Explained with ayahs 4–6
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا ؟ وہ برابری سے، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 10
یعنی دوسرے جو بھی ہیں ان کے لیے ایک چیز ظاہر ہے تو بیشمار چیزیں ان سے پوشیدہ ہیں۔ فرشتے ہوں یا جن، یا نبی اور ولی اور برگزیدہ انسان، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو سب کچھ جاننے والا ہو۔ یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے کہ اس پر ہر چیز عیاں ہے۔ جو کچھ گزر چکا ہے، جو کچھ موجود ہے، اور جو کچھ آنے والا ہے، سب اس پر روشن ہے۔
سورة السَّجْدَة 11
یعنی ہر چیز پر غالب۔ کائنات میں کوئی طاقت ایسی نہیں جو اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے اور اس کے حکم کو نافذ ہونے سے روک سکے۔ ہر شے اس سے مغلوب ہے اور کسی میں اس کے مقابلے کا بل بوتا نہیں ہے۔
سورة السَّجْدَة 12
یعنی اس غلبے اور قوت قاہرہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
معارف و مسائل
روز قیامت کا طول
(آیت) فی یوم کان مقدار الف سنة مما تعدون، ”یعنی اس دن کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہوگی“ اور سورة معارج کی آیت میں ہے (آیت) فی یوم کان مقدار خمسین الف سنة، ”یعنی اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی“
اس کا ایک سیدھا سا جواب تو وہ ہے جو بیان القرآن میں اختیار کیا گیا ہے کہ اس دن کے ہولناک ہونے کے سبب یہ ان لوگوں کو بہت دراز محسوس ہوگا۔ اور یہ درازی بمقدار اپنے ایمان و اعمال کے ہوگی۔ جو بڑے مجرم ہیں ان کو زیادہ جو کم ہیں ان کو کم محسوس ہوگی، یہاں تک کہ جو دن بعض کو ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا وہ دوسروں کے نزدیک پچاس ہزار سال کا ہوگا۔
تفسیر روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ذلک الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (5۔ 6)
یعنی آسمان سے لے کر زمین تک امور کی تدبیر وہی فرماتا ہے۔ یہ مشرکین کے اس گروہ کی تردید ہے جو اس وہم میں مبتلا تھا کہ زمین چونکہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا ایک دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس نے اپنی حکومت صرف آسمان تک محدود رکھی ہے، زمین کا انتظام اس نے اپنے دوسرے کارندوں کے حوالہ کردیا ہے۔ اسی گروہ کو مخاطب کرکے قرآن میں بعض جگہ یہ سوال آیا ہے کہ کیا زمین میں الگ خدا اور آسمان میں الگ خدا ہیں ! کیسی بےعقلی کی باتیں کرتے ہو !
’ ثم یعرج الیہ ‘ یعنی تمام امور صادر بھی اسی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5-1آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا ہے یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ، اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔
5-2یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں جسے فرشتے لے کر جاتے ہیں اور صعود کا یا آنے جانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اس یوم کی تعیین و تفسیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9)
یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔
اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے…
Read the full tafseer →1 یعنی ایسے اعلیٰ اور عظیم الشان انتظام و تدبیر کا قائم کرنا اسی پاک ہستی کا کام ہے جو ہر ایک ظاہرہ و پوشیدہ کی خبر رکھے، زبردست اور مہربان ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 7 الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ
اس نے جو چیز بھی بنائی ہے بہت عمدہ بنائی ہے۔ اس کی تخلیق میں کہیں کوئی نقص یا کوتاہی نہیں ہے۔
وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ
اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی مراد ہے ‘ جس کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن حکیم میں متعدد بار ہوا ہے اور ہر انسان کی تخلیق بھی ‘ کیونکہ انسان کی تخلیق جس مادے سے ہوتی ہے وہ بنیادی طور پر زمینی اجزا سے حاصل شدہ غذا سے ہی بنتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو سورة المؤمنون کی آیت 12 کے ضمن میں ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →7 یعنی وہ ہستی جو اتنے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے سکے ضروری ہے کہ اس کا علم لامحدود ہو۔ ہر چیز کی ماہیت اور کیفیت اس کے علم میں ہو اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہ ہو نہ چھپ سکتی ہو۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں اتنی قدرت ہو کہ وہ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کام میں لاسکتا ہو۔ نیز اتنی زبردست اور قاہرانہ قدرت رکھنے کے باوجود وہ اپنی مخلوق پر رحیم اور شفیق بھی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
9۔ یعنی جس کو جس مصلحت کے لیے پیدا کیا، ٹھیک اسی کے مناسب حال اس کی ساخت و فطرت رکھی، مامن شیء خلقہ الا وھو مرتب ماتقتضیہ الحکمۃ (بحر) یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کی چیزیں الہام فطری سے واضح کردی گئیں۔ قال الفراء لھم کل شیء خلقہ فی ما یحتاجون الیہ (بحر) (آیت) ” ذلک “۔ ذلک یہاں انا کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، و ذلک بمعنی انا (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہر ہر مخلوق اپنی اپنی جگہ پر خوب اور حسن ہی ہے۔ یہاں تک کہ صفات کبر وبخل بھی اپنے محل استعمال میں خوب ہیں :
ع : اے بسا امساک کزانفاق بہ مال حق راجز بامر حق مدہ !
ضرر صرف سوء استعمال سے پیدا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →ذلک علم الغیب والشھادۃ . یہ ہی (خالق مدبر عالم) مخلوق سے پوشیدہ امور کو اور ان امور کو بھی جو مخلوق
کے سامنے حاضر ہیں ‘ جاننے والا ہے۔ اور اپنی حکمت کے موافق تمام امور کا انتظام کرتا ہے۔
اَلْغَالب (اپنے امر پر) غالب ہے۔
العزیز الرحیم . اپنی تدبیر و انتظام میں بندوں پر (زبردست) بہت مہربان ہے۔
اس لفظ میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ اپنی مہربانی اور عنایت سے مصالح عباد کا لحاظ رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اور وہ مدبر اور تمام باتوں کا جاننے والا ہے جو بندوں پر پوشیدہ ہیں اور ظاہر ہیں۔ کفار کو سزا دینے میں زبردست اور مسلمانوں پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔۔ : یعنی وہ پروردگار جو خلق و تدبیر کا یہ سارا سلسلہ چلا رہا ہے، اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ تم سے غائب ہے یا حاضر، ماضی ہے یا حال یا مستقبل، سب کچھ اس کے علم میں ہے، قدرت اس کی اتنی بےپایاں ہے کہ وہ ہر ایک پر غالب ہے اور رحمت اتنی کہ ہر چیز کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس یہ علم ہے، نہ قدرت اور نہ رحمت، خواہ وہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ یا کوئی اور مخلوق، تو پھر کسی اور کی عبادت کیوں کی جائے ؟
Read the full tafseer →اس سے مراد ہے مخلوق سے جو غائب ہے اور جو اس کے لیے حاضر ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ذلک، انا کے معنی میں ہے، جس طرح اس کی وضاحت سورة بقرہ کے آغاز میں گزرچکی ہے۔ کلام میں تہدید اور وعید کا معنی موجود ہے۔ یعنی اپنے افعال اور اقوال میں اخلاص سے کام لو کیونکہ میں تمہیں ان پر بدلہ دینے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آتی یدبر الامر یعنی نیچے اترتا ہے آتی یدبر الامر من السماء الی الارض آسمان سے زمین کی طرف اور بلدن ہوتا ہے زمین سے آسمان کی طرف ایسی ایسے دن میں کہ اس کی مقدار ہزار سال ہے۔ پانچ سو سال اترتے وقت اور پانچ سو سال اوپر چرھتے تھے وقت۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آتی یدبر الامر سے مراد ہے امر آسمان کی طرف سے نازل ہوتا ہے بلند ترین زمین کی طرف پھر ایک دن میں بلند ہوجاتا ہے اور اتنی مسافت لوگ آنے جانے میں چلیں تو ایک ہزار سال تک چلتے رہیں۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یدبر…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ [یہ ہے ] عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ] الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ [جو بالادست ہے رحم کرنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
