Explained with ayahs 1–3
تنبیہ
کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بےپایاں حکمت سے اس کی کوئی بات…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 1
جیسا کہ ہم اس سورة کے دیباچے میں بیان کرچکے ہیں، یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب حضرت زید ؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے چکے تھے۔ اس وقت نبی ﷺ خود بھی یہ محسوس فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی تھا کہ منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کے رسوم و اوہام پر ضرب لگانے کا یہ ٹھیک موقع ہے، اب آپ خود آگے بڑھ کر اپنے منہ بولے بیٹے (زید ؓ کی مطلقہ سے نکاح کرلینا چاہیے تاکہ یہ رسم قطعی طور پر ٹوٹ جائے۔ لیکن جس وجہ سے حضور ﷺ اس معاملہ میں قدم اٹھاتے ہوئے جھجک رہے تھے وہ یہ خوف تھا کہ اس سے کفار و منافقین کو، جو پہلے ہی آپ ﷺ کی پے در پے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے، آپ ﷺ کے خلاف…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے (اور کسی سے نہ ڈریئے اور ان کی دھمکیوں کی ذرا پروا نہ کیجئے) اور کافروں کا (جو کھلم کھلا دین کے خلاف مشورے دیتے ہیں) اور منافقوں کا (جو درپردہ ان کے ساتھ متفق ہیں) کہنا نہ مانئے (بلکہ اللہ ہی کا کہنا کیجئے) بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے (اس کا ہر حکم فوائد اور مصالح پر مشتمل ہوتا ہے) اور (اللہ کا کہنا ماننا یہ ہے کہ) آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم آپ پر وحی کیا جاتا ہے اس پر چلئے (اور اے لوگو) بیشک تم لوگوں کے سب اعمال کی اللہ تعالیٰ پوری خبر رکھتا ہے (تم میں سے جو ہمارے پیغمبر کی مخالفت اور مزاحمت کر رہے ہیں ہم سب کو سمجھیں گے) اور (اے…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین ان اللہ اکان علیما حکیما (1)
آنحضرت ﷺ کو یہاں ’ یایھا النبی ‘ سے جو خطاب فرمایا ہے یہ محض تعظیم و تکریم کے لئے نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ یہ لفظ آپ کے فریضہ منصبی کی یاددہانی کے لئے یہاں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ کے نبی و رسول ہیں اس وجہ سے آپ کو صرف اپنے رب کی پروا ہونی چاہے۔ آپ صرف اللہ سے ڈریں، کافروں اور منافقوں کی مخالفتوں سے بالکل بےپروا ہو کر لوگوں کو اللہ کی پہنچائیں۔ اسی طرح کا خطاب سورة مائدہ میں گزر چکا ہے۔ یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک (المائدۃ : 67) (اے…
Read the full tafseer →2-1آیت میں تقویٰ پر مداومت اور تبلیغ و دعوت میں استقامت کا حکم ہے۔ طلق بن حبیب کہتے ہیں، تقویٰ کا مطلب ہے کہ اللہ کی اطاعت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق کرے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے اور اللہ کی معصیت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق ترک کر دے، اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے (ابن کثیر)
2-2پس وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اس لئے نتائج کو وہی جانتا ہے اور اپنے اقوال و افعال میں وہ حکیم ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: بعض اوقات کچھ کافر لوگ حضور اقدس ﷺ سے مختلف قسم کی تجویزیں پیش کرتے تھے کہ اگر آپ ہماری فلاں بات مان لیں تو ہم آپ کی بات مان لیں گے، بعض منافقین بھی ان کی تائید کرتے کہ یہ اچھی تجویز ہے، اور اس پر عمل کرنے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، حالانکہ وہ تجویز ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہوتی تھی، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسی تجویزوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے کام میں لگے رہئیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے، وہ خود ہی سارے معاملات ٹھیک کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3)
یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 یعنی جیسے اب تک معمول رہا ہے آئندہ بھی ہمیشہ ایک اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کبھی کہا نہ مانیے۔ یہ سب مل کر خواہ کتنا ہی بڑا جتھا بنالیں، سازشیں کریں، جھوٹے مطالبات منوانا چاہیں عیارانہ مشورے دیں، اپنی طرف جھکانا چاہیں، آپ اصلاً پروا نہ کیجئے اور خدا کے سوا کسی کا ڈر پاس نہ آنے دیجئے۔ اسی اکیلے پروردگار کی بات مانیے اسی کے آگے جھکیے خواہ ساری مخلوق اکٹھی ہو کر آجائے اس کے خلاف ہرگز کسی کی بات نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ سب احوال کا جاننے والا ہے۔ وہ جس وقت جو حکم دے گا نہایت حکمت اور خبرداری سے دے گا۔ اسی میں تمہاری اصلی بہتری ہوگی۔ جب اس کے حکم پر چلتے رہو گے اور اسی پر بھروسہ…
Read the full tafseer →آیت 1 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! اللہ کا تقویٰ اختیار کیجیے اور کافرین و منافقین کی باتیں نہ مانیے۔“
جس طرح لفظ امر میں ”حکم“ کے ساتھ ساتھ ”مشورہ“ کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘ اسی طرح ”اطاعت“ کے معنی حکم ماننے کے بھی ہیں اور کسی کی بات پر توجہ اور دھیان دینے کے بھی۔ چناچہ یہاں وَلَا تُطِع کے الفاظ میں نبی مکرم ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں پر دھیان مت دیں۔
{ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا } ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 جنگ احد کے بعد مدینہ پر خوف وہراس کی فضا :۔ اگرچہ اس سورة کا اکثر حصہ جنگ (احزاب 5 ھ) کے بعد نازل ہوا تاہم ابتدائی آیات جنگ احزاب سے بہت پہلے کی ہیں۔ مکہ میں تو آپ کے اور مسلمانوں کے دشمن صرف قریش مکہ تھے۔ مگر مدینہ جانے کے بعد مدینہ کے یہود، مشرکین اور منافقین سب آپ کے دشمن بن گئے تھے۔ جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو عارضی طور پر شکست ہوئی تھی اس نے دشمنوں کے حوصلے بہت بڑھا دیئے تھے۔ مشرک قبائل نے دو دفعہ رسول اللہ کو دھوکا دے کر تبلیغ کے لئے قاریوں کا مطالبہ کیا اور پھر انھیں قتل کردیا۔ مدینہ پر ہر وقت خوف و…
Read the full tafseer →1۔ (جیسا کہ اب تک ڈرتے رہے ہیں) اور جو اللہ سے ڈرے گا، وہ مخلوق کے ڈراوے دھمکیوں سے یقیناً بےنیاز وغیرہ متاثر رہے گا۔ (آیت) ” یایھا النبی “۔ محققین نے کہا ہے کہ بجائے اسم علم کے اسی اسم وصفی سے مخاطب کرنا رسول کی عظمت واکرام کے اظہار کے لئے ہے۔ ناداہ جل وعلابوصفہ دون اسمہ تعظیما لہ وتفخیما (روح) جعل نداء ہ بالنبی والرسول کر امۃ لہ وتشریفا (کشاف) انما لم یقل یا محمد تشریفا لہ وتنویھا بفضلہ (مدارک)
2۔ (جیسا کہ اب تک بھی نہیں مانا ہے) کافر تو دین کے خلاف مشورے کھلم کھلا دیتے ہی رہتے تھے اور منافقین درپردہ انہیں کے ہم رائے ہوجاتے تھے ...... اصطلاح قرآن میں (آیت) ” الکفرین “۔ کھلے ہوئے کافروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →یا یھا النبی اتق اللہ . اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ نبی کے لفظ سے خطاب کر کے تقویٰ کا حکم دیا ‘ محمد نہیں فرمایا ‘
اس سے تقویٰ کی اہمیت اور عظمت بتانا مقصود ہے کہ نبی ﷺ کو بھی اللہ سے ڈرنا اور تقویٰ رکھنا ضروری ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ان آیات کا نزول ابو سفیان بن حرب ‘ عکرمہ بن ابوجہل اور ابوالاعور ‘ عمرو بن سفیان سلمی کے حق میں ہوا۔ جنگ اہد کے بعد یہ تینوں شخص مدینہ میں آکر سر گروہ منافقین عبد اللہ بن ابی کے پاس ٹھہرے (اور رسول اللہ سے گفتگو کرنے کی درخواست کی) حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ چناچہ عبد اللہ بن ابی ‘ عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ سے…
