Explained with ayahs 2–3
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 1
قرآن مجید کی متعدد سورتیں اس طرح کے کسی نہ کسی تعارفی فقرہ سے شروع ہوتی ہیں جس سے مقصود آغاز کلام ہی میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ کلام کہاں سے آ رہا ہے۔ یہ بظاہر اسی طرز کا ایک تمہیدی فقرہ ہے جیسے ریڈیو پر اعلان کرنے والا پروگرام کے آغاز میں کہتا ہے کہ ہم فلاں اسٹیشن سے بول رہے ہیں۔ لیکن ریڈیو کے اس معمولی سے اعلان کے برعکس قرآن مجید کی کسی سورت کا آغاز جب اس غیر معمولی اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ پیغام فرمانروائے کائنات کی طرف سے آ رہا ہے تو یہ محض مصدر کلام کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس میں ایک بہت بڑا دعویٰ ، ایک عظیم چیلنج اور ایک سخت انذار بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر
الم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے (اور) اس میں کچھ شبہ نہیں (اور) یہ رب العالمین کی طرف سے ہے (جیسا کہ اس کتاب کا اعجاز خود اس کی دلیل ہے) کیا یہ (منکر) لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے یہ اپنے دل سے بنا لیا ہے (یعنی یہ کہنا محض لغو اور جھوٹ ہے یہ بنایا ہوا نہیں) بلکہ یہ سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے (آئی ہے) تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) ایسے لوگوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا نہیں آیا تھا تاکہ وہ لوگ راہ پر آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
الم تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین (1۔ 2)
’ الم ‘ کی تحقیق سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید بھی بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔
’ تنزیل ‘ کے معنی ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صرف اتارنے کے نہیں بلکہ اہتمام خاص کے ساتھ درجہ بدرجہ اتارنے کے ہیں۔ ’ الکتب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی اس کتاب کی تنزلی اللہ رب العلمین کی طرف سے ہے۔ اس کے اللہ رب العلمین کی طرف سے ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لاریب فیہ کا یہی مفہوم ہم نے سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اس آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ قریش اور…
Read the full tafseer →حدیث میں آتا ہے کہ نبی جمعہ کے دن فجر نماز میں الَمَّ السَّجْدَہ (اور دوسری رکعت میں) (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ) (سُوْرَۃ دہر) پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری) اسی طرح یہ بھی سند سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ رات کو سونے سے قبل سورة الم السجدہ اور سورة ملک پڑھا کرتے تھے (ترمذی892 مسند احمد أ34
2-1مطلب یہ ہے کہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے آسمانی کتاب ہدایت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
درس نمبر 187 تشریح آیات
1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 30
الم (1) تنزیل الکتب ۔۔۔۔۔ لعلھم یھتدون (1-3)
الف۔ لام۔ میم۔۔۔ یہ وہ حروف ہیں جن سے عرب واقف تھے جن سے یہ کتاب سب سے پہلے مخاطب تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان حروف سے کلام کس طرح بنایا جاتا ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان حروف سے وہ جو کلام بناتے ہیں اس میں اور اس کلام میں کس قدر فرق ہے۔ ہر وہ شخص یہ فرق جانتا تھا جو اسالیب کلام سے واقف تھا۔ اور جو شخص بھی افکار و معانی کو الفاظ کا لباس پہنانے کا کام کرتا تھا ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے تھے اور اسے مانتے تھے کہ نصوص قرآنی کے اندر کوئی خفیہ قوت ہے اور اس کے اندر کوئی گہرا عنصر ہے ، جو اسے ایک ایسی قوت قاہرہ عطا کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 بلاشبہ یہ کتاب مقدس رب العالمین نے اتاری ہے نہ اس میں کچھ دھوکا ہے نہ شک و شبہ کی گنجائش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3 اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰٹہُ ج بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ”
