As-Sajda 32:7

As-Sajda · from ayah 7

32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۟ۚالَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ‌ۚ

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who perfected everything which He created and began the creation of man from clay.

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:7

جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی اُ س نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس نے جو چیز بھی پیدا کی، اسے خوب بنایا، اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے خوبی و حسن بخشا ہر اس چیز کو جسے اس نے پیدا فرمایا اور اس نے انسانی تخلیق کی ابتداء مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے جو چیز بھی بنائی ہے خوب ہی بنائی ہے ! اس نے انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے نہایت عمدہ بنایا ہر چیز کو جس کو بھی بنایا اور اس نے انسان کی پیدائش کا آغاز فرمایا مٹی سے

— مولانا اسحاق مدنی

وہی جس نے جو چیز بنائی خوب ہی بنائی۔ اور انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی اور اس نے آغاز کیا انسان کی تخلیق کا گارے سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا، یعنی اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

He Who excelled in the creation of all that He created. He originated the creation of man from clay,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who made well whatever He created, and started the creation of man from clay.

— Muhammad Taqi Usmani

who made well whatever He created, and started the creation of man from clay.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who made everything He has created good and He began the creation of man from clay.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who made all things good which He created, and He began the creation of man from clay;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who perfected everything which He created and began the creation of man from clay.

— Saheeh International

It is He Who created everything in the best manner and began the creation of the human being from clay.

— Muhammad Sarwar

Who made good everything that He has created, and He began the creation of man from dust.

— Muhammad Habib Shakir

Who hath made everything exceeding good which He hath created. And He originated the creation of man from clay;

— Abdul Majid Daryabadi

He Who has made everything which He has created most good: He began the creation of man with (nothing more than) clay,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

بہترین خالق بہترین مصور ومدور فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة السَّجْدَة 13 یعنی اس عظیم الشان کائنات میں اس نے بےحد و حساب چیزیں بنائی ہیں، مگر کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو بےڈھنگی اور بےتکی ہو۔ ہر شے اپنا ایک الگ حسن رکھتی ہے۔ ہر شے اپنی جگہ متناسب اور موزوں ہے۔ جو چیز جس کام کے لیے بھی اس نے بنائی ہے اس کے لیے موزوں ترین شکل پر، مناسب ترین صفات کے ساتھ بنائی ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھ اور سننے کے لیے کان کی ساخت سے زیادہ موزوں کسی ساخت کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ ہوا اور پانی جن مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں ان کے لئے ہوا ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے، اور پانی وہی اوصاف رکھتا ہے جیسے ہونے چاہییں۔ تم خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے تقشے میں کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

دنیا کی ہر چیز اپنی ذات میں حسن اور اچھی ہے برائی اس کے غلط استعمال سے آتی ہے (آیت) الذی احسن کل شئی خلقہ، یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو حسین اور بہتر بنایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا وہ حکمت اور مصالح عالم کے اقتضا سے بنایا ہے۔ اس لئے ہر چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ایک حسن رکھتی ہے۔ اور ان سب سے زیادہ حسین اور بہتر انسان کو بنایا ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا(آیت) لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ”یعنی ہم نے انسان کو سب سے زیادہ حسین تقویم اور بہتر شکل و صورت میں پیدا کیا ہے“ اور دوسری مخلوقات خواہ وہ ظاہر میں کتنی ہی قبیح اور بری سمجھی جاتی ہوں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

الذی احسن کل شئی خلقہ وبداء خلق الانسان من طین الم جعل نسلہ من سللۃ منماء مھین ثم سومہ و نفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون۔ (7۔ 9) اللہ تعالیٰ کی صفات عالم الغیب والشہادۃ اور عزیز و رحیم کو بنیاد قرار دے کر آگے قیامت کے انداز کے لئے تمہید استوار فرمائی کہ یہ اللہ ہیی ہے جس نے جو چیز بھی بنائی۔ یعنی اس نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کے بےنہایت علم کی شاہد ہے۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لے کر انسان اگر اس پر غور کرے تو اس کی عقل صانع کی صنعت و کاریگری پر دن رہ جاتی ہے اور وہ بےخود ہو کر پکاراٹھتا ہے کہ تبارک اللہ احسن الخالقین (بڑی ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7-1یعنی جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، وہ چوں کہ اس کی حکمت و مصلحت کا اعتدال ہے، اس لئے اس میں اپنا ایک حسن اور انفرادیت ہے۔ یوں اس کی بنائی ہوئی ہر چیز حسین ہے اور بعض نے اَ حْسَنَ کے معنی اَتْکُنَ و اَحْکَمَ کے کئے ہیں، یعنی ہر چیز مضبوط اور پختہ بنائی۔ بعض نے اسے اَ لْھَمَ کے مفہوم میں لیا یعنی ہر مخلوق کو ان چیزوں کا الہام کردیا جس کی وہ محتاج ہے۔ 7-2یعنی انسان اول آدم ؑ کو مٹی سے بنایا جن سے انسانوں کا آغاز ہوا اور اس کی زوجہ حضرت حوا کو آدم ؑ کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–12