Read the full tafseer →اے نبی کریم وقت سے پہلے وعدہ خلافی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور مکہ والوں میں سے ابو سفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابو الاعور اسلمی کا اور مدینہ کے منافقوں میں سے عبداللہ بن ابی بن سلول اور معتب بن قشیر اور جعر بن قیس کی ان باتوں میں جس کے کرنے کے لیے یہ آپ سے کہہ رہے ہیں اتباع نہ کیجیے۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ (الخ)
جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے رسول اکرم ﷺ کو اس چیز پر زور دیا کہ اپنی بات سے رجوع کرلیں تو ہم آپ کو آدھے اموال دیں گے اور مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ۔۔ : سورت کا آغاز رسول اللہ ﷺ کو ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ کے خطاب سے ہوتا ہے۔ اس میں آپ ﷺ کی تکریم و تشریف مقصود ہے، کیونکہ قرآن مجید میں دوسرے انبیاء کو ان کے ناموں کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، جیسا کہ ”یَاٰدَم، ینوح، یابراھیم، یعیسیٰ“ وغیرہ، مگر آپ ﷺ کو ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ اور ”يٰٓاَيُّهَا الرسول“ کے ساتھ ہی مخاطب کیا گیا ہے۔
3 اس سورت میں آپ ﷺ کو پانچ دفعہ ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ کے ساتھ مخاطب فرمایا ہے، ایک یہ آیت، دوسری آیت (28) : (ۧيٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) ، تیسری آیت (45) : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ…
Read the full tafseer →آیت یایھا النبی اتق اللہ ای کے کلمہ کو ملایا گیا کیونکہ منادی مفرد ہے اور تنبیہ اسی کا لازم ہے لفظ النبی نحویوں کے نزدیک اس کی صفت ہے مگر اخفش کے نزدیک صفت نہیں، کیونکہ وہ کہتا ہے : یہ ای کا صلہ ہے۔ مکی نے کہا : کلام عرب میں یہ معروف نہیں کہ اسم مفرد کسی شی کا صلہ ہو۔ نحاس نے کہا : اکثر نحویوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ صلہ جملہ ہوا کرتا ہے۔ اس نے جو کہا اس کی صحت کے لئے یہ حیلہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ نعت لازم ہے اسے صلہ کا نام دیا گیا۔ کوئی نکرہ کی نعت کو صلہ کا نام دیتے ہیں۔ اکثر نحویوں کے نزدیک محل کا اعتبار کرتے ہوئے نصب دینا جائز نہیں۔ مازنی نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ اس نے اسے تیرے اس قول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن جریر جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے نبی ﷺ کو دعوت اسلام سے رک جانے کا مطالبہ کیا اور یہ شرط لگائی کہ وہ اپنا مالوں میں سے ایک حصہ آپ کو دیں گے اور ان منافقوں اور مدینہ منورہ کے یہودیوں نے اس بات سے ڈرایا کہ اگر آپ اس دعوت سے نہ لوٹے تو وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی اتقی اللہ لا تطع الکفرین والمنفقین یعنی اے نبی اللہ سے ڈرے کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع الکفرین میں کافرین سے مراد ابی…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] اتَّقِ [آپ ﷺ تقویٰ کریں ] اللّٰهَ [اللہ کا ] وَلَا تُطِـعِ [اور آپ ﷺ کہنا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ۭ [کافروں کا اور منافقوں کا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] كَانَ [ہے ] عَلِيْمًا حَكِيْمًا [جاننے والا حکمت والا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور اس پر توکل کیجیے، کافروں اور منافقوں کی بات مانئے
