26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 26:192–209

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور یہ (قرآن خدائے) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانتدار فرشتہ لیکر اترا ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

(اور القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں ؟

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان (لوگوں) کو پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں اس کو نہیں مانیں گے

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت کہیں گے کیا ہمیں مہلت ملے گی ؟

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں ؟

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ہیں ان کے کس کام آئیں گے ؟

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

تاکہ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس سے مقصود بندوں کی تربیت ہے روح الامین یعنی جبرئیل امین اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر اس کو آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں جو بندوں کے لیے روح ہدایت اور سامان حیات ہے جبرئیل اللہ کے امانت دار فرشتہ ہیں جس طرح انہوں نے کلام اور پیغام کو سنا بلا کم وکاست اسی طرح آپ ﷺ کے قلب پر اتارا۔ روح الامین نے اللہ کی یہ امانت آپ ﷺ کے قلب مبارک پر لا کر اتاری تاکہ کلام خداوندی کے انوار برکات آپ کے قلب میں راسخ اور مرتکز ہوجائیں اور قلب مبارک اس قرآن کو اچھی طرح سمجھ لے اور خوب محفوظ کرلے کہ جس میں سہو اور نسیان اور بھول چوک کا امکان باقی نہ رہے۔ قرآن کریم کا نزول اول قلب مبارک پر ہوا اور پھر قلب سے حواس ظاہرہ اور حواس باطنہ اور باقی اعضاء اور جوارح تک پہنچا۔ عقل اور ادراک کا منبع اور سر چشمہ دل ہے اور باقی اعضاء اس کے تابع ہیں۔ کما قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب۔ اس لیے اللہ کا کلام آپ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا اور یہ آنحضرت ﷺ کی خاص فضیلت ہے کہ قرآن پاک آپ ﷺ کے قلب پر نازل ہوا بخلاف دیگر انبیاء و رسل کے انکی کتابیں بشکل الواح وصحف نازل ہوئیں پس ان کا نزول حضرات انبیاء کی ظاہری صورتوں پر ہوا نہ کہ انکے قلوب پر۔ اور جبرئیل امین پر یہ قرآن صاف اور واضح عربی زبان لیکر آپ کے قلب پر نازل ہوئے تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں جس طرح انبیاء سابقین نے منکرین اور مکذبین کو خدا کے قہر سے ڈرایا۔ اسی طرح آپ ﷺ بھی نہ ماننے والوں کو ڈرائیں۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور بےچون و چگون ہے۔ بندوں کی ہدایت کے لیے اس کو حروف عربیہ کے لباس میں بارگاہ قدس سے نازل کیا۔ جبرئیل امین نے جن الفاظ اور حروف کے ساتھ اس کو سنا اسی طرح بعینہ اللہ کی امانت کو اللہ کے رسول تک پہنچا دیا۔ دیکھو حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی 479 ج 3 اور دیکھو تفسیر روح البیان 306 ج 6 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں یہ قرآن آپ کے قلب پر نازل کیا ہے اور اس قرآن کے الفاظ اور معانی سب القاء ربانی ہیں۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ فصحاء عرب نظم قرآنی کے اعجاز کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے کسی بشی کا کلام نہیں اور اگر باوجود اس واضح اعجاز کے کوئی کو رباطن قرآن کی حقانیت اور کلام خداوندی ہونے کا انکار کرے تو آپ ﷺ یہ کہہ دیجیئے کہ بلاشبہ اس قرآن کی اور اس کے لانے والے کی خبر پہلے لوگوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے کہ یہ قرآن اخیر زمانہ میں پیغمبر آخر الزمان ﷺ پر نازل ہوگا۔ نزول قرآن سے قرنہاقرن پہلے انبیاء سابقین کی کتابوں میں اس خبر کا مذکور ہونا یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ قرآن منجانب اللہ اور منزل من اللہ ہے کسی سے پڑھ کر یا کسی سے سمجھ کر آپ ﷺ یہ آیتیں تلاوت نہیں کرتے۔ کیا یہ لوگ اس قرآن کی حقانیت اور صداقت کا انکار کرتے ہیں کیا ان کے پاس اس کی صداقت اور حقانیت کی یہ نشانی موجود نہیں کہ علماء نبی اسرائیل خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب ہے اور یہ وہی پیغمبر ہیں جن کی بشارت ہماری کتابوں میں موجود ہے چناچہ بہت سے یہود اور نصاریٰ اسی بنا پر مسلمان ہوئے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی خبر توریت اور انجیل اور زبور اور دیگر آسمانی کتابوں میں دی گئی جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ۔ اور بہت سے علماء یہود اور نصاریٰ اگرچہ ایمان نہیں لائے مگر اپنی خصوصی مجلسوں میں اس کا اقرار کرتے تھے کہ یہ وہی نبی ہیں اور یہ وہی کتا ہے کہ جس کے ظہور اور نزول کی خبر آسمانی صحیفوں میں دی جا چکی ہے۔ جن یہود و نصاریٰ میں ذرا بھی انصاف تھا۔ وہ اقرار کرتے تھے کہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بشارت ہماری کتابوں میں موجود ہے ا اور زمانہ نزول میں کسی یہودی اور نصرانی کی یہ جرأت نہیں کہ وہ قرآن کے ان آیات کی تکذیب اور انکار کرسکے۔ توریت اور انجیل میں اگرچہ بہت کچھ تحریف ہوچکی ہے لیکن اب بھی ان میں قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی بشارتیں موجود ہیں جن کو تفصیل کے ساتھ ہم نے سیرۃ المصطفیٰ کے حصہ چہارم میں ذکر کردیا ہے اور بشائر النبیین لظہور خاتم الانبیاء والمرسلین کے نام سے علیحدہ بھی طبع ہوچکی ہے چناچہ توریت سفرا استثناء کے اٹھارویں باب درس 18 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ان کے لیے (یعنی بنی اسرائیل) کے لئے ان کے بھائی میں سے (یعنی نبی اسمعیل میں سے) اے موسیٰ تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ انتہی اس بشارت میں موسیٰ جیسے نبی کے برپا کرنے سے آنحضرت ﷺ کے ظہور کی طرف اشارہ ہے اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالنے سے نزول قرآن کی طرف اشارہ ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ علماء نبی اسرائیل اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اس قرآن کی خبر اگلی کتابوں میں موجود ہے اور ظاہر ہے کہ جب کسی مذہب کا عالم کسی بات کی گواہی دیتا ہے تو اس چیز کا یقین ہوجاتا ہے لہذا اہل مکہ کو اس بات کا یقین کرلینا چاہیئے کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور ان کو چاہیے کہ اس پر ایمان لے آویں۔ لیکن یہ لوگ حد درجہ کے معاند ہیں۔ بالفرض اگر ہم اس عربی کتاب کو کسی عجمی شخص پر نازل کرتے جو عربی بولنے پر قادر نہ ہوتا۔ پھر وہ ان کو پڑھ کر سناتا جس سے اس کا اعجاز اور ظاہر ہوجاتا تو یہ عنادی لوگ تب بھی اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے۔ مشرکین عرب یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس نبی کی زبان بھی عربی ہے ممکن ہے کہ اس شخص نے خود اس قرآن کو بنا لیا ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ لوگ ایسے ہٹ دھرم ہیں کہ اگر ہم اس قرآن عربی کو کسی عجمی شخص پر نازل کرتے جو عربی کا ایک حرف بولنے پر بھی قادر نہ ہوتا اور وہ اس قرآن کو ان پر نہایت صحیح طریقہ سے پڑھتا تو تب بھی عناد کی وجہ سے ایمان نہ لاتے حالانکہ اس وقت اس میں دو اعجاز جمع ہوجاتے۔ ایک اعجاز تو خود قرآن کا اور ایک اعجاز اس عجمی کی قرأت کا۔ کیونکہ عجمی شخص پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ اس عجمی نے خود اس نظم عربی کو بنا لیا ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو لغت عجم میں کسی عجمی پر اتارتے اور پھر وہ ان کو اپنی زبان میں پڑھ کر سناتا تو تب بھی ایمان نہ لاتے اور یہ کہتے کہ ہم اس زبان کو نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ ولو جعلناہ قرانا اعجمیا لقالوا لو لا فصلت ایاتہ۔ غرض یہ کہ نہ ماننے کے سو بہانے لہذا اے نبی ﷺ آپ ان کے ایمان لانے کی امیدنہ رکھیے دیکھ لیجئے کہ ہم مجرموں کے دلوں میں اس طرح انکار اور تکذیب کو اتار دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ پچھلی امتوں کی طرح دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ پھر وہ عذاب دنیا ہی میں ان پر اچانک آجائے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔ پھر کہنے لگے کہ کیا کچھ ہم مہلت دیئے جائیں گے کہ ایمان لاسکیں لیکن یہ وقت مہلت کا نہیں۔ مہلت کا وقت تو گزر چکا اب تو سر پر مصیبت آپہنچی یہ مجرمین پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بطور تہدید اور استہزاء ان کے جواب میں فرماتے ہیں۔ کیا یہ لوگ ہمارے عذاب میں جلدی مچاتے ہیں اور ہمارے نبی سے یہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ بتلائیے کہ ہم پر کب عذاب آئے گا اور کہتے ہیں کہ ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب۔ اور اھطر علینا حجارۃ من السماء۔ اور فاتنا بما تعدنا۔ اور حال یہ ہے کہ عذاب کو دیکھ کر مہلت مانگ رہے ہیں۔ عذاب کی تعجیل تو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی بات کو غلط سمجھتے ہیں اور مہلت مانگنا اس کی دلیل ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہیں جس کا ان سے وعدہ تھا تو وہ سالہا سال کی بہرہ مندی ان کو کچھ کام نہ آئے گی۔ اور عذاب کو ان سے دفع نہ کرسکے گی۔ اور ایک لمحہ کا عذاب لاحق۔ سالہا سال کے عیش و عشرت اور سابق تمتع کو یکلخت ختم کر دے گا۔ اور ہم نے کسی بستی کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا مگر وہاں لوگوں کو عذاب الہٰی سے ڈرانے والے موجود تھے۔ بطور نصیحت ان کو حق کی طرف بلاتے تھے جب حجت پوری ہوگئی تب عذاب آیا اور ہم ظالم نہیں کہ ڈرانے سے پہلے یکایک عذاب نازل کردیں۔
Ayahs 26:210–223

