As-Sajda 32:29

As-Sajda · from ayah 29

32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَلَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ۟قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "On the Day of Conquest the belief of those who had disbelieved will not benefit them, nor will they be reprieved."

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah As-Sajda

All translations of 32:29

ان سے کہو "فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : جس دن فیصلہ ہوگا اس دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں: فیصلہ کے دن نہ کافروں کو ان کا ایمان فائدہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے فیصلے کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا نہ ان کا ایمان لانا نفع دے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : جب فیصلہ کا دن ہوگا تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے انھیں فیصلہ کے دن ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انھیں کچھ مہلت دی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ فیصلہ کے دن ان لوگوں کا ایمان نفع نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ان کو اس کے بعد مہلت ہی دی جائے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ فیصلے کے اس دن نہ تو کافروں کو انکا (اس وقت کا) ایمان کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی ان کو (اس کے بعد) کسی طرح کی کوئی مہلت مل سکے گی

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے (اس) فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا (ذرا بھی) نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ہی (اس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: “If the unbelievers were to believe on the Day of Judgement that will not avail them. For then they will be granted no respite.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :On the day of decision their belief will not be of any use to disbelievers, nor shall they be given any respite.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :On the day of decision their belief will not be of any use to disbelievers, nor shall they be given any respite.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "On the Day of Al-Fath, no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them): On the day of the victory the faith of those who disbelieve (and who then will believe) will not avail them, neither will they be reprieved.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "On the Day of Conquest the belief of those who had disbelieved will not benefit them, nor will they be reprieved."

— Saheeh International

Say, "On the day of the final triumph, the faith of the disbelievers will be of no avail to them, nor will they be given any respite".

— Muhammad Sarwar

Say: On the day of judgment the faith of those who (now) disbelieve will not profit them, nor will they be respited.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: on the day of the Decision their belief will not profit those who have disbelieved; nor will they be respited.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "On the Day of Decision, no profit will it be to Unbelievers if they (then) believe! nor will they be granted a respite."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 32:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–30

نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة السَّجْدَة 42 یعنی یہ کونسی ایسی چیز ہے جس کے لیے تم بےچین ہوتے ہو۔ خدا کا عذاب آگیا تو پھر سنبھلنے کا موقع تم کو نصیب نہ ہوگا۔ اس مہلت کو غنیمت جانو جو عذاب آنے سے پہلے تم کو ملی ہوئی ہے۔ عذاب سامنے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–30

اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا(آیت) قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانہم، ”یعنی آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے تم ہماری فتح کا دن ہم سے کیا پوچھتے ہو وہ دن تو تمہاری مصیبت کا ہوگا کیونکہ جس وقت ہماری فتح ہوگی تو اس وقت تم عذاب میں گرفتار ہوچکے ہو گے، خواہ دنیا میں جیسے غزوہ بدر میں ہوا یا آخرت میں۔ اور جب اللہ کا عذاب کسی کو پکڑ لیتا ہے پھر اس کا ایمان قبول نہیں ہوتا۔ کذا ذکرہ ابن کثیر۔ اور بعض حضرات نے اس جگہ متیٰ ھذا الفتح کے معنی روز قیامت کے کئے ہیں۔ اوپر خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ولا ھم ینظرون (29) یہ ان کے مطالبے کا جواب ہے کہ اگر وہ فیصلہ کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتا دو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے لئے کچھ نافع نہیں ہوگا اور اس کے بعد کسی کو اس بات کی مہلت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ توبہ و اصلاح کرکے تلافیٔ مافات کرسکے۔ ’ یوم الفتح ‘ سے مراد فیصلہ کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے آگاہ کیا ہے۔ ایک قیامت کے عذاب سے، دوسرے اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر فیصلہ کن عذاب کی شکل میں آتا ہے۔ اوپر جو سنت الٰہی بیان ہوئی ہے وہ ان دونوں ہی صورتوں میں قوم پر فیصلہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29-1یوم الفتح سے مراد آخرت کا فیصلے کا دن، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کے دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن طلقاء کا اسلام قبول کرلیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی (ابن کثیر) طلقاء سے مراد وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی ﷺ نے فتح مکہ والے دن سزا و تعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کردیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چناچہ ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–30

