Ayahs 22:1–2زلزلہ قیامت کہ ذکر آں غفلت است
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس اتقوا ربکم .... الیٰ .... ولکن عذاب اللہ شدید۔
(ربط) پہلی سورت یعنی سورة الانبیاء کا آغاز بھی قیامت کے حساب و کتاب سے ہوا تھا۔ اس سورت کا آغاز بھی قیامت کے ہولناک زلزلہ سے فرمایا اور سب سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا۔ اس لیے کہ تقویٰ بہترین توشہ و آخرت ہے کما قال تعالیٰ وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ نیز تقویٰ تمام انبیاء کرام کی متفقہ وصیت ہے کما قال تعالیٰ ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم ویاکم ان اتقوا اللہ۔
اور چونکہ تقویٰ اور خوف خداوندی پر سب سے زیادہ برانگیختہ کرنے والی چیز قیامت کے ہولناک احوال اور را ہوال ہیں۔ اس لیے سورت کا آغاز قیامت کے احوال اور اہوال سے فرمایا اور سب سے پہلے اپنے سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد قیامت کے ہولناک واقعات کا بیان شروع کیا کہ اس دن ایک سخت زلزلہ آئے گا تاکہ اس سے حفاظت کی تیاری کرو اور جان لو کہ سخت وقت میں انسان کو تقویٰ ہی کام دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس کی نافرمانی سے بچو مبادا اس کی ناشکری میں مبتلا ہو کر اس کے قہر کے مستحق بنو۔ بیشک قیامت کا بھونچال بڑی سخت چیز ہے۔ جس سے دنیا میں تہلکہ اور کہرام مچ جائے گا عجیب و غریب حادثہ ہوگا جس سے بڑھ کر کوئی حادثہ نہیں اور ایسی ہلچل ہوگی کہ جس سے بڑھ کر کوئی ہلچل نہیں اور جس کے ادراک سے عقلیں قاصر ہیں۔ ” زلزلہ “ کے معنی لغت میں شدید اور ہولناک حرکت کے ہیں جو زل کی تصنیف ہے اور زل کے معنی قدم پھسل جانے کے ہیں جس روز تم اس زلزلہ کو دیکھو گے تو اس روز یہ حال ہوگا کہ ہول کے مارے ہر دودھ پلانے والی اپنے اس بچہ سے غافل ہو جائیگی جس کو وہ دودھ پلا رہی ہے اس سے بڑھ کر کیا آفت اور مصیبت ہوگی کہ ماں اپنے شیر خوار بچہ کو بھول جائے اور شدت ہوں کہ وجہ سے ہر حمل والی عورت حمل کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اپنے حمل کو ڈال دے گی یعنی ڈر کے مارے حمل ساقط ہوجائیگا اور دیکھے گا تو اس دن لوگوں کو کمال دہشت کی وجہ سے نشہ میں مست ہوا۔ ھالان کہ حقیقت میں وہ نشہ والے نہ ہوں گے و لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے اس کی ہول اور دہشت کی وجہ سے مست اور مدہوش نظر آئیں گے لیکن حقیقت میں وہ مست نہ ہونگے ان کی بدحواسی کو دیکھنے والا خیال کریگا کہ یہ نشہ پیئے ہوئے ہیں۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ زلزلہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کب ہوگا۔
زلزلہ مذکورہ میں مفسرین کے اقوال
قول اول : یہ زلزلہ دنیا میں ہوگا اور یہ زلزلہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اخیر زمانہ میں قیامت کے قریب ظہور ہوگا اور اس کے بعد آفتاب مغرب سے طلوع کریگا یعنی قیامت قائم ہونے سے پہلے زمین زلزلہ میں لائی جائیگی کما قال اللہ تعالیٰ اذا زلزلت الارض زلزالہا واخرجت الارض اثقالہا۔ وحملت رجا وبست الجبال نسا فکانت ھباء منبثا۔ اور اس قول کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ قیامت کے دن نہ کوئی مرضعہ ہوگی اور نہ کوئی حاملہ ہوگی معلوم ہوا کہ یہ واقعہ دنیا سے معتقل اور یہ زلزلہ اخیر عمر دنیا میں روز قیامت سے پہلے ہوگا اور زلزلہ کی اضافت کی طرف اس لیے ہے کہ اس کے قریب ہوگا جسے اشراط الساعت کہتے ہیں۔
قول دوم : یہ زلزلہ قیامت کے دن نفخہ اولیٰ کے ساتھ ہوگا جس دن صور پھونکا جائیگا اس دن زمین کانپ اٹھے کی اور جیسے کشتی موجوں میں ہلنے لگتی ہے اس طرح زمین ہلنے لگے گی۔ کما قال اللہ تعالیٰ یوم ترجف الرجفۃ تتبعھا الرادفۃ۔
قول سوم : یہ زلزلہ اس وقت ہوگا کہ جب لوگ نغمہ ثانیہ کے بعد اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان حشر کی طرف روانہ ہوں گے حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ امام ابن جریر طبری (رح) نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور اس بارے میں چند احادیث ذکر کی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ قیام قیامت اور قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی میں اس زلزلہ کے وقت کی کوئی تصریح نہیں۔ لہٰذا نظم قرآنی میں سب کی گنجائش موجود ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر)
قول چہارم : یہ ہے کہ آیت میں زلزلہ سے روز قیامت کے اہوال اور دہشت ناک احوال مراد ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مستھم الباساء والضراء وزلزلوا اور حدیث میں ہے۔ اللہم اھزھم وزلزلہم (دیکھو تفسیر قرطبی ص 4 ج 12)
