Ayah 24:61حکم سیزدھم متعلق باہمی اکل وشرب
قال اللہ تعالی۔ لیس علی الاعمی حرج۔۔۔ الی۔۔۔ ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں جو احکام بیان کئے گئے وہ آداب معاشرۃ سے متعلق تھے اب آیات میں باہمی اکل وشرب کے آداب کو بیان کرتے ہیں جب حق جل شانہ نے قرآن کریم میں یہ حکم نازل کیا۔ لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل آپس میں ناحق ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ تو مسلمانوں نے احتیاط کی بنا پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے گھروں کا کھانا کھانا بھی چھوڑ دیا اور خیال کیا کہ بلا ضرورت کسی کے گھر کا کھانا حلال نہیں حتی کہ اندھوں اور لنگڑوں اور بیماروں نے بھی اپنے اعزاء اوراقارب کے گھر جانے میں تنگی محسوس کی اور خیال کیا کہ شاید ہماری معذوری اور ہماری بیماری دوسروں کے لئے باعث گرانی ہو۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
فرمایا۔ نہ نابینا پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کچھ گناہ ہے اور نہ مریض پر کچھ گناہ ہے اور نہ تم پر کچھ گناہ ہے اس بات میں کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ۔ اس میں اہل و عیال اور آل اولاد کے گھر میں آگئے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیاں کے گھروں سے یا اپنے ماموں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو۔ یعنی جن کے تم متولی ہو اور وہ مکان تمہارے زیر تصرف ہوں مثلا کسی نے تم کو اپنے مکان کا وکیل اور متولی اور محافظ بنادیا ہے اور بقدر ضرورت تم کو اس سے کھانے کی اجازت دی ہے یا اپنے سچے دوست (ف 1) کے گھر سے جو تمہارا سچا دوست ہے۔ جسے تمہارے کھانے سے خوشی ہوتی ہے اور تمہارا جانا اس پر شاق اور گراں نہ گزرتا ہو۔ تو ان لوگوں کے گھروں سے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ کھانا ناحق کھانا نہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل میں ممانعت کی ہے۔ یہ آیتیں نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ تمہیں اس بارے میں رخصت اور وسعت ہے تنگی کی ضرورت نہیں۔
نیز بعض معذور مثلا نابینا اور لنگڑا تندرستوں کے ساتھ کھانا کھانے سے گھبراتے تھے کہ شاید ہماری بعض حرکات اور اطوار سے لوگوں کو تکلیف پہنچے اور بعضوں کو واقعی ان کے ساتھ کھانے سے وحشت ہوتی تھی نیز بعض مومنین کو غایت اتقاء کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید ایسے معذوروں کے ساتھ کھانے میں ہم سے کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہوجائے اس لئے کہ نابینا کو سب کھانے نظر نہیں آتے اور بیمار آدمی بہت آہستہ کھاتا ہے، اس لئے ان لوگوں کو اندیشہ ہوا کہ شاید ان لوگوں کے ساتھ کھانے میں ان کی حق تلفی ہوجائے اس بنا پر ان کے ساتھ کھانے میں احتیاط برتتے تھے اور بعض مرتبہ یہ صورت پیش آتی تھی کہ کوئی معذور اور بیمار کسی کے پاس ملنے گیا اور وہ شخص اس معذور کو اپنے باپ یا بھائی بہن یا پھوپھی یا خالہ کے گھر لے جاتا تو ان معذورین کو یہ خیال گزرتا ہے کہ ہم آئے تو تھے اس کے پاس اور یہ ہم کو دو سروں کے گھر لے جاتا تو ان معذورین کو یہ خیال گزرتا کہ ہم آئے تو تھے اس کے پاس اور یہ ہم دوسروں کے گھر لے جارہا ہے اور ساتھ جانے میں تامل کرتے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے تمام خیالات کی اصلاح کردی اور بتلا دیا کہ اللہ کی طرف سے وسعت ہے لہٰذا تم اپنے اوپر تنگی نہ کرو۔ تندرستوں کو مریضوں سے اور مریضوں کو تندرستوں سے پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں اور خویش و اقارب کے یہاں کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
