Ayahs 25:41–44تشنیع کفار براستہزاء سید الابرار
قال اللہ تعالیٰ واذا اروک ان یتخذونک الا ھزوا .... الیٰ .... بل ھم اضل سبیلا۔
(ربط) اوپر سے سلسلہ کلام کفار کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا چلا آرہا تھا جس سے مقصود کفار کی تشنیع اور ملامت تھی اب آئندہ آیات میں پھر کفار کے ذمائم اور شنائع قولیہ اور فعلیہ کو بیان کرتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت آپ ﷺ کو غایت درجہ حقیر سمجھتے ہیں اور آپ کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ قائم نہ رہتے تو یہ محض ہم کو کبھی کا گمراہ کرچکا ہوتا حق تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ عنقریب یعنی مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ تھا۔
اور یہ منکرین نبوت تکذیب اور ان کر میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کو سوائے اس کے کچھ کام نہیں کہ تیرا ٹھٹھا کرتے ہیں اور تیری ہنسی اڑاتے ہیں حالانکہ آپ کی شان امانت اور صدق مقال اور حسن افعال اور مکارم اخلاق ان کو سب معلوم ہے اور بطور تمسخر اور مذاق یہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ معجزات اور دلائل نبوت ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ بیشک یہ شخص قریب تھا کہ اپنی دلفریب باتوں سے ہم کو ہمارے معبودوں سے گمراہ کردیتا۔ اور ہم کو ان کی عبادت سے بچلا دیتا اگر ہم ان معبودوں کی عبادت پر مضبوطی کے ساتھ نہ جمے رہتے آپ ﷺ دن رات ان کے سامنے دلائل توحید اور دلائل نبوت بیان کرتے اور یہ نادان توحید کو گمراہی اور شرک اور بت پرستی کو ہدایت سمجھتے اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اور عنقریب جان لیں گے یہ لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے کہ کون بڑا گمراہ ہے یعنی جب عذاب الٰہی کو دیکھیں گے یا جب مریں گے تب پتہ چلے گا کہ کون گمراہ تھا، اے نبی بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنے نفس کی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے دلیل اور حجت سے اسے کوئی بحث نہیں جدھر اس کو اس کے نفس کی خواہش لے جاتی ہے اسی طرف دوڑنے لگتا ہے۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم ہوا اسے پوجنے لگے کل دوسرا پتھر اس سے زیادہ خوبصورت مل گیا پہلے کو چھوڑ کر اس کے سامنے سر جھکا دیا۔ پس کیا آپ ایسے ہوا پرست کے کفیل اور ذمہ دار ہوسکتے ہیں کہ اس کو راہ راست پر لے آئیں یعنی جس شخص نے نفس کی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہو اسے کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا۔ اے نبی کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر لوگ آپ کی بات کو سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ آپ ﷺ کتنے ہی دلائل توحید بیان کریں مگر اکثر ان میں سے ایسے ہیں کہ نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔
نہیں ہیں یہ لوگ مگر جانوروں کی مانند۔ نہ سنیں اور نہ سمجھیں مثل چوپایوں کے ہیں ان کے سامنے دلائل عقلیہ اور معجزات قاہرہ سب بےکار ہیں۔ بلکہ یہ لوگ چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ جانور اپنے مالک کو پہچانتے ہیں مالک کے سامنے گردن جھکادیتے ہیں اپنے نفع اور مضرت کی چیز کی کچھ شناخت رکھتے ہیں۔ جانوروں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کون سا گھاس ہمارے لیے نفع بخش ہے اور کونسا مضر ہے جانور اپنے چراگاہ اور گھاٹ پر چلے بھی جاتے ہیں مگر یہ بدبخت اپنے مالک کے سامنے گردن جھکانے کے لیے تیار نہیں اور چشمہ ہدایت سے ایک قطرہ آب پینے پر آمادہ نہیں، ہزار دلائل قدرت اور ہزار براہین رسالت ان کے سامنے بیان کریں تو انکا سننا بھی ان کو گوارا نہیں اس لیے آئندہ آیات میں ان چند دلائل قدرت اور آیات وحدانیت کو بیان کرتے ہیں جو ہر وقت ان کی نظروں کے سامنے ہیں۔
Ayahs 25:45–46ذکر دلائل توحید و عجائب قدرت و صنعت
قال اللہ تعالیٰ الم تر الیٰ ربک کیف مدا الظل .... الیٰ .... لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالت بیان فرما دی اور ان کی گمراہی ظاہر کردی اب آئندہ آیات میں منکرین وحدانیت کی تشنیع کے لیے اپنی قدرت کے آثار اور توحید کے چند دلائل بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اشیاء متضادہ اور مختلفہ کے پیدا کرنے پر قدرت تامہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قادر مطلق اور واحد قہار ہونے کی دلیل ہے اور ایسی چیزیں ہیں کہ کفار دن رات اسکا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اگر ذرا غور کریں تو اللہ کی قدرت اور وحدانیت ان پر واضح ہوجائے۔ اس سلسلہ میں حق جل شانہ نے پانچ قسم کے دلائل ذکر فرمائے۔
قسم اول۔ استدلال بنظر و رحالت سایہ
الم تر الی ربک کیف مدالظل ولو شاء لجعلہ ساکنا ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا ثم قبضناہ الینا قبضا یسیرا۔
