Explained with ayahs 4–6
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا ؟ وہ برابری سے، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی…
Read the full tafseer →سورة السَّجْدَة 6
اب مشرکین کے دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ نبی ﷺ کی دعوت توحید پر کرتے تھے۔ ان کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ نبی ﷺ ان کے دیوتاؤں، اور بزرگوں کی معبودیت سے انکار کرتے ہیں اور ہانکے پکارے یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود کوئی کار ساز، کوئی حاجت روا، کوئی دعائیں سننے والا، اور بگڑی بنانے والا، اور کوئی حاکم ذی اختیار نہیں ہے۔
سورة السَّجْدَة 7
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ص 36۔ 261۔ 262۔ 441۔ 442۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جو ان دونوں کے درمیان میں (موجود) ہے چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے وہ ایسا عظیم ہے کہ) بدون اس (کی رضا و اذن) کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا (البتہ اذن سے شفاعت ہوجائے گی اور نصرت کے ساتھ اذن ہی متعلق نہ ہوگا) سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو (کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا اور) وہ (ایسا ہے کہ) آسمان سے لے کر زمین تک (جتنے امور ہیں) ہر امر کی (وہی) تدبیر (اور انتظام) کرتا ہے، پھر ہر امر اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا…
Read the full tafseer →اللہ الذین خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع افلا تتذکرون (4)
اوپر کی آیت میں اس کتاب کی تنزلی اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کا خاص مقصد انداز بتایا گیا ہے۔ اب یہ اسی کی تفصیل آرہی ہے۔ انداز کا خاص موضوع دو چیزیں ہیں۔ ایک توحید دوسری قیامت قرآن مجید اول تو اس بات سے ڈراتا ہے کہ لوگ غلط سہاروں اور فرضی معبودوں کی شفاعت کی امید پر زندگی نہ گزاریں۔ اس کائنات کا خالق و مدبرتنہا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ سب کو بالآخر اسی کی طرف لوٹنا اور اسی کے آگے جواب دہ ہونا ہے۔ اس وجہ سے اسی کی شکر گزاری اور اسی کی عبادت و اطاعت سب پر واجب ہے۔
دوسرے وہ قیامت سے…
Read the full tafseer →4-1اس کے لئے دیکھئے (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) 7۔ الاعراف :54) کا حاشیہ یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔
4-2یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کرسکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی…
Read the full tafseer →2: استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے اور بیٹھنے کے آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا صحیح مطلب ہماری فہم اور ادراک سے باہر ہے، اس لئے اس کی تفصیلات میں جانے کی نہ ضرورت ہے نہ اس کا کوئی یقینی نتیجہ نکل سکتا ہے، اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ برحق ہے۔
3: اہل عرب بتوں کی پوجا اس عقیدے سے کیا کرتے تھے کہ یہ بت اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کر کے ہماری دنیوی ضروریات پوری کریں گے۔ جیسا کہ سورة یونس : 18 میں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ عقیدہ بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9)
یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔
اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے…
Read the full tafseer →4 اس کا بیان سورة اعراف میں آٹھویں پارہ کے اختتام کے قریب گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
5 یعنی دھیان نہیں کرتے کہ اس کے پیغام اور پیغامبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے۔ تمام زمین و آسمان میں عرش سے فرش تک اللہ کی حکومت ہے۔ اگر پکڑے گئے تو اس کی اجازت و رضاء کے بدون کوئی حمایت اور سفارش کرنے والا بھی نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →آیت 4 اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط
یہاں پر لفظ دُوْنَ مقابلے کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اس کے اس فیصلے کے آڑے نہیں آسکتا۔
Read the full tafseer →4 (اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ ) کی تفسیر کے لئے سورة اعراف آیت نمبر 54 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
5 یعنی جو ہستی اتنی زبردست ہے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لاسکتی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے یہ معبود جنہیں تم اپنا سرپرست اور سفارشی سمجھے بیٹھے ہو تمہارے کس کام آسکتے ہیں۔ کیا تمہیں ایسی موٹی سے بات کی بھی سمجھ نہیں آتی ؟