پس اگر اس آیت میں قیام قیامت سے پہلے دنیا میں زمین کا زلزلہ مراد ہو تو یہ آیت اپنی حقیقت پر محمول ہوگی کہ جس وقت یہ زلزلہ آئیگا تو اس وقت حقیقتاً ایسا ہوگا کہ حاملہ عورتوں کا حمل ساقط ہوجائے گا اور دودھ پلانے سے غافل ہوجائے گی۔
اور اگر عین قیام قیامت کے وقت یا فیام قیامت کے بعد کا زلزلہ مراد ہو تو دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ حقیقۃً ایسا ہی ہوگا کہ جو عورتیں دودھ پلانے کی حالت میں مری ہیں یا حمل کی حالت میں مری ہیں وہ قیامت کے دن اس حالت میں زندہ کی جائیں گی اور بچہ کو دودھ پلاتی ہوئی قبروں سے اٹھیں گی اور قیامت کے دن ان کی یہ حالت ہوگی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کلام کو تمثیل اور تصویر پر محمول کیا جائے کہ اگر حاملہ عورتیں اس حالت کو دیکھیں تو ان کے حمل گر جائیں۔ مقصود اس روز کی ہول و دہشت کی تصویر بیان کرنا ہے حقیقی معنی مراد نہیں اور مقصود یہ ہے کہ روز قیامت سخت ہولناک ہے تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرو تاکہ اس دن کی شدت سے محفوظ رہو اور اس بارے میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں۔ جن میں روز قیامت کے اہوال اور احوال کو بیان کیا گیا ہے چناچہ عمران بن حصین ؓ کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سفر میں تھے۔ (یعنی غزوہ بنی المصطلق میں تھے) کہ اثناء سفر میں رات کے وقت یہ دو آیتیں نازل ہوئیں۔ یایھا الذین اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء تعظیم ... تا ... ولکن عذاب اللہ شدید آپ ﷺ نے صحابہ کو جمع کرکے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ صحابہ ؓ ان کو سن کر اس قدر روئے کہ اس رات سے زیادہ کبھی نہیں روئے تھے اور ایسے غمگین اور متفکر ہوئے کہ نہ کھانا پکایا اور نہ خیمے لگائے اور نہ سواریاں باندھیں۔ جب صحابہ آپ کے گرد جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پکارے گا تو آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اے پروردگار حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تیرا پروردگار تجھ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا لشکر نکال جو دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اے میرے پروردگار اس کی مقدار اور اندازہ کیا ہے اور اس لشکر کی تعداد کتنی ہے حکم ہوگا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ اس وقت حاملہ عورتیں کے حمل گر پڑیں گے اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگ نشہ میں معلوم ہوں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ یہ سن کو صحابہ ؓ کے چہرہ غم کے مارے متغیر ہوگئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ ایک ہم سے کون کون ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کو یاجوج وماجوج سے وہ نسبت ہے جو ایک کو نوسو ننانوے سے ہے اور تمہاری نسبت پہلی امتوں کے ساتھ ایسی ہے جیسے سفید بیل کے جسم میں سیاہ بال ہو یا سیاہ بیل کے جسم میں سفید بال ہو اور فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں میں چہارم حصہ ہوگے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے تکبیر کہی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں میں ایک تہائی ہوگے۔ ہم نے خوشی سے تکبیر کہی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم جنتیوں میں نصف ہوگے۔ ہم نے تکبیر کہی۔ اس حدیث کو امام احمد (رح) نے اور امام ترمذی (رح) نے کتاب التفسیر میں ذکر کیا ہے۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 204 ج 3۔
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ زلزلہ قیامت کے دن ہوگا۔ دوم یہ کہ یہ دونوں آیتیں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی میں نازل ہوئیں معلوم ہوا کہ یہ آیتیں مدنی ہیں۔
Ayahs 22:3–10اثبات حشر و نشر وابطال شبہات مجادلین و منکرین قیامت
قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم .... الیٰ .... وان اللہ لیس بظلام للعبید۔
(ربط) گزشتہ آیات میں تقویٰ کی تاکید اور قیامت کے بعض احوال اور اہوال کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اور لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو قیامت کے منکر ہیں اور قیامت اور قرآن کے بارے میں جہالت سے بغیر علم اور بغیر دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں۔ بعد ازاں حشر و نشر کا اثبات اور منکرین قیامت کے شبہات کا ابطال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کے بارے میں یعنی اس کی شان میں اور اس کی قدرت میں بدون کسی علم کے جھگڑتے ہیں یہ نصر بن حادث کا حال ہے کہ جو آنحضرت ﷺ سے کبھی کتاب الٰہی کے بارے میں کہتا ان ھذا الا اساطیر الاولین۔ کہ یہ قرآن تو اگلوں کا افسانہ ہے اور کبھی توحید کے بارے میں جھگڑتا اور کہتا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور کبھی اللہ کی قدرت کے بارے میں جھگڑتا اور کہتا کہ جب انسان مر کر اور گل سڑ کر مٹی ہوگیا تو پھر کیسے زندہ ہوگا اور ایسے شخص کے پاس دلیل کوئی نہیں صرف شیطان سرکش کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور بےدلیل اس کو مان لیتا ہے اور انبیاء دلائل عقلیہ وبراہین قطعیہ بیان کرتے ہیں تو ان میں بےدلیل جھگڑا لگاتا ہے اور شیطان کی پیروی کرتا ہے جس کی نسبت قضائے الٰہی میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ جو شخص شیطان کو دوست بنائے گا تو شیطان اس کو ضرور گمراہ کرے گا۔ اور عذاب دوزخ کی راہ پر اس کو لگا دے گا۔ غرض یہ کہ اس نادان کا گمان یہ تھا کہ قیامت اور حشر و نشر سب محال ہے اس لیے آئندہ آیات میں اثبات معاد کی دو دلیں بیان فرماتے ہیں۔
دلیل اول
اے لوگو اگر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں تم شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہو اور دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن اور محال سمجھتے ہو تو حق تعالیٰ کی دلیل قدرت میں ذرا غور کرلو اور پہلے اپنے حال پر نظر کرو۔ تحقیق ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا یعنی تمہاری اصل خلقت مٹی سے ہے اس لیے کہ آدم (علیہ السلام) جو سب کی اصل ہیں وہ مٹی سے پیدا ہوئے پھر پیدائش آدم (علیہ السلام) کے بعد جب سلسلہ توالد و تناسل ضاری ہوا تو مرتبہ دوم میں ہم نے تم کو نطفہ سے۔ پھر مرتبہ سوم میں جمے ہوئے خون سے۔ پھر مرتبہ چہارم میں ایسے پارہ گوشت سے کہ کبھی اس کی پوری صورت بن جاتی ہے جس میں کوئی عیب اور نقصان نہیں رہتا اور کبھی پوری صورت نہیں جنتی جو ایام پورا ہونے سے پہلے ہی گر جاتا ہے۔ پس ہم نے تم کو اس ترتیب و تدریج کے ساتھ پیدا کیا تاکہ ہم تم پر اپنی کمال قدرت ظاہر کریں کہ تم پہلی بار کی خلقت سے دوسری بار کی خلقت کو سمجھ سکو۔ کہ جو چیز پہلی بار تغیر اور تکون کو قبول کرسکتی ہے وہ دوسری بار بھی اسے قبول کرسکتی ہے اور جان لو کہ یہ سب قادر مطلق کی صنعت اور کاریگری ہے کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضا نہیں۔ اور پھر ایک مدت مقررہ تک جس کو چاہتے ہیں رحم مادر سے ٹھہرائے رکھتے ہیں اس کو وقت سے پہلے گرنے نہیں دیتے اور جس کو ٹھہرانا نہیں چاہتے اس کو گرا دیتے ہیں پھر اس مدت معینہ کے بعد تم کو بچہ بنا کر ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں۔ پھر ہم تم کو پالتے ہیں تاکہ تم اپنی کمال قدرت کو پہنچ جاؤ یعنی جوانی کو پہنچ جاؤ اور تم میں سے بعض وہ ہے جو بڑا ہونے سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی تم میں سے نکمی عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے پہچاننے کے بعد انجان اور بیخبر بن جائے یعنی ہوش و حواس میں فتور آجائے اور جیسا بچپن میں قلیل العلم اور قلیل الفہم تھا ویسا ہی پھر ہوجائے اور جاننے کے بعد کچھ نہ جانے پس جو خدا ایک انسان پر اس قدر مختلف حالتیں طاری کرسکتا ہے اور اخیر میں انتہاء کے بعد پھر ابتداء کی طرف لوٹا سکتا ہے تو کیا وہ گلی سڑی ہڈیوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔
یہ بعث بعد الموت کی ایک دلیل ہوئی اب آئندہ آیت میں دوسری دلیل بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ اور تروتازہ کرنے پر قادر ہے۔ اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
دوسری دلیل
اور اگر ان منکرین قیامت کا یہ گمان ہے کہ انسان کی پیدائش میں جس قدر تغیرات اور انقلابات پیش آتے ہیں وہ سب شکم مادر میں ہیں شکم قبر میں یہ تغیرات اور انقلابات نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو مردہ کی طرح خشک اور بےرونق دیکھتا ہے کہ عرصہ تک بجھی ہوئی آگ کی طرح خشک پڑی رہتی ہے جس میں سبزہ کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔ اس طرح قبر میں ردہ بھی خشک پڑا رہتا ہے پھر جب کچھ عرصہ بعد ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو اس خشک زمین کی قوت نامیہ جوش میں آجاتی ہے اور سبزہ سے لہلہانے لگتی ہے اور پھولنے لگتی ہے۔ اور ولادت حمل کی طرح طرح خروج نباتات کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں گویا کہ زمانہ ولادت قریب آگیا ہے اور پھر باذن الٰہی ہر قسم کے تروتازہ اور خوشمنا چیز اگاتی ہے جس طرح بطن مادر سے ایک خوشنما بچہ نمودار ہوتا ہے پس جو خدا اس طرح مردہ زمین کے زندہ کرنے پر قادر ہے تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کے اجزاء متفرقہ کو جمع کرکے پھر اسی حال پر لے آئے جس پر وہ پہلے تھا کیا یہ تخم نطفہ شجر نطفہ کے مشابہ نہیں کہ جب یہ تخم زمین میں ڈال دیا جاتا ہے تو گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور پھر بعد چندے خوشنما ہو کر زمین سے نکل آتا ہے جس طرح نطفہ سے بچہ پیدا ہونے کے لیے ایک وقت مقرر ہے اسی طرح تخم ریزی کے بعد روئیدگی کے لیے بھی ایک وقت بہتر ہے۔
