23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 23:68–77

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

بیان اسباب جہالت و ضلالت متکبرین و معرضین قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یدبرو القول .... الیٰ .... اذا ہم فیہ مبلسون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں متکبرین کی جہالت اور ضلالت کا اجمالی بیان تھا، اب ان آیات میں ان کی جہالت اور ضلالت کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کرکے ان کا رد فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ کن وجود اور اسباب کی بنا پر کفر اور انکار پر آمادہ ہوئے ان آیات میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ان پانچ باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے۔ (1) یا تو یہ وجہ ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کیا جو آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔ اور ہر شان میں توریت اور انجیل سے کہیں بلند اور برتر ہے اور فصحاء عالم اس کے معارضہ سے عاجز ہیں۔ (2) یا یہ وجہ ہے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کی بعثت کو بدعت اور امر غریب جانا۔ (3) یا یہ وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے حال سے اور آپ ﷺ کے صدق اور امانت سے واقف نہیں کہ امی ہیں۔ پڑھا لکھا کچھ نہیں مگر علم اور حکمت کے چشمے ان کی زبان فیض ترجمان سے جاری ہیں ذرا غور تو کریں۔ (4) یا یہ وجہ ہے کہ ان لوگوں کا اعتقاد یہ ہے کہ معاذ اللہ حضور پرنور ﷺ مجنون اور دیوانہ ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ حضور پرنور ﷺ تو عقل مجسم ہیں جس نے آپ ﷺ کو سیکھ لیا گویا اس نے عقل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ (5) یا یہ وجہ ہے کہ ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ان لوگوں سے کچھ مالی منفعت کے امیدوار اور طلب گار ہیں۔ حق جل شانہ نے کفار کی ان باتوں کو نقل کرکے سب کا جواب دیا اور بتلا دیا کہ ان کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ یہ نہیں کہ یہ لوگ قرآن کریم کے ظاہری اور معنوی اعجاز سے واقف نہیں یا آپ کی صداقت اور امانت سے یا آپ کی فہم و فراست سے واقف نہیں یا آپ کو پہچانتے نہیں یا آپ ان سے کسی مالی منفعت کے امیدوار ہیں ان میں سے انکار کی کوئی بھی وجہ نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ حسد اور بغض کی وجہ سے انکار کرتے ہیں اور غرور اور تکبر کی وجہ سے حق کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں اور بجائے اس کے کہ وہ حق کا اتباع کریں چاہتے یہ ہیں کہ حق ان کی خواہشوں کے تابع ہوجائے، بالفرض اگر حق ان کی خواہشوں کے تابع ہوجائے تو کارخانہ عالم درہم برہم ہوجائے۔ یہ لوگ بڑے سرکش ہیں بغیر کسی عذاب اور بلاء آسمانی کے حق کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ (دیئکھو حاشیہ شیخ زادہ علیٰ تفسیر البیضاوی ص 407 ج 3 و حاشیہ صاوی علی تفسیر جلالین) چناچہ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ جو قرآن اور صاحب قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں اور کفر اور انکار پر تلے ہوئے ہیں آخر اس کا کیا سبب ہے پس یا تو اس کی تکذیب کی وجہ (1) یہ ہے کہ انہوں نے اس قرآن میں غور نہیں کیا تاکہ قرآن کا لفظی اور معنوی اعجاز ان پر ظاہر ہوجاتا اور جان لیتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور سرتاپا حق اور صدق ہے اور دلائل توحید اور دلائل نبوت پر مشتمل ہے۔ یا تکذیب کی وجہ (2) یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی انوکھی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی تاکہ یہ عذر کریں کہ ہمیں کتاب اور پیغمبر کی کوئی خبر ہی نہیں ان سے پہلے پیغمبر بھی آچکے ہیں اور ان پر اللہ کی کتابیں بھی نازل ہوچکی ہیں۔ یا تکذیب کہ وجہ (3) یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا اور اس کی امنات اور صداقت اور فہم و فراست کو نہیں جانا پس اس لیے وہ اس کے منکر ہیں۔ سو یہ غلط ہے یہ سب لوگ آپ ﷺ کو اور آپ کے حسب و نسب کو اور صدق و راستی اور امانت کو پہچانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔ پھر انکار کی کیا وجہ۔ سوائے حسد کے کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اور علماء بنی اسرائیل تو آپ ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم اور ہرقل شاہ روم کا آپ ﷺ کے حسب و نسب اور صدق اور امانت کے متعلق سوال کرنا اور ابو سفیان ؓ کا جواب دینا معروف و مشہور ہے۔ یا تکذیب کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کو جنون ہے سو یہ امر بالکل مشاہدہ کے خلاف ہے جن مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کے ساتھ آپ ﷺ آراستہ ہیں اور جن کا آپ ﷺ دوسروں کو حکم دیتے ہیں یہ سب آپ ﷺ کے کمال عقل اور کمال حکمت کی روشن دلیل ہے اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی باتوں کو جنون اور دیوانگی بتلانا یہ خود جنون اور دیوانگی ہے یہ سب باتیں غلط ہیں بلکہ تکذیب کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ نبی ان کے پاس حق بات لے کر آیا ہے جس کی صحت اور حسن اور خوبی میں کسی عاقل کو کلام نہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ حق سے متنفر اور بیزار ہیں کیونکہ وہ حق بات ان کی نفسانی خواہشوں اور طبعی آرزوؤں کے خلاف ہے اور نفس پرستوں کا کسی چیز سے ناخوش ہونا بھی اس کے حق ہونے کی دلیل ہے عقل کا فتویٰ یہ ہے کہ حق کا پیرو بنے اور اپنی نفسانی خواہشوں کو حق کے تابع کر دے۔ اور اگر بالفرض حق ان کی نفسانی خواہشوں کے تابع ہوجائے تو آسمان و زمین اور جو کوئی ان میں ہے۔ سب تباہ و برباد ہوجائیں یہ کارخانہ عالم عجیب و غریب حکمتوں اور مصلحتوں پر چل رہا ہے اور لوگوں کی خواہش اور اغراض مختلف ہیں اور عالم میں جو بھی فساد ہے وہ نفسانی خواہشوں کی بنا پر ہے پس ہم نے ان کو ایسی چیز نہیں دی جو ان کی تباہی اور بربادی کا سبب بنے بلکہ ہم ان کے پاس ان کی نصیحت کی چیز لائے ہیں۔ یعنی ان کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جس میں ان کے لیے وعظ و نصیحت ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہم ان کے پاس ان کی عزت اور شرف کی چیز لائے ہیں پس وہ لوگ اپنی نصیحت کی چیز سے یا اپنی عزت و شرف کی چیز سے منہ موڑنے والے ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنی نصیحت سے اور اپنی عزت اور شرف کی چیز سے روگردانی سخت حماقت ہے۔ یا تکذیب کی وجہ (5) یہ ہے کہ آپ ان سے کچھ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں یا تبلیغ رسالت پر آپ ان سے اجرت چاہتے ہیں اس وجہ سے آپ ﷺ پر حرص اور طمع کی تہمت رکھتے ہیں پس ان لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ ان کی اجرت کی اور ان کے مال و دولت کی ذرہ برابر ضرورت نہیں تیرے پروردگار کا مال و دولت اور اس کا عطیہ سب سے بہتر ہے، آسمان و زمین کے خزانے تیرے پروردگار کے ہاتھ میں ہیں اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے آپ ﷺ ان سے کیا اجرت مانگتے، آپ ﷺ تو علی الاعلان فرماتے تھے قل لا اشالکم علیہ اجرا۔ قل ما اسالکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین۔ اور تحقیق آپ ﷺ تو ان کو سیدھے راستہ کی دعوت دیتے ہیں آپ ﷺ کا مقصود تو آخرت ہے معاذ اللہ اجرت آپ ﷺ کا مقصود نہیں اور آپ ﷺ کی راہ ایسی سیدھی ہے کہ تمام عقول سلیمہ گواہی دیتی ہیں کہ وہ راہ راست ہے، اس میں کسی طرح کی کجی نہیں۔ اور تحقیق جو لوگ دنیا کی لذتوں پر فریفتہ ہیں اور آخرت کے راستہ سے بھاگ رہے ہیں اور آنکھ بند کرکے دنیا کے راستہ پر چلے جا رہے ہیں۔ اور طرح طرح کی آسمانی آفتیں اور مصیبتیں سامنے آرہی ہیں مگر ہوش میں نہیں آتے۔ اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور قحط کی تکلیف اور سختی جو ان پر پہنچ رہی ہے اس کو دور کردیں تو تب بھی احسان نہ مانیں اور برابر اپنی سرکشی میں سرگرداں رہیں اور مصیبت کے وقت جو خدا سے وعدے کیے تھے وہ سب طاق نسیان میں رکھ دئیے۔ کما قال اللہ تعالیٰ واذا مس الانسان الضر دعانا۔ وقال اللہ تعالیٰ اذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ اور البتہ تحقیق ہم نے ان کو بعض اوقات آفت اور مصیبت اور سختی میں بھی پکڑا۔ پھر بھی یہ سرکش اپنے رب کی طرف نہ جھکے اور نہ نرم پڑے اور نہ عاجزی اور زاری کی بلکہ برابر اپنی غفلت میں غرق رہے اور کفر اور مخالفت پر جمے رہے یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھولا تو فوراً اس میں ناامید اور آس توڑنے والے ہوگئے اور دل کی ساری امیدیں ختم ہوئیں۔
Ayahs 23:78–92

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

تذکیر انعامات و ذکر دلائل قدرت برائے اثبات قیامت قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشالکم السمع والابصار والافئدۃ .... الیٰ .... فتعلیٰ عما یشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اسباب جہالت و ضلالت کا بیان تھا اور ان سب کا اصل منشاء حشر و نشر کا انکار تھا کہ یہ لوگ جزاء اور سزا اور قیامت کے قائل نہ تھے۔ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنی نعمتوں کو یاد دلاتے ہیں تاکہ اس کا شکر کریں اور اپنی قدرت کاملہ کے آثار کو ذکر کرتے ہیں تاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے میں شک نہ کریں اور قیامت اور جزاء اور سزا پر ایمان لے آئیں کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں اس کے نزدیک مردوں کا زندہ کرنا کیا بڑی بات ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے چار دلائل بیان فرمائے جو دلائل وحدانیت بھی ہیں اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ دلیل اول اور وہ اللہ وہ ہے جس نے پیدا کئے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل۔ اگر حق تعالیٰ تمہارے لیے یہ اعضاء پیدا نہ کرتے تو تم نہ سن سکتے اور نہ دیکھ سکتے۔ اور نہ سمجھ سکتے ان کے بغیر زندگی موت سے بدتر ہے تم کو یہ عجیب و غریب نعمتیں اس لیے عطا کیں کہ تم خدا کا خوب ہی شکر کرو۔ لیکن تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو تو کیا ایسا ناشکرا اس کے مستحق نہیں کہ اس پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا جائے۔ دلیل دوم اور وہ ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور پھیلایا اور تمہاری حاجتوں اور ضرورتوں کو زمین میں بکھیر دیا کہ ان کے لیے ادھر سے ادھر جا رہے ہو اور پھر قیامت کے دن اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے اور تم سے سوال ہوگا کہ تم نے ہماری نعمتوں کا کیا شکر کیا۔ یہ خدا کی رحمت اور نعمت بھی ہے اور کرشمہ قدرت بھی ہے۔ دلیل سوم اور وہ وہ ہے جو چلاتا ہے اور مارتا ہے یعنی موت اور حیات اور تمہارا وجود اور عدم سب اس کے ہاتھ میں ہے۔ دلیل چہارم اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے دن رات کی آمدورفت یعنی ان کا روشنی اور تاریکی میں مختلف ہونا اور ان کا گھٹنا اور بڑھنا یہ سب اسی کے ارادہ اور اختیار سے ہے سو کیا تم سمجھتے نہیں کہ یہ کارخانہ کسی قادر مختار کے اختیار سے جا رہی ہے اور کیا ان دلائل قدرت کو دیکھ کر بھی بعث اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہو، لیکن ان لوگوں نے اس عجیب و غریب کرشمہ کو دیکھ کر عقل سے کام نہیں لیا بلکہ انہوں نے وہی بات کہی جو اگلوں نے کہی تھی۔ عقل کو تو بالائے طاق رکھ دیا اور بولے بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ان کا یہ کلام خالی خایل ہی خیال تھا کوئی دلیل عقلی نہ تھی جس سے دوبارہ زندگی کا محال ہونا معلوم ہو اور بولے یہی وعدہ یعنی دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادوں کے ساتھ کیا جاتا رہا۔ مگر ہم نے اس کی کوئی اصلیت نہیں دیکھی اور اب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ یہ تو کچھ بھی نہیں صرف اگلوں کے افسانے اور من گھڑت قصے ہیں، انہی کی نقل یہ نبی بھی کرتا ہے۔ اے نبی آپ ﷺ ان منکرین بعث سے جو مٹی سے انسان کے پیدا ہونے کو محال سمجھتے ہیں یہ سوال کیجئے کہ اچھا یہ بتلاؤ کہ یہ زمین اور جو مخلوق اس میں آباد ہے وہ کس کی ملک ہے اور کون اس کا خالق اور موجد ہے اگر جانتے ہو تو بتلاؤ۔ عنقریب مجبور ہو کر یہی کہیں گے کہ سب زمین مع اپنی مخلوقات اور عجائبات کے اللہ ہی کی ملک ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے پس جب وہ یہ اقرار کرلیں تو آپ ان سے یہ کہیں کہ پھر دھیان کیوں نہیں کرتے یعنی جب تم اس کو ابتداء خالق مانتے ہو تو دوبارہ پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں مانتے نیز آپ ان منکرین بعث سے یہ بھی دریافت کیجئے کہ اچھا بتلاؤ کہ سات آسمانوں کا پروردگار اور عرش عظیم کا پروردگار کون ہے۔ سو اس کے جواب میں بھی ضرور وہ یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ ہی کا ہے تو پھر آپ ﷺ ان سے یہ کہئے کہ پھر تم خدا سے ڈرتے کیوں نہیں کہ تم اس کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز بتلاتے ہو، جس ذات کی قدرت کی یہ شان ہو اسے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے نیز اے نبی آپ ان منکرین بعث سے یہ بھی دریافت کیجئے کہ بتلاؤ کہ وہ کون ہے کہ جس کے ہاتھ میں ہر شئے کی بادشاہی اور حکومت ہے اور اس کے ہاتھ میں ہر شے کا اختیار ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے پناہ دیتا ہے اور اس کے برخلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ بتلاؤ اگر تم کچھ جانتے ہو وہ اس کے جواب میں بھی یہی کہیں گے کہ سب صفتیں تو اللہ ہی کے لیے خاص ہیں تو آپ ان سے یہ کہیئے کہ اچھا بتلاؤ کہ پھر تم کہاں سے جادو کر دئیے گئے ہو یعنی ان واضح دلائل کے بعد تمہاری عقلیں کہاں چلی گئیں کہ اس کی قدرت میں شک کرنے لگے اور اس کی وحدانیت میں شرک کرنے لگے اور باوجود اس علم اور اقرار کے اس کے غیر کو پوجنے لگے (خوب سمجھ لو کہ اللہ ایک ہے اور بعث حق ہے اور یہ اساطیر الاولین نہیں بلکہ ہم ان کے پاس حق اور صدق لے کر آئے ہیں۔ اس کے حق اور سچ ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور بلاشبہ یہ مشرکین ہی جھوٹے ہیں جو خدا کے لیے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل اور برہان نہیں اللہ تو وحدہ لاشریک ہے کوئی اس کا ہم جنس نہیں اس لیے کہ اللہ نے کسی کا اولاد نہیں ٹھہرایا۔ نہ بیٹا اور نہ بیٹی اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہے بالفرض اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو الگ لے جاتا یعنی خدائی تقسیم ہوجایے اور ہر خدا اپنی مخلوق کو دوسرے خدا کی مخلوق سے جدا کرلیتا تاکہ اس کی قدرت اور سلطنت کا علم ہو اور لوگ جانیں کہ یہ فلانے خدا کی مخلوق ہے اور ہرگز پسند نہ کرتا کہ اس کی مخلوق دوسرے خدا کی مخلوق کے ساتھ رل مل جاوے۔ اس لیے کہ جب دو خدا ہوتے تو ان کی مخلوق بھی دو حصوں میں منقسم ہوتی اور ہر ایک خدا اپنی سلطنت اور ملکیت کو علیحدہ کرلیتا تاکہ دوسرا خدا اس خدا کی حدود ملکیت و سلطنت میں مداخلت کے ساتھ رل مل جائیں۔ ہر کارخانہ کا نشان اور مہر الگ ہوتی ہے تاکہ اس کارخانہ کی چیز دوسرے کارخانہ کی چیز سے ملتبس نہ ہو سکے۔ غرض یہ کہ ایک خدا کبھی اس پر راضی نہیں ہوسکتا کہ دوسرا خدا اس کی ملک اور اس کے ملک میں شریک اور دخیل ہوسکے اور ایک خدا ہرگز یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کی مخلوق دوسرے کی طرف منسوب ہو سکے، تمام دنیا کی سلطنتوں کا قاعدہ ہے کہ ایک بادشاہ کی حدود سلطنت دوسرے بادشاہ کی حدود و سلطنت سے جدا اور ممتاز ہوتی ہیں اور ہر سلطنت کا امتیازی نشان علیحدہ ہوتا ہے پس اسی طرح اگر دو خدا ہوتے تو ہر ایک کی مخلوق اور ہر ایک کی حدود سلطنت دوسرے سے جدا اور ممتاز ہوتے۔ لیکن مخلوقات میں کوئی علامت فرق کی نظر نہیں آتی کہ یہ مخلوق اس خدا کی ہے اور وہ مخلوق اس خدا کی ہے معلوم ہوا کہ خدا ایک ہی ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں اور اگر دو خدا ہوتے تو آخر کار ان دو خداؤں میں لڑائی اور جھگڑا ہوتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا اور ہر ایک اپنا غلبہ چاہتا۔ اور اپنی جمعیت اور طاقت فراہم کرکے دوسرے پر ہلہ بول دیتا اور پھر اس لڑائی میں لامحالہ ایک دوسرے پر غالب آتا اور روز آور کمزور کا دبا لیتا۔ اور اس کا ملک اس سے لے لیتا اور دوسرا مغلوب ہوجاتا، جیسا کہ لڑائی کا انجام ہے۔ اور جو مغلوب ہوجاتا وہ خدائی کے قابل نہ رہتا اور جو ایک غالب ہوتا وہی خدا ہوتا اور ظاہر ہے کہ دو خداؤں کی لڑائی سے نظام عالم درہم برہم ہوجاتا اور سار جہاں تہ وبالا ہوا جاتا اور دو خداؤں کی جنگ میں عالم کا یہ محکم نظام ایک دن بھی قائم نہ رہتا۔ مگر سب دیکھتے ہیں کہ نظام عالم میں کوئی خلل اور فساد نہیں۔ اور نہ کوئی علامت فرق کی نظر آتی ہے کہ یہ چیز اس خدا کی مخلوق ہے اور وہ چیز فلاں خدا کی مخلوق ہے اور نہ کسی مخلوق پر کسی خدا کی خاص علامت ہے کہ یہ فلانے خدا کی ہے۔ پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک خدا کی مخلوق دوسرے خدا کی مخلوق سے جدا اور ممتاز نہیں اور نہ آپس میں کوئی لڑائی اور جھگڑا ہے تو معلوم ہوا کہ سارا کارخانہ ایک ہی خدا کے اختیار سے چل رہا ہے اور سارے عالم کا خالق ایک ہی خدا ہے اور یہ سارا عالم ایک ہی خدا کی مخلوق ہے کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں اسے نہ بیٹے کی کی ضرورت ہے اور کسی شریک کی۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 236 ج 6) اور اس دلیل کی مفصل تقریر سورة انبیاء کی آیت لو کان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔ اللہ منزہ ہے ان باتوں سے جو یہ ظالم اس کے لئے بتاتے ہیں یعنی نہ اس کے لیے اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا اول تو علو اور غلبہ کو چاہے گا کہ دوسرے پر غالب آجاؤں اور اگر بالفرض ایک ضدا سے دوسرے خدا پر چڑھائی ممکن نہ ہوئی تو کم از کم وہ اپنی مخلوق کو دوسرے خدا کی مخلوق سے جدا اور علیحدہ تو ضرور کرے گا شریک اور خلط ملط پر ہرگز راضی نہ ہوگا۔ دلیل دیگر وہ تو غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے کوئی ذرہ اس سے پوشیدہ نہیں اور ظاہر ہے کہ خدا کے سوا کوئی غیب اور شہادت کا جاننے والا نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس لیے کہ اگر دو خدا ہوں تو لامحالہ دونوں عالم الغیب ہوں گے اور ہر ایک کا علم اپنے ماسوا کو محیط ہوگا تو لازم آئے گا کہ ہر خدا ایک ہی اعتبار سے محیط بھی ہوا اور محاط بھی اور یہ بات عقلاً محال ہے۔ پس وہ بالا اور برتر ہے اس سے جس کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کی قدرت بھی غیر محدود ہے اور اس کا علم بھی غیر محدود ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