یہاں سے سورة احزاب شروع ہو رہی ہے، اَحْزَابْ حِزْب کی جمع ہے جو گروہ کے معنی میں آتا ہے، 5 ھ میں قریش مکہ اور بہت سے قبائل اور جماعتیں سب مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ طیبہ پر چڑھ آئے تھے۔ چونکہ ان کے بہت سے گروہ تھے اس لیے اس غزوہ کا نام غزوۂ احزاب معروف ہوا۔ اور چونکہ اس موقع پر خندق بھی کھودی گئی تھی (اور ظاہری اسباب میں وہی تمام گروہوں کے حملہ سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنی) اس لیے اس غزوہ کو غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے سورة الاحزاب کا سبب نزول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین
وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔
(ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…
Read the full tafseer →2:۔ یا ایہا النبی الخ صلح حدیبیہ کے بعد مشرکین و منافقین کا ایک وفد جو ابو سفیان، عکرمہ بن ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور معتب بن قشیر وغیرہ پر مشتمل تھاحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔ اے محمد ! ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارے معبودوں کو برائی سے یاد کرنا چھوڑ دو ۔ اور صرف اتنی بات مان لو کہ وہ عندہ اللہ شفیع ہیں اور نفع پہنچا سکتے ہیں تو تمہیں آزادی ہے کہ بیشک تم اپنے خدائے واحد کی عبادت کرو، اور دوسرے احکام کی تبلیغ کرو، ہم تم سے کوئی تعرض نہ کریں گے۔ یہ بات آپ کو بہت ناگوار گذری اس پر یہ آیتیں نازل ہوئی۔ قالو الرسول اللہ ﷺ ارفض ذکر الہتنا وقل انھا تشفع و تنفع و ندعک وربک فشق ذلک علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
کوائف :
اس سورة کا نام سورة الاحزاب ہے جو کہ اس کی بیسیویں اور اکیسویں آیت میں آمدہ اسی لفظ سے ماخوذ ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی۔ جس کا معنی گروہ ، جماعت یا پارٹی ہوتا ہے۔ اس سورة میں ان غیر مسلم گروہوں کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر سن 5 ء میں مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سورة الفرقان سے لے کر سورة السجدۃ تک مکی سورتیں تھیں۔ سورة نور کے بعد اب یہ سورة پھر مدنی سورة ہے۔ اس سورة مبارکہ کی تہتر 37 آیات اور نو رکوع ہیں۔ یہ سورة 2821 الفاظ اور 0075 حروف پر مشتمل ہے۔
نزول :
جیسا کہ میں نے عرض کیا غزوہ احزاب سن 5 ھ میں واقع ہوا تھا اور اس کے بعد یہ سورة نازل ہوئی کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 17
سورة الاحزاب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللہَ وَلَا تُطِـــعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِــيْمًا 1ۙ
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : من ربک متعلق بیوحیٰ وکیلا تمیز للکفیٰ باللہ فاعلہ والباء زائدۃ۔
تفسیر : احزاب حزب کی جمع جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں، اس سورة میں ان جماعتوں کا بھی تذکرہ ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ پر چڑھ کر آئی تھیں اور چاروں طرف سے مدینہ طیبہ کو گھیر لیا تھا، جس کی مدافعت کے لیے حضرت ﷺ نے شہر کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم دیا تھا، اس واقعہ کو غزوئہ خندق کہتے ہیں جو شوال کے مہینے میں احد کی لڑائی کے ایک برس بعد ہجرت کے پانچویں سال میں واقع ہوا تھا، اس لیے اس سورة کا نام سورة احزاب ہوگیا۔
یہ سورة بقول ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ مدینہ میں نازل ہوئی ہے، بعض روایتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سورة میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یٰٓـاَیُّـھَاالنَّبِیُّ اَتَّقِ اللّٰہَ وَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰـفِـقِیْنَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ وَّاتَّبِعْ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 1 تا 3)
