Explained with ayahs 28–30
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے
کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة السَّجْدَة 42
یعنی یہ کونسی ایسی چیز ہے جس کے لیے تم بےچین ہوتے ہو۔ خدا کا عذاب آگیا تو پھر سنبھلنے کا موقع تم کو نصیب نہ ہوگا۔ اس مہلت کو غنیمت جانو جو عذاب آنے سے پہلے تم کو ملی ہوئی ہے۔ عذاب سامنے دیکھ کر ایمان لاؤ گے تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا(آیت) قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانہم، ”یعنی آپ ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے تم ہماری فتح کا دن ہم سے کیا پوچھتے ہو وہ دن تو تمہاری مصیبت کا ہوگا کیونکہ جس وقت ہماری فتح ہوگی تو اس وقت تم عذاب میں گرفتار ہوچکے ہو گے، خواہ دنیا میں جیسے غزوہ بدر میں ہوا یا آخرت میں۔ اور جب اللہ کا عذاب کسی کو پکڑ لیتا ہے پھر اس کا ایمان قبول نہیں ہوتا۔ کذا ذکرہ ابن کثیر۔
اور بعض حضرات نے اس جگہ متیٰ ھذا الفتح کے معنی روز قیامت کے کئے ہیں۔ اوپر خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Read the full tafseer →فاعرض عنھم وانتظر انھم منتظرون (30)
یہ آخر میں نبی ﷺ کو ہدایت ہے کہ اگر یہ لوگ فیصلہ کا دن دیکھنے ہی کے لئے مچلے ہوئے ہیں تو اب ان سے کوئی مزید بحث و گفتگو بالکل بےسود ہے۔ اب ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اور تم بھی اسی فیصلہ کے دن کا انتظار کرو جس کے یہ منتظر ہیں۔ اللہ نے جتنی مہلت ان کے لئے مقدر کی ہے اس کے پورے ہوجانے کے بعد یہ گھڑی آجائے گی۔ ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فللہ الحمد والمنۃ۔
ہفتہ، 9 بجے دن، 17 اگست، 1974ء، رحمان آباد۔
Read the full tafseer →30-1یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا " اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو واعرض عن المشرکین " آپ خود اس طریقت پر چلتے ہیں رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔
30-2یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے ؟ یقینا وہ پورا ہو کر رہے گا۔
30-3یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہوجائے اور اس کی دعوت ختم ہوجائے۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فاعرض ھم وانتظر انھم منتظرون (32: 30) ” “۔ اس فقرے کی تہ میں دراصل بالواسطہ ایک دھمکی چھپی ہوئی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ دامن جھاڑ لیں اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں تو انجام معلوم ہے۔
اس آخری ضرب پر یہ سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس میں طویل مطالعاتی سفر ہے ، اشارات و ہدایات ہیں اور قسم قسم کے مشاہدات اور دلائل دئیے گئے ہیں اور قلب انسانی کو ہر پہلو سے متاثر کرنے کی سعی کی گئی ہے اور ہر راستے سے اس کو کھینچ کر ہدایت کی طرف لانے کے لیے حملہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →9 یعنی جو ایسے بےفکرے اور بےحس ہیں کہ باوجود انتہائی مجرم اور مستوجب سزا ہونے کے فیصلہ اور سزا کے دن کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے راہ راست پر آنے کی کیا توقع ہے۔ لہذا آپ فرض دعوت و تبلیغ ادا کرنے کے بعد ان کا خیال چھوڑیے اور ان کی تباہی کے منتظر رہیے جیسے وہ اپنے زعم میں معاذاللہ آپ کی تباہی کے منظر ہیں۔ تم سورة السجدہ وللہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 30 فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّہُمْ مُّنْتََََظِرُوْنَ ۔
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیم
Read the full tafseer →31 آپ ان سے الجھنا اور بحث کرنا چھوڑ دیجئے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس بات کے منتظر رہئے کہ کب اللہ کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور وہ انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا اور وہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ تم اور تمہاری یہ چھوٹی اور کمزور سی جماعت کب گردش ایام کا شکار ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →35۔ اعراض۔ کا حکم رسول اللہ کے تسلیہ کے لئے ہے۔ منکروں اور کافروں کی دل آزار باتوں کا خیال کرتے رہنے سے خواہ مخواہ غم ہی بڑھتا تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو لوگ عارفین اور سالکین کے کمالات کے منکر ہوں، اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہوں، جب انہیں فہمائش نافع نہ ہو تو ان سے اعراض مناسب ہے، اور انتظار کرے کہ ان پر وبال نازل ہونے والا ہے :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی سو آپ کو ان کی ملاقات کے بارے میں ہرگز شک نہ کرنا چاہیے اور ان