انسان کی تخلیق اور تصویر کا تذکرہ اور منکرین بعث کی تردید
جس ذات پاک کی صفات اوپر بیان ہوئیں وہ غیب اور شہادہ کا جاننے والا ہے یعنی جو کچھ بندوں سے غائب ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا اسے اس سب کا علم ہے اور جو کچھ موجود ہے اور بندوں کے سامنے ہے وہ اس سب کو جانتا ہے، (الْعَزِیْزُ ) (وہ سب پر غالب ہے) (الرَّحِیْمُ ) (وہ اپنی مخلوق پر رحم فرمانے والا ہے) (الَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ) (اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اچھا بنایا) یعنی حکمت کے مطابق پیدا فرمایا اور حکمت کے مطابق اسے کام میں لگایا، ساری مخلوق خالق جل مجدہ کی حکمت کے مطابق وجود میں آئی ہے اور حکمت کے موافق اپنے اپنے اعمال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔
(ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ…
Read the full tafseer →6:۔ ذالک عالم الغیب الخ۔ اللہ تعالیٰ جس طرح خالق کائنات اور مدبر عالم ہے اسی طرح عالم الغیب بھی وہی ہے الذی احسن الخ اس نے ہر چیز کو حکمت و اتقان کے ساتھ بنایا اور کوئی چیز بھی حکمت و مصلحت سے خالی نہیں اور اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز بھی خوبی سے خالی نہیں و معنی احسن حسن لانہ ما من شیء خلقہ الا وھو مرتب علی ما تقتضیہ الحکمۃ فالمکلوقات کلہا حسنۃ الخ (بحر ج 7 ص 199) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 6ۙ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
غيب
الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20]
( غ ی ب ) الغیب ( ض )
غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
الف سنۃ کا بیان : مگر اس عالم کو فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون کے ساتھ تعبیر فرمایا، ہول دلانے کے لیے اور وہ عالم لایزال ہے، اس کے دنوں کا کوئی شمار نہیں لیکن اس عالم کے پہلے روز کو ذکر کردیا، یعنی قیامت کو، یعنی اس عالم کے پہلے دن ہی سے کہ جس کی مقدار تمہارے ہزار برس کے برابر ہے، سب کام وہاں کے اسی کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اب یہ بات رہی کہ کہیں تو اس دن کی مقدار پچاس ہزار برس کی فرمائی ہے، جیسا کہ سورة معارج میں ہے، خمسین الف سنۃ اور کہیں ہزار برس جیسا کہ یہاں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس روز بڑی سختی ہوگی اور نہایت دہشت وہیبت۔ سو یہ ہر ہر شخص کی نسبت جداگانہ ہوگی، کیونکہ جیسا جرم ویسی دہشت…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (السجدۃ : 6)
(وہ غائب و حاضر کا جاننے والا عزیز و رحیم ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے انتظام اور تدبیر کی جامعیت
اس کا انتظام و انصرامِ سلطنت اور تدبیرامور اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ نہ تو سلطنت کا کوئی گوشہ اس سے باہر ہے اور نہ اس کے کسی حکم کے نتیجہ خیز ہونے میں کوئی چیز مانع ہے۔ انسان بعض دفعہ اس کے فیصلوں میں تاخیر کی شکایت کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی قلت فکر اور نارسائیِ عقل سے چونکہ اپنے پیمانوں سے ناپتا اور تولتا ہے تو اسے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے اللہ تعالیٰ کے دنوں کے حساب سے بنتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ عرش بریں پر متمکن ہونے کے باوجود پوری کائنات کا مالک اور اس کا نظام چلا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ عرش بریں پر متمکن ہو کر کائنات کے نظام سے لاتعلق نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے کچھ ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ رکھی ہیں۔ ایسا عقیدہ رکھنا بدترین شرک ہے اس کی نفی کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ وہ آسمان سے لے کر زمین تک بلا شرکت غیرے پورے کا پورا نظام چلارہا ہے۔
