Ayahs 22:63–66بیان بعض دلائل کمال قدرت و حکمت بالغہ و کمال تسخیر
قال اللہ تعالیٰ الم تر ان اللہ انزل من السماء .... الیٰ .... ان الانسان لکفور۔
(ربط) گزشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت اور کمال تسخیر کے کچھ دلائل بیان کرتے ہیں جو چھ دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل نعمت بھی۔
دلیل اول
الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فتصبح الارض مخضرۃ ان اللہ لطیف خبیر۔
اے مخاطب تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین سرسبز اور تروتازہ ہوجاتی ہے یعنی ہر قسم کے نباتات اگاتی ہے بیشک اللہ بڑا مہربان ہے کہ اس نے بندوں کی زندگی کا سامان اگایا اور بیشک وہ خبردار ہے بندوں کا حال اور ان کی ضرورتوں کو خوب جانتا ہے یہ سب اللہ کی نعمت ہے اور اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے کہ یہ سارا کارخانہ اس کی مشیت سے چل رہا ہے جس میں کسی کا کچھ دخل نہیں۔ پس اس سے تم اس کی معرفت حاصل کرو۔
دلیل دوم
لہ ما فی السموت وما فی الارض ط وان اللہ لہو الغنی الحمید۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور سب اسی کے قبضہ قدرت میں مقہور اور مسخر ہیں اور اس کے زندہ رکھنے سے زندہ ہیں اور اسی کے حرکت دینے سے متحرک ہیں اور اسی کے ساکن رکھنے سے ساکن ہیں اور بیشک اللہ ہی سے سب بےنیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں اور ہر شان میں اور ہر آن میں وہی مستحق حمدو ستائش ہے اسے اپنے دوستوں کی مدد کرنا اور ان کو غلبہ دینا کیا مشکل ہے۔
دلیل سوم
الم تر ان اللہ سخر لکم ما فی الارض۔
اے منکر توحید کیا تو نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے جو کچھ زمین میں ہے کہ جس طرح چاہو اس میں تصرف کرو اور اس سے منافع حاصل کرو ایک ضعیف انسان کو اتنی بڑی زمین اور اس کی چیزوں میں تصرف کرنے کی قدرت آخر کس نے دی پس جس ذات نے اس کرہ ارضی کو تمہارے بس میں کردیا وہی تمہارا خدا ہے۔
دلیل چہارم
والفلک تجری فی البحر بامرہ۔
اور اس خدا نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کردیا جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہے یہ بھی اسکی نعمت ہے اور اسکی قدرت کا کرشمہ ہے۔
دلیل پنجم
ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہ ان اللہ بالناس لرء وف رحیم۔
اور منجملہ دلائل قدرت کے یہ ہے کہ وہ آسمان جیسے عظیم کو تھامے ہوئے ہے اور زمین پر گرنے سے اس کو روکے ہوئے ہے اور اسی کی مشیت سے وہ اپنے مقام پر قائم ہے زمین پر گرتا نہیں مگر یہ کہ اس کا حکم ہوجائے تو فوراً گر پڑے اور بندے ہلاک ہوجائیں۔ دیکھو یہ اللہ کی کیسی رحمت ہے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ قیامت کے دن یہ زمین و آسمان سب لپیٹ دئیے جائیں گے۔
دلیل ششم
وھو الذی احیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ان الانسان لکفور۔
اور وہ وہ ہے کہ جس نے تم کو زندگی بخشی اور عدم کے بعد تم کو وجود عطا کیا اور تم میں جان ڈالی پھر جب تمہاری اجل آجائے گی تو تم کو موت دیگا اور دن رات تم اسکا مشاہدہ کرتے رہتے ہو کہ اس عالم میں اب کوئی آرہا ہے۔ اور کوئی جا رہا ہے پھر قیامت میں تم سب کو جزا سزا کے لیے زندہ کریگا پس سمجھ لو کہ وہ موت اور حیات اور وجود اور عدم کا مالک ہے پس اس کی قدرت پر نظر کرو اور جہالت اور حماقت سے قیامت کا انکار نہ کرو۔ بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے کہ اس کو اس قدر کثیر نعمتیں دی ہیں مگر وہ ہماری ان نعمتوں کا شکر نہیں کرتا اور ہمارا احسان نہیں مانتا اور ہماری الوہیت اور وحدانیت کا قائل نہیں ہوتا۔
Ayahs 22:67–72تہدید مجادلین دربار احکام شریعت