Read the full tafseer →4۔ یعنی اپنے تصرفات نازل کرنے لگا، اپنے احکام نافذ کرنے لگا۔ (آیت) ” خلق ...... العرش “۔ چھ دن کی مدت خلقت آسمان و زمین پر، نیز استواء علی العرش پر حاشیے (پ 8) سورة الاعراف میں گزر چکے۔
5۔ (کہ ایسی ذات کا شریک کوئی بھی نہیں ہوسکتا) مراد یہ ہے اللہ کے سوا کوئی بھی مستقلا نہ مددگار ہے نہ شافع، جیسا کہ تمام مشرکانہ مذہبوں نے سمجھ رکھا تھا۔ اسلام سے قبل تقریبا تمام مذاہب نے اللہ کے علاوہ مستقلا کچھ حمایتی اور کچھ شفیع ٹھہرا لیے تھے۔ اور جزا وسزا کا تعلق خدائے تعالیٰ سے، بس محض برائے نام ہی رکھا تھا۔ اسلام نے آکر اس کی تردید کی، اور باربار بتلایا کہ حکم نافذ کرنے والا، فیصلہ صادر کرنے والا دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ اَلٓمّٓ اس کی مراد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ یہ کتاب قرآن تمام جہانوں کے پروردگار کیطرف سے نازل کی ہوئی ہے (تنزیل الکتاب) مبتداء ہے (لاشک فیہ) خبر اول ہے (من ربِّ العالمین) خبر ثانی ہے، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ نہیں، (نہیں) بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ اس قوم کو ڈرائیں کہ جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، مانافیہ ہے تاکہ وہ آپ کے ڈرانے سے ہدایت حاصل کریں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں پیدا…
Read the full tafseer →اللہ الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام اللہ وہی تو ہے جس نے آسمان و زمین
اور ان دونوں کے درمیان کی کائنات چھ روز میں پیدا کی۔ اتوار کے دن آغاز تخلیق کیا اور جمعہ کے دن فراغت۔
ثم استوی علی العرش . پھر تخت پر قائم ہوا۔
سورۂ یونس اور سورة اعراف میں اِسْتَوَاء عَلَی الْعَرْشِ کی مکمل تشریح کردی گئی ہے۔
مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع . اس کے بغیر نہ تمہارا کوئی دوست ہوگا ‘ نہ سفارشی۔ یعنی جب تم اللہ کی مرضی کو چھوڑ دو گے اور رضائے الٰہی سے ہٹ جاؤ گے تو ضرورت ‘ مدد کے مقام پر کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ‘ نہ سفارشی۔
افلا تتذکرون . سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟
حرف عطف ہے ‘ اس کا عطف ایک…
Read the full tafseer →اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کو دنیاوی دنوں کے حساب سے ہر ایک دن ان میں سے ایک ہزار سال کے برابر تھا چھ دن میں پیدا کیا کہ اتوار کے روز سے شروع کیا اور جمعہ کے دن تکمیل فرمائی پھر اختیارات نافذ کرنے کے لیے عرش پر قائم ہوا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی عرش پر تھا۔
اے مکہ والو اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ تمہارا کوئی مددگار ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکے اور نہ کوئی سفارشی ہے جو عذاب الہی کے بارے میں تمہاری سفارش کرسکے پھر کیا تم قرآن حکیم کے ذریعے سے نصیحت حاصل کر کے ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ : قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی رسالت کے حق ہونے کے بیان کے بعد اس اہم ترین مسئلے کا ذکر فرمایا جس کی طرف دعوت دینے کے لیے آپ ﷺ کو اور تمام رسولوں کو بھیجا گیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دلائل کا بیان۔ چناچہ فرمایا : ”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو، زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔“ ان دنوں سے مراد معروف دن نہیں، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ان کا وجود ہی نہیں تھا، ہوسکتا ہے وہ دن ہزاروں یا لاکھوں سال کے ہوں۔ دیکھیے سورة اعراف (54) اور حٰم السجدہ (9 تا…
Read the full tafseer →آیت اللہ الذی خلق الخ انہیں اپنی کمال قدرت سے آگاہ کیا تاکہ وہ قرآن کو سنیں اور اس میں غور و فکر کریں۔ خلق کا معنی عدم اور کوئی چیز نہ ہونے کے بعد نئے سرے سے بنانا اور وجود عطا کرنا ہے۔ فی ستۃ ایام اتوار کے دن سے لے کر جمعہ کے دن تک۔
حضرت حسن بصری نے کہا : دنیا کے دنوں سے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان چھ دنوں میں سے ایک دن جس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس کی مقدار دنیا کے سالوں میں سے ہزار سال کے برابر تھا۔ ضحاک نے کہا : چھ ہزار سالوں میں، آخرت کے دنوں میں سے چھ دنوں میں۔
