24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعارف القرآن

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ (ایک) سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے (احکام کو) فرض کردیا اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو

تمہید اجمال احکام سورت دربارہ عفت و عصمت قال اللہ تعالیٰ ۔ سورة انزلنھا وفرضنھا وانزلنا فیہا آیات بینت لعلکم تذکرون۔ یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے اتارا ہے۔ جو عفت اور عصمت کے احکام پر مشتمل ہے، جیسے حد زنا اور حد قذف اور حکم لعان اور حکم استیذان اور حکم غض بصر۔ یعنی نظر اور بصر کو نامحروموں کو دیکھنے سے محفوظ رکھنے کا حکم وغیرہ وغیرہ۔ اور ہم نے ان احکام کو مقرر کیا ہے۔ یعنی یہ احکام ہمارے نازل کردہ اور مقرر کردہ ہیں ان میں کوتاہی نہ کرنا، یا یہ معنی ہیں کہ ان احکام کو ہم نے فرض اور لازم کیا ہے۔ تم پر ان احکام کی تعمیل لازم ہے اور ہم نے اس سورت میں تمہارے لیے واضح اور روشن آیتیں نازل کیں جو ایسی ہدایتوں اور نصیحتوں پر مشتمل ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے تمہارا دل منور ہوجائے۔ شاید نصیحت پکڑو اور سمجھو کہ بدکاریوں اور بےحیائیوں سے دل کا نور رخصت ہوجاتا ہے اور جانو کہ نفس کی تطہیر بغیر ان حدود اور تعزیرات کے ممکن نہیں کہ جو تم کو اس سورت میں بتلا دی گئیں اللہ تعالیٰ نے تم کو اس سورت میں معاشرہ کا دستور العمل بتلا دیا کہ زنا سے بچو اور عورتوں کو بےحجابی سے بچاؤ اور بےدھڑک اور بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل نہ ہو۔ معلوم نہیں کہ کوئی شخص اپنے گھر میں کسی حال میں ہے یہ چیزیں معاشرہ اور تمدن کو خراب کرنے والی ہیں۔ اب اس تمہید کے بعد احکام کی تفصیل شروع فرماتے ہیں اور چونکہ تمام رذائل میں خبیث ترین اور سب سے زیادہ گندہ فعل زنا ہے اس لیے اس سورت کے احکام کی ابتدا حکم زنا سے فرمائی کیونکہ زنا سے حسب و نسب کا نظام درہم و برہم ہوجاتا ہے اور قرابتوں کا فرق ملتبس اور مشتبہ ہوجاتا ہے جس پر نکاح اور میراث کا دارومدار ہے، دینی اور دنیوی فلاح اور کامیابی بغیر عفت اور پاکدامنی کے حاصل نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 24:2–3

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے

حکم اول حد زنا قال اللہ تعالیٰ ۔ الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ .... الیٰ .... طائفۃ من ال مومن ین۔ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد سو ان دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو درے مارو۔ اور اے مسلمانو ! تم کو اللہ کے حکم کی تعمیل میں ان دونوں پر رحم اور ترس نہ آنا چاہئے کہ رحم کھا کر ان کو چھوڑ دو یا ان کی سزا میں کچھ کمی کر دو دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہوئے ہو تو حکم الٰہی کو پوری طرح جاری کرو اور اس میں نرمی اور سستی نہ کرو ورنہ خدا تعالیٰ آخرت میں تم سے سوال کرے گا کہ تم نے ہمارے قانون کے جاری کرنے میں لوگوں کی رعایت سے سستی اور بزدلی دکھلائی۔ اللہ کا حق یہ تھا کہ اس کی تعمیل میں ہمت اور دلیری سے کام لیتے اور جب تم یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں اس دن کی باز پرس سے ڈرنا چاہئے تھا۔ حاصل کلام یہ کہ اللہ کی مقرر کردہ حد کو بلا کسی رعایت کے پوری طرح جاری کرو اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر رہے۔ تاکہ لوگوں کو عبرت اور نصیحت ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس سزا کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ اس فضیحت کو دیکھ کر لوگ عبرت پکڑیں۔ اگر کسی بند مکان میں یہ سزا جاری کی گئی تو یہ مقصد حاصل نہ ہوگا۔ اور یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد عاقل اور بالغ اور غیر شادی شدہ ہو۔ ایسے شخص کو اصطلاح شریعت میں ” غیر محصن “ کہتے ہیں اور جو شخص شادی شدہ ہو اور ہمبستری بھی کرچکا ہو ایسے شخص کو ” محصن “ کہتے ہیں اس آیت میں غیر محصن یعنی غیر شادی شدہ کی سزا کا ذکر ہے کہ اس کے سوکوڑے ما رے جائیں اور جو شخص محصن ہو یعنی جس کا نکاح ہوا ہو اور وہ ہمبستری بھی کرچکا ہو تو اس کی سزا رجم سنگسار کرنا ہے یعنی سب کے سامنے اس کے پتھر مارے جائیں یہاں تک کہ وہ مرجائے جیسا کہ سورة مائدہ میں بحوالہ توریت یہ گزر چکا ہے۔ وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیہا حکم اللہ کہ آنحضرت ﷺ نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت پر جو شادی شدہ تھے زنا کی سزا میں ان کو بحکم تورات رجم و سنگسار کیا اور سب نے طوعا و کرہا اس کو قبول کیا کہ تورات میں شادی شدہ زنا کار کا حکم رجم و سنگسار کرنا ہے اور علی الاعلام رجم کی سزا جاری کی گئی اور اسی بارے میں سورة مائدہ کی آیت نازل ہوئی جس میں رجم کی سزا کو حکم اللہ کہا گیا اور جب آنحضرت ﷺ نے یہود کے بارے میں رجم کا فیصلہ فرمایا تو یہ ارشاد فرمایا اللہم انی اول من احیا امرک اذا ماتوہ خدایا میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم (رجم) کو زندہ کیا جب کہ وہ مٹا چکے تھے بہرحال آنحضرت ﷺ نے بحکم خداوندی شادی شدہ زانیوں کو رجم کی سزا دی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم اللہ فرمایا اور پھر اس واقعہ یہود کے بعد جس قدر واقعات اس قسم کے پیش آئے ان سب میں آپ ﷺ نے زانی محصن کو رجم کی سزا دی اور اس بارے میں اس قدر احادیث مروی ہیں کہ ان کا قدر مشترک بلاشبہ تو اتر معنوی کو پہنچا ہوا ہے اور حضور پرنور ﷺ کے بعد خلفاء راشدین ؓ کا بھی یہی عمل رہا اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عمل نے اور خلفاء راشدین کے عمل نے یہ واضح کردیا کہ تورات میں جو رجم کا حکم تھا وہ شریعت محمدیہ میں حسب سابق باقی ہے جیسا کہ قتل عمد کی سزا میں قتل کا حکم قرآن حکیم میں بحوالہ تورات بیان کیا گیا ہے وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس اسی طرح رجم کے حکم کو سمجھو۔ خلاصہ کلام یہ کہ آیت میں جو سو کوڑے لگانے کا حکم مذکور ہے وہ اس بدکار مرد اور عورت کا ہے کہ جو غیر شادی شدہ ہوں اور جو مرد اور عورت شادی شدہ ہوں اور وہ بدکاری کریں تو ان کا حکم رجم (یعنی سنگسار) کرنا ہے۔ جیسا کہ احادیث صریحہ اور متواترہ سے اور خلفاء راشدین اور صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے جس میں نہ مجال انکار کی ہے اور نہ تاویل کی گنجائش ہے (دیکھو احکام القرآن للجصاص (رح) ص 263 ج 3) بخاری اور مسلم وغیرہ میں ہے کہ فاروق اعظم ؓ نے اپنے آخری حج سے واپسی کے بعد اور اپنی شہادت سے ایک ماہ قبل طویل خطبہ دیا جس میں یہ ارشاد فرمایا۔ ان اللہ بعث محمدا ﷺ بالحق وانزل علیہ الکتاب فکان مما انزل اللہ ایۃ الجم فقرأنا ھا وعقلنا ھا و رعیناھا رجم رسول اللہ ﷺ ورجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان یقول قائل واللہ ما نجد ایۃ الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلہا اللہ والرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنی اذا احصن من الرجال والنساء اذا قامت البینۃ اوکان الحبل او الاعتراف۔ (دیکھو فتح الباری ص 130 ج 12 باب رجم الحلبی امن الزنا اذا احصنت۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو حق دیکر بھیجا اور ان پر قرآن اتارا اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رجم کی آیت بھی اتاری پس ہم نے اس آیت رجم کو پڑھا اور اس کا مطلب سمجھا اور اس کا یاد رکھا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں رجم کے حکم پر عمل کیا اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہم لوگوں نے یعنی صحابہ نے رجم کا حکم پر عمل کیا اور اس حکم کو جاری کیا۔ سو میں ڈرتا ہوں کہ ایک مدت زمانہ گزر جانے کے بعد کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم کتاب اللہ میں رجم کی آیت نہیں پاتے، پھر گمراہ ہوں ایک فرض کے ترک سے جس کو اللہ تعالیٰ نے اتارا (یعنی آیت رجم کی تلاوت اگرچہ منسوخ ہوگئی مگر اس کا حکم باقی ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو رجم کا حکم نازل فرمایا وہ بالکل حق اور درست ہے اور یہ حکم اس شخص کے لیے ہے کہ جو مرد یا عورت شادی شدہ ہو۔ اور وہ زنا کرے اور وہ زنا گراہی سے ثابت ہوجائے یا حمل سے ظاہر ہوجائے یا مرد یا عورت کے اقرار سے ثابت ہوجائے تو ایسے زنا کار مرد اور عورت کا رجم ازروئے کتاب الٰہیہ کے حق اور درست ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے اس خطبہ میں جس آیت رجم کا ذکر فرمایا پوری آیت اس طرح ہے۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم اخرجہ النسائی وصحیحہ الحاکم دیکھو فتح الباری ص 127 ج 12 باب الاعتراف بالزنا۔ شادی شدہ مرد یا عورت جب زنا کریں تو ان دونوں کو رجم یعنی سنگسار کر ڈالو قطعی طور پر اور یہ رجم کا حکم اللہ کی طرف سے بطور عبرت ہے تاکہ اس عبرتناک سزا کو دیکھ کر لوگ زنا سے باز آجائیں اور اللہ غالب ہے اور حکمت والا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے۔ ان عمر بن الخطاب خطب الناس فقال لاتشکوا فی الرجم فانہ حق۔ (فتح الباری ص 127 ج 12) حضرت عمر ؓ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ رجم کے حکم میں شک نہ کرنا۔ اس لیے کہ رجم کا حکم بلاشبہ حق ہے۔ اور ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ کہا کہ اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر ؓ نے قرآن میں اپنی طرف سے اضافہ کردیا تو میں اپنے ہاتھ سے قرآن کے حاشیہ میں یہ آیت لکھ دیتا۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم۔ (دیکھو فتح الباری ص 127 ج 12) بیشمار روایتوں سے ثابت ہے کہ آیت رجم جو اوپر مذکور ہوئی وہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئی۔ تلاوت اگرچہ اس کی منسوخ ہوگئی مگر اس کا حکم بالاجماع باقی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے موافق عمل کیا اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء راشدین اور صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی وفات سے پہلے بار بار رجم کے حکم کا اعلان فرمایا۔ مقصود یہ تھا کہ رجم کا حکم اللہ کی طرف سے قرآن میں نازل ہوا، اور اب اگرچہ اس آیت کی تلاوت منسوخ ہے مگر اس کا حکم بدستور باقی ہے اور اس حکم سے اعراض اور انحراف گمراہی ہے۔ (دیکھو زرقانی شرح موطا ص 145 ج 4) حضرت عمر ؓ کو ڈر یہ تھا کہ آئندہ چل کر کچھ لوگ ایسے پیدا نہ ہوں کہ جو رجم کے حکم کا انکار کریں اور بہانہ یہ بنائیں کہ رجم کا حکم صراحۃً قرآن میں موجود نہیں اس فتنہ کے انسداد کے لیے بار بار آیت رجم کا برسر منبر اعلان فرمایا تاکہ آئندہ چل کر کسی کو رجم کے انکار کی مجال نہ رہے۔ حضرات اہل علم تفصیل کے لیے فتح الباری باب الاعتراف بالزنا اور باب رجم الحبلی کی مراجعت کریں۔ حافظ عسقلانی (رح) نے ابواب کی شرح میں حضرت عمر ؓ کے خطبہ کے بارے میں جو روایتیں وارد ہوئی تھیں ان کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ نیز زرقانی شرح مؤطا امام مالک ص 145 ج 4 کتاب الحدود دیکھیں جس میں آیت رجم کا ذکر ہے۔ اور امام بخاری نے جامع صحیح میں کتاب المحاربین کے ذیل میں رجم پر مختلف ابواب اور تراجم قائم فرمائے۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ رجم محصن کا حکم قطعی اور یقینی ہے۔ حضرت عمر ؓ کو جو خطرہ تھا کہ آئندہ زمانہ میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ہم رجم کا حکم صراحۃً کتاب اللہ میں نہیں پاتے۔ حضرت عمر ؓ کا یہ گمان صحیح نکلا اور خارجیوں نے یہی کہہ کر رجم کے حکم کا انکار کیا کہ قرآن میں تو صرف جلد یعنی کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ رجم۔ سنگسار کرنے کا حکم مذکور نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے نور بصیرت سے پہلے ہی اس فتنہ کو دیکھ لیا اور اس کا انسداد فرما دیا اور اس شدت کے ساتھ حکم رجم کا اعلان فرمایا کہ آئندہ چل کر کسی کو انکار کی مجال نہ رہے۔ نکتہ : شریعت کے جس طرح تمام احکام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں اسی طرح زنا کے بارے میں جو حکم دیا گیا وہ بھی سراسر حکمت و مصلحت پر مبنی ہے۔ زنا کے بدترین خصلت ہونے میں تو کسی عاقل کو شبہ ہی نہیں۔ شریعت نے اس بےحیائی کے انسداد کے لیے یہ حکم دیا کہ اگر زنا کار غیر شادی شدہ ہے تو اس کو اس نفسانیت کی سزا میں سو کوڑے لگائے جائیں مگر اس کو مارا نہ جائے بلکہ سزا دے کر اسے زندہ رہنے دیا جائے اور اگر یہ حرام کار شادی شدہ ہے تو اب اس کے لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ حرام کاری میں مبتلا ہو اس لیے شریعت نے ایسے شخص کے رجم کا حکم دیا تاکہ ایسے خبیث کے وجود سے اللہ کی زمین ہی پاک ہوجائے۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو ان کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے

حکم سوم حدقذف قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین یرمون المحصنت .... الیٰ .... فان اللہ غفور رحیم۔ گزشتہ آیت میں زانیہ سے نکاح کی حرمت بیان کی اب اس آیت میں کسی پر زنا کی تہمت لگانے والے کا حکم بیان کرتے ہیں کہ جو کسی پر بغیر ثبوت کے زنا کی تہمت لگائے اس کی کیا سزا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر ان کے زنا کے ثبوت پر چار گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ ان کی کوئی گواہی قبول نہ کرو ایسے ہی لوگ خدا کے نزدیک لاحق ہیں کہ انہوں نے ایک پاکدامن کو بےآبرو کیا اور بلاثبوت کے اس پر زنا کی تہمت لگائی مگر جن لوگوں نے تہمت لگانے کے بعد توبہ کرلی اور اپنی حالت کی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا حق معاف کردیا اور فسق کا نام ان سے اٹھ گیا مگر توبہ کرنے سے حد ساقط نہ ہوگی اس لیے کہ وہ بندہ کا حق ہے تو بہ کرنے سے اس کو یہ فائدہ پہنچا کہ اب اس کو فاسق نہیں کہا جائے گا۔ اس لیے کہ قذف یعنی تہمت لگانے کا جو گناہ اس کے ذمہ تھا۔ وہ توبہ سے رفع ہوگیا۔ باقی رہی حد۔ سو یہ اس کی دنیوی سزا ہے کہ تم نے کسی پاکدامن کو بلا ثبوت کے کیوں بےآبرو اور خوار کیا یہ اسی کوڑے بلا ثبوت تہمت کی دنیوی سزا ہے جس سے مقصود دوسروں کو عبرت دلانا ہے۔ یہ سزا توبہ کرنے سے بالاجماع ساقط نہیں ہوسکتی۔ البتہ اختلاف اس میں ہے کہ بعد فسق کے دائرہ سے تو باہر ہوجائے گا مگر اس کی شہادت اور گواہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مردود رہے گی اور امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) یہ فرماتے ہیں کہ توبہ کے بعد اس کے فسق کا حکم بھی ختم ہوجائے گا اور عدم قبول شہادت کا حکم بھی اس سے اٹھ جائے گا۔ فائدہ : جاننا چاہئے کہ اس آیت میں قاذف یعنی تہمت لگانے والے کے تین حکم مذکور ہیں۔ ایک ثمانین جلدۃ یعنی اسی (80) کوڑے لگانا۔ دوم لاتقبلوا لہم شھادۃ ابدا یعنی اس کی کوئی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ سوم اولئک ہم الفاسقون ایسے لوگ فاسق ہیں۔ اب تین حکموں کے بعد تانبین کا استثناء فرمایا الا الذین تابوا تو علماء نے اختلاف کیا کہ یہ استثناء تین حکموں میں سے کسی حکم کی طرف راجع ہے پس اس پر ائمہ اربعہ کا اجماع ہے کہ یہ استثناء پہلے حکم یعنی اسی کوڑے مارنے کی طرف راجع نہیں تہمت لگانے والے پر حد قذف یعنی اسی (80) کوڑوں کی مار بالاجماع جاری ہوگی چاہے وہ توبہ کرے یا نہ کرے اب باقی رہے وہ جملے ایک لاتقبلوا لہم شھادۃ ابدا۔ یعنی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور دوسرا جملہ واولئک ہم الفاسقون یہ لوگ فاسق ہیں اب اخیر میں الا الذین تابوا کا استثناء مذکور ہے تو امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک اس استثناء کا تعلق دونوں جملوں سے ہے یعنی توبہ کرنے سے اس کی گواہی بھی قبول ہوگی۔ اور فسق کا حکم بھی اس سے دور ہوجائے گا اور امام ابوحنیفہ (رح) یہ فرماتے ہیں کہ اس استثناء کا تعلق صرف اخیر جملہ ہے پس توبہ سے اس کا فسق تو دور ہوجائے گا مگر شہادت اس کی ہمیشہ کے لئے مردود رہے گی اور قاضی شریح اور ابراہیم نخفی اور سعید بن جبیر اور مکحول اور ابن زید (رح) علیہم بھی اسی طرف گئے ہیں اور یہی مذہب سفیان ثوری (رح) کا ہے اور قواعد عربیت کا اقتضاء بھی یہی ہے کہ جب تین جملوں کے بعد کوئی استثناء آرہا ہے یا تو تینوں سے متعلق کرو۔ یا صرف اخیر جملہ سے اس کو متعلق کرو۔ اور اس آیت میں یہ استثناء بالاجماع پہلے جملہ کی طرف راجع نہیں کیونکہ توبہ کرلینے سے بالاجماع حد ساقط نہیں ہوتی اور یہ امر بھی متعین ہے کہ یہ استثناء جملہ اخیرہ کی طرف ضرور راجع ہے اب درمیانی جملہ ولا تقبلو الہم شھادۃ ابدا محتمل رہا۔ اور ظاہر یہی ہے کہ یہ استثناء اخیر جملہ کی طرف راجع کیا جائے۔ کیونکہ وہ اس کے قریب ہے اور متصل ہے نیز قرآن اور حدیث میں جہاں کہیں توبہ کا ذکر ہے اس کا تعلق حقوق اللہ اور احکام آخرت سے ہے۔ نہ کہ دنیوی احکام سے۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ یہ استثناء فقط واولئک ہم الفاسقون سے متعلق اور مربوط ہے کیونکہ فسق کا تعلق احکام آخرت سے ہے۔ اور درمیانی جملہ ولا تقبلوا لہم شھادۃ کا مضمون احکام دنیا سے تعلق ہے جیسا کہ پہلے جملہ کا حکم ثمانین جلدۃ احکام دنیا سے متعلق ہے، پس بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ولا تقبلوا لہم شھادۃ ابدا کو فاجلدوھم ثمانین جلدۃ کا تتمہ اور تکملہ قرار دیا جائے اور تانبین کے استثناء کو فقط اخیری جملہ واولئک ہم الفاسقون سے متعلق رکھا جائے۔ نیز والذین یرمون المحصنت کی جزاء تو فاجلدوھم ثمانین جلدۃ و لا تقبلوا لہم شھادۃ ابدا پر پوری ہوئی اور واولئک ہم الفاسقون جملہ مستانفہ ہے جو قذف کے جزا اور سزا بیان کرنے کے بعد لایا گیا ہے اور اسلوب کلام بھی بدلا ہوا ہے اس لیے کہ فاجلدوھم اور ولاتقبلوا لہم شھادۃ دونوں خطاب کے صیغے ہیں اور دونوں جملے، جملہ انشائیہ میں ایک امر ہے اور ایک نہی ہے اور جملہ واولئک ہم الفاسقون۔ مستقل جملہ ہے جو سابق خطاب کے ختم کے بعد لایا گیا ہے اور یہ جملہ خبریہ اسمیہ ہے۔ پہلے دو جملوں کی طرح جملہ انشائیہ فعلیہ نہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس جملہ اسمیہ خبریہ کا عطف یعنی واولئک ہم الفاسقون کا عطف شروع جملہ اسمیہ خبریہ یعنی والذین یرمون المحصنت پر کیا جائے اور ولا تقبلوا لہم شھادۃ ابدا جو کہ جملہ انشائیہ فعلیہ ہے اس پر اس کا عطف نہ ہو کیونکہ جملہ انشائیہ فعلیہ پر جملہ اسمیہ خبریہ یعنی واولئک ہم الفاسقون کا عطف باعتبار قواعد بلاغت جائز ہی نہیں یا مناسب نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ حضرات اہل علم اس مقام پر حاشیہ شیخ زادہ و حاشیہ تتوی علیٰ تفسیر البیضاوی ملاحظہ فرما دیں۔
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) مگر وہ صاحب کرم امین ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے

حکم چہارم لعان قال اللہ تعالیٰ والذین یرمون ازواجہم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم۔ (ربط) پہلی آیت میں اجنبی عورتوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان فرمایا تھا، اب ان آیات میں اپنی بیوی پر تہمت لگانے کا حکم بیان کرتے ہیں۔ جس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ اپنی منکوحہ بیوی پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز ان کی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہوں۔ جس کے لئے چار عدد گواہوں کا ہونا ضروری ہے تو ایسے شخص کی شہادت جو اس کو حد قذف اور سزاء حبس سے بچا لے یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ شہادت دے کہ وہ بلاشبہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار وہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ یہ مرد کا لعان ہوا۔ جس سے مرد سے حد قذف ساقط ہوئی۔ چونکہ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کا پیش کرنا ضروری ہے اور اپنے گھر کے معاملہ میں شہادت کا فراہم کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لئے شریعت نے یہ حکم دیا کہ اگر مرد اپنی بیوی کو زنا کے ساتھ متہم کرے تو بجائے چار گواہوں کے چار حلفیہ شہادتیں دے دے تو یہ چار حلفیہ شہادتیں قائم مقام چار گواہوں کے ہوجائیں گی۔ اس طرح شوہر خاندانی ذلت سے بچ جائے گا ورنہ شوہر کے لئے چار گواہوں کا میسر آنا بہت دشوار ہے اور اس کے بعد عورت کا لعان ہے کہ وہ بھی پانچ مرتبہ اسی طرح کہے۔ چناچہ عورت سے حد زنا اور قید کو دور کرنے والی چیز یہ ہے کہ وہ عورت اللہ کی قسم کھا کر چار مرتبہ گواہی دے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر میرا خاوند سچوں میں سے ہو۔ مرد اور عورت کا اس طرح کہنا یہ ” لعان “ ہے اور لعان سے فراغت کے بعد میاں بیوی کے درمیان فرقت واقع ہوجاتی ہے اور وہ عورت ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوجاتی ہے۔ پھر کبھی وہ اس کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔ لعان کے بعد مرد یا اس کو طلاق دے دے یا قاضی ان کے درمیان تفریق کر دے اور اگر اس عورت سے کوئی بچہ پیدا ہو تو وہ اس بات کے نام سے نہ پکارا جائے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا نہ ہوتا تو لعان کا حکم نازل نہ کرتا اور تم کو تہمت لگانے پر فورا ہی سزا دے دیا کرتا مگر چونکہ اس کا تم پر بڑا فضل وکرم ہے اس لئے اس نے تمہاری پردہ پوشی کے لئے لعان کا حکم نازل کردیا اور مرد سے حد قذف کو اور عورت سے حد زنا کو ساقط کردیا۔ یہ اس کی عنایت اور حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے شوہر کو چار گواہوں کی گواہی پیش کرنے کا پابند نہیں کیا بلکہ لعان سے معاملہ ختم کردیا اس لئے کہ اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں خود اس کی بےعزتی ہے اس لئے بغیر کسی قوی دلیل اور بغیر اپنے مشاہدہ کے کوئی سلیم الطبع اپنی بیوی پر ایسا الزام نہیں لگا سکتا اور ایسے موقع پر چار گواہوں کا فراہم کرنا بہت دشوار ہے۔ شریعت نے طرفین کی رعایت کر کے لعان کا حکم دیا۔ اختلاف روایات در شان نزول اس آیت کے شان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بلال بن امیہ صحابی ؓ کے بارے میں اتری اور بعض کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حافظ عسقلانی (رح) فرماتے ہیں کہ دونوں قصے صحیح روایتوں میں آئے ہیں اور ایک ہی زمانہ میں پیش آئے ہیں، اس لئے دونوں قصوں کو آیت کا شان نزول کہنا درست ہے اور قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ہیں کہ ایک ہی قسم کے کئی قصے گزرنے کے بعد وہ آیتیں نازل ہوئی لہٰذا ان چند قصوں کا مجموعہ آیت کا شان نزول ہے۔
Ayahs 24:11–26

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے ؟

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افترا پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا (کام) نہ کرنا

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان و رحیم ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے (اور) خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خدا تم کو بخش دے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں (سب) ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ (پاک لوگ) ان (بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

بیان براءت ونزاہت عائشہ صدیقہ ؓ از افک و تہمت و نصیحت مومنین وفضیحت منافقین قال اللہ تعالی۔ ان الذین جاء و بالافک عصبۃ منکم۔۔۔ الی۔۔۔ لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مطلق محصنات یعنی عام مسلمان اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان فرمایا۔ اب ان آیات میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے کی شناعت اور قباحت کو بیان کرتے ہیں اس لئے کہ آپ کا رتبہ بوجہ ام ال مومنین ہونے کے اور بوجہ زوجہ سید المرسلین ﷺ ہونے کے تمام محصنات مومن ات سے بہت بلند اور برتر ہے۔ یہاں سے یعنی ان الذین جاء و بالافک عصبۃ سے لے کر اٹھارہ آیتوں تک یعنی اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ ورزق کریم تک یہی مضمون چلا گیا ہے جن میں عائشہ صدیقہ ؓ کی براءت اور نزاہت کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ام المومنین اور زوجہ سید المرسلین ﷺ پر تہمت لگانا کفر اور نفاق ہے۔ عام محصنات مومن ات پر تہمت لگانے والا فاسق اور فاجر اور مردود الشہادۃ ہے مگر ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات پر تہمت لگانے والا کافر اور منافق ہے اور ان آیات کے خاتمہ پر حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اولئک مبرء ون مما یقولون اس بارے میں نص صریح ہے کہ جو شخص حق تعالیٰ کی اس برات اور نزاہت کی شہادت کے بعد بھی عائشہ صدیقہ ؓ اور دیگر ازواج مطہرات کے بارے میں بدگمانی کرے وہ بلاشبہ کافر ہے اور حق تعالیٰ کی اس شہادت کا منکر ہے، (دیکھو صاوی (ف 1) حاشیہ جلالین ص 129 ج 3) اور تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیتیں عائشہ صدیقہ ؓ کی برات اور نزاہت کے بارے میں نازل ہوئیں جو منافقین نے آپ پر تہمت لگائی تھی۔ صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث میں یہ قصہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے خلاصہ اس کا یہ ہے۔ آنحضرت ﷺ 6 ھ میں غزوہ نبی المصلطلق سے واپس آرہے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ ﷺ کے ہمراہ تھیں اور ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا اور اس پر ایک ہودج تھا۔ اسی ہودج میں ام المومنین سوار کی جاتی تھیں اور اسی ہودج میں اتاری جاتی تھیں۔ واپسی میں ایک منزل پر نزول ہوا کوچ سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ قضا حاجت کے لئے پڑاؤ سے باہر چلی گئیں وہاں اتفاق سے ان کے گلے میں جو منکوں کا ہار تھا ٹوٹ کر گرگیا اس کی تلاش میں دیر لگ گئی یہاں پیچھے کوچ ہوگیا جو لوگ اونٹ پر ہودج کسا کرتے تھے انہوں نے یہ خیال کر کے کہ ام المومنین ہو دن ہی میں ہیں۔ ہودج کو اونٹ پر کس دیا چونکہ اس زمانہ میں عورتیں نہایت ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں۔ اور اس وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر بھی کم تھی اس لئے ہودج کسنے والوں کو کچھ شبہ بھی نہ ہوا اور اونٹ کو لے کر قافلہ کے ساتھ روانہ ہوگئے جب لشکر روانہ ہوگیا تب عائشہ صدیقہ ؓ کو ہار مل گیا اور آپ پڑاؤ پر آئیں۔ دیکھا کہ وہاں کوئی نہیں۔ قافلہ کوچ کرچکا ہے آخر یہ سوچ کر کہ آنحضرت ﷺ جب منزل پر پہنچ کر مجھے نہیں پائیں گے تو تلاش کے لئے یہیں کسی کو روانہ کریں گے یہ خیال کر کے وہیں بیٹھ گئیں۔ وہاں بیٹھے بیٹھے ان پر نیند نے غلبہ کیا اور سو گئیں۔ لشکر کے پیچھے گری پڑی چیز کی حفاظت اور نگہداشت کے لئے ایک شخص صفوان بن معطل سلمی ؓ رہا کرتا تھا وہ لشکر کے پیچھے آرہا تھا۔ علی الصبح سویرے ہی سویرے حضرت عائشہ ؓ کی منزل کے قریب آپہنچا اور دور سے دیکھ کر یہ سمجھا کہ کوئی شخص پڑا سوتا ہے جب قریب پہنچا تو اس نے عائشہ صدیقہ ؓ کو دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ نزول حجاب سے پہلے انہوں نے عائشہ صدیقہ ؓ کو دیکھا تھا جب اس نے ام المومنین عائشہ ؓ کو اس طرح دیکھا تو غایت تاسف سے ان للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اس پڑھنے کی آواز سے حضرت عائشہ ؓ کی آنکھ کھل گئی اور فورا چادر سے منہ ڈھانک لیا حضرت صفوان ؓ نے اونٹ کو لا کر ان کے قریب بٹھلا دیا ام المومنین پردہ کے ساتھ اس اونٹ پر سوار ہوگئیں اور وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر اس کو کھینچتے ہوئے پا پیادہ آگے آگے چلے یہاں تک کہ عین دوپہر کے وقت قافلہ سے جا ملے۔ اتنی سی بات پر منافقوں نے بہتان طرازی شروع کردی اور اس معمولی سے واقعہ کا ایک افسانہ بنا دیا۔ جس کا سرغنہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اس خبیث دشمن کو ایک بات ہاتھ لگ گئی اور طرح طرح سے واہی تباہی بکنا شروع کیا۔ اصل فتنہ پرداز تو منافقین تھے، لیکن بعض بھولے بھالے مسلمان بھی سنی سنائی باتوں کا تذکرہ کرنے لگے، جیسے حضرت حسان ؓ اور مسطح ؓ اور حمنہ بنت حجش جو ام المومنین زینب بنت حجش ؓ کی بہن تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ وہاں پہنچ کر بیمار ہوگئیں۔ جب ان کو اس کی خبر ہوئی تو زارو قطار روئیں اور ہچکیاں بندھ گئیں اور بیماری میں اور اضافہ ہوا۔ آنحضرت ﷺ سے اجازت لے کر اپنے باپ کے گھر آگئیں۔ شب وروز روتی تھیں اور آنسو نہیں تھمتے تھے، اسی دوران میں بہت سے واقعات پیش آئے جو صحیح بخاری میں مذکور ہیں اور ہم نے تفصیل کے ساتھ ان کو سیرۃ المصطفیٰ میں ذکر کردیا ہے۔ بالآخر جب حضرت عائشہ ؓ کا صدمہ حد سے گزر گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح فصبر جمیل واللہ المستعان علی ما تصفون کا کلمہ زبان پر جاری ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عائشہ ؓ کی برات میں یہ آیتیں ان الذین جاء و بالافک سے لے کر اولئک مبرء ون مما یقولون لہم مغفرۃ ورزق کریم۔ تک نازل ہوئیں۔ جن سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی برات اور نزاہت پر قیامت تک کے لئے مہر لگ گئی اور کس منافق کی مجال نہیں رہی کہ وہ عائشہ صدیقہ ؓ کی شان میں کوئی لفظ اپنی زبان سے نکال سکے، چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جو لوگ اس بہتان کو بنا کر لائے ہیں وہ تم ہی میں کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے، یعنی بظاہر وہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے خیر سے نام اسلام کا لیتے ہیں خواہ وہ سچ ہو یا جھوٹ ہو۔ اصل سازش تو منافقوں کی ہے اور چند مسلمان نادانستہ طور پر ان کی اس عیارانہ سازش کا شکار ہوگئے باقی ان چند کے سوا جمہور اہل اسلام اس سازش میں نہیں پھسے۔ اصل فتنہ کا بانی مبانی تو عبد اللہ بن سلول منافق تھا اور اس کے ساتھ منافقین کی جماعت تھی اس کے علاوہ چند مخلص مسلمان جیسے حسان ؓ اور مسطح ؓ اور حمنہ ؓ وہ صرف کسی غلط فہمی کا سادہ لوحی کی وجہ سے منافقین کے جال میں پھنس گئے مومنین مخلصین میں سے صرف یہ تین تھے باقی منافقین تھے اور عام اہل اسلام اس خبر سے غایت درجہ رنجیدہ اور ملول تھے۔ اس لئے ان آیات میں ان کی تسلی فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو ! تم اس بہتان کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو۔ ظاہر میں اگرچہ برا معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں برا نہیں بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ خود برات کا متولی اور کفیل بنا اور آسمان سے عائشہ صدیقہ ؓ کی برات میں اور اہل ایمان کی مدح میں اور منافقین کی فضیحت اور مذمت میں اٹھارہ آیتیں نازل کیں جو قیامت تک اہل علم کے سینوں میں محفوظ رہیں گی اور مسجدوں اور محرابوں میں زبانیں ان کی تلاوت کرتی رہیں گی یہ تو لسان صدق ہے، دنیا اور آخرت میں جس سے تمہاری بزرگی اور عظمت شان سب پر ظاہر ہوگئی اور دشمنان اسلام ہمیشہ کے لئے ذلیل و خوار ہوگئے سو یہ بہتان تمہارے حق میں برا نہیں ہوا بلکہ ان کے حق میں برا ہوا اور ان کی ایذاء اور بد زبانی پر صبر کا اجر اس کے علاوہ رہا۔ یہ خطاب ان مسلمانوں کی تسلی کے لئے ہے جنہیں اس واقعہ سے صدمہ پہنچا تھا بالخصوص یہ خطاب آنحضرت ﷺ اور عائشہ صدیقہ ؓ اور ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے گھر والوں کو ہے جن پر صدمہ کا پہاڑ آگرا۔ یہ آیتیں نازل کر کے ان کو تسلی بخشی اور دنیا کو متنبہ کردیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات کا اور خاص کر عائشہ صدیقہ ؓ کا کیا مرتبہ ہے۔ ان میں سے ہر شخص کے لئے اسی قدر سزا ہے جس قدر اس نے گناہ کمایا ہے۔ جس شخص نے جس قدر اس فتنہ میں حصہ لیا۔ بقدر حصہ وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لئے کہ بعضے اس خبر کو سن کر ہنستے تھے اور بعض نے کچھ زبان سے بھی کہا تھا بعض خاموش رہے مگر بولنے والے کو منع نہ کیا۔ اس مختصر جملہ میں اس قسم کے تمام لوگوں پر عتاب ہے اور وہ شخص جس نے اس میں بڑاحصہ لیا اس کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے اس سے مراد عبد اللہ بن ابی منافق ہے دنیا کی ذلت کے علاوہ آخرت میں ذلیل اور خوار ہوگا۔ اس آیت میں منافقین کے سرغنہ عبد اللہ بن ابی کو تہدید فرمائی۔ اب آئندہ آیات میں ان مومنین کو نصیحت فرماتے ہیں کہ جو نادانستہ طور پر منافقین کی اس سازش کا شکار ہوگئے تھے بعض اس خبر کو سن کر خاموش ہوگئے اور بعض نے اس خبر کو نقل کیا اگرچہ وہ اس خبر کو سچا نہیں سمجھتے تھے لیکن نقل کرنے سے ایک درجہ میں منافقین کے معاون بنے اس لئے آئندہ آیت میں اس قسم کے مسلمانوں کو نصیحت اور ملامت فرماتے ہیں کہ جب تم نے اس بات کو سنا تو ایمان والے مردوں نے جن میں حسان ؓ اور مسطح ؓ بھی آگئے اور ایمان والی عورتوں نے جن میں حمنہ ؓ بھی آگئیں اپنے بھائی بہنوں کے متعلق نیک گمان کیوں نہ کیا۔ اور سنتے ہی فورا زبان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جھوٹ ہے یعنی مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ نیک گمان رکھتے اور اپنے جیسا ان کو سمجھتے اور صاف کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جھوٹ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی طہارت اور نزاہت اور ان کا ام المومنین ہونا اور ان کا ذات اطہر ﷺ کی زوجیت میں ہونا اور صفوان ؓ کا مرد صالح اور متقی ہونا اور عبد اللہ بن ابی کا منافق ہونا اور دشمن رسول ہونا اور اس کا جھوٹا ہونا یہ سب باتیں تمہارے سامنے تھیں۔ پھر دشمنان رسول کی ایک جھوٹی افواہ پر تم نے کیسے کان لگایا۔ ابو ایوب انصاری ؓ کے سامنے جب اس بات کا ذکر آیا تو سنتے ہی کہہ دیا کہ سب جھوٹ ہے صدیق ؓ کی بیٹی اور نبی کی بیوی کے متعلق ایسا گمان نہیں کیا جاسکتا۔ غرض یہ کہ ان آیات میں قاذفین منافقین کے علاوہ ان مومنین اور مومنات پر ناصحانہ ملامت ہے جنہوں نے اس خبر کو سن کر خاموشی اختیار کی یا تردد میں رہے یا بطور تذکرہ اس خبر کو نقل کیا ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ سنتے ہی کہہ دیتے ھذا افک مبین یہ صریح بہتان ہے۔ اہل افک اپنی اس بات پر چار گواہ کیوں نہ لائے کیونکہ اثبات گناہ کے لئے چار گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ پس جب یہ لوگ اس پر چار گواہ نہ لاسکے تو ایسے لوگ قانون شریعت کے موافق اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ کیونکہ شریعت نے جب یہ قاعدہ اور یہ قانون مقرر کردیا کہ ثبوت گناہ کے لئے چار گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ دعوے میں ذاتی معاینہ کافی نہیں بلکہ ثبوت کے لئے چار عینی شاہدوں کی شہادت ضروری ہے پس جو شخص کسی پر بدکاری کی تہمت لگائے اور چار گواہ نہ پیش کرسکے تو قانون شریعت کے مطابق وہ شخص جھوٹا ہے۔ اگرچہ اس نے اپنی آنکھ سے مشاہدہ کیا ہو لیکن عدالتی ثبوت کے لئے چار عینی شاہدوں کی شہادت ضروری ہے بغیر ثبوت کے ایسی سنگین بات کا زبان سے نکالنا جر م ہے۔ پس معلوم ہوا کہ آیت میں عند اللہ کے معنی فی علم اللہ کے نہیں بلکہ فی حکم اللہ اور فی قانون اللہ کے معنی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص دعوائے زنا میں چار گواہ نہ پیش کرسکے تو وہ قانون خداوندی اور ضابطہ شریعت کے اعتبار سے جھوٹا ہے گو واقعہ میں وہ سچا ہو اس لئے کہ بغیر ثبوت فراہم ہوئے اس کو اجازت نہ تھی کہ زبان سے ایسی بات نکالے اس لئے قانون شہادت اور ضابطہ گواہی کے اعتبار سے اس کو کاذب کہنا جائز ہے اگرچہ وہ فی الواقع اور فی علم اللہ صادق ہے لیکن عدالت میں تو قانون شہادت کے اعتبار سے اس کے صدق اور کذب کا جانچا جائے گا جو شخص کسی پر زنا کا دعویٰ کرے اور چار عینی گواہ نہ پیش کرسکے تو وہ ازروئے قانون جھوٹا ہے۔ اور اے مسلمانو ! اگر دنیا اور آخرت میں تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس چیز کے چرچے میں تم پڑے تھے تو اس میں تم کو بڑا بھاری عذاب پہنچتا۔ اللہ نے تم کو ایمان کی برکت سے توبہ کی توفیق دی اور تمہارا قصور معاف کیا اور عذاب سے بچا لیا اور یہ عذاب عظیم تم کو اس وقت پہنچتا جبکہ تم اپنی زبانوں سے باہم اس بات کو نقل کرتے تھے، اور مونہوں سے وہ بات کہتے تھے جس کی تمہیں خبر نہیں اور تم اس کو ہلکی اور معمولی بات سمجھتے ہو اور یہ خیال کرتے ہو کہ اس میں کچھ گناہ نہیں، حالانکہ وہ اللہ کے یہاں بہت بڑی اور بھاری ہے خاص کر ام المومنین کی شان میں ایسی صریح البطلان چیز کو زبان پر لانا جرم عظیم ہے اور چونکہ اس بات کا جرم عظیم ہونا بالکل واضح ہے تو تم نے سنتے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہماری مجال نہیں کہ ایسی ناپاک بات زبان سے نکالیں۔ سبحان اللہ۔ یہ تو بہت ہی بڑا بہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے منزہ ہے کہ اس کے رسول اعظم کی بیوی فاجرہ ہو۔ کسی درجہ میں کافرہ تو نبی کی بیوی بن سکتی ہے مگر فاجرہ اور زانیہ عورت ہرگز ہرگز کسی نبی کی بیوی نہیں بن سکتی، حضرت نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیبیاں کافرہ تھیں مگر معاذ اللہ فاجرہ نہ تھیں۔ معا ذ اللہ معاذ اللہ۔ جو خبیث کسی نبی کی زوجہ کو فاجرہ بتلاتا ہے وہ در پردہ نبی کو دیوث بتاتا ہے چناچہ سورة تحریم کی اس آیت کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتاھما کی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے منقول ہے ما بغت امراۃ نبی قط یعنی کسی نبی کی بیوی نے کبھی بدکاری کا ارتکاب نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے پیغمبروں کے ناموس کی حفاظت کی ہے۔ شروع میں اسلام میں کافرہ اور مشرکہ سے نکاح کی اجازت رہی جو بعد میں منسوخ ہوگئی لیکن بدکار عورت سے کسی حال میں نکاح کی اجازت نہیں دی گئی الایہ کہ وہ زنا سے توبہ کرے۔ خلاصہ کلام یہ کہ منافقین جو بک رہے ہیں وہ ایسا صریح اور واضح بہتان ہے کہ جس میں غوروفکر کی بھی گنجائش نہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ ایسی بات نہ کرو اگر تم ایماندار ہو تو خبر دار اور ہوشیار ہوجاؤ اور اللہ تمہارے لئے احکام اور اداب کو بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے، اس کو عائشہ صدیقہ ؓ اور صفوان ؓ کا حال خوب معلوم ہے اب آئندہ آیات میں مسلمانوں کی تادیب کے لئے ان لوگوں کی مذمت فرماتے ہیں جو اس قسم کے فواحش اور بےحیائیوں کی نشرواشاعت کو پسند کرتے ہیں۔ تحقیق جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کا چرچا ہو ان کے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور ایسے فتنہ پردازوں کو اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اس لئے اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور کرم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ بلاشبہ بڑا نرمی کرنے والا اور مہربان ہے۔ تو فورا تم پر عذاب نازل کرتا لیکن اس نے اپنے فضل اور محبت سے تم کو تنبیہ اور تادیب کردی اور تو بہ اور استغفار کا موقع دے دیا اور تمہاری توبہ قبول کی اور حد شرعی جاری کر کے تم کو پاک کردیا اور جو زیادہ خبیث تھے، ان کو نہ توبہ کی توفیق دی اور نہ ان پر حد جاری کر کے ان کو پاک کیا بلکہ ان کو مہلت دی۔ اب آگے پھر تائبین کو نصیحت فرماتے ہیں اے ایمان والو۔ ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ شیطان کو اپنا دشمن سمجھو اور شیطان کے نشان قدم پر نہ چلو یعنی افک کے متعلق جو کچھ کہا سنا جا رہا ہے۔ وہ سب شیطانی وسوسے ہیں ان کی پیروی نہ کرو اور جو شیطان کے قدموں پر چلے گا تو لا محالہ شیطان اس کو بےحیائی اور بری بات کا حکم دے گا۔ جو اس کی تباہی اور بربادی کا سامان ہوگا۔ اور اے مسلمانو ! اگر تم پر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو وہ تم میں سے کبھی کسی کو اس جرم سے پاک نہ کرتا یعنی تم میں سے کسی کو توبہ کی توفیق نہ دیتا اور نہ اس کی توبہ قبول کرتا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے تو توبہ قبول کر کے اس کو گناہ سے پاک کردیتا ہے یہ وعدہ مومنین سے ہے جیسے حضرت حسان ؓ اور مسطح ؓ اور عبد اللہ بن ابن منافق اور اس کے اتباع سے نہیں۔ ان کے لئے آخرت کا عذاب عظیم ہے اور اللہ تمہارے اقوال کا سننے والا ہے اور تمہاری نیتوں کا جاننے والا ہے۔ ان مومنین مخلصین میں مسطح ؓ بھی تھے جو نادانی سے اس قصہ میں شریک ہوگئے۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خالہ زاد بھائی تھے اور نادار تھے، قصہ افک سے پہلے ابوبکر صدیق ؓ ان کو خرچ دیا کرتے تھے جب حضرت عائشہ ؓ کے برات نازل ہوگئی تو حضرت ابوبکر ؓ کو مسطح ؓ کی طرف سے رنج ہوا اور قسم کھائی کہ آئندہ مسطح ؓ کی مدد نہ کروں گا تو آئندہ آیت ابوبکر صدیق ؓ کی تنبیہ کے لئے نازل ہوئی کہ اہل فضل اور اہل کرم کی شان کے مناسب نہیں کہ وہ ایسی قسم کھائیں عوام کے لئے ایسی قسم اگرچہ جائز ہو مگر صدیق اکبر ؓ کی شان فضل کے شایان نہیں۔ عجب نہیں کہ بمقتضائے بشریت غصہ میں آکر کسی صدقہ نافلہ سے ہاتھ روک لینا کسی درجہ میں خطوات الشیطن کا اتباع ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ابوبکر صدیق ؓ شیطان کے قدموں کے اس معمولی گرد و غبار سے بھی محفوظ رہیں۔ اس لئے آئندہ آیت نازل فرمائی۔ اور جو لوگ تم میں سے صاحبان فضل اور مقدرت ہیں ان کو اپنے رشتہ داروں اور مسکینوں اور راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دینے کی قسم نہ کھانی چاہئے یا بمقتضائے بشریت کسی ناراضگی کی بنا پر ان کی امداد اور اعانت میں کمی نہ کرنی چاہئے یہ شان فضل ووسعت کے خلاف ہے اشارہ مسطح ؓ کی طرف ہے کہ وہ ابوبکر صدیق ؓ کا رشتہ دار ہے ان کا خالہ زاد بھائی ہے اور مسکین ہے اور مہاجر ہے نادانی سے اس قصہ میں مبتلا ہوگیا اور اہل فضل ووسعت کو چاہئے کہ قصور معاف کریں اور در گزر کریں اور کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہارے قصور کو معاف کرے اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ یعنی جب تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرے تو تم بھی دوسروں کے قصور معاف کرو۔ تخلق باخلاق الٰہیہ کا یہی مقتضا ہے کہ عفو اور مسامحت اختیار کرو۔ آنحضرت ﷺ نے جب اس آیت کو ابوبکر ؓ پر پڑھا تو ابوبکر ؓ نے کہا بیشک میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کر دے اور مسطح ؓ کا وظیفہ جاری کردیا بلکہ پہلے سے دگنا کردیا اور قسم کھائی کہ بخدا اب کبھی بند نہ کروں گا۔ اور اپنی گزشتہ قسم کا کفارہ ادا کیا۔ اب آئندہ آیات میں عام عنوان سے پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں پر لعنت اور عذاب آخرت کا ذکر کرتے ہیں جس سے اصل مقصود عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے والے پر دنیا اور آخرت کی لعنت اور عذاب عظیم کو بیان کرتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ ان پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں جو ایسی سیدھی سادی اور بھولی بھالی ہیں کہ انہیں ایسی باتوں کی خبر بھی نہیں اور وہ ایمان والیاں ہیں تو ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے جس دن ان کے برخلاف ان کی زبانیں گواہی دیں گی اور ان کے ہاتھ اور پیر بھی گواہی دیں گے ان اعمال پر جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے یعنی قیامت کے دن ان کے مونہوں پر تو مہر لگا دی جائے گی مگر ان کی زبانیں خود بخود بولیں گی اور ان کے ہاتھ اور پیر بھی بولیں گے اور ان کے اقوال اور اعمال کی شہادت دیں گے، دنیا میں انسان اپنے ارادہ اور اختیار سے بولتا ہے اور زبان اس کے ارادہ کی ترجمان ہوتی ہے اور اس کے ارادہ کے تابع ہوتی ہے مگر قیامت کے دن زبان خود بخود بولے گی اور سچ مچ بولے گی اور زبان کا بولنا اس کے ارادہ کے تابع نہ ہوگا۔ نکتہ : ” قاذف “ نے زبان تہمت لگائی تھی تو اس سے چار گواہوں کا مطالبہ ہوا جو نہ پیش کرسکا اس لئے آخرت میں اس کے بالمقابل پانچ چیزیں گواہی دیں گی۔ زبان کے مقابلہ میں تو زبان بولے گی اور سچ سچ کہہ دے گی اور چار گواہوں کے مقابلہ میں دو ہاتھ اور دو پیر اس کے جھوٹ کی گواہی دیں گے اس طرح اس کے جھوٹ پر چار گواہ قائم کئے جائیں گے اور لعنت اور عذاب کی سزا اس کے لئے ثابت ہوجائے گی۔ اس دن اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری حق حق جزا دے گا۔ اور اس وقت جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے جو حق اور صدق کو ظاہر کرنے والا ہے جس میں ذرہ برا بر بھی غلطی کا امکان نہیں۔ اب ام المومنین کے طہارت ونزاہت کے بیان کو خبیثین کی مذمت اور طیبین کی تعریف پر ختم فرماتے ہیں جس کو بطور قاعدہ کلیہ بیان کیا تاکہ اس کے عموم سے خاص عائشہ صدیقہ ؓ کی پاکیزگی پر استدلال کیا جائے چناچہ فرماتے ہیں اور پاکیزہ اور ستھری عورتیں پاکیزہ اور ستھرے مردوں کے لائق ہیں، اور پاکیزہ اور ستھرے مرد پاکیزہ اور ستھری عورتیں کے لا ئق ہیں اور رسول اللہ ﷺ نہایت طیب اور طاہر ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی حرم محترم بھی غایت درجہ کی طیبہ اور طاہرہ ہیں اور منافقین جیسے خود خبیث ہیں ایسی ہی ان کی عورتیں بھی خبیث ہیں۔ ذرہ ذرہ کاندریں ارض وسما است جنس خود راہمجو کا ہ وکہر باست ناریاں مرناریاں راجا ذب اند نوریاں مر نوریاں را طالب اند اہل باطل باطلاں رامی کشند اہل حق از اہل حق ہم سر خوشند طیبات آمد زبہر طیبین للخبیثات الخبیثون است یقین فائدہ : نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیبیاں کافرہ تو تھیں مگر زانیہ اور بدکار نہ تھیں۔ حدیث میں ہے ما بغت امراۃ نبی قط کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا ایسے پاکیزہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو یہ خبیثین ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں ان لوگوں کے لئے تو خدا کی طرف سے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ خبیثین کی بد زبانی سے ان کی عزت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ یہاں تک کلام الٰہی کی آیتیں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ بنت صدیق ؓ کی برات اور نزاہت کے بیان میں ختم ہوئیں اور عجیب شان سے ختم ہوئیں کہ اب اس کے بعد کوئی درجہ باقی نہیں رہا۔ قرآن مجید کی ان آیات سے جو عائشہ صدیقہ ؓ کی عند اللہ قدر ومنزلت ثابت ہوئی وہ روز روشن سے زیادہ واضح ہے۔ حق جل شانہ کی اس شہادت کے بعد بھی اگر کوئی بد باطن عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگائے تو بالاتفاق علماء امت وہ کافر ہے اور عائشہ صدیقہ ؓ پر تہمت لگانے والے کا وہی حکم ہے جو مریم صدیقہ پر تہمت لگانے والے کا ہے۔ حضرت مسروق (جو کبار علماء تابعین میں سے ہیں) ان کی یہ عادت تھی جب وہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتے تو یوں کہتے کہ مجھ سے صدیقہ ؓ بنت صدیق ؓ۔ حبیبہ رسول ﷺ مبراۃ من السماء نے اس طرح بیان کیا۔ نکتہ : خاتمہ پر اولئک مبرء ون ممایقولون۔ بصیغہ جمع ذکر فرمایا۔ سو اس عموم میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ حکم فقط عائشہ صدیقہ ؓ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہی حکم تمام ازواج مطہرات کو بھی شامل ہے۔ (واللہ سبحانہ وتعالی اعلم )
Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ) شاید تم یاد رکھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

(ہاں) اگر تم کسی ایسے گھر میں جاؤ جس میں کوئی بستا نہ ہو (اور) اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

حکم پنجم استیذان قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں زنا کی تہمت کے احکام بیان کئے اب اس آیت میں کسی کے گھر میں بغیر اطلاع اور بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت فرماتے ہیں تاکہ زنا اور بدگمانی اور تہمت کا دروازہ ہی بند ہوجائے۔ اے ایمان والو اپنے خاص رہائشی مکان کے سوا دوسرے گھروں میں جس میں دوسرے لوگ بھی رہتے ہوں داخل نہ ہو۔ یہاں تک کہ ان سے اجازت طلب کرو اور اجازت لینے سے پہلے ان گھروں کے رہنے والوں پر سلام کرو یعنی داخل ہونے سے پہلے یہ کہو۔ السلام علیکم ادخل۔ سلام ہو تم پر۔ کیا میں آسکتا ہوں۔ یہ اجازت لے کر اند جانا یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ بغیر اجازت لئے اندر گھس جانا کسی طرح مناسب نہیں معلوم نہیں کہ آدمی اپنے گھر میں کس حال میں ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بات تم کو اس لئے بتا دی گئی تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور اس ہدایت پر عمل کرو۔ پھر اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ جو تم کو آنے کی اجازت دے خواہ اس میں کوئی نہ ہو یا کوئی ہو اور اجازت نہ دے تو ایسے گھروں میں مت داخل ہونا یہاں تک کہ تم کو صاحب خانہ کی طرف سے داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے اور اگر اجازت لینے کے وقت تم سے یہ کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو تم لوٹ جاؤ نہ وہاں ٹھہرو اور نہ دروازہ پر بیٹھو یہ بات یعنی واپس آنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے کسی کے انتظار میں اس کے دروازہ پر بیٹھ جانا یا دروازہ کے درازوں سے جھانکنا بہت برا ہے بلکہ اجازت لینے والے کو چاہئے کہ دروازہ کے سامنے نہ کھڑا ہو بلکہ دائیں یا بائیں طرف کھڑا ہو۔ مبادا کہ اہل خانہ پر نظر پڑجائے اور اجازت لینے کا حکم نظر اور بصر ہی کی حفاظت کے لئے ہے اور احادیث میں گھر میں جھانکنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو تمہارا ظاہر باطن اس سے مخفی نہیں جس نیت سے جو کام کرو گے اسی کے مناسب اجر ملے گا۔ یہاں تک ان بیوت (گھروں) کا حکم بیان کیا کہ جو مسکونہ ہوں۔ یعنی ان گھروں میں کوئی رہتا ہو اور جو بیوت غیر مسکونہ ہوں یعنی ان گھروں میں کوئی رہتا نہ ہو تو آئندہ آیت میں ایسے گھروں میں داخل ہونے کا حکم بیان کرتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ تمہارے لیے ایسے مکانات میں بغیر اجازت داخل ہونے میں کوئی گناہ نہیں جن میں کوئی نہ رہتا ہو اور ان میں تمہاری کوئی ضرورت اور منفعت ہو یا ان میں تمہارا کوئی سامان رکھا ہوا ہو تو ایسے مکانات میں بغیر اجازت کے داخل ہونا جائز ہے جیسے سرائے یا خانقاہ یا مدرسہ یا مسجد اس قسم کے مکانات میں جانے کے لئے خاص اجازت کی ضرورت نہیں جیسے لوگ مسافر خانے بنا دیتے ہیں اگر وہ خالی ہوں تو وہاں اترنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اذن کی ضرورت وہاں ہے کہ جہاں کسی عورت پر نظر پڑجانے کا اندیشہ ہو یا صاحب خانہ کی کسی راحت یا مصلحت میں خلل پڑنے کا خطرہ ہو اور جب یہ بات نہیں تو اذن کی ضرورت نہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو کہ کسی کے مکان میں تمہارے داخل ہونے سے تمہاری کیا نیت ہے اور اگر تم اجازت بھی لے لو تو اس اجازت لینے میں تمہاری کیا نیت ہے۔ ان آیات میں معاشرۃ اور تمدن کے احکام کی تعمیل فرمائی۔ افسوس کہ مسلمان ان آیات اور احادیث پر نظر نہیں کرتے اور غیر قوموں نے تمہارے دین سے جو چند باتیں چرائی ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں۔ یک سبدنا نے ترا بر فرق سر توہمی جوئی لب نان در بدر