دونوں حضرات کی ملاقات لیلۃ الاسراء میں ہوئی اور ہم نے ان کو یعنی موسیٰ یا کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما بنایا اور جب ان لوگوں نے اپنے دین پر (قائم رہنے) اور اپنے دشمنوں کی جانب سے ایذاؤں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے (ائمۃ) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور ثانی ہمزہ کو ی سے بدل کر بمعنی پیشوا اور ان آیات پر ایمان رکھتے تھے جو ہماری قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور (لَمَّا) ایک قراءت…
Read the full tafseer →فاعرض عنھم . (جب ان کا حال اور مآل آپ کو معلوم ہوگیا) تو اب ان کی پرواہ نہ کیجئے (اور ان کی تکذیب کا کوئی خیال نہ رکھئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ جملہ منسوخ ہے ‘ آیت قتال سے اس کا حکم منسوخ کردیا۔
وانتظر انھم منتظرون اور (جس فتح کا ہم نے وعدہ کیا ہے اس کا) انتظار کیجئے ‘ وہ بھی (اس بات کے) منتظر ہیں
(کہ آپ حوادث زمانہ اور مصائب میں مبتلا ہوجائیں) ۔ بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہمارے عذاب کا آپ انتظار کیجئے ‘ وہ بھی عذاب ہی کے منتظر ہیں۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ فجر کی نماز میں رسول اللہ اآآ تَنْزِیْل اور ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَان پڑھتے تھے۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →سو اے نبی کریم ﷺ آپ بنی خزیمہ کی باتوں کا خیال نہ کیجیے اور آپ فتح مکہ کے دن ان کی ہلاکت کے منتظر رہیے یہ بھی انتظار ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے دن ان لوگوں کو ہلاک کردیا۔ تمت بالخیر
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانْتَظِرْ : جو لوگ قیامت کا انکار محض اس لیے کر رہے ہیں کہ انھیں اس کا وقت نہیں بتایا گیا، انھیں سمجھانا بےسود ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انتظار کریں کہ اللہ کا وعدہ کب پورا ہوتا ہے، جو ہر حال میں پورا ہو کر رہنے والا ہے۔
اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ : یقیناً وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں کہ آپ اور آپ کی یہ چھوٹی سی جماعت کب زمانے کی کسی گردش کا شکار ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (98) اور سورة طور میں فرمایا : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ) [ الطور : 30، 31 ] ”یا وہ کہتے…
Read the full tafseer →آیت فاعرض عنھم ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے ان کی بیوقوفی سے اعراض کیجئے اور انہیں جواب نہ دے دیجئے مگر جس چیز کا حکم دیا گیا۔ آیت وانتظر انھم منتظرون یوم فتح کا انتظار کیجئے جس روز اللہ تعالیٰ ان کا خلاف تمہارے حق میں فیصلہ فرمائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش مکہ میں سے مشرکوں سے اعراض کیجئے۔ آیت سیف کے ساتھ یہ منسوخ ہے جو سورت براءت میں ہے : آیت فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم (توبہ : 5)
آیت وانتظر میرا جو تجھ سے وعدہ ہے اس کا انتظار کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد یوم بدر ہے۔ آیت انھم منتظرون وہ تمہارے بارے میں حادثات زمانہ کا انتظار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمارے لیے ایک دن ایسا آئے گا کہ عنقریب ہم اس میں آرام پائیں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے تو مشرکوں نے کہا آیت متی ہذا الفتح ان کنتم صدقین یہ فتح کب ہوگی اگر تم سچے ہو۔
2۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل ابن عباس ؓ آیت ویقولون متی ہذا لفتح ان کنتم صدقین کے بارے میں فرمایا یہ بدر کا دن ہے جس میں نبی ﷺ نے فتح مکہ آیت لا ینفع الذین کفرو ایمانہم یعنی کافروں کو ان کا ایمان نے کچھ نفع نہیں دیا موت کے بعد۔
3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قل یوم الفتح…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ [پس آپ ﷺ اعراض کریں ان سے ] وَانْتَظِرْ [اور آپ ﷺ انتظار کریں ] اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ (بھی)] مُّنْتَظِرُوْنَ [انتظار کرنے والے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (سو آپ ان سے اعراض فرمائیے) ان کی تکذیب اور استہزاء کا وبال انہی پر پڑے گا، ان کا سمجھنے کا ارادہ نہیں ہے اور افہام و تفہیم بھی ان کے حق میں مفید نہیں۔ (وَانْتَظِرْ اِنَّھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ) (آپ انتظار کیجیے وہ بھی انتظار کر رہے ہیں) آپ ہماری مدد کے منتظر رہیں وہ غیر شعوری طور پر عذاب کے منتظر ہیں۔
ولقد تم تفسیر سورة السجدۃ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ للیلۃ الثانی عشر
من شھر شعبان المعظم من شھور السنۃ السادس عشرۃ بعد الف والربع ماء ۃ
سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
رجوع بہ مضمون رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید مکذبین ومعاندین
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ وانتظر انہم منتظرون۔
(ربط) شروع سورت میں رسالت اور توحید اور بعث بعد الموت کا ذکر تھا اب اخیر سورت میں پھر مضمون رسالت کی طرف رجوع فرماتے ہیں جس کا شروع سورت لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک میں ذکر تھا اور آپ ﷺ کی تسلی کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر کرتے ہیں کہ باوجود واضح اور روشن کتاب ہونے کے مجرمین نے کس طرح اس سے اعراض کیا اور کس کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذائیں پہنچائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر صبر کیا آپ ﷺ کا حال ان کے مشابہ ہے آپ ﷺ صبر کیجئے اور ان کے…
Read the full tafseer →28:۔ فاعرض الخ، آپ ان سے اعراض فرمائیں اور ان کے انکار و استہزاء کی پروا نہ کریں اور اللہ کی مدد ونصرت اور اعداء دین کی ہلاکت کا وقت قریب ہے۔ آپ میرے وعدے کا انتظار کریں۔ مشرکین بھی اس انتظار اور آرزو میں ہیں مسلمان حوادث زمان اور مصائب دہر سے نیست و نابود ہوجائیں گے (وانتظر) ای موعدی لک (انھم منتظرون) ای ینتظرون بکم حوادث الزمان (قرطبی ج 14 ص 112) ۔ آخر جنگ بدر میں اللہ کا وعدہ نصرت پورا ہوا۔ کلمہ اسلام بلند ہوا۔ اور مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی۔ اور ان کے مقابلے میں کفر سرنگوں ہوا۔ مشرکین خائب و خاسر ہوئے۔ اور ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ فالحمد للہ علی ذلک حمدا کثیرا۔
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ تھا کہ کیا کافروں اور مشرکوں پہ یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا جن کی رہائش گاہوں میں آج یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ ان واقعات میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کے واقعات تاریخ میں محفوظ اور زبان زد عام تھے۔ جنہیں سن کر عبرت حاصل کی جاسکتی ہے مگر یہ لوگ تو ایسے عبرتناک واقعات سننے سے بھی عاری ہیں ، انہیں اس کا کیا اثر ہوگا ؟
تاریخی واقعات کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے پہلی آیت میں سننے کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیت میں مشاہداتی دلیل کا تذکرہ کر کے ٭ میں فرمایا ہے کہ کیا…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّہُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ 30ۧ
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
