Explained with ayahs 2–3
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 2
اوپر کے تمہیدی فقرے کے بعد مشرکین مکہ کے پہلے اعتراض کو لیا جا رہا ہے جو وہ محمد ﷺ کی رسالت پر کرتے تھے۔
سورة السَّجْدَة 3
یہ محض سوال و استفہام نہیں ہے بلکہ اس میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان ساری باتوں کے باوجود، جن کی بنا پر اس کتاب کا منزَّل من اللہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے، کیا یہ لوگ ایسی صریح ہٹ دھرمی کی بات کہہ رہے ہیں کہ محمد ﷺ اسے خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ رب العالمین کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ اتنا لغو اور بےسرو پا الزام رکھتے ہوئے کوئی شرم ان کو نہیں آتی ؟ انہیں کچھ محسوس نہیں ہوتا کہ جو لوگ محمد ﷺ کو اور ان کے کام اور کلام کو جانتے…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) ما اتہم من نذیر، نذیر سے مراد اس جگہ رسول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش مکہ میں آنحضرت محمد ﷺ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انبیاء کی دعوت بھی ان کو اب تک نہ پہنچی تھی۔ کیونکہ دوسری آیت قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہے و ان من امة الا خلا فیہا نذیر، یعنی کوئی امت اور جماعت دنیا میں ایسی نہیں جس میں کوئی اللہ سے ڈرانے والا اور اس کی طرف دعوت دینے والا نہ آیا ہو۔
اس آیت میں لفظ نذیر اپنے عام لغوی معنی میں ہے۔ یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا وہ خواہ رسول اور پیغمبر ہو یا ان کا کوئی نائب، خلیفہ یا عالم دین۔ تو اس آیت سے تمام امتوں اور جماعتوں تک توحید کی دعوت…
Read the full tafseer →ام یقولون افترہ بل ھو الحق من ربک لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یھتدون (3)
یہ سوال حیرت و تعجب کی نوعیت کا ہے کہ کیا یہ لوگ حق کی مخالفت میں ایسے اندھے بہرے ہوگئے ہیں کہ اس کتاب کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوت کو افتراء قرار دیتے ہیں ! مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے اندار انصاف اور سچائی کی کوئی رمق ہوتی تو یہ بات وہ زبان سے نہ نکالتے لیکن یہ لوگ مخالفت کے جوش میں بالکل اندھے بہرے بن چکے ہیں۔
’ بل ھو الحق من ربک ‘ اس الزام کا قرآن مجید نے مختلف پہلوئوں سے دیا ہے جن کی وضاحت پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ یہاں کوئی تفصیلی جواب دینے کے بجائے نہایت سخت دھمکی کے انداز میں دعوے کو مزید کو کد…
Read the full tafseer →3-1یہ بطور توبیخ کے ہے کہ کیا رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اسے (محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟
3-2یہ نزول قرآن کی علت ہے۔ اس سے معلوم ہوا (جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزر چکی ہے) کہ عربوں میں نبی پہلے نبی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت شعیب ؑ کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس اعتبار سے قوم سے مراد پھر خاص قریش ہوں گے جن کی طرف کوئی نبی آپ ﷺ
سے پہلے نہیں آیا۔
Read the full tafseer →1: مکہ مکرمہ میں جب سے بت پرستی شروع ہوئی، کوئی نبی نہیں آیا تھا، انفرادی طور پر کچھ ایسے حجرات حق کی تعلیم و تبلیغ کرتے رہے ہیں جو نبی نہیں تھے، لیکن نبی کوئی نہیں آیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
درس نمبر 187 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30
الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3)
الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا…
Read the full tafseer →3 یعنی جس کی کتاب کا معجزہ اور من اللہ ہونا اس قدر واضح ہے کہ شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں، کیا اس کی نسبت کفار کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے گھڑ لایا ہے۔ اور معاذ اللہ جھوٹ طوفان خدا کی طرف نسبت کرتا ہے ؟ حد ہوگئی جب ایسی روشن چیز میں بھی شبہات پیدا کیے جانے لگے، ذرا غور و انصاف کرتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب ٹھیک پروردگار عالم کی طرف سے آئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے آپ اس قوم کو بیدار کرنے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کریں جن کے پاس قرنوں سے کوئی بیدار کرنے والا پیغمبر نہیں آیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ آدمی اپنی طرف سے وہ ہی چیز بنا کر لاتا ہے یا بنا سکتا ہے جس کی کوئی نظیر یا زبردست خواہش اس کے ماحول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3 اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ ج بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ”
