24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 24:35–38

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

آیت نور دربارہ تمثیل نور ہدایت وظلمت فسق وفجور وانوار قلوب اہل ہدایت وظلمت قلوب اہل ضلالت قال اللہ تعالی۔ اللہ نور السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ من یشاء بغیر حساب۔ (ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک احکام ہدایت اور کلمات حکمت وموعظت کا ذکر ہوا اور گزشتہ آیات میں یہ فرمایا کہ ہم نے روشن آیتیں نازل کیں جس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ گمراہی کی ظلمت سے نکل کر نور ہدایت میں آجائیں۔ اس لئے ان آیات میں اول نور ہدایت اور ظلمت ضلالت کی مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ دلائل ایمان و ہدایت نور مبین کی طرح روشن ہیں اور ادیان کفر انتہائی ظلمت اور تاریکی میں ہیں گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا۔ ولقد انزلنا الیکم ایات مبینات کہ ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے آیات بینات کو نازل کیا اور ظاہر ہے کہ اللہ کی آیتیں بلاشبہ انوار ہیں اور یہ قرآن اللہ کا نازل کردہ نور ہے۔ کما قال تعالیٰ فامنوا باللہ و رسول والنور الذی انزلنا وقال تعالیٰ قد جاء کم برھان من ربکم وانزلنا الیکم نورا مبینا۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں نور ہدایت کی مثال بیان کرتے ہیں۔ اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا تمام کائنات کو جو نور وجود ملا ہے وہ سب اسی نور السموت والارض کے نور کا ایک عکس اور پرتو ہے حق جل شانہ نور حق اور نور مطلق ہے۔ آسمان اور زمین کے تمام انوار حسیہ وعقلیہ پر قاہر اور غالب ہے آسمان و زمین کی حدود میں جو ظاہری اور باطنی اور حسی اور معنوی روشنی ہے وہ سب اسی نور برحق اور نور مطلق کا فیض اور عطیہ ہے آسمان اور زمین کے تمام انوار محدود اور متناہی ہیں اور حق جل شانہ نور الانوار ہے اور اس کا نور غیر محدود اور غیر متناہی ہے، خدا تعالیٰ کا نور اصلی ہے اور مخلوقات کا نور عارضی ہے اور خدا کا عطیہ ہے اور اس کا پیدا کیا ہوا ہے اگر وہ پیدا نہ کرتا تو دنیا کی کوئی چیز دکھائی نہ دیتی۔ اسی نے اپنی قدرت سے آسمان و زمین کو عدم کی ظلمت سے نکال کر وجود کا لباس پہنایا اور ان کو ظاہر اور آشکارا کیا۔ در ظلمت عدم ہمہ بودیم بیخبر نور وجود ستہ شہود از تو یافتم آسمان اور زمین میں جس قدر بھی انوار اور سامان ظہور ہیں وہ سب اسی نور السموت والارض کے پیدا کردہ ہیں۔ (1) مثلا نور آفتاب وماہتاب اور نجوم وکواکب ان چیزوں کا نور اور ان کی روشنی عالمگیر ہے۔ (2) اور نور بصر یعنی چشم سر کا نور اور اس کی روشنی جس سے سامنے کی چیزیں ظاہر ہوجاتی ہیں۔ (3) اور نور بصیرت یعنی چشم دل اور نور عقل جس کے ذریعہ حسی اور عقلی چیزوں کا ظہور ہوتا ہے یہ سب اسی کی مخلوق ہیں۔ اور اللہ کا نور جو اس کی صفت ہے وہ قدیم اور ازلی ہے اور بےچون وچگون ہے وہاں کسی کم اور کیف کا گزر نہیں اور اللہ نور السموات والارض میں جو نور۔ اللہ کی طرف مضاف کیا گیا ہے وہ اللہ کی صفت ہے اور یہ انوار حسیہ اور انوار عقلیہ جن سے آسمان و زمین بھرے ہوئے ہیں وہ سب اس کے نور قدیم کا ایک ادنیٰ سا پر تو ہیں اس لئے نور کو آسمان اور زمین کی طرف مضاف کیا کہ یہ آسمان و زمین اسی کے جمال بےمثال کے ایک ادنیٰ پر تو سے روشن ہیں۔ کما قال تعالیٰ واشرقت الارض بنور ربھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت کے لئے جو آیات بینات نازل فرمائیں وہ سب انوار غیبیہ اور باطنیہ ہیں جن سے حق اور باطل کا فرق ظاہر ہوتا ہے اور معنوی طور پر آیات بینات کا نور۔ آفتاب اور ماہتاب کے نور کہیں زیادہ روشن ہے۔ جس طرح نور عقل۔ نور آفتاب سے بڑھ کر ہے، اسی طرح نور وحی۔ نور عقل سے بڑھ کر ہے۔ نور آفتاب سے صرف محسوسات کا ظہور ہوتا ہے اور نور عقل سے محسوسات اور معقولات کے ظاہرو باطن کا ظہور اور انکشاف ہوتا ہے اور نور وحی سے ان چیزوں کا ظہور ہوتا ہے کہ جو وراء عقل ہیں جہاں نور عقل کی رسائی نہیں۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ نور کی حقیقت یہ ہے کہ جو شے بذات خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہر کرنے والی ہو۔ پس نور اصل صفت حق جل شانہ کی ہے اور وہ بذاتہ ظاہر ہے اور اس کے سوا جو بھی ظاہر ہے وہ اسی کے ظاہر کرنے سے ظاہر ہوا ہے۔ جہاں کہیں بھی کوئی ظاہری یا باطنی روشنی ہے وہ اسی نور السموات والارض کے حسن و جمال کا اور اس کے فضل و کمال کا ایک پر تو ہے تمام ممکنات ظلمت کدہ عدم میں پڑی ہوئی تھیں اور باہم کوئی امتیاز نہ تھا اس لئے کہ جب اندھیرا ہوتا ہے تو ساکن اور متحرک اور بلند اور پست میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا، کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون اوپر ہے اور کون نیچے ہے، جب نور اور اجالا آتا ہے اور اندھیرا دور ہوتا ہے تب حقیقتیں اور کیفیتیں کھلتی ہیں اور اچھے اور برے اور جوہر اور عرض میں تمیز ہوتی ہے اسی طرح سمجھو کہ عدم ظلمت اور تاریکی ہے اور نور وجود اور ظہور ہے اگر وہ نور السموات والارض ممکنات کو نور وجود اور نور ہستی عطا نہ کرتا تو تمام ممکنات عدم کی ظلمت اور تاریکی میں پڑی رہتیں۔ اور بلندی اور پستی کا کوئی امتیاز نہ ہوتا اور آنکھ اور عقل میں بھی روشنی نہ ہوتی تو ادراک کیسے ہوتا۔ ادراک بھی تو آخر ظلمت ہی میں ہوتا، پھر کہاں سے ہوتا جس طرح زمین اپنی ذات سے تاریک اور بےنور ہے، آفتاب کے عکس اور پرتو سے اس میں روشنی آئی اور زمین کی چیزیں نظر آنے لگیں۔ اندھیری رات میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون زید ہے اور کون عمرو ہے، اسی طرح ممکنات کی ظلمت عدم کو سمجھو کہ وہ اپنی ذات سے اندھیرے میں ہیں جب نور السموات والارض کی تجلی سے نور وجود کا کوئی پر تو ان پڑجاتا ہے تو ظاہر ہوجاتے ہیں۔ ہستی کہ بذات خود ہو یداست چو نور ذرات مکونات از ویافت ظہور ہر چیز کہ از فروغ او افتد دور در ظلمت نیستی بماند مستور آفتاب اور ماہتاب ظاہری نور ہیں جن سے دنیا کی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں اور بصر (چشم سر) بھی ایک ظاہری نور ہے جس سے رنگتوں کا فرق ظاہر ہوتا ہے اور بصیرت (چشم دل) ایک باطنی نور ہے جسے نور عقل بھی کہتے ہیں اس سے حقائق اشیاء کا ظہور ہوتا ہے آسمان آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں کی روشنی سے روشن ہے اور زمین انبیاء اور علماء اور اولیاء کے انوار علم اور انوار ذکرو تسبیح سے منور ہے۔ الغرض آسمان و زمین میں جس قدر انوار حسیہ اور انوار عقلیہ موجود ہیں وہ سب اسی نور السموات والارض کی مخلوق ہیں جس طرح نور اشیاء کے ظہور کا سبب ہے اسی طرح سمجھو کہ وہ نور السموات والارض آسمانوں اور زمینوں کے ظہور کا سبب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سارا کون ومکان اور یہ زمین و آسمان ظہور میں آیا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی ہستی سب ہستیوں سے زیادہ ظاہر اور روشن ہے اور سب ہستیوں کا ظہور اسی کی وجہ سے ہے، اسی وجہ سے فرمایا۔ اللہ نور السموات والارض اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا۔ یعنی آسمان اور زمین اور ان کی تمام چیزیں اسی کے ظاہر کرنے سے ظہور میں آئیں۔ ہمہ عالم بنور اوست پیدا کجا او گردو از عالم ہو یدا زہے ناداں کہ او خورشید تاباں بنور شمع جو ید در بیاباں پس جس طرح نور۔ اللہ کی صفت ہے اسی طرح ظہور بھی اللہ کی صفت ہے ھو الاول والاخر والظاہر والباطن۔ خلاصہ کلام یہ کہ حق جل شانہ نے اس جملہ میں یعنی اللہ نور السموات والارض میں اول اپنے نور عام کا ذکر فرمایا جو اس کی صفت ہے جو تمام کائنات کو محیط ہے اب آئندہ آیت میں اپنے نور خاص کا یعنی نور ہدایت اور نور توفیق کا ذکر فرماتے ہیں جو اس کی صفت فعل ہے کیونکہ ہدایت دینا اور توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا ایک فعل ہے اور اس کا ایک فضل ہے اور بندہ کو جو نور ہدایت ملتا ہے وہ اس کے فعل کا مفعول بہ اور مخلوق اور مجعول ہے اور اس کے خوان فضل وکرم کا ایک لقمہ اور نوالہ ہے۔ جس کو مل گیا وہ جی اٹھا پس آئندہ آیات میں اس کے پیدا کردہ اور عطا فرمودہ نور ہدایت اور نور توفیق کی مثال بیان فرماتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اللہ کے نور ہدایت کی مثال جو اس کی طرف سے مومن (ف 1) کے دل میں ڈالا گیا ہے اس کی عجب شان ہے۔ اور وہ شان ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہے تاکہ اس کی روشنی منتشر نہ ہو۔ اور وہ چراغ شیشہ کے ایک صاف و شفاف قندیل میں رکھا ہوا ہے جس سے اس کی روشنی دوبالا ہوجاتی ہے اور وہ شیشہ گویا کہ ایک روشن اور چمکدار ستارہ ہے اور وہ چراغ ایک مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جا رہا ہے اور مبارک درخت زیتون کا ہے۔ جو نہ سمت مشرق میں ہے نہ سمت مغرب میں ہے۔ بلکہ ایک کھلے میدان میں ہے جس کو ہر طرف سے دھوپ پہنچ رہی ہے ایسے درخت کا روغن نہایت صاف و شفاف اور روشن ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ درخت کسی پہاڑ یا غار کی آڑ میں نہیں۔ اس میں اور آفتاب میں کوئی چیز حائل نہیں ایسے درخت کا تیل نہایت صاف اور چمکتا ہوا ہوتا ہے، آگے فرماتے ہیں کہ اس کا تیل اس قدر صاف و شفاف ہے کہ قریب ہے کہ وہ تیل خود بخود جل اٹھے اور روشن ہوجائے اگرچہ اس کو آگ نہ لگی ہو یعنی وہ تیل اس قدر صاف و شفاف ہے کہ جلتا ہوا نظر آتا ہے اور جب اس کو آگ لگ گئی تو پھر وہ نور علی نور ہے یعنی نور پر نور ہے۔ ایک نور تیل کا اور ایک نور آگ کا جب دونوں جمع ہوجائیں تو نور پر نور اور روشنی پر روشنی ہے۔ آیت میں جو مثال ذکر کی گئی وہ نور ایمان اور نور ہدایت کی مثال ہے جو مومن کے دل میں ہے ایک نور تو ہے فطرت سلیمہ کا اور دوسرا نور وحی کا ہے اور مقصود یہ ہے کہ وہ نور بڑا ہی عظیم الشان ہے اور یہ مطلب نہیں کہ فقط دو ہی نور ہیں۔ عبد اللہ (ف 2) بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اسی طرح مومن کا دل فطری طور پر ہدایت پر عمل کرنے لگتا ہے اور اپنی فطرت سلیمہ اور جبلت صحیحہ سے راہ راست پر چلنے لگتا ہے قبل اس کے کہ اس کو ہدایت کا علم ہو پھر جب اس کو علم آجاتا ہے تو اس کی ہدایت میں اور زیادہ ہوجاتی ہے اور ایک ہدایت پر دوسری ہدایت ہوجاتی ہے۔ دیکھو تفسیر ابن جریر ص 96 ج 18۔ سورة النور اور دیکھو تفسیر (ف 3) کبیر للعلامۃ الرازی ص 321 ج 6 ) یعنی اول تو مومن کا دل خود روشن تھا جب اوپر سے اس کو نور ہدایت آلگا تو نور علی نور ہوگیا۔ یحییٰ بن سلام (رح) کہتے ہیں کہ مومن قانت کا دل بتلانے سے پہلے ہی حق کو پہچان لیتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو اس لئے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ پس مومن قانت کا جسم یا اس کا سینہ بمنزلہ طاق کے ہے اور مومن کا دل بمنزلہ صاف و شفاف شیشہ اور قندیل کے ہے جو شکوک و شبہات کے زنگ سے پاک وصاف ہے اور نور معرفت اور نور بصیرت اور نور ہدایت یا نور ایمان اور نور عرفان یا نور قرآن بمنزلہ مصباح (چراغ اور شمع) کے ہے جو مومن کے دل میں روشن ہے اور مومن قانت کی فطرت سلیمہ اور اس کی فطری صلاحیت اور حسن استعداد بمنزلہ تیل کے ہے جو بدء فطرت سے من جانب اللہ مومن کو عطا کیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا اور یہی فطری سلامتی اور حسن استعداد اس کے چراغ معرفت کا مادہ ہے اور جیسا کہ حدیث میں ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ اور دوسری حدیث ہے خلقت عبادی کلہم حنفاء اور شجرہ مبارکہ سے شجرہ صدق واخلاص مراد ہے کہ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ بلکہ حقیقت میں وہ جنت کا درخت ہے ایسا مومن مخلص جس قلب چراغ ہدایت ومعرفت سے منور ہو تو ایسے مومن کا دل بوجہ نورانیت کے بسا اوقات اپنے وجدان اور نور معرفت سے حق تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس کو اس حق کا علم نہ ہوا ہو وہ دل کی شہادت سے جان لیتا ہے کہ یہ بات حق ہے اور یہ بات ناحق ہے اس قسم کے لوگ نور جبلی اور عنایت ازلی کے باعث بھلے اور بے میں تمیز کر کے محاسن اور فضائل کی طرف توجہ اور رغبت کرتے ہیں اور طبعی طور پر ذمائم اور قبائح سے نفرت کرتے ہیں، جیسا کہ بعض اوقات فاروق اعظم ؓ کا قلب نزول وحی سے پہلے ہی حق کی طرف پہنچ جاتا تھا اور اپنے رائے اور بصیرت سے حق اور باطل کے فرق کو سمجھ لیتا تھا اور بعد میں اسی کی موافقت میں وحی کا نزول ہوتا تھا اور نزول وحی کے بعد ان کے نور معرفت اور نور بصیرت میں زیادتی ہوجاتی تھی اور اس نور باطنی کے ساتھ جب نور وحی بھی مل جاتا تو نور علیٰ نور ہوجاتا۔ ایک نور اندر کا اور ایک نور باہر کا۔ الغرض مومن قانت پہلے ہی اپنی فطرت سلیمہ اور خدا داد قلب سلیم سے اجمالی طور پر حق پہچان لیتا ہے اور یکلخت اس کے دل میں ایسا جوش اٹھتا ہے کہ اس کام کے کرنے پر آمادہ بلکہ مجبور کردیتا ہے، پھر جب حکم خداوندی کو سنتا ہے تو تفصیلی طور پر حق کو جان لیتا ہے اور اس کے ایقان اور اطمینان میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، جب نور فطرت کے ساتھ نور شریعت بھی مل جاتا ہے تو نور علی نور کا مصداق ہوجاتا ہے اور اسی باطنی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ شرح صدر سے تعبیر فرمایا ہے قال اللہ تعالیٰ افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ وقال تعالیٰ فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام۔ ایسا شخص اگرچہ کسی کام کے جواز اور عدم جواز کو نہ جانتا ہو مگر طبعی طور پر اس کا دل حلال کے کھانے پر تیار ہوجاتا ہے اور حرام کے کھانے کے لئے تیار نہیں ہوتا بلکہ اس سے نفرت کرتا ہے اور ظاہری طور پر اس چیز کے حرام اور حلال ہونے کا اس کو بالکل علم نہیں ہوتا۔ یہ القاء غیبی ہوتا ہے اس قسم کے لوگوں کو اصطلاح شریعت میں محدث من اللہ اور ملہم من اللہ کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اولیاء اللہ کو کوئی بات پیش آتی ہے اور اس بارے میں ان کو حکم شرعی کا علم نہیں ہوتا مگر نور باطنی کی وجہ سے ان کو امر حق کے متعلق شرح صدر ہوجاتا ہے اور وہ پہلے ہی سے اس کو اختیار کرلیتے ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کی فطرت سلیمہ میں قبول حق کی استعداد اس درجہ قوی تھی کہ قریب تھا کہ بدون دیا سلائی دکھائے ہی جل اٹھے۔ اب ذرا اس کو دیا سلائی دکھائی اور ذرا آگ لگائی تو فورا اس کی فطری روشنی بھڑک اٹھی۔ لہٰذا اس نور فطرت کے ساتھ اگر نور شریعت بھی لگ جائے تو یہ روشنی اس قدر تیز ہوجائے کہ نور علی نور کا مصداق بن جائے اور حدیث میں آیا ہے۔ استفت قلبک وان افتاک المفتون یعنی جب تجھے کوئی بات پیش آئے تو اپنے دل سے فتویٰ لے لے اگرچہ مفتی فتویٰ دیا کریں سو یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے جن کا قلب آئینہ کی طرح صاف اور شفاف ہو اور نفسانی ظلمتوں اور کدورتوں سے پاک ہو۔ تو ایسوں کے لئے جائز ہے کہ اپنے قلب سلیم سے استفتاء کرلیا کریں، باقی جو چراغ دل۔ مشرقی یا مغربی شہوانی درختوں کے کشید کردہ تیل سے جل رہا ہو۔ اس سے استفتاء جائز نہیں۔ غرض یہ کہ نور ہدایت جو مومن قانت کو عطا ہوتا ہے وہ اللہ کی خاص رحمت اور خاص عنایت ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو اپنے اس خاص نور کی راہ دکھاتا ہے جو اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے یہ نور محض اس کا فضل اور احسان ہے جس کو چاہے اپنے فضل سے نواز دے اس نور کی ابتداء بھی اسی کی طرف سے ہے۔ کما قال اللہ تعالی۔ اللہ نور السموات والارض اور اس نور کی انتہاء اور تکمیل بھی اسی کی مشیت پر ہے جیسا کہ اسی آیت میں فرمایا یھدی اللہ لنورہ من یشاء اس آیت میں نور ہدایت سے نور توفیق مراد ہے جو ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے۔ جن پر اللہ کی خاص نظر عنایت ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لئے یہ مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ ان پر حق اور باطل کا فرق واضح ہوجائے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے کہ کون اس نور کے لائق ہے اور کون نہیں۔ جو دینے والا ہے وہ جاننے والا بھی ہے، اللہ تعالیٰ کو تمام کائنات کو ان کے وجود سے پہلے علم تام اور علم محیط تھا۔ اس آیت میں ہدایت عامہ کا بیان ہے جس میں تمام لوگ شریک ہیں جیسا کہ لفظ للناس عموم پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ضرب امثال پر جو ہدایت مرتب ہوتی ہے وہ ہدایت عامہ ہے اور گزشتہ آیات یعنی یھدی اللہ لنورہ من یشاء میں ہدایت خاصہ کا بیان تھا کیونکہ وہاں لفظ من یشاء موجود تھا جو خصوص پر دلالت کرتا ہے۔ بہرحال جمہور علماء کے نزدیک اس آیت میں نور مومن کی مثال ذکر کی گئی ہے کہ اس کے آئینہ دل میں ہدایت اور معرفت کا ایک چراغ روشن ہے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے نور کی مثال ذکر کی گئی ہے کہ مشکوٰۃ سے حضور ﷺ کا سینہ مبارک مراد ہے اور زجاجہ سے آپ ﷺ کا قلب منورمراد ہے جو نور الٰہی سے روشن اور منور ہے۔ جس کا اصل مادہ ملت ابراہیمیہ حنیفیہ ہے اور شجرہ مبارکہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں جو شجرۃ الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں۔ یہ تفسیر عبد اللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 263 ج 12) اور پہلی تفسیر عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول تھی، اب آگے یہ بتلاتے ہیں کہ وہ اہل ہدایت کون لوگ ہیں اور وہ نور ہدایت یعنی کہ وہ روشنی کہاں ملتی ہے۔ سو بتلاتے ہیں کہ وہ روشنی مسجدوں اور خانقاہوں میں ملتی ہے۔ جہاں صبح وشام اللہ کا ذکر ہوتا ہے اور ان لوگوں کو ملتی ہے جو صبح وشام اللہ کے ذکر میں اور اس کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور ان رجال آخرت کی صحبت اور ہم نشینی میں ملتی ہے کہ جو بظاہر دنیوی تجارت میں لگے ہوئے ہیں اور در پردہ اور بباطن آخرت کی تجارت میں غرق اور سرگرداں ہیں۔ یہ لوگ اہل ہدایت ہیں جن کے دل نور ہدایت سے منور ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو ! ہم نے تمہارے سمجھانے کے لئے یہ مثال بیان کردی پس اگر تم نور ہدایت کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ نور ایسے گھروں میں ملے گا جن کے ادب اور احترام اور بلند کرنے کا اور ان کی تعظیم کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور اس بات کا حکم دیا ہے کہ ان گھروں میں اللہ کا نام لیا جائے اس میں تسبیح وتہلیل اور تلاوت قرآن اور دیگر اذکار سب داخل ہیں ان گھروں سے مسجدیں اور خانقاہیں مراد ہیں جن میں دن رات اللہ کا نام لیا جائے ہدایت کے چراغ تم کو مسجدوں میں ملیں گے۔ وہاں جاؤ۔ اور ان گھروں میں صبح وشام اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں ایسے مردان ہمت جن کی صفت یہ ہے کہ کوئی دنیاوی تجارت اور کوئی خریدو فروخت ان کو اللہ کی یاد سے اور نماز کے قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی یعنی یہ لوگ اگرچہ بظاہر دنیوی تجارت میں مشغول ہیں لیکن در حقیقت یہ لوگ ایسے باہمت اور مردان شجاعت ہیں کہ اصل مقصود ان کا آخرت کی تجارت ہے دنیا کی تجارت ان کو آخرت سے غافل نہیں ہونے دیتی ان کا اصل مقصود دین ہے اور دنیا اس کی تابع ہے اگر دنیا مقصود ہوتی تو اس طرح فرماتے لا یلھیہم ذکر اللہ عن التجارۃ یعنی اللہ کا ذکر ان کو تجارت سے غافل نہیں کرتا جس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل مقصود دین ہے۔ نکتہ : اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کرنے والے کو مرد نہیں کہا بلکہ ایسے لوگوں کو مرد کہا کہ جو دنیا کی تجارت میں پڑکر آخرت سے غافل نہ ہوں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ جو ایسا نہ ہو وہ مرد نہیں۔ از دروں شو آشناؤو زبروں بیگانہ باش ایں چنیں زیبا روش کم می بود اندر جہاں۔ اور ان رجال آخرت اور مردان ہمت کی ایک صفت یہ ہے کہ یہ مردان ہمت اس دن سے ڈرتے ہیں کہ اس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی، اس دن حیران اور پریشان ہوں گے کہ دیکھئے آج کیا ہوجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ باوجود عبادت کے پھر خوف ہے۔ عجب اور خود پسندی نہیں وہ اپنے اعمال کو ہیچ سمجھتے ہیں جیسا کہ یہی مضمون دوسری آیت میں ہے۔ قلوبہم وجلۃ انہم الی ربہم راجعون۔ غرض یہ کہ ان رجال آخرت پر آخرت کا خوف غالب ہے اس لئے یہ مردان خدا لہو ولعب میں نہیں پڑتے۔ بلکہ ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہتے ہیں تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ اور اپنے فضل سے ان کو زیادہ بھی دے، یعنی وعدہ کے علاوہ بلا استحقاق اپنے فضل سے زیادہ عطا فرمائے گا جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہ ہو یا زیادتی فضل سے دیدار خداوندی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جزا اعمال کے علاوہ مزید اپنے دیدار پر انوار سے مشرف فرمائے۔ کما قال تعالیٰ للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ۔ اس آیت میں ” زیادت “ سے دیدار خداوندی مراد ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے، اس کے جود وکرم کی کوئی حد نہیں وہ مالک مطلق ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں جس کو جو چاہے اور جتنا چاہے۔ دے۔ وہ اس کا فضل ہے ذاتی استحقاق کسی کا نہیں۔ فائدہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ عبادت اور تجارت دونوں ایک ساتھ جمع ہوسکتی ہیں اور دین۔ دنیا کے منافی نہیں لہٰذا جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دین کا کام کرنے سے آدمی دنیا سے جاتا رہتا ہے۔ بالکل غلط ہے اللہ اور اس کے رسول نے تجارت اور زراعت اور صنعت وحرفت کو فرض قرار دیا جس پر دنیا کا دارومدار ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ کسب الحلال فریضۃ یعنی کسب حلال فرض ہے البتہ دنیا کی محبت ممنوع ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ حب الدنیا راس کل خطیءۃ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے شریعت نے حلال طریقہ سے ضروریات معاش کی تحصیل کو فرض قرار دیا ہے البتہ اس کے احکام بتلائے ہیں اور عقلا یہ درست ہے دنیا کی کون سی حکومت ہے جس میں تجارت اور زراعت وغیرہ کے متعلق احکام موجود نہ ہوں اور یہ احکام دنیا کی متمدن اور مہذب حکومتوں کے احکام سے ہزار درجہ بڑھ کر آسان ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ علماء شریعت۔ کسب دنیا سے منع کرتے ہیں بالکل غلط ہے، قرآن اور حدیث میں اور کتب فقہ میں ضروریات معاش کی تحصیل کو فرض قرار دیا ہے اور اس کے احکام بتلائے ہیں اور بےکاری کو ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ افلاس بعض دفعہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ حدیث میں ہے۔ کاد الفقران یکون کفرا قریب ہے کہ تنگدستی کفر تک پہنچا دے۔ شریعت نے کہیں یہ نہیں کہا کہ تم دنیا کو بالکل چھوڑ دو اور حقوق کو معطل کر کے بیٹھ رہو بلکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ حلال طریقہ سے دنیا کماؤ اور اس کے حقوق ادا کرو اور کسی حالت میں قانون شریعت کے دائرہ سے باہر نہ نکلو۔ دنیا کی وہ کون سی متمدن حکومت ہے کہ جہاں کے باشندے تجارت اور زراعت اور صنعت وحرفت میں قانون حکومت سے آزاد ہوں۔
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