دلائل توحید کی پہلی قسم یہ ہے کہ سایہ کی حالت میں غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے سایہ کو دراز کیا اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حال اور ایک انداز پر ٹھہرا دیتا پھر اس نے آفتاب کو سایہ کے پہچاننے کے لیے دلیل بنایا کہ آفتاب کی شعاعوں سے سایہ پہچانا گیا اور پھر اس سایہ کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچا۔ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک سایہ کا دراز ہونا اور پھر آفتاب کا طلوع ہونا اور زمین پر اس کی شعاعوں کا پڑنا اور پھر بتدریج سایہ کا سمٹنا یہ سب اس کی قدرت کے دلائل ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اے دیکھنے والے کیا تو نے اپنے پروردگار کے اس کرشمہ قدرت اور عجوبہ صنعت کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے محض اپنی قدرت سے طلوع فجر یعنی صبح صادق سے لیکر طلوع آفتاب تک کس طرح سایہ کو تان دیا اور لمبا اور دراز کردیا اور زمین پر اس کو پھیلا دیا، یہ سب اس کی قدرت کا کرشمہ ہے ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھ صبح صادق سے اور خاص کر اسفار کے بعد سے سورج نکلنے تک سایہ ہی سایہ رہتا ہے نہ سورج کی شعاع ہوتی ہے اور نہ رات کی سی تاریکی ہوتی ہے دھوپ اور تاریکی کے درمیان ایک بین بین حالت ہوتی ہے اور یہی ظل یعنی سایہ کی حقیقت ہے امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔ ظل یعنی سایہ حقیقت میں ایک ایسی ہی درمیانی چیز کا نام ہے جو خالص روشنی اور خالص تاریکی کے درمیان میں ہو اور یہ درمیانی کیفیت اور متوسط حالت نہایت عمدہ وقت اور بہترین زمانہ ہے اس لیے کہ خالص تاریکی طبعًا مکروہ اور ناگوار ہے۔ طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے اور آنکھ کی بینائی اس سے معطل ہوجاتی ہے کوئی چیز نظر نہیں آتی اور آفتاب کی شعاعوں سے نظر خیرہ ہوجاتی ہے اور اس کی روشنی سے آنکھ پراگندہ ہوجاتی ہے اور ہوا گرم ہوجاتی ہے اور صبح صادق اور اسفار سے لیکر طلوع آفتاب تک جو وقت ہوتا ہے اس میں یہ دونوں باتیں نہیں ہوتیں اسی وجہ سے جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ظل ممدود بھی ہے جنت میں ایسا ہی سایہ ہوگا۔ غرض یہ کہ سایہ بندوں کے لیے اللہ کی عجیب رحمت ہے اور اس کی قدرت کی عجیب و غریب صفت ہے نہ خالص تاریکی ہے جس سے طبیعت کو نفرت ہو اور تیز روشنی ہے جس سے نگاہ پراگندہ ہو اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس سایہ کو ٹھہرائے رکھتا کہ وہ سایہ ایک ہی حال پر اور ایک ہی انداز پر ٹھہرا رہتا یعنی یہی ظل کیفیت دائم اور مستمر رہتی کہ آفتاب طلوع نہ ہوتا یا اگر طلوع بھی ہوتا تو خدا کی قدرت اور مشیت سے۔ آفتاب اس سایہ کو زائل نہ کرسکتا اور باوجود طلوع آفتاب کے یہ سایہ اپنے حال پر رہتا۔ سایہ ہو یا آفتاب ہو کسی کی بھی حرکت خود اس کے اختیار میں نہیں۔ اللہ جس کو چاہے متحرک کرے اور جس کو چاہے ساکن کرے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس سایہ کو ساکن کردیتا۔ آفتاب کا طلوع اور غروب خود اس کی اختیاری چیز نہیں کہ وہ جو حالت چاہے اپنے لیے اختیار کرے۔ جب چاہے چل پڑے اور جہاں چاہے ٹھہر جائے۔ آفتاب کی حرکت اور اس کا سکون خود اس کے اختیار میں نہیں کہ جو چاہے اپنے لیے اختیار کرے اسی طرح سایہ کا گھٹنا اور بڑھنا اور ٹھہرنا خود سایہ کے اختیار میں نہیں بلکہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔
یہ سایہ جو طلوع فجر سے لیکر سورج نکلنے تک رہتا ہے جنت کے سایہ کا ایک نمونہ ہے۔ جنت میں آفتاب کی دھوپ نہ ہوگی۔ یہی سایہ ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ سایہ اسی طرح ٹھہرا رہتا اور آفتاب طلوع ہی نہ ہوتا جس طرح اللہ کی قدرت سے جنت میں ہمیشہ سایہ ہوگا اور دھوپ نہ ہوگی اسی طرح اللہ کی قدرت ہے کہ اگر وہ چاہتا تو دنیا میں بھی اس سایہ کو قائم رکھتا اور آفتاب طلوع ہی نہ ہوتا یا طلوع ہوتا تو تب بھی وہ اس سایہ کو قائم رکھتا۔ خدا تعالیٰ کی قدرت دنیا اور آخرت میں سب جگہ یکساں ہے۔ پھر ہم نے اپنی قدرت کا ایک اور کرشمہ دکھلایا کہ سورج کو پیدا کیا اور مشرق سے اس کو نکالا جس سے دھوپ پھیلنی شروع ہوئی اس طرح ہم نے سورج کو اس سایہ کے پہچاننے کی ایک دلیل یعنی ایک علامت اور نشانی بنایا کہ سورج نکلنے سے سایہ پہچانا گیا۔ اس طرح آفتاب سایہ کے وجود کی دلیل بنا۔ اگر دھوپ نہ ہوتی تو کوئی شخص سایہ کو نہ پہچان سکتا کہ سایہ کیا چیز ہے جب آفتاب نکلا تب سایہ نظر آیا اور اس وقت سایہ کی شناخت ہوئی کہ سایہ ایسا ہوتا ہے اور دھوپ ایسی ہوتی ہے اس لیے کہ ایک ضد کی شناخت دوسری ضد سے ہوتی ہے وبضدھا تتبین الاشیاء۔ اچھے سے برے کی تمیز ہوتی ہے اور سفید سے کالے کی تمیز ہوتی ہے اور نور سے ظلمت کی شناخت ہوتی ہے اور جس چیز سے کسی چیز کی حقیقت واضح ہو وہی اس کی دلیل ہے۔
