Ayahs 26:34–51ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا کہ بیشک یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ علم سحر میں بڑی مہارت رکھتا ہے جو ایسے کرشمے دکھلا رہا ہے اور درباریوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے نفرت دلانے کے لیے یہ کہا کہ یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے سحر سے تم پر غالب آجائے اور تمہارا بادشاہ بن جائے بتلاؤ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب یہ معجزات ظاہر ہوئے تو فرعون نے اہل دربار سے جو اردگرد بیٹھتے تھے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ شخص کوئی بڑا ہی دانا جادوگر ہے۔ معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا کے دیکھنے سے فرعون کو ڈر ہوا کہ اہل دربار ان معجزات قاہرہ کو دیکھ کر کہیں موسیٰ کو صادق اور راستباز سمجھ کر اس پر ایمان نہ لے آویں اور اگر ایمان بھی نہ لائیں تو مبادا اس شخص کی طرف مائل نہ ہوجائیں جس سے میرے دعوائے ربوبیت میں زوال نہ آجائے اس لیے اہل دربار کو نرم کرنے کے لئے اول تو یہ کہا کہ یہ شخص خواہ کتنے ہی کرشمے ظاہر کر دے لیکن ایک دانا جادوگر سے بڑھ کر نہیں اور یہ کرشمہ جو اس نے دکھلایا ہے وہ ایک خاص قسم کا جادو ہے یعنی معجزہ نہیں جس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور دوسری بات فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے نفرت دلانے کے لئے اور ان سے ڈرانے کے لئے یہ کہی کہ اس جادوگر کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری سرزمین سے نکال دے اور اسکا مالک اور قابض اور رئیس بن جائے اور اپنی قوم کو لے کر بلا مزاحمت تم پر حکومت کرے۔ سو اس بارے میں تم کیا حکم دیتے ہو یا کیا مشورہ دیتے ہو۔ اب فرعون اپنی شان تکبر و تحیر سے اتر کر لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ بتلاؤ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اور تمہارا کیا مشورہ ہے کہ اس شخص کو فوری سزا دی جائے یا ڈھیل دی جائے۔ اصل بات یہ تھی کہ فرعون معجزہ موسوی دیکھ کر گھبرا گیا اور دعوائے ربوبیت کی بلندی سے اتر کر اپنے آپ کو مشاورت کی پستی میں ڈالا، زبان سے تو دعوائے ربوبیت ہے اور دل میں خوف ہے اخراج کا یعنی اس بات کا کہ یہ جادوگر مجھ کو ملک مصر سے نکال باہر نہ کرے اس لیے خدا صاحب اپنے بندوں سے یا اپنے نوکروں اور چاکروں سے مشورہ پوچھ رہے ہیں۔ سرداروں نے مشورہ دیا کہ معاملہ میں تاخیر بہتر ہے، اپنے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے مقابلہ کرایا جائے چناچہ فرماتے ہیں کہ سب نے متفقہ طور پر یہی کہا کہ اس شخص کو اور اس کے بھائی کو چند مہلت دے دو اور اپنے ملک کے سب شہروں میں نقیب بھیج دو کہ تیرے پاس ہر دانا جادوگر لا موجود کریں۔ ہماری رائے میں یہ تدبیر بہتر ہے۔ کیونکہ اگر بغیر مقابلہ اور بغیر ہرائے اور عاجز کیے اسکو قتل کرا دیا تو لوگوں کو اس کے بارے میں شبہ ہوجائے گا۔ مناسب ہے کہ جادوگروں سے مقابلہ کرایا جائے یہ شخص تو ایک ساحر ہے ملک کے تمام ساحروں کا کیسے مقابلہ کرسکتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی مقابلہ کی صورت کو منظور کیا تاکہ کھلم کھلا اللہ کی حجت لوگوں پر واضح ہوجائے۔ کما قال تعالیٰ بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذا ھو زاھق۔