اہل مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →سوچنے کی بات ہے کہ کوئی انسان صرف اسی موضوع پر کتاب لکھ سکتا ہے جس میں اسے مہارت حاصل ہو اور لوگوں میں وہ اس فن کے عالم کی حیثیت سے کسی حد تک معروف ہو۔ اور تصنیف اس لئے کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر اپنی علمیت اور مہارت کا سکہ بٹھائے اور لوگوں میں اور اس کی کتاب کو عام مقبولیت حاصل ہو۔ لیکن یہاں معاملہ سارے کا سارا اس سے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے بعد آپ نے جو کلام پیش کیا۔ نبوت سے پیشتر آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی جس سے نبوت کے بعد اسے کلام کے لئے کوئی اشارہ تک بھی پایا جاتا ہو۔ پھر آپ نے جو کلام پیش کیا جو ان لوگوں کی عادات، رسوم، مزاج اور طباع کے یکسری مخالف تھا اس سے آپ کا لوگوں میں…
Read the full tafseer →2۔ یعنی کیا ان بدبخت منکرین کا یہ دعوی ہے کہ یہ کتاب جو معنوی اور ادبی ہر حیثیت سے بےنظیر وعدیم المثال ہے ایک انسان کی جو اپنے کو پیغمبر کہتے ہیں۔ گڑھی ہوئی ہے اور کسی انسانی دماغ کی پیداوار ہے۔ ؟
3۔ یعنی ان کی ہدایت یابی کا ایک متوقع ذریعہ تو یہ قرآن ہے، اب آگے چاہے وہ اس پر ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ (آیت) ” قوما ..... قبلک “۔ قوم قریش اسمعیلی تھی، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واسمعیل (علیہ السلام) کا پیغمبر ان برحق ہونا ظاہر ہے پھر اس ارشاد سے کیا مراد ہے کہ اس قوم کے پاس اس سے قبل کوئی نذیر نہیں آیا تھا ؟۔ مراد یہ ہے کہ دین ابراہیمی واسمعیلی کے چھوڑنے کے بعد جب سے یہ قوم، عرب میں آباد ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →ام یقولون افتراہ بل ھو الحق من ربک . کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ اپنے دل سے بنا لیا
ہے ؟ ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ سچی (کتاب) ہے آپ کے رب کی طرف سے۔
بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ کلام سابق کی تاکید ہے ‘ مضمون آیت کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ پہلے ا آآ فرما کر قرآن کے معجزہ ہونے کی طرف اشارہ کیا (یعنی قرآن مجید کی ہر آیت اور عبارت کی ساخت انہی حروف سے ہے جو عام لغت عربی کی بنیاد ہیں لیکن سلوب ادا اور طرز ترکیب ایسا ہے کہ کوئی مخلوق ایسا کلام نہیں بنا سکتی۔ معلوم ہوا کہ ایسا کلام بناناطاقت بشری سے خاری ہے ‘ اسی کا نام معجزہ ہے۔ مترجم) جب اعجاز کی طرف اشارہ کردیا تو لازمی یہ نتیجہ نکلا کہ…
Read the full tafseer →مگر کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن حکیم کو رسول اکرم ﷺ نے اپنی طرف سے بنا لیا ہے بلکہ یہ قرآن کریم سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے بذریعہ جبریل آپ پر نازل ہوئی ہے تاکہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعے سے قریش کو ڈرائیں جن میں سے آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا رسول نہیں آیا تاکہ وہ گمراہی سے سیدھے راستے پر آجائیں۔
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ : ”اَم“ سے پہلے عموماً ایسا جملہ موجود یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں مقدر جملہ ظاہر کریں تو عبارت یہ ہوگی : ”أَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ بِہِ أَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ“ یعنی ”کیا یہ لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو کر ایمان لاتے ہیں، یا یہ کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے ؟“ کئی مفسرین نے اس ”ام“ کو منقطعہ قرار دے کر ”بَلْ“ کے معنی میں قرار دیا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا : ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔“ اس ”بَلْ“ سے پہلے بھی ایک عبارت محذوف ہے کہ یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے…
Read the full tafseer →آیت ام یقولون افتراہ یہ ام منقطعہ ہے بل اور ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کی تقدیر بیان کی جاتی ہے یعنی بل ایقولون یہ اس پر دال ہے کہ ایک بات سے دوسری بات کی طرف نکلا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کو ثابت کیا کہ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، پھر اس سے اس ارشاد کی طرف کلام کو پھیرا آیت ام یقولون افتراہ یعنی خود اسے گھڑا ہے۔