اس اعتبار سے آیت میں طلوع آفتاب کو وجود ظل کی دلیل قرار دیا۔ طلوع آفتاب سے پہلے کسی جسم کا مثلاً انسان کا یا حیوان یا دیوار کا کوئی سایہ نہیں ہوتا۔ صبح صادق اور طلوع آفتاب کے درمیان جو ظلی کیفیت ہوتی ہے اس حالت میں جسم کی صرف دو چیزیں دکھائی دیتی ہیں ایک جسم کا وجود اور دوسرا اس کا رنگ۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد جب دھوپ نمودار ہوجاتی ہے تو اس وقت تین چیزیں نظر آتی ہیں۔ (1) ایک جسم کا وجود (2) اور دوسرا جسم کا رنگ یہ دو چیزیں طلوع آفتاب سے پہلے بھی دکھائی دیتی تھیں۔ (3) اور تیسری چیز جو طلوع آفتاب کے بعد دکھائی دیتی ہے وہ اس جسم کا سایہ ہے جو پہلے نظر نہیں آتا تھا۔ طلوع آفتاب کے بعد زمین پر جسم کا سایہ بھی نظر آتا ہے طلوع آفتاب سے پہلے سایہ کا وجود نہ تھا۔ طلوع آفتاب کے بعد جب دھوپ نکلی تب اس تیسری چیز کے وجود کا علم ہوا اس لیے فرمایا کہ ہم نے طلوع آفتاب کو سایہ کے لیے دلیل بنایا جس کو ذریعہ سایہ پہچانا گیا۔ اگر آفتاب کی روشنی نہ ہوتی تو دیکھنے والے کو فقط دو چیزیں نظر آتیں۔ ایک جسم کا وجود اور دوسرا اسکی رنگت اور ہیئت مگر تیسری چیز یعنی جسم کا سایہ اس کو نظر نہ آتا۔ سا یہ کا احساس اور اس کی شناخت آفتاب کے دھوپ کے ذریعہ ہوئی اگر سورج نہ نکلتا اور دھوپ نہ ہوتی تو ہم سایہ کو سمجھ بھی نہ سکتے کہ سایہ کیا چیز ہے۔ ایک ضد کے آنے سے دوسری ضد سمجھ میں آئی۔ کما قال تعالیٰ قل ارائیتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا الی یوم القیامۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء دیکھو تفسیر کبیر ص 377 ج 6 حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 445 ج 3 و روح المعانی ص 25 ج 19۔
قتادہ (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں کہ آفتاب کی دلیل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آفتاب اس سایہ کے پیچھے لگا آرہا ہے۔ یہاں تک کہ پورے سایہ پرچھا جاتا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ دلیل کے معنی رہبر کے ہیں کہ آفتاب سایہ کا رہبر ہے اور سایہ آفتاب کا تابع ہے اس لیے کہ سایہ کی کمی اور بیشی اور اسکا پھیلنا اور سمٹنا آفتاب کی حرکت کے تابع ہے۔
پھر سورج نکلنے کے بعد ہم نے اس سایہ کو آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا اپنی طرف سمیٹا۔ اللہ ہی کی قدرت اور مشیت سے اصل ظل کا ظہور ہوا تھا پھر اس کی قدرت اور مشیت سے اس ظل کو آہستہ آہستہ قبض کرنے سے تعبیر کیا۔ طلوع صادق سے لیکر طلوع آفتاب تک سایہ تمام روئے زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے پھر جب سورج نکلتا ہے تو تھوڑا تھوڑا گھٹنا شروع ہوتا ہے جس قدر سورج اوپر چڑھتا جاتا ہے اسی قدر سایہ کم ہوتا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ آفتاب کی روشنی اور اس کی شعاع سایہ کی جگہ قائم ہوتی جاتی ہے اور زمین چمک اٹھتی ہے۔ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک یہی حال رہتا ہے اور اس طرح بتدریج سایہ کے سمیٹنے میں بڑی حکمتیں اور منفعتیں ہیں اوقات اور ساعات کی تعیین اسی طرح بتدریج سایہ کے گھٹنے اور بڑھنے سے ہوتی ہے جیسا کہ حق جل شانہ کا ارشاد ہے۔ ویسئلونک عن الاھلۃ قل ہی مواقیت للناس والحض الایۃ۔
صبح سے لیکر شام تک سایہ اور دھوپ ایک حال پر نہیں رہتا بلکہ بدلتا رہتا ہے اس تغیر اور تبدل سے اور اس کمی اور زیادتی سے دین اور دنیا کے کاروبار کے لیے اوقات معین کیے جاتے ہیں اگر صبح سے لیکر شام تک ایک ہی حالت رہتی تو ساعات اور اوقات کی تعیین ناممکن تھی پانچ نمازوں کے اوقات کیسے متعین ہوتے اور بازاروں اور دفتروں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کیسے مقرر ہوتے۔
غرض یہ کہ سایوں کا اس طرح آہستہ آہستہ گھٹنا اور ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا حق جل شانہ کے کمال قدرت کی دلیل ہے اور ہر تغیر بندوں کے حق میں نعمت ہے۔ اگر سایہ ایک بار ہی لے لیا جاتا تو لوگوں کے جو کام سایہ سے متعلق ہیں وہ معطل ہوجاتے۔ ولوشاء لجعلہ ساکنا۔ درمیان کلام میں جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ سایہ کا دراز ہونا اور اس کا سمٹنا محض اللہ کی قدرت اور اس کی مشیت سے ہے اسباب عادیہ اور امور مادیہ کو اس میں دخل نہیں آفتاب کا افق کے قریب ہونا اور پھر افق شرقی سے اسکا طلوع ہونا اس میں کسی مادہ اور طبیعت کو اور کسی نیچر اور فطرت کو دخل نہیں آفتاب کی حرکت اور اس کا طلوع اور غروب سب اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
آیت ہذا کی تفسیر میں دوسرا قول
