Explained with ayahs 7–9
بہترین خالق بہترین مصور ومدور
فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 14
یعنی پہلے اس نے براہ راست اپنے تخلیقی عمل (Direct Creation) سے انسان کو پیدا کیا، اور اس کے بعد خود اسی انسان کے اندر تناسل کی یہ طاقت رکھ دی کہ اس کے نطفہ سے ویسے ہی انسان پیدا ہوتے چلے جائیں۔ ایک کمال یہ تھا کہ زمین کے مواد کو جمع کر کے ایک تخلیقی حکم سے اس میں وہ زندگی اور وہ شعور و تعقل پیدا کردیا جس سے انسان جیسی ایک حیرت انگیز مخلوق وجود میں آگئی۔ اور دوسرا کمال یہ ہے کہ آئندہ مزید انسانوں کی پیدائش کے لیے ایک ایسی عجیب مشینری خود انسانی ساخت کے اندر رکھ دی جس کی ترکیب اور کارگزاری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
یہ آیت قرآن مجید کی ان آیات میں سے ہے جو انسان اول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
دنیا کی ہر چیز اپنی ذات میں حسن اور اچھی ہے برائی اس کے غلط استعمال سے آتی ہے
(آیت) الذی احسن کل شئی خلقہ، یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو حسین اور بہتر بنایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا وہ حکمت اور مصالح عالم کے اقتضا سے بنایا ہے۔ اس لئے ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ایک حسن رکھتی ہے۔ اور ان سب سے زیادہ حسین اور بہتر انسان کو بنایا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا(آیت) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ”یعنی ہم نے انسان کو سب سے زیادہ حسین تقویم اور بہتر شکل و صورت میں پیدا کیا ہے“
اور دوسری مخلوقات خواہ وہ ظاہر میں کتنی ہی قبیح اور بری سمجھی جاتی ہوں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
الذی احسن کل شئی خلقہ وبداء خلق الانسان من طین الم جعل نسلہ من سللۃ منماء مھین ثم سومہ و نفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (7۔ 9)
اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انداز کے لئے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہیی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دن رہ جاتی ہے اور وہ بےخود ہو کر پکاراٹھتا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی ہی…
Read the full tafseer →۔-1یعنی منی کے قطرے سے، مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جوڑا بنانے کے بعد، اس کی نسل کے لئے ہم نے یہ طریقہ مقرر کردیا کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں، ان کے جنسی ملاپ سے جو قطرہ آب، عورت کے رحم میں جائے گا، اس سے ہم ایک انسانی پیکر تراش کر باہر بھیجتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9)
یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔
اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
2 یعنی نطفہ جو بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 8 ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّہِیْنٍ ۔
یعنی پہلے مرحلے میں مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں نوع انسانی کے تناسل reproduction کا عمل اس طریقے سے ممکن بنایا۔
Read the full tafseer →9 ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اہم تخلیقی کارناموں کی طرف توجہ دلائی ہے پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر انسان کا پتلا اپنے ہاتھ سے تیار کیا پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی تو ایک محیرالعقول اور عظیم الشان چیز وجود میں آگئی۔ جس میں عقل و شعور، قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و استنباط سب کچھ موجود تھا اور وہ اس قابل بنادیا گیا کہ وہ خلافت ارضی کا بار اٹھا سکے۔ اور اللہ کا دوسرا محیرالعقول تخلیقی کارنامہ یہ ہے کہ پھر انسان کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے چلا دیا۔ جس سے کروڑوں انسان پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نطفہ کیا ہے ؟ حکما کہتے ہیں کہ یہ چوتھے ہضم کے…
Read the full tafseer →10۔ یعنی نطفہ سے جو عرف عام میں ایک گندی چیز سمجھی جاتی ہے۔ (آیت) ” من مآء “ میں من بیانیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →ثم جعل نسلہ من سللۃ من ماء مھین . پھر اس کی نسل کو ایک خلاصہ سے یعنی حقیر پانی سے بنایا۔ نسل کا لغوی معنی ہے جدا ہونا ‘ آنے والی اولاد بھی باپ ہی کا جدا شدہ حصہ ہوتی ہے۔ سُلاَلَۃٍ سے مراد ہے نفطہ (سل کا معنی ہے کھینچنا) نفطہ انسان (کے بدن) سے کھینچ کر آتا ہے اسی لئے اس کو سلالہ کہا گیا۔