آیت بل ھو الحق من الربک افترا کے دعوی میں ان کو جھٹلایا۔ لتنذر قوما قتادہ نے کہا : قوم سے مراد قریش ہے (1) ۔ وہ ایک امی امت تھی حضرت محمد ﷺ سے پہلے انہیں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ لتنذر یہ ماقبل سے متعلق ہے اس لیے من ربک پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن المنذر نے ابن جریر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لتنذر قوما تاکہ ڈارئیں قریش کو بتایا کہ قوم سے مرا دقریش ہے ان کی طرف اور ان کے آباء و اجداد کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی رسول نہیں آیا۔
Read the full tafseer →اَمْ [یا ] يَقُوْلُوْنَ [وہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۚ [انھوں ﷺ نے گھڑا ہے اس کو ] بَلْ هُوَ الْحَـقُّ [بلکہ وہ ہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کا رب (کی طرف) سے ] لِتُنْذِرَ [تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم کو ] مَّآ اَتٰىهُمْ [نہیں پہنچا جن کے پاس ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [کوئی بھی خبردار کرنے والا ] مِّنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] لَعَلَّهُمْ [شاید وہ لوگ ] يَهْتَدُوْنَ [ہدایت پائیں ] ۔
آیت۔ 3 ۔ میں لفظ نذیر اپنے عام لغوی معنی میں ہے، یعنی اللہ کی طرف دعوت دینے والا (آخرت کے انجام سے خبردار کرکے) ، وہ خواہ رسول اور پیغمبر ہو یا ان کا کوئی نائب، خلیفہ، یا عالم دین۔ جیسا کہ ابوحیان نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قرآن مجید حق ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا
یہاں سے سورة السجدہ شروع ہے، اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے الم تو متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ باقی آیات میں قرآن مجید کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت اور خالقیت بیان فرمائی ہے۔
مشرکین مکہ جو یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود سے بنالیا ہے اس کی تردید فرماتے ہوئے فرمایا (بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے) (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آغاز سورت بحقانیت قرآن برائے اثبات رسالت محمدیہ
الم : اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں یہ نازل کردہ کتاب ہے جس میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے جس کا ظاہری اور معنوی اعجاز اس کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتری ہے بتائیں کہ کیا وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا دل یا ہے اور خدا کی طرف اس کو منسوب کردیا ہے یہ قول بالکل غلط ہے بلکہ وہ سچی کتاب ہے جو تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے تاکہ آپ اس کتاب حکمت کے ذریعہ ایسی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں آپ…
Read the full tafseer →3:۔ ام یقولون الخ۔ یہ شکوی ہے۔ یہ قرآن بلا شک و شبہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے لیکن مشرکین ماننے کے بجائے اسے اللہ کا کلام ہی نہ سمجھتے بلکہ اسے پیغمبر خدا ﷺ کا افتراء کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی طرف سے تصنیف کر کے عیاذا باللہ غلط طور سے اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ بل ھو الحق یہ جواب شکوی ہے۔ یہ قرآن کسی کا ساختہ پرداختہ نہیں۔ بلکہ وہ سراپا حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے ہے پہلی صورت میں من ربک ربک خبر بعد خبر ہے اور دوسری صورت میں الھق کے متعلق ہے لتنذر الخ کتاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایک ایسی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ شرک و ضلالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ناعداد کوائف :
اس سورة کا نام سورة السجدۃ ہے ، اسی نام کی ایک اور سورة سورة م سجدۃ بھی ہے ۔ وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان کے اتصال کے ساتھ کرتے ہیں یعنی وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان سے متصل ہے ۔ اس سورة کا دوسرا نام سورة المضاجع بھی ہے کیونکہ اس میں بستروں کا ذکر بھی آتا ہے کہ اہل ایمان اپنے بستروں کو چھوڑ کر رات کے وقت اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں۔
1 ؎ جوع المعافی ص 411 ج 12 (فیاض)
اس سورة کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں سجدہ تلاوت آتا ہے ۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت تو بہت سی سورتوں میں آتا ہے۔ پھر اس سورة کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کا نام ہی سجدہ کے نام پر رکھ دیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ ۚ بَلْ ہُوَالْحَـقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىہُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّہُمْ يَہْتَدُوْنَ 3