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ کیف مدالظل میں ظل سے اجسام کثیفہ کا وہ سایہ مراد ہے جو طلوع آفتاب کے بعد شروع دن میں نمودار ہوتا ہے اور دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے۔ کما قال تعالیٰ اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء یتفیؤ ظلا لہ۔ اور مطلب یہ ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جب آفتاب افق سے طلوع کرتا ہے تو کھڑی ہوئی چیزوں کا سایہ لمبا اور دراز پڑتا ہے پھر جوں جوں سورج چڑھتا جاتا ہے تو اس کے مقابل مغرب کی جانب سے سایہ گھٹتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ٹھیک دوپہر کے وقت ہر شئی کا سایہ اس کی جڑ میں لگ جاتا ہے تو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے سایہ کو اپنی طرف کھینچ لیا پھر زوال کے بعد ایک طرف سے دھوپ سمٹنی شروع ہوتی ہے اور دوسری طرف سایہ لمبا ہونے لگتا ہے آخر جب آفتاب غروب ہوجاتا ہے کو تو دھوپ غائب ہوجاتی ہے اور تاریکی چھا جاتی ہے اور سایہ فنا ہوجاتا ہے اور سایہ کے اس طرح تدریجا فنا ہوجانے کو اپنے پاس آنے سے تعبیر کیا کہ وہ تمہاری نظروں سے فنا ہو کر ہمارے پاس پہنچ گیا۔ بہر حال سایہ ہو یا دھوپ ہو اسی کے حکم سے پردہ عدم سے نکل کر وجود میں آیا تھا۔ اور اسی کے حکم سے عدم کے پردہ میں چلا گیا اگر اللہ چاہتا تو ہر چیز کے سایہ کو اسی کے ساتھ لازم اور قائم کردیتا اور ایک حالت پر اس کو ٹھہرا دیتا اور سایہ کے لیے لمبے دراز ہونے سے مخلوق کو جو نفع پہنچ رہا ہے وہ نفع نہ پہنچتا۔
غرض یہ کہ سایہ اور دھوپ کا تغیر اور تبدل اور کمی اور زیادتی اور انکا فنا اور زوال یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب چیزیں حادث ہیں اور ان کے تغیرات اور انقلابات کی باگ کسی علیم و قدیر کے ہاتھ میں ہے کہ جو ان تغیرات سے اپنی قدرت کا تماشا دکھا رہا ہے۔ کہ دیکھ لو کہ وجود اور عدم کا تماشا اس طرح دکھلایا جاتا ہے اور دھوپ اور سایہ جو کارخانہ عالم کا تانا اور نانا اس کو قدرت اور مشیت کی انگلیوں پر اس طرح نچایا جاتا ہے اور سایہ اور دھوپ کے ان تغیرات میں اور ان کھیل اور تماشوں میں بندوں کے لیے نعمتوں اور راحتوں کے عجیب عجیب سامان ہیں جن کے شکر سے زبان قاصر ہے۔ دیکھو تفسیر کبیر ص 378 ج 6 و حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 455 ج 3۔
خلاصہ کلام یہ کہ آیت ہذا کی تفسیر میں یہ دو قول مشہور ہیں جو ہم نے ذکر کیئے۔
قول اول : جمہور علماء تفسیر کا قول یہ ہے کہ کیف تدالظل میں ظل سے وہ سایہ مراد ہے کہ جو صبح صادق سے یا وقت اسفار سے لے کر طلوع آفتاب تک رہتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ اور ابو العالیہ (رح) اور ابو مالک اور مسروق اور مجاہد اور سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی اور ضحاک اور قتادہ اور حسن بصری رحمہم اللہ تعالیٰ سے یہی مروی ہے کہ ” ظل “ سے وہ سایہ مراد ہے کہ جو طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان ہے۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 330 ج 3 اور ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا۔ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے طلوع آفتاب کو اس سایہ کی دلیل بنایا اس لیے کہ طلوع آفتاب سے یہ معلوم ہوا کہ صبح صادق سے لیکر طلوع آدتاب تک جو اجالا تھا۔ وہ آفتاب کا اثر تھا اور اس کی آمد آمد کا نشان تھا اگر خدا چاہتا تو سورج کو نہ نکالتا اور وہ سایہ اسی حال پر برقرار رہتا جس حال پر وہ طلوع آفتاب سے پہلے تھا لیکن اس نے اپنی قدرت سے سورج کو نکالا اور آہستہ آہستہ اس سایہ کو ختم کیا یہ سب اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
دوسرا قول : اور دوسرا قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ ظل سے کھڑی ہوئی چیزوں کا سایہ مراد ہے کہ یہ طلوع آفتاب سے لیکر زوال تک اور پھر زوال سے لیکر غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ دیکھو صاوی حاشیہ جلالین ص 160 جلد 3۔
کیونکہ عرف میں ظل کا اطلاق اس سایہ پر آتا ہے کہ جو شروع دن میں ہوتا ہے فئی کے اصل معنی رجوع کے ہیں کہ جب آفتاب مشرق سے مغرب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ابن السکیت کہتے ہیں کہ ظل وہ سایہ ہے کہ جس کو آفتاب منسوخ کر دے اور فئی وہ سایہ جو آفتاب کو یعنی اس کی دھوپ کو منسوخ کر دے بہرحال ظل سے جو معنی بھی مراد لیے جائیں وہ کمال قدرت اور کمال صنعت کے بیان سے خالی نہیں جو اللہ جل شانہ کی وحدانیت اور کمال صنعت کی دلیل ہے اور علاوہ ازیں غایت رحمت اور نہایت نعمت کی بھی دلیل ہے کہ اللہ نے بندوں کی راحت کے لیے سایہ اور دھوپ کے پیدا کیا۔
(1) ظل یعنی سایہ کو دراز کرنا (2) طلوع آفتاب کو اس پر دلیل بنانا اور (3) قبض یسیر یعنی سایہ کو آہستہ آہستہ سمیٹنا یہ سب اس کی قدرت کے کرشمے ہیں۔ سایہ کا دراز ہونا اور اس کا سمٹنا یہ سایہ کا خود اختیاری فعل نہیں اور علی ہذا طلوع۔ یہ آفتاب کا فعل اختیاری نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور مشیت کے تابع ہے۔ غرض یہ کہ ان آیات میں جن عجائب قدرت کا ذکر کیا ہے بلاشبہ وہ اس کی الوہیت اور وحدانیت کے دلائل ہیں۔