اولم یہدلھم یہاں سے اپنی قدرت کاملاً اور دنیا کے بےثبات ہونے پر دو دلیلیں پیش کرکے یوم الفتح کے آنے کا وعدہ دیتا ہے اور حضرت کو اس دن کے انتظار کا متوقع کرکے سورة 1 ؎ کو تمام کرتا ہے۔ اول تو یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے سے پہلوں کے مکانات شکستہ پر سے گزرتے ہیں جو عبرت کا نمونہ ہیں، پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہیں ہوتی۔ غور نہیں کرتے کہ ان کے بنانے والے کون تھے، کہاں گئے، ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی ؟ اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے۔ دوسری دلیل اولم یروا کہ خشک زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں۔ ان کی اور ان کے چارپایوں کی روزی پیدا کرتے ہیں۔ اناج گھانس پھر کیا ہم…
Read the full tafseer →فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّـھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 30)
(تو آپ ان سے اعراض کیجیے اور انتظار کیجیے، بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی نادانی کے باعث عذاب کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں اور بار بار اس کا مطالبہ کررہے ہیں تو ایسے نادانوں سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ وہ ان کے لیے جو مہلت مقدر کرچکا ہے اگر انھوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو یقینا عذاب کا شکار ہوں گے۔ آپ بھی انتظار کیجیے کہ کب ان کی مہلت ختم ہوتی ہے۔ اور وہ تو یقینا منتظر ہیں۔ انھیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ اس انتظار کا نتیجہ آخر کیا نکلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے…
Read the full tafseer →30: فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَانْتَظِرْ (پس آپ ان سے اعراض کریں۔ اور انتظار کریں) ان پر کامیابی اور ان کی ہلاکت کا۔ اِنَّہُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ (بیشک وہ بھی منتظر ہیں) تم پر غلبہ اور تمہاری ہلاکت و بربادی کے۔
سورت کی فضیلت :
آنحضرت ﷺ سونے سے قبل الم تنزیل اور تبارک الذی تلاوت فرماتے۔ اور فرمایا جس نے الم تنزیل اپنے گھر میں پڑھی وہاں تین دن تک شیطان داخل نہیں ہوسکتا۔ (قال الحافظ لم اجدہ) ابن مسعود ؓ : سورة الم تنزیل یہ سورت مانعہ ہے جو عذاب قبر سے روکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس سورت کو اکثر فجر کی نماز میں پڑھتے۔ ( احمد، ترمذی عن جابر)
Read the full tafseer →30، فاعرض عنھم ، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ جملہ منسوخ ہے آیت قتال سے اس کا حکم منسوخ کردیا۔ ، وانتظر انھم منتظرون، جس فتح کا ہم نے وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجئے وہ بھی منتظر ہیں کہ آپ حوادث زمانہ اور مصائب میں مبتلاہوجائیں ۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہمارے عذاب کا آپ انتظار کیجئے وہ بھی عذاب ہی کے منتظر ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ فجر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ نے، الم تنزیل ، اور ھل اتی علی الا نسان ، پڑھتے تھے۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ سوتے نہ تھے جب تک ، الم تنزیل ، اور ، تبارک الذی بیدہ الملک، نہ پڑھ لیتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29‘ 30۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر سدی وغیرہ میں قتادہ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 179 ج 5۔ ) اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کے جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤتو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بعضے مفسروں نے اس فتح سے فتح بدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت نمبر : 30 ۔ 28
یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ (ویقولون متی ھذا الفتح) ” اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ “ جو ہمارے اور تمہاری درمیان فیصلہ کردے اور تمہارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کردے (ان کنتم صدقین) اے رسول ! اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو (قل یوم الفتح) ” کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن “ یعنی جس روز تمہیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمہیں ایمان حاصل ہوجائے تو تمہیں مہلت کا ملنا ممکن ہے تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کرلو کیونکہ یقینی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