آیت ثم استوی علی العرش اس کی بحث سورة الاعراف، بقرہ وغیرہما میں گزرچکی ہے۔ علماء کا اس بارے میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن المنذر نے ابن جریر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لتنذر قوما تاکہ ڈارئیں قریش کو بتایا کہ قوم سے مرا دقریش ہے ان کی طرف اور ان کے آباء و اجداد کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی رسول نہیں آیا۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ [اللہ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] وَمَا بَيْنَهُمَا [اور اس کو جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ [چھ دنوں میں ] ثُمَّ اسْتَوٰي [پھر وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ ۭ [عرش پر ] مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ [تم لوگوں کے لئے نہیں ہے اس کے سوا ] مِنْ وَّلِيٍّ [کوئی بھی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٍ ۭ [اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ] [اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ : تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قرآن مجید حق ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا
یہاں سے سورة السجدہ شروع ہے، اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے الم تو متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ باقی آیات میں قرآن مجید کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت اور خالقیت بیان فرمائی ہے۔
مشرکین مکہ جو یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود سے بنالیا ہے اس کی تردید فرماتے ہوئے فرمایا (بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے) (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی خلق السموت والارض۔۔۔ الی۔۔۔ قلیلا ما تشکرون۔
(ربط) اب اثبات رسالت کے بعد دلائل توحید بیان کرتے ہیں اللہ ہی ہے وہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دن کی مقدار میں پھر وہ قائم اور جلوہ افروز ہوا عرش پر جو اس کی شان الوہیت ہے امت محمد یہ کے تمام سلف اور خلف کا اس پر اجماع ہے کہ عرش اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے نہیں کیونکہ اللہ رب العزت ازلی ہے اور وہ عرش کے پیدا کرنے سے پہلے سے موجود ہے اور عرش اللہ کا مخلوق ہے عقلا یہ محال ہے کہ کوئی عرش اور تخت اللہ کو اپنے اوپر اٹھا سکے اور تھام سکے اللہ…
Read the full tafseer →4:۔ اللہ الذی الخ یہ دعوی سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سارے نظام عالم کی تدبیر اور عنان اقتدار و تصرف بھی اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے اور نظام کائنات میں تصرف کا کوئی اختیار اس نے کسی کو نہیں دیا۔ استوی علی العرش کی پوری تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 366 و حاشیہ 63 ۔ مالکم من دونہ الخ، یہ سورت کا مقصودی حصہ ہے اللہ تعالیٰ خود ہی سارے عالم میں متصرف و مختار ہے اور اس نے اپنے اختیارات کسی کے سپرد نہیں کر رکھے تو جس طرح اس کے سوا کوئی کارساز نہیں اسی طرح اس کے یہاں کوئی شفیع غالب بھی نہیں جو اس سے کام کرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ناعداد کوائف :
اس سورة کا نام سورة السجدۃ ہے ، اسی نام کی ایک اور سورة سورة م سجدۃ بھی ہے ۔ وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان کے اتصال کے ساتھ کرتے ہیں یعنی وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان سے متصل ہے ۔ اس سورة کا دوسرا نام سورة المضاجع بھی ہے کیونکہ اس میں بستروں کا ذکر بھی آتا ہے کہ اہل ایمان اپنے بستروں کو چھوڑ کر رات کے وقت اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں۔
1 ؎ جوع المعافی ص 411 ج 12 (فیاض)
اس سورة کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں سجدہ تلاوت آتا ہے ۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت تو بہت سی سورتوں میں آتا ہے۔ پھر اس سورة کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کا نام ہی سجدہ کے نام پر رکھ دیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ 0 ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ 0 ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ 4
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