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اسکی طاقت رکھتے ہیں

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ (آسمانی باتوں کے) سننے (کے مقامات سے) الگ کر دئیے گئے ہیں

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سناو

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے بتواضع پیش آؤ

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسہ رکھو

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اٹھتے ہو دیکھتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ بیشک سننے والا اور جاننے والا ہے

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اچھا) میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی ہوئی بات (اس کے کان میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے کہ وہ ایسی کتاب ہدایت کو لے کر آئیں یہ کتاب تو سرچشمہ ہدایت ہے اور شیاطین سرچشمہ ضلالت وشقاوت ہیں وہ اس کو کس طرح اتار سکتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر قادر بھی نہیں کیونکہ تحقیق وہ فرشتوں کے کلام سننے سے دور رکھے گئے ہیں۔ ملا اعلیٰ اور حظیرۃ القدس تک ان کی رسال نہیں تو پھر وہ قرآن کو کس طرح سن سکتے ہیں۔ ترمذی میں ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ پہلے جنات آسمان پر جایا کرتے تھے اور وہاں سے کوئی بات سن کر آتے تھے تو ساحروں اور کاہنوں پر اترتے اور ان کو القا کرتے وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے جب آنحضرت ﷺ نبی بنائے گئے اور آپ ﷺ پر نزول قرآن شروع ہوا تو آسمانوں پر پہرے لگا دئیے گئے کہ شیاطین وہاں جا کر کوئی حرف نہ سن سکیں اگر وہاں جاتے ہیں تو ان پر شعلے برسائے جاتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ وانا لمسنا السماء فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا وشھبا وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع فمن یستمع الان یجد لہ شھابا رصدا وقال تعالیٰ فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصلا۔ ان غیبی پہروں کے ہوتے ہوئے شیاطین کا وہاں گزر نہیں تو پھر وہ کیسے کوئی حرف اچک سکتے ہیں۔ یہ قرآن القاء رحمانی ہے نہ کہ القا شیطانی۔ اس لئے کہ جس بارگاہ سے یہ قرآن نازل ہو رہا ہے شیاطین وہاں تک پہنچنے سے محروم ہیں۔ دوم یہ کہ القاء شیطانی نفوس خبیثہ پر ہوتا ہے نہ کہ نفوس قدسیہ پر۔ غرض یہ کہ قرآن کریم نہ سحر ہے اور نہ کہانت ہے شیاطین کے القا سے بالکلیہ محفوظ ہے۔ سوائے نبی حسب ہدایت قرآن تم توحید کی دعوت میں لگے رہو اور خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو مبادا کہ تو عذاب پانے والوں میں سے ہوجائے آیت میں خطاب اگرچہ نبی کو ہے مگر مراد دوسرے لوگ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بفرض محال اگر نبی بھی شرک کرنے لگے تو اس پر بھی عذاب آئے تو دوسروں کی کیا حقیقت ہے اور اے نبی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہمارے عذاب سے ڈرائیے۔ چناچہ آپ نے اپنے خویش و اقارب کو جمع کر کے عذاب الٰہی سے ڈرایا اور پوری طرح حکم خداوندی کی تعمیل کی اس آیت میں کفار اور مشرکین کو عذاب الٰہی سے ڈرانے کا حکم دیا۔ اب آئندہ آیت میں اہل ایمان کی مدارات اور ان کے ساتھ تواضع کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اے نبی آپ اپنے بازو کو ان مسلمانوں کے لئے پست کر دیجئے جو آپ کے پیرو بن چکے ہیں۔ اور آپ کے نقش قدم پر آپ کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں پس اگر آپ ﷺ کی قوم والے آپ کی نافرمانی کریں اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کریں اور آپ پر ایمان نہ لائیں تو آپ کہدیجئے کہ میں بری اور بیزار ہوں اس کام سے جو تم کر رہے ہو اور ان کی طرف سے ایذا اور ضرر کا خطرہ دل میں نہ لائیے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیئے جو غالب اور مہربان ہے اور آپ کا نگہبان ہے جو آپ کو دیکھتا ہے جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور تہجد کے لئے اٹھتے ہیں اور نیز دیکھتا ہے وہ آپ کی نشست وبرخاست کو سجدہ کرنے والوں میں یعنی جب آپ جماعت میں رکوع و سجود کرتے ہیں اللہ اس سے بھی واقف ہے اس سے جماعت کی فضیلت نکلتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارکان نماز میں سجدہ ایک خاص شان رکھتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خاص طور پر دیکھتا ہے جب آپ تنہا نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور جب آپ جماعت میں ہوتے ہیں تب بھی آپ کو دیکھتا ہے اور نماز کے علاوہ اور حالات میں بھی آپ کو دیکھتا ہے غرض یہ کہ ہر حال میں آپ پر اس کی نظر نظر عنایت ہے۔ بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کوئی حالت اس کے علم محیط سے خارج نہیں۔ اور بعض سلف یہ کہتے ہیں کہ ساجدین سے حضور پر نور ﷺ کے آباؤ اجداد مراد ہیں اور یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) سے لے کر حضور ﷺ کے والدین تک آپ کی روح پاک کو ایک ساجد اور موجد سے دوسرے ساجد اور موحد اور موحد کی طرف منتقل فرمایا اور آپ کے سلسلہ نسب میں کوئی مشرک نہ تھا اس پر یہ اعتراض وارد ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آزر تو بنص قرآنی مشرک تھے بعض نے اس کا یہ جواب دیا کہ آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد نہ تھے بلکہ چچا تھے اور مجازا چچا پر بھی باپ کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور بعض نے یہ کہا کہ آزر کے شرک کرنے سے پہلے نور نبوت منتقل ہوچکا تھا۔ تتمہ ابطال کہانت گزشتہ آیات میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن کہانت نہیں اور آنحضرت ﷺ کاہن نہیں اب آئندہ آیت میں اسی کا تتمہ ہے کہ یہ قرآن وحی الٰہی ہے اس میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں۔ اے نبی آپ ﷺ ان لوگوں سے واضح کہہ دیجئے کہ کیا میں تم کو خبر دوں کہ کس قسم کے شخص پر شیاطین نازل ہوتے ہیں تاکہ تم پر وحی ربانی اور وحی شیطانی کا فرق واضح ہوجائے۔ سو سن لو شیاطین ہر جھوٹے فریبی بدکار پر اترتے ہیں جیسے مسیلمہ کذاب اور دیگر کاہن اس قسم کے جھوٹے اور مکار لوگوں پر شیاطین اترتے ہیں اور یہ شیاطین فرشتوں سے کوئی سنی ہوئی بات ان کاہنوں پر لا کر القا کرتے ہیں اور ان کاہنوں میں کے اکثر لوگ جھوٹے ہوتے ہیں۔ کفار یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر شیطان آتا ہے اور وہی ان کو یہ قرآن تعلیم کرجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ شیاطین تو جھوٹے بدکاروں پر آتے ہیں اور چوری چھپے جو کوئی ایک آدھی بات فرشتوں سے سن بھاگتے ہیں وہ ان کاہنوں پر القا دیتے ہیں پھر وہ بدکار کاہن اس میں جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اس کو مشہور کردیتے ہیں۔ راست بازوں اور حق پرستوں کے پاس شیاطین کا کیا کام۔ ان کے تو سایہ سے بھی وہ بھاگتے ہیں اور ہمارے نبی تو صد ق مجسم ہیں ان کی زبان سے تو کوئی جھوٹ حرف نکل ہی نہیں سکتا پس معلوم ہوا کہ یہ قرآن شیاطین کا کلام نہیں۔ خدا کا کلام ہے۔ اور بعض علما یہ کہتے ہیں یلقون کی ضمیر افاکین کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ جھوٹے اور بدکار لوگ ہمہ تن شیاطین کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں جو کچھ ان سے مل جاتا ہے اس میں سو جھوٹ ملا کر آگے چلتا کرتے ہیں اور برخلاف حضور پر نور ﷺ کے کہ آپ نے جو پیش گوئیاں کی ہیں اور آئندہ کی خبریں دی ہیں وہ حرف بحرف صحیح نکلیں ان میں ذرہ برابر جھوٹ کی ملاوٹ نہیں۔
Ayahs 26:224–227

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

ابطال شاعریت کفار آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن بتاتے اور کبھی شاعر بتاتے۔ گزشتہ آیات میں آپ کے کاہن ہونے کی تردید کی اب آئندہ آیت میں آپ کے شاعر ہونے کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ قرآن کو شعر کہنا اور حضور پر نور ﷺ کو شاعر کہنا مشرکین کی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو خیالی اور نفسانی چیزوں کے دلدادہ ہوتے ہیں برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروی کرنے والوں کے، کہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار ہیں اور آخرت کے طلبگار اور دنیا سے بیزار ہیں۔ پس اگر محمد ﷺ شاعر ہوتے اور شاعروں کی طرح نفسانی اور خیالی باتیں کیا کرتے تو آپ ﷺ کے پیروی کرنے والے فسق وفجور سے بیزار نہ ہوتے پس معلوم ہوا کہ آپ شاعر نہیں اس لئے کہ آپ کلام ہادیانہ اور ناصحانہ ہے اور آپ ﷺ کے پیرو آخرت کے طلبگار ہیں اور فسق وفجور سے نفور اور بیزار ہیں۔ اے دیکھنے والے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ یہ شاعر لوگ خیالی مضمون کے ہر جنگل میں حیران و سرگرداں ٹکڑیں مارتے پھرتے رہتے ہیں کبھی مدح اور کبھی قدح اور کبھی ہجو اور کبھی خوشامد اور کبھی عشق بازی اور ہر ایک میں جھوٹ اور مبالغہ کسی کی تعریف پر آئے تو اسے آسمان پر چڑھا دیا اور جس کی برائی پر آئے اس میں دنیا بھر کے عیب ثابت کر دئیے۔ ہر وقت بیابان خیال میں گھومتے اور جھومتے رہتے ہیں۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی دھن میں لگے رہتے ہیں۔ مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ محفل گرم ہوجائے اور تھوڑی دیر کے لئے لوگوں کی زبان پر واہ واہ آجائے۔ غرض یہ کہ انواع کذب ودروغ میں کوئی نوع ایسے نہیں چھوڑتے جس میں نہ گھستے ہوں۔ جھوٹ کی گھاٹیوں میں سے ہر گھاٹی میں داخل ہوتے ہیں۔ فی کل واد یھیمون۔ کا یہی مطلب ہے کہ فحش اور بےحیائی اور باطل اور بیہودگی کی ہر وادی میں حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں اور اسی لئے شاعر لوگ زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں یعنی اکثر اقوال میں جھوٹے ہوتے ہیں کیونکہ بسا اوقات شعرا اپنے اشعار میں تعلی کے طور پر ایسی باتیں کہتے ہیں جو واقعہ میں اس سے صادر نہیں ہوتیں چناچہ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا جائے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن کلام الٰہی ہے اور جس پر یہ قرآن نازل ہوا ہے وہ اللہ کا رسول ہے نہ کاہن ہے اور نہ شاعر ہے کیونکہ آپ حال کاہنوں اور شاعروں کے بالکل خلاف ہے۔ کاہن تو مکار اور بدکار ہوتے ہیں جن پر شیاطین اترتے ہیں اور دروغ گو اور بدکار ہوتے ہیں جن کی پیروی کرنے والے گمراہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر وادی خیال میں حیران اور سر گرداں ہوتے ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ قرآن از قبیل شعرواشعار نہیں کیونکہ شعرا کا کام مبالغہ اور افراط وتفریط ہے جس کو اصلاح اخلاق و اعمال سے مناسبت نہیں اور اس وحی الٰہی میں ہدایت اور اصلاح اخلاق و اعمال بروجہ اتم واکمل مرکوز ہے۔ حکایت محمد بن اسحاق (رح) اور محمد بن سعد (رح) نے کتاب الطبقات میں ذکر کیا ہے کہ امیر المومنین فاروق اعظم ؓ نے نعمان بن عدی ؓ کو صوبہ بصرہ کے ضلع میسان کا عامل مقرر کر کے بھیجا اتفاق سے نعمان ضی اللہ عنہ شاعر تھے شعر کہا کرتے تھے انہوں نے یہ شعر کہے۔ الاھل اتی الحسناء ان خلیلھا بمیسان یسقی فی زجاج وحنتم کیا اس حسینہ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ اس کا دوست مقام میسان میں رہتا ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ اس کو شیشہ میں اور سبنہ کوزے میں شراب پلائی جاتی ہے۔ اذا شئت غنتنی دھاقین قریۃ ورقاصۃ تحثوا علی کل مبسم جب میں چاہتا ہوں تو بستی کی عورتیں مجھے گانا سناتی ہیں اور ایک رقاصہ رقص کرتی ہے اور اس رقاصہ کے ناچنے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ہر ایک منہ پر خاک ڈالتی ہے۔ فان کنت ندمانی فبا لاکبر اسقنی ولا تسقنی بالاصغر المتثلم پس اگر تو میرا ندیم اور شراب میں ہم نشین بنتا ہے تو مجھ کو بڑے پیالہ سے شراب پلا اور چھوٹے پیالا سے جس میں کوئی رخنہ پڑا ہوا ہو شراب نہ پلا۔ لعل امیر المومنی یسوء ہ تناد منا بالجوسق المتھدم مجھے ڈر ہے کہ شاید امیر المومنین عمر ؓ کو گری پڑی جھونپڑی میں ہماری یہ ہم نشینی ناگوار گذرے۔ اتفاق سے یہ شعر فاروق اعظم ؓ کو پہنچ گئے سنتے ہیں فرمایا ای واللہ انہ لتسؤنی ومن لقیہ فلیخبرہ انی قد عزلتہ۔ ہاں خدا کی قسم یہ بات مجھے بری معلوم ہوئی اور جو شخص اس سے ملے تو اسے خبر کر دے کہ میں نے اس کو معزول کردیا اور ایک فرمان اس کے نام جاری کیا وہ یہ تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول لا الہ الا ھو الیہ المصیر۔ اما بعد فقد بلغنی قولک۔ لعل امیر المومنین یسوء ہ تنا ومنا بالجوسق المتھدم وایم اللہ انہ یسؤنی وقد عزلتک۔ انتھی ان آیات کے لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ مجھے تیرا یہ قول پہنچا لعل امیر ال مومنین یسؤہ خدا کی قسم مجھے تیرا یہ قول ناگوار گزرا اور میں نے تجھے معزول کیا۔ بعد ازاں نعمان بن عدی ؓ حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے اس کو اس شعر پر سخت ملامت کی۔ نعمان بن عدی ؓ نے عذر کیا اور عرض کیا کہ قسم ہے خدا کی۔ میں نے کوئی قطرہ شراب کا نہیں پیا اور یہ شعر بطور لغو میری زبان سے نکل گیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میرا گمان بھی یہی ہے لیکن واللہ اس کے بعد میرا عامل اور حاکم نہیں بن سکتا جبکہ تو کہہ چکا (تفسیر ابن کثیر ص 354 ج 3) مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس قسم کے بیباکانہ شعر کی وجہ سے اس کو عہدہ سے معزول تو کردیا۔ لیکن یہ ثابت نہیں کہ ان پر حد شراب جاری کی یا نہیں حالانکہ اشعار میں شراب خوری کا اقرار موجود ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ اسی آیت میں شعراء کے متعلق یہ آیا ہے۔ وانہم یقولون ما لا یفعلون۔ کہ شعرا اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں کہ جو کرتے نہیں اس لئے حضرت عمر ؓ نے ان پر حد نہیں لگائی فقط ملامت کی اور ان کو معزول کردیا۔ شان نزول جب یہ آیت والشعراء یتبعہم الغاون۔ نازل ہوئی تو حسان بن ثابت ؓ اور عبد اللہ بن رواحہ ؓ اور کعب بن مالک ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ والشعراء یتبہم الغاون۔ اور اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے تو کیا ہم بھی اس عموم میں داخل ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آئندہ آیت یعنی الا الذین امنوا وعملوا الصالحات۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا کہ گزشتہ آیت کے عموم سے وہ شاعر مستثنی ہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کئے چناچہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ آیت میں جو حالت بیان کی گئی وہ حالت شعرا کفار بدکردار کی ہے اور اس سے وہ شاعر مستثنیٰ ہیں کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کئے وہ ہر وادی خیال میں نہیں گھومتے اور نہ ان کا قول ان کے فعل کے خلاف ہوتا ہے اور انہوں نے اللہ کو کثرت سے یاد کیا یعنی اپنے اشعار میں اللہ کی عظمت اور جلال کو ذکر کیا اور آخرت کو یاد کیا اور اگر اپنے اشعار میں کسی کی ہجو کی تو ذاتی عداوت کی بنا پر نہیں کی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے دشمنان اسلام سے بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا یعنی کفار نے جو اسلام اور مسلمانوں اور اللہ اور اس کے رسول کی ہجو کی تھی اس کا جواب دیا اور ظالم سے بدلہ لینا عقلا وشرعا جائز ہے اس لئے اس قسم کے شعرا اسلام حکم سابق سے مستثنیٰ ہیں چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ان شعرا اسلام پر اس کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ وہ تم ہو یعنی اس آیت میں جن مومنین صالحین اور ذاکرین اور منتصرین کا اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمایا اس کے مصداق تم ہو۔ نہ تم گمراہ ہو اور نہ گمراہوں کے پیرو ہو بلکہ مظلوم ہو تم نے ظالموں سے اپنا انتقام لیا ہے اور عنقریب یہ ظالم جو آنحضرت ﷺ کی طرف شعر اور کہانت کی نسبت کرتے ہیں۔ جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹتے ہیں اور ان کا کیا ٹھکانہ ہے یعنی عنقریب ان کو اپنے ظلم وستم کا انجام معلوم ہوجائے گا کہ ہم نے اللہ کے رسول اور اس کے ماننے والوں پر کیا ظلم کیا ان ظالموں کا ٹھکانہ آتش دوزخ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ لطائف ومعارف شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت و رسالت کے اثبات کے لئے حقانیت قرآن کا ذکر فرمایا جو آپ کی نبوت و رسالت کی سب سے روشن دلیل ہے اور پھر آپ کی تسلی کے لئے اور منکرین نبوت کی تہدید کے لئے سات پیغمبروں کے قصے ذکر فرمائے اب خاتمہ سورت پر اسی سابق مضمون کی طرف عود فرماتے ہیں اور قرآن کریم کی حقانیت کو بیان کرتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو بواسطہ جبریل امین (علیہ السلام) آپ کے قلب مبارک پر نازل کی گئی پھر اس کی حقانیت پر یہ دلیل بیان فرمائی کہ علماء اہل کتاب اس کتاب کی حقیقت کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں اس کو خوب معلوم ہے کہ اس کتاب کے نزول کا ذکر زبر اولین یعنی انبیاء سابقین کے صحیفوں میں موجود ہے کہ نبی آخر الزمان پر ایسی اور ایسی کتاب نازل ہوگی جیسا کہ توریت اور انجیل میں نبی آخر الزمان کے بعثت کا ذکر ہے۔ کما قال تعالیٰ النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورۃ والانجیل۔ اسی طرح توریت اور انجیل میں نزول قرآن کا بھی ذکر ہے پھر قرآن کے عربی میں نازل ہونے کی وجہ بیان فرمائی پھر یہ بیان فرمایا کہ یہ قرآن وحی ربانی ہے نہ کہ القا شیطانی۔ اور اس کی دو وجہ بیان فرمائیں ہیں۔ اول یہ کہ ملا اعلیٰ تک جو احکام الٰہیہ کے نزول اور نفاذ کا محل ہے وہاں تک شیاطین پہنچنے سے محروم ہیں۔ دوم یہ کہ سنت اللہ جاری ہے کہ القا شیطانی نفوس خبیثہ پر ہوتا ہے نہ کہ نفوس قدسیہ پر کیونکہ مفید اور مستفید کے درمیان وجہ مناسبت ضروری ہے والا افادہ و استفادہ محقق نہیں ہوسکتا اور آنحضرت ﷺ کا نفس عالی نفوس قدسیہ میں سے تھا جو غایت درجہ اخلاقی اور اعمالی طہارت کے ساتھ موصوف تھا۔ نیز یہ بیان فرمایا کہ قرآن مجید از قبیل اشعار نہیں کیونکہ شعرا کا کام افراط وتفریط ہے اس لئے وہ اصلاح اخلاق و اعمال اور ہدایت خلق اللہ سے فی الجملہ بھی مناسبت نہیں رکھتے اور وحی الٰہی میں ہدایت اور اصلاح اعمال واخلاق بروجہ اتم مرکوز کی گئی ہے کمالا یخفی بعد ازاں یہ حکم دیا کہ بالخصوص اپنے خویش و اقارب کو اور قریبی قبائل کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں اور جو لوگ آپ کے متبع اور پیرو ہیں ان کے ساتھ تلطف اور مدارات کا معاملہ فرمائی اور ان کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں اور چونکہ سورة شعرا مکیہ ہے لہٰذا اس آیت میں مومنین سے بلحاظ نزول آیت وحی مہاجرین اولین مراد ہیں۔ وہوالمقصود۔ (ماخوذ ازازالۃ الخفاء ) تمام امت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ مابین وفتی المصحف کلام اللہ یعنی مصحف میں دو رفتوں کے درمیان اللہ کا کلام ہے اور جو شخص اس مصحف کو کلام اللہ نہ مانے وہ کافر ہے لیکن وہ اسی مصحف کے نقوش کتابیہ اور حروف مطبوعہ کو قدیم نہ مانے تو اس انکار سے وہ کافر نہ ہوگا۔ جن الفاظ قرآن کو اپنی زبانوں سے پڑھتے ہیں اور جن حروف قرآنیہ کو اپنے مصاحف میں لکھتے ہیں اگرچہ وہ حادث اور مخلوق ہیں لیکن ہمارے لئے یہ ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ ہم مطلق قرآن کو یا کلام اللہ کو مخلوق اور حادث کہیں۔ کلام الٰہی جو ذات باری کے ساتھ قائم ہے اور اس کی صفت ہے کہ وہ بلاشبہ قدیم اور غیر مخلوق ہے لیکن ہماری قراءت اور سماعت اور کتابت یہ سب مخلوق اور حادث ہیں قرآن جس حیثیت سے بندہ سے متعلق ہے اس حیثیت سے اس کو حادث اور مخلوق کہہ سکتے ہیں تاکہ خدا کی صفت میں اور بندہ کی صفت میں فرق ہوجائے مطلقا کلام اللہ اور قرآن کو مخلوق اور حادث کہنا جائز نہیں واللہ اعلم بالصواب۔ الحمد للہ تفسیر سورة شعراء بتاریخ 9 ذی قعدۃ الحرام 1391 ھ تمام ہوئی وللہ الحمد والمنۃ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور تفسیر کے اتمام واکمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