اہل مکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک طویل عرصے کے دوران کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ اس آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جو فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کے کئی اعتراضات کا جواب آگیا ہے۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالی ہے۔ اس اعتراض کے پہلو بیشمار تھے مگر سب کا ماحصل یہی تھا کہ یہ کتاب نہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، نہ ہی یہ اللہ کا رسول ہے۔ بلکہ اس نے خود بعض دوسرے لوگوں کی مدد سے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اس کتاب کے کتاب الہی ہونے میں اصلا شک وشبہ کی گنجائش نہیں، لیکن (آیت) ” لاریب فیہ “۔ کا ایک ذرا باریک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ ریب وارتیاب، شک و اشتباہ، ترودوتذبذب کا اس کتاب کے اندر کہیں گزر نہیں، اس کے مضامین تو سرتا سر تسکین وخزانہ سکون ہیں، یقین و اطمینان اسی کتاب کے اندر ملے گا۔ ملا حظہ ہو۔ شروع سورة البقرہ کا حاشیہ (آیت) ” ذلک الکتب لاریب فیہ “۔ پر۔ نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین یہ (کتاب) رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی
کتاب ہے اس میں کوئی شک (کی بات) نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) الم۔ اس کے معنی سب سے زیادہ اللہ ہی جاننے والا ہے یا کہ بطور تاکید کے یہ ایک قسم کھائی گئی ہے یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الۗمّۗ ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ :”الم“ کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ”الکتب“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ ”مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ ”تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ“ کی خبر ہے۔ جملہ ”لَا رَيْبَ فِيْهِ“ معترضہ ہے یا ”الْكِتٰبِ“ کی صفت، یا اس سے حال ہے۔ آیت میں قرآن مجید کے متعلق دو باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے، دوسری یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کوئی شک نہ ہونے سے مراد یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ ہر بات یقینی ہے، کسی بات میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ اس کے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت الم تنذیل الکتاب، تنذیل الکتاب کے رفع پر سب کا اجماع ہے اگر یہ مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب ہو تو یہ بھی جائز ہے ؛ جس طرح کو فیوں نے اسے پڑھا آیت انک لمن المر سلین۔ علی صراط مستقیم۔ تنذیل العزیز الرحیم۔ (یسین) تنذیل مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اس کی خبر لاریب فیہ ہے۔ یا یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا مضمر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ھذا تنذیل یا المتلو تنذیل یا ھذہ الحروف تنذیل۔ الم یہ حروف کے ذکر پر دال ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ لاریب فیہ یہ الکتاب سے حال ہے۔ من رب العالمین خبر ہے۔ مکی نے کہا : یہ ان میں سے احسن ہے۔ لا ریب فیہ من رب العالمین اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن المنذر نے ابن جریر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لتنذر قوما تاکہ ڈارئیں قریش کو بتایا کہ قوم سے مرا دقریش ہے ان کی طرف اور ان کے آباء و اجداد کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی رسول نہیں آیا۔
Read the full tafseer →تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [اس کتاب کا اتارنا ہے ] لَا رَيْبَ [کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے ] فِيْهِ [جس میں ] مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہانوں کے رب (کی طرف) سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قرآن مجید حق ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا
یہاں سے سورة السجدہ شروع ہے، اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے الم تو متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ باقی آیات میں قرآن مجید کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت اور خالقیت بیان فرمائی ہے۔
مشرکین مکہ جو یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود سے بنالیا ہے اس کی تردید فرماتے ہوئے فرمایا (بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے) (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آغاز سورت بحقانیت قرآن برائے اثبات رسالت محمدیہ
