Ayahs 23:31–41قصہ قوم عاد یا قوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین .... الیٰ .... فبعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی امم سابقہ قصہ بیان کرتے ہیں۔ مگر ان آیات میں اس بات کا ذکر نہیں کہ یہ کسی نبی اور کسی قوم کا ذکر ہے بعض کہتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے۔ یہ قصے پہلے گزر چکے ہیں جن کے مطالب واضح ہیں، چناچہ فرماتے ہیں پھر ہم نے قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد ابتلا اور آزمائش کے لیے دوسری قوم کو پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قوم عاد مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ قوم ثمود مراد ہے پھر ہم نے ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ ہود (علیہ السلام) مراد ہیں یا صالح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اور بدیں حکم بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں پس کیا شرک کرکے تم کو ڈر نہیں کہ تم پر اللہ کا کوئی عذاب آجاوے، یہ تو اللہ کے رسول نے ان کو ہدایت اور نصیحت کی اب آگے ان کی قوم کا جواب مذکور ہوتا ہے اور ان کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات یعنی حشر و نشر کو جھٹلایا تھا اور ہم نے ان کو دولت و ثروت دے کر دنیاوی زندگانی کے عیش و عشرت میں ایسا غرق کردیا تھا کہ اترانے لگے تھے۔ تو ان متکبرین نے اپنے رسول کی بات سن کر یہ کہا کہ نہیں ہے یہ شخص مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے جس چیز سے تم کھاتے ہو اسی سے یہ کھاتا ہے اور جس سے تم پیتے ہو اسی سے یہ پیتا ہے یہ شخص تم سے کس بات میں بڑھا ہوا ہے جو نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر تم اپنے جیسے آدمی کے مطیع اور فرمانبردار بن گئے تو ایسی حالت میں بلاشبہ تم بڑے گھاٹے میں رہو گے یہ ان کافروں کی حماقت تھی کہ آخر دنیا کے حاکم اور سردار بھی تو تمہاری ہی طرح کھاتے اور پیتے ہیں، پھر کیوں ان کی اطاعت کرتے ہو۔ اور اس سے بڑھ کر حماقت یہ کہ اپنے جیسے بشر کی اطاعت کو تو عیب جانا اور شجر اور حجر اور بت کی عبادت کو عیب نہ جانا جو اپنے سے مکھی کو بھی دفع نہیں کرسکتے۔ اپنے سے بدتر پتھروں کے بندے بننے میں تو عار نہ آئی اور بشر کو رسول ماننے سے عار آئی اور باجود آیات بینات کے دیکھنے کے دل ان کی اطاعت پر آمادہ نہ ہوا۔ یہ بات تو کافروں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق کہی کہ اپنے جیسے معمولی آدمی کو اپنا مخدوم اور مطاع بنا لینا بڑی ذلت ہے، اب آگے قیامت کے متعلق اپنا خیال ظاہر کرتے ہیں کہ کیا یہ پیغمبر تم کو اس کا وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈی ہوجاؤ گے تو تم حساب و کتاب کے لیے دوبارہ زندہ کرکے قبروں سے نکالے جاؤ گے بہت بعید ہے۔ بہت بعید ہے وہ بات جس کا تم کو وعدہ دیا جا رہا ہے قیامت کا قائم ہونا اور مردوں کا قبروں سے اٹھنا بعید از عقل و امکان ہے جس کا وقوع کبھی نہیں ہوسکتا۔ نہیں ہے کوئی زندگی مگر یہی ہماری دنیاوی زندگی قدیم سے اسی طرح سلسلہ جاری ہے کہ ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ ہمیشہ اسی طرح جاری رہے گا۔ اور ہم نہیں ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے قبروں سے اٹھائے جائیں یہ شخص تو کچھ بھی نہیں مگر ایک آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یعنی یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور کہتا ہے کہ مرنے کے بعد آدمی دوبارہ زندہ ہوگا۔ یہ سب جھوٹ ہے اور ہم تو ہرگز اس بات کو ماننے والے نہیں اور ہمیں اس شخص کی خبر کا بالکل یقین نہیں۔ اس پر رسول نے کہا اے میرے پروردگار ان کی تکذیب اور عداوت کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ گھبراؤ نہیں۔ عنقریب یہ لوگ اپنے کفر اور تکذیب پر سخت نادم ہوں گے۔ ہم نے ان کو جو مہلت دی ہے وہ ذرا پوری ہوجائے۔ چناچہ جب وہ مہلت پوری ہوگئی تو ایک کرخت آواز نے ان کو وعدہ برحق کے موافق پکڑ لیا کہ جبریل امین (علیہ السلام) نے ایک سخت آواز دی جس سے ان کے دل اور جگر پھٹ گئے پس ہم نے ان کو خس و خاشاک کی طرح ریزہ ریزہ کردیا۔ پس پھٹکار ہو ظالموں پر۔ جس طرح سیلاب خس و خاشاک کو بہالے جاتا ہے، اسی طرح عاب الٰہی کا سیلاب ان کو بہا کرلے گیا اور اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔
فائدہ : فاخذتھم الصیحۃ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ قوم ثمود کا ہے اس لیے کہ صیحہ یعنی کرخت آواز اور چنگھاڑ سے وہی لوگ ہلاک کیے گئے۔ (واللہ اعلم)
Ayahs 23:42–44قصہ بعض ایگر امم سابقہ بطریق اجمال
قال اللہ تعالیٰ ثم انشانا من بعدھم قرونا اخرین .... الیٰ .... فیعدا لقوم لا یؤمنون۔
(ربط) ان آیات میں اجمالاً حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب اور حضرت یونس اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصوں کی طرف اشارہ ہے چناچہ ان سب کا قصہ اسی ترتیب کے ساتھ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ پھر قوم عاد یا ثمود کے ہلاک ہونے کے بعد ہم نے دوسری امتیں پیدا کیں انہوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور مدت مقررہ پر ہلاک ہوئی۔ کوئی امت اپنی میعاد ہلاکت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ سکتی ہے بلکہ ٹھیک اس وقت ہلاک ہوئے جو خدا نے ان کے لیے مقرر کردیا تھا پھر ان کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا تو ہم نے بھی ان کو ہلاکت میں ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا۔ یعنی تباہی اور بربادی میں ان کا تانتا باندھ دیا اور ہلاک ہونے والوں کا نمبر لگایا اور ان کی پچھلی امتوں کے لیے قصہ اور افسانہ بنا دیا وہ تو ختم ہوئے اور ان کی داستانیں عبرت کے لیے باقی رہ گئیں پس لعنت اور پھٹکار ہو ایسی قوم پر جو ایمان نہیں لائی جو ایمان لایا وہ اللہ کی رحمت سے قریب ہوا۔ اور جس نے کفر کیا وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوا۔
Ayahs 23:45–49قصہ موسیٰ و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالیٰ ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون .... الیٰ .... لعلہم یھتدون۔
(ربط) ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حال اور فرعون اور اس کی قوم کی تکذیب اور ان کا غارت ہونا بیان کیا، چناچہ فرماتے ہیں پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دے کر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے حق کے سامنے جھکنے پر تیار نہ ہوئے تو بولے۔ تو کیا ہم نے اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی کل قوم ہماری غلام اور تابعدار رہی ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ان کے تابعدار بنیں پس فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون دونوں کی تکذیب کی پس ہوگئے وہ غارت شدہ لوگوں میں سے۔ اس تکذیب کہ وجہ سے بحر قلزم میں غرق کر دئیے گئے اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب یعنی تورات عطا کی تاکہ بنی اسرائیل ہدایت پاویں اور احکام شریعت پر عمل کرکے خدا تعالیٰ تک پہنچیں۔
Ayah 23:50قصہ مریم وعیسیٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ وادینھما الیٰ ربوۃ ذات قرار و معین۔
(ربط) اس آیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم صدیقہ (علیہ السلام) کا نہایت اختصار کے ساتھ حال بیان کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا اور بغیر باپ کے ان کو پیدا کیا چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو اور ان کی ماں مریم (علیہ السلام) کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا کہ مریم (علیہ السلام) کے بغیر شوہر بچہ جننے سے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے خدا تعالیٰ کی قدرت عیاں ہے اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند اور اونچی زمین پر ٹھکانہ دیا جو ٹھہرنے کے قابل تھی اور چشموں والی تھی یعنی سرسبز و شاداب تھی جہاں پانی کے چشمے جاری تھے۔ یہ مقام شام یا فلسطین میں واقع ہے غالبا اس سے وہ ٹیلہ مراد ہے جہاں یا جس کے قریب حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تھی اور آپ نے اس پر پناہ لی تھی۔ قادیان کے دھقان اول تو یہ کہتے ہیں کہ ربوہ سے کشمیر مراد ہے اور اب ان لوگوں نے اپنی ایک خاص آبادی کا نام ہی ربوہ رکھ لیا ہے جو کھلی ڈھٹائی اور بےحیائی ہے، اب اگر کوئی دیوانہ دو مسجدیں بنائے اور ایک کا نام مسجد حرام اور دوسری کا نام مسجد اقصی رکھے تو بلا شبہ مجنون اور دیوانہ ہے اور جو اس کو مانے وہ اس سے بڑھ کر خبطی اور دیوانہ ہے۔ ایبٹ آباد اور کوہ مری میں سرسبز ٹیلوں کی کیا کمی ہے۔ ممکن ہے کہ وہاں بھی کوئی اس قسم کا خطبی پیدا ہوجائے اور دعویٰ کرنے لگے کہ میں بھی مسیح موعود ہوں اور یہ میرا ربوہ ہے۔
