28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 28:29–42

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ (تم یہاں) ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (راستہ کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب اسکے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ میں تو خدائے رب العالمین ہوں

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دو جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا کہ) موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت تم امن پانے والوں میں ہو

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑ لو یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (جاؤ) کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار ان کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ (باتیں) ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنیں نہیں

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لے کر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے اہل دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر میرے لئے ایک (اونچا) محل بنوا دو تاکہ میں موسیٰ کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہو رہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا میں ڈال دیا سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن انکی مدد نہیں کی جائے گی

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے

قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔ الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ طور کی جانب سے ایک آگ دیکھی جو حقیقت میں ایک نور تھا۔ شکل آگ کی تھی اس لئے کہ آدمی کی طبیعت اپنی مرغوب چیزوں کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس وقت جاڑے کی شدت کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ کی ضرورت تھی اس لئے یہ تجلی نور بلباس ناری واقع ہوئی اور وہ نور ایک آگ کی صورت میں نمودار ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے جو اس وقت ان کے ساتھ تھے کہا ذرا یہیں ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے اس کی طرف جاتا ہوں۔ شاید وہاں سے تمہارے واسطے راستہ کی کچھ خبر لے کر آؤں۔ شاید وہاں کوئی مل جائے تو اس سے راستہ دریافت کر لاؤں اور آگ بھی لے آؤں۔ شاید وہاں کوئی مل جائے تو اس سے راستہ دریافت کر لاؤں اور آگ بھی لے آؤں یا کم از کم آگ کا کوئی انگارا ہی لے آؤں تاکہ تم اس سے سینکو اور گرمی حاصل کرو یعنی اگر کوئی راستہ بتلانے والا نہ ملے تو یہی فائدہ حاصل ہوگا کہ ذرا سی آگ ہی مل جائے گی۔ سو جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے تو اس میدان کی داہنی جانب سے برکت والی جگہ میں درخت سے یہ آواز آئی اے موسیٰ یہ آواز دینے والا میں ہی ہوں اللہ سارے جہانوں کا رب۔ یعنی اے موسیٰ یہ آگ جو تو دیکھ رہا ہے یہ درحقیقت میری ایک تجلی ہے اور میرے نور کا جلوہ ہے اور یہ آواز جو تو سن رہا ہے وہ میرے بےچون و بےچگون کلام کا ایک پردہ اور لباس ہے اور یہ درخت اور یہ مکان اور یہ چھت اور سمت جہاں سے تو یہ آواز سن رہا ہے وہ میری ذات مقدس کا محل اور مکان نہیں بلکہ ایک میری تجلی گاہ ہے میری ذات اور میرا کلام جہت اور سمت سے منزہ ہے اور جس مکان اور جہت سے تو میرا کلام سن رہا ہے وہ تیرے سماع کے لئے ہے نہ کہ میرے کلام کے لئے۔ اس لئے علماء اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ کلام قدیم جو اللہ کی صفت ہے۔ اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے وہ بےچون اور بےچگون ہے اس میں حرف اور آواز نہیں مگر بندہ چونکہ چونی اور چگونی کا گرفتار ہے اس لئے وہ بےچون اور بےچگون کو چون اور چگون کے پردہ ہی سے سن سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک خاص صورت میں نمودار اور جلوہ افروز ہوگا ایک مرتبہ اہل ایمان اللہ کو نہیں پہچان سکیں گے۔ دوسری مرتبہ جب دوسری صورت میں نمودار ہوگا تب اہل ایمان پہچانیں گے کہ یہ ہمارا پروردگار ہے سو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تو صورت اور شکل سے پاک اور منزہ ہے اور یہ صورت جس کو اہل ایمان دیکھ کر اپنے خدا کو پہچانیں گے یہ خداوند بےچون وچگون کا ایک جلوہ اور پردہ ہوگا اور یہ ظاہر ہونے والی صورت بمنزلہ آئینہ کے ہوگی جس کے ذریعہ اہل ایمان خدا تعالیٰ کا جلوہ دیکھ سکیں گے اور یہ مطلب نہیں کہ وہ صورت بعینہ خدا تعالیٰ کی صورت ہوگی پس جس طرح ذات خداوندی نہ جسم ہے اور نہ عرض ہے اور اس کے لئے نہ کوئی صورت ہے اور نہ کوئی شکل ہے مگر قیامت کے دن اور جنت میں اس کو دیکھا جائے گا لیکن اس کا دیدار کسی صورت کے پردہ سے ہوگا تاکہ بندہ اس کا تحمل کرسکے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھو کہ وہ بےچون وب چگون ہے اور بغیر حرف اور بغیر آواز کے ہے۔ البتہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو درخت سے سنا وہ بیشک حرف اور آواز کو سنا لیکن وہ حرف اور آواز کلام قدیم کا ایک لباس تھے اور اس پر دلالت کرنے والے تھے۔ جیسا کہ امام ابو الحسن اشعری (رح) سے منقول ہے۔ دیکھو اتحاف شرح احیاء العلوم ص ج 2۔ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دور سے آگ کو دیکھا تو درحقیقت وہ آگ نہ تھی بلکہ نور قدیم کی ایک تجلی تھی جو آگ کے لباس میں ظاہر ہوئی جس کے موسیٰ (علیہ السلام) طالب تھے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس آواز کو سن کر جان لیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو وحی رحمانی اور وحی شیطانی میں ذرہ برا بر اشتباہ اور التباس نہیں ہوتا اور یہ بھی آواز آئی کہ اے موسیٰ اپنا عصا زمین پر ڈال دو ۔ اول اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے کلام اور پیغام سے سرفراز فرمایا اور منصب نبوت و رسالت پر فائز کیا اب اس کے بعد ان کو دلائل نبوت اور براہین رسالت عطا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے موسیٰ اپنا عصا زمین پر ڈال دو دیکھو تو سہی کیا ہوتا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عصا زمین پر ڈال دیا پس جب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا تو آواز آئی کہ اے موسیٰ سامنے آؤ اور ڈرو مت تحقیق تو امن والوں میں سے ہے تمہیں اس اژدہا سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ دشمن کو ڈرانے کے لئے یہ معجزۂ تخویف عطا کیا گیا جو بصورت قہر اور عذاب دیا گیا۔ تمہارے ڈرانے کے لئے نہیں دیا گیا بلکہ دشمن کو ڈرانے کے لئے ہے یہ سنتے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کا طبعی اور بشری خوف یکلخت دور ہوگیا اور دوسرا معجزہ۔ معجزۂ تنویر عطا ہوا کہ جس سے نور ظاہر ہوتا تھا وہ یہ کہ اے موسیٰ اپنا ہاتھ گریبان میں لے جا وہ بغیر کسی عیب کے روشن ہو کر نکلے گا گویا کہ یہ معجزہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قلب منور کی نورانیت کا ایک نمونہ ہوگا اور یہ دیکھ کر اگر تم پر خوف طاری ہونے لگے تو خوف کے رفع کرنے کے لئے اپنا ہاتھ سمیٹ لو یعنی گریبان میں ڈال لو۔ ہاتھ پھر بدستور اپنی صورت پر آجائے گا اور کوئی خوف نہ باقی نہ رہے گا پس یہ دونوں چیزیں یعنی عصا اور ید بیضا تیری نبوت و رسالت کی دو روشن دلیلیں ہیں اور دو نشانیاں ہیں جو تجھ کو تیرے رب کی طرف سے عطا کی گئیں ہیں۔ عصا سے معصیت کی طرف اشارہ ہے اور ید بیضاء سے نور طاعت کی طرف اشارہ ہے اور ایسے نشان سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں دے سکتا۔ جس طرح یہ دونوں چیزیں بلاشبہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہیں اسی طرح وہ کلام اور پیغام جو تو نے درخت کے اندر سے سنا وہ میرا ہی کلام اور پیام ہے اور جو آگ تو نے دیکھی وہ میرے ہی نور کی ایک تجلی تھی جو تجھ کو بصورت نار دکھلائی گئی چونکہ اس وقت تیرا مطلوب آگ تھی اس لئے آگ ہی کے لباس میں تجھ کو اپنا جلوہ دکھلایا۔ غرض یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس مقام پر دو معجزے عطا ہوئے۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون اور اس کے امراء کی طرف جاؤ اور ان کو عصا کے ذریعہ اللہ کی معصیت سے ڈراؤ اور یدبیضاء کے ذریعہ طاعت کی نورانیت کی طرف بلاؤ۔ تحقیق یہ بڑے ہی بدکار گروہ ہیں جوا وامر اور نواہی کی حدود سے باہر نکل گئے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار میں تعمیل حکم کے لئے حاضر ہوں بمقتضائے بشریت ضعیف اور ناتواں ہوں تیری اعانت اور امداد کا محتاج ہوں اے پروردگار آپ کو معلوم ہے کہ فرعون ملک مصر پر قاہر اور غالب ہے اور بڑا ظالم اور جابر ہے میں نے ان میں کا ایک آدمی مار ڈالا تھا اسی خوف کے مارے میں وہاں سے بھاگ کر مدین آیا تھا اب مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے دیکھتے ہی نہ قتل کر ڈالیں تو ایسی صورت میں آپ کا پیغام اس کو کیسے پہنچا سکوں گا۔ دعوت اور تبلیغ سے پہلے ہی میرا کام تمام ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کردی کہ ہرگز ایسا نہ ہوگا جیسا کہ سورة طہ میں گزرا اور دوسری بات یہ ہے کہ میری زبان میں کچھ لکنت ہے شاید میں پیغام رسالت میں بات کو پوری طرح واضح نہ کرسکوں اور میرا بھائی ہارون فصاحت لسانی اور حسن تعبیر اور خوبی بیان میں مجھ سے بڑھ کر ہے پس اس کو میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ حس تقریر اور خوبی تعبیر سے میری میری تصدیق اور تائید کرے تحقیق مجھ کو ڈر ہے کہ وہ لوگ یعنی فرعون اور اس کے درباری میری تکذیب کریں گے اس لئے ضرورت ہے کہ میری دلیل اور برہان کی تقریر اور تفصیل کے لئے ایک فصیح اللسان میرا معین اور مددگار ہو کہ جو فصاحت لسانی سے حق کو ایسا واضح کرے کہ اس میں شک اور شبہ کی گنجائش نہ رہے اور وہ مصدق ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) ہیں معلوم ہوا کہ تصدیق سے یہ مراد نہیں کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کہیں ہارون (علیہ السلام) اس پر آمنا وصدقنا کہتے جائیں بلکہ تصدیق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت لسانی اور فصاحت بیانی سے حجت اور دلیل کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کی تائید اور توثیق کریں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا اے موسیٰ ہم تیرے بھائی کے ذریعہ ضرور تیرا بازو قوی کریں گے یعنی اے موسیٰ ہم نے تیری درخواست قبول کی اور تمہارے بھائی کو درباب تبلیغ تمہارا قوت بازو بنائیں گے اور تم دونوں کے لئے ہم ایک خاص غلبہ اور خاص عظمت وہیبت عطا کریں گے پس وہ فرعون والے تم تک نہیں پہنچ سکیں گے قتل تو بڑی بات ہو وہ تمہیں کوئی ایذا اور گزند بھی نہیں پہنچا سکیں گے اور برے ارادے سے تمہارے پاس بھی نہ آسکیں گے ْ پس تم بےفکر ہو کر ہماری نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو حق کی دعوت دو اور مطمئن رہو تم دونوں اور تمہارے پیرو ہی غالب رہیں گے اور وہ تمہیں کوئی ایذا نہیں پہنچا سکیں گے پس جس موسیٰ (علیہ السلام) ہماری کھلی نشانیاں لے کر فرعونیوں کے پاس آئے اور توحید کی دعوت دی تو فرعونیوں نے کہا کہ یہ تو تراشیدہ جادو ہے جسے خواہ مخواہ خدا کی طرف منسوب کردیا گیا ہے یہ سب جادو کی باتیں ہیں جو خود اسی کی اختراع کردہ ہیں اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھ کو یہ معجزات دے کر بھیجا ہے اور ہم نے اپنے پچھلے باپ دادوں میں کبھی یہ بات نہیں سنی کہ آسمان و زمین کا اور اس دنیا کا کوئی خالق ہے اور آئندہ چل کر وہ اس جہان کو فنا کر دے گا اور دوبارہ زندہ کر کے حساب لے گا اور نہ کبھی یہ سنا کہ خدا نے کسی کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کے پاس سے ہدایت اور دین حق لے کر آیا ہے اور خوب جانتا ہے اس کو جس کا انجام آخرت اچھا ہے میرا یا تیرا مگر خوب یاد رکھو کہ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے جو شخص اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے گا وہی ظالم ہوگا اور ذلیل و خوار ہوگا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ میں حق پر ہوں اور تم باطل پر ہو اور تمہارا انجام خراب ہے۔ تم میرے مقابلہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے عنقریب تم کو اپنا انجام معلوم ہوجائے گا۔ اور فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب باصواب سن کر یہ اندیشہ ہوا کہ اہل دربار اور ارکان دولت اس شخص کی طرف مائل نہ ہوجائیں تو بغرض تلبیس وتدلیس فرعون بولا اے اشراف قوم یہ شخص کہتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے میں تو تمہارے لئے اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا بھی کوئی خدا ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون کی مراد یہ نہ تھی کہ وہ آسمان و زمین کا اور اس جہان کا خالق ہے کیونکہ یہ بات تو ہدایتہ محال ہے جو کسی پر بھی مخفی نہیں اور نہ کوئی ادنیٰ عقل والا اس بات کو مان سکتا ہے کہ فرعون نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ فرعون سرے سے وجود خالق کا قائل نہ تھا وہ دہری تھا اور منکر خدا تھا اس کا خیال یہ تھا کہ افلاک اور نجوم اور کواکب کی حرکات اس عالم سفلی کے تغیرات اور تنوعات اور اختلاف احوال کی علت ہیں اس کے لئے کسی صانع کے اثبات کی حاجت نہیں اس لئے اس نے یہ کہا ما علمت لکم من الہ غیری۔ بہرحال دعوائے الوہیت سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا کہ میں آسمان و زمین کا خالق ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس عالم کا کوئی خالق اور خدا نہیں جس کی اطاعت واجب ہو۔ ہر خطہ کا فرمانروا ہی اس کا خدا اور معبود اور واجب الاطاعت ہے اور وہ میں ہوں جو تمہارے سامنے موجود ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) جو کہتا ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے سو یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ دیکھو تفسیر کبیر ص 478 ج 6۔ وہ خدا کہاں ہے جو نہ محسوس بحواس ہے اور نہ میرے نزدیک ثابت بعقل ہے۔ فرعون دہری تھا۔ دہر ہی کو مسبب الکل اور علت العلل جانتا تھا اور خالق قدیر اور خدائے عظیم کا قائل نہ تھا اور کہتا تھا کہ خدا ہے ہی نہیں جس کی پرستش کی جائے ہر خطہ کا بادشاہ وہاں کے لوگوں کا خدا ہے اور وہی پرستش اور اطاعت کے لائق ہے اور وہ میں ہوں اور بس لہٰذا مجھ ہی کو اپنا خدا سمجھو اور میری اطاعت کرو۔ پھر اس نے لوگوں کو مغالطہ دینے کے لئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا کذب ظاہر کرنے کے لئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کو ہنسی میں اڑانے کے لئے کہا اے ہامان تو میرے لئے گارے پر آگ جلا یعنی پکی اینٹیں بنا اور اسے میرے لئے ایک محل اور بلند عمارت تیار کر کہ میں اس پر چڑھ کر اور آسمان کے قریب ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کی طرف جھانکوں کہ اس کا معبود کہاں ہے اور کیسا ہے زمین میں تو مجھے اپنے سوا کوئی معبود دکھائی نہیں دیتا شاید آسمان کی طرف جھانکنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا نظر آجائے ذرا اس کی بھی تحقیق کرلوں تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کا جواب ہوجائے جو یہ کہتا ہے کہ اوپر سے مجھ پر وحی آتی ہے اس لعین کو یہ وہم ہوا کہ اگر آسمان میں کوئی معبود ہوگا تو جسم ہوگا اور اس کی طرف چڑھنا ممکن ہوگا اور بولا کہ تحقیق میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹوں میں سے گمان کرتا ہوں جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آسمان و زمین کا کوئی رب ہے جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے یہ سب غلط ہے وجود صانع پر کوئی دلیل نہیں اگر ہوتی تو مجھے معلوم ہوتی فرعون چونکہ دہری تھا۔ سرے سے صانع عالم کے وجود کا قائل نہ تھا اس لئے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا رسول ہونے کا بھی قائل نہ تھا اس لئے اس نے یہ کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا خیال کرتا ہوں کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اگر فی الواقع کوئی خدا ہوتا تو اس تک چڑھنا بھی ممکن ہوتا۔ بلند مکان بنانے سے فرعون کی غرض یہ تھی کہ لوگوں پر موسیٰ (علیہ السلام) کا کذب (جھوٹ) ظاہر ہوجائے کہ فرعون کے سوا زمین اور آسمان میں کوئی خدا نہیں جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ (دیکھو تفسیر (ف 1) ابن کثیر ص 390 ج 3) عجیب احمق تھا کہ جب ایک مختصر سی عمارت بلکہ ایک چھپر بھی بغیر کسی معمار اور بانی کے نہیں بن سکتی تو آسمان سے لے کر زمین تک یہ سارا کون ومکان بغیر کسی بانی اور صانع کے خود بخود کیسے بن کر تیار ہوگیا اور یہ کارخانہ عالم خود بخود کیسے چل رہا ہے پھر یہ کہ فرعون طرح طرح کی حاجتوں میں اور قسم قسم کی آفتوں میں گھرا ہوا تھا وہ کیسے خدا ہوسکتا ہے۔ اس احمق نے یہ گمان کیا کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانی ہے اور آسمان اس کا مکان ہے اور اس تک جانا اور پہنچنا ممکن ہے اور اسے یہ معلوم نہ تھا۔ با مکان آفرین مکان چہ کند آسماں گر با آسماں چہ کند نہ مکاں رہ برد برد نہ زماں نہ بیاں زوخبر دہد نہ عیاں 1 قال ابن کثیر قال اللہ تعالیٰ وقال فرعون یاھامان ابن لی صرحا لعلی ابلغ الاسباب اسباب السموات فاطلع الی الہ موسیٰ وانی لاظنہ کا ذبا وذلک ان فرعون بنی ھذا الصرح الذی لم یرفی الدنیا بناء اعلی منہ وانما اراد بھذا ان یظھر لوعیتہ تکذیب موسیٰ فیما زعم من دعوی الہ غیر فرعون ولھذا قال وانی لاظنہ من الکاذبین ای فی قولہ ان ثم ربا غیرہ لا انہ کذبہ فی ان اللہ ارسلہ لانہ لم یکن یعترف بوجود الصانع جل وعلاف نہ قال وما رب العالمین وقال لئن اتخذت الھا غیری لا جعلنک من المسجونین۔ وقال یایھا الملا ما علمت لکم من الہ غیر وھذا قول ابن جریر۔ تفسیر ابن کثیر ص 390 ج 3۔ فرعون کی ان بےسروپا باتوں سے صانع عالم کی نفی تو ثابت نہیں البتہ اس کی غباوت اور حماقت اور جہالت خوب ثابت ہوگئی۔ غرض یہ کہ فرعون نے اس طرح ایک بلند عمارت بنوائی جب وہ محل بن چکا تو فرعون اس کی چھت پر چڑھا اس کے خیال میں یہ تھا کہ آسمان کے نزدیک پہنچ جائے گا جب اس نے دیکھا کہ آسمان تو اتنا ہی دور ہے جتنا پہلے دیکھا تھا تو شرمندہ ہو کر بولا کہ ایک تیر آسمان کی طرف مارو لوگوں نے تیر مارا اوپر سے وہ تیر خون میں بھرا ہوا واپس آیا تو فرعون بولا کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو مار دیا۔ غضب الٰہی سے وہ عمارت تین ٹکڑے ہو کر گر پڑی جس سے بہت سے آدمی تباہ ہوگئے۔ دیکھو زاد المسیر لابن الجوزی ص 223 ج 6۔ فرعون یہ باتیں دیکھ کر ناامید ہوگیا اور سمجھ گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) حق پر ہیں مگر ظاہر داری اور بھرم بندی کے لئے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے چکنی چپڑی باتیں کرتا رہا۔ نکتہ : سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کے امتحان کے لئے اپنے محل میں شیشہ کا ایک حوض بنوایا اور اس میں طرح طرح کی مچھلیاں ڈال دیں اور اوپر سے شیشہ پاٹ دیا اور بلقیس کو کہا کہ اندر آجاؤ۔ بلقیس نے یہ سمجھ کر کہ یہ سب پانی بھرا ہوا ہے اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ شیشہ کا فرش ہے۔ پانی نہیں یہ دیکھ کر بلقیس ایمان لے آئی تو بلقیس کے لئے یہ صرح ممرد من قواریر موجب ہدایت ہوگیا اور فرعون نے جو صرح من طین بنوایا تھا وہ اس کے لئے مزید گمراہی اور تکبر اور عناد کا سبب ہوگیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور فرعون نے اور اس کے لشکروں نے بڑا ہی تکبر کیا۔ اور دعویٰ الوہیت کا کیا۔ حالانکہ زمین میں رہتے تھے اور پستی اور ذلت و خواری میں گھرے ہوئے تھے اور ناحق سر اٹھایا اور بلاوجہ اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ اور دعویٰ خدائی کا کیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ اب ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں۔ غرض یہ کہ فرعون نے تکبر کیا اور دعویٰ الوہیت کا کیا اور حشر ونشر اور قیامت کا بی منکر ہوا۔ اور اس کی قوم نے بھی اس کو قبول کیا اور ہماری کوئی پرواہ نہ کی پس ہم نے پکڑا فرعون کو اور اس کے لشکروں کو اور اپنی قدرت کی مٹھی میں لے کر سب کو دریا میں پھینک دیا۔ سب غرق ہوگئے اور ان کا تکبر بھی غرق ہوگیا سو دیکھ لو کہ کیا انجام ہوا ظالموں کا اور دیکھ لو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کہا ہوا من تکون لہ عاقبۃ الدار انہ لا یفلح الظالمون۔ کس طرح آنکھوں کے سامنے آگیا۔ اور ان لوگوں کو ہم نے اس جہان میں کفر اور ضلالت کا پیشوا بنایا کہ لوگوں کو آگ کی طرف بلاتے ہیں یعنی کفر اور معصیت کی طرف بلاتے ہیں اسی طرح اس جہان میں بھی ان کو دوزخیوں کا امام بنائیں گے کہ یہ آگے آگے ہوں گے اور دوسرے دوزخی ان کے پیچھے پیچھے ہوں گے یقدم قومہ یوم القیامۃ فاوردہم النار وبئس الورد المورود۔ اور قیامت کے دن کوئی مدد نہیں دئیے جائیں گے وہاں کوئی لشکر نہ ہوگا ہر ایک بےکس اور بےبس ہوگا اور کوئی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکے گا اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لگا دی ہے لعنت اور پھٹکار۔ قیامت تک فرعون اور اس کے رؤسا گرفتار لعنت رہیں گے اور قیامت کے دن تو وہ بہت ہی بروں میں سے ہوں گے جس برائی اور خرابی کی کوئی حد نہیں۔ اللہ پناہ میں رکھے۔ حاصل کلام یہ کہ بارگاہ خداوندی میں بجائے سرافگندگی کے تکبر اور غرور اور حضرت انبیاء کرام کی تکذیب اور عداوت کا انجام عذاب اور لعنت ہے۔
Ayahs 28:43–46