Read the full tafseer →پھر ان کی نسل کو نطفہ یعنی مرد و عورت کے ایک بےقدر پانی سے بنایا۔
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ : اس کے لیے دیکھیے سورة مومنون (12 تا 14) اور سورة حج (5) یعنی پھر اس کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے آگے چلا دیا، جس سے لاتعداد انسان آگے پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نطفہ کو خلاصہ اس لیے فرمایا کہ اطباء کے مطابق یہ غذا کے چوتھے ہضم کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، جب کہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اعضائے بول سے نکلنے کی وجہ سے اسے ”مَّهِيْنٍ“ قرار دیا۔ پھر منی کے اس قطرے میں لاکھوں جرثومے ہوتے ہیں جو طاقت ور خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتے، جن میں سے ہر جرثومہ رحم میں مکمل انسان بننے کی استعداد رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت الذی احسن کل شیء خلقہ ابن کثیر، ابو عمر و اور ابن عامر نے اسے رحمۃ اللہ علیہخلقہ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے سہولت کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔ یہاں فعل ماضی ہے محل جر میں ہے کیونکہ یہ شی کی صفت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو معنی مروی ہے وہ یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا اس کو محکم بنایا، یعنی جو ارادہ کیا اس کو لے آیا اس کے ارادہ میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا (1) ۔
ایک دوسرا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا وہ خوبصورت ہے کیونکہ کوئی دوسرا بھی اس کی مثل لانے پر قادر نہیں۔ یہ اس کے خالق ہونے پر دال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
1۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے آیت الذی احسن کل شیء خلقہ پھر فرمایا کیا تو نے بندر کی طرف تو نہیں دیکاھ کہ وہ خوبصورت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا خبردار بندر کی سرین خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی صورت کو خوبصورت بنایا۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلَ [پھر اس نے بنایا ] نَسْلَهٗ [اس کی نسل کو ] مِنْ سُلٰلَةٍ [ایک جوہر سے ] مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ [حقیر پانی میں سے ] ۔
م ھـ ن
(ک) مھانۃ حقیر و ذلیل ہونا۔ بےوقعت ہونا۔
مھین فعیل کے وزن پر صفت ہے۔ حقیر۔ بےوقعت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔
Read the full tafseer →(ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ ) (پھر اس کی نسل کو ذلیل پانی سے نکالی ہوئی چیز بنا دی) یعنی مٹی سے ابتدائی تخلیق کے بعد جو انسان کی نسل چلائی اس کا سلسلہ اس طرح جاری فرمایا کہ نطفہ منی جو ایک (مَّآءٍ مَّھِیْنٍ ) یعنی ذلیل پانی ہے باپ کی پشت سے نکال کر ماں کے رحم میں جاتا ہے (جسے (سللۃ) سے تعبیر فرمایا ہے جو (سَلَّ یَسُلُّ ) سے (فُعَالَۃ) کا وزن ہے) یہ نطفہ رحم مادر میں قرار پاتا ہے پھر اس سے لڑکا یا لڑکی کی تخلیق ہوتی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔
(ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8:۔ وقالوا الخ۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ایسے ناشکر گزار اور کج فہم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی قدرت کاملہ اور ایسی نعمت شاملہ کے باوجود حشر و نشر کا انکار کرتے اور کہتے ہیں جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ مٹی میں مل کر گم ہوجائے گا تو پھر دوبارہ کس طرح زندہ ہوں گے ؟ بل ھم بلقاء الخ وہ نہ صرف بعث و نشور کے منکر ہیں بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب کتاب کے بھی منکر ہیں ای لیس لھم جحود قدرۃ اللہ عن الاعادۃ لانہم یعترفون بقدرتہ ولکنہم اعتقدوا ان لا حساب علیہم وانہم لا یلقون اللہ تعالیٰ (قرطبی ج 14 ص 92) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّہِيْنٍ 8ۚ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نسل
النَّسْلُ : الانفصالُ عن الشیءِ. يقال : نَسَلَ الوَبَرُ عن البَعيرِ ، والقَمِيصُ عن الإنسان، قال الشاعر۔ فَسُلِّي ثِيَابِي عَنْ ثِيَابِكِ تَنْسِلي والنُّسَالَةُ : ما سَقَط من الشَّعر، وما يتحاتُّ من الریش، وقد أَنْسَلَتِ الإبلُ : حَانَ أن يَنْسِلَ وَبَرُهَا، ومنه : نَسَلَ : إذا عَدَا، يَنْسِلُ نَسَلَاناً : إذا أسْرَعَ. قال تعالی: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ…