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
فری
الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : اس سے پہلی سورة میں توحید اور حشر کے دلائل بیان فرمائے تھے اور وہ دو طرف ہیں، اس لیے اس سورة میں امر اوسطہ یعنی اس رسالت کا ذکر کرتا ہے کہ جس پر قرآن کی برہان قائم ہے۔ فقال تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العالمین یہ کتاب یعنی قرآن (کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غور و تامل کے بعد کوئی بھی شبہ نہیں رہتا) رب العالمین کی طرف سے ہے۔ رب العالمین کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے، روحانی پرورش بھی اسی کا خاص حصہ ہے، اس لیے اس نے دنیا کی شائستگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے آپ گواہ ہے، مگر کوڑھ مغزی اور تیرہ باطنی بھی عجب بدبلا ہے،…
Read the full tafseer →اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ ج بَلْ ھُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰـہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (السجدۃ : 3)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہی آپ کے رب کی جانب سے حق ہے تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو انذار کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی انذار کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ ہدایت پاجائیں۔ )
اظہارِتعجب
اس آیت کے پہلے جملے میں سوال نہیں بلکہ تعجب کا اظہار ہے۔ کہ یہ لوگ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر بھی اتنی بڑی بات کہنے کی جسارت کررہے ہیں کہ اسے آنحضرت ﷺ نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے اور اسے افترا قرار دے رہے ہیں۔ اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورة لقمان کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ قیامت، بارش، ماں کے رحم، انسان نے کل جو کرنا ہے اور جہاں اس نے مرنا ہے ان سب امور کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم اور خبیر ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے جس کی تنزیل اور تعلیمات میں کوئی شریک نہیں لہٰذا لوگوں کو اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کرنا چاہیے۔
الف، لام، میم کے بارے میں وضاحت ہوچکی کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ اہل مکہ کا الزام تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنالیا ہے اس الزام کے کئی جواب دیے گئے ہیں یہاں اس…
Read the full tafseer →جب یہ اللہ کا اتارا ہوا ہے تو اس کو مفتری کہنے کی کوئی وجہ نہیں :
3: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبرنے گھڑ لیا ہے) یعنی محمد ﷺ اس کو بنا کر لائے ہیں۔ کیونکہ ام ؔ منقطعہ ہے جو کہ بل کے معنی میں ہے ہمزہ انکار و تعجب کیلئے ہے کلام اس طرح ہے بل ایقولون افتراہ (بلکہ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو بنا لیا ہے) اس لئے کہ قرآن تین آیات جو اس کی مثل ہوں کے چیلنج سے ان کے بلغاء کو عاجز کرچکا (پھر کس منہ سے اس کو من گھڑت کہتے ہیں) بَلْ ھُوَالْحَقُّ (بلکہ یہ سچی کتاب ہے) پھر ان کے انکار سے اعراض کرتے ہوئے اثبات کی طرف رخ پھیر دیا کہ بیشک وہ برحق ہے۔ مِنْ رَّبِّکَ (آپ کے رب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3، ام یقولون ، بلکہ وہ کہتے ہیں ، افتراہ ، بعض نے کہا میم صلہ کے لیے ہے کیا یہ جھوٹ گھڑتے ہیں ، استفہام تو بیخ ہے۔ بعض نے کہا ام بمعنی واؤہے وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس میں اضما رہے کیا وہ ایمان لائے ہیں یا وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ پھر فرمایا ، بل ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، الحق من ربک لتنذرقوما ما اتاھم ، یہ رب کی طرف سے اتری ہوئی کتاب ہے یہ خود اس کتاب کو نہیں لائے۔ ، من قبلک قتادہ کا قول ہے کہ وہ امت امی ہے ان کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل بیان ہے یہ فترت کے زمانے کی بات ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان کا زمانہ ہے ۔ ، لعلھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 تا 4۔ آلمہ۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ دیب شک کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے اترنے میں کچھ شک نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ شرک یہ جو کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اس قرآن شریف کو آپ بنالیا ہے۔ یہ ان کا گمان بالکل غلط ہے بلکہ وہ حق ہے پروردگار کی طرف سے اترا ہے تاکہ تو ڈراوے ان لوگوں کو کہے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرسنانے والا نہیں آیا شاید وہ ہدایت پاویں الور حق کی پیرویکریں پھر کہا اللہ وہ ہے کہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ 6 روز میں پھر عرش پر قائم ہوا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة السجدہ
