29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 29:41–44

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

ابطال شرک و اثبات توحید قال اللہ تعالیٰ مچل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لل مومنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان ظالموں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے اور مورد عذاب الٰہی بنے اب ان آیات میں ان کے ظلم کی تشریح کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی مثال جو بت پرستی کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے جس کا گھر بہت بودا ہوتا ہے مکڑی کی طرح یہ بھی اپنے اعتقاد کا تانا بانا بنتے ہیں جو محض لغو ہے۔ (یا یوں کہو) کہ ان ظالموں نے جس دین کو اپنا قلعہ اور حصن حصین سمجھا ہوا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں مثال ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کے سوا اپنے کارساز اور حمایتی ٹھہرائے ہیں۔ اور ان کی اپنی مرادیں پوری کرنے والا سمجھتے ہیں مثل مکڑی کے ہے کہ جو ایک گھر بنا لیتی ہے اور وہ اس کو اپنا گھر سمجھتی ہے جس کی حقیقت ایک تنا ہوا جالا ہوتی ہے اور بلاشبہ تمام گھروں میں سب سے کمزور مکڑی کا گھر ہے اسی طرح جو لوگ بتوں کو اپنی پناہ گاہ سمجھے ہوئے ہیں اور اپنا محافظ اور نگہبان جانے ہوئے ہیں اور بےفائدہ اور بےکار ہے اسی طرح یہ بت نہ ان کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی پناہ سہارا دے سکتے ہیں مکڑی کا گھر نہ سردی سے بچا سکتا ہے اور نہ گرمی سے۔ ان بتوں کا سہارا ڈھونڈنا ایسا ہے جیسا کہ مکڑی کے گھر کا سہارا ڈھونڈنا۔ پس جس شخص نے بتوں پر اعتماد کیا اس کا حال اس مکڑی کے مشابہ ہے کہ جس نے اپنے تانے ہوئے جالے کے گھر پر اعتماد کیا۔ حکماء کا قول ہے کہ مکڑی کے آٹھ پاؤں اور چھ آنکھیں ہوتی ہیں اور اس کے اندر ایک زہریلا مادہ بھی ہوتا ہے اور زہر عنکبوت آدمی کو ہلاک کر ڈالتا ہے اسی طرح مشرکین ہر طرف دوڑتے ہیں اور ان کی نظریں چکا چوند رہتی ہیں اور اندر شرک کے زہریلا مادہ ہوتا ہے جو ان کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ کاش یہ کافر جانتے کہ ان کا دین مکڑی کے جالے مشابہ ناپائیدار اور ذلیل و خوار ہے اور بےحقیقت اور بےمقدار ہے اگر مشرکین کو کچھ بھی سمجھ بوجھ ہوتی اور یہ جان لیتے کہ ہمارا دین مکڑی کے گھر کی طرح بےبنیاد ہے۔ تو کبھی اس دین کو اختیار نہ کرتے۔ غرض یہ کہ کچھ نہیں جانتے بیشک اللہ ہی خوب جانتا ہے ان چیزوں کی حقیقت کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں اور اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے اور کمال عزت اور کمال حکمت کے ساتھ موصوف ہے۔ عزیز اور حکیم کو چھوڑ کر ضعیف اور ناتواں کو سہارا بنانا کمال ابلہی ہے۔ اور یہ مثالیں ہم ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے بیان کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے ان مثالوں کو مگر علم والے اور سمجھ والے ان بت پرستوں کو چاہئے کہ ایک طرف تو اپنے بتوں کی کمزوری بلکہ مجبوری اور لاچاری پر نظر کریں اور دوسری طرف اللہ کی قدرت اور قوت پر نظر کریں کہ اللہ نے آسمان اور زمین بنائے نہایت حکمت کے ساتھ جو اس کی کمال قدرت اور کمال حکمت کی دلیل ہے۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لئے بڑی ڈلیل ہے اس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں خدا کا کوئی شریک نہیں لہٰذا لائق پرستش وہی ذات ہے کہ جو آسمان و زمین کی خالق ہے پس تم کو جو حاجتیں مانگنی ہوں وہ آسمان و زمین کے خالق سے مانگو۔
Ayahs 29:45–55

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی کے انوار وبرکات سے ان کی ظلمتیں دور ہوجائیں اور نماز کو قائم کیجئے نماز ایک عجیب عبادت ہے جو فحشاء اور منکر کے دور کرنے میں تریاق کا حکم رکھتی ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن کا حکم دیا کہ بغیر اللہ کا حکم سنے کیسے راہ یاب ہوسکتے ہیں اور پھر نماز کا حکم دیا جو خشوع اور خضوع کی تصویر ہے بعد ازاں ذکر الٰہی کا حکم دیا جو نماز کی اور تمام عمل صالحہ کی روح ہے بلکہ تمام عالم کی روح ہے جب تک دنیا میں اللہ کا نام باقی ہے اس وقت تک دنیا قائم ہے بعد ازاں اہل کتاب سے مناظرہ اور مجادلہ کا طریقہ بتایا کہ ان کو حسن اسلوب سے حق کی دعوت دیجئے اس لئے کہ علماء اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں جن کی گذشتہ پیغمبروں نے خبر دی ہے اور جو کتاب ہدایت و حکمت آپ ﷺ پر نازل ہوئی ہے وہ آپ ﷺ کی نبوت کی کافی اور شافی دلیل ہے یہ بات لوگوں کے سامنے ہے کہ آپ ﷺ امی ہیں لکھنا پڑھنا نہیں جانتے مگر علم و حکمت کے چشمہ آپ ﷺ کی زبان سے جاری ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ علم من جانب اللہ ہے وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی اس حجت واضحہ کے بعد بھی اگر معاندین ایمان نہ لائیں تو وہ اپنے انجام کو سوچ لیں۔ ٓ اس لئے اب آئندہ آیات میں اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان منکرین کے عناد اور تکبر کی پروانہ کیجئے اور ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہو جیئے جو کتاب ہدایت اللہ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل ہوئی ہے اس کی تلاوت کرتے رہیے خود بھی پڑھیے اور دوسروں کو بھی سنائیے اور اقامت صلوٰۃ میں لگے رہئے اور کسی وقت اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوئیے خطابات تو حضور پر نور ﷺ کو ہیں مگر مقصود امت کو سنانا ہے۔ (یا یوں کہو) کہ گذشتہ آیات میں کفار کے احوال کو بیان کیا اب ان آیات میں مومنین کا بیان شروع ہوتا ہے اور ان کو ہدایتیں اور نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ اے اہل ایمان تمہارے لئے تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ (1) اول تلاوت قرآن (2) دوم اقامت صلوٰۃ (3) سوم ذکر اللہ۔ چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ﷺ ان متکبرین اور ظالمین کے اعراض اور انکار کی پرواہ نہ کیجئے آپ برابر دعوت اور تبلیغ رسالت میں لگے رہیے اور جو کتاب بذریعہ وحی کے آپ کے پاس بھیجی گئی ہے اس کتاب کو آپ خود بھی پڑھیے تاکہ پیغام خداوندی کی مسلسل تبلیغ ہوتی رہے اور اس کی بار بار تلاوت سے آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا مزید قرب حاصل ہو قرآن کریم تقرب الیٰ اللہ کا ذریعہ ہے اور آپ کے قلب کو قوت حاصل ہو اور بار بار پڑھنے سے آپ ﷺ پر بیش از بیش کلام الٰہی کے اسرار اور معارف منکشف ہوں نیز قرآن کریم میں انبیا سابقین (علیہ السلام) کی دعوت اور تبلیغ کا اور ان کی امتوں کی تکذیب اور ایذا رسانیوں کا ذکر ہے ان کے بار بار پڑھنے سے آپ ﷺ کو تسلی ہوگی اور دنیا کی بےثباتی بار بار آپ کی نظروں کے سامنے آتی رہے گی اور علیٰ ہذا یہ کتاب دوسروں کو بھی پڑھ کر سنائیے تاکہ لوگ اس کو سن کر ہدایت پاویں اور نصیحت پکڑیں اور معاندین پر اللہ کی حجت پوری ہو کیونکہ یہ کتاب مستطاب اللہ کی نازل فرمودہ کتاب ہے جو دلائل توحید اور دلائل نبوت اور براہین پر مشتمل ہے اور اصول دین اور احکام شریعت اور مکارم اخلاق اور محاسن آداب کی حاوی اور ہادی ہے کیمیا سعادت اور کلید ہدایت ہے اور اگر یہ متکبرین (ف 1) اس کو نہیں سمجھتے تو اہل علم اور اہل فہم اس کو سمجھ لیں گے۔ غرض یہ کہ اس آیت میں اتل سے مطلق تلاوت مراد ہے جو خود پڑھنے کو اور دوسروں کے سامنے پڑھنے کو بھی شامل ہے اسی لئے اس آیت میں اتل علیہم نہیں فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ مطلق تلاوت کا حکم ہے خواہ خود تلاوت کریں اور دوسروں کے سامنے تلاوت کریں۔ 1 یہ عبارت اس لئے لکھی گئی تاکہ اس آیت کا گذشتہ آیت وما یعقلھا الا العالمون سے ربط ظاہر ہوجائے 12 اور آپ ﷺ ان متکبرین اور معرضین سے اعراض فرمائیے اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے اور نماز کو قائم کیجئے جو افضل ترین عبادت ہے اور تمام عبادات قولیہ اور فعلیہ کا لب لباب اور عطر ہے اور تسبیح اور تحمید اور تلاوت قرآن اور آداب عبودیت قیام اور رکوع اور سجود پر مشتمل ہے ابتدا نماز میں بصد خشوع و خضوع خدا کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا ہے اور اخیر نماز میں دو زانو خدا کے سامنے بیٹھنا اور مانگنا ہے اور بلاشبہ نماز جیسی عظیم عبادت بشرطیکہ وہ اپنے شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے اور حقیقۃ وہ صحیح نماز ہو تو ایسی نماز بلاشبہ بےحیائی سے اور ہر ناپسندیدہ فعل سے روکتی اور باز رکھتی ہے جو شخص نماز پر مداومت کرے گا تو ایک نہ ایک دن نماز اس کو کھینچ کر ترک معاصی وسیات کی طرف لے جائے گی جتنا نماز سے قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی فحشاء اور منکر سے بعید ہوتا جائے گا کیونکہ نماز مقام مناجات ہے اور محل ادب ہے اور از اول تا آخر اللہ کی عظمت اور محبت اور عبودیت کے اقرار اور اعتراف پر مشتمل ہے لہٰذا ایسے اقرار واعتراف کے بعد فحشا اور منکر کا ارتکاب اپنے سابق اقرارو اعتراف کی تکذیب کے مترادف ہے اور علاوہ ازیں نماز کی حقیقت اور صورت از اول تا آخر ذکر الٰہی ہے۔ اور اللہ کا ذکر اور اس کی یاد سب سے برتر اور بڑھ کر ہے قلب کی ظلمتوں اور کدورتوں اور نجاستوں کے ازالہ کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی دو ما نہیں اور ذکر الٰہی نماز کا رکن اعظم ہے قد افلح من تزکی ترہیب کے لئے ارشاد فرماتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو جیسا کرو گے اس کے مطابق جزا ملے گی آیت ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر کی تفسیر میں جو تقریر کی گئی اس سے وہ شبہ دور ہوگیا کہ جو لوگ کیا کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ باوجودیکہ نماز کے پابند ہیں مگر پھر بھی برے کاموں کے مرتکب ہیں۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ آیت میں نماز کی خاصیت بیان کی ہے جیسے اطبا بیان کرتے ہیں کہ فلاں دوا کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے بخار رک جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ دوا اپنے صحیح اور پورے اجزا پر مشتمل ہو تو اس دوا کا استعمال بخار کے روکنے میں موثر ہوتا ہے بشرطیکہ ایک خاص مدت تک اس دوا کا استعمال جا ری رکھا جائے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز استعمال نہ کی جائے جس کی خاصیت اس دوا کی خاصیت کے منافی ہو اور یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایک خوراک پینے ہی سے بخار رک جائے گا۔ تمام عقلاء کا اتفاق ہے کہ دوا کی تاثیر جب ہوتی ہے کہ جب نسخہ کے تمام اجزا اصلی ہوں نقلی نہ ہوں اور ایک خاص مقدار کے ساتھ خاص مدت تک پابندی کے ساتھ نسخہ کا استعمال کیا جائے تب دوا کا اثر ظاہر ہوگا اور اس کے ساتھ یہ بھی التزام رکھا جائے کہ کوئی چیز ایسی استعمال نہ کی جائے کہ جس کی خاصیت دوا کی خاصیت کے منافی ہو۔ اسی طرح سمجھو کہ طبیب روحانی نے تمہاری روحانی بیماریوں کے لئے نماز کا نسخہ جو تجویز کیا ہے اس کو پورے اجزا اور صحیح اجزا یعنی خشوع اور خضوع اور آداب عبودیت کے ساتھ ایک مدت تک استعمال کرو اور جو چیزیں روح کے لئے سم قاتل کا حکم رکھتی ہیں ان سے پرہیز رکھو اور نماز میں فقط ظاہری طور پر قیام اور رکوع اور سجود کرلینا یہ نماز کی حقیقت نہیں بلکہ نماز کی ظاہری صورت ہے اور ظاہر ہے کہ دوا کا نام اور اس کی محض ظاہری صورت بیماری کو دور نہیں کرسکتی اور نماز کی روح اللہ کا ذکر اور اس کی یاد ہے جب تک نماز میں اللہ کا جلال اور اس کی عظمت مستحضر نہ ہو وہ نماز بےجان ہے اس لئے امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر : صلاۃ سے مطلق نماز مراد نہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے کہ جو شرعا صحیح ہو اور عند اللہ قابل قبول ہو اور نماز کے لئے شرط ہے کہ کپڑے پا ک صاف ہوں کما قال تعالیٰ وثیابک فطھر اسی طرح ضروری ہے کہ نمازی کا باطنی لباس یعنی لباس تقویٰ بھی طاہرو مطہر اور نظیف ہو اور اس پر فحشاء ومنکر کی نجاست اور گندگی لگی ہوئی نہ ہو اور جب اللہ اکبر کہہ کر نماز کے لئے کھڑا ہو تو دل سے یہ سمجھتا ہو کہ میں دربار خداوندی میں احکم الحاکمین کے سامنے کھڑا ہوں معاذ اللہ میں بھنگی نہیں ہوں کہ جو بیت الخلا کی نجاستوں کو اپنی بالٹی میں جمع کرتا ہے پس جو شخص نماز کی حقیقت کو اور اپنے مقام کو سمجھ لے گا تو وہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد فحشاء اور منکر کی جانب جانے سے ایسی ہی نفرت کرے گا جیسا کہ ایک عاقل شہنشاہ کے دربار سے نکلنے کے بعد بیت الخلا اور کوڑی کے دیکھنے سے بھی نفرت کرتا ہے۔ غرض یہ کہ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر میں صلاۃ سے مطلق صلاۃ مراد نہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے کہ شرعا صحیح ہو اور آداب عبودیت اور شروط ظاہری اور باطنی کی جامع ہو بلاشبہ ایسی نماز کا اثر یہ ہے کہ فی الحال یا فی المال بدیر یا بسویر فحشاء اور منکر سے ضرور روک دے گی حق جل شانہ نے اس آیت میں تین باتوں کا ذکر فرمایا (1) ایک تلاوت کتاب کا اور ایک (2) اقامت صلاۃ کا اور (3) پھر ذکر اللہ کا اور ذکر اللہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ذکر الٰہی سب سے بڑھ کر ہے جس سے اللہ کی کمال عظمت اور کمال محبت کی طرف اشارہ ہے کما قال تعالیٰ فاذکروا اللہ کذکرکم اباؤکم او اشد ذکرا یعنی جس طرح عظمت اور محبت کے ساتھ تم اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے ہو اسی طرح عظمت اور محبت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا کرو بلکہ اس سے بڑھ کر۔ (دیکھو تفسیر کبیر للامام الرازی ص 532 ج 5) حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ فلاں شخص رات میں نماز پڑھتا ہے اور دن میں چوری کرتا ہے اور برے کام کرتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب نماز اس کو اس چیز سے روک دے گی جو تو کہہ رہا ہے چناچہ کچھ روز نہ گذرے تھے کہ اس شخص نے توبہ کی اور اس کا حال درست ہوگیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تم سے کہا نہ تھا۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 347 ج 13 ) مطلب یہ تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ دوا پیتے ہی شفا ہوجائے بعض مرتبہ کچھ عرصہ بعد بیماری کا ازالہ ہوتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ دوا کا استعمال نہ چھوڑے اگرچہ بدرپرہیزی بھی کرتا رہے۔ فا ئدہ : جاننا چاہئے کہ ہر عمل کی ایک خاص خاصیت ہوتی ہے قرآن کریم اللہ کا کلام ہے جو دل کو منور کرتا ہے اور دل سے جہالت کی ظلمت کو دور کرتا ہے اور نماز دل میں اللہ کی محبت اور عظمت پیدا کرتی ہے اور معصیت سے متنفر اور بیزار کرتی ہے جس کا ثمرہ قرب الٰہی ہے اور ذکر الٰہی دل سے اللہ کی غفلت کو دور کرتا ہے اور دل کی اصل بیماری خدا تعالیٰ سے غفلت ہے۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اہل شرک سے مجادلہ اہل کتاب ہیں جو اصل اور بنیاد تو رکھتے ہیں اور آسمانی کتاب اور پیغمبر برحق کے قائل ہیں برخلاف مشرکین اور محبوس کے کہ ہی سے باطل محض ہیں۔ اور اے مسلمانو اگر اہل کتاب تمہاری کتاب کے منزل من اللہ ہونے کا انکار کریں تو اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ اور مباحثہ نہ کرو مگر بطریق احسن یعنی اس طریقہ کے ساتھ کہ جو بہتر ہو دلائل اور براہین سے ان پر حق واضح کرو کیونکہ اہل کتاب فی الحال اگرچہ گمراہ ہیں مگر ایک اصل تو رکھتے ہیں آسمانی کتاب اور نبی برحق کے قائل ہیں بخلاف مشرکین اور مجوس کے کہ ان کی اصل بنیاد ہی غلط ہے وہ قابل مجادلہ اور مباحثہ کے قائل ہیں بخلاف مشرکین اور مجوس کے کہ ان کی اصل بنیاد ہی غلط ہے وہ قابل مجادلہ اور مباحثہ نہیں لہٰذا اہل کتاب سے مجادلہ میں نرمی بر تو وہ اگر خشونت اور سختی کریں تو تم ان کے ساتھ نرمی کرو اور اگر وہ بدمزگزی کریں تو اس کے مقابلہ میں خوش خوئی کرو مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین کا سا معاملہ نہ کرو اس لئے کہ مشرکین کا دین اصل سے ہی غلط ہے اور اہل کتاب کا دین اصل میں سچا تھا بعد میں بگڑا نیز اہل کتاب اہل علم ہیں کسی درجہ میں توحید کا اقرار کرتے ہیں اور انبیاء (علیہ السلام) کی نبوت کے قائل ہیں مگر ان میں سے جو ضدی اور بےانصاف ہیں اور کھلے طور پر عناد پر اترے ہوئے ہیں اگر ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرو اور ترکی بتر کی ان کو جواب دو تو ایسا کرسکتے ہیں اور وہ طریقہ احسن یہ ہے کہ مثلاً تم ان سے یہ کہو کہ ہم اس کتاب پر ایمان لائے کہ جو من جانب اللہ ہماری طرف اتاری گئی اور ہم ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو من جانب اللہ تم پر نازل کی گئیں کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے پس جس طرح اللہ کی طرف سے توریت اور انجیل اور دیگر کتب سماویہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) سابقین پر لوگوں کی ہدایت کے لئے اتریں اسی طرح سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ پر من جانب اللہ یہ قرآن نازل ہوا جو کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وحضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی طرف نازل ہوئی وہ حرف بحرف حق تھی ان سب پر ہمارا ایمان ہے مگر وہ آسمانی کتابیں اب اپنی اصل صورت اور حقیقت پر باقی نہیں رہیں بکثرت ان میں تغیر وتبدل واقع ہوا اور بہت سی جھوٹی باتیں ان میں خلط ملط ہوگئیں جن کے معلوم ہونے کی اب کوئی صورت نہیں ہم موجودہ توریت وانجیل کی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ تکذیب کرتے ہیں اور ہم صرف اس توریت وانجیل پر ایمان لاتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھیں۔ پس جس دلیل سے تم توریت اور انجیل کو منزل من اللہ مانتے ہو اسی دلیل سے قرآن بھی منزل من اللہ ہے لہٰذا تم کو قرآن پر بھی ایمان لانا چاہئے اور اے مسلمانو بوقت مباحثہ اہل کتاب سے یہ بھی کہو کہ ہمارے تمہارے درمیان توحید الٰہی مسلم ہے اور تم تسلیم کرتے ہو کہ ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے سو جب توحید ہمارے اور تمہارے درمیان مسلم ہے تو پھر تم حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کو کیوں خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہو اور ہم تو اسی ایک خدائے برحق کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں جس کی وحدانیت تم کو بھی تسلیم ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ ایک ہی خدا کے سامنے سر تسلیم خم اور اپنی مسلمہ بات ہے انحراف نہ کرو اور اے نبی جس طرح ہم نے آپ ﷺ سے پہلے رسولوں پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ کتاب (قرآن) اتاری جو تمام کتب سماویہ کا خلاصہ اور لب لباب اور تمام علوم ہدایت کا عطر ہے پس اس کتاب پر ایمان لانا درحقیقت تمام کتب الٰہیہ پر ایمان لانا ہے اور اس کا انکار درپردہ تمام کتب الٰہیہ کا انکار ہے پس جن لوگوں کو ہم نے توریت اور انجیل دی اور انہوں نے اپنی کتاب کو ٹھیک سمجھا اور ضدی اور عنادی نہیں وہ آپ والی کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ انہوں نے جان لیا کہ قرآن کریم علوم ہدایت میں توریت وانجیل سے بہت بلند ہے پس کیا وجہ ہے کہ ایسی لاجواب کتاب پر ایمان نہ لایا جائے۔ پس علما اہل کتاب میں سے عبد اللہ بن سلام ؓ اور سلمان فارسی ؓ جیسے تو فورا اس قرآن پر ایمان لے آئے اور ان اہل عرب میں سے بھی بعضے ایسے ہیں جو اس کو مانتے ہیں اور ہماری اس کتاب کی آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ کہ جو بڑے سخت کافر ہیں اور ہٹ دھرمی پر اترے ہوئے ہیں ” جحود “ لغت میں اس انکار کو کہتے ہیں کہ جو ہٹ دھرمی کی بنا پر ہو اور اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے کی عقل دلیل یہ ہے کہ اے نبی آپ نزول قرآن سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے داہنے ہاتھ سے لکھتے تھے یعنی نہ آپ ﷺ لکھنا جانتے تھے اور نہ پڑھنا جانتے تھے اگر ایسا ہوتا تو ایسی صورت میں یہ باطل پرست شک میں پڑجاتے اور یہ کہتے کہ یہ تو لکھے پڑھے ہیں آسمانی کتابوں کو دیکھ کر یہ مضامین بیان کرتے ہیں اور جب سب کو معلوم ہے کہ حضور پر نور ﷺ امی ہیں تو اب اس کے کہنے کی بھی گنجائش نہ رہی بجز اس کے کہ یہ کتاب وحی الٰہی اور منزل من السماء ہے کسی بندہ کی بنائی ہوئی اور لکھی ہوئی نہیں غرض یہ کہ اس قرآن کے بارے میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں بلکہ یہ قرآن تو کتاب الٰہی کی روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں بالفرض اگر دنیا کے تمام قرآن گم ہوجائیں تو ہر شہر میں حافظوں کے سینوں سے دوبارہ لکھا جاسکتا ہے اسی وجہ سے اس امت کے اوصاف میں یہ آیا ہے صدورہم انا جیلہم یعنی ان کے سینے ہی ان کی انجیل ہوں گے یعنی نبی آخر الزمان ﷺ پر جو کتاب نازل ہوگی وہ اس امت کے سینوں میں محفوظ ہوگی اور ہر حافظ کا سینہ ہی انجیل ہوگا چناچہ زمین کے ہر خطہ میں اس کے بیشمار حافظ موجود ہیں اور پورا قرآن لفظ بلفظ ان کے سینوں میں محفوظ ہے اور توریت وانجیل کے تو کسی ایک باب کا بھی آج تک روئے زمین پر کوئی کچا پکا حافظ بھی نہیں ہوا چودہ سو سال سے اب تک قرآن کے الفاظ اور معانی حفاظ اور قرا اور علماء کے سینوں میں محفوظ چلے آرہے ہیں جو چیز کاغذوں میں لکھی ہوئی ہو تو اس میں یہ احتمال ہے کہ پانی سے اس کے حروف دھل جائیں یا مٹ جائیں یا آگ سے جل جائیں لیکن جو چیزہزاروں اور لاکھوں سینوں میں محفوظ ہو اس کے ضائع ہونے کا کوئی امکان نہیں علماء اہل کتاب میں کچھ ہمت ہے تو روئے زمین پر توریت وانجیل کا ایک ہی کچا پکا حافظ دنیا کے سامنے پیش کردیں قرآن تو حافظوں کے سینوں میں محفوظ ہے یہود اور نصاری بتلائیں کہ توریت وانجیل کس کے سینہ میں محفوظ ہے بالفرض والتقدیر اگر صفحہ ہستی سے توریت کے تمام نسخے اور قرآن مجید کے تمام نسخے گم ہوجائیں تو مسلمان تو اپنا قرآن حافظوں کے سینوں سے دوبارہ کتابت کر کے شائع کردیں گے اور یہود اور نصاریٰ کس سینہ سے توریت اور انجیل لکھوا کر شائع کریں گے۔ پس یہ قرآن بارگاہ الٰہی سے نازل ہوا ہے معاذ اللہ حضور پر نور ﷺ کا بنایا ہوا نہیں اور ہماری نازل کردہ آیتوں کا نہیں انکار کرتے مگر وہی لوگ کہ جو بڑے بےانصاف اور ہٹ دھرم ہیں یہاں تک اہل کتاب کے ساتھ بطریق احسن مجادلہ تھا اور ان کے ظلم اور عناد کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ یہ ظالم ہٹ دھرمی سے یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے پروردگار کی طرف سے وہ نشان کیوں نہیں اتارے گئے جو پہلے پیغمبروں پر اتارے گئے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا کا نشان دیا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو احیا موتی اور ابرا اکمہ وابرص کا معجزہ دیا گیا آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں جس نے اپنی حکمت سے ان کو انبیا میں تقسیم کیا جیسے رزق کو اپنی حکمت سے بندوں میں تقسیم کیا ہر نبی کو ایک خاص نشان دیا جو دوسرے نبی کو نہیں دیا ورنہ یہ باطل پرست یہ کہتے کہ ایک ہی سحر ہے جو بطور میراث مسلسل چلا آرہا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے بہت سے معجزات مجھ کو عطا کئے کہ جو انبیا سابقین کو عطا نہیں ہوئے مثلاً شق قمر اور تسلیم شجر وحجر وغیرہ وغیرہ جن کی تفصیل کتب حدیث میں مذکور ہے۔ غرض یہ کہ اے نبی آپ ﷺ ان معاندین سے یہ کہہ دیجئے کہ معجزات اور نشانات میرے قبضہ قدرت میں نہیں وہ سب کے سب اللہ کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور حق کو ظاہر کرنے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی صداقت کے لئے نشان دکھلائے ہیں اور میری صداقت کے لئے بھی بہت سے نشان دکھلائے ہیں اور کیا منکرین کے لئے یہ نشان کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب مستطاب نازل کی جو دن رات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے جس کا اعجاز روز روشن کی طرح واضح ہے عرب اور عجم اس کی ایک آیت کا مثل لانے سے عاجز رہے اور یہ نشان تو قیامت تک باقی رہے گا آپ ﷺ کی نبوت کی یہ نشانی تو دائمی ہے کیا یہ نشان ان کے لئے کافی نہیں اس سے بڑھ کر اور کیا نشان ہوگا۔ بیشک اس کتاب معجز میں رحمت ہے اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو کتاب پر ایمان لائے ہیں جو اس کا اتباع کرے گا وہ اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے بہرہ ور ہوگا اور یہ کتاب سر تا پا نصیحت ہے بری باتوں سے منع کرتی ہے اور اگر کسی بدبخت کو یہ کتاب ہدایت سراپا نصیحت کافی نہ ہو تو پھر اس کے لئے کوئی معجزہ کافی نہیں ہوسکتا اور اے نبی اگر یہ منکرین نبوت اس کتاب معجز کو بھی آپ ﷺ کی رسالت کے ثابت کرنے کے لئے کافی نہ سمجھیں تو ان سے کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان میری رسالت کا گواہ ہونے کے لئے بس اللہ کافی ہے وہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے پس جس ذات نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اس پر میری رسالت پوشیدہ نہیں اس نے میری رسالت پر ہزارہا دلائل قائم کئے وہ سب من جانب اللہ میری نبوت کے گواہ ہیں اور وہ خوب جانتا ہے کہ تم حق بات کا انکار کرتے ہو اور باطل کا اقرار کرتے ہو اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ سے منکر ہوئے ایسے ہی لوگ خسارہ میں پڑنے والے ہیں کہ انہوں نے حق کے بدلہ میں باطل کو اختیار کیا اور اب ان کی بےباکی کا یہ عالم ہے کہ اے نبی آپ ﷺ جب ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں تو یہ لوگ بطور تکذیب و استہزا آپ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب سے آپ کو ڈراتے ہیں وہ ابھی لے آؤ دیکھیں وہ کیسا عذاب ہے اور کہتے ہیں اللہم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم یعنی یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ اگر یہ دین اور یہ قرآن تیرے پاس سے ہے اور حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی دردناک عذاب نازل فرما اس طرح اللہ کے عذاب کا استہزا اور تمسخر یہ بھی ان کے خسران کی دلیل ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور اگر ان کے عذاب کی میعاد مقرر نہ ہوتی تو ابھی ان کو عذاب آپہنچتا لیکن خدا تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت معین ہے وہ اپنے وقت پر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے وقت موعود تک مہلت دیتا ہے اور گھبرائیں نہیں وہ عذاب ان پر اچانک آئے گا اور ان کو اس کی آمد کی خبر بھی نہ ہوگی اور یہ بےشعور اور بےعقل اپنی جہالت اور حماقت سے آپ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ حق پر ہیں تو اپنے منکرین پر فورا عذاب لے آئیے اور اس میں شک نہیں کہ دوزخ کافروں کو اپنے احاطہ اور گھیرے میں لئے ہوئے ہے دنیا میں کفر کے اسباب ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں اور آخرت میں تو اس کا مشاہدہ ہوجائے گا کہ کافروں کو عذاب کس طرح اپنے گھیرے میں لیتا ہے جس دن وہ عذاب ان کے سروں کے اوپر سے بھی ان کو گھیرے گا اور پیروں کے نیچے سے بھی گھیرے گا جو لوگ ملائکہ اور کواکب اور ارواح کی پرستش کرتے تھے ان پر اوپر سے عذاب آئے گا اور جو لوگ شجر وحجر کی پرستش کرتے تھے اور سفلی خواہشوں میں گرفتار تھے ان پر نیچے سے عذاب آئے گا اور اللہ تعالیٰ خود یا فرشتہ کے ذریعہ دوزخیوں سے کہے گا چکھو مزہ اس چیز کا جو تم دنیا میں کرتے تھے دنیا میں تم نے جو کفر کیا تھا ابھی تک تم نے اس کا مزہ نہ چکھا تھا اب چکھ لو کہ کفر ایسا ہوتا ہے اور یہ وہی عذاب ہے جس کو دنیا میں جلدی طلب کر رہے تھے۔ لطائف ومعارف گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ امی تھے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اہل کتاب حضور پر نور ﷺ کے امی ہونے کے قائل نہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ تعلیم یافتہ اور لکھتے اور پڑھے تھے۔ جواب یہ کہ اچھا اگر ایسا ہے تو آپ تاریخی حیثیت سے اس استاد اور معلم کا نام بتلائیے کہ جس نے آپ ﷺ کو ان علوم و معارف کی تعلیم دی جن سے قرآن اور حدیث بھرا پڑا ہے۔ (1) عقلا یہ کیسے ممکن ہے کہ چار دانگ عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کے علم اور حکمت کا تو ڈنکا بج جائے اور جس فاضل اور کامل استاد نے آپ ﷺ کو یہ علوم سکھائے اس کو دنیا تو کیا جانے وہ دشمن بھی نہ جان سکے جو آپ ﷺ کے ہمعصر تھے اور آپ کی زندگی میں آپ ﷺ پر یہ طعن کرتے تھے کہ آپ پر باتیں کسی سے سیکھ کر آتے ہیں تعلیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ متعلم معلم کے پاس بار بار حاضر ہوا اور پابندی کے ساتھ اس کی خدمت میں حاضر ہوتا رہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے ایک مدت مدید چاہئے مقام حیرت ہے کہ اہل مکہ کو ساری عمر اس کا پتہ نہ چلا کہ آپ ﷺ کس سے یہ علم حاصل کر کے آتے ہیں اور مجلس میں آکر اپنی وحی کہہ کر سناتے رہتے ہیں آخر مکہ میں وہ کون سا پوشیدہ مکان یا تہ خانہ تھا جس میں آپ نے جا کر اور چھپ کر تعلیم پائی جس کا ساری عمر ابوجہل اور ابو لہب اور امیہ بن خلف کو پتہ نہ چلا اور نہ اس راستہ کا کسی کو علم ہوا کہ آپ فلاں راستہ اور فلاں گلی کوچہ سے فلاں شخص کے پاس فلاں وقت علم سیکھنے جاتے ہیں اور نہ یہ پتہ چلا کہ اس زمین دوز تہ خانہ میں کون سا فاضل چھپا بیٹھا ہے جو آپ ﷺ کے تنہائی میں یہ عجیب و غریب علوم سکھا دیتا ہے اور خود اس تہ خانہ سے باہر قدم نہیں نکالتا اور نہ سوائے محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی کو اس تہ خانہ کے اندر قدم رکھنے کی اجازت دیتا ہے آخر وہ معلم کہاں چھپا ہوا تھا کہ ساری عمر کسی نے اس کی صورت نہ دیکھی۔ (2) اور اگر بالفرض اس فاضل معلم نے کسی مصلحت سے اپنے آپ کو مکہ کے کسی خانہ یا تہ خانہ میں رکھا تو اہل مکہ کو کیا ہوا کہ ہلہ بول کر اس کے مکان گھس جاتے اور اس سے کہتے کہ آپ تشریف لائیے غرض یہ کہ ایسے فاضل استاد کا جس نے بزعم دشمنان اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کو تعلیم دی ہوتا ریخ عالم میں نام ونشان نہ ملنا سراسر خلاف عقل ہے۔ (3) پھر یہ کہ جس معلم نے آپ ﷺ کو اولین اور آخرین کے علوم کی اور توریت اور انجیل کی باتیں اور انبیا سابقین کی شریعتوں کی تعلیم دی لامحالہ اس کے پاس بڑا عظیم کتب خانہ بھی ہوگا نہ معلوم وہ کتب خانہ مکہ کے کس مکان میں چھپا ہو اتھا جس کا آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا۔ (4) نیز اس سے معلم کو کیا داعی پیش آیا جس سے ساری عمر اس نے اپنی تعلیم کو مخفی رکھا اور کسی متنفس پر یہ ظاہر ہونے نہیں دیا کہ محمد ﷺ مجھ سے تعلیم پاتے ہیں اور میرے شاگرد ہیں فضلا ہمیشہ اس پر فخر کرتے آئے کہ فلاں اور فلاں نے مجھ سے علم حاصل کیا ہے اس معلم نے کبھی اس پر فخر نہ کیا کہ ” محمد صاحب “ میرے شاگرد ہیں اور کیا اس فاضل معلم کا کوئی اور شاگرد نہ تھا کہ جو برسر مجلس آپ سے یہ کہتا کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے غلط ہے یہ ساری باتیں آپ فلاں شخص سے سیکھ کر آئے ہیں۔ (5) پھر یہ کہ وہ معلم اگر مشرکین میں سے تھا تو اس نے آپ ﷺ کو توحید کے علم اور اس کے دلائل کی اور شرک کے ابطال اور اس کے دلائل کی اور مشرکین کی تحمیق اور تجہیل کی تعلیم کیسے دی جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے اور اگر وہ معلم یہود میں سے تھا تو اس نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی منقبت اور فضیلت کی اور ان کی والدہ مطہرہ مریم صدیقہ (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت اور طہارت کی کیسے تعلیم دی اور علما یہود کو توریت کی تحریف پر کیسے ملامت کی اور ان کی غلط بیانیوں پر کیسے ان کو فضیحت کی اور اگر وہ معلم نصرانی تھا تو اس نے تثلیث اور حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کے الوہیت کے ابطال کی کیسے تعلیم دی اور حضرت مسیح کے قتل اور صلب کی تردید اور ان کے رفع الی السماء کی تعلیم کیسے دی۔ خلاصہ کلام یہ کہ تاریخی حیثیت سے بھی محمد رسول اللہ ﷺ کا امی ہونا روز روشن کی طرح ایسا واضح ہے کہ جس میں ذرہ برابر انکار بلکہ تردد کی بھی گنجائش نہیں۔
Ayahs 29:56–63

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

ترغیب ہجرت وذکر بقائے عالم آخرت وبیان حقارت دنیا وفناء وزوال او قال اللہ تعالیٰ یعبادی الذین امنوا ان ارضی واسعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ (ربط) جب کفار مکہ مسلمانوں کی ایذا رسانی پر تل گئے اور مسلمانوں کو احکام اسلام بجا لانا دشوارہو گیا تو حکم نازل ہوا کہ مسلمان مکہ سے ہجرت کر جائیں اور جہاں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کرسکیں وہاں چلے جائیں کافروں کی زمین میں کافروں کے ساتھ رہنا درست نہیں چناچہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اول حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر بعد چندے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی زجاج (رح) کہتے کہ جس جگہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نماز روزہ ممکن نہ ہو یا جس جگہ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کی معصیت ہونے لگے اور اس کا متغیر کرنا ممکن نہ ہو وہاں سے ہجرت واجب ہے ورنہ مستحب ہے اور چونکہ ترک وطن اور ہجرت اور خویش و اقارب سے مفارقت ابتلا عظیم ہے اور بہت بھاری چیز ہے اس لئے مہاجرین کی تسلی کے لئے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں یہ دنیا فانی ہے کل نفس ذائقۃ الموت ہر شخص کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے فرض کرو کہ آج ہجرت نہ کی تو ایک نہ ایک روز اس دنیا سے ہجرت کرنا ضروری ہے اور اس دنیا کو چھوڑنا ہے اگر خدا کے لئے تم وطن اور خویش و اقارب کو چھوڑو گے وہ تم کو اس کے بدلہ میں اس سے بہتر عطا کرے گا رزق کسی مکان کے ساتھ مخصوص نہیں چوپاؤں سے عبرت حاصل کرو کہ وہ بھی تو اپنی روزی ساتھ لئے نہیں پھرتے مگر اللہ تعالیٰ ان کو روزی پہنچاتا ہے۔ اے مسلمانو ! اس دنیا کو لہو ولعب سمجھو اور آخرت کی جدو جہد میں لگے رہو اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ کی لازوال نعمتیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو خدا کی راہ میں مجاہدہ کریں اور اس کے احکام کی تعمیل میں محنتیں اور مشقتیں اٹھائیں چناچہ فرماتے ہیں اے میرے ایمان والے بندو اگر اپنے ایمان کی حفاظت چاہتے ہو تو میرے دشمنوں سے الگ ہوجاؤ اور ان کے درمیان سے نکل جاؤ اور جس جگہ تم علانیہ میری عبادت نہیں کرسکتے وہاں سے الگ ہوجاؤ اور ان کے درمیان سے نکل جاؤ اور جس جگہ تم علانیہ میری عبادت نہیں کرسکتے وہاں سے ہجرت کر جاؤ البتہ میری زمین کشادہ ہے یہاں سے دوسری جگہ چلے جاؤ پس وہاں جا کر خالص میری ہی عبادت کرو وطن مالوف کی اقامت کو اللہ کی عبادت کے مقابلہ میں ترجیح نہ دو یعنی میرے بندوں کو چاہئے کہ عبادت الٰہی کو مقصود اصل سمجھیں اور آخرت کو اپنا وطن اصلی جانیں جہاں عبادت میسر نہ آسکے وہاں سے ہجرت کر کے ایسی جگہ چلے جاویں جہاں اللہ کی عبادت میسر آسکے اور اگر اہل و عیال کی محبت کی وجہ سے اپنا شہر نہیں چھوڑ سکتے تو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے مفارقت ضروری ہے کیونکہ ہر نفس ایک دن موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر بالآخر سب کو چھوڑ ہماری ہی طرف واپس آنا ہے تو بہتر یہ ہے کہ ابھی سے ہمارے پاس آنے کی فکر کرلو اور وطن اصلی کی تیاری کرو اور پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا رخ کرو ان پر ایمان لاؤ اور ان