تورایت اور انجیل کی طرح ایک ہی مرتبہ کیوں نہ نازل کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسے مقصود اپنے رسول کے قلب کی تقویت ہے اور اس کے علاوہ اور بھی فوائد ہیں جو دوسری آیتوں میں مذکور ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور کافروں نے کہا کہ اس شخص پر یہ قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نازل کیا گیا۔ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو تدریجاً نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی اس تدریج سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کی تصنیف ہے سوچ سوچ کر تھوڑا تھوڑا بنا لیتے ہیں جیسا کہ طریقہ ہے۔ آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ اس شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ ہم نے اس قرآن کو اسی طرح تھوڑا تھوڑا متفرق طور پر آیت آیت کرکے اس لئے اتارا تاکہ اس کے ذریعہ تیرے دل کو قوت دیں اور اس کو ثابت اور مضبوط کردیں اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام اور پیغام ہے اور تقویت قلب کا سامان ہے اور روح القدس کی بار بار آمد یہ بھی تائید اور نقویت کا سامان ہے اور یہ قرآن آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تھوڑا تھوڑا کرکے یہ قرآن آپ کے قلب پر نازل کیا تاکہ اس تدریجی نزول سے بتدریج قلب مبارک اس درجہ قوی اور مضبوط ہوجائے کہ جس کلام الٰہی کی تجلی کو پہاڑ برداشت نہ کرسکے اس کو آپ ﷺ کا قلب مبارک بسہولت برداشت کرسکے چناچہ جب کبھی کوئی حدود وحی نازل توتی تو آپ ﷺ کی بصیرت اور قوت قلب میں اور زیادتی ہوجاتی باران رحمت کا آسمان سے تھوڑا تھوڑا نازل ہونا کھیتی کی درستگی اور پختگی کا سامان ہے یہی وجہ ہے کہ جب کوئی جدید آیت نازل ہوتی تو صحابہ ؓ کے ایمان میں اور زیادتی ہوجاتی۔ (2) نیز وقتاً فوقتاً آیات کا حسب موقعہ اور ھسب واقعہ اور حسب ضرورت نازل ہونا مزید بصیرت کا سبب ہے جس سے یقین اور معرفت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے اور مراد کے سمجھنے میں سہولت ہوجاتی ہے (3) نیز وقتا فوقتا جبریل امین (علیہ السلام) کا آنا فقط آپ کے قلب مبارک کی تسلی اور تسکین کا باعث نہ تھا بلکہ سب کے لئے موجب صد خیرو برکت تھا۔ (4) کفار دشمنی اور عداوت پر تلے ہوئے تھے جب کوئی نیا عناد دیکھتے تو آپ ﷺ پریشان ہوجاتے تو آپ ﷺ کی تسلی کے لئے کوئی آیت نازل ہوجاتی جو آپ کی تقویت قلب کا باعث ہوتی۔ (5) علاوہ ازیں قرآن کریم میں ایسے احکام بھی ہیں جن میں ناسخ اور منسوخ بھی ہیں جسکا تعلق مختلف اوقات سے ہے اور ظاہر ہے کہ ناسخ و منسوخ دونوں کا بیک وقت نازل ہونا اور آن واحد میں دونوں کا جمع ہونا غیر معقول ہے۔ (6) نیز قرآن کریم کی بہت سے آیتیں مشرکین کے اعتراضات کے جوابات میں نازل ہوئیں اور ظاہر ہے کہ جواب سوال اور اعتراض کے بعد پوتا ہے اور اعتراض کے بعد شانی جواب کامل جانا خاص بصیرت اور معرفت کا سبب ہوتا ہے۔ نیز بہت سی آیتیں نئے واقعات کے فیصلہ کے متعلق نازل ہوئیں اور ظاہر ہے کہ فیصلہ تو واقعہ کے وقوع کے بعد ہوگا (7) نیز قرآن تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا تھا اور آپ ﷺ کفار سے یہ کہتے کہ اگر تم کو اس کے کلام الٰہی ہونے میں شبہ ہے تو ایک آیت اس کے مثل بنا لاؤ جب کوئی آیت نازل ہوتی تو ہر بار قرآن کا اعجاز اور انکا عجز ظاہر ہوتا تو ثابت ہوگیا کہ جب بلغاء عرب ایک آیت کے مثل لانے سے عاجز ہیں تو پورے قرآن کے مثل لانے سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہیں۔ مختصر یہ کہ مشرکین کا یہ اعتراض محض بےحاصل ہے قرآن چاہے دفعۃ نازل ہوا یا تھوڑا تھوڑا وہ ہر حال میں معجز ہے کسی طرح نازل ہو۔ اس کے اعجاز میں فرق نہیں آتا۔ قرآن کریم کا نزول ایک دفعہ ہو یا متفرق طور پر وہ بہر صورت معجز ہے، یہ تمام کلام امام رازی (رح) کے کلام کی تشریح ہے۔ حضرات اہل علم تفسیر کبیر ص 372 ج 6 کی مراجعت کریں اور اسی وجہ سے ہم نے ٹھہر ٹھہر کو آپ کو یہ قرآن پڑھ کر سنایا۔ تاکہ جب ہر بات کا جواب آپ کو وقت پر ملتا رہے تو آپ کا قلب ثابت رہے اور مسلمانوں کو بھی تسکین ہوتی رہے۔ اسی مصلحت کے لیے ہم نے اس قرآن کو تئیس سال کی مدت میں ٹھہر ٹھہر کر اتارا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ چند روز طبیب کے پاس رہ کر علاج کرایا جائے اور جیسے جیسے حالات بدلتے رہیں اس کے مطابق نسخہ میں تغیر اور تبدل ہوتا رہے ایک ہی مرتبہ نسخہ بتلا دینے میں مریض کا اتنا فائدہ نہیں جتنا کہ تدریجی علاج میں ہے اور چونکہ شرائع سابقہ چند روزہ تھیں اور ایک خاص قوم اور جماعت کے لیے تھیں اس لیے ان میں ان مصالح کی رعایت نہیں کی گئی۔
اور اے نبی لائیں گے یہ کافر کوئی مثال جو تجھ پر ڈھالیں جس سے تجھ پر یا اس قرآن پر اعتراض کریں مگر ہم اس کے جواب میں تیرے پاس امر حق کو لائیں گے جس سے ان کی وہ مثال باطل ہو جائیگی اور حق ثابت ہوجائے گا اور اس کے مقابلہ میں نہایت صاف اور واضح بیان لیکر آئیں گے جس سے انکا اعتراض اور شبہ ایسا دو ہوجائیگا کہ بولنے کی گنجائش ہی نہ رہے الا یہ کہ جس کی عقل ہی اندھی ہوگئی ہو اب آئندہ آیت میں ایسوں کا انجام فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف ہنکائے جائیں گے دنیا میں اندھی اور اوندھی چال چل رہے تھے اسی طرح وہ آخرت میں بجائے پیروں کے منہ کے بہ چلائے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ کفار قیامت کے دن اوندھے منہ کے بل چلائے جائیں گے اور اپنے منہ سے راستہ کے کانٹے کو ہٹائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن کافر کس طرح منہ کے بل چلے گا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو خدا اس کو دنیا میں پیروں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے یعنی سر کے بل چلانا اور پیروں کے بل چلانا خدا کی قدرت کے لحاظ سے یکساں ہے۔
نکتہ : امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح کفار کے دل دنیا میں اندھے ہوگئے اور زمین اور پستی کی طرف کی طرف مائل ہوگئے اور بلندی سے اعراض کیا اس لیے انکا حشر اسی ہئیت کے ساتھ ہوگا ایسے ہی لوگ جو قلب اور عقل کے اندھے اور اوندھے۔ باعتبار مکان کے یا باعتبار مرتبہ کے بدترین خلائق ہیں اور سبے زیادہ گمراہ ہیں اس لیے انکا حشر منہ کے بل ہوگا۔
ذکر قصص انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام
یہاں تک منکرین نبوت کا شبہات اور اعتراضات کے جوابات کا ذکر تھا اب اس کے بعد مختصراً چند انبیاء کرام کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ کفار کو تنبیہ ہوجائے کہ منکرین نبوت کس ذلت و خواری کے ساتھ ہلاک ہوئے تاکہ اہل عرب ان سے عبرت پکڑیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے باز آجائیں اور یہ واقعات آنحضرت ﷺ کی تسلی اور تقویت قلب کا باعث بنیں جیسا کہ لنثبت بہ فؤادک۔ میں اس کا ذکر فرمایا تھا کہ مقصود تثبیت قلب نبوی ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ آپ ﷺ غمگین نہ ہوں اس میں اللہ کی حکمت بالغہ ہے۔ ولوشاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ۔