نیز بعض انصار پر جود وکرم کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ لوگ بےمہمان کے تنہا کھانا گوارا نہیں کرتے اور اپنی جان پر مشقت گوارا کرتے اور مہمان کا انتظار کرتے ان کے بارے میں آئندہ آیت اتری۔ تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم ایک جگہ جمع ہو کر اور مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ اور اکیلے اکیلے کھاؤ اور دل میں یہ خیال نہ کرو کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ۔ اکیلے اکیلے کھانا بھی جائز ہے مگر مل کر کھانے میں برکت زیادہ ہے۔
حکم چہادھم متعلق بہ سلام اہل خانہ
قال اللہ تعالی۔ فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ لعلکم تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلا دیا کہ کن کن گھرانوں میں کھانے پینے کی اجازت ہے اور اس کا کیا طریقہ ہے، یہ تمام تر آداب اکل کا بیان تھا۔ اب کسی مکان میں داخل ہونے کا ادب سکھلاتے ہیں کہ جب اپنے اعزا اوراقارب کے گھروں میں داخل ہوا کرو تو سلام کیا کرو جو ان کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔ داخلہ کا آغاز دعاء خیر و سلامت سے موجب صد خیرو برکت ہے۔
اور اس طرح گھر میں داخل ہونا موجب خیر و برکت بھی ہے اور موجب مسرت بھی ہے کہ گھر والوں نے تمہاری زبان سے دعاء خیرو سلامت سنی۔ چناچہ فرماتے ہیں پھر جب تم اپنے گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنوں پر یعنی اپنے گھرو الوں پر سلام کیا کرو۔ دعا کے طور پر جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے بہت خیروبرکت والی اور پاکیزہ دعا جس سے سننے والے کا دل خوش ہوجائے، یعنی گھروں میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا یہ اللہ کی تعلیم کی ہوئی دعا ہے جو نہایت عمدہ اور بابرکت ہے جس کو سنتے ہی دل خوش ہوجاتا ہے کہ یہ داخل ہونے والا میری خیر اور سلامتی چاہتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے احکام کو بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کے حکموں کو سمجھو اور ان پر عمل کرو۔ خدا تعالیٰ نے تم کو گھر میں داخل ہونے اور کھانا کھانے کے آداب بتلا دئیے۔
Ayahs 24:62–64حکم پانزدھم متعلق بآداب مجلس نبوی
قال اللہ تعالی۔ انما ال مومن ون الذین امنوا باللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں عام مجالس کے آداب کا اور عام استیذان کا ذکر تھا اب ان آیات میں خاص مجلس نبوی کے آداب بیان کرتے ہیں کہ مجلس نبوی سے جاتے وقت استیذان و اجازت لینے کی ضرورت ہے اور آپ ﷺ کے بلانے کے وقت حاضری واجب ہے اور آپ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت لئے اٹھ کر چلے جانا یا آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہونا یہ منافقین کا شیوہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ ﷺ کا ادب اور احترام ایمان کا جز ہے، چناچہ فرماتے ہیں کہ جز ایں نیست کہ کامل ایمان دار تو وہی ہیں جو صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب آپ کے ساتھ ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے مجمع کیا گیا ہے یعنی جس میں جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے مثلا نماز جمعہ یا نماز عید یا جہاد یا غزوہ یا کوئی مشورہ اور اتفاقا وہاں سے جانے کی ضرورت پڑجائے تو یہ لوگ جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں اس وقت تک آپ ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر نہیں جاتے۔