قال اللہ تعالیٰ لکل امۃ جعلنا منسکا .... الیٰ .... وبئس المصیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل الوہیت کو بیان کیا، اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرون ماضیہ میں ہر امت کو ایک خاص شریعت عطاء کی گئی جو اس زمانے کے مناسب تھی اور اب اخیر میں آپ کو یہ شریعت عطاء کی گئی تمام شریعتیں اپنے اپنے وقت میں حق تھیں اور واجب الاتباع تھیں اب اخیر زمانہ میں یہ شریعت کاملہ ہے جو آخری شریعت ہے سب پر اس کا اتباع واجب ہے کسی کو اس میں مجادلہ اور منازعت کا حق نہیں چناچہ فرماتے ہیں، ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور بندگی کی ایک راہ مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں اسی طرح ہم نے آپ کو ایک شریعت عطاء کی پس لوگوں کو چاہئے کہ دین کی کسی بات میں آپ سے جھگڑا نہ کریں اور طمع میں نہ پڑیں کہ آپ ﷺ کو اپنی طرف کھینچ لیں اور اپنی جگہ سے آپ ﷺ کو پھسلا دیں بلکہ ثاہئے کہ آپ کی شریعت کی پیروی کریں اور آپ ﷺ ان کی منازعت کی طرف التفات نہ کریں۔ آپ ﷺ حق پر ہیں اور آپ ﷺ سے منازعت کرنے والے باطل پر ہیں۔ پس آپ ﷺ اپنے حق پر قائم رہیئے اور اسی پر جمے رہیئے اور لوگوں کو اپنے پروردگار کے دین کی طرف ملاطفت اور نرمی کی کجی نہیں توحید اور اصول دین میں تمام انبیاء متفق رہے، البتہ ہر امت کے لیے عبادت اور بندگی کے طریقے بدلتے رہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص شریعت عطاء کی ہے جس کی پیروی قیامت تک سب پر لازم ہے لیکن اصول دین ہمیشہ ایک ہی رہا کہ ایک اللہ کی عبادت کریں اور یہی سیدھی راہ ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں اور آپ ﷺ لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہیں پھر یہ لوگ آپ ﷺ سے کیوں جھگڑا لگاتے ہیں۔ توحید تو ایک مسلم امر ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں اور اسکا حق ہونا روز روشن کی طرف واضح ہے اور اگر باوجود اس کے وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ﷺ ان کے جواب میں فقط اتنا کہہ دیجئے کہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ وہ تم کو تمہارے اعمال کی سزا دیگا اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں اختلاف کرتے ہو اس روز تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ” منسک “ سے شریعت اور منہاج یعنی طریقہ عبادت کے معنی مراد ہیں لفظ منسک نسک سے ماخوذ ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ منسک سے ذبح اور قربانی کے معنی مراد ہیں مگر راجح قول یہ ہے کہ منسک سے شریعت اور مطلق طریقہ عبادت مراد ہے جس کے عموم میں ذبائح بھی داخل ہیں۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 203 ج 6 اور روح المعانی ص 178 ج 17)
اب آئندہ آیات میں اثبات توحید اور ابطال شرک کے لیے اپنے کمال علم کو بیان کرتے ہیں کہ علم آسمان اور زمین کی تمام چیزوں کو محیط ہے چناچہ فرماتے ہیں اے مخاطب کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور یہ سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا موجود ہے تحقیق یہ یعنی آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا جاننا اور ازروئے علم انکا احاطہ کرنا اور لوح محفوظ میں انکا ثبت کرنا اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔ اللہ کا علم اور اس کی قدرت غیر محدود متناہی بالفعل ہے وہاں کسی وقت اور مشقت کا کوئی امکان ہی نہیں اب آگے مشرکین کی جہالت اور حماقت کو بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ مشرک لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پوجتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں نازل کی۔ بےدلیل ان کو پوجتے ہیں اور اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی بابت ان کو کوئی علم نہیں۔ یعنی محض جہالت کی بناء پر ان کی عبادت کرتے ہیں کسی عقلی یا نقلی دلیل کی بناء پر نہیں کرتے غرض یہ کہ جن بتوں کو انہوں نے معبود بنایا ہوا ہے ان کے پاس نہ کوئی نقلی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل ہے۔
اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہ جو قیامت کے دن ان کو عذاب سے بچا سکے یا چھڑا سکے اور ان ظالموں کے ظلم اور عناد کا حال یہ ہے کہ جب ان پر ہماری صاف اور واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو اس کی الوہیت اور وحدانیت کی روشن دلیلیں ہوتی ہیں تو اے دیکھنے والے تو اس وقت ان کافروں میں ناگواری کو اچھی طرح پہچان لے گا کہ اس قسم کی آیات بینات کو سنتے ہی انکے تیور بدل جاتے ہیں اور ناگواری اور ترشروئی سے بڑ بڑانے لگتے ہیں اور کمال نفرت سے حال یہ ہوتا ہے کہ قریب ہوتا ہے ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہیں یعنی غیظ و غضب میں آکر اس کے قریب ہوجاتے ہیں کہ حضور پر نور ﷺ پر اور آپ ﷺ کے اصحاب ؓ پر حملہ کردیں اور یہی حالت ان کی حالت کی واضح دلیل ہے۔ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں تم کو اس سے بری اور ناگوار چیز کی خبر نہ دوں۔ وہ آگ ہے جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے تو اس قرآن سے کیا ناخوش ہوتے ہو۔ ناگواری اور ناخوشی کی چیز تو وہ آگ ہے جو تمہارے لیے مہیا ہے اس ناگواری کی کچھ فکر کرو اور سوچو کہ یہ قرآن تمہارے حق میں زیادہ برا ہے یا وہ آگ زیادہ بری ہے۔
Ayahs 22:73–76بیان مثال معبودات باطلہ برائے ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ یایھا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ .... الیٰ .... والی اللہ ترجع الامور۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مشرکین کی جہالت کو بیان کیا کہ جن چیزوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل اور سند نہیں اب ان آیات میں شرک کی شناعت اور قباحت کو اور مشرکین کی حماقت کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کرتے ہیں کہ جن چیزوں کو یہ معبود بنائے ہوئے ہیں وہ چیزیں قابل عبادت نہیں۔ عبادت کے لائق تو وہ ذات ہے کہ جو قادر مطلق ہو اور یہ بت تو عاجز مطلق ہیں۔ ان میں کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت نہیں یہ تو اس قدرت عاجز ہیں کہ اپنے اوپر سے مکھی دفع کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتے۔ چناچہ فرماتے ہیں، اے انسانو ! تمہارے سمجھنے کے لئے ایک مثال بیان کی جاتی ہے تو اس مثال کو کان کھول کر خوب غور سے سنو۔ تحقیق جن بتوں کو تم اللہ کے سوا اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ حالانکہ وہ ایک نہایت حقیر و صغیر جانور ہے اگرچہ وہ سب اس کام کے لیے جمع بھی ہوجائیں اور متفق ہو کر پیدا کرنا چاہیں تو مکھی جیسی چھوٹی اور حقیر چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکیں گے اور پیدا کرنا تو درکنار ان کی عاجزی کا حال تو یہ ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ مشرکین اپنے بتوں پر زعفران لگاتے اور ان کے سامنے کھانے اور مٹھائیاں رکھتے تو مکھیاں جمع ہوجائیں اور اس میں سے لے جائیں تو یہ بت ان مکھیوں سے بھی بدتر ہوئے اور وہ مکھیاں ان بتوں سے بہتر ہوئیں کہ وہ ان سے چھین لے جاتی ہیں اور یہ بت ان سے کچھ نہیں چھین سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ضعیف اور ناتواں ہیں۔ ” طالب “ سے عابد اور بت پرست مراد ہے اور ” مطلوب “ سے انکا معبود یعنی بت مراد ہے افسوس کہ ان نادانوں نے اللہ کی قدر نہ جانی۔ جیسا کہ اس کا حق تھا، جہالت اور حماقت کی حد ہے کہ خالق السموت والارض کے ساتھ ان بتوں کو معبودیت میں شریک بنا لیا کہ جو ایک مکھی کے سامنے بھی عاجز اور لاچار ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا اور عزت والا ہے، عبادت تو اس کا حق ہے۔ قوی اور عزیز کو چھوڑ کر ایک حقیر و کمزور چیز کو خدا بنانا پر لے درجہ کی حماقت ہے اور انسانیت کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ بندہ میں یہ قدرت نہیں کہ وہ اللہ کو صحیح طور پر پہچان سکے اس لیے اللہ تعالیٰ بندوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجتا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی ذات وصفات سے آگاہ کریں بندے اس بات سے عاجز ہیں کہ وہ محض اپنی عقل سے خدا کو پہچان سکیں، اس لیے آئندہ آیت میں نبوت کا مسئلہ بیان فرماتے ہیں اللہ ہی انتخاب کرتا ہے فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے اور اسی طرح لوگوں میں سے پیغمبروں کو اپنے پیغامات اور احکام پہنچانے کے لیے منتخب کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ پیغام پہنچانے کے لیے انتخاب کرنا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ اپنا پیغام دیکر مائ کہ کو انبیاء کی طرف بھیجتا ہے اور انبیاء کو لوگوں کی طرف بھیجتا ہے۔ پیغام لے جانے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ فرشتہ ہی ہو خدا کو اختیار ہے کہ فرشتہ کے ذریعہ بھیجے یا بشر کے ذریعہ۔