کی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجا لاؤ اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ہم ان کو ضرور بالضرور جنت کے بالا خانوں میں جگہ دیں گے جو تمہارے متروکہ محلوں سے لاکھوں درجہ بہتر ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی دنیا کی منازل فانیہ کے بدلہ میں ان کو یہ منازل عالیہ اور باقیہ عطا کریں گے وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کیا ہی خوب ثواب ہے نیک کام کرنے والوں کا یعنی ہجرت کرنے والوں کا جنہوں نے کافروں کی ایذاؤں پر اور ہجرت کے مصائب پر اور خویش و اقارب اور وطن کی مفارقت پر صبر کیا اور رزق کے بارے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہر جگہ رزق دینے والا ہے اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ وطن میں تو اسباب معیشت مہیا ہیں باہر جا کر کیا ہوگا تو خوب سمجھ لے کہ زمین پر چلنے والے کے کتنے جانور ہیں کہ اپنا رزق اپنے ساتھ اٹھائے اور لادے نہیں پھرتے اللہ ہی اپنے فضل سے رزق دیتا ہے ان کو بھی اور تم کو بھی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے جو خدا چرند اور پرند کو روزی دے سکتا ہے وہ مہاجرین کو بھی روزی دے سکتا ہے لہٰذا ہجرت کے بارے میں یہ اندیشہ نہ کرو کہ اگر ہم ہجرت کر جائیں تو ہم روزی کہاں سے پائیں گے تم تو اہل ایمان ہو تمہارا درجہ جانوروں سے کہیں بلند ہے جب خدا تعالیٰ جانوروں کو روزی دیتا ہے تو اس کی راہ میں ہجرت کرنے والے اہل ایمان کو کیوں روزی نہ دے گا لہٰذا مہاجرین کو چاہئے کہ آسمان و زمین کے خالق پر بھروسہ رکھیں کیونکہ رزق کا اصل سر چشمہ زمین اور آسمان ہے اور خدا ہی ان سب کا خالق ہے جس میں کسی کو انکار نہیں چناچہ اگر آپ مکہ کے کافروں سے دریافت کریں کہ بتاؤ کس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا کہ آسمان سے تمہارے لئے پانی برستا ہے اور زمین سے تمہارے لئے غلہ پیدا ہوتا ہے اور کس نے سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا سورج کی روشنی سے پھل اور کھیتیاں پکتی ہیں اور چاند کی روشنی سے بڑھتی اور ابھرتی ہیں اگر چاند اور سورج ایک ہی جگہ پر ٹھہرے رہتے اور حرکت نہ کرتے تو نہ دن ہوتا اور نہ رات ہوتی اور نہ موسم بدلتا اور نہ گرمی اور سردی ہوتی لیل ونہار کا اختلاف اور موسم سرما اور گرما کا اختلاف شمس وقمر کی حرکت سے ہے جو اللہ کے حکم سے ہے تو جواب میں سب کے سب ضرور یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے تو پھر کہاں بہکے جاتے ہیں اور اس اقرار کے بعد کیوں شرک میں مبتلا ہیں اور غیر اللہ سے کیوں مرادیں مانگتے ہیں کیا یہ شمس وقمر کی حرکت ان کے مادہ اور طبیعت کا اقتضا ہے یا کسی قادر مختار کی قدرت کا کرشمہ ہے سب جانتے ہیں کہ اسباب رزق اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں پھر بھی اس پر بھروسہ نہیں کرتے اور جس طرح اصل رزق اور اصل روزی اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح رزق کی کمی اور زیادتی اور فراخی اور تنگی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے خدا تعالیٰ ہی فراخ اور کشادہ کرتا ہے روزی کو جس کے لئے چاہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کی فراخی اور تنگی سب اللہ کی مشیت اور حکمت پر ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے تنگی اور فراخی کی مصلحت اس پر پوشیدہ نہیں لہٰذا یہ سمجھنا کہ ہجرت سے رزق کی وسعت ختم ہوجائے گی خیال خام ہے حسب الحکم اور حسب الہدایت تدبیر میں لگے رہو مگر نظر اور بھروسہ ہماری تقدیر پر رکھو۔ اور اگر آپ مشرکین عرب سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر کس نے اس پانی کے ذریعہ زمین کو مردہ اور افسردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ اور سر سبز و شاداب کیا تو جواب میں ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کہئے الحمد للہ یعنی شکر ہے خدا کا سب نے اس بات کا اقرار کیا کہ آسمان سے لے کر زمین تک رزق اور سامان رزق سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے پس عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب اس کی خالقیت اور راز قیت کا اقرار کرتے بلکہ معاملہ برعکس ہوگیا کہ اکثر کافر باوجود دنیا کے ہوشیار ہونے کے آخرت کے بےعقل ہوگئے اور آخرت کو چھوڑ کر دنیا کے شیدائی بن گئے اور دار بقا کو چھوڑ کر دار فنا اور فانی حیات پر فریفتہ ہونا بھی بےعقل کی دلیل ہے اور مادہ پرستوں کا عجب حال ہے کہ ان باتوں کو سمجھتے ہیں اور نہیں سمجھتے دیکھتے ہیں اور انہیں دیکھتے ہر وقت ایتھر کے چکر اور بھنور میں ہیں اللہ ان کو عقل دے۔
Ayahs 29:64–69

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

دار دنیا کی حقارت اور دار آخرت کی فضیلت قال اللہ تعالیٰ وما ھذہ الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لمع المحسنین۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا بل اکثرہم لا یعقلون یعنی اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے دنیا کی ظاہری آرائش پر مفتون ہیں اگر عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں کہ دنیا کا تمام کارخانہ فنا اور زوال اور ضعف اور اضمحلال پر مبنی ہے تو جان لیں کہ یہ دنیا بالکل بےحقیقت ہے اور سرائے فانی ہے جس سے ایک دن کوچ قطع ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں ہے یہ دنیاوی زندگانی جس پر یہ بےعقل فریفتہ ہیں مگر طفلان بےشعور کے دل بہلانے کا ایک مشغلہ جیسے بچے لاٹھی کو گھوڑا بنا کر اس پر سوار ہوجاتے ہیں اس کو بازی طفلاں کہتے ہیں اور محض ایک کھیل اور تماشا ہے جیسے گانا بجانا اور پتنگ بازی اور کبوتر بازی جس میں بسا اوقات جو ان بھی شریک ہوجاتے ہیں یہاں حق تعالیٰ نے دنیا کی حقارت بیان کرنے کے لئے دو لفظ اختیار فرمائے ایک لہو اور ایک لعب اور دونوں کے مفہوم میں لغت کے اعتبار سے کچھ فرق ہے لہو اس مشغلہ کو کہتے ہیں جس سے دل