اعمال کفار کی دو مثالیں قال اللہ تعالی۔ والذین کفروا اعمالہم کسراب۔۔۔ الی۔۔۔ فما لہ من نور۔ (ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے نور ہدایت کی مثال بیان فرمائی اور اس کو نور علیٰ نور فرمایا۔ اب آئندہ آیات میں کافروں کے مظالم اور تاریک اعمال کی دو مثالیں بیان فرماتے ہیں جو ظلمات پر ظلمات اور اندھیرے پر اندھیرا ہیں۔ کافر دو قسم کے ہیں ایک قسم تو وہ ہیں کہ جو معاد کے قائل ہیں اور اپنے زعم کے مطابق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد یہ اعمال ہمارے کام آئیں گے اور دوسری قسم کافروں کی وہ ہے کہ جو معاد اور جزا اور سزا کے منکر ہیں اور دنیاوی لذات وشہوات میں غرق ہیں ان آیات میں ان دو قسموں کے کافروں کے اعمال کی دو مثالیں ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں منافقوں کے اعمال کی دو مثالیں ذکر فرمائیں ایک ناری اور ایک آبی جیسا کہ سورة رعد میں بھی دو مثالیں ذکر فرمائیں ایک آبی اور ایک آتشی۔ اسی طرح یہاں بھی دو مثالیں ذکر فرماتے ہیں۔ مثال اول : اور پہلی قسم کے کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے چٹیل میدان میں ایک چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا آدمی اس کو دور سے پانی گمان کرتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ پیاسا اسے پانی سمجھ کر وہاں پہنچتا ہے تو اپنے گمان اور تصور کی کوئی چیز نہیں پاتا اور بجائے پانی کے اپنے پاس اللہ کے قہر اور غضب کو پاتا ہے پھر اللہ اس کے حساب کو پورا کردیتا ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ اسے حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی اسے کیا مشکل ہے۔ یہ مثال ان کافروں کے اعمال کی ہے جنہوں نے دنیا میں کچھ صدقہ اور خیرات کیا اور کچھ نیک کام کیے اور ان کو ذریعہ آخرت خیال کیا کہ ہم نے کچھ نیکی حاصل کی اور ہمیں اس کا ثواب ملے گا۔ تو یہ کافر دنیا میں اپنے اعمال کو پانی کی طرح سمجھتا رہا کہ وقت پر میرے کام آئیں گے حالانکہ وہ کفر اور شرک کی نحوست کی وجہ سے حقیقت میں پانی نہ تھے بلکہ ظاہری طور پر صورۃ وہ پانی کے مشابہ تھے اور در حقیقت وہ سراب تھے چمکتے ہوئے ریت کے مشابہ تھے۔ جب تشنگی سے بیتاب ہو کر وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا اور اس وقت تو حقیقت کھلی اور امید پر پانی پھر گیا اور بصد ہزار حسرت وغم پیاسا مرگیا۔ اس کو امید تھی کہ اللہ میرے ان اعمال سے راضی ہوگا، جب مر کر خدا کے پاس پہنچا تو بجائے آب حیات کے اسے آتش غضب الٰہی نظر آئی اور عمر بھر کی بد اعمالیوں کا حساب کردیا گیا اور ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا ہوا اور تباہ وبرباد ہوا۔ دوسری مثال : یا کافروں کے اعمال کی مثال مثل بڑے گہرے سمندر کی تاریکیوں کی طرح ہے جس پر موج سوار ہے اور موج کے اوپر ایک اور موج ہے اور پھر اس کے اوپر ایک بادل کہ جو ستاروں کی روشنی کو بھی چھپائے ہوئے ہے یہ تاریکیاں ہیں ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ہیں۔ اندھیری پر اندھیری ہے غرض یہ کہ غایت درجہ کی اندھیری ہے، جب وہ اپنے ہاتھ کو باہر نکال کر دیکھنا چاہتا ہے جو سب اعضا میں اس کے قریب ہے اور قریب سے دکھائی دیتا ہے تو تاریکیوں کی شدت کی وجہ سے اپنے ہاتھ کو بھی نہیں دیکھ سکتا پس جب وہ اپنے ہاتھ کو نہیں دیکھ سکتا جو آنکھ کے بالکل قریب ہے تو اور چیزوں کو بدرجہ اولیٰ نہیں دیکھ سکے گا یہ دوسری تمثیل ان کافروں کے اعمال کی ہے جو دن رات نفسانی شہوتوں اور دنیاوی لذتوں میں غرق ہیں اور برے اعمال کی تاریکیوں اور اندھیروں میں چھپے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا ممکن نہیں۔ کفر اور جہالت کے تاریک اور عمیق سمندر میں غرق ہیں جہاں روشنی کا کوئی نام ونشان نہیں ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔ اعتقاد بھی تاریک اور قول بھی تاریک اور عمل بھی تاریک ان لوگوں کے پاس روشنی کی اتنی بھی چمک نہیں جتنی کہ سراب کو دیکھ کر نظر آتی ہے یہ لوگ تو ہر طرف سے ہی تاریکیوں میں گھرے ہوئے ہیں روشنی کا کہیں نام ونشان بھی نہیں۔ اور جسے اللہ روشنی نہ دے تو اس کے لئے کہیں روشنی نہیں۔ روشنی تو دین اسلام میں ہے کفر میں کہاں سے روشنی آئی۔ کافروں کی مثال کے اخیر میں یہ جملہ ایسا ہے جیسے مومنین کی مثال کے اخیر میں یہ ارشاد فرمایا تھا۔ یھدی اللہ لنورہ من یشاء یہاں اس کے مقابل یہ فرمایا۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور مومن کی حالت تو روشن ہے اور نور پر نور ہے اور کافر کی حالت ظلمتیں یعنی اندھیریاں ہیں اور اندھیریوں پر اندھیریاں ہیں حاصل کلام یہ کہ کافروں کے اعمال اگر بظاہر نیک ہوں تو مثل سراب کے ہیں اور اگر بد ہوں تو مثل ظلمات کے ہیں۔ لطائف الاشارات جاننا چاہئے کہ ابتداء آیت میں نور ہدایت اور نور توفیق کا ذکر کیا بعد ازاں یہ بتلایا کہ وہ نور ہدایت اتباع شریعت اور التزام مساجد میں منحصر ہے اور فی بیوت اذن اللہ سے یہی مساجد مراد ہیں کہ جن کی تعظیم واجب ہے، بعد ازاں یہ بتلایا کہ نور ہدایت کے لئے دوام ذکر اور دوام تسبیح اور رجال آخرت کی صحبت ضروری ہے یسبح لہ فیھا بالغدو والاصال دوام ذکر اور دوام تسبیح کی طرف اشارہ ہے اور رجال لا تلھیہم الخ سے رجال آخرت کی صحبت کی طرف اشارہ ہے۔ کما قال تعالیٰ یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین بعد ازاں لیجزیہم اللہ احسن ما عملوا سے تاجر ان آخرت کی طرف اشارہ ہے اور یزیدھہم من فضلہ سے محبین اور مخلصین اور اولیاء عاشقین کی طرف اشارہ ہے۔ بعد ازاں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو نور ہدایت اور نور توفیق سے محروم رہے۔ والذین کفروا اعمالہم الخ سے انہی لوگوں کا ذکر ہے جن کو نور ہدایت میں سے کوئی حصہ نہیں ملا۔ بعض ازاں کافروں کے اعمال کی دو مثالیں بیان کیں اس لئے کہ کافروں کے اعمال دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں جو بظاہر مستحسن اور پسندیدہ ہیں جیسے صدقہ اور صلہ رحمی اور خیرات اور عدل و انصاف اور ظلم اور ایذا رسانی سے پرہیز۔ اس قسم کے اعمال بظاہر خیر اور حسن ہیں مگر ان کے لئے قبول کے لئے ایمان شرط ہے اس لئے ایسے اعمال کو سراب سے تشبیہ دی ہے کہ دور سے تشنہ اور پیاسا اس سے امید وابستہ کرتا ہے اور جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو سوائے حسرت کے کچھ نہیں ملتا۔ اور دوسری قسم اعمال کی وہ ہے کہ جو ظاہر میں بھی قبیح ہیں جیسے بت پرستی اور ظلم وغیرہ وغیرہ اس قسم کے اعمال کو ظلمات سے تشبیہ دی گئی۔