Ayahs 23:51–56اتحاد رسل دربارہ حکم توحید وتقویٰ واکل حلال و محاسن اعمال
وتحذیر تخویف از مخالفت پیغمبران و ذم، متکبرین و ہوا پرستاں
قال اللہ تعالیٰ ۔ یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا .... الیٰ .... بل لا یشعرون۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں انبیاء و رسل کے واقعات بیان کئے جن میں یہ بیان تھا کہ تمام انبیاء و رسل توحید وتقویٰ اور ایک خدا نے برحق کی عبادت کے داعی تھے، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کی دعوت بھی تمام انبیاء کا دین ہے اور یہی تمام پیغمبروں کی راہ ہے اور سب رسولوں نے اس کی تعلیم دی لیکن متکبرین اور ہوا پرستوں نے نفسانی خواہشوں کی بنا پر پیغمبروں کی مخالفت کی اور دین کو پارہ پارہ کیا اور ہر ایک نے اپنا دین جدا جدا بنا لیا اور جس فرقہ نے جو طریقہ نکال لیا وہ اس پر ریجھ رہا ہے خوب سمجھ لو کہ ہر زمانہ میں اللہ نے ہر رسول کو یہی حکم دیا ہے مگر ان کی امتوں نے اس میں اختلاف کیا اور مال و دولت کے نشہ میں اپنے تراشیدہ خیالات اور نفسانی خواہشوں کے پیروبن گئے اور نئے نئے مذاہب نکال لیے۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) میں اختلاف نہیں البتہ تمہاری نفسانی خواہشیں مختلف ہیں اور یہی خرابی کا باعث ہیں۔ ان لوگوں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی پیروی کو تو برا سمجھا اور اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی ان کو لذیز معلوم ہوئی اس لیے مختلف فرقے بن گئے اور ہر فرقہ اپنے زعم پر نازاں اور فرحاں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتلا دیا کہ لوگوں کو چاہئے کہ حق کا اتباع کریں اور اپنی نفسانی خواہش کا اتباع نہ کریں، بالفرض اگر حق لوگوں کی نفسانی خواہشوں کے تابع ہوجائے تو آسمان و زمین تباہ ہوجائیں۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ جس چیز پر تمام انبیاء متفق رہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑیں اور اس پر عمل کریں اور جن لوگوں نے نفسانی خواہشوں کا اتباع کیا ان کے طریقہ پر نہ چلیں اس لیے ان آیات میں سے اختلاف کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر زمانہ میں پیغمبروں کو یہ حکم دیا کہ اے رسولو ! تم پاکیزہ چیزیں کھایا کرو اور کہا کہ اللہ کا شکر کیا کرو اور شریعت کے مطابق نیک کام کیا کرو۔ بیشک میں تمہارے اعمال سے پورا باخبر ہوں۔ یعنی اللہ نے ہر زمانہ میں اپنے رسولوں کو یہ حکم دیا کہ جو چیزیں اللہ کے نزدیک پاکیزہ یعنی حالال ہیں وہ کھاؤ اور حرام سے بچو اور نیک عمل کرو۔ اکل طیبات کے حکم میں اشارہ اس طرف ہے کہ دین اسلام میں رہبانیت نہیں اور نصاریٰ کی طرف تعریض ہے کہ وہ ترک لذائذ و طیبات کو قرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر رد فرمایا اور قرب الٰہی کا دارومدار توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور حسن اعمال پر ہے اور ان باتوں پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے نیز اس حکم میں اشارہ اس طرد بھی ہے کہ کھانا اور پینا نبوت کے منافی نہیں۔ کفار یہ کہتے تھے کہ پیغمبر ہماری طرح کھاتے اور پیتے ہیں ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے کہ جو ہم ان کی اطاعت کریں جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں گزرا۔ فقال الملوا الذین کفر وا من قومہ ماھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم اس لیے بتا دیا کہ فضیلت کا دارومدارتوحید اور اعمال صالح پر ہے اور اکل حلال اعمال میں ممدار معاون ہے اور کھانا پینا لوازم بشریت میں سے ہے نبوت کے منافی نہیں۔
اور اے رسول ! تحقیق یہ ہے کہ تمہاری ملت ہے یعنی پر ملت میں توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور نیک اعمال کا حکم ہے تم سب کا دین ایک ہے اگرچہ شریعتیں مختلف ہیں۔