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور جب تم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں تھے

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے (موسی کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ تم مدین کے رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم اس وقت جبکہ ہم نے (موسی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

خاتمہء قصہء مذکورہ برا عطا کتاب ہدایت برائے بصیرت وعبرت و اثبات رسالت محمد یہ مع جوابات از شبہات واھیہ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔۔ الی۔۔۔۔ من قبلک لعلہم یتذکرون۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم ہوا۔ اب اخیر میں قوم کی ہدایت کے لئے نزول تورات کا ذکر فرمایا جو اصل مقصود تھا اب آئندہ آیات میں اثبات رسالت محمدیہ کا مضمون ذکر فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں بعض شبہات کا جواب بھی دیتے ہیں جو محض عناد پر مبنی تھے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح توریت کتاب ہدایت و رحمت تھی اسی طرح یہ قرآن بھی کتاب ہدایت و رحمت ہے اور آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور حجت ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے اور اس کتاب کا گزشتہ واقعات پر مشتمل ہونا یہ آپ کی نبوت کی دلیل ہے اس لئے کہ آپ ﷺ نہ جانب غربی میں تھے جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا اور نہ مدین میں تھے۔ اور آپ ﷺ تو امی تھے اگلی کتابوں کو پڑھ نہیں سکتے تھے ان تمام واقعات کا علم آپ کو بذریعہ وحی ہوا۔ خلاصۂ کلام یہ کہ اس واقعہ اور قصہ کا نہ تو آپ ﷺ نے مشاہدہ کیا ہے اور نہ کسی سے سنا ہے اور نہ کسی کتاب میں پڑھا ہے صرف ہماری وحی سے آپ کو اس کا علم ہوا ہے لہٰذا یہ آپ کے مرسل من اللہ ہونے کی واضح دلیل ہے چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو کفر کا امام اور پیشوا اور دوزخ کا داعی بنایا اور دریا میں اس کو غرق کیا اور دنیا اور آخرت میں اس کو مورد لعنت بنایا اس کے بالمقابل ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حق اور ہدایت کا پیشوا اور جنت کا داعی اور دنیا اور آخرت میں ان کو مورد رحمت و کرامت بنایا اور پہلی قوموں یعنی قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود کے ہلاک کرنے اور فرعون کے غرق کرنے کے ایک سال (ف 1) سال بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت عطا کی جس کی آیتیں لوگوں کے لئے بصیر تیں تھیں۔ ” بصیرت “ کے معنی دل کے نور کے ہیں جس سے حق اور باطل کا فرق نظر آئے اور ہدایت اور رحمت تھیں شایدان کو پڑھ کر نصیحت پکڑیں کہ اگر ہم نے اللہ کی ہدایتوں کو نہ مانا تو ہمارا بھی وہی حشر ہوگا جو پہلی قوموں کا ہوا اور اب عرصۂ دراز کے بعد آپ کی نبوت و رسالت کا دور آیا ہے اور آپ کے منکرین اور مکذبین فرعون ہامان کے نقش قدم پر جا رہے ہیں ذرا اپنے انجام کو سوچ لیں اور توریت کی طرح آپ کو جو کتاب ہدایت و رحمت دی گئی ہے اس سے نصیحت پکڑیں اور اے نبی اس قرآن کے علاوہ آپ ﷺ کی نبوت کی ایک دلیل یہ ہے کہ آپ اس وقت طور کے مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا احکام ہدایت دئیے اور ان کو توریت عطا کی اور نہ آپ اس وقت کے حاضرین میں سے تھے جس سے مشاہدہ اور معائنہ کا احتمال ہو سکے یعنی آپ ﷺ وہاں موجود نہ تھے جو یہ گمان کیا جاسکے کہ آپ ﷺ اپنی آنکھوں کا دیکھا حال بیان کر رہے ہیں لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے قرن اور بہت سی نسلیں پیدا کیں پس ان کی عمر دراز ہوئی اور ان امتوں پر زمانہ دراز گزر گیا اور سب باتوں کے نام ونشان مٹ گئے اور کوئی ذریعہ ان کے علم کا باقی نہ رہا تب ہم نے آپ کو ہادی اور رسول بنا کر بھیجا اور بذریعہ وحی کے ان واقعات اور حالات سے آگاہ کیا تاکہ لوگ جانیں کہ ایسی باتیں اور ایسی خبریں بغیر وحی خداوندی ممکن نہیں اور آپ ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اہل مدین میں اقامت پذیر نہ تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں جیسے آج مکہ والوں کو ہماری آیتوں کو پڑھ کر سنا رہے ہو لیکن ہم میں آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجنے والے اور بذریعہ وحی کے ان واقعات سے آپ کو خبر دینے والے ہیں۔ (یا یہ معنی ہیں) کہ تو اہل مدین میں سکونت پذیر نہ تھا کہ یہ آیات تو نے ان سے پڑھ کر سیکھی ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسالت تجھ کو ان واقعات سے آگاہ کیا۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ نتلوا علیہم میں علیہم کی ضمیر اہل مکہ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ تو مدین کے باشندوں میں سے نہیں جس نے ان واقعات کا معائنہ اور مشاہدہ کیا ہو اور اہل مکہ کو ان کی خبر دے رہا ہو بلکہ ہماری وحی سے تجھ کو ان باتوں کا علم ہوا جو تو اہل مکہ کو ان سے خبر دے رہا ہے۔ اور اسی طرح آپ کوہ طور کی جانب غربی موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی اور ان سے کلام کیا یموسی انی انا اللہ رب العالمین۔ جو ان کو نبوت عطا ہونے کا وقت ہے لیکن تیرے پروردگار کی رحمت اور مہربانی سے تجھ کو ان چیزوں کا علم عطا ہوا تاکہ تو ان آیات کے ذریعہ اس گروہ کو ڈراوے جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی من جانب اللہ ڈرانے والا نہیں آیا شاید وہ نصیحت پکڑیں کیونکہ آپ کی بعثت سے ان پر حجت پوری ہوگئی خلاصۂ کلام یہ کہ یہ واقعات آپ ﷺ لوگوں کو سنا رہے ہیں حالانکہ آپ نہ ان کے ساتھ رہے ہیں اور نہ یہ واقعات آپ کو پڑھ کر سنائے گئے ہیں تو پھر ان امور کی اطلاع آپ کو کیسے ہوئی جواب یہ ہے کہ صرف ہماری رحمت سے ہوئی ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا اور بذریعہ وحی آپ کو ان سے مطلع کیا پس ایک امی شخص کا بغیر دیکھے اور بغیر سنے اور بغیر پڑھے اس طرح کے واقعات کو صحیح صحیح بتلانا اس کی نبوت کی دلیل ہے۔ اللہ کی حجت ان پر پوری ہوگئی اب اپنے انجام کو سوچ لیں۔ 1 فرعون دسویں محرم کو عاشورہ کے دن ہلاک ہوا اور توریت دسویں ذی الحجہ کو عطا ہوئی۔
Ayahs 28:47–50