آیت ہذا کی تفسیر میں تیسرا قول : آیت ہذا کی تفسیر میں علماء کے کئی قول ہیں جو دو قول ان میں سے زیادہ مشہور تھے وہ ہدئیہ ناظرین کر دئیے گئے۔ اب دل چاہتا ہے کہ آیت ہذا کی تفسیر میں ایک تیسرا قول اور بھی ہدیہ ناظرین کردیا جائے یہ تیسرا قول اگرچہ غیر مشہور ہے لیکن باعتبار معنی کے وہ بھی لطیف ہے وہ یہ ہے کہ ظل سے رات کا اندھیرا مراد ہے اور قبضنا کی ضمیر دلیل کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے رات کے وقت زمین کا سایہ پھیلا دیا اور سارا عالم تاریک کردیا مگر اس تاریکی کو ہمیشگی نہیں دی بلکہ آفتاب کے طلوع کو اس کی شناخت کی دلیل بنایا اس لیے کہ سب چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں اچھے سے برے کی تمیز ہوتی ہے اور گورے سے کالے کی تمیز ہوتی ہے اور دن کو بھی ہمیشہ کے لیے نہیں بنایا بلکہ غروب کرکے اس کی روشنی کو لے لیا۔ یہاں تک کہ پھر رات آگئی اور یہ دونوں وقت مخلوق کی آسائش اور آرائش کے لیے معین فرمائے۔
Ayah 25:47قسم دوم از دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی جعل لکم الیل لباساء والنم سباتا وجعل النھار نشورا۔
اور وہ خدا وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو تمہارے لیے آرام بنایا چونکہ رات کی تاریکی لباس کی طرح ہر شئے کو چھپا لیتی ہے اس لیے رات کو لباس فرمایا اور نیند کو تمہاری راحت کا سامان بنایا جس سے بدن کا تعب اور مشقت سب ختم ہوجاتی ہے کیونکہ ” سبت “ کے معنی اصل میں قطع کرنے کے ہیں۔ سونے کی حالت میں چلنا پھرنا سب قطع ہوجاتا ہے۔ اس لئے نیند کو سبات کہتے ہیں کہ اس سے جسم کی حرکت قطع ہوجاتی ہے۔ اور بنایا اس نے دن کو تمہارے منتشر ہونے کے لیے رات جب آتی ہے تو لوگ سو جاتے ہیں اور مردہ کی طرح بےحس و حرکت ہوجاتے ہیں جب دن نکلتا ہے تو پھر زندہ ہو کر اٹھ جاتے ہیں اور اپنے کام کاج کے لیے ادھر ادھر پھیل جاتے ہیں، یہ خدا کی قدرت بھی ہے اور اس کی نعمت بھی ہے۔ رات کو نیند بھی اللہ کی نعمت ہے اور صبح کی بیداری بھی اللہ کی نعمت ہے اور سونے کے بعد صبح کی بیداری حشر و نشر کا نمونہ ہے جس طرح انسان سو کر اٹھتا ہے اسی طرح مر کر پھر جئیے گا اور منتشر ہوگا۔
Ayahs 25:48–52قسم سوم از دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی ارسل الریاح بشرا بین یدی رحمتہ .... الیٰ .... وجاھدھم بہ جھادا کبیرا۔
اور وہ خدا وہ ہے جو باران رحمت سے پہلے بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس سے پہلے ہواؤں کا چلنا یہ بشارت ہے کہ عنقریب بارش نازل ہونے والی ہے اور ہم نے اپنی رحمت سے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جو خود بھی پاک ہے اور دوسرے کو بھی پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کریں یعنی خشک زمین سے قسم قسم کی نباتات اگاویں۔ اس طرح قیامت کے قریب ایک غیبی بارش نازل ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے اور تاکہ اس اپنی مخلوقات میں سے چوپایوں کو اور بہت سے آدمیوں کو سیراب کریں۔ گزشتہ آیت میں پانی سے زمین کی سیرابی کا ذکر تھا اور اس آیت میں پانی سے حیوان اور انسان کی سیرابی کا ذکر ہے۔ بہت سے آدمی تو آسمان کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور بہت سے آدمی زمین کے چشموں اور کنوؤں کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔
اور البتہ تحقیق ہم نے اس بارش کے پانی کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا کبھی کہیں برساتے ہیں اور کبھی کہیں۔ کہیں کم اور کہیں زیادہ تاکہ لوگ اس سے نصیحت پکڑیں اور سمجھیں کہ بارش کی تقسیم اللہ کے ہاتھ میں ہے جہاں چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے برساتا ہے ہر سال کی بارش کا پیمانہ اور وزن اسی کو معلوم ہے پس باوجود اس نعمت اور عبرت کے واضح ہونے کے بغیر ناشکری سے باز نہ رہے اور بجائے اسکے کہ اس نعمت عظمیٰ کا شکر کرتے کفران نعمت میں جا پڑے۔ مینہ تو خدا تعالیٰ نے برسایا مگر یہ ناشکرا اس بارش کی ستاروں اور برجوں کی طرف نسبت کرتا ہے۔ یہ شخص خدا کا کفر کرتا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے اور ان کا شکر کرتا ہے۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ولقد صرفناہ۔ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے نصیحت کی تاکہ وہ اس کو قبول کریں مگر اکثر لوگوں نے ان نصیحتوں کو قبول نہیں کیا۔