یا یہ معنی ہیں کہ اے گر دہ انبیاء تم سب ایک جماعت ہو۔ ایمان اور توحید اور تقویٰ اور اکل حلال اور صدق مقال اور نیک افعال پر تم سب متفق ہو۔ لفظ امت جس طرح جماعت پر بولا جاتا ہے اسی طرح جماعت کے دین اور ملت پر بھی بولا جاتا ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ انا وجدنا اناء نا علی امۃ (ای علیٰ دین وملۃ) لہٰذا اس آیت میں لفظ امت سے ملت کے معنی مراد لینا بھی صحیح ہے اور جماعت مراد لینا بھی صحیح ہے۔ اور میں ہی تنہا تمہارا رب ہوں سو مجھ سے ہی ڈرو اور میرے سوا کسی طرف نظر نہ کرو پس لوگوں کو چاہئے تھا کہ سب اسی ایک دین اور ایک ملت پر متفق ہوجاتے لیکن لوگ دین کے بارے میں مختلف اور متفرق ہوگئے اور آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور خوب اختلاف کیا اور ہر ایک نے اپنا دین الگ الگ بنا لیا اور ہر فرقہ اور گروہ اس دین پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے ہر فرقہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور اس پر خوش اور ناداں ہے حالانکہ از اول تا آخر سب غلط ہے۔ اور گمراہی ہے پس اے نبی آپ ﷺ کو ان جاہلوں سے جھگڑنے کی ضرورت نہیں آپ ان کو ایک زمانہ تک ان کی غفلت اور جہالت میں چھوڑ دیجئے وقت آنے پر ان کو اپنی جہالت کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔ خدا تعالیٰ کی ڈھیل کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہیں کیا ان منکرین کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو جو کچھ مال اور اولاد سے مدد دیتے چلے جا رہے ہیں تو کیا ہم ان کے لیے بھلائیں کو پہنچانے میں جلدی کر رہے ہیں اور طرح طرح سے ان کو نفع پہنچا رہے ہیں۔ یہ بات نہیں بلکہ وہ سمجھے نہیں کہ بات کیا ہے۔
یہ لوگ مال و اولاد کی کثرت کو اپنی فضیلت کی دلیل سمجھے ہوئے ہیں۔ بات یہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت استدراج ہے خدا کی طرف سے ڈھیل دی جا رہی ہے تاکہ ناؤ پوری بھر کر ڈوبے مگر کافر اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حق تعالیٰ نے کافروں کو خوب کھانے پینے کو دیا۔ کھا پی کر مست ہوگئے اور سمجھے کہ ہم اللہ کے چہیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا بلیٰ لا یشعرون یعنی یہ لوگ اللہ کے چہیتے نہیں بلکہ خدا کے نزدیک مثل بہائم کے ہیں، سمجھتے نہیں کہ ہم کو یہ چارہ اور گھانس دانہ کیوں خوب دیا جا رہا ہے۔ مقصود ذبح کرنا ہے۔
Ayahs 23:57–61ذکر صفات اہل صدق و ایمان
قال اللہ تعالیٰ ان الذین ہم من خشیۃ ربھم مشفقون .... الیٰ .... وھم لہا سبقون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان اہل جہالت و ضلالت کا ذکر تھا کہ جو شرور اور معاصی میں مسارعت کرنے والے تھے اب ان آیات میں ان اہل صدق اور اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہیں کہ جو خیرات اور اعمال صالحہ میں مسارعت کرنے والے ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ صفتیں بیان فرمائیں۔
(1) اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (2) اللہ کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ (3) شرک نہیں کرتے۔ (4) نیکیاں کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ان کو اپنے ایمان اور عمل پر ناز نہیں بلکہ ان کو ہر وقت اس بات کا خوف لگا رہتا ہے کہ معلوم نہیں کہ ہمارا عمل قبول ہوگا یا نہیں۔ (5) ان کو آخرت کا یقین ہے ایسے لوگ حق تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور محبوب ہیں اور سابقین اولین میں سے ہیں۔
چناچہ فرماتے :۔
(1) تحقیق جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں حق جل شانہ کی خشیت اور اس کی عظمت وہیبت نے ان کو مضطرب اور بےچین بنا رکھا ہے۔
(2) اور وہ لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
(3) اور وہ ایسے مخلص ہیں کہ وہ اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ سرتاپا اخلاص اور صدق ہیں ان کی عبادت جلی اور خفی شرک اور ریاء اور نفاق کے شائبہ سے پاک ہے۔
(4) اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ دیتے ہیں خدا کی راہ میں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور باوجود اس کے ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کی خیرات و صدقات یا ان کے اعمال خیر رد نہ ہوجائیں اور آخرت میں ان کو نفع نہ دیں۔