الم : اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں یہ نازل کردہ کتاب ہے جس میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں پروردگار عالم کی طرف سے ہے جس کا ظاہری اور معنوی اعجاز اس کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتری ہے بتائیں کہ کیا وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اس کو خود بنا دل یا ہے اور خدا کی طرف اس کو منسوب کردیا ہے یہ قول بالکل غلط ہے بلکہ وہ سچی کتاب ہے جو تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے تاکہ آپ اس کتاب حکمت کے ذریعہ ایسی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ راست پر آجائیں آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
3:۔ تنزیل الکتب الخ۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ رب العالمین اور شہنشاہ کا حکم نامہ ہے اس غور سے سنو اور دل و جان سے اس پر عمل کرو اس کے من جانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ تنزیل الکتب مبدا، لاریب فیہ جملہ معترضہ اور من رب العلمین خبر محققین نے اسی ترکیب کو اختیار کیا ہے علامہ زمخشری، ابو حیان اور آلوسی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ قال ابو حیان الذی اختارہ ان یکون (تنزیل) مبتدا و (لا ریب فیہ) اعتراض لا محل قیل من الاعراب و (من رب العلمین) الخبر و ضمیر (فیہ) راجع لمضمون الجمۃ اعنی کونہ منزلا من رب العلمین لا للتنزیل ولا للکتاب کانہ قبل لا ریب فی ذلک ای فی کونہ منزلا من رب العلمین وھذا ما اعتمد علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ناعداد کوائف :
اس سورة کا نام سورة السجدۃ ہے ، اسی نام کی ایک اور سورة سورة م سجدۃ بھی ہے ۔ وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان کے اتصال کے ساتھ کرتے ہیں یعنی وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان سے متصل ہے ۔ اس سورة کا دوسرا نام سورة المضاجع بھی ہے کیونکہ اس میں بستروں کا ذکر بھی آتا ہے کہ اہل ایمان اپنے بستروں کو چھوڑ کر رات کے وقت اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں۔
1 ؎ جوع المعافی ص 411 ج 12 (فیاض)
اس سورة کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں سجدہ تلاوت آتا ہے ۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت تو بہت سی سورتوں میں آتا ہے۔ پھر اس سورة کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کا نام ہی سجدہ کے نام پر رکھ دیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
رکوع نمبر 14
سورة الم سجده
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الۗمّۗ 1 ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ 2 ۭ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : اس سے پہلی سورة میں توحید اور حشر کے دلائل بیان فرمائے تھے اور وہ دو طرف ہیں، اس لیے اس سورة میں امر اوسطہ یعنی اس رسالت کا ذکر کرتا ہے کہ جس پر قرآن کی برہان قائم ہے۔ فقال تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العالمین یہ کتاب یعنی قرآن (کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غور و تامل کے بعد کوئی بھی شبہ نہیں رہتا) رب العالمین کی طرف سے ہے۔ رب العالمین کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے، روحانی پرورش بھی اسی کا خاص حصہ ہے، اس لیے اس نے دنیا کی شائستگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے آپ گواہ ہے، مگر کوڑھ مغزی اور تیرہ باطنی بھی عجب بدبلا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الٓـمّٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (السجدۃ : 1، 2)
(ا۔ ل۔ م۔ اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔ )
چند اہم باتوں کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں چند اہم باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ 1 قرآن پاک کے نزول کے لیے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، انزال اور تنزیل۔ انزال کا معنی ہے یکبارگی اتارنا۔ اور تنزیل کا معنی ہے تھوڑا تھوڑا اور نہایت اہتمام سے اتارنا۔ ان دونوں باتوں سے قرآن پاک کی عظمت، اہمیت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ قرآن پاک وہ ہے جسے دو دفعہ اتارا گیا۔ ایک لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر۔ یہ یکبارگی ہوا۔ اور دوسرا آسمانِ دنیا سے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورة لقمان کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ قیامت، بارش، ماں کے رحم، انسان نے کل جو کرنا ہے اور جہاں اس نے مرنا ہے ان سب امور کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم اور خبیر ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے جس کی تنزیل اور تعلیمات میں کوئی شریک نہیں لہٰذا لوگوں کو اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کرنا چاہیے۔