آیت نمبر : 3 ۔ 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے ‘ یہی کتاب کریم ہے۔ ان میں ہر وہ چیز موجود ہے ‘ جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ بایں ہمہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیٰ ﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے…
Read the full tafseer →2 تنزیل کتاب سے مقصود انذار و تبلیغ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ آپ خبردار کریں ایسی قوم کو جسکے پاس آپ سے پہلے ۔ ماضی قریب میں ۔ کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ یعنی کوئی پیغمبر۔ ورنہ مطلق نذیر ۔ خبردار کرنے والے ۔ تو ہمیشہ ہی رہے اور ان کے اندر زمانہ ئِ جاہلیت میں بھی اہل توحید موجود تھے۔ یہاں تک کہ اس دور میں توحید کی دعوت دینے والوں کی ایک ایسی جماعت موجود رہی ہے جن کا لقب ہی " حنفاء " تھا۔ جن میں کئی بڑی بڑی شخصیات کے نام آتے ہیں۔ مثلاً قس بن ساعدۃ الایادی، امیہ بن ابی اصلت، سوید بن عمرو المصطلقی، قیس بن صرقہ، زید بن عمرو بن نفیل، ورقہ بن نوفل، وکیع بن سلمہ، عبید اللہ بن جحش، عامر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن اللہ کا نازل کیا ہوا پیغام ہے
تشریح : اس بات میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب اللہ رب العالمین کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں حکمت اور دانش مندی کی بیشمار باتیں بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ قرآن پاک ایک بک لِٹ ہے کائنات، انسان اور تمام مخلوقات کے بارے میں، جو کچھ اللہ نے اپنی قدرت اور حکمت سے بنائی ہیں۔ تاکہ انسان کو اپنی پیدائش اور تمام مخلوقات کی پیدائش، اصول اور حکمتیں ‘ ضرورتیں ‘ استعمال اور فائدوں کے بارے میں خوب اچھی طرح تفصیلاً سمجھا دیا جائے۔ تاکہ وہ خود اپنے آپ کو پوری کائنات کو خوب اچھی طرح سمجھ جائے اور جب وہ خود کو اور کائنات کو سمجھنے لگے گا تو ان تمام مخلوقات کے بنانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی محمد ﷺ کی صداقت و اہانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود یہ لوگ ایسی صریح غلط اور لغوبات کہہ رہے ہیں۔9 مراد عرب یا قریش کے لوگ ہیں جن کی طرف خود ان میں سے نبی ﷺ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ حضرت اسماعیل کی بعثت پر (جو نبی ﷺ سے پہلے ان کے آخری پیغمبر تھے) تقریباً ڈھائی ہزار سال گذر چکے تھے۔
Read the full tafseer →(32:3) ام۔ کبا۔ یا۔ خواہ۔ یہاں بمعنی بل (حرف اضراب) آیا ہے۔ یعنی یہ منکرین و کافرین نہ صرف اس کے منزل من اللہ ہونے میں شک کرتے ہیں بلکہ وہ تو اس سے بھی بڑھ کر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ یہ افتراء (من گھڑت) ہے۔
افترہ : افتری ماضی واحد مذکر غائب افتری یفتری افتراء (افتعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے اس نے اس (کتاب) کو خود گھڑ لیا ہے ۔
بل۔ حرف اضراب ہے۔ یہاں اضراب انکار سے اثبات کی طرف ہے یعنی ان کا شک کرنا یا اس کو من گھڑت قرار دینا غلط ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تیرے پروردگار کی طرف سے یہ الحق ہے۔ ال استغراق کا ہے۔
لتنذر۔ میں لام تعلیل کا ہے ای انزلہ لتنذر اس نے اس کتاب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 3)
تنزیل (آہستہ آہستہ اتارنا) ۔ افتریٰ (اس نے گھڑلیا۔ بنا لیا) ۔ الحق (سچ، سچائی) ۔ تنذر (توڈراتا ہے۔ آگاہ کرتا ہے) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” سورة السجدہ کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ ان حروف کے متعلق اس سے پہلی سورتوں میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے۔ یہ حروف آیات متشابھات میں سے ہیں یعنی ان کے معنی اور مراد کا علم اللہ رب العالمین کو ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں۔ “
اس سورت کی ابتداء اس اعلان سے کی گئی ہے کہ یہ وہ کتاب (قرآن مجید) ہے جس کو تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل کیا ہے۔ جس کی بنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