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ہم نے تم کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے ؟

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسیٰ کو ملیں تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں ؟ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسیٰ کو دی گئی تھیں انہوں نے ان سے کفر نہیں کیا ؟ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

اتمام حجت وقطع معذرت ولو لا ان یصیبہم مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں بعثت رسل اور نزول کتاب الٰہی کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی مسئلہ کو مدلل اور مبرہن کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے بندوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے اور اسی ذیل میں کافروں کے چند حیلوں اور بہانوں کا ذکر کر کے جواب دیتے ہیں کہ بعثت رسل کے بعد کافر یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہم کو بلاوجہ کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ کا عذاب حجت پوری ہوجانے کے بعد آتا ہے اور بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور مجرم کے لئے عذر کی گنجائش باقی نہیں رہتی چناچہ فرماتے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ بداعمالیوں کی وجہ سے مصیبت پہنچنے کی وقت شاید یہ لوگ یہ کہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا کہ ہم تیرے احکام کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوجاتے سو ان کی اس بات کا مقتضاء تو یہ تھا کہ رسول کے آنے کو نعمت عظمیٰ اور غنیمت کبریٰ سمجھتے اور اللہ کے نازل کردہ دین کو فورا قبول کرلیتے لیکن ان کی حالت تو اس کے برعکس ہوئی کہ جب ان کے پاس حق چل کر خود آگیا تو اس میں حیلے اور بہانے اور قسم قسم کے شبہ نکالنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ آپ کو ویسے معجزات کیوں نہ دئیے گئے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے پہلے دئیے گئے شاید ان کی مراد یہ تھی کہ عصا اور ید بیضا اور طوفان اور جراء اور قمل اور ضفادع جیسے معجزات آپ ﷺ کو کیوں نہیں دئیے گئے۔ اگر آپ ﷺ سے ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو ہم آپ پر ایمان لے آتے یا آپ کے اوپر بھی توریت کی طرح پورا قرآن ایک دم اترتا تو ہم ایمان لے آتے۔ یہ کیا بات ہے کہ دو دو اور چار چار آیتیں اترتی ہیں۔ کافروں کا یہ سوال جاہلانہ اور معاندانہ تھا اول تو یہ سوال سرے ہی سے غلط ہے اس لئے کہ تمام انبیاء کے معجزات کا متحد اور مماثل ہونا ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر نبی کی کتاب اور اس کا صحیفہ پہلے نبی کی کتاب اور اس کے صحیفہ کے مماثل ہو اور نہ یہ ضروری ہے کہ ودسرے نبی کی کتاب کیفیت نزول میں پہلے نبی کی کتاب کے مماثل ہو کسی پر اللہ نے متفرقا کتاب نازل کی اور کسی پر مجتمعا اور دفعتا حالانکہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم شرف اور عظمت میں اور علم و حکمت میں علوم وہدایت میں توریت اور انجیل سب سے بڑھ کر ہے۔ دیکھو تفسیر (ف 1) کبیر ص 483 ج 6۔ ایسی لاجواب کتاب پر ایمان لانے میں کیوں تردد کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ آئندہ آیت میں کافروں کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں کیا یہ لوگ اس چیز کا انکار نہیں کرچکے جو سابق میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی یعنی یہ لوگ اب تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ مدعی رسالت واقعی خدا کا رسول ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کو اللہ نے عصا اور یدبیضا جیسے معجزے نہیں دئیے لیکن ذرا یہ بتائیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) یہی معجزات لے کر لوگوں کے پاس آئے جن کو اب سندرسالت کہا جا رہا ہے تو کیا ان لوگوں نے ان معجزات کا انکار نہ کیا تھا اور ان کو جھوٹا اور جادوگر نہیں کہا تھا اور اب قریش مکہ یہ کہتے ہیں کہ توریت اور قرآن دونوں ہی جادو ہیں جو باہم ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ 1 اعلم ان الذی اقترحوہ غیر لازم لانہ لا یجب فی معجزات الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ان تکون واحدۃ ولا فیما ینزل الیہم من الکتاب ان تکون علی وجہ و احداذ الصلاح قد یکون فی انزالہ مجموعا کالتوراۃ ومفرقا کالقران ثم ان اللہ تعالیٰ اجاب عن ھذہ الشبھۃ بقولہ اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل۔ الخ تفسیر کبیر ص 483 ج 6۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ مکہ کے کافر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سن کر کہنے لگے کہ اگر ویسا معجزہ اس نبی کے پاس ہوتا تو ہم اس کو مان لیتے جب یہود سے پوچھا اور توریت کی باتیں سنیں تو اس نبی کے موافق اور اپنی مرضی کے خلاف سنیں مثلا یہ کہ بت پرستی کفر ہے اور آخرت کا جینا حق ہے اور جو جانور اللہ کے نام پر ذبح نہ ہو وہ مردار ہے اور عرب میں ایک نبی آخرت الزمان آئیں گے جن کی یہ نشانیاں ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ تو جوش میں آکر کہنے لگے کہ دونوں یعنی توریت اور قرآن دونوں ہی جادو ہیں اور موسیٰ اور محمد (علیہما السلام) دونوں ہی جادوگر ہیں۔ (العیاذ باللہ) ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں (انتہی) اور ایک دوسرے کے دین کی باتیں ملتی جلتی ہیں اور یہ کہنے لگے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے۔ نہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور نہ محمد ﷺ کو اور نہ تو ریت کو اور نہ قرآن کو۔ کفار عرب کسی نبوت و رسالت کے قائل نہ تھے۔ اے نبی آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ اگر یہ دونوں کتابیں تمہارے نزدیک جادو ہیں تو تم ان کے علاوہ کوئی اور کتاب اللہ کے پاس سے لے آؤ جو ہدایت میں ان دونوں سے بہتر اور بڑھ کر ہو۔ تاکہ میں اس پر چلوں اور اس کی پیروی کروں اگر تم اس دعوے میں سچے ہو میں تمہاری طرح معاند نہیں۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ لوگ قرآن کا مثل لانے سے عاجز ہیں پھر اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے پس اگر یہ لوگ آپ کی بات کو نہ مانیں اور اس جیسی نہ تو کوئی کتاب لاسکیں اور نہ توریت اور قرآن کو مانیں پس یقین کرلیجئے کہ یہ لوگ ضدی اور عنادی ہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چل رہے ہیں۔ حق واضح ہے مگر ان کا نفس نہیں مانتا اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے نفس کی خواہش پر چلے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا جو شخص بغیر دلیل کے نفس کی خواہشوں پر چلنے لگے وہ کیسے راہ یاب ہوسکتا ہے چناچہ آئندہ آیت میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرماتا اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے اور قسم قسم کے خیالات آتے ہیں اور وہ راہ حق پر نہ چلنے کے لئے طرح طرح کے حیلے اور بہانے تراشتا ہے۔
Ayahs 28:51–56