لہٰذا آپ ﷺ ان لوگوں کے کفر و تکذیب سے ہمت نہ ہاریں اور تن تنہا برابر تبلیغ اور دعوت میں لگے رہیں اور اگر ہم چاہتے تو آپ ﷺ کے علاوہ ہر بستی میں ایک ڈرانے والا یعنی پیغمبر بھیج دیتے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ اے نبی ہم نے تمہاری شان اور مرتبہ بلند کرنے کے لئے قیامت تک کے لیے سارے جہان کا تم کو پیغمبر بنایا اور نبوت کو تم پر ختم کیا اور تمام عالم کے لیے آپ ﷺ کو باران رحمت بنایا تاکہ قیامت تک آنے والے اہل ایمان اور اہل ہدایت کا اجر آپ ﷺ کے نامہ اعمال میں لکھا جائے اور تمام انبیاء پر آپ کی فضیلت ظاہر ہو پس جب خدا نے آپ کو یہ فضیلت اور یہ شان عطا کی ہے تو آپ ان کافروں کی پرواہ کیجئے اور نہ کسی بات میں انکا کہنا مانئے جس سے یہ خوش ہوں اور دلائل قرآن کے ساتھ انکا پورا مقابلہ کیجئے، چونکہ یہ سورت مکی ہے اس لیے اس آیت میں جہاد سے قرآن اور دلیل اور برہان کے ذریعہ جہاد کرنا مراد ہے اس لیے کہ سیف و سناں سے جہاد کرنے کا حکم مدینہ میں نازل ہوا۔
Ayahs 25:53–54قسم چہارم از دلائل توحید
وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج۔
اور وہ خدا وہ ہے جس نے اپنی قدرت بالغہ اور حکمت سابقہ سے دو دریاؤں کو ملا کر رواں کیا ان میں سے ایک تو یہ شریں اور خوش ذائقہ اور تشنگی کو دفع کرنے والا اور پیاس بجھانے والا ہے اور ایک یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا ہے اور ان کے درمیان اپنی قدرت سے ایک آڑ اور مضبوط روک رکھ دی کہ ایک کا پانی دوسرے سے ملنے نہ پاوے۔ مراد ان دو دریاؤں سے وہ مواقع ہیں جہاں شیریں دریا اور نہریں بہتے بہتے سمندر میں آکر گرتی ہیں۔ جیسے دریائے دجلہ کا پانی نہایت شیریں ہے جب اس کا پانی سمندر میں گرتا ہے تو دور تک دونوں کی موجیں اور دھاریں الگ الگ نظر آتی ہیں ادھر کا پانی نہایت شریں اور ادھر کا پانی نہایت تلخ میلوں تک یہی کیفیت رہتی ہے۔ ایک پانی دوسرے پانی سے ملنے نہیں پاتا اور اس قرب اور اتصال کی وجہ سے کسی پانی کے مزہ میں فرق نہیں آتا۔
قدرت نے دونوں کے درمیان ایک ایسی آڑ رکھ دی ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی اور دریائے دجلہ اگرچہ عرف میں سمندر نہیں کہلاتا مگر جب وہ جاکر سمندر میں گرا تو وہ بھی سمندر ہوگیا۔ مقصود اس سے حق جل شانہ کی کمال قدرت کو بیان کرنا ہے کہ دو مختلف قسم کے پانی ہیں اور دونوں ساتھ مل کر چل رہے ہیں اور بہہ رہے ہیں مگر ایک دوسرے سے ملنے نہیں پاتے حالانکہ پانی بالطبع سیال اور بہنے والی چیز ہے اس کا طبعی اقتضاء اختلاط اور امتزاج ہے مگر خدا کی قدرت سے کہ ایک پانی کو دوسرے پانی کے ساتھ ملنے سے روکے ہوئے ہے اور ہندوستان کے متعدد علاقوں میں ایسے کنوئیں موجود ہیں جن میں ایک طرف کا پانی میٹھا ہے اور دوسری طرف کا پانی کھارا ہے ایک طرف کے پانی سے چیز عمدہ پکتی ہے اور دوسری طرف کے پانی سے دال بھی نہیں گلتی۔
اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب (رح) نے بروایت مولانا محمد اسحاق بردوانی (رح) بنگال کے دو معتبر عالموں مولانا عبد الغفور ارکانی اور مولانا روشن علی ارکانی کی شہادت سے نقل کیا ہے کہ ارکان اور چاٹگام کے درمیان جو دریا بہتا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ اس کی ایک جانب کا پانی سفید ہے اور دوسری جانب کا پانی سیاہ ہے۔ سیاہ میں سمندر کی طرح تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے درمیان ایک دھاری سی چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی حد اتصال ہے لوگ کہتے ہیں کہ سفید کا پانی میٹھا ہے اور سیاہ کا پانی کڑوا ہے مطلب یہ ہے کہ خدا کی قدرت کو دیکھو کہ دو دریا ہیں ایک میٹھا اور ایک کھاری دونوں ساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں مگر باہم ملنے نہیں پاتے۔
جدید اور قدیم فلاسفہ بتلائیں کہ یہ کس مادہ اور طبیعت کا اقتضاء ہے۔
آیت ہذا کی دوسری تفسیر : اور بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو قسم کے دریا جاری کیے بعض شیریں اور بعض تلخ اور زمین کو دونوں کے درمیان حائل کردیا تاکہ دونوں آپس میں ملنے نہ پاویں اور برزخ اور حجر مجور سے بیابانوں کا پردہ مراد ہے کہ جو دو دریاؤں کے درمیان حائل ہے۔
قسم پنجم از دلائل توحید استدلال بہ خلقت انسانی
وھو الذی خلق من المآء بشرا فجعلہ نسبا وصھرا وکان ربک قدیرا۔
اور وہ وہ ہے جس نے پانی سے یعنی نطفہ سے انسان کو پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان اور دامادی قرابت بنایا یعنی اللہ کی کتنی بڑی قدرت ہے کہ ایک ہی قسم کے نطفہ سے وہ کبھی تو مرد پیدا کرتا ہے اور کبھی عورت۔ نسب سے مراد مرد ہے کیونکہ نسب مردوں سے یعنی باپ دادا سے چلتا ہے اور صہر سے مراد عورت ہے کیونکہ نکاح کا تعلق عورت سے قائم ہوتا ہے غرض یہ کہ باہمی محبت و مروت کے دو طریقے پیدا کیے۔ ایک نسب اور دوسرا مصاہرت یعنی دامادی۔ اور تیرا پروردگار بڑی ہی قدرت والا ہے۔ ایک قطرہ اب یعنی نطفہ سے مذکر اور مؤنث کا اور مختلف شکلوں اور مختلف عقلوں کا پیدا ہونا خدا تعالیٰ کی کمال قدرت کی دلیل ہے۔
وہد نطفہ را صورتے چوں پری کہ کر دست بر آب صورت گری
مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ کافروں کی طعن وتشنیع کی پروانہ کریں اپنے پروردگار کی قدرت اور رحمت نظر رکھیں۔
