23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 23:93–114

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

تلقین دعا و آداب تبلیغ و دعوت و ذکر احوال واحوال آخرت برائے تخویف اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ قل رب اما ترینی ما یوعدون .... الیٰ .... توانکم کنتم تعلمون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں کفار کے عناد طغیان کا بیان تھا کہ وہ بطور تمسخر یہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے منکرین پر عذاب کب آئے گا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک مناسب وقت دعا کی تلقین فرماتے ہیں کہ کافروں کی ایذا رسانی اور بدکلامی سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں بلکہ ان کی بدی کا نیکی سے جواب دیں اور یقین رکھیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بدیر یا بسویر ضرور آکر رہے گا اور اس کے بعد قیامت کے احوال اور اہوال بیان کیے کہ اس دن ہماری آیات کے ساتھ ان کے تمسخر کا انجام ان کے سامنے آجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ﷺ حق تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار اگر مجھ کو میری زندگی میں اس عذاب کا مشاہدہ کرا دیں جس کا ان کافروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو اے میرے پروردگار مجھ کو ان ظالموں میں نہ شامل کرنا یعنی اگر وہ عذاب میری زندگی اور میری موجودگی میں نازل ہو تو مجھے اس عذاب سے محفوظ رکھنا۔ اللہ کے رسول کا ظالموں کے ساتھ عذاب میں شامل ہونا قطعا ناممکن ہے لیکن اظہار عبودیت کے لئے ایسی دعا فرمائی۔ بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مقصود دوسروں کو سنان ہے کہ خدا کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظلم کی نحوست سے عذاب عام آتا ہے جس کی لپیٹ میں بےقصور بھی آجاتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ واذا اردت بقوم فتنۃ فتوفنی غیر مفتون یعنی اے پروردگار جب آپ کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے کا ارادہ کریں تو مجھ کو فتنہ سے محفوظ رکھنا اور مجھ کو ایسی حالت میں اپنے پاس بلا لینا کہ میں فتنہ میں مبتلا نہ ہوں۔ غرض یہ کہ اس دعا کی تلقین سے تواضع اور کسی نفسی کی تلقین ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ ہر وقت اللہ کے عذاب سے ڈرتا رہے بعض مرتبہ کفر اور ظلم کی نحوست بےگناہ کو بھی پہنچ جاتی ہے۔ عذاب تو نازل ہوگا بدوں پر۔ لیکن اندیشہ ہے کہ عذاب کی کوئی چنگاری کسی بےگناہ کو نہ جا لگے اشارہ اس طرف ہے کہ اگر ان ظالموں پر عذاب آیا تو وہ بڑا ہولناک ہوگا معلوم نہیں کہ اس کے شرارے اور چنگارے کہاں کہاں پہنچیں سب کو اس سے پناہ مانگنی چاہئے۔ اور بلاشبہ ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ جس عذاب کا ہم ان کافروں سے وعدہ کر رہے ہیں۔ وہ آپ کو آپ ﷺ کی زندگی ہی میں دکھا دیں۔ اور آپ ﷺ اپنی آنکھوں سے اپنے دشمنوں کی ذلت و خواری کو دیکھ لیں۔ لیکن جب تک عذاب نہ آوے اس وقت تک آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ ان کی بدی اور برائی کا نیک خصلت کے ساتھ مقابلہ کیجئے یعنی دشمنوں کی ایذا دہی کا مقابلہ حلم و صبر اور عفو اور درگزر کے ساتھ کیجئے ہم خوب جانتے ہیں جو بیہودہ بکواس وہ تیری اور میری شان میں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کو شاعر اور ساحر بتلاتے ہیں اور مجھ کو صاحب اولاد بتلاتے ہیں اور اگر بمقتضائے بشریت ان کی باتوں پر غصہ آجائے تو اس طرح دعا کیجئے کہ اے میرے پروردگار میں پناہ لیتا ہوں تیری اس بات سے کہ شیاطین میرے پاس آئیں اور مجھے کچھ ضرر پہنچائیں اور اپنا کوئی تیر مجھ پر چلائیں۔ آگے پھر انہی کافروں کا حال بدمآل بیان کرتے ہیں کہ یہ اس طرح اپنی غفلت میں رہیں گے اور کفر اور عناد سے باز نہیں آئیں گے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سرپر موت آکھڑی ہوتی ہے اور عالم آخرت اسے نظر آنے لگتا ہے اس وقت اس کی آنکھ کھلتی ہے اور نادم ہو کر یہ کہتا ہے اے میرے رب مجھ کو دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں وہاں جاکر نیک عمل کروں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور اگر بالفرض اس کو واپس بھی کردیا جائے تو تب بھی یہی کرے گا جو اب تک کرتا رہا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ وانھم لکذبون۔ یہ اس کی ایک بات ہے جو کہے جا رہا ہے اور غلبہ حسرت و ندامت کی وجہ سے زبان سے کہے چلا جا رہا ہے کہ مجھے دنیا میں واپس کردو۔ مگر ہمارے یہاں اس کی کوئی شنوائی نہیں اور ابھی کیا دیکھا ہے ابھی تو موت ہی آئی ہے جسے دیکھ کر اس قدر گھبرا گیا اس کے بعد ایک اور عالم پر زخ آرہا ہے جو عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے وہاں پہنچ کر اس پر عذاب شروع ہوگا۔ جو عذاب آخرت کا ایک نمونہ ہوگا جس کا مزہ قیامت تک چکھتا رہے گا یعنی اس دن تک کہ جب مردے قبروں سے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے موت سے لے کر قیامت تک جو زمانہ ہے وہ برزخ ہے۔ فائدہ : ” برزخ “ کے اصل معنی یہ ہیں کہ جو چیز دو چیزوں کے درمیان حائل ہو اس کو برزخ کہتے ہیں اسی طرح سمجھو کہ اس عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیان میں یہ عالم برزخ ہے موت سے لے کر حشر تک کا جو درمیانی زمانہ ہے وہ برزخ ہے اور اس کو عالم قبر بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد سے اور قیامت سے پہلے ایک نیا جہان بسایا ہے اور وہ جہان دنیا سے اتنا زیادہ وسیع ہے جتنی دنیا ماں کے پیٹ سے زیادہ وسیع ہے، یہاں ایمان اور کفر کی اور اعمال کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور عذاب آخرت کا کچھ نمونہ دکھلا دیا جاتا ہے۔ عالم برزخ کی تکلیفیں تو بطور ما حضر کے ہیں اصل عذاب اور پوری پوری سزا تو قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد ہوگی۔ پس عالم برزخ کے بعد جب قیامت قائم ہوگی اور دوبارہ صور پھونکا جائے گا اور مروے قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوں گے تو اس دن جس مصیبت کا سامنا ہوگا وہ بیان سے باہر ہے۔ اس دن لوگوں کے درمیان کسی قسم کا رشتہ ناطہ باقی نہیں رہے گا اور نہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گے اس روز نہ کوئی قرابت باقی رہے گی اور نہ محبت ایک دوسرے سے بالکل اجنبی ہوجائیں گے، اس روز سوائے ایمان اور عمل صالح کے کوئی چیز کام نہ دے گی، اس دن ایک میزان (ترازو) قائم کی جائے گی جس میں ایمان اور عمل کا وزن ہوگا، سو جس کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا تو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے یہ اہل ایمان کا گردہ ہوگا اور جن کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا جیسے کفار اور مشرکین تو ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا اور یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان کے مونہوں کو آگ جھلس لے گی اور وہ اس میں نہایت بدشکل ہوں گے، دانت باہر نکلے ہوئے ہوں گے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر سر کی کھوپڑی سے جاملے گا اور نیچے کا ہونٹ لٹک کر ناف تک آلگے گا جیسا کہ احادیث میں آیا ہے اس وقت حق تعالیٰ ان سے فرمائے گا۔ کیا یہ بات نہیں تھی کہ دنیا میں تمہارے سامنے میرے قرآن کی آیتیں بار بار پڑھی جاتی تھیں۔ پس تم ان کو جھٹلاتے تھے ان کا مذاق اڑاتے تھے اس لیے تم عذاب کے مستحق ہوئے اور یہ اس کی سزا تم کو مل رہی ہے تو وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور بیشک ہم گمراہ لوگ تھے کہ تیرے پیغمبروں پر ایمان نہ لائے۔ اے ہمارے پروردگار اب ہماری درخواست یہ ہے کہ آپ ہم کو اس آگ سے نکال دیجئے اور ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیجئے۔ پس اگر ہم دنیا میں جانے کے بعد پھر ایسے ہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں اس وقت جو چاہیں سزا دینا۔ مگر اس وقت تو چھوڑ دیجئے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا دور ہوجاؤ اور ذلت و خواری کے ساتھ اسی آگ میں پڑے رہو اور بولو بھی نہیں۔ اب تمہیں بولنے کی بھی اجازت نہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ تحقیق دنیا میں میرے بندوں میں سے اہل ایمان کا ایک گروہ تھا جو یہ کہا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے ہیں، پس تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے، یہ گروہ ہمارے خاص محبین اور مخلصین کا گروہ تھا۔ پس تم نے ان درویشان اسلام کا جو ہم سے مغفرت اور رحمت کی دعا مانگا کرتے تھے مسخرہ اور مضحکہ بنایا اور تم ان کے ساتھ مسخرہ پن اور عیب جوئی میں یہاں تک پہنچے کہ ان کے اس مشغلہ نے تم کو میری یاد بھی بھلا دی سوا ی سے مسخروں کو جو خدا سے دعا مانگنے والوں کے ساتھ مسخرہ پن کریں آج ان کی کوئی دعا قبول نہیں۔ اے نابکارو دور ہوجاؤ آج تمہیں بولنے کی بھی اجازت نہیں اور تم وہی ہو جو مسلمانوں کو دیکھ کر ہنسا کرتے تھے تمہارے اس مسخرہ پن اور ہنسی سے اہل ایمان کا کچھ نہیں بگڑا۔ صبر کیا چند روز کی تکلیف تھی گزر گئی، تحقیق آج میں ان دردیشان اسلام کو ان کے صبر کی جزا دوں گا۔ جو انہوں نے تمہاری ہنسی پر کیا تھا اور وہ جزایہ ہے کہ یہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں اور تم ہنسنے والے سب نا کام اور نامراد ہو۔ حق کی تکذیب اور اس کا تمسخر ایسا عظیم جرم ہے کہ وہ کسی طرح قابل معافی نہیں۔ یہ آیت بلال ؓ اور عمار ؓ اور صہیب ؓ اور خباب ؓ وغیرہ فقراء مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جن سے سرداران قریش تمسخر کیا کرتے تھے اور دلدادگان مغربیت جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں وہ سیدھے سادے اور پرانے وضع قطع کے مسلمانوں کے مذاق اڑانے میں کچھ کم نظر نہیں آتے۔ بعد ازاں کافروں سے بطور توبیخ اور ملامت سوال ہوگا تاکہ ان کی ذلت و حسرت میں اور شدت ہو۔ چناچہ خدا تعالیٰ کفار سے پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے اور کتنے سال ٹھہرے۔ تمہارا گمان یہ تھا کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور کبھی فنا نہ ہوگی اور جو لوگ دنیا کو فانی بتلاتے تھے ان کا تم مذاق اڑاتے تھے اب بتلاؤ کہ دنیا کی زمین پر کتنے برس زندہ رہے اور پھر قبر کی زمین میں کتنے برس مردہ رہے تو جواب میں یہ بولیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھہرے۔ ہمیں تو اچھی طرح یاد نہیں پس آپ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے، یعنی فرشتوں سے دریافت کرلیجئے جو اعمال بنی آدم کے کاتب اور ان کی عمروں کے شمار کرنے والے ہیں۔ آخرت کے ہولناک منظر نے دنیا کی طویل و عریض زندگی کو یکلخت بھلا دیا۔ خدا تعالیٰ فرمائے گا بہرحال تم نہیں ٹھہرے دنیا میں مگر بہت تھوڑے آخرت کے مقابلہ میں تمام دنیا کی زندگی قلیل ہے۔ کاش اگر تم دنیا کے قلیل اور فانی ہونے کو جانتے تو فانی کو باقی کے مقابلہ میں اختیار کرتے۔
Ayahs 23:115–118

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

خاتمہ سورت بر تہدید اہل غفلت از حساب آخرت قال اللہ تعالیٰ افحسبتم انما خلقنکم عبثا .... الیٰ .... وقل رب اغفرو ارحم وانت خیر الرحمین۔ (ربط) اب سورت کو اہل غفلت کی تنبیہ اور تہدید پر ختم کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا گمان یہ ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو کوئی جزاء اور سزا نہیں ملے گی یہ گمان بالکل غلط ہے اور انہ لا یفلح الکافرون سے بتلا دیا کہ قیامت کے دن کافروں کو کوئی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس روز فلاح ان اہل ایمان کو نصیب ہوگی جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس سورت کی ابتداء قد افلح ال مومن ون سے فرمائی اور انہ لایفلح الکفرون پر اس سورت کو ختم فرمایا۔ شروع سورت میں اہل ایمان کے فلاح اور کامیابی کی خبر دی اور اخیر سورت میں کافروں کی ناکامی اور فلاح سے محرومی کی خبر دی۔ اور وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ فلاح کا اصل دار و مدار اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت پر ہے۔ لہٰذا اگر فلاح چاہتے ہو تو توبہ استغفار کی راہ اختیار کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا تم لوگ حساب و کتاب اور جزاء اور سزا کے منکر ہو اور کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یوں ہی لغو اور بےکار بغیر کسی حکمت اور مصلحت کے پیدا کیا اور کیا تم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر ہماری طرف واپس نہیں آؤ گے اور نیکی اور بدی کی تم کو سزا نہیں ملے گی۔ تمہارے دونوں خیال غلط ہیں۔ تمام اہل عقل اور دانش جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو عبث یعنی بےفائدہ اور خالی ازحکمت نہیں پیدا کیا۔ اہل عقل کہتے ہیں۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا۔ اور تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ قیامت کے دن تم ہمارے پاس نہیں آؤ گے اور جزا و سزا کچھ نہیں۔ دلائل عقلیہ اور قطعیہ سے حشر و نشر کا امکان ہے اور کل انبیاء مرسلین نے اس کے وقوع کی خبر دی ہے جن کا صدق دلائل قطیعہ سے واضح ہے۔ پس اللہ تعالیٰ بڑا عالی شان ہے اور بادشاہ برحق ہے کہ کوئی چیز عبث اور بےفائدہ پیدا کرے۔ اور بادشاہ اور سلطنت کے وفاداروں اور اطاعت شعاروں کو انعام ملنا اور بادشاہ سلطنت کے باغیوں اور غداروں اور مجرموں کو سزا ملنا لوازم سلطنت میں سے ہے اور عین حکمت اور مصلحت میں یہ آزادی نہیں کہ جس کا جو جی چاہے کرے۔ قانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ رب ہے عرش عظیم کا جو تمام آسمانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے پس جو عرش کا مالک ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود سمجھ کر پکارے۔ جس کے معبود ہونے کی اس کے پاس بھی کوئی دلیل نہیں تو ایسے مشرک کا اللہ کے یہاں ضرور حساب و کتاب ہوگا اور ضرور اس کو اس کی سزا ملے گی کہ جس خدا کی وحدانیت کے لئے شمار دلائل تھے اس کے ساتھ بےدلیل کسی کو شریک ٹھہرا لیا۔ ایسے شخص سے ضرور حساب لیا جائے گا اور ضرور سزا دی جائے گی۔ بلاشبہ کافروں کو فلاح اور کامیابی نہیں بلکہ ابدالآباد تک عذاب میں مبتلا رہیں گے اور کبھی چھٹکارا نہیں پائیں گے۔ شروع سورت میں اہل ایمان کے لیے فلاح کو ثابت کیا اور اخیر سورت میں کافروں سے فلاح کی نفی کی۔ اے نبی آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے متبعین ہمیشہ یہ دعا مانگا کریں اے میرے پروردگار ہمارا قصور معاف فرما اور ہم پر اپنی خاص رحمت فرما یعنی ہم کو اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اور ایمان پر قائم رکھ اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ کہ تیری رحمت کے بعد کسی کی رحمت کی حاجت نہیں رہتی۔ مقصود امت کو تعلیم ہے کہ اس طرح دعا مانگا کریں۔ گناہوں سے استغفار بھی فلاح کا ذریعہ ہے اگر اعمال صالحہ میں کوتاہی ہو تو استغفار سے گریز نہ کرے۔ قال اللہ تعالیٰ واستغفر لذنبک۔ وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار۔ فائدہ جلیلہ : افحسبتم سے لے کر ختم سورت تک یہ آیتیں بڑی فضیلت رکھتی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جہاد کے لیے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) روانہ فرمایا اور یہ حکم دیا کہ صبح و شام یہ آیتیں پڑھا کریں یعنی افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ۔ صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے حسب الارشاد یہ آیتیں پڑھیں تو ہم صحیح سالم مال غنیمت لے کر واپس آئے اخرجہ ابن السنی وابن مندہ وابو نعیم بسند حسن۔ (روح المعانی ص 65 ج 18) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا ایک مصیبت زرد شخص پر گزر ہوا جس کے کان میں تکلیف تھی عبد اللہ بن مسعود ؓ نے افحسبتم سے لے کر آخر سورت تک آیتیں پڑھ کر اس کے کان میں دم کیں تو وہ اچھا ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو یہ فرمایا کہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر یقین والا مرد اس کو پہاڑ پر پڑھ دے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے اخرجہ الحکیم۔ الترمذی وابن المنذر وابو نعیم فی الحلیۃ واخرون عن ابن مسعود ؓ ۔ (روح المعانی ص 65 ج 18) و تفسیر قرطبی ص 157 ج 12۔ الحمدللہ ! آج بتاری 16 ربیع الاول سنہ 1391 ھ یوم چہار سنبہ کو بوقت عصر سورة مومن ون کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فللہ الحمد والمنۃ۔ اللہم اجعلنا من عبادک ال مومنین المفلحین الذین ہم فی صلاتھم خاشعون والذین ہم عن اللغو معرضون والذین ہم للزکوۃ فاعلون والذین ہم لفروجھم حافظون والذین ہم لاماناتھم وعھدھم راعون والذین ہم علی صلواتھم یحافظون والذین ہم للفردوس وارثون آمین یا رب العالمین۔ رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحمین۔