الف، لام، میم کے بارے میں وضاحت ہوچکی کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ اہل مکہ کا الزام تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنالیا ہے اس الزام کے کئی جواب دیے گئے ہیں یہاں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1، 2: الٓمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ لَارَیْبَ فِیْہِ (الم ! یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے اس میں کچھ شبہ نہیں) ۔ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (یہ رب العالمین کی طرف سے ہے)
الٓمٓ : نمبر 1۔ اگر اس کو سورت کا نام مانا جائے تو یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبرتنزیل الکتاب ہے۔ نمبر 2۔ اگر اس کو حروف مقطعات سے شمار کریں تو پھر تنزیل الکتاب مبتدأ محذوف کی خبر ہونے کی بناء پر مرفوع ہوگی۔
تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ : : نمبر 1۔ یہ مبتدا ٔ اور اس کی خبر لا ریب فیہ ہے۔
لَارَیْبَ فِیْہِ : مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع اور اس کی خبر من رب العالمین ہے اور لا ریب فیہ جملہ معترضہ ہے اور اس کی ضمیر مضمون جملہ کی طرف راجع ہے گویا کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔۔ ، الم تنزیل الکتاب لا ریب فیہ من رب العالمین ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس پر کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 تا 4۔ آلمہ۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ دیب شک کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے اترنے میں کچھ شک نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ شرک یہ جو کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اس قرآن شریف کو آپ بنالیا ہے۔ یہ ان کا گمان بالکل غلط ہے بلکہ وہ حق ہے پروردگار کی طرف سے اترا ہے تاکہ تو ڈراوے ان لوگوں کو کہے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرسنانے والا نہیں آیا شاید وہ ہدایت پاویں الور حق کی پیرویکریں پھر کہا اللہ وہ ہے کہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ 6 روز میں پھر عرش پر قائم ہوا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة السجدہ
آیت نمبر : 3 ۔ 1
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے ‘ یہی کتاب کریم ہے۔ ان میں ہر وہ چیز موجود ہے ‘ جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ بایں ہمہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیٰ ﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے…
Read the full tafseer →1 قرآن حکیم محض تنزیل خداوندی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سراسر اتاری گئی کتاب ہے۔ یعنی یہاں پر " منزل " نہیں " تنزیل " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ اور بلا غت کا یہ اسلوب مشہور و معروف ہے کہ مصدر کا حمل زور بیان اور مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے " زَیْدٌ عِلْمٌ " یا " زَیْدَ سَخَاوَۃ " یا " زید عدل " یعنی " زید تو نرا علم ہے " یا " زید نری سخاوت ہے " یا " زید عین عدل ہے " وغیرہ۔ سو اسی فرق کو ظاہر اور واضح کرنے کے لئے ہم نے ترجمہ ان الفاظ سے کیا ہے ۔ وا لحمد اللہ ۔ سو یہ کتاب حکیم سراسر کلام خدا وندی اور عین منزل من اللہ ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کا کوئی شائبہ کسی آمیزش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قرآن اللہ کا نازل کیا ہوا پیغام ہے
تشریح : اس بات میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب اللہ رب العالمین کی طرف سے بھیجی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں حکمت اور دانش مندی کی بیشمار باتیں بیان کی گئی ہیں۔ گویا یہ قرآن پاک ایک بک لِٹ ہے کائنات، انسان اور تمام مخلوقات کے بارے میں، جو کچھ اللہ نے اپنی قدرت اور حکمت سے بنائی ہیں۔ تاکہ انسان کو اپنی پیدائش اور تمام مخلوقات کی پیدائش، اصول اور حکمتیں ‘ ضرورتیں ‘ استعمال اور فائدوں کے بارے میں خوب اچھی طرح تفصیلاً سمجھا دیا جائے۔ تاکہ وہ خود اپنے آپ کو پوری کائنات کو خوب اچھی طرح سمجھ جائے اور جب وہ خود کو اور کائنات کو سمجھنے لگے گا تو ان تمام مخلوقات کے بنانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 7 یہ کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے اور نہ یہ جادو کہانت یا پھچلے لوگوں کے من گھڑت افسانے میں جیسا کہ کفار مکہ قرآن کے بارے میں اس قسم کی اٹکل پچو باتیں کہا کرتے تھے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(32:2) تنزیل الکتاب لاریب فیہ من رب العلمین ۔ اس کی ترکیب میں چند اقوال ہیں :۔