مومن خواب غفلت میں نہیں ہوتا
قول باری ہے : (تتجافی جنوبھم عن المضاجع ۔ ان کے پہلو خوابگاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں) ہمیں عبدالللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ربیع ج زبانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے عاصم بن ابی النجود سے، انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ بن جہیل سے آیت کی تفسیر میں روایت کی۔ وہ کہتے ہیں : ” میں ایک سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ تھا ۔ سفر کے دوران میں ایک دن میں آپ ﷺ کے قریب آگیا اور عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں لے جانے اور جہنم کی آگ سے دور کردے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
48 فیصلے کے دن کا ماننا کچھ کام نہیں آئے گا : اس لئے اس کا وقت پوچھنے کی بجائے زندگی کی اس محدود فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے لئے تیاری کرو کہ اس کے آچکنے کے بعد کچھ بن نہ پڑے گا۔ سو اس ارشاد ربانی سے ان کے مطالبہ عذاب کا جواب دیا گیا کہ اگر یہ لوگ فیصلے کے دن کو دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہیں تو ان کو بتادو کہ اس کے ظہور کے بعد ایمان لانا کسی کے کچھ کام نہ آسکے گا اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت دی جائیگی کہ وہ توبہ و اصلاح کے ذریعے تلافی مافات کرسکے۔ " یوم الفتح " سے مراد فیصلے کا دن ہے اور اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
بنی اسرائیل کی مثال ترقی اور تنزل کے لیے
تشریح : نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اور ہمت دلاتے ہوئے یقین دلاتے ہوئے رب العزت ان کو سیدناموسیٰ (علیہ السلام) ان کی قوم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” آپ کو رسول بنا کر بھیجا جانا کتاب ملنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے نبی اسرائیلمدت طویل تک مصر میں ذلت و خواری کی زندگی گزارتے رہے پھر اللہ نے انہی میں سے سیدناموسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر ان کی نجات اور ہدایت کے لیے بھیجا ان کو آسمانی کتاب بھی دی۔ پھر جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت پر عمل کیا نیکی کی راہ اپنائی تو اللہ نے ان کو غلامی سے نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارو معارف
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور انہیں اس راہ میں بیشمار مشکلات سے گزرنا پڑا مگر بالآخر وہی کتاب بنی اسرائیل کی ہدایت کا سبب بنی کہ یہی سنت الہی چلی آرہی ہے انبیاء کو کتاب عطا ہوتی ہے تو ہر آدمی کو ماننے نہ ماننے کا اختیار بھی لہذا نہ ماننے والے ضرور راستہ روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لہذا آپ بھی یقین رکھیے اور دلگیر مت ہوں آپ کو کتاب عطا ہورہی ہے تو مخالفت بھی ہوگی مگر انجام کار غالب ہوں گے اور یہی کتاب ہدایت کا سبب ہوگی۔
فی مریۃ من لقائہ :
اور مفسرین کرام نے اس کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) سے آپ کی ملاقات یقینا ہوگی جو شب…
Read the full tafseer →(32:30) فاعرض۔ تو منہ پھیر لے۔ تو کنارہ کر جا۔ تو اعراض کر۔ رخ گردانی کر۔ (ان کی دل آزار باتوں پر غم نہ کر)
انتظر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو انتظار کر۔ تو منتظررہ۔ انتظار (افتعال) مصدر یعنی ان کی انجام کار ہلاکت کا انتظار کر۔
انھم منتظرون ۔ اسم فاعل جمع مذکر حاضر۔ انتظار کرنے والے۔ تحقیق یہ بھی (اپنی انجام کار ہلاکت و بربادی کا) انتظار ہی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
لغات القرآن آیت نمبر (23 تا 30) ۔
مریتہ (شک و شبہ) ۔ ائمتہ (امام) (پیشوا۔ رہنما) ۔ یفصل (وہ فیصلہ کرتا ہے۔ کردے گا) ۔ یمشون (وہ چلتے ہیں) ۔ نسوق (ہم کھینچتے ہیں۔ لے جاتے ہیں) ۔ الجرز (خشک۔ مردہ) ۔ زرع (کھیتی) ۔ انعام (مویشی۔ جانور) ۔ انتظر (انتظار کر) ۔
تشریح : آیت نمبر (23 تا 30) ۔ ” نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جب بھی کفار عرب کے سامنے کتاب اللہ اور اس کی تعلیمات کو پیش کرتے تہ وہ نہ صرف اس کی شدید مخالفت کرتے بلکہ وہ اس کا مذاق اڑاتے، جملے کستے اور حق کی بات ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے۔