بہل جائے اور لعب کھیل تماشہ کو کہتے ہیں جو تھوڑی دیر رہ کر ختم ہوجائے مگر اس پر کوئی معتد یہ ثمرہ مرتب نہیں ہوتا یہی حال دنیاوی زندگی کا ہے مقصود یہ ہے کہ دنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے جو اس قابل نہیں کہ اس سے دل لگایا جائے اور تحقیق دار آخرت وہی حقیقی زندگی ہے جو ہر قسم کے تکدر سے پاک اور منزہ ہے اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے جہاں موت نہیں پس جس جگہ ہر وقت کوچ کا طبل بجتا رہتا ہو وہ جگہ جی لگانے کے قابل نہیں کاش کہ لوگ دنیا اور آخرت کے فرق کو سمجھتے تو دنیا میں اس قدر محو نہ ہوتے اور سمجھ لیتے کہ قابل توجہ اور التفات دار آخرت ہے لہٰذا اگر کچھ عقل ہے تو اصل فکر آخرت کی کرو اور دنیا کو اس کا وسیلہ اور ذریعہ بناؤ پس یہ شیدا یان حیوۃ دنیا جب کبھی دریا کا سفر کرتے ہیں اور کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور ان کو غرق ہونے کا ڈر ہوتا ہے تو اس وقت اس دنیائے لہو ولعب کو بھول جاتے ہیں اور اپنے معبودوں کو بھی بھول جاتے ہیں اور اللہ کو پکارتے ہیں درآنحالیکہ خالص اللہ کی عبادت کی نیت کرنے والے ہوتے ہیں اور اپنے معبودوں کو بھول جاتے ہیں اور خوف اور اضطراب کو دفع کرنے کے لئے اللہ کو پکارتے ہیں اور اس کی پناہ ڈھونڈتے ہیں جب اللہ کا نبی توحید کی طرف بلاتا ہے تو صاف انکار کردیتے ہیں اور جب سر پر مصیبت آپڑتی ہے تو توحید اور اخلاص کے نعرے لگانے لگتے ہیں پھر جب خدا ان کو اس مصیبت سے نجات دیتا ہے اور سلامتی کے ساتھ دریا سے خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو کشتی سے اترتے ہی حسب عادت پھر شرک کرنے لگتے ہیں جب آفت سر پر آپہنچی تو اللہ کو پکارنے لگے پھر جب وہ آفت سر سے ٹلی تو پھر وہی کفر اور شرک اور بتوں کو پکارنا شروع کردیا گویا (ف 1) کہ کفروشرک سے ان کی غرض یہ ہوئی ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتے رہیں اور دنیا کے مزے اڑاتے رہیں خیر بہتر ہے چند روز دل کے ارمان نکال لیں سو عنقریب جان لیں گے کہ ناشکری کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اب آئندہ آیت میں ان کے نا معقول حیلہ اور بہانہ کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہتے تھے ان نتبع الھدی معک نتخظف من ارضنا یعنی اگر ہم آپ پر ایمان سے لے آئیں اور آپ ﷺ کی ہدایت کا اتباع کریں تو لوگ ہم کو اچک لیں اور مار ڈالیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس بہانہ کی لغویت مشاہدہ سے ثابت ہے کیا ان کفار نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو ان کے لئے مقام امن بنایا اور ان کے اردگرد کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں یعنی لوٹ لئے جاتے ہیں اور مار دئیے جاتے ہیں اور حرم مکہ قتل و غارت سے بالکل مامون اور محفوظ ہے اور یہ لوگ اس میں بےخوف وخطر زندگی بسر کر رہے ہیں لہٰذا ایمان سے تخلف کے لئے تخطف کو عذر قرار دینا غیر معقول ہونے کے علاوہ مشاہدہ کے بھی خلاف ہے اور یہ نعمت حق تعالیٰ کی دی ہوئی ہے اس میں ان کے معبودوں کو ذرہ برابر دخل نہیں پس کیا یہ لوگ اس درجہ ضد اور عناد پر اتر آئے ہیں کہ باطل اور جھوٹ بات کا تو یقین کرتے ہیں اور باطل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں اپنے ہاتھ کے تراشیدہ بت کو تو خدا ماننے کے لئے تیار ہیں مگر خدا کے برگزیدہ بندہ کو خدا کا رسول ماننے پر تیار نہیں اور اللہ کے احسان کو نہیں مانتے کہ اس کی رحمت سے حرم میں امن کے ساتھ بےخوف وخطر بیٹھے ہوئے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ اللہ نے بتوں کو اور دوسرے معبودوں کو کارخانہ کا مختار کار بنادیا ہے یا اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا کہ جس کے پاس حق پہنچا اور اس نے اس کو جھٹلا دیا کیا ان کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں یعنی ضرور ہے یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو اس سرائے فانی پر شیدا اور فریفتہ ہوں اور وہ لوگ جو دار آخرت کے دلدادہ اور شیدائی ہیں جنہوں نے ہماری راہ میں جان ومال سے جہاد کیا اور طرح طرح کی مشقتیں اٹھائیں اور علم کے مطابق عمل کیا اور نفسانی خواہش کو شریعت کے تابع کردیا ہم ان کو اپنے تک پہنچنے کی راہیں دکھاویں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے ساتھ ہے یعنی مجاہدوں کے ساتھ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور خدا جس کے ساتھ ہوا سے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور نہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے مجاہدہ یعنی ظاہری اور باطنی جہاد اور جدو جہد ضروری ہے اور لنھدینہم سبلنا میں سبل سے خدا تعالیٰ کے قرب اور رضا کی راہیں مراد ہیں جس کا مآل بہشت ہے۔ اگر درجستجوئے من شتابی مراد خود بزودی باز یابی 1 اشارہ اس طرف ہے کہ لیکفروا کا لام، لام عاقبت ہے اس لئے کہ کفار کا یہ قصد نہ تھا بلکہ ان کے فعل کا نتیجہ تھا جیسا کہ لیکون لہم عدوا وحزنا میں لام۔ لام عاقبت ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگرچہ انہوں نے کفران نعمت کا قصد نہیں کیا تھا مگر نجات کی نعمت کا انجام یہ ہوا کہ بجائے شکر کے کفر اور شرک کرنے لگے۔ سنہ عفا اللہ عنہ۔ الحمد للہ آج بتاریخ 15 جمادی الثانیہ 1392 ھ بروز پنج شنبہ بعد از اذان عصر جامعہ اشرفیہ لاہور میں خدا تعالیٰ کی رحمت سے سورة عنکبوت کی تفسیر سے فراغت نصیب ہوئی جس کے ختم سے بفضلہ تعالیٰ تفسیر کے دو ثلث اختتام کو پہنچے وللہ الحمد والمنۃ اور اللہ کے فضل وکرم سے اور اس کی رحمت سے امید ہے کہ باقی ماندہ ایک ثلث کے اتمام اور اکمال کی توفیق عطا فرمائیں گے اور اپنے قبول سے نوازیں گے اور اپنی ہدایت اور معیت خاصہ دائمہ سے سرفراز فرمائیں گے امین یا رب العالمین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد والہ و اصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین الی یوم الدین۔