(اے نبی ! اللہ سے ڈریں اور کفار اور منافقین کی باتوں پر کان نہ دھریں، بیشک اللہ علیم اور حکیم ہے۔ اور پیروی کیجیے اس چیز کی جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اور اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ )
خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ السجدۃ کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ ہٹ دھرم لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے الاحزاب کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہٹ دھرم اور جاہلوں سے صرف اعراض ہی نہیں کرنا بلکہ ان کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہیں لانا۔ لہٰذاے نبی ﷺ آپ کو ہر حال میں وحی الٰہی کی اتباع کرنا ہے۔
مکہ معظمہ میں آپ کے مخالف مشرکین تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ کا واسطہ، یہود اور منافقوں سے پڑا۔ جو صبح و شام آپ کے خلاف سازشیں کرتے اور نئے سے نیا الزام لگاتے اور اسے پھیلاتے رہتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب ؓ کا نکاح اپنے متبنّٰی بیٹے زید ؓ بن حارثہ کے ساتھ کیا تاکہ مسلم معاشرے میں…
Read the full tafseer →1: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ (اے نبی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور کافروں) وَالْمُنٰفِقِیْن اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے) ۔
قول ابی بن کعب ؓ کا مطلب :
حضرت ابی نے زر کو کہا سورة احزاب کی آیات تمہارے شمار میں کتنی ہیں انہوں نے جواب میں کہا۔ 73 آیات حضرت کعب نے کہا اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم ابی اٹھاتا ہے یہ سورة بقرہ کے برابر تھی یا اس سے بھی زیادہ لمبی ہم نے اس میں آیت رجم پڑھی۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالا من اللہ واللّٰہ عزیز حکیم۔ حضرت ابی کی…
Read the full tafseer →یایھا النبی اتق اللہ کا شان نزول
تفسیر۔ ، یایھا النبی اتق اللہ ، ان آیات کا نزول ابوسفیان بن حرب عکرمہ بن ابوجہل اور ابوالا عور عمروبن سفیان سلمی کے حق میں ہوا۔ جنگ احد کے بعد یہ تینوں شخص مدینہ میں آکرسرکردہ منافقین عبداللہ بن ابی سلول کے پاس ٹھہرے۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی ۔ چناچہ عبداللہ بن ابی عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ لات عزی اور مناۃ کا تذکرہ چھوڑ دیجئے ہمارے ان معبودوں کا ذکر برائی کے ساتھ نہ کیجئے کہ جو شخص ان کو پوجے گا یہ معبود اس کی شفاعت کریں گے ۔ اگر آپ ایسا کرلیں گے تو ہم آپ کے اور آپ کے رب کا ذکربرائی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 تا 3۔ ان آیتوں میں اللہ کے رسول اور امت کے لوگوں کو تقویٰ کا کافروں اور رمنا فقوں کے مشورہ کے نہ ماننے کا اور ہر کام میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر آدمی نافرمانی کو چھوڑدے اور ثواب کی امید پر اس کی عبادت کرے پھر فرمایا اللہ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کے حکموں کو مانو اور اس کی تابعداری کرو اور ہر کام میں اللہ ہی پر بھروسہ کرو کہ وہی بندوں کے سب کام بنانے والا انجام کار سے خبردار صاحب حکمت ہے ‘ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد مدینہ کے منافق جو بات کہتے تھے وہ اسلام کے برخلاف ہوتی تھی مثلا سورة الانعام میں گزر چکا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الاحزاب
آیت نمبر : 3 ۔ 1
یعنی اے وہ ہستی ! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی ‘ اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ اس کے اوامرو نواہی پر عمل کیجیے ‘ اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے ‘ اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچایے اور تمام تمام مخلوق کی خیر خواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹاسکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کرسکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت…