Ayahs 25:55–60بیان جہالت مشرکین و منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ ویعبدون من دون اللہ مالا ینفعھم ولا یضرھم .... الیٰ .... ازادھم لغفورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل توحید وقدرت بیان کیے اب آئندہ آیات میں مشرکین اور منکرین نبوت کی جہالتوں اور خصال بد کو بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مادہ سے بشر کو پیدا کیا اور دو قسم کا بنایا۔ ایک مذکر اور دوم مؤنث۔ جن کے اعضاء اور طبائع اور شکل و صورت میں بہت فرق ہے اسی طرح اس نے مومن اور کافر کو پیدا کیا جن کی طبیعتوں میں بےانتہا فرق ہے۔
اور جس طرح خدا نے دو قسم کے دریا بنائے ایک شیریں اور دوم تلخ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو شیریں اور خوشگوار اخلاق پر پیدا کیا اور کسی کو تلخ اور بدمزاج بنایا یہ اس کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور منجملہ دلائل قدرت کے یہ مشرکین اور منکرین نبوت کا ایک گروہ ہے کہ جو رب قدیر کے سامنے تو سرجھکانے کو تیار نہیں اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی ایسی چیزوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں جو ان کو نہ کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ کچھ نقصان پہنچا سکے۔ اور یہ کافر اور منکر خدا کے مقابلہ اور مخالفت پر اور شیطان کی اطاعت پر تلا ہوا ہے اور خدا کے مقابلہ میں شیطان کی پشت و پناہ اور معین و مددگار بنا ہوا ہے اور نبی برحق جو توحید اور مکارم اخلاق کے داعی ہیں انکا دشمن بنا ہوا ہے، حالانکہ آپ ﷺ سے عداوت والا جس میں سراسر انہی گمراہیوں کا فائدہ تھا اور ایسے شخص کی محبت اور اطاعت تو عقلاً فرض اور لازم ہے کہ جو اللہ کے ثواب دائم کی بشارت سنائے اور عقاب دائم سے ڈرائے اے نبی آپ ان سے یہ کہدیجئے کہ میں دنیا میں تمہارا مزاحم نہیں میں اس دعوت و نصیحت پر تم سے کوئی اجرت اور مزدوری نہیں مانگتا یعنی میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنے اموال میں مجھے کچھ دے دو بلکہ خالص اللہ ہی کے لئے تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں لیکن تمہیں اختیار ہے جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راہ پکڑے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تمہارے فائدہ کے لیے کہہ رہا ہوں۔ میں تم سے کوئی دنیوی فائدہ نہیں چاہتا اور اگر باوجود اس بات کے پھر بھی آپ ﷺ کے ساتھ دشمنی کریں تو آپ اس زندہ خدا پر بھروسہ کیجئے کہ جسے کبھی موت نہیں وہ تیرے لیے کافی ہے اور جب تیرا مددگار حیی لایموت ہے تو سمجھ لے کہ اس کی مدد بھی دائم ہوگی جس پر کبھی موت نہیں آئے گی جس زندہ پر بھی بھروسہ کیا جائے اس کے مرنے کے بعد سہارا باقی نہیں رہتا مگر خداوند ذوالجلال حیی لایموت ہے آپ کے کسی دشمن میں یہ طاقت نہیں کہ اس سہارے کو ختم کرسکے اور آپ ﷺ ان کی دشمنی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ اطمینان کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں لگے رہئے۔ اور سبحانک اللھم وبحمدک یا سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ پڑھتے رہئے اللہ کے ذکر اور تسبیح کی یہ خاصیت ہے کہ اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ اور دل کی پریشانی دور ہوتی ہے لہٰذا آپ ﷺ تبلیغ بھی کرتے رہئے اور تسبیح بھی پڑھتے رہیے اور ان دشمنوں کی دشمنی کی پرواہ نہ کیجئے اس لیے کہ خدا اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے وہ ان کو ان کے گناہوں کی سزا دیگا۔ مجرمین خواہ کتنے ہی بیشمار کیوں نہ ہوں مگر کوئی اس سے پوشیدہ نہیں اس لیے کہ وہ خداوند وہ ہے کہ جس نے چھ دن کی مقدار میں آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ خالق کو اپنی مخلوق کا علم اور اس کی خبر نہ ہو۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا جو اس کی شان کے لائق ہے اور تمام مخلوقات میں سب سے بڑی مخلوق چیز وہ عرش مجید ہے جو تمام آسمانوں سے بلند اور برتر ہے اور تمام عالم کو محیط ہے عرش لغت میں بادشاہ کے تخت کو کہتے ہیں اور اس جگہ عرش سے وہ جسم عظیم مراد ہے جو تمام عالم کو محیط ہے اور خداوند ذوالجلال کا جلوہ گاہ ہے وہیں سے فرشتوں پر اللہ کے پیغام اور احکام نازل ہوتے ہیں اس کا بیان سورة اعراف کے رکوع ہفتم کے شروع میں اور سورة یونس کے شروع میں گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