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم پے درپے ان لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) انکو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے (اور) ہم تو اس سے پہلے کے حکم بردار ہیں

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ باتیں سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال تم کو سلام ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد) تم جس کو دوست رکھتے ہو اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں کی مذمت فرمائی کہ جو ہدایت خداوندی کے مقابلہ میں نفسانی خواہشوں کو مقدم رکھتے ہیں اب ان آیات میں گزشتہ کے مقابل انصاف پسند اور حق پسند اہل کتاب کی مدح فرماتے ہیں کہ جنہوں نے حق اور ہدایت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جیسا کہ سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ ستر علماء نصاریٰ جن کو نجاشی شاہ حبشہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے ان پر سورة یٰسین پڑھی تو وہ لوگ سنتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے اور وہ لوگ مسلمان ہو گے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی الذین اتیناہم الکتاب من قبلہ ہم بہ یومنون۔۔ الی قولہ تعالی۔۔۔ سلام علیکم لا نبتغی الجاھلین۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 393 ج 3) چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ان کے لئے وقتا فوقتا حسب ضرورت ومصلحت ہدایت کی بات کو پے در پے اور بار بار اور لگاتار بیان کیا ایک آیت کے بعد دوسرے آیت اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت اور ایک نصیحت کے بعد دوسری نصیحت۔ حتی کہ ان پر حجت پوری کردی تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور ہدایت کی بات کو مانیں۔ (یا یہ معنی ہیں) کہ ہم نے حق بات کو نہایت واضح اور مفصل کردیا کہ جس شک اور شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔ (یا یہ معنی ہیں) کہ ہم نے قرآن میں جگہ جگہ اور بار بار ان امتوں کا ذکر کیا ہے کہ جو رسولوں کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں تاکہ ان کا حال سن کر ان سے عبرت پکڑیں۔ اس آیت میں مشرکین کے اس اعتراض کا جواب بھی ہوگیا۔ جو یہ کہتے تھے کہ اگر قرآن مجید کلام الٰہی اور منزل من اللہ ہے تو توریت کی طرح دفعتہ کیوں نازل نہیں ہوا۔ جواب یہ ہوا کہ ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے بتدریج اس لئے نازل کیا تاکہ لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ جائیں اور یاد رکھنے میں ان کو سہولت ہو اور اس تدریجی نزول سے وقتا فوقتا ان پر ایک نئی حکمت اور نئی موعظت منکشف ہوتی رہے اور گزشتہ امتوں کی ہلاکت کا حال سن کر عبرت پکڑیں کہ مبادا جو عذاب اگلوں پر نازل ہوا ہے وہ ہم پر بھی نازل نہ ہوجائے اس لئے ہم نے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے حالات اور کفار کی ہلاکت اور تباہی کے واقعات کو بار بار وبتکرار۔۔۔ بیان کیا تاکہ حق اور حقیقت کو خوب سمجھ جائیں اور بار بار سن کر قہر الٰہی سے ڈر جائیں اور نصیحت پکڑیں اور ایک فائدہ یہ ہے کہ بار بار کی فہمائش اور تذکیر سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور کسی قسم کے عذر کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور کیا یہ مشرکین عرب اس بات پر نظر نہیں کرتے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت انبیاء سابقین کی بشارت اور علماء اہل کتاب کی تصدیق اور اعتراف سے بھی ظاہر ہوچکی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے یا نزول قرآن سے پہلے کتاب توریت اور انجیل دی تھی وہ تو اس نبی پر یا اس قرآن لاتے ہیں اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے یقین کیا کہ یہ کلام الٰہی ہے بیشک اور بلاشبہ یہ حق ہے ہمارے پروردگار کے پاس سے آیا ہے۔ تحقیق ہم تو اس کو پہلے ہی سے مانے ہوئے تھے کیونکہ توریت اور انجیل اور کتب سابقہ میں اس کی بابت پیشین گوئیاں مذکور ہیں۔ ہم انبیاء سابقین کی بشارتوں کی وجہ سے پہلے ہی سے توحید کے اور نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت اور قرآن کی حقانیت کے قائل نہ تھے اور اس کے منتظر تھے۔ علماء اہل کتاب کے ایمان کے ذکر سے اہل مکہ پر حجت قائم کرنا ہے کہ جو لوگ شریعت سابقہ کے علم سے واقف تھے انہوں نے تو اس قرآن کو سنتے ہی کہہ دیا کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور بیشک یہ برحق ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور یہ وہی کتاب ہے جس کے نزول کی انبیاء سابقین نے خبر دی ہے اور یہ نبی وہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں جن کے ظہور کی انبیاء سابقین خبر دیتے آئے۔ ہم تو اس کے مشتاق اور منتظر تھے جیسا کہ سورة اعراف میں گزرا۔ النبی الامی الذی یجد ولہ مکتوبا عندہم فی التورۃ والانجیل اور سورة شعراء میں گزرا۔ اولم یکن لہ ایۃ ان یعلمہ علمؤا بنی اسراء یل۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسے منصف اور حق پرست اہل کتاب کو دوہرا اجر ملے گا اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا کہ حق کے قبول کرنے کی وجہ سے ان کو جو مشقتیں پیش آئیں اور ان کو برداشت کیا اور دنیاوی اغراض اور منافع کی وجہ سے قبول حق سے گریز نہیں کیا دنیا پر لات ماری اور حق کے سامنے گردن جھکا دی اور اس راہ میں جو ایذائیں اور تکلیفیں پہنچیں ان پر صبر کیا جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ثلاثۃ لہم اجران رجل من اھل الکتاب امن بنبیہ ثم امن بی والعبد المملوک اذا ادی حق اللہ وحق ھو الیہ ورجل کانت عندہ امۃ فادبھا فاحسن تادیبھا وعلمھا فاحسن تعلیمھا ثم اعتقھا ثم تزوجھا فلہ اجران۔ (تین شخصوں کو اپنے عمل کا دوہرا اجر ملے گا ان میں سے ایک وہ شخص ہے کہ جو اہل کتاب میں سے ہے پہلے اپنے نبی یعنی موسیٰ یا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور پھر محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا الخ ) نکتہ : شیخ الاسلام عثمانی (رح) کہتے ہیں کہ شیخ اکبر (رح) نے فتوحات میں لکھا ہے کہ ان اہل کتاب کا ایمان اپنے نبی پر دو مرتبہ ہوا۔ اول بالاستقلال دوبارہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ حضور پر نور ﷺ تمام انبیاء سابقین کے مصدق ہیں اور ان پر ایمان رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں اور حضور پر نور ﷺ پر بھی ان کا ایمان دو مرتبہ ہوا ایک بالذات وبالاستقلال۔ دوسرا پہلے اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ ہر پیغمبر حضور ﷺ کی بشارت دیتے اور پیشگی تصدیق کرتے چلے آئے ہیں اسی لئے ان لوگوں کو اجر بھی دو مرتبہ ملے گا۔ (تفسیر عثمانی) حق جل شانہ نے ان آیات میں مومنین اہل کتاب کی مدح فرمائی اول ان کے اعتقاد اور ایمان کا ذکر فرمایا اس کے بعد ان کے اخلاق فاضلہ کو بیان کیا جس میں سب سے پہلے ان کی صفت صبر کو بیان کیا اور بما صبروا کہا کیونکہ صبر ہی تمام اخلاق فاضلہ کی جڑ ہے اب ان کی دوسری صفت بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں کوئی ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ اس کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ بدی راہ بدی سہل باشد جزاء اگر مروی احسن الیٰ من اساء اور تیسری صفت ان کی یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو رزق دیا ہے اس میں سے میری راہ میں خرچ کرتے ہیں اور چوتھی صفت ان کی یہ ہے کہ وہ جب کافروں اور منافقوں سے کوئی لغو اور بےہودہ بات سنتے ہیں یعنی ان کی طعن وتشنیع کو سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس سے الجھتے نہیں بلکہ کنارہ کشی کرتے ہیں اور سلامت ردی کے طور پر یہ کہہ دیتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ ہر ایک کا عمل اس کے سامنے آجائے گا پس تم پر ہمارا سلام ہے ہم جاہلوں سے واسطہ رکھنا نہیں چاہتے۔ اس جگہ سلام سے سلام تحیت مراد نہیں بلکہ سلام متارکت اور سلام اعراض ومفارقت مراد ہے تم ہماری طرف سے امن اور سلامتی میں ہو اور ہم تمہاری طرف سے امن اور سلامتی میں ہیں۔ یعنی ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے اور تمہارے لغو کا لغو سے مقابلہ نہیں کرتے جاہلوں سے مقابلہ بےسود ہیں خاص کر جو جہل مرکب اور جہالت عناد میں مبتلا ہو اس کی ہدایت اور اصلاح تو نہایت دشوار ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ تحقیق اے نبی باوجود اس کے کہ اللہ نے آپ ﷺ کو ہادی عالم اور رحمت مجسم بنا کر بھیجا ہے مگر ہدایت اور توفیق آپ کے قبضہء قدرت میں نہیں کہ جس کو چاہیں ہدایت دے دیں لیکن اللہ ہی اس بات پر قادر ہے کہ وہ جس کو چاہے راہ دکھا دے اور راہ پر چلا دے اور منزل مقصود پر پہنچا دے اور وہی خوب جانتا ہے راہ پانے والوں کو۔ اللہ ہی کو معلوم کہ کون ہدایت پائے گا۔ غیب کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام خزانے اسی کے دست قدرت میں ہیں۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت باجماع مفسرین ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے لئے بڑی کوشش کی کہ مرتے وقت ایک مرتبہ کلمہ پڑھ لے مگر اس نے قبول نہ کیا اس پر یہ آیت اتری۔ (موضح القرآن) نبی کے اختیار میں صرف اتنا ہے کہ یہ بتلا دے کہ حق کی راہ یہ ہے باقی حق کا دل میں اتار دینا یہ اللہ کا کام ہے۔ آنحضرت ﷺ ہدایت پر مامور تھے مگر ہدایت دینے پر قادر نہ تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) آزر کو ہدایت نہ دے سکے اور نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو ہدایت نہ دے سکے۔ اور لوط (علیہ السلام) اپنی بیوی کو ہدایت نہ دے سکے، مطلب یہ ہے کہ ہدایت دعوت اور ہدایت بیان تو آپ ﷺ کی قدرت میں ہے۔ مگر ہدایت توفیق آپ ﷺ کی قدرت میں نہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 485 ج 6۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس آیت کے نازل کرنے سے آنحضرت ﷺ کی تسلی مقصود ہے کہ آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں ہدایت اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور اسی کو معلوم ہے کہ کس میں ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت اور استعداد ہے اور کس میں نہیں۔ انک لا تھدی من احببت۔ میں قدرت اور اختیار کی نفی کی گئی کہ ہدایت کسی کے قدرت اور اختیار میں نہیں اور وھو اعلم بالمھتدین۔ میں کی نفی کی گئی کہ کسی کو اس کا علم بھی نہیں کہ کون راہ یاب ہوگا۔ 1 قال الامام الرازی۔ قال اللہ تعالیٰ انک لا تھدی من احببت وقال تعالیٰ فی ایۃ اخری وانک لتھدی الی صراط مستقیم ولاتنا فی بینھما فان الذی اثبتہ واضافہ الیہ الدعوۃ والبیان والذی نفی ھدایۃ التوفیق وشرح الصدر وھو نور یقذف فی القلب فیحیابہ القلب کما قال تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس۔ (تفسیر کبیر ص 485 ج 6)
Ayahs 28:57–60

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے ؟ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشیت میں اترا رہے تھے سو یہ ان کے مکانات ہیں جو انکے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انکو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