یہاں تک دونوں دلیلیں ختم ہوئیں اب آئندہ آیت میں ان دونوں دلیلوں کا نتیجہ ذکر فرماتے ہیں۔ اور وہ پانچ باتیں ہیں۔
(اول) یہ سب جو ابتداء خلقت انسان سے احیاء زمین تک ہوا۔ اس کی وجہ اور سبب یہ ہے کہ تم جان لو کہ اللہ جو ہے وہی حق ہے یعنی خدائے برحق وہ ہے کہ جس کی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
(دوم) اور یہ کہ تحقیق وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے جیسا کہ نطفہ کو اور مردہ زمین کو زندہ کرنا۔ تمہاری نظروں کے سامنے ہے جو اس بات کے دلیل ہے کہ موت اور حیات اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔
(سوم) اور یہ کہ وہ بلاشبہ ہر چیز پر قادر ہے اس کی قدرت مردہ زمین کے ساتھ مخصوص نہیں وہ تمام ممکنات پر قادر ہے۔
(چہارم) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنیوالی ہے یعنی اس زندگی کے بعد دوسری آنے والی ہے جس میں کچھ شک نہیں۔
(پنجم) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا جو قبروں میں مدفون ہیں اور اس دوبارہ زندہ ہونے کا نام بعث بعد الموت ہے غرض یہ کہ ان دلائل سے بخوبی یہ ثابت ہوگیا کہ قیامت کا آنا حق ہے ضرور آئیگی اس کے آنے میں ذرا شک نہیں اور باوجود ان دلائل واضحہ کے لوگوں میں سے وہ شخص بھی ہے کہ جو اللہ کی قدرت قاہرہ اور حکومت باہرہ میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتا ہے یعنی بعض ایسے کج فہم اور ضدی اور عنادی ہیں کہ ان واضح اور روشن دلائل سننے کے بعد بھی اللہ کی باتوں میں جھگڑتے ہیں۔ نہ ان کے پاس علم اور عقل ہے اور نہ کوئی ہدایت اور عقلی دلیل ہے اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے کہ جو آسمانی کتاب سے پیش کرسکے اور اس کج رو اور بےعقل کی حالت یہ ہے کہ متکبر اور مغرور ہے اپنی گردن اور شانہ کو موڑ کر جھگڑیا ہے جیسا کہ متکبروں کا طریقہ ہے کہ شانہ اور گردن کو موڑ کر گفتگو کیا کرتے ہیں اور عرض اس کی یہ ہے کہ اس قسم کی بےسروپا باتوں سے لوگوں کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے۔ جیسے خود گمراہ ہے اسی طرح دوسروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے۔ دنیا کی ذلت و خواری اس کے تکبر اور غرور کی سزا ہے کیونکہ اس کا اکبر ہم اور مبلغ علم یہی دنیا تھی اس لیے اس دنیا میں اس کو ذلیل کیا اور قیامت کے تکبر اور غرور کی سزا ہے کیونکہ اسکا اکبر ہم اور مبلغ علم یہی دینا تھی اس لیے اس دنیا میں اس کو ذلیل کیا اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے اور اس وقت ہم اس سے یہ کہیں گے کہ یہ عذاب تیرے ان اعمال کی سزا ہے جن کو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اس وجہ سے کہ اللہ بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں۔ بغیر جرم کے کسی کو سزا نہیں دیتے اور مغرور اور متکبر مجرم کو بغیر سزا دئیے نہیں چھوڑتے یہ آیت بھی نضربن حادث کے بارے میں ہے۔ بدر کے دن وہ مارا گیا اور کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔ یہ دنیا کی رسوائی تھی اور آخرت کی رسوائی اس کے علاوہ ہے۔
Ayahs 22:11–13مذمت مذبذبین و مترد دین دربار دین متین
قال اللہ تعالیٰ ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف .... الیٰ .... ولبئس العشیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین اور مجادلین کی مذمت تھی۔ جو کھلم کھلا اور صریح طور پر قیامت کے منکر تھے۔ اب ان آیات میں مذبذبین اور متردوین کی مذمت بیان کرتے ہیں جو محض دنیاوی طمع پر اسلام لے آئے ہیں مگر ان کے دل میں ابھی تک تردد باقی ہے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ آتے اور اسلام لے آتے پس اگر انہیں وہاں مال اور اولاد کی ترقی معلوم ہوتی تو کہتے دین اسلام اچھا دین ہے اور اگر کچھ اس کے خلاف ہوتا تو کہتے کہ اسلام کچھ اچھا دین نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں متزلزل اور متذبذب لوگوں کا حال بیان کیا کہ ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں زیاں کار ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک حقانیت کا میعار دنیاوی منفعت ہے پس جو اسلام محض دنیوی منفعت پر مبنی ہو وہ اسلام شریعت میں معتبر نہیں اس لیے آئندہ آیات میں اہل شک اور اہل نفاق کا حال بیان کرتے ہیں اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اللہ کی بندگی اس طرح کرتا ہے کہ گویا ایک کنارہ پر کھڑا ہے یعنی دل جما کر اللہ کی عبادت نہیں کرتا۔ شک اور تردد میں پڑا ہوا ہے۔ اللہ کے وعدہ اور وعید کا اس کو یقین نہیں سو اگر اس کو کوئی دنیاوی بھلائی پہنچ گئی۔ جیسے صحت اور مالداری تو اس خیر اور بھلائی کی وجہ سے اس کو دین پر کچھ اطمینان ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کوئی دنیاوی تکلیف پہنچ گئی جیسے بیماری اور تنگدستی۔ تو پھر الٹا اپنے منہ پر پلٹ جاتا ہے، یعنی دین اسلام سے مرتد ہوجاتا ہے تو ایسے شخص کا انجام یہ ہے کہ اس نے دنیا بھی گوائی اور آخرت بھی گنوائی۔ یہی تو کھلا ہوا خسارہ اور نقصان ہے کہ دنیا بھی گئی اور دین بھی گیا۔ دنیا کا خسارہ تو یہ ہوا کہ مراد کو نہ پہنچا اور آخرت کا خسارہ یہ ہوا کہ سارے اعمال نیست و نابود ہوگئے یہ اس شخص کی حماقت ہے کہ اس نے دین اسلام کو دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا۔ دنیا کا نفع و نقصان ہر حال میں انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے باطل کے اتباع سے دنیا کے نقصان سے محفوظ نہیں ہوجاتا۔ یہ مرتد یا مشرک اللہ کے سوا ایسے معبود کو پکارتا یا پوجتا ہے کہ اگر وہ اس کو نہ پوجے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اگر اس کی عبادت کرے تو اس کو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے جو راہ حق سے بہت دور ہے ایک عاقل بالغ آدمی کا ایسی چیز سے روزی اور مدد مانگنا کہ جو نہ سن سکے اور نہ بول سکے پرلے درجے کی بیوقوفی ہے۔ یہ نادان ایسی چیز کو پکارتا ہے جس کا نقصان بہ نسبت اس کے خیالی نفع کے بہت زیادہ قریب ہے۔ آخرت کا ضرر تو بعد میں ہوگا۔ بت پرستی کا جو ضرر پیش آیا وہ اس کے سامنے ہے کہ ایک بےجان چیز کے پوجنے کی وجہ سے دنیا میں احمق اور نادان ٹھہرا اور البتہ تحقیق ایسا کار ساز بھی بہت برا اور ایسا رفیق بھی بہت برا۔ جو کہ کسی کام نہ آوے۔ ” مولیٰ “ سے مراد بت ہے جس کو وہ اللہ کے سوا پکارتا ہے اور ” عشیر “ سے اس کا دوست اور یارومددگار ہے جو شب وروز اس کے ساتھ خلط ملط رکھتا ہے اور اس کو کفر و شرک پر آمادہ کرتا ہے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ایمان اور اعمال صالحہ ہیں جیسا کہ آئندہ آیت میں اس کا ذکر ہے۔
Ayahs 22:14–16بیان فلاح اہل ایمان وخیبت و خسران دشمنان بدسگالان
قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یدخل الذین امنوا .... الیٰ .... وان اللہ یھدی من یرید۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا حال بیان کیا جو ایمان اور اسلام میں متذبذب اور متزلزل تھے اب ان آیات میں ان ایمانداروں کا حال ذکر کرتے ہیں جو ایمان پر جمے ہوئے ہیں اور اعمال صالحہ پر ثابت قدم ہیں۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں اول تو ایسے مومنین مخلصین کی فلاح اور کامیابی کا ذکر کیا اور اس کے بعد دشمنان اسلام کی ناکامی اور نامرادی کو بیان کیا کہ ان مجادلین فی الدین اور ان منافقین کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی دنیا اور آخرت میں کوئی مدد نہیں کرے گا اور چند روز میں دین اسلام ختم ہوجائیگا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ گمان غلط ہے، ان کے دل میں اسلام کا غیظ و غضب بھرا ہوا ہے وہ جتنی چاہیں تدبیرویں کرلیں مگر خوب سمجھ لیں کہ ان کا مقصد کبھی پورا نہ ہوگا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ گمان غلط ہے، ان کے دل میں اسلام کا غیظ و غضب بھرا ہوا ہے وہ جتنی چاہیں تدبیریں کرلیں مگر سمجھ لیں کہ ان کا مقصد کبھی پورا نہ ہوگا۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو صدق دل سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ایسے باغوں میں داخل کریگا کہ جن کے مکانوں اور درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے دوستوں کو عزت اور کرامت اور فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور مرتدین و منافقین کو ذلیل و خوار کرتا ہے جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ اپنے رسول کی دنیا و آخرت میں مدد نہیں کریگا یعنی دنیا میں اس کو دشمنوں کے مقابلہ میں غلبہ نہیں دیگا اور آخرت میں اس کے درجے بلند نہیں کریگاتو جس شخص کا یہ خیال ہو تو اس کو چاہئے کہ ایک رسی کے ذریعے آسمان تک پہنچ جائے پھر وہاں پہنچ کر آپ کی مدد کو قطع کر دے اگر وہ اس پر قادر رہے کیونکہ آسمانی مدد کو روکنا بغیر آسمان پر پہنچے ہوئے ممکن نہیں لہٰذا اس کو چاہئے کہ کسی ذریعہ سے آسمان پر چڑھے اور وہاں پہنچ کر آپ کی نصرت اور مدد کو قطع کر دے کیونکہ دنیاوی وسائل تو آپ کے پاس موجود نہیں۔ آپ کو جو نصرت پہنچ رہی ہے وہ آسمان ہی سے پہنچ رہی ہے تو اگر اس سے یہ ممکن ہے اور یہ اس پر قادر ہے تو آسمان پر جاکر اس کو قطع کر دے پھر دیکھے کہ اس کی یہ تدبیر اس کے سینہ کے غیظ و غضب کو دور کرتی ہے یا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غیظ و غضب سے جو چاہے تدبیر کرلو مگر کوئی حیلہ اور تدبیر آسمانی مدد کو نہیں روک سکتی۔ پس جب یہ امر ناممکن ہے تو پھر اس غیظ و غضب سے کیا فائدہ۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ الی السماء میں سے لفظ سماء سے آسمان کے معنی مراد نہیں بلکہ چھت کے معنی مراد ہیں۔ کلام عرب میں سماء کا اطلاق چھت پر بھی آتا ہے۔ کل ما علا فھو سماء۔ جو شئے تیرے اوپر ہے وہ تیرا آسمان ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس کو آنحضرت ﷺ کی نصرت اور غلبہ کی وجہ سے غصہ اور غیظ و غضب ہے تو اس کو چاہئے کہ اپنے گھر کی چھت میں ایک رسی باندھ لے پھر اس رسی میں پھندا لگا کر اپنا گلا گھونٹ لے اور رسی کو توڑ دے یہاں تک کہ مرجائے پھر دیکھے کہ اس تدبر سے اس کا غصہ فرد ہوتا ہے یا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس کو آنحضرت ﷺ کی فتح و نصرت پر غصہ آتا ہو اس کو چاہئے کہ غصہ کے مارے اپنا گلا گھونٹ لے یہاں تک کہ مرجائے اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد کرنے والا ہے اس کا غصہ اس کو کوئی نفع نہیں دے گا اور اپنا گلا گھونٹنے کا نام لیکر اس لیے کہا کہ حاسد کی آخری تدبیر یہی ہے کہ وہ غصہ میں آکر اپنا گلا گھونٹ لے اور اس تعبیر میں آپ ﷺ کے حاسدوں کے ساتھ استہزاء اور تمسخر مقصود ہے کہ تم خواہ کتبا ہی غصہ کرو۔ مگر تم سوائے گلا گھونٹنے کے اور کچھ نہیں کرسکتے جو چاہے کرلو۔ تمہارا مقصد کسی حال میں پورا نہ ہوگا کما قال اللہ تعالیٰ قل موتوا بغیظکم۔
اکثر مفسرین نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے لیکن حضرت شاہ عبد القادر (رح) نے اس آیت کی دوسری طرف تفسیر فرمائی جو نہایت لطیف ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کو ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف۔ کے ساتھ مربوط اور متعلق قرار دیکر فرمایا کہ من کان یظق ان لن ینصرہ اللہ۔ میں ضمیر مفعول من کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی مصائب اور تکالیف سے گھبرا کر اللہ سے امید قطع کرکے اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزوں کو پوجنے لگے اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے اگر اوپر چڑھ نہیں سکتا تو یہ توقع تو ہے کہ اگر رسی کوئی اوپر کو کھینچے تو یہ اوپر چڑھ جائے لیکن جب رسی ہی توڑ دی تو پھر کیا توقع رہی گویا کہ آسمان سے بلندی اور بارگاہ خداوندی کی طرف اشارہ ہے اور رسی پکڑنے سے اللہ سے امید رکھنا مراد ہے اور رسی قطع کردینے سے خدا کی رحمت سے ناامید ہوجانا مراد ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ ایک کنارہ پر کھڑا ہو کر عبادت کرنے والا بنے، اور دنیاوی پریشانیوں سے گھبرا کر خدا سے امید کی رسی کو نہ کاٹ ڈالے اور خداوند آسمان سے امید قطع کرکے غیر اللہ کی پوجا نہ کرے۔
اور ایسا ہی اتارا ہم نے یہ قرآن واضح اور روشن آیتیں جن میں کوئی خفاء اور ابہام نہیں جو شخص ان میں غور کرے اس پر صاف صاف حق واضح ہوجائے اور حقیقت یہ ہے کہ تحقیق اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہے۔ مطلب یہ ہے کہ دلائل خواہ کتنے ہی واضح اور روشن کیوں نہ ہوں مگر ہدایت اللہ ہی کے قبضہ میں ہے جسے وہ سمجھ دے وہی سمجھتا ہے۔
Ayahs 22:17–24بیان فیصلہ اختلاف ملل و امم در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادوا .... الیٰ .... الی صراط الحمید۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کا دین اسلام اور اہل ایمان کے ساتھ اختلاف کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دین کے بارے میں لوگ مختلف ہیں۔ ہر شخص اپنے کو حق اور ہدایت پر بتلاتا ہے اس اختلاف کا عملی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا اس دن اہل حق کو عزت اور کرامت حاصل ہوگی اور اہل باطل کو ذلت اور اہانت ملے گی اور اس دن معلوم ہوجائیگا کہ عزت و ذلت کی مالک کون ذات ہے کہ جس کو تمام آسمان اور زمین کی چیزیں آفتاب و ماہتاب اور شجر و حجر سب سجدہ کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ (1) قرآن کریم کی آیات بینات پر ایمان لائے اور دین اسلام میں داخل ہوئے یعنی مسلمان ہوئے اور جو لوگ (2) یہودی ہوئے اور ستارہ پرست لوگ جو کواکب اور نجوم کی تاثیر کے معتقد ہیں اور تغیرات عالم کو انہیں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور نصاری اور مجوس یعنی آتش پرست جو آگ کو پوجتے ہیں اور دو خدا مانتے ہیں۔ خالق خیر کو ” یزدان “ کہتے ہیں اور خالق شر کو ” اہرمن “ کہتے ہیں اور وہ لوگ جو مشرک ہیں یعنی بت پرست ہیں۔ کل چھ اہل ادیان ہیں ان میں سے صرف ایک دین والے یعنی مسلمان جن کا مذہب اسلام ہے وہ حق پر ہیں اور ان کا دین اللہ کا دین ہے اور باقی پانچوں باطل پر ہیں اور انکا دین شیطان کا دین ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کے درمیان عملی طور ہر فیصلہ کر دے گا کہ مسلمانوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور کافروں کو دوزخ میں بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع ہے اس سے کسی کا عمل مخفی نہیں۔ سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔
عام طور پر دنیا میں چھ فریق ہیں (1) اہل ایمان جن کو الذین امنوا سے تعبیر کیا (دوم) یہود (سوم) نصاریٰ ۔ (چہارم) مجوسی یعنی آتش پرست (پنجم) مشرکین یعنی بت پرست۔ یہ سب مثہور ہیں۔ (ششم) صابئین۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس فرقہ کا کیا مذہب ہے۔
صابئین کے بارے میں تین قول
پہلا قول : امام شہرستانی (رح) ملل و نحل میں فرماتے ہیں کہ یہ کواکب پرستوں کا گروہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھا کواکب اور نجوم کی تعظیم ان کا مذہب تھا بعض یہ کہتے ہیں کہ اس عالم کی تدبیر انہی کواکب کے سپرد ہے اور بعض سرے سے قادر مختار کے منکر تھے اور تغیرات عالم کو انہی کی طرف منسوب کرتے تھے اور ان کی اصلاح اور ہدایت کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے یہ فرقہ صائبین نہ کسی ملت اور مذہب کا قائل تھا اور نہ پیغمبر اور پیغمبری کا قائل تھا اس فرقہ کے مقابل فرقہ کا نام حنفاء تھا جو ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کے ماننے والے تھے۔
دوسرا قول : صابئین ایک قوم ہے جو فرشتوں کو پوجتی ہے اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتی ہے اور زبور پڑھتی ہے اور صابئین اہل کتاب میں کا ایک فرقہ ہے۔
تیسرا قول : صابئین ایک قوم ہے جو مجوس اور نصاریٰ کے درمیان ہے اور ان کا کوئی دین نہیں اور نہ ان کی کوئی شریعت ہے اور نہ کسی ملت کی جانب منسون ہیں اور نہ کسی پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہی مختلف اقوال کی بنا پر فقہاء میں اختلاف ہے کہ ان کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے یاناجائز۔ جن فقہاء کے نزدیک صائین اہل کتاب میں کا کوئی فرقہ ہے تو ان کے نزدیک ان کا ذبیحہ حلال ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے اور جن فقہاء کے نزدیک یہ نے دین فرقہ ہے ان کے نزدیک انکاذبیحہ حلال نہیں اور نہ ان کی عورتوں سے نکا جائز ہے۔
خلاصۂ کلام یہ چھ دین ہیں جن میں سے پانچ دین شیطان کے ہیں اور ایک دین رحمان کا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ادیان مختلفہ کا فیصلہ فرمائیں گے۔ اہل ایمان اور اہل اسلام کو جنت میں داخل کریں گے۔ اور ان کے سواسب کافروں کو خواہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی یا مجوسی یا صابی یا مشرک سب کو جہنم میں داخل کریں گے اور یہ فیصلہ علم کی بناء پر ہوگا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر قول وفعل پر شہید ہے کوئی شئے اس سے غائب نہیں اور ان چھ فرقوں کے علاوہ ایک ساتواں فرقہ اور بھی ہے جو فرقۂ دہر یہ کے نام مشہور ہے کہ جو خدا کا منکر ہے اور حوادث عالم کو زمانہ کی طرف منسون کرتا ہے دنیاکا گمراہ ترین فرقہ یہی ہے اسکا ذکر سورة جاثیہ کی اس آیت میں آیا ہے وقالوا ماہی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم کو بیان فرمایا۔ ان آئندہ آیات میں اپنی کمال قدرت اور کمال عظمت اور کمال حکومت وسلطنت کو بیان کرتے ہیں کہ کوئی شئے اس کے احاطۂ تسخیر اور دائرۂ سلطنت سے خارج نہیں چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطب کیا تو نے اس پر نظر نہیں کی اور عقل کی آنکھ سے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی ہر ایک اپنی اپنی حالت کے مطابق اللہ کو سجدہ کرتا ہے، ایک سجدہ تو یہ ہے کہ جس میں زمین و آسمان سب شام ہیں وہ یہ کہ تکوینی طور پر اللہ کی قدرت کے سامنے بےبس ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرافگندہ ہیں اور اس عام سجدہ کے علاوہ ایک اور سجدہ ہے جو ہر چیز کا الگ الگ اور جدا جدا ہے وہ یہ کہ جس چیز کو جس کام کیلئے بنا دیا وہ اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔ سب اس کے حکم کے متبع اور فرمانبردار ہیں لیکن بہت سے لوگوں نے اس کے سجدہ سے اعراض اور انحراف کیا۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ قضاء وقدر میں ان پر عذاب کا حکم جاری ہوچکا ہے اللہ کا ارادہ انکو ذلیل کرنے کا ہے اور جس کو اللہ ذلیل کرے اسکو کوئی عزت دینے والا نہیں بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے وہ عزت اور ذلت کا مالک ہے جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔ زمین کو یہ حق نہیں کہ حق تعالیٰ سے سوال کرسکے کہ میں نے کیا قصور کیا جو مجھ کو پست بنایا اور آسمان نے کیا خدمت انجام دی کہ اس کے صلہ میں اس کو بلندی عطاء ہوئی۔