Read the full tafseer →ثم جل نسلہ من سللۃ من ماء مہین پھر اس کی نسل جاری کرنے کا دستور بتلاتا ہے کہ ہم نے اس کی نسل کو نچڑے ہوئے بےقدر پانی سے جاری کیا، یعنی منی سے جو تمام انسانی اخلاط کا نچوڑ یا عطر ہوتا ہے اور باوجود اس کے بےقدر ہوتا ہے۔ انسان اس کو چھپاتا ہے۔ بدن یا کپڑے پر لگ جاتی ہے تو دھو ڈالتا ہے۔ نسل کو اس لیے نسل کہتے ہیں کہ وہ جس کی نسل ہوتی ہے اس سے نکلتی ہے، نسل الصوف نسولاسقط (قاموس) نسلہ ذریۃً سمیت بہ لانھا تنسل منہ اے تنفصل (بیضاوی) سلالۃ سل سے ہے، جس کے معنی کھینچنے کے ہیں۔ سیف مسلول۔ سلالۃ ای ما استخرج من منی آدم ( علیہ السلام) مجمع بحار الانوار۔ منی کو سلالہ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ انسان کے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ (السجدۃ : 7، 8)
(اس نے جو چیز بھی بنائی خوب ہی بنائی ہے، اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدائی مٹی سے کی۔ پھر اس کی نسل حقیر پانی کے خلاصہ سے چلائی۔ )
اللہ تعالیٰ کا حُسنِ تخلیق
اللہ تعالیٰ چونکہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس لیے اس کے علم کی رسائی ہر حسن و قُبح اور ہر اچھائی اور برائی کی تہہ تک ہے۔ اور اس کی رحمت، حُسنِ تخلیق اور جمال آرائی کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لیے اپنی ان صفات کی وجہ سے اس نے جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اور جو چیز بھی بنائی خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ نے زمین و آسمان اور ہر چیز بنائی اور پورے کے پورے نظام کو بلا شرکت غیرے چلارہا ہے اسی نے انسان کو مٹی سے بنایا اور ہر چیز کو اس کے مناسب حال نہایت خوبصورت پیدا کیا۔
اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور پیدا کی ہے اسے نہایت ہی خوبصورت اور متوازن بنایا ہے۔ پھول کی پتیوں کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کس قدر بھولی بھالی، پیاری، پیاری اور نہایت ہی دلکش ہوتی ہے پتیوں کی تراش، خراش دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ کسی خاص ڈائی سے نکالی ہوئی ہیں رنگت پر نظر پڑتی ہے تو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی پتی پر رنگ کے کسی شیڈ میں۔ گلاب کی پتی کا ابتدائی حصہ سفیدی لئے ہوئے ہے اوپر…
Read the full tafseer →8: ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ (پھر اس کی نسل کو بنایا) اس کی اولاد کو۔ مِنْ سُلٰلَۃٍ (خلاصہ اختلاط سے) یعنی نطفہمِّنْ مَّآ ئٍ (یعنی پانی سے) مراد منی ہے۔
نحو : یہ سلالہ سے بدل ہے۔ مَّھِیْنٍ (بےقدر سے) کمزور و حقیر۔
Read the full tafseer →وبدا خلق الا نسان من طین، اس سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔
8، ثم جعل نسلہ، پھر ان کی ذریت کو بنایا ۔ ، من سلالۃ ، نطفہ سے اس کو سلالۃ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نطفہ انسان کے جسم سے کھینچ کر آتا ہے۔ ، من ماء مھین ، اور وہ کمزور ہے اس سے مراد مرد کا نطفہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آیت نمبر : 4 ۔ 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔
(مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو…
Read the full tafseer →9 انسانی نسل کی حفاظت وبقاء کا انتظام قدرت کی عظمت شان کا ایک اور شاہکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے رکھ دیا اس کی نسل کو ایک بےقدرے پانے کے ست اور خلاصے میں "۔ سو اس ارشاد میں انسانی تخلیق و پیدائش کے محیر العقول نظام میں دعوت غور و فکر ہے۔ سو ذرا سوچو اور غور کرو اے غفلت کے مارے انسانو ! کہ ایسا گلا سڑا بدبودار اور ناپاک پانی کہ اس کے نکلنے سے انسان نجس و ناپاک ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے مسجد میں داخلہ ممنوع، نماز پڑھنا منع اور وہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرسکتا تاوقتیکہ غسل نہ کرلے۔ پاک صاف نہ ہوجائے۔ سو اس ناقدرے مہین اور گندے پانی سے انسان جیسی اس عظیم الشان اور اشرف المخلوقات کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل
تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے
Read the full tafseer →(32:8) نسلہ۔ اس کی نسل۔ انسان کی نسل۔
سللۃ اسم مشتق ہے سل یسل سل (باب نصر) سے مصدر۔ سل الشیء من الشیء ایک چیز کا دوسری چیز سے کھینچ لینا۔ جیسے تلوار کا نیام سے سوتنا۔ یا گھر سے چوری چیز کھسکالینا۔ باپ کے نطفہ کو بھی سللۃ اسی نسبت سے کہتے ہیں۔ سللۃ نچوڑی ہوئی نچوڑ۔ خلاصہ۔ جوہر۔