اتمام حجت وقطع معذرت یعنی قبول ہدایت کے بارے میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ ہادی برحق ہے۔ حق کا راستہ بتلانے والے ہیں مگر کسی کے دل میں حق کا اتار دینا یہ اللہ ہی کا کام ہے نبی کا کام ہدایت اور رہنمائی اور حق کی دعوت ہے اور بندوں کا کام اللہ کی راہ پر چلنا اور اس کی ہدایت اور دعوت کو قبول کرنا ہے اب آئندہ آیات میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ جاہل ہدایت کے نہ قبول کرنے کے عذر میں یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت کی پیروی کریں اور قبائل عرب کی مخالفت کریں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ ہم اپنی زمین سے اچک لئے جائیں اور اپنے گھروں سے نکال دئیے جائیں۔ حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے اور وہ دنیاوی زندگی میں ہماری دولت کا سبب ہے اور مرنے کے بعد ہماری سعادت کا ذریعہ ہے مگر ہم کو ڈر یہ ہے کہ آپ کی متابعت سے تمام قبائل عرب ہمارے دشمن ہوجائیں گے اور ہم کو ہمارے گھروں سے نکال دیں گے اور ہم میں ان کے مقابلہ کی قوت نہیں۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں ان کے اس شبہ کے تین جواب دئیے گئے۔ جواب اول اولم نمکن لہم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کو حرم میں آباد کیا ہے جو امن وامان کی جگہ ہے جہاں کوئی لڑائی کا نام بھی نہیں لیتا اور ان کو ایسی جگہ بسایا ہے جہاں ہر قسم کے پھل اور سامان رزق ہماری طرف سے کھچا چلا آتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے تو جس خدا نے تم کو اپنے حرم میں بسایا ہے جہاں کے رہنے والوں کو کوئی نہیں چھیڑتا اور باوجودیکہ یہ حرم میں امن سے بیٹھے ہو تو کیا خدا پرستی اور حق اور ہدایت کے اتباع سے اس نعمت و کرامت سے محروم ہوجاؤ گے حاصل جواب یہ ہے کہ جب ہم نے ان کو کفر اور شرک کی حالت میں اپنے حرم محترم میں پناہ دی اور امن وامان دیا اور رزق دیا اور مقام محفوظ میں ان کو بسایا تو اگر اسلام لے آئیں۔ اور خدا پرست بن جائیں تو خدا کی رحمت سے پہلے سے زیادہ مامون اور محفوظ ہوں گے اور پہلے سے زیادہ رزق پاویں گے۔ دوسرا جواب وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا۔۔۔ الی۔۔۔ الا واھلھا ظالمون۔ اور یہ نادان جو دنیاوی فوائد اور منافع کے خیال سے ہدایت کے اتباع سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ ہم نے ہدایت کا اتباع نہ کرنے کے جرم میں کتنی ہی بستیاں ہلاک کر ڈالیں جو اپنے سامان عیش و عشرت پر اتراتی تھیں اور دن رات عیش و عشرت میں غرق تھیں مگر ایمان نہ لانے اور ہدایت کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان کی تمام نعمتوں پر پانی پھر گیا جس کی علت ان کا کفر تھا۔ معلوم ہوا کہ ایمان اور قبول ہدایت زوال نعمت کا سبب نہیں بلکہ کفر اور ضلالت پر جمود اور اصرار زوال نعمت کا سبب ہے۔ دیکھو تفسیر کبیر ص 487 ج 6۔ وہمی اور خیال اور احتمالی مصیبتوں اور آفتوں سے تو ڈرتے ہیں اور کفر کی ان دنیوی مصیبتوں سے نہیں ڈرتے کہ جو پیش آچکی ہیں اور ان کا انکار ممکن نہیں۔ پس یہ ان باغیوں اور طاغیوں کے مکانات ہیں جو تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور ان کے یہ مسکن خالی اور خراب پڑے ہیں جو ان کے ہلاک ہونے کے بعد آباد نہیں ہوئے مگر بہت تھوڑے کہ کوئی مسافر چلتا رہ وہاں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جاتا ہے اور دنیا کی عیش و عشرت پر نازل کرنے والے اور اترانے والے چل بسے اور ان کی بستیاں تباہ اور برباد ہوگئیں اور آخر میں ہم ہی ان کے وارث ہوئے یعنی وہ بستیاں ایسی اجڑیں کہ کوئی ان کا نام لینے والا نہیں رہا معلوم ہوا کہ دولت و ثروت میں اترا کر اتباع ہدایت اور قبول حق سے گریز کا انجام تباہی اور بربادی ہے پس تم بزعم خود کفر وضلالت پر اصرار اور ایمان واسلام سے انکار کر کے اپنے ذرائع معاش اور وسائل دولت و ثروت کی حفاظت کر رہے ہو۔ لیکن در حقیقت یہی باتیں تمہاری ہلاکت کا موجب ہیں۔ چشم عبرت سے کام لو اور دیکھو کہ ہم نے کتنی آبادیاں جو مال و دولت کے نشہ میں طغیان اور سرکشی کرنے لگی تھیں کس طرح ان کو تباہ اور برباد کردیا کہ آج ان کا نام ونشان بھی نہیں رہا اور اے نبی تیرا پروردگار بستیوں اور آبادیوں کو تباہ کرنے والا نہیں یہاں تک کہ ان کے کسی بڑے شہر میں رسول بھیجے جو ان کو ہماری باتیں سنائے اور بتائے اور وہ ہمارے احکام کی پروانہ کریں تو ان پر ہمارا قہر نازل ہوتا ہے اور پھر ہم پیغمبر بھیجنے کے بعد بھی فورا ان بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر اسی حالت کہ جب وہاں کے باشندے کھلم کھلا ظالم اور ستمگار ہوجائیں اعلانیہ طور پر حق سے انکار کرنے لگیں۔ اور ظلم وستم پر اتر آئیں اور حق کی دشمنی پر اور ظلم پر کمر ہی باندھ لیں اور یہی ٹھان لیں کہ اب حق کو نہیں مانیں گے تب اللہ کا قہر نازل ہوتا ہے۔ تیسرا جواب وما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ اور اے بدنصیبو خوب سمجھ لو جو کچھ تم دئیے گئے ہو سو اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ وہ چند روزہ دنیاوی زندگی کی بہرہ مندی ہے اور اس کی زینت اور آرائش ہے یعنی جس مال ومتاع کی خاطر تم دین اسلام قبول نہیں کرتے وہ فقط چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور فنا ہونے والا ہے اور ایمان لانے والوں اور ہدایت قبول کرنے والوں کے لئے جو خدا کے نزدیک مہیا کیا گیا ہے وہ اس دنیا کی زینت سے کہیں بہتر ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے پس اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر ہم ایمان لائے تو ہمارا مال ومتاع ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا پس اگر تمہارے اس خیال کو صحیح مان لیا جائے تو یہ سوچو کہ دنیا کا تمام مال ومتاع فانی ہے اور چند روزہ ہے لہٰذا اگر یہ چند روزہ اور کھوٹی پونجی دے کر آخرت کی دائمی نعمت اور لازوال اور بےمثال دولت حاصل کرلو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی کوئی نعمت مضرت اور کدورت سے خالی نہیں اور ایک محدود اور معین وقت کے لئے ہے دائمی نہیں اور محدود اور متناہی ہے اور آخرت کی نعمتیں مضرت اور کدورت سے بالکلیہ خالی ہیں اور باقی اور لازوال اور بےمثال ہیں اور غیر محدود اور غیر متناہی ہیں۔ پس ذرا خیال تو کرو اور اپنے دل میں انصاف کرو کہ فانی پر اکڑ رہے ہو اور باقی کو چھوڑ رہے ہو کیا فانی اور باقی برابر ہوسکتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دنیا کی حقارت اور ذلت کو بتلایا کہ دنیا کی حقیقت صرف ایک چند روزہ ظاہری زینت سے زیادہ نہیں۔ قابل رغبت دار آخرت ہے جس میں ایمان لانے والوں کو بےمثال اور لازوال نعمتیں ملیں گی لہٰذا فکر کرو۔ ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق اور وما الحیاۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی۔