تفسیر : اس سے پہلی سورة میں توحید اور حشر کے دلائل بیان فرمائے تھے اور وہ دو طرف ہیں، اس لیے اس سورة میں امر اوسطہ یعنی اس رسالت کا ذکر کرتا ہے کہ جس پر قرآن کی برہان قائم ہے۔ فقال تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العالمین یہ کتاب یعنی قرآن (کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غور و تامل کے بعد کوئی بھی شبہ نہیں رہتا) رب العالمین کی طرف سے ہے۔ رب العالمین کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے، روحانی پرورش بھی اسی کا خاص حصہ ہے، اس لیے اس نے دنیا کی شائستگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے آپ گواہ ہے، مگر کوڑھ مغزی اور تیرہ باطنی بھی عجب بدبلا ہے،…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَـھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط مَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ شَفِیْعٍ ط اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 4)
(وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، اس کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کروگے۔ )
توحید پر اعتراض کا جواب
نبی کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیے جانے کے بعد اب مشرکینِ مکہ کے اس اعتراض کا جواب دیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش بریں پر مستوی ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر جس طرح اس کی شان ہے عرش معلی پر متمکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ذات نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ان کی تخلیق سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ (ھود : 7) جہاں تک زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمینوں کو…
Read the full tafseer →خالق و مدبر وہی ہے :
4: اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین) وَمَا بَیْنھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دن کے عرصہ میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا) پھر عرش پر استیلاء کیا اس کے احداث کے سبب۔ مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ (تمہارے لئے اس کے سوا) اللہ تعالیٰ کے سوا مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ ( کوئی مددگار اور سفارش کرنے والا نہیں) یعنی جب تم اس کی رضا مندی سے تجاوز کر جائو تو اپنے لئے اس کو مددگار نہ پائو جو تمہاری امداد کرے۔ اور نہ کوئی سفارشی پائو گے جو تمہاری سفارش کرے۔ اَفَلاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3، ام یقولون ، بلکہ وہ کہتے ہیں ، افتراہ ، بعض نے کہا میم صلہ کے لیے ہے کیا یہ جھوٹ گھڑتے ہیں ، استفہام تو بیخ ہے۔ بعض نے کہا ام بمعنی واؤہے وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس میں اضما رہے کیا وہ ایمان لائے ہیں یا وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ پھر فرمایا ، بل ھو، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، الحق من ربک لتنذرقوما ما اتاھم ، یہ رب کی طرف سے اتری ہوئی کتاب ہے یہ خود اس کتاب کو نہیں لائے۔ ، من قبلک قتادہ کا قول ہے کہ وہ امت امی ہے ان کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل بیان ہے یہ فترت کے زمانے کی بات ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان کا زمانہ ہے ۔ ، لعلھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 تا 4۔ آلمہ۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ دیب شک کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے اترنے میں کچھ شک نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ شرک یہ جو کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اس قرآن شریف کو آپ بنالیا ہے۔ یہ ان کا گمان بالکل غلط ہے بلکہ وہ حق ہے پروردگار کی طرف سے اترا ہے تاکہ تو ڈراوے ان لوگوں کو کہے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرسنانے والا نہیں آیا شاید وہ ہدایت پاویں الور حق کی پیرویکریں پھر کہا اللہ وہ ہے کہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ 6 روز میں پھر عرش پر قائم ہوا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آیت نمبر : 4 ۔ 9
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے : (اللہ الذی خلق السموٰت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے مابین چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ “ ان میں سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا ‘ حالانکہ وہ ان آسمانوں اور زمین کو ایک لمحہ میں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ‘ مگر اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ (ثم استوی علی العرش) ” پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ جو کہ تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ یہ عرش پہ مستوی ہونے کی کیفیت ایسی ہے جو اس کے جلال کے لائق ہے۔