اور وہی خدا رحمن ہے جس کی رحمت تمام مخلوقات کو محیط ہے پس اس کے متعلق کسی جاننے والے سے پوچھ لو کہ خداوندی مہربان کی کیا شان ہے یہ جاہل مشرک کیا جانیں اور ان کی جہالت کا حال تو یہ ہے کہ جب ان سے یہ کہا جائے کہ رحمن کو سجدہ کرو جو بڑا رحم کرنے والا ہے اور اس کی رحمت تمام عالم کو محیط ہے تو یہ نادان یہ کہتے ہیں کہ رحمن کیا ہے جس کے سامنے آپ ﷺ ہم کو سجدہ کرنے کا حکم دیتے ہیں، یہ جاہل خدا کی ذات وصفات سے بالکل بیخبر ہیں۔ بےحیائی اور ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم اس چیز کو سجدہ کریں جس کے سجدہ کرنے کا تو ہم کو حکم دیتا ہے اور رحمن کا نام یا رحمن کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم ان کی نفرت کو اور بڑھا دیتا ہے یہ نام سن کر ایمان سے راہ حق سے اور بھاگنے لگتے ہیں۔ یہ مقام۔ بالا اجماع مقام سجدہ ہے امام اعظم (رح) کے قول پر یہ دسواں سجدہ ہے اور امام شافعی (رح) کے قول پر آٹھواں سجدہ ہے۔ فتوحات مکیہ میں ہے کہ یہ سجدہ سجدہ نفور و انکار ہے مومن جب یہ آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو سجدہ سے نفرت کرنے والوں اور بھاگنے والوں سے ممتاز اور جدا ہوجاتا ہے اس لیے اس سجدہ کو سجدہ امتیاز بھی کہہ سکتے ہیں۔
Ayahs 25:61–62تتمہ دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ ۔ تبارک الذی جعل فی السماء بروجا وجعل فیہا .... الیٰ .... اراد شکورا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دلائل قدرت کا بیان تھا اب پھر بعض عجائب قدرت کو ذکر کرتے ہیں۔ بہت ہی بڑی برکت والی ہے وہ ذات پاک جس نے اپنی قدرت سے آسمان میں برج بنائے اور رکھا آسمان میں ایک چراغ یعنی آفتاب جو تمام دنیا کے لیے چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو جہان میں اندھیرا ہوجاتا اور بنایا اس میں ایک چاند روشن یا روشن کرنے والا جو روشنی میں آفتاب سے کم ہے، دونوں کا یہ تفاوت بھی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک کو زیادہ روشن بنایا اور ایک کو کم۔ ایک دن میں نکلتا ہے اور ایک رات میں۔
ایک مجاہد اور سعید بن جبیر ابو صالح اور حسن بصری اور قتادہ رحمہم اللہ سے مروی ہے کہ بروج سے بڑے بڑے ستارے مراد ہیں۔ برج کے اصل معنی ظہور کے ہیں چونکہ بڑے بڑے ستارے ظاہر ہیں اس لیے ان کو برج فرمایا اور بعض کہتے ہیں کہ بروج سے آسمانی قلعے مراد ہیں جہاں فرشتے پہرہ دیتے ہیں جیسا کہ حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب ؓ اور ابراہیم نخعی (رح) اور سلیمان بن مہران (رح) اعمش سے منقول ہے کہ یہ پہرہ دینے والے فرشتوں کے ٹھکانے ہیں۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 322 ج 3۔ اور بعض کہتے ہیں کہ بروج سے آسمان کی وہ بارہ منزلیں مراد ہیں جو اہل ہیئت بیان کرتے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔
1۔ حمل، 2۔ ثور۔ 3۔ جوزاء۔ 4۔ سرطان۔ 5۔ اسد۔ جس کو لیث بھی کہتے ہیں۔ 6۔ سنبلہ۔ 7۔ میزان۔ 8۔ عقرب۔ 9۔ قوس۔ 10۔ جدی۔ 11۔ دلو۔ 12۔ حوت۔
آسمان میں ستاروں کے اجتماع سے مختلف صورتیں پیدا ہوگئیں۔ کہیں شیر کی اور کہیں ترازو کی اور کہیں بیل کی اور کہیں بچھو کی کہیں مچھلی کی۔ اور آفتاب جب ایک برج سے دوسرے برج میں جاتا ہے تو موسم بدل جاتا ہے یہ بھی خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے اس لئے وہ ان ناموں سے موسوم ہوئے، حکماء نے آسمان کو خیالی طور پر اس طرح تقسیم کیا ہے کہ جس طرح خربوزہ کی قاشیں ہوتی ہیں اور اس نام کے ساتھ اس کو نامزد کیا کہ جو صورت اس میں نمودار ہوئی۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے لیکر آسمان تک اپنی مخلوق کے لیے عالیشان مکان بنایا جس کو آفتاب اور ماہتاب اور کواکب اور نجوم سے روشن اور مزین کیا اور سامان معیشت مہیا کیا۔ یہ سب اسی رحمان کی رحمت کا کرشمہ اور جلوہ ہے جس کے لیے سجدہ کرنے سے یہ نفرت کرتے ہیں کیا اس کی قدرت نہیں کہ اس نے چاند اور سورج کو پیدا کیا اور ہر ایک کی نورانیت اور حرارت میں فرق رکھا اور اس اختلاف سے دنیا کے فوائد کو مربوط کردیا۔ اب اس کے بعد اپنی قدرت اور رحمت کا ایک اور کرشمہ ذکر کرتے ہیں کہ اس نے دن رات بنائے چناچہ فرماتے ہیں اور وہ وہی ہے جس نے دن اور رات کو ایک دوسرے کا خلیفہ اور جانشین بنایا کہ ایک کو دوسرے کے پیچھے لگا دیا۔ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آرہی ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ایک دوسرے کا قائم مقام ہوسکتا ہے کہ آدمی رات کا کام دن میں اور دن کا کام رات میں کرسکتا ہے لہٰذا اگر کسی سے رات کا ورد فوت ہوگیا ہو تو دن میں اس کی تلافی کرے جیسا کہ فاروق اعظم ؓ سے منقول ہے، بہرحال یہ پے درپے آمدورفت اور ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا تذکرہ اور نصیحت ہے اس شخص کے لیے کہ جو نصیحت پکڑنا چاہئے۔ اگر ذرا گور کرے تو سمجھ لے کہ رات دن کا آگے پیچھے آنا رحمن کی نعمتوں میں سے ائیک نعمت ہے اور اس کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے جس کا شکر واجب ہے۔ ان آیات میں تو رحمن سے نفرت کرنے والوں کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں رحمن کے مخلص بندوں کے اوصاف کا ذکر ہے۔