23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 23:1–11

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بےہودہ باتوں سے منہ موڑتے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انھیں ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو امانتوں اوراقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

صفات مومنین مفلحین قال اللہ تعالیٰ ۔ قد افلح ال مومن ون .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔ (ربط) گزشتہ سورت کے اخیر میں اعمال خیر کا حکم اور فلاح کی امید کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں مومنین صالحین کے لیے وقوع فلاح کی خبر دیتے ہیں کہ بلاشبہ وہ مسلمان کامیاب ہیں جن میں یہ سات صفتیں پائی جاتی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فلاح پائی اہل ایمان نے جس کی پہلے ہی سے اہل ایمان کو امید اور توقع تھی۔ اہل ایمان سے اہل تصدیق اور اہل اطمینان مراد ہے۔ اب اس بشارت کے بعد ان مومنین کی صفات بیان کرتے ہیں۔ ؂ اول صفت خشوع ان میں سے پہلی صفت یہ ہے جو اپنی نماز میں خشوع اور خضوع اور عجزو زاری کرنے والے ہیں یعنی ان کے دل میں اللہ کی عظمت اور ہیبت اور اس کا ادب ایسا ہے کہ جس کا اثر ظاہر پر نمایاں ہوتا ہے کہ جب نماز پڑھتے ہیں تو لرزاں اور ترساں ہوتے ہیں گویا کہ اپنے خدا کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسری صفت اعراض عن اللغو اور دوسری صفت یہ ہے کہ یہ مسلمان اور اہل ایمان لغو یعنی بیکار باتوں سے اعراض کرنے والے اور منہ پھیرنے والے ہیں یعنی جس چیز کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہو اور آخرت میں کام نہ آئے اس سے اعراض کرنے والے ہیں۔ تیسری صفت اداء زکوٰۃ اور تیسری صفت یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مالی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتے اصل زکوٰۃ مکہ مکرمہ میں شروع ہوچکی تھی۔ البتہ زکوٰۃ کی مقدار اور نصاب کی تعیین مدینہ پہنچ کر ہوئی۔ چوتھی صفت عفت و عصمت اور چوتھی صفت یہ ہے کہ اپنی شرمگاہوں کی ناجائز شہوت رانی سے حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی منکوحی یا مملوکہ عورتوں کے کسی اور جگہ اپنی شرمگارہوں کو استعمال نہیں کرتے سو ایسوں پر بلاشبہ کوئی ملامت اور الزام نہیں سو جس نے ان کے سوا یعنی اپنی بیویوں اور باندیوں کے سوا اپنی شہوت پوری کرنے کے لیے کوئی اور راہ ڈھونڈی سو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور عصمت اور عفت کے دائرہ سے باہر نکلنے والے ہیں کہ حلال کی حدود سے نکل کر حرام کی حدود میں داخل ہوگئے۔ ایسے لوگ بلاشبہ قابل ملامت ہیں۔ شریعت نے جب تم کو بیوی اور باندی سے قضاء حاجت کی اجازت دے دی تو ضرورت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد قضائے شہوت کے لیے کوئی راہ ڈھونڈنا جیسے زنا اور متعہ اور جلق اور وطی بہائم وغیرہ وغیرہ یہ سب حد سے گزرنا ہے۔ فائدہ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ متعہ حرام ہے کیونکہ زن متعہ نہ تو بیوی ہے اور نہ لونڈی ہے بیوی تو اس لیے نہیں کہ مرد پر اس کا نان و نفقہ نہیں اور نہ اس کے لیے طلاق ہے اور نہ عدت ہے اور نہ میراث ہے اور باندی اس لیے نہیں کہ اس کی بیع و شراء اور ہبہ اور عتق صحیح نہیں اور جب ان متعہ نہ ازواج میں سے ہے اور نہ ما ملکت ایمانھم سے ہے تو لامحالہ فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العدون کسی عورت سے متعہ کرنا حدود شریعت سے تجاوز کرنا اور حلال کو چھوڑ کر حرام میں پڑنا ہوگا۔ جن کی تفصیل پارہ پنجم کے شروع میں گزر چکی ہے۔ غرض یہ کہ متعہ والی عورت نہ بیوی ہے نہ باندی اس لیے حسب آیت مذکورہ لامحالہ وہ حرام ہوگی اور اسی پر تمام صحابہ وتابعین کا اجماع ہے کہ متعہ حرام ہے اور اسی پر چاروں اماموں کا اتفاق ہے۔ اگر حسب زعم شیعہ۔ متعہ کسی قسم کا نکاح ہوتا یا کوئی خیرو برکت کی چیز ہوتی تو نکاح کی طرح متعہ کے لیے بھی دعوتی خطوط۔ اور ولیمہ وغیرہ بھی ہونا چاہتے تھا اور اعزاء اوراقارب اور احباب کو نکاح متعہ کی شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا اور ہر طرف سے مبارکباد کی آوازیں آتیں اور سننے والے اس پر آمین کہتے۔ متعہ کو چھپا کر کرنا اور اس کے اعلان کو باعث ندامت سمجھنا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ متعہ شیعوں کے نزدیک بھی جرم ہے جس کو چھپایا جاتا ہے۔ پانچویں اور چھٹی صفت اداء امانت اور ایفاء عہد اور پانچویں صفت یہ ہے کہ جو اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہیں وہ امانت خواہ اللہ کی ہو یا بندوں کی ہو اور چھٹی صفت یہ ہے کہ جو اپنے عہد اور ہیمان کی پوری رعایت اور نگہبانی کرنے والے ہیں امانت میں خیانت نہیں کرتے اور عہد کا پاس رکھتے ہیں عہد اور پیمان کرکے اسے توڑتے نہیں بلکہ اس پر قائم رہتے ہیں۔ آنکھ اور کان اور اعضاء اور جوارح سب اللہ کی امانتیں ہیں ان کو خلاف حکم خداوندی استعمال کرنا امانت میں خیانت کرنا ہے وقال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا اماناتکم ان اللہ یامرکم ان تؤدو الامانات الیٰ اہلہا۔ واوفوا بالعھد ان العھد کان مسؤلا۔ ساتویں صفت نماز کی پابندی اور ساتویں صفت یہ ہے کہ جو اپنی پنجگانہ نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نمازوں سے غفلت نہیں کرتے بلکہ ان پر قائم اور ثابت قدم رہتے ہیں اور اپنے وقت پر ان کو ادا کرتے ہیں۔ شروع کلام میں نماز کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ فلاح کا زیادہ تر دارومدار نماز پر ہے۔ ایسے ہی اہل ایمان جن میں ایمان کے یہ شعبے اور یہ صفتیں جمع ہوں، فردوس بریں کے وارث ہوں گے جو جنت میں سب سے اعلیٰ مقام ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ مریں گے اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہی فلاح اور کامیابی کا بلند ترین مقام ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ سورة مومن ون مکی ہے اور شروع سورت میں جن مومنین مخلصین کی صفات سے فاضل کو بیان کیا گیا ہے اس کے اولین مصادق مہاجرین اولین اور خلفاء راشدین تھے جن کو دینی اور دنیوی فوزو فلاح سے نوازا گیا۔
Ayahs 23:12–30