(مالکم من دونہ من ولی) ” اس کے سوا تمہارا کوئی دوست نہیں “ جو…
Read the full tafseer →3 بعض آفاقی دلائل کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو چھ دنوں میں۔ اور بعض مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد چھ ادوار ہیں۔ اس سے وہ معروف دن بہرحال مراد نہیں ہوسکتے جو سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے بنتے ہیں۔ کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے قبل یہ معروف دن تو بہرحال موجود نہ تھے۔ پھر چھ دنوں میں کیوں پیدا فرمایا ؟ جبکہ اس کی قدرت " کن فیکون " کی ہے ؟ تو اس کی حکمتوں کو وہی وحدہ لاشریک جانے۔ ہمیں بہرحال اس سے ایک اہم سبق تانی و تدریج کا دیا گیا ہے کہ جب اللہ پاک نے قادر مطلق ہونے کے باوجود اس کائنات کو یکدم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
آسمان و زمین اور انسان کی تخلیق کے دلائل
تشریح : ” آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا چھ دن میں کرنا “ قرآن پاک میں سات دفعہ آیا ہے۔ تفسیر کبیر میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے۔ ” دن صرف زمانہ کو ظاہر کرنے کیلئے بولا گیا ہے۔ ورنہ آسمانوں کے پیدا ہونے سے پہلے نہ رات تھی نہ دن تھا اور یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی کہے میں فلاں دن پیدا ہوا، حالا ن کہ ممکن ہے کہ رات کو پیدا ہوا ہو۔ ایسا کہنے کا مطلب صرف زمانہ ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔ (تفسیر سورة سجدہ) یہاں تخلیق کے چھ دن سے مراد صرف وہ تخلیقی مدت ہے جو آسمانوں اور زمین کے بنانے میں صرف ہوئی۔ اس طرح یہ کہا گیا کہ ” آخرت کا ہر دن ہزار سالوں کے برابر ہے “۔ مطلب صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة السجدہ
آیات 1 تا 11
اسرارومعارف
نزول کتاب ربویت کا تقاضا ہے :
اس کتاب کا نازل ہونا حق ہے یہ کوئی دھوکہ نہیں۔ اللہ رب العزت جو سارے جہانوں کے رب ہیں ان کی ربویت کا تقاضا ہے کہ مخلوق کو جسمانی رزق کے ساتھ اس کی روحانی ضروریات بھی پوری فرمائے لہذا یہ اس کی طرف سے ہے اور اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ سے قبل عربوں کے پاس کوئی نبی نہ آیا تھا :
اگرچہ کفار تو کہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے مگر یہ حق ہے اور ایسی قوم کے لیے کہ جس کے پاس پہلے کوئی نبی یا رسول کفر کے انجام بد سے باخبر کرنے مبعوث نہ ہوا تھا۔
نیز صحابہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں :
نازل…
Read the full tafseer →ف 10 ” چھ دنوں “ سے مراد دنیا کے چھ دن نہیں بلکہ چھ ادوار ہیں یا آخرت کے چھ دن (دیکھیے سورة احراف آیت 74)
1 یعنی ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے۔ بہت سی احادیث اور آثار و اقوال سے بھی اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا ثابت ہے۔ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ سلف کا اس پر اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم اغاثہ میں لکھتے ہیں کہ ارسطو سے پہلے تمام فلاسفہ حدوث عالم کے قائل تھے اور یہ کہ صانع عالم موجود اور تمام مخلوق سے الگ ہے اور اپنی ذات سے آسمانوں اور تمام جہاں کے اوپر ہے۔ الغرض سارے اہل شریعت اور عقلا اسی عقیدہ پر متفق چلے آتے ہیں، صرف معتزلہ نے اس صف کی نفی کی ہے، پھر متاخرین اشاعرہ ان کے تابع ہوئے۔ از حاشیہ جامع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(32:5) یدبرـ دبر یدبر تدبیر (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب التدبیر کے معنی ہیں کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھئے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا۔ جیسے التدبیر کے معنی ہیں کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا۔ جیسے فالمدبرات امرا (79:5) پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہوئے۔ یدبر وہ انتظام کرتا ہے وہ تدبیر کرتا ہے۔ (ہرامر کی)
من السماء الی الارض۔ آسمان سے زمین تک۔ مراد تمام کائنات ہے۔
یعرج مضارع واحد مذکر غائب عرج یعرج عروج (نصر) مصدر سے۔ وہ چڑھتا ہے۔ یا وہ چڑھیگا۔ یا لوٹے گا۔ اس کا فاعل امر ہے یعنی ہر امر آغاز سے انجام تک اپنی تمام روئداد سمیت قیامت کے روز خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔
ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