4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–9

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 7 الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ اس نے جو چیز بھی بنائی ہے بہت عمدہ بنائی ہے۔ اس کی تخلیق میں کہیں کوئی نقص یا کوتاہی نہیں ہے۔ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مراد ہے ‘ جس کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن حکیم میں متعدد بار ہوا ہے اور ہر انسان کی تخلیق بھی ‘ کیونکہ انسان کی تخلیق جس مادے سے ہوتی ہے وہ بنیادی طور پر زمینی اجزا سے حاصل شدہ غذا سے ہی بنتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو سورة المؤمنون کی آیت 12 کے ضمن میں ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور جس مقصد یا مقاصد کے لئے بنائی تو اسے ایسی شکل و صورت عطا فرمائی جس سے بہتر شکل و صورت کا تصور میں آنا محال ہے۔ اس شکل و صورت پر کوئی بھی حرف گیری نہیں کرسکتا۔ مثلاً پانی اور ہوا میں اس نے جو جو خواص رکھے ہیں اور جن مقاصد کے لئے یہ چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ ان کے لئے یہی شکل و صورت سب سے بہتر تھی۔ یہی صورت ہر جاندار چیز اور نباتات کی ہے۔ کسی بھی چیز کی شکل و صورت بےدھنگی اور بےتکی نہیں ہے۔ انسان کے پورے جسم اور اس کے ایک ایک عضو کا یہی حال ہے۔ مثلاً اللہ نے آنکھ دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے بنائے ہیں۔ تو اس مقصد کے لئے جو شکل اللہ نے آنکھ اور کان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

9۔ یعنی جس کو جس مصلحت کے لیے پیدا کیا، ٹھیک اسی کے مناسب حال اس کی ساخت و فطرت رکھی، مامن شیء خلقہ الا وھو مرتب ماتقتضیہ الحکمۃ (بحر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کی چیزیں الہام فطری سے واضح کردی گئیں۔ قال الفراء لھم کل شیء خلقہ فی ما یحتاجون الیہ (بحر) (آیت) ” ذلک “۔ ذلک یہاں انا کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، و ذلک بمعنی انا (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہر ہر مخلوق اپنی اپنی جگہ پر خوب اور حسن ہی ہے۔ یہاں تک کہ صفات کبر وبخل بھی اپنے محل استعمال میں خوب ہیں : ع : اے بسا امساک کزانفاق بہ مال حق راجز بامر حق مدہ ! ضرر صرف سوء استعمال سے پیدا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی احسن کلی شیء خلقہ . (ا اللہ) جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی۔ یعنی ہر چیز کی استعداد اور قابلیت کے مطابق اللہ نے اس کی تخلق باحسن وجوہ کی۔ قتادہ نے یہی مطلب بیان کیا ‘ لیکن حضرت ابن عباس نے اَحْسَنَ کا ترجمہ اَحْکَم وَاَتْقَن کیا یعنی اللہ نے ہر چیز کو محکم بنایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بندروں کے سرینوں کا شگاف اللہ نے خوبصورت نہیں بنایا ‘ بلکہ محکم بنایا ہے۔ مقاتل نے اَحْسَنَ کا ترجمہ علم کیا یعنی اللہ جانتا ہے کہ ہر چیز کو وہ کس طرح پیدا کرتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : فلاں یحسن کذا فلاں شخص خوب جانتا ہے کہ ایسا کام کس طرح کرے۔ وبداخلق الانسان من طین . اور آدمی کی ابتدائی پیدائش مٹی سے کی۔ اَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس نے جو چیز بنائی وہ خوب اور مضبوط بنائی اور انسان یعنی آدم ؑ کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙالَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کائنات میں بیحد و حساب جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں اور جس مقصد کے لیے بنائی ہیں، انھیں اس کے لیے ایسی شکل و صورت عطا فرمائی ہے جس سے زیادہ خوب صورت اور عمدہ صورت کا تصور میں آنا محال ہے۔ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ : اپنی پیدا کردہ ہر چیز کے حسن کے مشاہدے کے لیے انسان کو خود اس کی ذات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی کہ اس کے لیے تمہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی ابتدا حقیر مٹی سے کی، جس میں زندگی کا نام و نشان نہ تھا۔ پوری زمین سے ایک مٹھی لے کر اپنے ہاتھوں سے ُ پتلا بنا کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–9