Ayahs 24:41–46

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

ذکر تسبیح کا ئنات عالم قال اللہ تعالی۔ الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں رجال آخرت اور مردان ہمت کی تسبیح اور نماز کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں تمام مخلوقات کی تسبیح اور نماز اور نیاز کا ذکر کرتے ہیں کہ تمام مخلوق اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے، مگر یہ لوگ جہالت کے مظلم اور تاریک سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہیں اور خدا کی تسبیح اور نماز ونیاز سے غافل ہیں۔ اور سراب کو آب سمجھے ہوئے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں قلوب مومنین کے انوار کا اور قلوب کفار کی ظلمات کا بیان تھا۔ اب آئندہ آیات میں دلائل توحید کو بیان کرتے ہیں جو اہل بصیرت کے لئے انوار ہدایت ہیں اس ذیل میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے دلائل بیان فرمائے جن سے خدا تک پہنچنے کا راستہ نظر آئے پس اے لوگو اگر ظلمتوں اور اندھیریوں سے نکل کر نور میں داخل ہونا چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کے دلائل قدرت و عظمت میں غور کرو۔ قسم اول الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ والی اللہ المصیر۔ اے مخاطب کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور سب پرندے درآنحالیکہ وہ ہوا میں اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں۔ سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ ہر ایک نے اپنی نماز کو اور تسبیح کو جان رکھا ہے جو اس کے لائق ہے خدا تعالیٰ نے جس کو جو طریقہ الہام کیا اسی کے موافق وہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں، کوئی فعل اور کوئی ذرہ اس پر پوشیدہ نہیں غرض یہ کہ تمام کائنات اپنے اپنے حال کے لائق اور موافق اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اگرچہ ہم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ کما قال تعالی۔ ولکن لا تفقھون تسبیحہم اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اس کے سوا اور کوئی ذرہ بھر چیز کا بھی مالک نہیں اور اللہ ہی کی طرف سب کا رجوع ہے، یعنی ایک دن سب کو فناء ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ قسم دوم الم تر ان اللہ یزجی سحابا۔۔۔ الی۔۔۔ لاولی الابصار۔ اے انسان کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادل کو ہنکاتا ہے اور ابتداء میں اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ ان ٹکڑوں کو باہم ملا دیتا ہے یعنی ان کے متفرق ٹکڑوں کو جوڑ دیتا ہے پھر اس کو تہ بہ تہ گاڑھا بادل بنا دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس بادل کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور زمین پر گرتی ہے اور اس کو سیراب کرتی ہے۔ اور آسمان میں یا بادل میں جو اولے کے بڑے بڑے پہاڑ ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے اولے برساتا ہے آسمان میں اولوں کے اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہیں جو پہاڑوں جیسے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے آسمان سے یا ابر سے پانی یا اولے برساتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے وہ بارش یا اولا گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے روک لیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو اچک لے جائے یعنی وہ بجلی اس قدر تیز ہے کہ قریب ہے کہ بینائی جاتی رہے، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے رات اور دن کو پھیرتا ہے اور بدلتا رہتا ہے۔ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے، کبھی دن چھوٹا اور کبھی رات چھوٹی یہ سب اس کی قدرت کے کرشمے ہیں بیشک ان باتوں میں اہل بصیرت کے لئے عبرت ہے، ان سب امور سے خدا تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت ظاہر ہوتی ہے۔ قسم سوم اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا، ہر حیوان کا اصل مادہ اور جوہر پانی ہے سو ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو اپنے پیٹ پر چلتے ہیں جیسے سانپ اور مچھلی وغیرہ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں، جیسے آدمی اور بہت سے پرندے جبکہ ہوا میں نہ ہوں اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ بہائم اور درندے اونٹ گائے بکری وغیرہ۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی قدرت کے اعتبار سے سب برابر ہیں کسی کے لئے پیٹ کو چلنے کا ذریعہ بنایا اور کسی کے لئے دو پیر اور کسی کے لئے چار بنائے۔ تاکہ لوگ اللہ کی قدرت کے کرشموں کو دیکھیں اور سمجھیں اور ہم نے اپنی قدرت کے واضح دلائل بیان کر دئیے تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر راہ حق پر آجائیں لیکن ہدایت کی توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ پر لگاتا ہے، یہی مذہب ہے اہل سنت والجماعت کا کہ ہدایت اور توفیق سب اسی کے قبضہ قدرت ہے۔
Ayahs 24:47–57

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