انسان کی پیدائش کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جوان دونوں کے درمیان میں موجود ہے چھ روز کی مدت میں پیدا کیا یعنی اتوار سے شروع کیا جمعہ کو ختم کیا، اس کے بعد وہ عرش پر جلوہ فرماہوا یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا وہ ایساعظیم ہے کہ سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا ہے کیا تم سمجھتے نہیں کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، اور وہ ایسا ہے کہ آسمان سے لے کر زمین تک جتنے کام ہیں ہر کام کی وہی تدبیر اور انتظام کرتا ہے پھر ہر کام اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ایک ہزار برس کی…
Read the full tafseer →[3] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 26, 25 صفحہ 382۔
Read the full tafseer →مسئلہ استواء
2: ایام سے مراد بارہ گھنٹے کے دن نہیں ہیں ۔ بلکہ لغۃ طویل مدتیں اور فرصتیں مقصود ہیں ۔ جن میں کئی قرنوں اور صدیوں کی سمائی ہوسکتی ہے ۔ غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک دم پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ بتدریج پیدا کیا ہے ۔ جس میں کئی قرن صرف ہوئے ہیں ۔ اور اس ساری مدت کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ استوا علی العرش کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے ۔ کہ پہلے اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیا جائے ۔ کہ خدا کی تنزیہ ہر لحاظ سے مقدم ہے ۔ اور اصل عقیدہ ہے سلف سے لے کر خلف تک سب کا ایمان ہے ۔ کہ ہمارا خدا زمان ومکان کی قیود سے بےنیاز ہے ۔ اس کا تعلق کائنات سے قومیت کا ہے ۔…
Read the full tafseer →4۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم و جلوہ گر ہوا سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی کار ساز ہے اور نہ کوئی سفارش کرنیوالا سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سوچتے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جس نے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے مابین جو کچھ ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں بنایا اور پیدا کیا اور یہ مقدار بھی شاید یہ بات ظاہر کرنے کے لئے رکھی کہ کاموں میں تاخیر بہتر ہے تعجیل سے ورنہ وہاں تو ایک کن میں بلکہ صرف ارادہ اور اس کے تعلق سے ہی پیدا ہوسکتے تھے۔ مابین سے بعض لوگوں نے ابر اور ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 3۔ یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا۔
4۔ کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ ادوار میں پیدا کیا :
4۔ زیر نظر آیت کریمہ کے مضمون کو اس سے پہلے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر بیان کیا گیا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 54 جلد چہارم سورة یونس کی آیت 3 ‘ سورة ہود کی آیت 5 ‘ جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 59 میں کردی ہے اس مضمون کے بار بار بیان کرنے کی ضرورت اس طرح ہوئی کہ مشرکین اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اپنے مزعومہ ولیوں اور دوستوں اور بزرگوں کے بت بنا کر ان کی شبیہوں کو سامنے رکھ کر عبادت کرتے تاکہ ان بزرگوں کی یاد تازہ رہے ان کے سامنے اپنی حاجت پیش کرتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
Commentary
At this place, the word: نَّذِيرٍ (nadhir: warner) in: مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ (to whom no warner has come.. -3)means a rasul or messenger.The sense is that no messenger had appeared amidst the Quraish of Makkah before the Holy Prophet t. This does not mean that the call of the messengers had just not reached them until that time, because it was clearly said in another verse of the Qur'an: وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (And there was no community without a warner having passed among them - 35:24). In this verse, (i.e. the verse 35:24) the word: نَّذِيرٍ…
Read the full tafseer →6 Now the second objection of the mushriks which they raised against the Holy Prophet's message of Tauhid, is being dealt with: They were severely critical of him because he rejected their gods and saints and openly invited the people to the creed that there is no helper, no fulfiller of needs except Allah and no answerer of prayers, no remover of ills and no sovereign other than Him.
7 For explanation, see E.N. 41 of Al-A'raf, E.N. 4 of Yunus and E.N. 3 of Ar-Ra'd.
8 That is, "Your real God is the Creator of the heavens and earth. But you in your folly have set up others than Him as your…
Read the full tafseer →