جو ہستی اتنی زبردست ہے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لائی ہے اور اس کا نظام بلاشرکت غیرے چلا رہی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے معبودج نہیں تم سرپرست اور سفارشی سمجھ بیٹھے ہو تمہارے کس کام آسکتے…
Read the full tafseer →وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے :
6: ذٰلِکَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ (وہی ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا) یعنی وہ ان تمام چیزوں کو جو مخلوق سے پوشیدہ یا مخلوق کے مشاہدہ میں ہے جاننے والا ہے۔ الْعَزِیْزُ (وہ زبردست ہے) اس کا حکم و تدبیر ہر چیز پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (وہ مہربان ہے) اس کی نرمی اور آسانیاں انتہاء کو پہنچنے والی ہیں۔
قراءت : ایک قول یہ ہے کہ اس پر وقف نہیں کیونکہ الذی جملہ اس کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 6۔ ، ذلک عالم الغیب والشھادۃ، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ پیدا کیا ان سب کو جانتا ہے جو پوشیدہ ہیں ان کو بھی اور جو سامنے حاضر ہیں ان کو بھی جاننے والا ہے ۔ ، العزیزالرحیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آیت نمبر : 4 ۔ 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔
(مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو…
Read the full tafseer →6 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ ہے ۔ اللہ ۔ جو اس شان کا مالک ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے ۔ اللہ ۔ ایک برابر جاننے والا نہاں وعیاں کا، سب پر غالب نہایت ہی مہربان "۔ یعنی دنیا والوں کی طرح نہیں کہ کچھ عرصے کے لئے تھوڑا اور معمولی سا کوئی اقتدار کہیں مل گیا تو اس کے نشے میں چور ہو کر دوسروں کو دبانا اور ان پر مظالم ڈھانا شروع کر دئیے۔ بلکہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ یہ ہے کہ وہ سب پر اور ہر طرح سے اور ہمیشہ کے لئے غالب ہونے کے باوجود انتہائی مہربان بھی ہے۔ اس کی رحمت چار سو پھیلی ہوئی ہے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ وہ جرم و قصور پر فوراً نہیں پکڑتا بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل
تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے
Read the full tafseer →(32:6) ذلک۔ یہ۔ یہی۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم۔ یہ ہے (یعنی ان خوبیوں کا مالک (جو اوپر بیان ہوئیں) وہ عالم الغیب الشہادۃ العزیز الرحیم ۔ جو غیب اور ظاہر کا جاننے والا۔ سب پر غالب اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔
ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(ف 1) ان آیتوں میں انسان کی پیدائش کا حیرت انگیز حال بیان فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مٹی سے پھر اس کی ماں کے پیٹ میں اس کو ٹھیک کیا سر کی جگہ سر، اور کان کی جگہ کان، آنکھ کی جگہ آنکھ، ناک کی جگہ ناک، غرض ہر ایک عضو کو اس اندھیرے میں اس موقع ومحل پر قائم کیا اور ہر ایک عضو کو اس اندازہ سے بنایا کہ علم تشریح کے واقف ہونے کے بعد عالم وعاقل کو اس باتکاضرور اقرار کرلینا ہوگا کہ یہ کیسے بڑے مدبر حکیم کا فعل اور بڑے باکمال کی کاریگری ہے اور اس کو ٹھیک کرکے اپنے پاس سے روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[5] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حجر حواشی 10 تا 13 صفحہ 597۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ملک الموت