(5) اور خوف کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یقین ہے کہ وہ بلاشبہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں یعنی ان کو قیامت کا یقین ہے۔ ایسے ہی لوگ جو ان صفات کے ساتھ موصوف ہیں نیکیوں بھلائیوں میں دوڑتے ہیں یعنی بصدق شوق ورغبت اعمال صالحہ کو بجا لاتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کوئی اطاعت ان سے نہ رہ جائے اور نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور سب سے آگے نکل جانے والے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے حق تعالیٰ کی سعادت سابق ہوچکی ہے۔
Ayahs 23:62–67ترغیب بر اعمال خیر وبیان حال و مآل اہل طغیان
قال اللہ تعالیٰ ولا نکلف نفسا الا وسعھا .... الیٰ .... سمرا تھجرون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں جن اعمال خیر کی مدح فرمائی تھی اب ان آیات میں ان کی ترغیب دیتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ وہ افعال و اعمال جو خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اور جن لوگوں کو ان نیکیوں کی طرف رغبت نہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ احکام اسلام سخت اور دشوار ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جب خدا کا عذاب دیکھتے ہیں تب ہوش آتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جن اعمال خیر میں اہل ایمان مسارعت اور مسابقت کر رہے ہیں، یہ اعمال کچھ دشوار نہیں بلکہ آسان ہیں اس لیے کہ ہم کسی شخص کو اس کی وسعت اور طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ مثلاً جو شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے وہ بیٹھ کر پڑھ لے وغیرہ وغیرہ یعنی ہم بندہ کو اسی کام کا حکم دیتے ہیں جس کی وہ قدرت اور طاقت رکھتا ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے یعنی ہر شخص کا نامہ اعمال ہمارے پاس محفوظ ہے جو قیامت کے دن لوگوں کا حال سچائی کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بیان کر دے گی خلاف واقع اس میں کچھ نہیں لکھا ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ بایں طور کر جو انہوں نے نہیں کیا وہ لکھ دیا جائے اور جو کیا ہے اس کو نہ لکھا جائے ” کتاب “ سے اس جگہ انمہائے اعمال مراد ہیں جن کو قیامت کے دن خود پڑھ لیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ھذا کتابنا ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون اور نطق سے مراد بیان اور اظہار ہے اور مطلب یہ ہے کہ نامہ اعمال قیامت کے دن تمہارے سب کاموں کو ٹھیک ٹھیک بتلا دے گا اور بدون کمی اور زیادتی تمہارے اعمال کو ظاہر کر دے گا کوئی بات اس میں خلاف واقع نہ ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ کہ حق تعالیٰ نے نامہائے اعمال کی شہادت کے متعلق جو خبر دی ہے وہ حق اور صدق ہے کفار یہ باتیں سن کر خیرات یعنی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف رغبت نہیں کرتے بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت اور حیرت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے سوائے کفر اور شرک اور نکار قرآن کے اور بھی برے عمل ہیں جن کو یہ کرتے رہتے ہیں اور اسی طرح برابر شک اور غفلت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم ان کے دولتمند اور آسودہ حال لوگوں کو آفت اور مصیبت میں پکڑیں گے تو فوراً بلبلائیں گے۔ اور اگر یہ وزاری کریں گے اس وقت غفلت کا پردہ آنکھوں سے اٹھے گا اور غرور و نخوت کا سارا نشہ کافور ہوجائے گا اس وقت ان کو ہماری طرف سے یہ کہا جائے گا آج تم بلبلاؤ نہیں اس میں شک نہیں آج تم ہماری طرف سے مدد نہ دئیے جاؤ گے یعنی تمہارا یہ بلبلانا اور گڑگڑانا بےسود ہے اور تم ہمارے عذاب سے رہائی نہیں پاؤ گے۔ کیونکہ تم پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو تم ان کو حقارت اور نفرت سے سنتے تھے اور تم اپنی ایڑیوں پر لوٹ جاتے تھے تکبر کرتے ہوئے اور اکڑتے ہوئے اور قرآن کو افسانہ اور مشغلہ بناتے ہوئے اور قرآن اور صاحب قرآن کی شان میں بیہودہ باتیں بکتے ہوئے افسوس کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں جو قرآن سے اعراض کریں اور افسانوں اور ناولوں مشغول رہیں۔