بیشک اللہ تمہارے اقوال کو سننے والا اور تمہارے افعال کو دیکھنے والا ہے تمہارا کوئی حال اس سے پوشیدہ نہیں اور وہ سمیع وبصیر خوب جانتا ہے جو ان کے روبرو اور سامنے ہے اور جو ان کے پس پشت اور پیچھے ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں اور پیغمبروں اور تمام احوال سے اور ان کے ماضی اور حال اور استقبال سے پورا پورا باخبر ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنی رسالت کے لیے منتخب کرے اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔ اور تمام امور کا موجع اللہ ہی کی ذات بابرکات ہے، ہر چیز کا اختیار اسی کو ہے اللہ کے سوا اختیار کسی کو نہیں۔
Ayahs 22:77–78خاتمہ سورت برترغیب اعمال و تاکید اعتصام بملت اسلام
قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا .... الیٰ .... ونعم النصیر۔
(ربط) گزشتہ آیات میں شرک کا ابطال اور توحید و رسالت کا اثبات فرمایا اب ان آیات میں مسلمانوں کو اعمال خیر کی ترغیب اور دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید اکید فرماتے ہیں جو نجات اور فلاح کا ذریعہ ہیں اور اعمال خیر میں تمام خیرات و صدقات اور مکارم اخلاق اور محاسن اور افضل ترین عمل ہے اور ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ دین اسلام بہت آسان دین ہے اس پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ دن رات سرگرم عبادت رہو۔ اور ملت ابراہیمی پر قائم و دائم رہو اور اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو تاکہ مولائے برحق کی حمایت اور نصرت تمہارے ساتھ رہے اور ملت ابراہیمی اور ملت اسلام تمام اصول و فروع کے مجموعہ کا نام ہے اس پر قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے مضامین کو ملت ابراہیمی کے اتباع کے حکم پر ختم فرمایا۔ چناچہ فرماتے ہیں اے مسلمانو جو انبیاء کی ہدایت سے ہماری باتوں پر ایمان لائے اگر تم ہماری رضا اور خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہماری عبادت اور بندگی کو اختیار کرو۔ رکوع اور سجدہ کرو اور دن رات اپنے پروردگار کی بندگی میں لگے رہو اور عبادت کے علاوہ ہر خیر اور نیکی کا کام کرو جو خدا کے نزدیک نیکی اور بھلائی ہے امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے۔ اس آیت پر امام شافعی (رح) کے نزدیک سجدہ ہے اس سورت میں جو پہلا سجدہ گزرا وہ تو متفق علیہ ہے اور یہ دوسرا سجدہ مختلف فیہ ہے امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) کا مذہب یہ ہے کہ سورة حج میں دو سجدے ہیں جیسا کہ ترمذی اور ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ کیا سورة حج میں دو سجدے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور جو شخص دو سجدے نہ کرے وہ اس سورت کو نہ پڑھے۔
اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کا مذہب یہ ہے کہ اس آیت پر سجدہ نہیں۔ کیونکہ اس سجدہ کا ذکر رکوع کے ساتھ ہوا ہے لہٰذا یہ سجدہ نماز کا ہے۔ تلاوت کا نہیں۔
اور اگر تم قرب اور رضا کے بلند مقام پر پہنچنا چاہتے ہو تو اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو حق ہے اس کے جہاد کا۔ ظاہری دشمن یعنی کافروں اور مشرکوں سے بھی جہاد کرو اور باطنی دشمن یعنی نفس امرہ اور نفسانی خواہشوں کے لشکر سے اور شیطان کے لشکر سے بھی جہاد کرو اور ایسا جہاد کرو کہ جہاد کا حق ادا ہوجائے۔ خدائے برحق نے تم کو اپنی عبودیت اور اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے اور اسی لیے تم کو منتخب کیا ہے کہ تم اس کی عبودیت اور اس کے دین کی خدمت میں اپنی جان و مال اور جدوجہد کو پانی کی طرح بہا دو ۔ اور خدا کے ظاہری اور باطنی دشمنوں کا مقابلہ کرو اور دین کے بارے میں اللہ نے تم پر کوئی تنگی اور سختی نہیں رکھی۔ خدا نے تم کو کوئی حکم ایسا نہیں دیا کہ جو تمہاری طاقت سے باہر ہو اور ضرورت کے وقت تم کو رخصتیں عطا کیں جیسے سفر میں نماز کا قصر کرنا اور بیماری کی حالت میں تیمم کرنا اور سفر اور بیامری کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا غرض یہ کہ اللہ نے فرائض اور واجبات میں طرح طرح کی رخصتیں اور سہولتیں رکھی ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے الذین یسر دین اسلام بہت آسان ہے لہٰذا تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت کو لازم پکڑو جو نہایت آسان ہے اور حدیث میں ہے بعثت مع الحنیفیۃ السمحۃ میں ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کی ملت اور آسان شریعت دیکر بھیجا گیا ہوں اور ابراہیم (علیہ السلام) اکثر عرب کے باپ تھے اور ان کی حیات جسمانی کے سبب تھے اور ان کی ملت جو آپ صلی اللہ (علیہ السلام) لیکر آئے ہیں، وہ قیامت تک کے لئے تمام عالم کے روحانی حیات کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے گزشتہ کتابوں میں اور اس قرآن میں بھی تمہارا نام مسلمان رکھا اور ” مسلم “ اور ” مسلمان “ کے معنی فرما نبردار اور وفادار کے ہیں تو تم کو چاہیے کہ اس نام کی لاج رکھو اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ اور سپرد کرو اور اس کے حکم کے سامنے گردن ڈال دو ۔ اسلام کے معنی لغت میں تسلیم کے ہیں یعنی اپنے آپ کو کسی کے سپرد کردینے اور اس کے سامنے گردن ڈال دینے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اور اگلی کتابوں میں تمہارا نام مسلمین اور مومنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ پس نافرمانبردار بندہ بن کر دکھاؤ تاکہ اسم باسمی کا مصداق بن سکو اور اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تم کو یہ شرف اور امتیاز اس لیے عطاء کیا تاکہ قیامت کے دن رسول خدا تم پر گواہ ہوں اور تم تمام امتوں پر گواہ بنو۔ قیامت کے دن جب تمام امتیں اور ان کے رسول جمع ہونگے تو وہ امتیں یہ کہیں گی کہ ہم کو پیغمبروں نے تبلیغ نہیں کی۔ پیغمبر کہیں گے کہ ہم نے ان کو تبلیغ دی تھی، اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے گواہ مانگے گا تو وہ امت محمودیہ کو بطور گواہ پیش کریں گے۔ امت محمدیہ گواہی سے گی کہ پیغمبروں نے امتوں کو اللہ کا پیغام دیا تھا تو اس وقت امت محمدیہ سے سوال ہوگا کہ تم کو کیسے معلوم ہوا۔ جواب دیں گے کہ ہم کو محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کی خبر دی تھی۔ بعد ازاں آنحضرت ﷺ اس کی تصدیق فرمائیں گے۔
پس اے مسلمانو ! اللہ نے تم کو جو تمام امتوں میں سے منتخب کیا اور تم کو خیر الامم بنایا اور تمہارا نام ہی مسلمان رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے ایک بڑے مقدمہ میں تم کو بطور گواہ کھڑا کرنا ہے تاکہ تمہاری شہادت سے تمام امتوں کے مقابلہ میں تمہاری عدالت اور فضیلت ظاہر ہو۔ پس اس عزت و کرامت کی لاج رکھنا اور خدا کی فرمانبرداری اور وفاداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنا۔ پس جب خدا تعالیٰ نے تم کو یہ فضل و شرف عطا کیا ہے تو تم نماز کو ٹھیک ٹھیک قائم رکھو اور زکوٰۃ و خیرات دیتے رہو اور ہر حال میں اللہ کے دین کو مضبوط پکڑے رہو۔ وہی تمہارا آقا ہے سو کیا ہی اچھا آقا ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔ لہٰذا اسی پر بھروسہ رکھو اور کسی پر نظر نہ کرو۔ اس سے تعلق رکھنے والا بندہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا۔ فلاح دارین کا دارومدار اس سے وابستگی اور تعلق پر ہے اس کے بعد سورة مومنوں آتی ہے جس کے شروع میں ان اعمال خیر کا ذکر ہے جن سے انسان کو فلاح حاصل ہوتی ہے۔
سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔
الحمدللہ آج بتاریخ 18 محرم الحرام سنہ 1391 ے روز سہ شنبہ بعد اذان ظہر بمقام جامعہ اشرفیہ لاہور۔ سورة حج کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ اے اللہ اپنی رحمت سے بقیہ قرآن کی تفسیر بھی مکمل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ اور قبول فرما۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