Read the full tafseer →1 لفظِ " نبی " کا معنیٰ و مفہوم اور ایک مغالطے کا جواب : بعض لوگوں نے نبی کا ترجمہ کیا ہے " اے غیب کی خبر بتانے والے " تاکہ اس طرح وہ اس لفظ کریم ۔ نبی ۔ سے علم غیب کلی کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرسکیں۔ سو یہ ان کی اپنی ذہنی اختراع اور ایجاد بندہ ہے۔ ورنہ لفظِ " نبی " تو اردو میں بھی ایسا مشہور و معروف لفظ ہے کہ اس کے ترجمہ کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں۔ اور اگر کیا بھی جائے تو " پیغمبر " اور " پیامبر " وغیرہ کے کسی مترادف لفظ سے کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جمہور علماء و مفسرین کرام میں سے کسی بھی ثقہ عالم و مفسر نے آج تک اس لفظ کا اس طرح کا کوئی ترجمہ اپنی تفسیر میں نہیں کیا۔ اس طرح یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورت کے چار اہم نکات
تشریح : جو احکامات ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو دیے جا رہے ہیں ان پر آنحضرت ﷺ تو پہلے ہی بڑی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ اصل میں یہ احکامات انسانی زندگی کی اصلاح اور معاشرے کی بہبود کے لیے اس قدر ضروری اور اہم ہیں کہ ان کو تاکید کی شکل دینے کے لیے دہرایا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو مخاطب کر کے حکم دینے کا مطلب یہی ہے کہ تمام انسان ان احکامات کو غور سے سنیں اور ہمیشہ ان پر سختی سے عمل کریں۔
پہلا حکم : ” اللہ سے ڈرتے رہو “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس قدر عظیم و کبیر، حکمت والا اور طاقت والا ہے کہ تمام کائنات اسی کی پیدا کی ہوئی اسی کے حکم سے چل رہی ہے اور اسی کے حکم سے ختم ہوجائے گی۔ یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →ف 2 اس آیت میں اعلیٰ سے ادنیٰ پر تنبیہ فرمائی ہے یعنی جب پیغمبر ﷺ کو اللہ سے ڈرتے رہنے اور کافروں اور منافقوں کی بات ماننے کی تاکید کی ہے تو دوسرے لوگوں کو بطریق اولیٰ یہ حکم ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” کافر چاہتے اپنی طرف نرم کرنا اور منافق چاہتے تھے اپنی چال سکھانی اور پیغمبر ﷺ کو اللہ پر بھروسہ ہے اس سے دانا کون ہے “ ؟ ( موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(33:2) اتبع۔ فعل امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ اتباع (افتعال) مصدرتبع مادہ۔ تو پیروی کر۔ تو اتباع کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر ( ا تا 3) ۔
اتق (توڈر۔ تقویٰ اختیار کر) ۔ لا تطع (پیچھے نہ چل۔ اطاعت نہ کر) ۔ اتبع (تو پیروی کر۔ کہنا مان) ۔ یو حی (وحی کی گئی) ۔ توکل (بھروسہ کر۔ توکل کر) ۔ وکیل (کام بنانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” حضرت آدم (علیہ السلام) سے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب کے سب معصوم ہیں۔ وہ اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں نہ تو وہ گناہ کرتے ہیں نہ ان سے گناہ کا ارتکاب ممکن ہے بلکہ ان کی طرف گناہ کی نسبت کرنا بھی گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو پوری زندگی اور اس کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ آپ نے تقویٰ اور خوف الہی کے ساتھ زندگی گذاری ہے۔ لیکن پھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول :
ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاسود سلمی جنگ احد کے بعد مدینہ طیبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی سلول کے یہاں مقیم ہوئے نبی ﷺ سے گفتگو کے لیے امان حاصل کرکے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات وعزی منات وغیرہ بوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرمادیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لیے ہے اور ہم لوگ آپ کو، آپ کے رب کو کچھ نہ کہیں گے ۔ تو نبی ﷺ کو ان کی گفتگو ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو نبی نے قتل کی اجازت نہ دی ، اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لیے قتل نہ کرو، مدینہ شریف سے نکال دو ، چناچہ…
Read the full tafseer →1۔ اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنانہ مانیے بلا شبہ اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے مرتبہ کی بلندی کی رعایت رکھتے ہوئے آپ کا نام لیکر خطاب نہیں فرمایا یہ حضور ﷺ کی غایت عظمت اور غایت شرافت کی دلیل ہے کہ آپ کو یا احمد یا محمد نہیں کیا گیا بلکہ یا یھا النبی اور یا ایھا الرسول پر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ڈرتے تو ہیں اس وصف پر ہمیشہ قائم رہے یہی مطلب آگے جو امر کے صیغے آ رہے ہیں ان کا سمجھنا چاہئے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ خدا سے ڈرتے نہ تھے اس لئے ڈرنے کا حکم دیا گیا ، نیز مخالفین کو سنانا ہے کہ ہمارے پیغمبر تو ان اوصاف…
Read the full tafseer →ف 10۔ مضامین سورت میں مابہ الاشتراک دلالت ہے جناب رسالت مآب ﷺ کی منصوریت و محبوبیت و خصوصیت و اکرمیت عنداللہ لوجوہ مختلفہ اور آپ کے وجوب تعظیم بطرق مکتثرہ و حرمت ایذاء بانواع متشتتہ علی الناس پر باقی مضامین یا اس کے مقدمات ہیں یا متممات۔
Read the full tafseer →بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر : خالق اور مخلوق کا واضح فرق رسول بلا شبہ مخلوق ہی ہوتے تھے۔
1) یہ سورة الاحزاب کی پہلی آیت ہے جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے۔ الفاظ بتا رہے ہیں کہ حالات کی سنگینی نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو کسی نہایت گہری سوچ میں مبتلا کردیا تھا اور وہ سوچ بلاشبہ کا دبائو ہی ہوسکتی تھی کیونکہ معاشرے کا دبائہ ایک ایسی وزنی چیز ہے جس کا بوجھ اٹھانا آسان کام نہیں بلکہ ایک نہایت ہی مشکل ترین کام ہے کیونکہ اس میں اپنے اور بیگانے سب برابر کے شریک ہوتے ہیں اور ایسے مواقع پر جاکر بات واضح ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Commentary
This is a Madani Surah. Most of its subjects feature is the loveable persona of the Holy Prophet ﷺ and his special place with Allah. There it has been variously emphasized that showing reverence for him is obligatory and that causing any pain to him is haram (forbidden). Then the rest of the subjects taken up in the Surah also serve as complements to the ultimate perfection of his station.
The background of revelation
Some narrations have been reported outlining the cause of the revelation of this Surah:
1. When the Holy Prophet ﷺ came to live in Madinah after his hijrah, the…
Read the full tafseer →1 As we have mentioned in the introduction to the Surah, these verses were sent down at a time when Hadrat Zaid had already divorced Hadrat Zainab. , Then the Holy Prophet himself was feeling, and Allah also had inspired him with this, that that was the right time for striking at the root of the tradition and customs of ignorance regarding the adopted relations, and that he should take the initiative and marry the divorced wife of his adopted son (Zaid) so that the custom was completely eradicated. But the reason why he was hesitant in this regard was the fear that this would provide a strong…
Read the full tafseer →