ذکر مہتدین وغیر مہتدین یعنی مخلصین ومنافقین قال اللہ تعالی۔ ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا۔۔۔ الی۔۔۔ وما علی الرسول الا البلاغ المبین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ فرمایا کہ راہ حق روشن اور واضح ہے مگر توفیق اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کما قال واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو صراط مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض کو ہدایت ہوگی اور بعض کو نہیں ہوگی اس لئے آئندہ آیت میں ہر دو فریق کی قدرے تفصیل فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ زبان سے تو دعویٰ ایمان اور اطاعت کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کے دل اطاعت اور یقین سے خالی ہیں، یہ گروہ منافقین کا ہے کہ باوجود واضح نشانیوں کے راہ راست پر نہیں چلتے اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر دل سے راضی نہیں اور ان ہی کا ذکر پہلے کیا۔ اور بعض وہ ہیں کہ جو دل وجان سے اللہ اور اس کے رسول کے وفادار اور اطاعت شعار ہیں یہ گروہ مخلصین کا ہے۔ ان کا ذکر بعد میں کیا۔ اب ان آیات میں ان لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور یہ منافق لوگ زبان سے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس اقرار کے بعد ان میں کا ایک فریق اللہ اور رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے اور یہ لوگ دل سے مومن نہیں، یہ آیت بشر نامی منافق کے بارے میں نازل ہوئی اس کا ایک یہودی کے ساتھ ایک زمین کے متعلق جھگڑا تھا یہودی نے کہا کہ ہم اپنا فیصلہ محمد ﷺ کے پاس لے جاتے ہیں جو وہ فیصلہ کریں ہمیں منظور ہے اور بشر نے کہا نہیں۔ ہم اپنا فیصلہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس لے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ایسے وقت میں ان کے دعوائے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے، چناچہ فرماتے ہیں اور ان لوگوں کی سرتابی کا یہ حال ہے کہ جب ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اللہ کا رسول ان کے درمیان فیصلہ کر دے تو ان میں سے ایک فریق منہ موڑنے والا ہوجاتا ہے، یعنی جب ان کے ذمہ کسی کا حق نکلتا ہے تو رسول کے فیصلہ سے منہ موڑتے ہیں اور اگر اتفاق سے حق ان کے لئے ہوا تو سر تسلیم خم کرتے ہوئے آپ ﷺ کی طرف چلے آتے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ آپ ﷺ جو فیصلہ فرمائیں گے وہ حق پر ہوگا۔ اور ہم کو آپ ﷺ کے فیصلہ سے حق مل جائے گا۔ ایسے لوگ جو ایمان اور اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ یہ ایمان اور اسلام نہیں بلکہ خود غرضی اور ہوا پرستی ہے۔ اب آگے ان کے اعراض اور روگردانی کے اسباب بطور تردید بیان کرتے ہیں جس سے مقصود ان کی توبیخ ہے۔ کیا ان کے دلوں میں کفر اور نفاق کی بیماری ہے یا حرص اور طمع اور مال کی محبت کی بیماری ہے اس وجہ سے آپ ﷺ کے پاس آنے سے اعراض کرتے ہیں یہ بیماری ان کے دلوں میں ایسی مستحکم ہوچکی ہے کہ اس کے زائل ہونے کی امید نہیں۔ یا دین اسلام کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، اس لئے اسلامی عدالت میں مقدمہ لانے سے کتراتے ہیں یا اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے ساتھ بےانصافی کرے گا۔ اللہ اور اس کا رسول تو اس سے منزہ اور مبرا ہیں بلکہ یہی لوگ ظالم اور بےانصاف ہیں کہ حرص اور طمع اور خود غرضی میں مبتلا ہیں اس لئے رسول ﷺ کے پاس فیصلہ لانے سے گھبراتے ہیں کہ اس کی بارگاہ میں حرص اور طمع اور خود غرضی کا گزر نہیں۔ یہ تو منافقین کا حال تھا اب آگے مومنین مخلصین کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حال ذکر کرتے ہیں کہ ان کے دل اور زبان میں کوئی فرق نہیں۔ مومنوں کا قول تو بس یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کسی مقدمہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کردے تو ان کا قول یہی ہوتا ہے کہ ہم نے دل وجان سے آپ ﷺ کا ارشاد سنا اور بسرو چشم آپ ﷺ کی اطاعت منظور کی ادھر سنا اور ادھر فرمانبرداری کے لئے تیار۔ اس لئے کہ ان کو یقین ہے کہ رسول کا قول حق اور صدق ہے سوائے سمع اور اطاعت کے کوئی گنجائش ہی نہیں اور ایسے ہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ جنہوں نے اپنی ہوائے نفسانی کو نبی کے حکم کے تابع کردیا۔ اور ان کو دنیوی نفع ونقصان سے کوئی سروکار نہیں۔ اور ہمارے یہاں کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو شخص خوشی سے اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اور اللہ کی ناراضی سے ڈرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ یعنی کامرانی اور کامیابی کا دارو مدار تین چیزوں پر ہے۔ (اول) اطاعت۔ یعنی احکام شریعت کی دل وجان سے بجا آوری۔ (دوم) خشیت۔ یعنی دل سے اللہ کی عظمت اور ہیبت۔ (سوم) تقویٰ ۔ یعنی معصیت سے اجتناب۔ ایسے لوگ فائز المرام ہیں جن کے لئے ازل سے سعادت اور فلاح مقدر ہوچکی ہے۔ اب آئندہ آیت میں منافقین کی جھوٹی قسموں کا ذکر کرتے ہیں اور ان منافقین نے اپنی پوری کوشش سے اللہ کی قسمیں کھائیں کہ وہ تو ایسے فرمانبردار ہیں کہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے کہ البتہ اگر آپ ان کو ان کے گھروں سے نکلنے کا حکم دیں تو وہ بلا توقف اسی وقت اپنا مال ومتاع چھوڑ کر گھروں سے نکل جائیں گے، منافقین اپنی وفا داری جتلانے کے لئے حضور پر نور ﷺ سے کہتے کہ اگر آپ ہم کو حکم دیں تو ہم سب گھر بار چھوڑ کر نکلنے کے لئے اور آپ ﷺ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں۔ ذرا حضور ﷺ کے اشارہ کی دیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان منافقوں سے کہہ دیجئے۔ بس تم قسمیں نہ کھاؤ۔ دستور کے مطابق فرمانبرداری تم سے مطلوب ہے۔ زبانی اطاعت سے کام نہیں چلتا۔ یا یہ معنی ہیں کہ ہمیں تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری کی حقیقت خوب معلوم ہے۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے تم جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کما قال تعالیٰ یحلفون لکم لترضوا عنہم۔ اتخذوا ایمانہم جنۃ بیشک اللہ خبردار ہے اس چیز سے جو تم کرتے ہو۔ اسے تمہارے قول وقرار کی اور تمہاری قسموں کی حقیقت خوب معلوم ہے۔ اے نبی ﷺ آپ ان منافقوں کو کہہ دیجئے کہ جھوٹی قسمیں نہ کھاؤ بلکہ صدق دل سے اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ظاہر و باطن کو یکساں کرو، اس میں تمہاری بہتری ہے پس اگر تم اس بات سے روگردانی کرو تو رسول کا ذمہ تو صرف اس قدر ہے جس قدر اس پر بوجھ رکھا گیا۔ یعنی تبلیغ احکام خداوندی۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کے ذمہ حکم کا پہنچانا ہے اور اس کی اطاعت اور تعمیل تمہارے ذمہ ہے۔ اس کے جواب دہ تم ہو۔ اور اگر بجائے روگردانی کے تم دل وجان سے بصد شوق ورغبت رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے تمہاری نافرمانی اور روگردانی سے ہمارا کچھ بھی نقصان نہیں۔ اور رسول کے ذمہ صرف کھول کر پہنچا دینا ہے اور بس۔ رسول تو اللہ کا حکم پہنچا کر سبکدوش ہوگئے۔ اب تم جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ انجام کو سوچ لو۔