12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 29–30

فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔ اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ابھی موقع ہے کہ اللہ و رسول کے کہنے پر یقین کرو اور اس دن سے بچنے کی تیاری کرلو ورنہ اس کے پہنچ جانے پر نہ ایمان لانا کام دے گا نہ سزا میں ڈھیل ہوگی اور نہ مہلت ملے گی کہ آئندہ چال چلن درست کر کے حاضر ہوجاؤ اس وقت کی مہلت کو غنیمت سمجھو۔ استہزاء و تکذیب میں رائیگاں مت کرو جو گھڑی آنے والی ہے یقینا آکر رہے گی، کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ پھر یہ کہنا فضول ہے کہ کب آئے گی اور کب فیصلہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِیْمَانُہُمْ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان لانے کا فائدہ انہیں تبھی ہوگا اگر وہ اپنی دنیوی زندگی کے دوران ایمان لائیں گے ‘ جبکہ آخرت کے تمام حقائق پردۂ غیب میں چھپے ہوئے ہیں ‘ لیکن جب یہ لوگ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ان کا ایمان لانا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔ وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ آج انہیں جو مہلت ملی ہے اس میں اگر وہ توبہ کرلیں تو یہ ان کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔ لیکن موت کے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ مہلت ختم ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–29

30 یعنی کافروں کا ہمیشہ یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ جو ہم پر عذاب کا وعدہ دیا جاتا ہے یا ایمان لانے والوں کے لئے مدد اور فتح و نصرت کی نوید سنائی جاتی ہے تو ایسے وعدے کا کوئی معین وقت بتلا دیا جائے۔ اور یہ معین وقت بتلا دینا ہی حکمت الٰہی کے خلاف ہوتا ہے۔ لہذا ایسے سوال کے جواب میں کفار کی توجہ اس کے دوسرے پہلوؤں کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے جن پر عمل کی بنیاد اٹھتی ہو۔ اور یہی قرآن کا حقیقی مقصد ہوتا ہے۔ یہاں بھی اس سوال کا جواب اسی انداز میں دیا گیا ہے کہ تم اسی مہلت کو غنیمت سمجھو جو اس وقت تمہیں حاصل ہے۔ کیونکہ وہ فیصلہ کا دن آگیا تو اس وقت نہ تمہارا اسلام لانا کچھ فائدہ دے سکتا ہے اور نہ مزید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ ایمان مقبول ونافع صرف وہی ہے جو اس دنیا میں عالم ناسوت میں لایا جائے کہ یہ خود اختیاری ہے، ورنہ قیامت کے دن کشف حقائق کے وقت تو ایمان لانے پر بڑے سے بڑا کافر معاند بھی مجبور ومضطر ہوجائے گا۔ (آیت) ” ولا ھم ینظرون “۔ یعنی نہ انہیں اس کی مہلت دی جائے گی کہ دنیا میں بھیج کر ان کا ایمان قبول کیا جائے۔ لایمھلون بالاعادۃ الی الدنیا لیؤمنوا (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانھم . اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ جنہوں نے (ساری زندگی) کفر کیا ان کو فتح کے دین ایمان لے آنا مفید نہ ہوگا۔ اس آیت سے بظاہر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یَوْمَ الْفَتْحِ سے مراد ہے قیامت کا دن کیونکہ قیامت ہی کے دن کافروں کا ایمان لانا مفید نہیں ہوگا۔ جو علماء کہتے ہیں کہ یوم الفتح سے مراد فتح مکہ کا یا جنگ بدر کا دن ہے۔ انہوں نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جو لوگ کفر کی حالت میں مرگئے یا مارے گئے تو مرنے کے بعد جب ان کے سامنے عذاب آئے گا تو اس وقت ایمان لانے اور مان لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ولا ھم ینظرون . اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ سوال تھا یوم الفتح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو اس پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ان سے فرما دجیے کہ فتح مکہ کا دن وہ دن ہے کہ جس دن بنی خزیمہ کا ایمان لانا ان کو قتل سے نہیں بچا سکے گا اور ان کو قتل سے مہلت دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِيْمَانُهُمْ۔۔ : یعنی تمہارے اس سوال سے تمہیں کچھ حاصل نہیں، تم اس مہلت کو غنیمت سمجھو جو اس وقت تمہیں حاصل ہے۔ کیونکہ فیصلے کا وہ دن آگیا تو آنکھوں دیکھی حقیقت پا کر نہ تمہارا ایمان لانا تمہیں کچھ فائدہ دے گا اور نہ مزید مہلت ملے گی۔ دیکھیے سورة مومن (84، 85)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–29