ماء مہین موصوف وصفت۔ مھین ھون سے اسم مفعول ہے اصل میں مھیون تھا۔ بمعنی حقیر چیز۔
من سللۃ من ماء مھین۔ ایک جوہر سے (یعنی) حقیر پانی سے۔ دوسرا من بیانیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔
ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں…
Read the full tafseer →[6] یعنی نطفہ سے جو بہت سی غذاؤں کا نچوڑ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ملک الموت
1: مکہ والوں کو دو عقیدوں سے بہت زیادہ اختلاف تھا ۔ ایک تو یہ کہ خدا ایک ہے اور سب انسانوں کو اس ایک خدا کے سامنے جھکنا چاہیے ، دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد ہر شخص پھر زندہ ہوگا ۔ اور اللہ کے حضور میں پیش کیا جائے گا ۔ چناچہ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ بل ھم یھا ی ربھم کفرون ۔ کہ یہ لوگ پروردگار کے سامنے جانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ یہ ناممکن ہے ۔ اس آیت میں ان کی اس غلط فہمی کو دور فرمایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ فرشتہ موت وقت مقررہ پر ضرور تمہاری روحوں کو قبض کریگا ۔ مگر پھر تم رب ذوالجلال کی طرف ضرور لوٹوگے ۔ اور اپنے اعمال کے متعلق جواب دوگے ۔ یہ یاد رہے کہ موت کے ظاہری اسباب و طبعی وجہ…
Read the full tafseer →8۔ پھر آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور اس کی نسل کو خلاصے نچوڑے ہوئے بےقدر اور حقیر پانی سے بنایا۔
یعنی چھپی اور کھلی چیزیں اس کے نزدیک سب برابر ہیں جن چیزوں کو کوئی نہیں جانتا وہ ان کو بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق کے سامنے ہیں اور مخلوق کے علم میں ہیں وہ ان سے بھی واقف ہے اس کی نگاہ علم میں نہاں اور عیاں دونوں یکساں ہیں اس نے جو چیز پیدا کی اور بنائی وہ خوب ہی بنائی یعنی جس مصلحت سے بنائی اس کے لئے موزوں اور مناسب بنائی وہ عزیز بھی ہے یعنی ہر قسم کی طاقت و قوت کا مالک ہوتے ہوئے رحیم اور مہربان بھی ہے۔
انسان یعنی آدم کی پیدائش مٹی سے کی پھر اخلاط کے خلاصے یعنی ہضم رابع کے بعد جب غذا اخلاط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 7۔ یعنی ادراکات ظاہرہ و باطنہ دیئے۔
Read the full tafseer →نسل انسانی کو ایک حقیر بوند پانی سے پیدا کردیا جو ایک خلاصہ ہے :
8۔ گزشتہ آیت میں اصل انسانی کی بات کی جا رہی تھی اور زیر نظر آیت میں نسل انسانی کی بات کی جا رہی ہے (سلالۃ) کی اصل س ل ل ہے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنے ‘ سوتنے اور نچوڑنے کے ہیں (سلالۃ) چنی ہوئی چیز ‘ نچوڑی ہوئی چیز یا خلاصہ اور ست بھی اس کو کہا جاسکتا ہے ۔ انسان کے جسم میں جو غذا جاتی ہے اسی سے انسان کی نسل کو نچوڑ کر ‘ چن کر بطور خلاصہ کے حاصل کرلیا جاتا ہے جو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا کام ہے اس کو آج تک نہ تو کوئی انسان ترتیب و تخلیق دے سکا اور نہ ہی آئندہ دے سکے گا ، اس کی وضاحت ویسے تو کئی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
Everything is good in this world. Evil comes through its wrong use.
In verse 7, it was said: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ "Who made well whatever He created good”. The reason is that Allah Ta’ ala has made whatever He has created in this world under the dictate of His wisdom, and under the essential consideration of what is beneficial for the whole system. Therefore, everything has a beauty of its own. And the most beautiful and better than all is the making of man as it was said: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (Surely, We did create man in the best of symmetry…
Read the full tafseer →14 That is, "In the beginning He created man directly by His own act of Creation, and- then placed in man himself such a procreative ability that similar men continue being produced by his sperm-drop. By one excellent act He gave life and consciousness and intellect to a combination of earthly elements by His creative Command so that a wonderful creation like man came into being; by another excellent act He placed in man's own organism such a wonderful machinery for the production of similar more men in the future, whose mode of functioning is highly astonishing and amazing. This is one of…
Read the full tafseer →