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ (یعنی تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور (تیسرے) عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور حکمت والا ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

حکم یازدھم متعلق بہ استیذان قال اللہ تعالی۔ یایھا الذین امنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔ (ربط) آغاز سورت میں عفت وعصمت وآداب معاشرت کے متعلق احکام کا ذکر تھا جن میں ایک حکم استیذان کا تھا کہ کسی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، اب پھر انہی احکام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان آیات میں غلاموں اور نابالغ بچوں کو اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم ہے اور شروع سورت میں جو اجازت لینے کے احکام مذکور تھے وہ اجنبیوں کے متعلق تھے کہ کسی کے مکان میں بغیر اجازت داخل ہونے کی ممانعت تھی، اب یہ آیتیں اسی گزشتہ حکم استیذان کا تتمہ اور تکملہ ہیں کہ جو لونڈی اور غلام اور نابالغ بچے گھر میں رہتے ہیں۔ تین وقتوں میں ان کو بھی تمہارے کمرہ میں اجازت لے کر آنا چاہئے۔ یہ اوقات خلوت واستراحت کے ہیں۔ بسا اوقات انسان سے سوتے وقت اس کا کپڑا اتر جاتا ہے اور ستر کھل جاتا ہے۔ لہٰذا ان تین اوقات میں غلاموں اور کنیزوں کو بھی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونا چاہئے۔ باقی اوقات میں ان کو اجازت کی ضرورت نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اے ایمان والو۔ چاہئے کہ اجازت لے کر آیا کریں تم سے وہ کہ جن کے مالک ہیں تمہارے ہاتھ یعنی لونڈی اور غلام اور وہ لڑکے جو تم میں سے حد بلوغ کو نہیں پہنچے وہ تین وقت میں تم سے آنے کی اجازت لیا کریں، یعنی تین وقتوں میں بغیر اجازت لئے تمہارے پاس نہ آیا کریں ایک تو نماز فجر سے پہلے اور دوسرے دوپہر کے وقت جب تم قیلولہ کے لئے اپنے کپڑے اتار کر رکھتے ہو اور تیسرے نماز عشاء کے بعد جب آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ تخلیہ میں ہوجاتا ہے۔ یہ تین وقت تمہارے لئے پردے کے ہیں۔ اس لئے ان تین وقتوں میں بغیر اجازت لئے تمہارے پاس نہ آیا کریں اور بعد ان تین وقتوں کے بغیر اجازت لئے تمہارے پاس آنے میں نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر کیونکہ وہ تم پر گھومتے رہتے ہیں۔ یعنی بکثرت اور باربار تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں ایک دوسرے کے پاس۔ اس لئے ہر دفعہ میں اجازت لینے میں دشواری ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ بندوں کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے۔ اس کا ہر حکم حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے اور جب تم میں کے لڑکے حد بلوغ کو پہنچیں یعنی بالغ ہوجائیں یا قریب بلوغ ہوجائیں تو تمہارے پاس آنے کے لئے تم سے جملہ اوقات میں اجازت لیا کریں جیسا کہ اجازت مانگتے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے بالغ ہوچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ لڑکا جب تک نابالغ ہے تو تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں بغیر اجازت لئے اندر آسکتا ہے اور جب حد بلوغ کو پہنچ گیا تو پھر اس کا حکم انہی مردوں جیسا ہے جو اس سے پہلے بالغ ہوچکے ہیں اور ان کا حکم پیشتر آیت یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اھلھا میں گزر چکا ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے احکام بیان کرتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو جاننے والا ہے اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ دوپٹے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور خدا سنتا جانتا ہے

حکم دوازدھم متعلق بہ تستر قال اللہ تعالی۔ والقواعد من النساء التی لا یرجون نکاحا۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ سمیع علیم۔ (ربط) شروع سورت میں عورتوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ کما قال تعالیٰ لا یبدین زینتھن۔ اب ان آیات میں بوڑھی عورتوں کے متعلق حکم بیان کرتے ہیں کہ ان کے لئے اس درجہ تستر ضروری نہیں جتنا کہ جوان عورتوں کے لئے تستر ضروری ہے۔ عورت کا جب زمانہ شباب گزر گیا اور بڑھاپے کی اس منزل کو پہنچ گئی کہ نکاح کی اس کو حاجت نہ رہی تو ایسی حالت میں اگر وہ اپنے گھر میں تھوڑے کپڑوں میں بھی رہے تو درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ پورا پردہ رکھیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور بڑی عمر والی عورتیں جن کو نکاح کی امید نہیں رہی اور گھر میں بیٹھی رہتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے گھر میں زائد کپڑے اتار کر رکھ دیں۔ جیسے چادر اور برقع۔ بشرطیکہ وہ اس سے اپنی زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوں یعنی چادر اور برقع کے اتار دینے سے مقصود غیر مردوں کو اپنے محاسن کا دکھلانا نہ ہو تو پھر زائد کپڑے اتار دینے میں کوئی گناہ نہیں اور اگر وہ اس سے بھی بچیں، یعنی اپنے زائد کپڑے بھی نہ اتاریں تو ان کے لئے اور زیادہ بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