پس وہ جادوگر ایک مقررہ دن پر جو ان کی عید کا دن تھا جمع کردیئے گئے اور لوگوں کے لئے اعلان کرا دیا گیا کہ کیا تم اس موقع پر جمع ہوجاؤ گے۔ مقصود یہ تھا کہ سب کے سب موسیٰ (علیہ السلام) کا مغلوب ہونا دیکھ لیں گے۔ تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں جسا کہ غالب توقع ہے تو جسب سابق ہم انہی کی پیروی کرتے رہیں گے یعنی انہی کے دین پر رہیں گے اتنا بھی ظاہری طور پر کہا ورنہ فی الحقیقت قوم فرعون کو اس بات کا یقین تھا کہ غلبہ ساحروں کا ہوگا۔ اہل عقل سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ساری گفتگو فرعون کی عجز اور حماقت کی دلیل ہے۔ پھر جب سب جادوگر جمع ہوگئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ بھلا ہم کو کچھ صلہ یعنی انعام بھی ملے گا اگر ہم ہی غالب رہے فرعون نے کہا ہاں صلہ اور انعام بھی ملے گا اور صلہ کے علاوہ تم میرے مقربوں میں بھی شامل کرلیے جاؤ گے، یہ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ اہل دنیا کی زبان پر سب سے پہلے حرف طمع آتا ہے بعد ازاں ساحروں نے صف بندی کی اور مقابلہ پر آمادہ ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ کیا آپ اپنا عصا پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا پہلے تم ہی ڈالو جو کچھ بھی تم ڈالنے والے ہو۔ اس پر انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور بولے قسم ہے فرعون کی عزت اوراقبال کی بلاشبہ ہم ہی غالب رہیں گے، پس جب وہ اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال چکے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خدا وندی اپنا عصا زمین پر ڈالا۔ ڈالتے ہی وہ اژدہا بن گیا اور اسی دم بنے بنائے ہوئے دھندے کو ہڑپ کرنے لگا اور جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا اور ڈکار بھی نہ لی سو یہ منظر دیکھ کر جادوگر ایسے متاثر ہوئے کہ سب کے سب سجدہ میں ڈال دیئے گئے۔ توفیق ایزدی اور رحمت خداوندی نے جبر آدقہراً ان کو سجدہ میں ڈال دیا۔ معجزہ دیکھ کر انکو یقین ہوگیا کہ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ کرشمہ قدرت ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ سحر سے سحر کا مقابلہ ہوسکتا ہے مگر کرشمہ قدرت یعنی معجزہ کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ اور سمجھ گئے کہ یہ دونوں ہماری طرح جادوگر نہیں بلکہ حقیقتہً رب العالمین کے رسول ہیں اس لیے بولے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے یہ لفظ انہوں نے اس لیے کہا کہ فرعون بھی اپنے آپکو رب اعلیٰ اور جہان کا پروردگار کہلاتا تھا۔ ساحروں نے جب یہ حال دیکھا تو جان لیا کہ یہ رب العالمین کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ بشر کی کوئی صنعت نہیں اور نہ ساحروں کی تمویہ اور تخیل ہے اس لیے سب اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئے اور سجدہ میں گر پڑے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا اور ان کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آئے۔ فرعون یہ دیکھ کر بہت گھبرایا کہ اگر سب لوگ مسلمان ہوگئے تو میری ربوبیت تو سب ختم ہوجائے گی اس لیے تہدید آمیز لہجہ میں جادوگروں سے یہ کہا کہ تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دوں میری اجازت کے بغیر تم نے اسکی کیسے تصدیق کی بیشک یہ تمہارا بڑا جادوگر ہے جو تم پر غالب آگیا جس نے تم کو جادو سکھلایا ہے پس تم عنقریب جان لو گے کہ اس نافرمانی کی کیا سزا ہوتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارا استاد ہے اور تم اس کے شاگرد ہو یہ سب تمہاری ملی بھگت ہے جیسا کہ سورة اعراف میں ہے ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منھا اھلا۔ اور وہ سزا یہ ہے کہ البتہ تحقیق میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اور مقابل جانب سے کاٹ ڈالوں گا۔ یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا تاکہ دیکھنے والوں کو اس سے عبرت ہو مگر جادوگروں پر اس تہدید کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بولے کہ کچھ مضائقہ نہیں یعنی ہم کو تیری اس دھمکی کی کچھ پروا نہیں بیشک ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یعنی ہمیں تیرے قتل کی پروا نہیں شہید ہو کر اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ایمان لاتے ہی رب العالمین پر ایسا یقین آیا کہ دارالفانی انکی نگاہ میں ہیچ ہوگیا اور لقائے خداوندی کے مشتاق ہوگئے اور بولے کہ بیشک ہم اس بات کو طمع اور آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری تمام خطائیں بخش دے اس وجہ سے کہ ہم اپنے زمانہ میں سب سے پہلے مسلمان ہیں یعنی ہم اپنی قوم قبط میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں سبقت فی الیمان کی وجہ سے ہم کو خدا سے امید ہے کہ وہ ہمارے تمام گناہ معاف کردے ہمارا مقصود آخرت اور رضائے خداوندی ہے اس لیے ہم نے فرعون کے انعام و اکرام پر لات ماری اور رب العالمین کے سامنے جھک گئے۔
نکتہ : اسی سبقت فی الایمان کی وجہ سے مہاجرین اولین کو دیگر صحابہ پر فضیلت حاصل ہے۔ کما قال تعالیٰ والسابقون الاولون من المھاجرین والنصار۔ الایۃ
قرآن کریم میں اس کی تصریح نہیں کہ ایمان لانے کے بعد فرعون نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ فرعون نے ان سب کو قتل کر ڈالا۔ واللہ اعلم۔
ابن کثیر کہتے ہیں کہ جادوگروں کی تعداد علی اختلاف الاقوال بارہ ہزار یا پندرہ یا بیس ہزار تھی اور بعض کہتے ہیں کی اسی ہزار تھی۔ حقیقت حال اللہ ہی کو معلوم ہے۔ تفسیر ابن کثیر 334 ج 3
Ayahs 26:52–68ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا کہ تمہارے خروج کے بعد فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کریگا۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ اہل ایمان خاص عزت و کرامت کے ساتھ نکل جائیں اور ان کے بعد جب فرعون کا لشکردریا میں داخل ہو تو اسکو غرق کردیا جائے اس طرح سے اسکو ملک سے نکال باہر کیا جائے اس لیے ان آیات میں بنی اسرائیل کی عجیب طرح نجات کی کیفیت اور عجیب طرح سے فرعون کی ہلاکت کا حال بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس طرح کامیابی اور اس طرح کی غرقابی کرشمہ قدرت تھا جو رب العالمین کی ربوبیت کی دلیل تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا جو انکی صداقت اور رسالت کی دلیل تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا تیسرا معجزہ تھا۔ اس کے بعد فرعون اور اس کی قوم پر طوفان اور خون وغیرہ کی بلائیں مسلط کی گئیں جن کا سورة اعراف میں ذکر ہوچکا ہے۔ ابتدا میں قوم پر یہ بلائیں اور آفتیں مسلط کی گئیں تاکہ ہوش میں آجائیں۔ لیکن کوئی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب فرعون کو اس واقعہ سے بھی ہدایت نہ ہوئی اور نہ دیگر مصائب سے عبرت ہوئی نہ بنی اسرائیل کے ظلم و ستم سے وہ دست کش ہوا بلکہ جو ساحر ایمان لے آئے تھے انکو قتل کر کے پھانسی پر لٹکا دیا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حکم بھیجا کہ تم رات کے وقت بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے چلے جاؤ اور یہ بھی بتلا دیا کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا یعنی جب فرعون کو تمہارے نکل جانے کی خبر ہوگی تو وہ تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر چل دیے جب صبح ہوئی تو یہ خبر مشہور ہوئی اور فرعون کو اسکا علم ہوا تو فرعون نے انکے تعاقب کا ارادہ کیا۔ جس کی تدبیر یہ کی کہ ملک کے مختلف شہروں میں لشکر جمع کرنے کے لیے آدمی بھیج دیئے جب جمع ہوگئے تو یہ منادی کرائی کہ تحقیق یہ لوگ یعنی بنی اسرائیل ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ شمار کے اعتبار سے بھی قلیل ہے اور سازوسامان کے لحاظ سے بےسروسامان ہے جن کو ہماری فوج سے کوئی نسبت نہیں اور انہوں نے ہماری مخالفت کر کے ہم کو غصہ دلایا ہے اور بیشک ہم سب بڑے سلاح پوش اور ہتھیار بند لوگ ہیں یہ لوگ ہماری گرفت سے نہیں نکل سکتے۔ غرض یہ کہ دو تین روز میں سامان کر کے ان کے تعاقب میں نکلے اور یہ خبر نہ تھی کہ اب اسکو مصر لوٹنا نصیب نہ ہوگا۔ پس ہم نے ان بدکاروں کو ان کے باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکال دیا۔ یعنی ہم نے انکے دل میں نکلنے کا داعیہ پیدا کردیا کہ خود بخود اپنے باغوں اور محلوں سے نکل کھڑے ہوئے دیکھ لو کہ خدا کا نکالنا ایسا ہوتا ہے کہ خود انکے دل میں نکلنے کا پختہ ارادہ پیدا کردیا کہ سب چیزوں کو چھوڑ کر خود بخود نکل کھڑے ہوئے اور بعد چندے ہم نے ان محلوں اور باغوں کا وارث اور مالک بنی اسرائیل کو بنا دیا اور چند دنوں کے بعد وہ ان تمام اموال اور املاک پر قابض ہوگئے۔ یہ تو جملہ معترضہ تھا اب آگے باقی حصہ کا بیان ہے پس فرعون کے لشکر نے سورج نکلنے کے وقت بنی اسرائیل کا پیچھا کیا اور پیچھے سے انکو جا پکڑا یعنی ان کے قریب پہنچ گئے اور یہ وقت اشراق کا تھا۔ پس جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ لوگ تو ہمارے سر پر پہنچ گئے اب تو ہم پکڑ لیے گئے۔ یعنی اب فرعون ہمیں پکڑے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہرگز نہیں یعنی وہ تمہیں ہرگز نہیں پکڑ سکتے۔ اس لیے کہ تحقیق میرا پروردگار میرے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کوئی نہیں پکڑ سکتا جیسا کہ ہجرت کے قصہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا لا تحزن ان اللہ معنا۔ وہ عنقریب مجھے اس مخمصہ سے خلاصی کی راہ بتائے گا تم گھبراؤ نہیں چونکہ دریا کے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ آگے دریا تھا اور پیچھے دشمن تھا اس لیے اصحاب موسیٰ (علیہ السلام) مضطرب تھے۔
آخر اب جانا کہاں ہے پس اس اضطراب اور پریشانی کے وقت میں ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا اس دریا پر مارو چناچہ انہوں نے حکم خداوندی اپنا عصا اس پر مارا۔ پس فوراً وہ دریا پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی کئی جگہ سے ادھر ادھر ہوگیا جس سے بارہ سڑکیں پیدا ہوگئیں۔ سو پانی کا ہر ایک ٹکڑا مثل ایک بڑے پہاڑ کے کھڑا ہوگیا اور بنی اسرائیل کے بارہ اسباط کے لیے بارہ راستے ہوگئے جو بحکم خداوندی سب خشک تھے کیچڑ نہ رہا اور اطمینان کے ساتھ ان راستوں سے گزر کر دریا سے پار ہوگئے۔ کما قال تعالیٰ فاضرب لھم طریقا فی البحر یبسا لا تخاف درکا ولا تخشی۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے یہ حکم دیا کہ دریا کو اسی طرح خشک چھوڑدو۔ واترک البحر وھوا انھم جند مغرقون۔ جو خدا خشی میں راستے بنا سکتا ہے وہ تیری میں بھی بنا سکتا ہے۔ اسکی قدرت کے اعتبار سے بر اور بحر سب برابر ہیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) تو ان دریائی راستوں کو خشک چھوڑ کر پار ہوگئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور بعد ازاں ہم نے دوسرے لوگوں کو یعنی فرعونیوں کو اس جگہ کے قریب پہنچا دیا۔ چناچہ فرعونیوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے لئے خشک راستے کھلے ہوئے ہیں تو شاداں وفرحاں ان میں گھس پڑے۔ پانی بحکم خداوندی رواں ہوگیا اور سارا لشکر اندر غرق ہوگیا اور یہ تمام رب العالمین کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا اور صحیح سالم ان کو دریا سے پار کردیا۔ پھر انکے پار ہوجانے کے بعد دوسروں کو دریا میں غرق کردیا کہ جب فرعون اپنی قوم سمیت دریا میں داخل ہوا تو دریا کے یمام ٹکڑے آپس میں مل گئے اور سب غرق ہوگئے جو لوگ کواکب اور نجوام کی تاثیر کے قائل تھے غرق میں سب شریک ہوئے۔ حالانکہ ان کے طالع مختلف تھے۔ فرعون کو دریائے نیل اور مصر کی نہروں پر فخر تھا اور بطور فخر یہ کہا کرتا تھا الیس ملک مصر وھذہ الانھار تجری من تحتی۔ اس لیے من جانب اللہ اس کے قابل فخر دریا اور نہر میں اس کو غرق کیا گیا کہ دیکھ لے کہ وہ قابل فخر نہر یہ ہے اور بیشک اس واقعہ میں اللہ رب العالمین کی قدرت کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت نبوت کی اور اہل ایمان کی نصرت و حفاظت کی، اور متکبرین اور کافروں کی ہلاکت کی بہت بڑی نشانی ہے اور باوجود ان روشن نشانیوں کے قوم فرعون میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ ہوئے بیشک تیرا پروردگار جو ہے وہی غالب ہے اور بڑا مہربان ہے اسی انفلاق بحر کے واقعہ سے اسکی شان عزت و غلبہ اور شان رحمت ظاہر ہوگئی کہ اہل ایمان کو نجات دی اور اہل کفر وتکبر کو غرق کیا۔
لطائف ومعارف
حق جل شانہ نے ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے تین معجزوں کا ذکر فرمایا۔ معجزہ عصا، اور معجزہ یدبیضاء اور معجزہ انفلاق بحر۔ فلاسفہ اور ملاحدہ اس قسم کے خوارق عادات معجزات اور کرامات کے منکر ہیں اور ان کو محال بتلاتے ہیں اور موجودہ زمانے کے نئے چہرے یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں قانون فطرت کے خلاف ہیں۔
جواب : سو جاننا چاہئے کہ فلاسفہ کا یہ دعویٰ کہ اس قسم کے معجزات کا وقوع عقلا محال ہے۔ دعویٰ بلا دلیل ہے آج تک کوئی دلیل ان کے محال ہونے پر قائم نہ ہوسکی۔
جمادات اور نباتات کے اندر حیوانات کا پیدا ہوجانا اور زمین میں حشرات الارض کا پیدا ہونا روزمرہ کا مشاہدہ ہے پس اگر ایک نباتاتی چیز (یعنی عصا) بحکم خداوندی حیوان بن جائے تو عقلا ممکن ہے بسا اوقات لکڑی کے اندر کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور کسی جسم کا روشن ہوجانا عقلا محال نہیں۔ آفتاب اور ماہتاب خدا کے پیدا کردہ جسم ہیں ان میں جو روشنی ہے وہ بھی خدا کی پیدا کردہ ہے آفتاب اور ماہتاب خود بخود اپنی طبیعت اور اپنے ارادہ اور مشیت سے روشن نہیں ہوگئے پس جس خدا نے آفتاب اور ماہتاب کو روشنی بخشی وہی خدا اپنے کلیم (علیہ السلام) کے ہاتھ کو بھی روشنی بخش سکتا ہے نفس جسمیت کے لحاظ سے آفتاب اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ برابر ہیں اور قدرت خداوندی کے اعتبار سے بھی سب یکساں ہیں اور علی ہذا انفلاق بحر بھی عقلا محال نہیں کیونکہ پانی بھی عام اجسام کی طرح بہت سے اجزاء سے مرکب ہے اور قابل انقسام ہے اور اس کے اجزاء میں باہمی اتصال اور انفلاق کی پوری صلاحیت اور استعداد موجود ہے جیسے موسم سرما میں بڑے بڑے دریا منجمہ ہوجاتے ہیں اور حیوانات ان پر سے گزرتے رہتے ہیں معلوم ہوا کہ پانی کا اتصال اور اس کا انفلاق اور انفصال پانی کی نفس ماہیت کا ذاتی اور طبعی اقتضاء نہیں کہ جو ناقابل تغیر و تبدل ہو سب قدرت خداوندی سے ہے پس اگر قدرت خداوندی سے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے دریا کا پانی تھوڑی دیر کے لیے پھٹ جائے اور تھم جائے اور پھر ان کے گزرجانے کے بعد فورا بہنے لگے تو یہ بات عقلا محال نہیں البتہ خارق عادت ہون کی وجہ سے عجیب و غریب ضرور ہے اگر یہ کوئی امر عجیب نہ ہوتا تو پھر معجزہ ہی کیوں کہلاتا۔ پس جو کہ کرشمہ قدرت خدا کے کسی برگزیدہ بندہ کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو یہ اس نبی کا معجزہ کہلاتا ہے جو اس نبی کی صداقت اور حقانیت کی دلیل اور روشن علامت ہوتا ہے پس یہ واقعہ چند حیثیت سے معجزہ ہوگیا۔ (1) محض عصا کے مارنے سے دریا کا پھٹ جانا (2) اور پھر اس میں بنی اسرائیل کے بارہ اسباط کے مطابق بارہ سڑکیں پیدا ہوجانا (3) پھر بنی اسرائیل کے گزر جانے کے بعد دریا کا رواں ہوجانا۔