آیت ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین، متی محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ظرف ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہو۔ قتادہ نے کہا : فتح کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔ فراء اور قتبی نے کہا : مراد فتح مکہ ہے۔ ان سب سے اولی وہ ہے جو مجاہد نے کہا، یعنی یوم قیامت۔ یہ روایت بھی بیان کی گئی ہے کہ مومنوں نے کہا : عنقریب اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمائے گا، اللہ تعالیٰ محسن کو بدلہ عطا فرمائے گا اور گناہ گار کو سزادے گا۔ کفار نے بطور مذاق کہا : یوم فتح کب ہوگا ؟ یعنی یہ حکم کب ہوگا ؟ حکم کو فاتح اور مفتاح بھی کہتے ہیں کیونکہ اشیاء اس کے ہاتھ پر کھل جاتی ہیں اور جدا ہوجاتی ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے : آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمارے لیے ایک دن ایسا آئے گا کہ عنقریب ہم اس میں آرام پائیں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے تو مشرکوں نے کہا آیت متی ہذا الفتح ان کنتم صدقین یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو۔ 2۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل ابن عباس ؓ آیت ویقولون متی ہذا لفتح ان کنتم صدقین کے بارے میں فرمایا یہ بدر کا دن ہے جس میں نبی ﷺ نے فتح مکہ آیت لا ینفع الذین کفرو ایمانہم یعنی کافروں کو ان کا ایمان نے کچھ نفع نہیں دیا موت کے بعد۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یوم الفتح…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] يَوْمَ الْفَتْحِ [فیصلے کے دن ] لَا يَنْفَعُ [نفع نہیں دے گا ] الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا [ان کو جنہوں نے کفر کیا ] اِيْمَانُهُمْ [ان کا ایمان ] وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ : [اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

(فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (سو آپ ان سے اعراض فرمائیے) ان کی تکذیب اور استہزاء کا وبال انہی پر پڑے گا، ان کا سمجھنے کا ارادہ نہیں ہے اور افہام و تفہیم بھی ان کے حق میں مفید نہیں۔ (وَانْتَظِرْ اِنَّھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ) (آپ انتظار کیجیے وہ بھی انتظار کر رہے ہیں) آپ ہماری مدد کے منتظر رہیں وہ غیر شعوری طور پر عذاب کے منتظر ہیں۔ ولقد تم تفسیر سورة السجدۃ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ للیلۃ الثانی عشر من شھر شعبان المعظم من شھور السنۃ السادس عشرۃ بعد الف والربع ماء ۃ سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–30

رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔ (ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ قل یوم الخ یہ جواب شکوی اور تخویف ہے ان استہزاء کرنے والوں سے کہہد یجئے کہ عجلت سے کام نہ لو۔ بلکہ صبر کرو جب قیامت کا دن آجائے گا اس دن تم دنیا میں ایمان نہ لانے اور اعمال صالحہ بجا نہ لانے پر حسرت و ندامت کا اظہار کروگے اور اب جن حقائق کا انکار کر رہے ہو قیامت کے دن ان کی سچائی کا تمہیں خود بخود یقین ہوجائے گا۔ مگر اس ایمان اور یقین سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور انہیں جہنم میں داخل کردیا جائیگا۔ اور ذرا مہلت نہ دی جائیگی (لاینظرون) لا یمہلون لیتوبوا و یعتذروا (معالم و خازن جلد 5 ص 189) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

ربط آیات : گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ تھا کہ کیا کافروں اور مشرکوں پہ یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا جن کی رہائش گاہوں میں آج یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ ان واقعات میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کے واقعات تاریخ میں محفوظ اور زبان زد عام تھے۔ جنہیں سن کر عبرت حاصل کی جاسکتی ہے مگر یہ لوگ تو ایسے عبرتناک واقعات سننے سے بھی عاری ہیں ، انہیں اس کا کیا اثر ہوگا ؟ تاریخی واقعات کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے پہلی آیت میں سننے کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیت میں مشاہداتی دلیل کا تذکرہ کر کے ٭ میں فرمایا ہے کہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِيْمَانُہُمْ وَلَا ہُمْ يُنْظَرُوْنَ۝ 29 نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( نع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–30

اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لاَ یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِیْمَانُھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 29) (کہہ دیجیے ! کہ فیصلہ کے دن ان لوگوں کو ایمان نفع نہیں دے گا جنھوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ان کو اس کے بعد مہلت دی جائے گی۔ ) آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ یہ لوگ بار بار فتح اور فیصلے کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں شاید معلوم نہیں کہ فیصلہ حق کے غلبے اور کفر و شرک کی مکمل ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے اور کفر اپنی زندگی میں کبھی ناکامی قبول نہیں کرتا۔ اس لیے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلے کے دن کا اس طرح مطالبہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فیصلے کا دن : 29: قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ (کہہ دیجئے فیصلہ کا دن) یہاں قیامت کا دن مراد ہے۔ وہی حقیقت میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے مابین فیصلہ کا دن ہوگا۔ اور اس دن مسلمانوں کو کافروں پر مکمل کامیابی ملے گی۔ نمبر 2۔ یوم بدر۔ نمبر 3۔ فتح مکہ کا دن۔ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِیْمَانُہُمْ وَلَا ھُمْ یُنظَرُوْنَ (کافروں کو ان کا ایمان فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی) ۔ ایک سوال : یہ کلام ان کے سوال کا بظاہر درست جواب نہیں بنتا ؟ حل : جواب میں ان کی جو غرض معروف تھی۔ اس کا لحاظ کر کے جواب دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے سوال کی غرض فیصلہ کا وقت تھا۔ اور وہ بطور استہزاء و تکذیب کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29، قل یوم الفتح ، قیامت کے دن، لا ینفع الذین کفروا ایمانھم ، جن حضرات نے اس کو فتح مکہ پر محمول کیا اور بدر کے دن پر ان کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس وقت ایمان نفع نہیں دے گا جب ان پر عذاب آجائے اور وہ قتل ہوجائیں گے۔ ، ولاھم ینظرون، ان کو اس وقت کوئی مہلت نہیں دی جائے گی تا کہ توبہ کرسکیں اور نہ ہی عذر کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–30

29‘ 30۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر سدی وغیرہ میں قتادہ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 179 ج 5۔ ) اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کے جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤتو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بعضے مفسروں نے اس فتح سے فتح بدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–30

آیت نمبر : 30 ۔ 28 یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ (ویقولون متی ھذا الفتح) ” اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ “ جو ہمارے اور تمہاری درمیان فیصلہ کردے اور تمہارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کردے (ان کنتم صدقین) اے رسول ! اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو (قل یوم الفتح) ” کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن “ یعنی جس روز تمہیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمہیں ایمان حاصل ہوجائے تو تمہیں مہلت کا ملنا ممکن ہے تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کرلو کیونکہ یقینی طور پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–30

مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

48 فیصلے کے دن کا ماننا کچھ کام نہیں آئے گا : اس لئے اس کا وقت پوچھنے کی بجائے زندگی کی اس محدود فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرو کہ اس کے آچکنے کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔ سو اس ارشاد ربانی سے ان کے مطالبہ عذاب کا جواب دیا گیا کہ اگر یہ لوگ فیصلے کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتادو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت دی جائیگی کہ وہ توبہ و اصلاح کے ذریعے تلافی مافات کرسکے۔ " یوم الفتح " سے مراد فیصلے کا دن ہے اور اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–30

بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارو معارف اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔ فی مریۃ من لقائہ : اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی جب وہ دن آئے گا اس وقت اگر تم اسے آنکھوں دیکھی حقیقت پاکر ایمان لے آئو تو تمہارا ایمان معتبر نہ ہوگا اور نہ تمہیں ایمان لانے کے لیے کوئی مہلت دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(32:29) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ یوم الفتح۔ مضاف مضاف الیہ۔ فیصلہ کا دن۔ یوم القیامۃ۔ ولاہم ینظرون۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ لا ینفع ۔۔ پر ہے۔ لاینظرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے نظر ینظر (باب نصر) نضر سے۔ ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ مہلت اس مار کہ دینا میں بھیج کر ان کا ایمان قبول کیا جائے۔ ای لایمہلون بالاعادۃٰ الی الدنیا لیؤمنوا۔ فائدہ : یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے سوال تو یہ کیا کہ یہ فیصلہ کا دن جس کا تم دعوی کرتے ہو کب آئے گا ؟ اس کا جواب میں فیصلہ کی نوعیت بیان کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد جلد بازی دکھانا اور استہزاء کرنا تھا۔ سو اس کے مقصد کے مد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–30

لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔ مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔ تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔ اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–30

(ف 1) اے محبوب ﷺ آپ ان منکرین حشر سے کنارہ کرلیں کچھ بحث نہ کریں اور ان کی عقلی حجتوں کا کچھ خیال نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اس دن کا انتظار کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کا انتطار کرنا چاہے، وقت مقررہ پر وہ دن سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا فرمایا کہ جس طرح ہر ایک آدمی کی عمر کی مدت مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[29] یعنی روز قیامت۔ [30] یعنی توبہ کرنے یا دنیا میں انھیں واپس بھیج کر نیک عمل کرنے کی مہلت نہ دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

ف 1: مکہ والے چونکہ قیامت کے منکر تھے ۔ اس لئے وہ ازراہ طنز حضور ﷺ سے پوچھتے تھے ۔ کہ قیامت کب آئیگی فیصہ کا دن کس وقت آئے گا ؟ قرآن کہتا ہے کہ وہ جب بھی آئے گا ۔ آئے گا ۔ مگر تم یاد رکھو کہ اس وقت کا ایمان سود مندنہ ہوگا ۔ اور نہ اس وقت تمہیں پھر دوبارہ مہلت دی جائینگی کہ دنیا میں جاؤ۔ اور اپنے اعمال سنوار لو ۔ وہ مکافات کا دن ہے ۔ اس وقت اعمال منقطع ہوجائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

29۔ آپ فرما دیجئے کہ اس آخری فیصلے کے دن منکروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ وہ مہلت ہی دیئے جائیں گے یعنی اس دن کے آنے کی جلدی نہ کروجب وہ دن آ جئے گا تو اس دن کسی منکر ایمان کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائیگی چونکہ وہ لوگ عذاب میں تعجیل کرتے تھے اور عذاب کا مذاق اڑاتے تھے اس لئے اس قسم کے سوال کی جو غرض تھی اس کے مطابق جواب دیا گیا چونکہ مفسرین کے تین قول تھے ہم نے ہر ایک کی رعایت سے ترجمہ کیا ہے اور تیسیر میں رعایت رکھی ہے۔ قیامت کا دن ، فتح مکہ کا دن ، بدر کی لڑائی کا دن ، عذاب کو دیکھ کر اور قتل کے وقت ایمان لانا معتبر نہیں ۔ کمانی المدارک ، مطلب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–30

ف 9۔ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فتح کا دن آیا تو اس کے بعد کافروں کے لئے گویا جو مہلت تھی وہ ختم ہوگئی : 29۔ فتح سے مراد قیامت کا دن ہی ہے تو بھی تم لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ دن آنے کے بعد اگر کافر ایمان لائیں گے بھی تو وہ ایمان ان کے کام نہیں آئے گا کیونکہ کام آنے والے ایمان کا وقت ہی نکل چکا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جب گاڑی اسٹیشن سے چھوٹ جائے تو اس کے بعد وہاں پہنچنا کس کام کا ۔ پھر یہاں تو وہ گاڑی زیر بحث ہے جو دو تین یا چار چھ گھنٹے کے بعد اور آجائے گی لکن زندگی کی گاڑی تو ایسی گاڑی ہے کہ اس کے ایک بار چھوٹ جانے کے بعد دوبارہ اس زندگی میں آنا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے اور اب نہ تو نکلا ہوا وقت واپس آسکتا ہے اور نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

To answer that, Allah Ta'ala said: قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِيمَانُهُمْ (Say, 'On the day of decision their belief will not be of any use to disbelievers,'-29) This amounts to saying: Why are you asking us about the day of our victory while that day is going to be a day of trouble for you? When victory comes to us, you would have already been overtaken by punishment. May be, right here in this world - as it happened in the battle of Badr - or, in the Hereafter. And when the punishment of Allah seizes someone, then, no profession of faith at that time, no…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

42 That is, "It is not a thing for which you should feel so impatient and restless. When the torment of Allah comes, you will get no time to mend your ways. Make the best of the time which is available before the coming of the torment. If you will believe only when you see the torment, it will not avail you anything then."

Read the full tafseer →