صحیح الایمان لوگوں کا طریقہ یہی تھا کہ آپ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت کے اٹھ کر نہیں جاتے تھے مگر منافق لوگ آنکھ بچا کر بغیر اجازت لئے نکل جاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتلا دیا کہ اجازت لینا صدق اور اور اخلاص کی دلیل ہے اور ادب اور تعظیم کی علامت ہے کہ اپنی ضرورت کو آپ ﷺ کی اجازت پر موقوف رکھا اور استاد اور مرشد کی مجلس کا بھی یہی حکم ہے۔ بیشک جو لوگ اپنی ضروریات میں جانے کے لئے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والے ہیں کہ جو بغیر آپ ﷺ کی اجازت کے آپ کی مجلس سے اٹھنا گوارا نہیں کرتے پس جب یہ اہل ایمان اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے جانے کی اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیں یعنی جس کو اجازت دینا مناسب سمجھیں۔ اسے اجازت دے دیں اور چاہے نہ دیں آپ ﷺ کو اختیار ہے اور اجازت دینے کے بعد ان کے لئے دعا مغفرت کیجئے، اس لئے کہ اگرچہ ان کا عذر صحیح ہو لیکن آپ ﷺ کی مجلس مبارک سے مفارقت میں یہ ابہام ضرور ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی مجلس پر کسی دوسری مجلس کو ترجیح دی گویا کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ پس اے نبی کریم ﷺ آپ ان مخلصین کے حق میں دعا مغفرت فرمائیے تاکہ آپ کی استغفار سے ان کی اس تقصیر اور کوتاہی کی تلافی ہوجائے۔ بیشک اللہ تعالیٰ مخلصین کی فروگذاشت کو معاف کرنے والا اور ان پر مہربان ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی تعظیم اور ادب کی تعلیم فرماتے ہیں تم رسول اللہ ﷺ کے بلانے کو ایسا مت خیال کرو جیسے تم میں سے بعض۔ بعض کو بلاتے ہیں۔ چاہے جواب دیا، چاہے نہ دیا۔ رسول ﷺ کے بلانے پر تمہیں حاضر ہونا فرض ہے جب رسول ﷺ تم کو بلائیں تو سب کام چھوڑ دو اور لبیک کہہ کر فورا حاضر ہوجاؤ۔
(یا یہ معنی ہیں) کہ تم رسول ﷺ کو اس طرح نہ پکارا کرو جس طرح تم آپس میں بعض۔ بعض کو پکارتے ہو، یعنی جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو، اس طرح رسول ﷺ کو اس کا نام لے کر نہ پکارو بلکہ یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہہ کر پکارو۔ یعنی تعظیمی الفاظ سے آپ کو خطاب کیا کرو۔ ہر حال میں رسول ﷺ کے ادب اور اس کی تعظیم کو ملحوظ رکھو اور بلا اجازت آپ ﷺ کی مجلس سے ہرگز نہ اٹھو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے آپ کی مجلس سے کھسک جاتے ہیں چھپے چھپے کسی کی آڑ میں ہو کر۔ منافقین کا شیوہ یہ تھا کہ جب کسی جمعہ یا مجمع میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو آپس میں بعض بعض کی آڑ میں ہوجاتے تاکہ جب موقع ملے تو چھپ کر نکل جائیں۔
پس ان لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ جو پیغمبر کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ کہیں دنیا ہی میں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے یا آخرت میں ان کو دکھ کی مار نہ پہنچے۔ یہ تردید بطور منع خلو ہے ورنہ جمع ہونا دونوں کا جائز ہے کہ دنیا میں بھی مصیبت آئے اور آخرت میں بھی دردناک عذاب ان کو پہنچے جان لو کہ اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہی سب کا مالک، اس لئے کہ وہی سب کا خالق ہے خوب جانتا ہے جس حالت پر تم ہو، یعنی تمہارے ایمان اور نفاق سے خوب واقف ہے اور جس دن یہ لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے یعنی قیامت کے دن وہ ان کو ان کے برے بھلے اعمال سے آگاہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے موافق جزا دے گا اور اللہ تو ہر چیز کو جانتا ہے اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
آنکس کہ بیا فرید پیدا ونہاں چوں نشنا سد نہاں وپیدا بجہاں
الحمد للہ آج چہار شنبہ بوقت اذان عصر بتاریخ 30 ربیع الاول 1391 ھ سورة نور کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ اے اللہ باقی تفسیر کو بھی اس احقر کے ہاتھ سے مکمل فرما اور ہمارے قلوب نور ایمان اور نور ہدایت سے منور فرما اور ہماری قبروں کو منور فرما۔ آمین یا رب العالمین
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیند ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین۔