آیت الذی احسن کل شیء خلقہ ابن کثیر، ابو عمر و اور ابن عامر نے اسے رحمۃ اللہ علیہخلقہ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے سہولت کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔ یہاں فعل ماضی ہے محل جر میں ہے کیونکہ یہ شی کی صفت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو معنی مروی ہے وہ یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا اس کو محکم بنایا، یعنی جو ارادہ کیا اس کو لے آیا اس کے ارادہ میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا (1) ۔ ایک دوسرا قول ہے : اللہ تعالیٰ نے جس شی کو بھی پیدا کیا وہ خوبصورت ہے کیونکہ کوئی دوسرا بھی اس کی مثل لانے پر قادر نہیں۔ یہ اس کے خالق ہونے پر دال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–10

1۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے آیت الذی احسن کل شیء خلقہ پھر فرمایا کیا تو نے بندر کی طرف تو نہیں دیکاھ کہ وہ خوبصورت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں فرمایا خبردار بندر کی سرین خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کو محکم بنایا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل شیء خلقہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کی صورت کو خوبصورت بنایا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت احسن کل…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْٓ [وہ جس نے ] اَحْسَنَ [حسن دیا ] كُلَّ شَيْءٍ [ہر اس چیز کو ] خَلَقَهٗ [اس نے پیدا کیا جس کو ] وَبَدَاَ [اور اس نے ابتدا کی ] خَلْقَ الْاِنْسَانِ [انسان کی تخلیق کی ] مِنْ طِيْنٍ [ایک گارے سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

انسان کی تخلیق اور تصویر کا تذکرہ اور منکرین بعث کی تردید جس ذات پاک کی صفات اوپر بیان ہوئیں وہ غیب اور شہادہ کا جاننے والا ہے یعنی جو کچھ بندوں سے غائب ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا اسے اس سب کا علم ہے اور جو کچھ موجود ہے اور بندوں کے سامنے ہے وہ اس سب کو جانتا ہے، (الْعَزِیْزُ ) (وہ سب پر غالب ہے) (الرَّحِیْمُ ) (وہ اپنی مخلوق پر رحم فرمانے والا ہے) (الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ) (اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اچھا بنایا) یعنی حکمت کے مطابق پیدا فرمایا اور حکمت کے مطابق اسے کام میں لگایا، ساری مخلوق خالق جل مجدہ کی حکمت کے مطابق وجود میں آئی ہے اور حکمت کے موافق اپنے اپنے اعمال میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–9

دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔ (ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ و بدا الخ اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی یعنی سب سے پہلے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا۔ ثم جعل نسلہ الخ، اس کے بعد نطفہ سے اس کی نسل کا سلسلسہ شروع فرمایا۔ سلالۃ، خلاصہ، غذا کا خلاصۃ خون ہے اور منی خون کا خلاصہ اور لب لباب ہے اس لیے سلالہ سے تعبیر فرمایا۔ ثم سواہ الخ رحم مادر میں نطفہ بیمقدار سے انسان کے تمام اعضاء درست کیے اور پھر ان میں جان ڈالی اور اسے سننے دیکھنے اور سمجھنے سوچنے کی قوتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اللہ کے ان انعامات کا شکر بجا لاؤ۔ اس کی توحید کو مانو۔ تمام انواع عبادت صرف اسی کے لیے بجا لاؤ۔ اور اس کے احکام کی تعمیل کرو۔ مگر اس کے باوجود تم اس کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ۝ 7ۚ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