اس صورت حال سے جہاں نبی کریم ﷺ کو شدید رنج ہوتا تھا وہیں آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ بھی بشری تقاضوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) اے محبوب ﷺ آپ ان منکرین حشر سے کنارہ کرلیں کچھ بحث نہ کریں اور ان کی عقلی حجتوں کا کچھ خیال نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اس دن کا انتظار کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کا انتطار کرنا چاہے، وقت مقررہ پر وہ دن سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا فرمایا کہ جس طرح ہر ایک آدمی کی عمر کی مدت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →[31] یعنی فیصلہ مؤعود کا انتظار کرو جب کہ یہ لوگ اپنے زعم میں تمہاری تباہی کے منتظر ہیں مگر معلوم ہوجائے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 1: مکہ والے چونکہ قیامت کے منکر تھے ۔ اس لئے وہ ازراہ طنز حضور ﷺ سے پوچھتے تھے ۔ کہ قیامت کب آئیگی فیصہ کا دن کس وقت آئے گا ؟ قرآن کہتا ہے کہ وہ جب بھی آئے گا ۔ آئے گا ۔ مگر تم یاد رکھو کہ اس وقت کا ایمان سود مندنہ ہوگا ۔ اور نہ اس وقت تمہیں پھر دوبارہ مہلت دی جائینگی کہ دنیا میں جاؤ۔ اور اپنے اعمال سنوار لو ۔ وہ مکافات کا دن ہے ۔ اس وقت اعمال منقطع ہوجائیں گے ۔
Read the full tafseer →30۔ سو آپ ان کافروں اور دین حق کے منکروں سے اپنی توجہ ہٹا لیجئے اور ان کا خیال چھوڑ دیجئے اور ان کی باتوں کا خیال نہ کیجئے اور اس یوم موعود کا انتظار کرتے رہیے یہ کافر بھی انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی آپ اپنی تبلیغ جاری رکھیئے اور ان کی بیہودہ ہفوات کی جانب توجہ نہ کیجئے یوم الفتح کا اعلان ہوچکا ہے آپ بھی اس کا انتظار فرمایئے یہ بھی انتظار کررہے ہیں اس دن حق اور باطل کا خود بخود ہی فیصلہ ہوجائے گا ۔
تم تفسیر سورة السجدۃ فللہ الحمد والنعمۃ والشکر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 9۔ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کا انتظار مطابق واقع کے ہے اور کس کا نہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اب ان سے منہ پھیر لو ‘ انتظار کرو اور وہ بھی منتظر ہیں :
30۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اب اس بحث ہی کو ختم کرو کیونکہ اب ان تلوں میں تیل باقی ہی نہیں ہے اب صرف اور صرف ایک بات ہے کہ ان سے اعراض کرلو اور جدھر کو جانا چاہتے ہیں انکو جانے دو جب ان کا مقررہ وقت آئے گا تو ان کو بھی عین وقت پر حاضر کرلیا جائے گا کیونکہ یہ جہاں بھی جائیں گے نہ تو ہمارے علم سے یہ لوگ نکل جائیں گے اور نہ ہی ہماری حکومت سے یہ بھاگ سکیں گے اس لئے جب ان کو وقت پر لاحاضر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تو آپ اس کے پیچھے نہ پڑیں بس آپ اس وقت کا انتظار کریں اور ان کو بھی انتظار کرنے دیں کیونکہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
To answer that, Allah Ta'ala said: قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ (Say, 'On the day of decision their belief will not be of any use to disbelievers,'-29) This amounts to saying: Why are you asking us about the day of our victory while that day is going to be a day of trouble for you? When victory comes to us, you would have already been overtaken by punishment. May be, right here in this world - as it happened in the battle of Badr - or, in the Hereafter. And when the punishment of Allah seizes someone, then, no profession of faith at that time, no…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
42 That is, "It is not a thing for which you should feel so impatient and restless. When the torment of Allah comes, you will get no time to mend your ways. Make the best of the time which is available before the coming of the torment. If you will believe only when you see the torment, it will not avail you anything then."
Read the full tafseer →