Ayah 25:37دوسرا قصہ قوم نوح (علیہ السلام)
وقوم نوح لما کذبوا الرسل .... الیٰ .... عذابا الیما۔
اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہم نے تم کو قوم نوح کو طوفان میں غرق کیا جبکہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کے واقعہ کو لوگوں کے لیے نشانی بنا دیا تاکہ اس سے عبرت پکڑیں اور آخرت میں ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ قوم نوح نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو ان سے پہلے گزرے تھے جیسے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) ان کی بھی تکذیب کی یا یہ معنی ہیں کہ ایک رسول کی تکذیب سارے رسولوں کی تکذیب کے مساوی ہے یا یہ معنی ہیں کہ مطلقاً بعثت رسل کا انکار کیا۔
Ayahs 25:38–40قصہ سوم مشتمل بر ذکر قصہ قوم عاد وثمود و اصحاب رس و دیگر امم
وعادا و ثمودا واصحب الرس .... الیٰ .... وکلا تبرنا تتبیرا۔
اور اسی تکذیب کی وجہ سے ہم نے قوم عاد کو باد صر صر سے ہلاک کیا جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور قوم ثمود کا صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے صیحہ سے ہلاک کیا جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور کنوئیں والوں کو شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا اور ” رس “ ایک کنوئیں کا نام ہے یا کسی بستی کا نام ہے جن کی طرف شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کسی اور نبی کی قوم تھی جنہوں نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں بند کردیا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور ہلاک ہوئے اور وہ رسول خلاص ہوا اور اسی تکذیب کی وجہ سے ان کے درمیان بہت سی امتوں کو ہلاک کیا جن کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اور ہر ایک کی نصیحت اور ہدایت کے لیے ہم نے مثالیں بیان کیں تاکہ حق کو اچھی طرح سمجھ جائیں اور کوئی شبہ نہ رہے مگر وہ لوگ پھر بھی حق کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور جب تکذیب اور انکار پر تل گئے تو پھر ہم نے ہر ایک کو غارت کردیا اچھی طرح غارت کرنا کہ قصہ ہی ختم کردیا۔
قصہ چہارم قوم لوط (علیہ السلام)
اور البتہ تحقیق یہ اہل مکہ ملک شام کو آتے جاتے اس بستی پر گزرے ہیں جس پر پتھروں کی بری بارش برسائی گئی، اس سے قوم لوط کی بستی سدوم مراد ہے کیا گزرتے وقت ان بستوں کو دیکھا نہیں کہ عذاب کے آثار دیکھ کر عبرت پکڑتے سو عبرت پکڑنے کی وجہ نہیں کہ ان بستیوں کو دیکھا نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کو حشر و نشر کی کوئی امید نہیں اور نہ ان کو ڈر ہے یعنی یہ لوگ حشر و نشر کے قائل ہی نہیں جو عذاب سے ڈریں۔
اس زمانہ کے بعض ملحدیہ کہتے ہیں کہ اسی قطعہ زمین کے نیچے گندھک اور کوئلہ کی کان تھی، ان کے باہم ملنے سے آگ پیدا ہوئی اور زمین پھٹ کر پتھر برسنے لگے اور بستی تہ وبالا ہوگئی۔
یہ سب گپ ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ فلاں وقت عذاب آئے گا۔ حسب خبر خداوندی لوط (علیہ السلام) مع مسلمانوں کے وہاں سے نکل گئے اور عذاب الٰہی سے بچ گئے اور باقی عذاب الٰہی سے ہلاک ہوئے حتیٰ کہ جو کوئی اس قوم کافرد کہیں باہر تھا وہ بھی آسمانی پتھر سے ہلاک ہوا۔