فقال الذی احسن کل شی خلقہ کہ اس نے ہر شے کو عمدہ طور سے بنایا ہے، جس چیز کو بغور دیکھے گا تو وہ آپ ثابت کردے گی کہ میرے خالق کو اس امر میں وہ کمال ہے کہ جس کو کسی کے ساتھ تشبیہ بھی نہیں دی جاسکتی۔ اونٹ کو ملاحظہ کیجئے، اگر اس کی گردن دراز نہ ہوتی تو محض بیکار ہوجاتے۔ ہاتھی کو سونڈھ نہ ملتی تو بڑا اپاہج تھا۔ علیٰ ہذا القیاس ہر درند پرند چرند کے ایک ایک عضو اور اس کے بال اور کھال کو غور کرو گے تو ہر ایک منہ سے یہی بول اٹھے گا۔ ؎ ففی کل شی لہ شاہد یدل علیٰ انہ واحد یہ تو ایک تعمیم تھی، اس کے بعد ان میں سے حضرت انسان کی پیدائش کا حیرت انگیز حال بیان فرماتا ہے۔ وبداء خلق الانسان من طین کہ انسان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ مَّـآئٍ مَّھِیْنٍ ۔ (السجدۃ : 7، 8) (اس نے جو چیز بھی بنائی خوب ہی بنائی ہے، اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدائی مٹی سے کی۔ پھر اس کی نسل حقیر پانی کے خلاصہ سے چلائی۔ ) اللہ تعالیٰ کا حُسنِ تخلیق اللہ تعالیٰ چونکہ عالم الغیب والشہادہ ہے اس لیے اس کے علم کی رسائی ہر حسن و قُبح اور ہر اچھائی اور برائی کی تہہ تک ہے۔ اور اس کی رحمت، حُسنِ تخلیق اور جمال آرائی کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لیے اپنی ان صفات کی وجہ سے اس نے جس چیز کو بھی پیدا فرمایا اور جو چیز بھی بنائی خوب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–9

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے زمین و آسمان اور ہر چیز بنائی اور پورے کے پورے نظام کو بلا شرکت غیرے چلارہا ہے اسی نے انسان کو مٹی سے بنایا اور ہر چیز کو اس کے مناسب حال نہایت خوبصورت پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور پیدا کی ہے اسے نہایت ہی خوبصورت اور متوازن بنایا ہے۔ پھول کی پتیوں کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کس قدر بھولی بھالی، پیاری، پیاری اور نہایت ہی دلکش ہوتی ہے پتیوں کی تراش، خراش دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ کسی خاص ڈائی سے نکالی ہوئی ہیں رنگت پر نظر پڑتی ہے تو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی پتی پر رنگ کے کسی شیڈ میں۔ گلاب کی پتی کا ابتدائی حصہ سفیدی لئے ہوئے ہے اوپر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اس کی دلیل : 7: الَّذِیْ (وہ جس نے) یہ ماقبل کی صفت ہے۔ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ (ہر شئی کو خوبصورت بنایا) اس کو خوب بنایا کیونکہ ہر چیز کو تقاضہ حکمت سے مرتب فرمایا گیا ہے۔ خَلَقَہٗ قراءت : کوفی، نافع، سہل نے صفت قرار دیا ای کل شی خلقہ فقد احسن۔ ہر چیز جو اس نے پیدا کی خوب بنایا۔ دیگر قراء نے خَلْقَہٗ بدل قرار دیا۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ احسن خَلْقَ کل شیٔ ہر چیز کی پیدائش کو خوب بنایا۔ وَبَدَأ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ (اور انسان کی تخلیق کی ابتداء مٹی سے کی) الانسان الف لام عہد کا ہے اور مراد آدم ( علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7، الذی احسن کل شیء خلقہ ، نافع اور اہل کوفہ نے ، خلقہ، لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے سکون کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ خوب بنائی ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ احسن کا ترجمہ احکم و اتقن سے کیا ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو محکم بنایا ہے ۔ مقاتل نے احسن کا ترجمہ علم سے کیا ہے یعنی اللہ جانتا ہے کہ ہر چیز کو وہ کیسے پیدا کرتا ہے ۔ عرب والے کہتے ہیں ، فلان یحسن کذا، کہ فلاں شخص خوب جانتا ہے کہ ایسا کام کس طرح کرے گا۔ بعض نے کہا کہ حیوان کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور بعض کو دوسرے کے ہم شکل نہیں بنا یا ، ہر حیوان کو اس کے کامل حسن کے ساتھ پیدا کیا اور اس کے اعضاء میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–9

آیت نمبر : 4 ۔ 9 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔ (مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق نہایت عمدہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کی ہر تخلیق نہایت عمدہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " جس نے جس چیز کو بھی پیدا فرمایا نہایت عمدہ بنایا "۔ اور ایسا عمدہ کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہر چیز اپنے مقصد وجود کی ادائیگی کے لئے اس قدر موزوں و مناسب ہے کہ ہمارے لئے اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ آپ اپنے کان، اپنی آنکھ، اپنی ناک وغیرہ وغیرہ میں سے کسی ایک کو ہی دیکھ لیجئے۔ اس میں غور کیجئے تو آپ کو کچھ اندازہ ہوگا خداوند قدوس کی اس بےمثال قدرت و صناعی کا جس کے ایک سے ایک بڑھ کر مظاہر خود آپ کے جسم کے اندر اور آ پکے ارداگرد ہر طرف پھیلے بکھرے موجود ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–9

آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة السجدہ آیات 1 تا 11 اسرارومعارف نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے : اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا : اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔ نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں : نازل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–11

ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:7) احسن۔ اس نے اچھا بنایا۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے احسان کیا۔ احسان (افعال) مصدر کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر احسن کا مفعول۔ خلقہ میں ہ ضمیر کا مرجع شیء ہے جملہ خلقہ محل جر میں شئے کی صفت ہے الذی احسن کل شیء خلفہ جس نے جو چیز بنائی بہت خوب بنائی ہے۔ بدا۔ اس نے شروع کیا۔ اس نے ابتدا کی۔ اس نیے پہلی مرتبہ کیا۔ طین۔ مٹی ۔ گارا۔ مٹی اور پانی دونوں کا آمیزہ طین ہے۔ خلق الانسان۔ مضاف مضاف الیہ۔ انسا کی پیدائش۔ بدا خلق الانسان من طین۔ اس نے انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–11

لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–7

(ف 1) ان آیتوں میں انسان کی پیدائش کا حیرت انگیز حال بیان فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مٹی سے پھر اس کی ماں کے پیٹ میں اس کو ٹھیک کیا سر کی جگہ سر، اور کان کی جگہ کان، آنکھ کی جگہ آنکھ، ناک کی جگہ ناک، غرض ہر ایک عضو کو اس اندھیرے میں اس موقع ومحل پر قائم کیا اور ہر ایک عضو کو اس اندازہ سے بنایا کہ علم تشریح کے واقف ہونے کے بعد عالم وعاقل کو اس باتکاضرور اقرار کرلینا ہوگا کہ یہ کیسے بڑے مدبر حکیم کا فعل اور بڑے باکمال کی کاریگری ہے اور اس کو ٹھیک کرکے اپنے پاس سے روح…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–9

ملک الموت 1: مکہ والوں کو دو عقیدوں سے بہت زیادہ اختلاف تھا ۔ ایک تو یہ کہ خدا ایک ہے اور سب انسانوں کو اس ایک خدا کے سامنے جھکنا چاہیے ، دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد ہر شخص پھر زندہ ہوگا ۔ اور اللہ کے حضور میں پیش کیا جائے گا ۔ چناچہ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ بل ھم یھا ی ربھم کفرون ۔ کہ یہ لوگ پروردگار کے سامنے جانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ یہ ناممکن ہے ۔ اس آیت میں ان کی اس غلط فہمی کو دور فرمایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ فرشتہ موت وقت مقررہ پر ضرور تمہاری روحوں کو قبض کریگا ۔ مگر پھر تم رب ذوالجلال کی طرف ضرور لوٹوگے ۔ اور اپنے اعمال کے متعلق جواب دوگے ۔ یہ یاد رہے کہ موت کے ظاہری اسباب و طبعی وجہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس نے ہرچیز ہی خوب بنائی لیکن انسان کو گارے سے بنا دکھایا : 7۔ اس کائنات میں جو کچھ اس نے پیدا فرمایا اگر کوئی شخص ان کا گننا چاہے تو گن نہیں سکتا اور نہ ہی آج تک مخلوق خداوندی کا احصاء ہوسکا ہے اور بلاشبہ اس کا شمار ممکن بھی نہیں پھر جو کچھ پیدا کیا اس میں سے جن جن اشیاء پر آپ کی نگاہ پہنچ سکتی ہے اس اس کو دیکھو اور خوب غور وخوض سے دیکھو ہر ایک چیز کا ایک اپنا حسن ہے اور ہرچیز ازحد حسین و جمیل ہے کسی ایک چیز سے بھی تم نقص نہیں نکال سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز اس طرح کی بجائے اگر اس طرح ہوتی تو زیادہ اچھی نظر آتی اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہرچیز کو اس نے کامل اور مکمل پیدا کیا ‘…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–10

Everything is good in this world. Evil comes through its wrong use. In verse 7, it was said: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ "Who made well whatever He created good”. The reason is that Allah Ta’ ala has made whatever He has created in this world under the dictate of His wisdom, and under the essential consideration of what is beneficial for the whole system. Therefore, everything has a beauty of its own. And the most beautiful and better than all is the making of man as it was said: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (Surely, We did create man in the best of symmetry…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 That is, "In this limitless universe He has created countless numbers of things, but none of them is ugly and ill-shaped: everything has its own special beauty: everything is proportionate and symmetrical in its own way. Whatever He has made for a particular purpose, He has given it the most appropriate, form and invested it with the most :unable qualities for it. No better and more appropriate structure could be conceived, for example, for the eye and the ear which have been made for seeing and hearing. The air has precisely the same qualities which it should have for the purpose for…

Read the full tafseer →