1: مکہ والوں کو دو عقیدوں سے بہت زیادہ اختلاف تھا ۔ ایک تو یہ کہ خدا ایک ہے اور سب انسانوں کو اس ایک خدا کے سامنے جھکنا چاہیے ، دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد ہر شخص پھر زندہ ہوگا ۔ اور اللہ کے حضور میں پیش کیا جائے گا ۔ چناچہ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ بل ھم یھا ی ربھم کفرون ۔ کہ یہ لوگ پروردگار کے سامنے جانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ یہ ناممکن ہے ۔ اس آیت میں ان کی اس غلط فہمی کو دور فرمایا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ فرشتہ موت وقت مقررہ پر ضرور تمہاری روحوں کو قبض کریگا ۔ مگر پھر تم رب ذوالجلال کی طرف ضرور لوٹوگے ۔ اور اپنے اعمال کے متعلق جواب دوگے ۔ یہ یاد رہے کہ موت کے ظاہری اسباب و طبعی وجہ…
Read the full tafseer →6۔ وہ اللہ تعالیٰ آسمان سے لیکر زمین تک جتنے امور ہیں ہر کام اور ہر امر کی تدبیر کرتا ہے پھر ہر امر اور ہر ایک کام ایک ایسے دن میں اسی کی حضور اور اسی کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے جس دن کی مقدار تمہارے شمار سے ہزار سال ہوتی ہے۔ یعنی ہر ایک اہم کام اور اس کے انتظامات کے متعلق اوپر سے حکم اترتا ہے اور جملہ اسباب خواہ وہ حسی ہوں یا معنوی ظاہری ہوں یا باطنی اس کے انصرام اور اتمام میں لگ جاتے ہیں آخر وہ کام اور وہ انتظام ایک مدت تک جاری رہتا ہے پھر زمانہ دراز کے بعد وہ انتظام اٹھ جاتا ہے اور دوسرا رنگ اترتا ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک دن یعنی ہزار سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 6۔ یعنی جس مصلحت کے لئے اس کو بنایا اس کے مناسب بنایا۔
Read the full tafseer →وہی حاضر و غائب کا جاننے والا ہے جو ہرچیز پر غالب ہے ‘ پیار کرنے والا :
6۔ غور کرو کہ کون ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا غیب و حاضر ہر ایک چیز سے واقف اور ہرچیز کا جاننے والا ہے ؟ بلاشبہ کوئی ایک بھی نہیں نہ فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ ‘ نہ جنوں میں سے کوئی جن ‘ نہ نبیوں اور رسولوں میں سے کوئی نبی ورسول بلاشبہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو سب کچھ جاننے والا ہو یہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ اس پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے جو کچھ گزرا ہے اور جو کچھ ابھی آنا ہے اس پر اسی طرح عیاں ہے جس طرح ظاہر چیز عیاں ہے اسی طرح وہ ہرچیز پر غالب ہے اور کوئی نہیں جو اس کے ارادے میں مزاحم ہو سکے اور اس…
Read the full tafseer →Commentary
The length of the day of Qiyamah
The text in verse 5 cited above says: فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (in a day the measure of which is a thousand years according to the way you count - 5). And it appears in a verse of Surah Al-Ma` arij:... (in a day the extent of which is fifty thousand years - 70:4).
A simple explanation of this is what appears in Bayan-ul-Qur'an - since this day will be horrendous, people would find it very long. Then, this length will be felt in terms of one's measure of faith and deeds. Big criminals will find the day longer…
Read the full tafseer →10 That is, "For others one thing may be open and known but countless other things hidden. Whether angels or jinns, prophets or saints, or other pious people, none of them has the knowledge of everything. It is Allah alone Who knows everything. He knows all that has passed, all that is present, and all that will happen in the future. "
11 11. "The All-Mighty": The One Who is dominant over everything: no power in the universe can hinder Him in His Design and Will and obstruct His Command from being enforced. Everything is subdued. to Him and nothing can resist Him.
12 That is, He is not…
Read the full tafseer →