(1) تنزیل مصدر (نزل ینزل سے) بمعنی منزل اور یہ خبر ہے مبتدا محذوف کی ای ھذا تنزیل ۔۔ الخ۔
(2) تنزیل مبتدا ہے اور لا ریب فیہ اس کی خبر ہے اور من رب العالمین حال ہے فیہ کی ضمیر کا۔ یا من رب العلمین خبر ہے اور کا ریب فیہ جملہ معترضہ ہے۔
(3) الم : سورة م ہے اس سے پہلے مبتدا (ھذا) محذوف ہے یہ الم اس کی خبر ہے۔ تنزیل الکتاب خبرثانی لا ریب فیہ خبر ثالث۔ اور من رب العلمین خبر رابع ہے۔ وغیرہ ۔۔ وغیرہ ۔۔
تنزیل الکتاب مضاف مضاف الیہ اس کتاب کا نزول۔ فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع جملہ کا مضمون ہے کانہ قیل لا ریب فی ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 3)
تنزیل (آہستہ آہستہ اتارنا) ۔ افتریٰ (اس نے گھڑلیا۔ بنا لیا) ۔ الحق (سچ، سچائی) ۔ تنذر (توڈراتا ہے۔ آگاہ کرتا ہے) ۔ نذیر (ڈرانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” سورة السجدہ کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ ان حروف کے متعلق اس سے پہلی سورتوں میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے۔ یہ حروف آیات متشابھات میں سے ہیں یعنی ان کے معنی اور مراد کا علم اللہ رب العالمین کو ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں۔ “
اس سورت کی ابتداء اس اعلان سے کی گئی ہے کہ یہ وہ کتاب (قرآن مجید) ہے جس کو تمام جہانوں کے پروردگار نے نازل کیا ہے۔ جس کی بنیاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ف 1) قرآن کا ذکر۔
اس آیت میں فرمایا یہ کتاب یعنی قرآن کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غوروفکر کرنے کے بعد کوئی بھی شبہ باقی نہیں رہتا یہ اس کی طرف سے ہے جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے روحانی پرورش سے اسی کا خاصہ ہے اس لیے اس نے دنیا کی شائسگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے خود گواہ ہے آگے فرمایا کہ یہ کافر کہتے ہیں محمد ﷺ نے اس کو اپنے دل سے بنالیا ہے اس کے جواب میں فرماتا ہے یہ انکا گمان بالکل غلط ہے بلکہ یہ قرآن حق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے اترا ہے اب اس کے نازل ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اس لیے نازل کی گئی تاکہ اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں کو ڈراؤ جن کے پاس کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی محمد ﷺ نے۔
[2] ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار سال تک عرب میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا تھا۔
Read the full tafseer →2۔ یہ کتاب یعنی قرآن کریم نازل کیا گیا ہے اور اتارا گیا ہے اس میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ کتاب پروردگار عالم کی طرف سے ہے۔ یعنی یہ کتاب نازل شدہ ہے اور اس کا نزول منجانب اللہ ہے جیسا کہ اس کے اعجاز سے ظاہر ہے اور اس کتاب میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ یعنی شبہ کرنے والوں کا شبہ محض عناد اور دشمنی پر مبنی ہے ترجمہ میں گنجائش کا لفظ اسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا۔
4۔ کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →ال کتاب یعنی قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے :
2۔ اس کتاب کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام ہونے کے لئے یہ شرط لازم ہے کہ اس میں تضاد نام کی کوئی چیز نہیں اور یہی اس بات کی روشن دلیل ہے ۔ غور کرو کہ قرآن کریم ایک دو یا چار چھ دنوں میں نازل نہیں ہوا بلکہ مسلسل 23 سال نازل ہوتا رہا ۔ اس کے زمانہ نزول کے دوران کئی طرح کے حالات بدلتے رہے ، مکی زندگی کے تیرہ سالوں میں بھی حالات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہا اور ہجرت کے بعد تو بالکل ہی حالات مختلف ہوگئے ، مدنی زندگی کے پہلے سالوں اور آخری سالوں میں بھی بہت فرق تھا جب لوگ دین اسلام میں جوق در…
Read the full tafseer →1 Several Surahs of the Qur'an begin with one or the other such introductory sentence, which is meant to declare at the outset wherefrom this discourse is being issued. This is apparently the same sort of an introductory sentence as an announcer speaks in the beginning of a radio programme to tell which radio station he is speaking from. But unlike the ordinary announcement from a radio station, when the extraordinary declaration at the beginning of a Surah is made to the effect that this message is being issued by the Ruler of the Universe, it is not merely meant to specify the origin of the…
Read the full tafseer →