انسان کی پیدائش کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جوان دونوں کے درمیان میں موجود ہے چھ روز کی مدت میں پیدا کیا یعنی اتوار سے شروع کیا جمعہ کو ختم کیا، اس کے بعد وہ عرش پر جلوہ فرماہوا یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا وہ ایساعظیم ہے کہ سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا ہے کیا تم سمجھتے نہیں کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، اور وہ ایسا ہے کہ آسمان سے لے کر زمین تک جتنے کام ہیں ہر کام کی وہی تدبیر اور انتظام کرتا ہے پھر ہر کام اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ایک ہزار برس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی محمد ﷺ نے۔
[2] ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار سال تک عرب میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا۔
Read the full tafseer →ف 1: سورة لقمان میں زیادہ تر توحید کے مسائل کو بیان فرمایا تھا ۔ سورة سجدہ کا آغاز رسالت سے کیا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ غیر مشکوک ہے ۔ اس میں وہ تخیل ہے ۔ جو بتلانا ہے ۔ کہ اس کو بھیجنے والا تمام کائنات انسانی کا رب ہے ۔ اس میں ہر ذوق اور ہر قابلیت کے انسان کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس میں ہر ملک اور ہر قوم کے لئے برابر برکات اور سعادتیں ہیں ۔ یہ ہر زمانے میں لوگوں کی راہ نمائی کرتی ہے ۔ اس لئے اس کے متعلق یہ ظن کہ شاید یہ حضور ﷺ کا افتراء ہو ۔ محض سوء ظن ہے ۔ یہ حق وصداقت ہے ۔ واقعات اور فطرت کے مطابق ہے ۔ اور عقل و دانش کے قرین ہے ۔
ما اتھم من نذیر سے مراد یہ نہیں ہے کہ…
Read the full tafseer →3۔ کیا یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو پیغمبر نے گھڑ لیا ہے اور اپنے دل سے بنا لیا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ کتاب حق اور سچ ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے تا کہ آپ لوگوں کو ڈرا دیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تا کہ وہ لوگ صحیح راہ پر آجائیں ۔ یعنی اس قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ یہ ان کا بنایا ہوا ہے یہ گھڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام کہہ کر سناتے ہیں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ اور غلط ہے بلکہ یہ قرآن کریم تو ایک سچی کتاب ہے اور پروردگار کی طرف سے آئی ہے اور اس لئے آئی ہے تا کہ آپ ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا دیں جن کو عرصے سے کوئی ڈر سنانے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا۔
4۔ کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود اس کو گھڑا ہے حالانکہ وہ حق ہے تیرے رب سے :
3۔ بدبخت منکرین قرآن کا یہ دعوی قرآن کریم نے کئی بار نقل کیا ہے اور پھر اس کا ہر بار مسکت جواب دیا ہے مثلا عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 38 ‘ سورة ہود کی آیت 13 اور آیت 38 جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 5 ‘ سورة الفرقان کی آیت 4 میں یہ مضمون نہایت مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے اور ہر بار ان کو یہ چیلنج بھی کیا گیا ہے کہ تم جو بار بار یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو گھڑ لاو ہے تو تم بھی اس جیسا کلام گھڑ کر پیش کر دو تاکہ تمہاری اس بات میں کوئی وزن پیدا ہوجائے اور پھر ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اچھا صرف دس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
Commentary
At this place, the word: نَّذِيرٍ (nadhir: warner) in: مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ (to whom no warner has come.. -3)means a rasul or messenger.The sense is that no messenger had appeared amidst the Quraish of Makkah before the Holy Prophet t. This does not mean that the call of the messengers had just not reached them until that time, because it was clearly said in another verse of the Qur'an: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (And there was no community without a warner having passed among them - 35:24). In this verse, (i.e. the verse 35:24) the word: نَّذِيرٍ…
Read the full tafseer →4 Just as in the first verse it was considered sufficient to say, 'It is without any doubt the Book of God," and no further argument was needed to be advanced to prove the Qur'an to be Divine Word, so in this verse also the only thing being said to refine the disbelievers' charge that the Qur'an was being forged is: "It is the Truth from your Lord." The reason for it is the same as we have given in E.N. 1 above. The listeners wcrc well aware of the person who was presenting the Qur'an, of the environment in which he was presenting it and the confidence and grace with which he was presenting…
Read the full tafseer →