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنادیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر قادر ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں کے باغ بنائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اگتا ہے

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی نہیں سنی تھی

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اسکے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دئیے جائیں گے

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات بخشی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ پر اتاریو اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

ذکر مبدأ ومعاد۔ و دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... وعلیٰ الفلک تحملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل سعادت اور اہل فلاح کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں ان کے مبداء اور معاد کو بیان کرتے ہیں۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں مومنین مفلحین کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ تھا تو منکرین حشر اس بات کو نہیں مانتے تھے اس لیے آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ابتدائی پیدائش کا حال ذکر فرمایا تاکہ اس کی کمال قدرت ثابت ہو اور قیامت کے لیے دلیل بنے اور انسان کو اپنا مبداء اور معاد معلوم ہوجائے۔ (ربط دیگر) کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور بندگی کو فلاح اور کامیابی کا دار و مدار بتلایا۔ اب آئندہ آیات میں اپنی الوہیت اور وحدانیت کے دلائل بیان کرتے ہیں جس سے عابد کو اپنے معبود کی معرفت کاملہ حاصل ہو اس سلسلہ حق جل شانہ نے چار قسم کے دلائل ذکر فرمائے۔ (اول) انسان کی پیدائش کو اور مختلف اطوار اور ادوار سے سے اس کے گزرنے کو اور پھر مرنے کے بعد اس کے دوبارہ زندہ ہونے کو بیان فرمایا۔ (دوم) آسمانوں کی عجائب صفت کو ذکر فرمایا کما قال اللہ تعالیٰ ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق۔ (سوم) آسمان سے پانی نازل کرنا کما قال اللہ تعالیٰ وانزلنا من السماء ماء بقدر۔ (چہارم) حیوانات مختلفہ الادضاع اور مختلف المنافع کا پیدا کرنا بیان کیا کما قال اللہ تعالیٰ وان لکم فی الانعام لعبرۃ الخ تاکہ ان دلائل سے حق تعالیٰ کی کمال قدرت خوب واضح ہوجائے اور یقین کرلے کہ خدا تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل نہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ قسم اول ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین .... الیٰ .... ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون۔ اور بیشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو نطفہ بنا کر ایک محفوظ قرار گاہ میں یعنی رحم میں رکھا پھر ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون بنایا پھر اس جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا بنایا پھر اس میں روح پھونک کر اس کو ایک نئی صورت میں کھڑا کیا یعنی پھر ہم نے اس کو انسانی صورت و شکل عطا کی جس سے اس کی خلقت اور پیدائش ہی دوسری ہوگئی کہ روح پھونکنے سے وہ حرکت کرنے لگا اور سمجھنے لگا۔ جمادیت سے نباتیت میں داخل ہوا اور پھر نباتیت سے حیوانیت میں داخل ہوا اور پھر حیوانیت سے انسانیت میں داخل ہوا۔ ان عجیب و غریب تغیرات اور انقلابات میں ذرا غور کرو کہ دوسری حالت پہلی حالت سے بالکل مغایر و مباین ہے۔ اور پھر پیدائش کے بعد سے بڑھاپے تک جو تغیرات پیش آتے ہیں وہ سب تمہاری نظروں کے سامنے ہیں تو کیا یہ تغیرات خود بخود پیش آتے ہیں یا کسی بےشعور مادہ اور نیچر کا طبعی اقتضاء ہے یا محض کوئی اتفاقی امر ہے یہ کچھ نہیں بلکہ صرف ایک علیم و قدیر کی کاریگری اور اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے، پس بڑا ہی بزرگ ہے اللہ جو سب کاریگروں میں سب سے بہتر ہے کہ کسی صناع کی صنعت اور کاریگری اس کی صنعت اور کاریگری کو نہیں پہنچ سکتی۔ ع کہ کرد است بر آب صورت گری اس آیت میں ” خالقین “ سے خالق حقیقی کے معنی مراد نہیں تاکہ یہ شبہ کیا جائے کہ خالق حقیقی متعدد ہوسکتے ہیں بلکہ خالق کے معنی صناع اور کاریگری کے ہیں۔ پھر اس پیدائش کے کچھ عرصہ بعد بلاشبہ تم مردہ ہوجاتے ہو اور تمہارا سارا حسن و جمال خاک میں مل جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس پیدائش کے بعد تمہارا انجام موت ہے، پھر تم قیامت کے دن حساب و کتاب کے لیے اسی مٹی سے زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے۔ پہلی پیدائش بھی تمہاری مٹی سے ہوئی تھی اور پھر دوسری پیدائش بھی اسی مٹی سے ہوگی، پس جو ذات اجزاء نطفہ کو انسان بنانے پر قادر ہے وہ اس اجزاء منتشرہ کو جمع کرکے اس میں دوبارہ جان ڈالنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے۔ انسان کا مبداء ہی اس کے معاد کی دلیل ہے جو فلاسفہ حشر اجساد کو ناممکن سمجھتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مبداء ہی کو نہیں سمجھے ہوئے ہیں جو ذات اجزاء نطفہ میں انسان ہونے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کرنے پر قادر ہے وہ انسان کے اجزاء منتشرہ میں دوبارہ انسان ہونے کی استعداد اور صلاحیت پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں پس جب وہ ایک مشت خاک اور قطرہ منی سے ایک زندہ انسان اور متکلم انسان بنانے پر قادر ہے تو ایک زندہ اور متکلم ہستی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اور متکلم بنانا کیا مشکل ہے۔ لہٰذا جو زات تمہاری موت اور حیات کی اور تمہارے وجود اور عدم کی مالک ہے وہی تمہارا خدا ہے جس طرح اس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تم کو وہ دوبارہ مرنے کے بعد پیدا کرے گا۔ اور یقین رکھو کہ تم کیسے ہی توانا اور دانا اور فلسفی اور سائنسدان بن جاؤ مگر انجام تمہارا موت ہے اور سمجھ لو کہ اس جہان کی زندگی اس جہان کی زندگی کا نمونہ ہے، سفر در پیش ہے تیاری کرلو۔ فلسفہ اور سائنس موت سے نہیں بچا سکتا۔ قسم دوم ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق وما کنا عن الخلق غفلین۔ اور البتہ تحقیق ہم نے تمہارے اوپر راستوں والے سات طبق پیدا کیے یعنی سات آسمان پیدا کیے ایک طبقہ کے اوپر دوسرا طبقہ جس میں فرشتوں کی آمدورفت کی راہیں ہیں اور وہ راہیں اس قدر بلند ہیں کہ نگاہیں ان کے ادراک سے قاصر ہیں اور چونکہ آسمان زمین سے پانسو میل کے راہ پر ہے اس لیے دوربین بھی وہاں کام نہیں دیتے اور کسی چیز کا دوربین وغیرہ سے نظر آنا یہ اس شئے کے معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا اور کسی چیز کا محض اس بنا پر انکار کردینا کہ یہ چیز ہمارے دائرہ ادراک اور احساس سے خارج ہے۔ جہالت اور حماقت ہے۔ جب چیزوں کا انسان ادراک کرسکا وہ محدود اور قلیل مقدار میں ہیں اور جن چیزوں تک انسان کی رسائی نہیں ہوئی وہ غیر محدود اور غیر متناہی ہیں اور محدود تجربہ کی بنا پر غیر محدود چیزوں پر حکم لگانا یہ غیر محدود جہالت اور غیر متناہی حماقت کی دلیل ہے۔ اور ہم اپنی مخلوق سے غافل اور بیخبر نہیں آسمان اور زمین کا کوئی حال ہم سے پوشیدہ نہیں یہ تمام کائنات اس کے علم اور قدرت سے قائم اور محفوظ ہیں یہ سب ہماری مخلوق ہے ہم سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ قسم سوم وانزلنا من السماء ماء بقدر .... الیٰ .... وصبغ للاکلین۔ اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کو زمین میں ٹھہرایا تاکہ وہ اپنی تمہاری حیات اور زندگی کا سامان بنے اور جس طرح ہم اس پانی کے نازل کرنے پر قادر ہیں بلاشبہ اسی طرح ہم اس پانی کے لیے جانے پر قادر ہیں کہ زمین کو شک اور بنجر بنا دیں۔ اور تم پیاسے مرجاؤ پھر ہم نے اپنے اس نازل کردہ پانی سے تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ تمہارے لیے ان باغات میں کھجوروں اور انگور اور بھی بہت سے میوے ہیں۔ جن سے تم لذت حاصل کرتے رہو، اور ان باغات میں سے کھاتے بھی ہو اور ہم نے اسی پانی سے تمہارے لیے زیتون کا درخت پیدا کیا جو طور سینا سے بکثرت اگتا ہے جو تیل کو اور کھانے والوں کے لیے سالن کو لے کر اگتا ہے۔ وہ زیتون کا درخت ہے جس سے روغن نکلتا ہے جو سینہ کے امراض کے لیے غایت درجہ مفید ہے اور کھانے والوں کے لیے وہ سالن کا کام دیتا ہے یہ بڑا مبارک درخت ہے جس کے منافع کثیر ہیں اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔ قسم چہارم وان لکم فی الانعام لعبرۃ .... الیٰ .... وعلی الفلک تحملون۔ نباتات کے بعد حیوانات میں اپنی قدرت اور اپنی نعمت کا ذکر کرتے ہیں کہ تم ان کے گوشت اور پوست اور ان کے دودھ سے اور ان کی سواری سے نفع اٹھاتے ہو ان نعمتوں سے اپنے منعم حقیقی کو پہچانو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے لوگو ! تحقیق ان چوپایوں میں تمہارے لیے بڑی عبرت اور نصیحت کا سامان ہے اگر تم ان میں غوروفکر کرو تو خدا کی قدرت کو اور اس کی نعمت کو سمجھ سکتے ہو ہم ان کے پیٹوں میں سے جو خالص دودھ نکالتے ہیں اس میں سے ہم تم کو پلاتے ہیں خدا کی عجیب قدرت ہے کہ وہ خدا فرث اور دم یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے تمہارے لیے ایک نہایت خوش ذائقہ اور خوشگوار اور لذیذ غذا نکالتا ہے جس میں گوبر اور خون کی کوئی آمیزش نہیں ہوتی یعنی دودھ جو تمہاری غذا بھی ہے اور دوا بھی ہے اور کھانا بھی ہے اور پینا بھی ہے سوائے خدا تعالیٰ کے کون ایسا کرسکتا ہے۔ (اس مضمون کی زیادہ تفسیر سورة نحل میں گزر چکی ہے) اور اس کے علاوہ اور بھی تمہارے لیے ان چوپایوں میں بہت سے فوائد ہیں۔ ان کے گھر اور مکھن اور صوف اور اون وغیرہ تمہارے کام آتے ہیں اور یہ جانور تمہارے زراعت میں کام دیتے ہیں اور ان میں سے بعض جانوروں کو تم کھاتے ہو یعنی ان کا گوشت کھاتے ہو اور خشکی میں تم ان جانوروں پر سوار ہوتے ہو اور ان سے بار برداری کا کام لیتے ہو اور تری میں تم کشتیوں پر لدے لدے پھرتے ہو، اور ان پر سوار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہو، یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں اور اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ اب آگے کشتی کی مناسبت سے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جن سے کشتی کی صنعت کا آغاز ہوا اور اس کے بعد دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات دیتے رہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ منکرین توحید اور مکذبین رسل کا کیا انجام ہوا لہٰذا ان کے واقعات سے عبرت پکڑو۔