مسئلہ : یہ آیت سجدہ کی ہے اس کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہے۔
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل حق اور اہل باطل کے فیصلہ کا ذکر فرمایا اور تفصیل کے ساتھ اہل باطل کی انواع و اقسام کو بیان فرمایا لیکن یہ تمام فرقے جن کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا حق اور باطل ہونے کی حیثیت سے دو فریق ہیں۔ اس لیے فرماتے ہیں یہ دونوں یعنی مومن اور کافر اور اہل اطاعت اور اہل معصیت دو جھگڑنے والے فریق ہیں۔ ایک فریق مسلمانوں کا ہے اور دوسرا فریق کافروں کا ہے جس میں یہود اور نصاریٰ اور مجوسی اور صابئین اور مشرکین سب داخل ہیں اس لیے کہ ہمہ اقسام کفر ملت واحد ہیں۔ ہدایت ربانی اور کتاب آسمانی کے نہ قبول کرنے میں سب شریک ہیں اور ایک ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دو (2) فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا۔ مسلمانوں نے اللہ کے دین کو قبول کیا اور باقی پانچ مذکورہ فرقوں نے یعنی یہود اور نصاریٰ اور مجوسی اور صابئین اور مشرکین نے دین اسلام قبول کرنے سے انکار کیا۔ اور باہم جنگ و جدل اور قتل و قتال کا سلسلہ شروع ہوا جس کا آغاز معرکہ بدر سے ہوا۔ چناچہ بدر کے میدان میں حضرت علی ؓ اور حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ بن الحارث ؓ ، عتبہ اور شیبہ اور ربیعہ کے مقابلہ پر نکلے۔ اللہ نے مسلمانوں کو عزت دی اور کافروں کا ذلیل کیا۔ اب آگے دونوں فریق کے اخروی انجام کو بتلاتے ہیں۔ سو جن لوگوں نے کفر کیا سو اول تو ان کے لیے ان کے حبثہ کے مطابق آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے یعنی حقیقتاً آگ کا لباس ہوگا جو ان کی مصیبت کا سامان اور ان متکبرین کی ذلت کا نشان ہوگا اور دوم ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جس سے ان کے پیٹوں کی انتڑیاں اور بدن کی کھالیں پھگل جائیں گی اور پھر ان کو ویسا ہی کردیا جائیگا جیسے پہلے تھے۔ کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب۔ اور سوم ان کے مارنے کے لیے لوہے کے بڑے بھاری گرز ہوں گے جو ان کے سروں پر مارے جائیں گے اور کبھی اس مصیبت سے ان کو نجات نہ ہوگی۔ چناچہ جب کبھی شدت غم کی وجہ سے اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے تو پھر اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور فرشتے ان سے کہیں گے کہ جلنے کے عذاب کا مزہ چکھو جس کی تم دنیا میں تکذیب کیا کرتے تھے۔
یہاں تک اللہ تعالیٰ نے ایک فریق مخاصم یعنی فریق کفار کا حال بیان فرمایا اب آئندہ آیات میں دوسرے فریق مخاصم یعنی فریق مومنین کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخرت میں غایت درجہ ناز و نعمت اور عیش و عشرت میں ہوں گے اس آیت میں اہل ایمان کی چار نعمتوں کا ذکر فرمایا، چناچہ فرماتے ہیں۔
(1) تحقیق اللہ تعالیٰ داخل فرمائے گا ان بندوں کو جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر اور نیک کام کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہاں ان کو سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ جنت میں مومن کو تین قسم کے کنگن پہنائے جائیں گے ایک کنگن سونے کا اور ایک چاندی کا اور ایک موتی کا۔ سونے اور موتی کے کنگن کا ذکر تو اس آیت میں ہے اور چاندی کے کنگن کا دوسری آیت میں ہے۔ وحلوا اس اور من فضۃ۔ اور ان کا لباس وہاں رشیمین ہوگا۔ اہل جہنم کے یثاب النار کے مقابلہ میں ان کا لباس حریری ہوگا۔ علیہم ثیاب سندس خضر واستبرق وحلوا اس اور من فضۃ اور ان کو دنیا میں پاکیزہ قول کی طرف ہدایت کی گئی اور خدائے ستودہ کے راستے کی طرف ان کو ہدایت کی گئی۔ پاکیزہ قول سے کلمہء توحید یعنی لا الہ الا اللہ مراد ہے اور ” صراط حمید “ سے صراط مستقیم اوردین اسلام مراد ہے اس کے صلہ میں آج ان کو یہ نعمتیں اور کرامتیں مل رہی ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ پاکیزہ قول سے جنت میں اللہ کی حمد وثناء اور اس کی تسبیح و تقدیس کرنا مراد ہے اور صراط حمید سے طریق جنت مراد ہے۔ اور سیاق کلام کا اقتضاء یہ ہے کہ گزشتہ آیات کی طرح ان دونوں آیتوں میں اخروی ہدایت مراد لی جائے کہ اہل جنت جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ کہیں گے۔ الحمدللہ الذی صدقنا وعدہ اور الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن اور الحمد للہ الذی ھدانا لھذا۔ اور فرشتے ان پر داخل ہوں گے اور ان کو سلام کریں گے والملئکۃ یدخلون علیہم من کل باب سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار۔