33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانئے، بلاشبہ اللہ علیم ہے حکیم ہے،

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور آپ اس کا اتباع کیجیے جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر وحی کیا جاتا ہے، بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو،

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسہ کیجیے اور وہ کافی ہے اور کارساز ہے۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور اس پر توکل کیجیے، کافروں اور منافقوں کی بات مانئے یہاں سے سورة احزاب شروع ہو رہی ہے، اَحْزَابْ حِزْب کی جمع ہے جو گروہ کے معنی میں آتا ہے، 5 ھ میں قریش مکہ اور بہت سے قبائل اور جماعتیں سب مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ طیبہ پر چڑھ آئے تھے۔ چونکہ ان کے بہت سے گروہ تھے اس لیے اس غزوہ کا نام غزوۂ احزاب معروف ہوا۔ اور چونکہ اس موقع پر خندق بھی کھودی گئی تھی (اور ظاہری اسباب میں وہی تمام گروہوں کے حملہ سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنی) اس لیے اس غزوہ کو غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے سورة الاحزاب کا سبب نزول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ اپنی دعوت کو چھوڑ دیں، تو ہم آپ کو اپنا آدھا مال دے دیں گے، اور ادھر مدینہ طیبہ کے یہودیوں اور منافقوں نے یہ دھمکی دی کہ آپ نے اگر اپنی بات نہ چھوڑی تو ہم آپ کو قتل کردیں گے، اس پر سورة الاحزاب نازل ہوئی۔ اوپر تین آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے، ان میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ برابر تقویٰ پر قائم و دائم رہیے، کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور آپ کے رب کی طرف سے آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کا اتباع کرتے رہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، اللہ کافی ہے اللہ کارساز ہے، وہ کارساز ہونے کے لیے کافی ہے، اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے، دشمنوں نے جو آپ کو مال کی پیشکش کی ہے اور جو قتل کی دھمکی دی ہے اسے اس کا علم ہے، اللہ تعالیٰ حکیم بھی ہے جو کچھ وجود میں آتا ہے اس میں حکمت ہے، دشمنوں نے آپ کو جو پیشکش کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جس میں سے ایک یہ ہے کہ آپ مضبوطی کے ساتھ اللہ کے دین پر جمے رہیں اور وحی کا اتباع کرتے رہیں تاکہ آپ کے اندر مزید قوت اور توکل کی شان پیدا ہوجائے۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے، اور تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنایا، اور جو تمہارے منہ بولے بیٹے ہیں ان کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا، یہ تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے، اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے،

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے، سو اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں، اور جو کچھ تم سے خطا ہوجائے اس کے بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور لیکن جس کا تمہارے دل قصداً ارادہ کرلیں، اور اللہ غفور ہے رحیم ہے۔

منہ بولے بیٹے تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو تفسیر قرطبی جلد نمبر 14 ص 116 میں لکھا ہے کہ جمیل بن معمر فہری ایک آدمی تھا اس کی ذکاوت اور قوت حافظہ مشہور تھی، قریش اس کے بڑے معتقد تھے اور کہتے تھے کہ اس کے سینہ میں دو دل ہیں اور وہ خود بھی یوں کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں ان دونوں کے ذریعہ جو کچھ سمجھتا ہوں وہ محمد ﷺ کی عقل سے زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی باتوں کی تردید فرمائی اور فرمایا، (مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ) (کہ اللہ نے کسی بندہ کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے) جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے اسے اپنے دعوے کی سزا ضرور ملتی ہے اور اس کے دعوے کے خلاف ظاہر ہوجاتا ہے چناچہ اس شخص کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جو یہ کہتا تھا کہ میرے اندر دو دل ہیں۔ قصہ یہ ہوا کہ یہ شخص بھی جنگ بدر میں شریک تھا جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو ابو سفیان نے اسے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا وہ تو شکست کھاگئے، ابو سفیان نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ تیری ایک چپل تیرے ایک ہاتھ میں ہے اور دوسری تیرے پاؤں میں ہے، کہنے لگا اچھا یہ بات ہے ! میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ وہ دونوں میرے پاؤں میں ہیں، اس وقت لوگوں پر ظاہر ہوگیا کہ اگر اس کے دو دل ہوتے تو اپنی چپل کو ہاتھ میں لٹکائے ہوئے یہ نہ سمجھتا کہ وہ میرے پاؤں میں ہے۔ ظہار کیا ہے اہل عرب میں ظہار کا طریقہ جاری تھا یعنی مرد اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتا تھا کہ : (اَنْتِ کَظَھْرِ اُمِّیْ ) (تو میرے لیے ایسی ہے جیسے میری ماں کی کمر ہے) ایسا کہہ دینے سے اس عورت کو اپنے اوپر ہمیشہ کے لیے حرام سمجھ لیتے تھے۔ اسلام میں اگر کوئی شخص ایسا کہہ دے تو اس کے لیے کفارہ مقرر کردیا گیا ہے جو سورة المجادلہ کے پہلے رکوع میں مذکور ہے، اہل عرب جو اپنے اوپر عورت کو ہمیشہ کے لیے حرام سمجھ لیتے تھے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الِّآئْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ ) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری حقیقی اور واقعی ماں نہیں بنا دیا) لہٰذا اگر کوئی شخص ظہار کرلے تو اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام نہ ہوجائے گی مقررہ کفارہ دے دے تو پھر میاں بیوی کی طرح رہیں۔ بیٹا بنا لینا اہل عرب کا یہ بھی طریقہ تھا کہ جب کسی لڑکے کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے تھے (جو اپنا بیٹا نہیں دوسرے شخص کا بیٹا ہوتا تھا جسے ہمارے محاورہ میں لے پالک کہتے ہیں) تو اس لڑکے کو بیٹا بنانے والا شخص اپنی ہی طرف منسوب کرتا تھا یعنی حقیقی بیٹے کی طرح سے اسے مانتا اور سمجھتا تھا اور اس سے بیٹے جیسا معاملہ کرتا تھا اس کو میراث بھی دیتا تھا اور اس کی موت یا طلاق کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرنے کو بھی حرام سمجھتا تھا اور عام طور سے دوسرے لوگ بھی اس لڑکے کو اسی شخص کی طرف منسوب کرتے تھے جس نے بیٹا بنایا ہے اور ابن فلاں کہہ کر پکارتے تھے، ان کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ) (کہ اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا اصلی اور واقعی بیٹا قرار نہیں دیا) تم جو انہیں بیٹا بنانے والے کا بیٹا سمجھتے ہو اور اس پر حقیقی بیٹے کا قانون جاری کرتے ہو یہ غلط ہے۔ (ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ ) (یہ تمہاری اپنی منہ بولی باتیں ہیں، اللہ کی شریعت کے خلاف ہیں) (وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ ) (اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور حق راہ بتاتا ہے) اسی میں سے یہ بھی ہے کہ منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا نہ سمجھا جائے۔ (اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (تم انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی چیز ہے) (فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآءَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ ) (سو اگر تمہیں ان کے باپوں کا علم نہ ہو مثلاً کسی لڑکے کو پال لیا جس کا باپ معلوم نہ تھا مثلاً کسی لقیط (پڑا ہوا بچہ) کو اٹھالیا۔ اس کے باپ کا علم نہیں بیٹا بنانے والے کو ہے نہ بستی والوں کو تو اسے یا اخی (میرا بھائی) کہہ کر بلاؤ کیونکہ وہ تمہارا دینی بھائی ہے، یا دوست کہہ کر بلاؤ مَوَالِیْ مَوْلٰیکی جمع ہے جس کے متعدد معانی ہیں، ان میں سے ایک ابن العم یعنی چچا کے بیٹے کے معنی میں بھی آتا ہے، اس لیے صاحب جلالین نے موالیْکُمْ کا ترجمہ بنو عمّکم کیا ہے یعنی چچازاد کہہ کر پکار لو۔ (وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ ) (اور جو کچھ تم سے خطا ہوجائے اس کے بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں) تم سے بھول چوک ہوجائے اور منہ سے بیٹا بنانے والے کی طرف نسبت کر بیٹھو تو اس پر گناہ نہیں ہے۔ (وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ ) (لیکن اس حکم کی خلاف ورزی قلبی ارادہ کے ساتھ قصداً ہوجائے تو یہ مواخذہ کی بات ہے) (وَکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے) گناہ ہوجائے تو مغفرت طلب کرو اور توبہ کرو۔ ضروری مسائل مسئلہ : اگر کسی لڑکے یا لڑکی کو کوئی شخص لے کر پال لے اور بیٹا بیٹی کی طرح اس کی پرورش کرے جیسا کہ بعض بےاولاد ایسا کرلیتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے لیکن حقیقی ماں باپ، بہن اور دیگر رشتہ داروں سے اس کا تعلق حسب سابق باقی رہنے دیں، شرعی اصول کے مطابق آنا جانا ملنا جلنا جاری رہے قطع رحمی نہ کی جائے۔ مسئلہ : قرآن مجید میں بتادیا کہ مُتَبَنّٰی یعنی منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوجاتا لہٰذا اس کو پالنے والے مرد یا عورت کی میراث نہیں ملے گی، بعض مرتبہ کسی کو بیٹا بیٹی بنا لینے کے بعد اپنی اولاد پیدا ہوجاتی ہے اور اولاد کے علاوہ دیگر شرعی ورثاء بھی ہوتے ہیں پس سمجھ لیا جائے کہ میراث اسی اصل ذاتی اولاد اور دیگر شرعی ورثاء کو ملے گی منہ بولے بیٹے بیٹی کا اس میں کوئی حصہ نہیں، البتہ منہ بولے بیٹے کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے جو تہائی مال سے زیادہ نہ ہو اور اس وصیت کرنے میں اصل وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی نیت نہ ہو۔ مسئلہ : منہ بولا بیٹا بیٹی چونکہ اپنے حقیقی بیٹا بیٹی نہیں بن جاتے اس لیے اگر وہ محرم نہیں ہیں تو ان سے وہی غیر محرم والا معاملہ کیا جائے گا اور سمجھدار ہوجانے پر پردہ کرنے کے احکام نافذ ہوں گے، ہاں اگر کسی مرد نے بھائی کی لڑکی لے کر پال لی تو اس سے پردہ نہ ہوگا یا اگر کسی عورت نے بہن کا لڑکا لے کر پال لیا تو اس سے بھی پردہ نہ ہوگا کیونکہ دونوں صورتوں میں محرم ہونے کا رشتہ سامنے آگیا، ہاں جس کا رشتہ محرمیت نہ ہوگا اس سے پردہ ہوگا، مثلاً کسی عورت نے اپنے بھائی یا بہن کی لڑکی لے کر پال لی جس کا عورت کے شوہر سے کوئی رشتہ محرمیت نہیں ہے تو اس مرد کے حق میں وہ غیر ہوگی اس سے پردہ ہوگا۔ مسئلہ : کسی نے کسی کو منہ بولا بیٹا بنایا اور اس بیٹا بنانے والے کی لڑکی بھی ہے تو اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ حرمت نکاح کا کوئی دوسرا سبب نہ ہو۔ مسئلہ : اگر کسی نے کسی نامحرم کو اپنا بیٹا بنایا اور اس لڑکے کی کسی لڑکی سے شادی کردی پھر یہ لڑکا مرگیا یا طلاق دے دی تو اس بیٹا بنانے والے شخص سے مرنے والے کی بیوی کا نکاح ہوسکتا ہے بشرطیکہ کوئی دوسری وجہ حرمت نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو اپنا بیٹا بنالیا تھا پھر بڑا ہوجانے پر اپنی پھوپھی کی لڑکی حضرت زینب بنت جحش ؓ سے ان کا نکاح کردیا تھا، جب انہوں نے طلاق دے دی تو آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا، اس پر عرب کے جاہلوں نے اعتراض کیا کہ دیکھو بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا، (جس کا تذکرہ اس سورت کے پانچویں رکوع میں آ رہا ہے، انشاء اللہ) ان لوگوں کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے (وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ) فرما دیا (کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنا دیا تھا۔ ) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ﷺ کہا کرتے تھے۔ جب آیت (وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ) نازل ہوئی تو ہم نے ایسا کہنا چھوڑ دیا۔ مسئلہ : دوسروں کے بچوں کو شفقت اور پیار میں جو بیٹا کہہ کر بلا لیتے ہیں جبکہ ان کا باپ معروف و مشہور ہو تو یہ جائز تو ہے لیکن بہتر نہیں ہے۔ مسئلہ : جس طرح کسی کے منہ بولے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانے والے کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح اس کی بھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی کو اپنا باپ بنائے یا بتائے یا کاغذات میں لکھوائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔ (رواہ البخاری عن سعد بن ابی وقاص) آج کل جو لوگوں میں اپنا نسب بدلنے، جھوٹا سید بننے یا اپنی قوم و قبیلہ کے علاوہ کسی دوسرے قبیلہ کی طرف منسوب ہونے کا رواج ہوگیا ہے یہ حرام ہے ایسا کرنے والے حدیث مذکور کی وعید کے مستحق ہیں۔ مسئلہ : اگر کسی عورت نے زنا کیا اور اس سے حمل رہ گیا پھر جلدی سے کسی سے نکاح کرلیا اور اس طرح سے اس شوہر کا بچہ ظاہر کردیا جس سے نکاح کیا ہے تو یہ بھی حرام ہے، اور اگر کسی شخص کا واقعی بچہ ہے اور وہ اس کا انکار کرے تو یہ بھی حرام ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی عورت کسی قوم میں کسی ایسے بچے کو شامل کردے جو ان میں سے نہیں ہے تو اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اللہ اسے ہرگز اپنی جنت میں داخل نہ فرمائے گا، اور جس کسی مرد نے اپنے بچے کا انکار کردیا حالانکہ وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنی رحمت سے دور فرما دے گا اور اسے (قیامت کے دن) اولین و آخرین کے سامنے رسوا کرے گا۔ (رواہ ابو داؤد)
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

مومنین سے نبی کا تعلق اس سے زیادہ ہے جو ان کا اپنے نفسوں سے ہے اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں، اور رشتہ دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھنے والے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین مہاجرین کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کچھ اچھا سلوک کرنا چاہو یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔

مومنین سے نبی کا تعلق اس سے زیادہ ہے جو ان کا اپنے نفسوں سے ہے اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس آیت میں بظاہر چار باتیں بتائی ہیں، اول یہ کہ نبی اکرم ﷺ کو مومنین سے جو تعلق ہے وہ اس تعلق سے بھی زیادہ ہے جو مومنین کو اپنی جانوں سے ہے، اس میں بہت سے مضامین آجاتے ہیں، اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو ایمان والوں کے ساتھ جو رحمت اور شفقت کا تعلق ہے وہ اتنا زیادہ ہے کہ مومنین کو بھی اپنی جانوں سے رحمت و شفقت کا اتنا تعلق نہیں ہے، اس کا کچھ بیان سورة توبہ کی آیت کریمہ (لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے وہاں آپ ﷺ کی رحمت اور شفقت کے بارے میں بعض احادیث گزر چکی ہیں، آپ ﷺ کو یہ گوارہ نہ تھا کہ کسی مومن کو کوئی بھی تکلیف پہنچ جائے، آپ ﷺ نے کبھی کسی کو دینی ضرورت سے غصہ میں کچھ فرما دیا تو اس کو بھی رحمت بنا دیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بارگاہ خداوندی میں یوں دعا کی : (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَھْدًا لَنْ تُخْلِفَنِیْہِ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ اٰذَیْتُہٗ شَتَمْتُہٗ لَعَنْتُہٗ جَلَدْتُّہٗ فَاجْعَلْھَا لَہٗ صَلوٰۃً زَکٰوۃً تُقَرَّبَہٗ بِھَا اِلَیْکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) ” اے اللہ ! میں آپ سے ایک درخواست کرتا ہوں جو امید ہے کہ آپ ضرور ہی قبول فرمائیں گے وہ یہ کہ میں ایک انسان ہوں پس جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی، برا بھلا کہا، لعنت کی، کوڑا مارا تو میرے اس عمل کو آپ اس کے لیے رحمت اور پاکیزگی اور اپنی نزدیکی کا ذریعہ بنا دیں جس کے ذریعہ آپ قیامت کے دن اس کو اپنے قرب سے نواز دیں۔ “ رسول اللہ ﷺ کی شفقت عامہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب کسی ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے کے لیے لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ ﷺ دریافت فرماتے تھے کہ اس نے ادائیگی کا انتظام چھوڑا ہے یا نہیں ؟ اگر جواب میں عرض کیا جاتا کہ اس نے ادائیگی کا انتظام چھوڑا ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے تھے اور اگر یہ بتایا جاتا کہ اس نے قرض کی ادائیگی کا انتظام نہیں چھوڑا تو فرماتے تھے کہ تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (یہ طریقہ آپ ﷺ نے اس لیے اختیار فرمایا تھا کہ لوگوں پر قرضدار ہو کر مرنے کی شناعت و قباحت ظاہر ہوجائے کہ دیکھو حضور نے اس کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھی) پھر جب اللہ نے آپ پر فتوحات کے دروازہ کھول دئیے تو آپ ﷺ بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا (اَنَا اَوْلیٰ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ) (مجھے مومنین سے اس سے زیادہ تعلق ہے جتنا انہیں ان کی جانوں سے ہے) لہٰذا مومنین میں سے جس کسی شخص کی وفات ہوجائے اور وہ اپنے اوپر قرضہ چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ کسی مسلمان کو کوئی بھی تکلیف نہ ہو نہ دنیا میں نہ آخرت میں، آپ ﷺ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اور بتایا اور تعلیم دی اس میں مومنین کے لیے خیر ہی خیر ہے جبکہ خود مومن بندے کبھی اپنی رائے کی غلطی سے اور کبھی کسی خواہش سے متاثر ہو کر دنیا و آخرت میں اپنی جانوں کو تکلیف پہنچانے والے کام بھی کر گزرتے ہیں، آپ ﷺ نے اپنی مثال دے کر سمجھایا اور فرمایا کہ میری مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب آگ نے اپنا آس پاس روشن کردیا تو پروانے اور یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے جو آگ میں گرا کرتے ہیں اس میں گرنے لگے، آگ جلانے والا انہیں روکتا ہے اور وہ اس پر غالب ہوجاتے ہیں اور اس میں داخل ہوجاتے ہیں، میری اور تمہاری مثال ایسی ہے میں دوزخ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں کو پکڑتا ہوں کہ آجاؤ آگ سے بچو آگ سے بچو پھر تم مجھ پر غلبہ پاجاتے ہو (یعنی ایسے کام کرتے ہو جو دوزخ میں جانے کا سبب ہوجاتے ہیں۔ ) (رواہ مسلم جلد 2 ص 248) رسول اللہ ﷺ کی کوشش تو یہی رہی کہ امت مسلمہ کا کوئی شخص بھی دوزخ میں نہ جائے لیکن دنیا داری کی وجہ سے اور نفس کی خواہشوں کے دباؤ سے لوگ گناہ کرکے عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہاں تو آپ ﷺ نے اپنی امت کو خیر خواہی کے لیے محنت کی ہی تھی آخرت میں سفارش بھی کریں گے، آپ ﷺ کی شفقت میں نہ یہاں کمی رہی نہ وہاں ہوگی، البتہ امت کو بھی اپنی جانوں کو عذاب آخرت سے بچانے کے لیے فکر رکھنا چاہیے۔ آپ ﷺ نے تو یہاں تک کیا کہ امت کی خیر خواہی کے لیے یقیناً مقبول ہونے والی دعا کو آخرت میں فائدہ پہنچانے کے لیے محفوظ فرمالیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کے لیے ایک دعائے مستجاب ہے (یوں تو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) بہت سی دعائیں کرتے تھے جو مقبول ہوا کرتی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اختیار دیا گیا تاکہ کوئی سی ایک دعاء کرلو جو ضرور ہی قبول ہوگی) لہٰذا ہر نبی نے اپنی اس دعا کو دنیا میں استعمال کرلیا اور میں نے یہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن تک چھپا کر رکھ لی ہے سو میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچ جائے گی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کیا ہو۔ (رواہ مسلم) ازواج مطہرات ؓ کا اکرام و احترام دوسری بات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ ) (کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں ایمان والوں کی مائیں ہیں) یعنی ان کا اکرام و احترام واجب اور لازم ہے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد امت کے کسی فرد کے لیے یہ حلال نہیں کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی سے نکاح کرسکے، جیسا کہ اسی سورت کے رکوع نمبر 7 میں (وَلاَ اَنْ تَنْکِحُوْا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَدًا) فرمایا ہے لیکن پردہ کے اعتبار سے وہ حکم نہیں تھا جو اپنی ماؤں سے ہے، جیسا کہ اسی سورت میں فرمایا ہے (وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ ) (اور جب تم ان سے کوئی سامان طلب کرو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۔ ) رشتہ داری کے اصول مقررہ کے مطابق میراث تقسیم کی جائے تیسرا حکم بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ ) (اور رشتہ دار اللہ کی کتاب میں بہ نسبت دوسرے مومنین مہاجرین کے زیادہ قریب تر ہیں) جب حضرات صحابہ ؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو حضور اقدس ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات فرما دی تھی یعنی بعض کو بعض کا بھائی بنا دیا تھا، بھائی بن جانے کی وجہ سے ایک دوسرے کی خصوصی رعایت اور خدمت کے جذبات پیدا ہوگئے تھے اور یہ تعلق یہاں تک تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے پر آپس میں میراث بھی جاری ہوتی تھی، اس آیت میں اور سورة انفال کی آخری آیت میں اس اخوت والی میراث کو منسوخ فرما دیا اور یہ ارشاد فرمایا کہ آپس میں رشتہ داریاں ہیں اب انہیں ان کی بنیاد پر حسب قواعد شرعیہ میراث ملے گی۔ چوتھی بات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِلاَّ اَنْ تَفْعَلُوْآ اِلآی اَوْلِیٰٓءِکُمْ مَّعْرُوْفاً ) (مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرو) یعنی غیر رشتہ داروں میں میراث تو جاری نہ ہوگی (بلکہ سب رشتہ داروں میں بھی جاری نہیں ہوتی) البتہ جس کو بھی شرعی اصول سے میراث نہ پہنچتی ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، مالی امداد کردی جائے، اس کی حاجتیں پوری کرنے کی کوشش کی جائے، (مثلاً بطور ہبہ یا صدقہ یا میراث شرعی اصول کے مطابق دے دی جائے) تو یہ دوسری بات ہے، یہ چیز نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ مستحب و مستحسن اور باعث اجر وثواب ہے۔ (کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا) (یہ اللہ کی کتاب میں لکھا ہوا ہے) بعض حضرات نے یہاں کتاب سے لوح محفوظ مراد لی ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ لوح محفوظ میں یہ لکھا ہے کہ ہجرت کی وجہ سے جو توارث مشروع ہوگا وہ منسوخ ہوجائے گا۔ اور آخری حکم توارث بالارحام یعنی رشتہ داریوں کے اصول پر میراث دینے کا حکم باقی رہے گا، اور بعض حضرات نے کتاب سے آیت المواریث اور بعض حضرات نے یہی آیت مراد لی ہے۔ صاحب روح المعانی نے ایک اور احتمال نکالا ہے وہ فرماتے ہیں : (او فیما کتبہ سبحانہ و تعالیٰ وفرضہ وقضاہُ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرض فرما دیا اور فیصلہ فرما دیا کہ اب میراث رشتہ داری کے اصول ہی پر منحصر رہے گی، یہ کتاب اللہ ہے۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا اقرار لیا اور آپ سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لے لیا

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے عہد لینا اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے جو عہد لیا تھا اس آیت میں اس کا ذکر ہے، تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا عمومی اور حضرت خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ بن مریم کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا ہے، ان حضرات کی محنتیں اپنی اپنی امتوں کو تبلیغ کرنے سے متعلق بہت زیادہ تھیں، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ان حضرات کی فضیلت زائدہ ظاہر فرمانے اور یہ بتانے کے لیے کہ یہ حضرات گذشتہ اصحاب شرائع والے انبیاء ( علیہ السلام) میں مشہور ہیں ان حضرات کا خصوصی تذکرہ فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی ؓ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ آپ ﷺ کی تخلیق مقدم تھی اس لیے ذکر میں آپ ﷺ کی تقدیم فرمائی، اور اس بارے میں ضیاء الدین مقدسی کی کتاب المختارہ سے ایک مرفوع حدیث بھی نقل کی ہے : (بدئ بی الخلق وکنت اٰخرھم فی البَعْثِ ) (مخلوق کی پیدائش کی ابتداء مجھ سے کی گئی اور میں بعثت میں سب انبیاء سے آخری ہوں) اور ایک حدیث یوں نقل کی ہے : (کنت اول النبیین فی الخلق واٰخرھم فی البعث) (میں پیدائش کے لحاظ سے تمام انبیاء سے اول ہوں اور بعثت کے لحاظ سے آخری ہوں) (یہ حدیث علامہ سیوطی ؓ نے خصائص کبریٰ (ص 3) میں بھی نقل کی ہے) نیز یہ بھی لکھا ہے کہ چونکہ آپ سب سے پہلے نبوت سے سرفراز کیے گئے تھے اس لیے بھی آپ ﷺ کا ذکر مقدم کیا گیا۔ اس بارے میں اور بھی متعدد روایات ہیں جنہیں علامہ سیوطی ؓ نے خصائص کبریٰ میں مختلف کتابوں سے جمع کیا ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح ص 513 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے بحوالہ سنن ترمذی نقل کیا ہے کہ حضرات صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی نبوت کب ثابت ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا (وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ ) (یعنی میرے لیے اس وقت نبوت ثابت ہوگئی تھی جب آدم روح و جسم کے درمیان تھے) اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ میں اس وقت اللہ کے نزدیک خاتم النّبیین لکھا ہوا تھا جب آدم اپنی مٹی ہی میں تھے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے کیا عہد لیا جس کا اس آیت شریف میں ذکر ہے، اس کے بارے میں صاحب روح المعانی (جلد 21 ص 154) لکھتے ہیں (ای واذکر وقت اخذنا من النبیین کافۃ عھودھم بتبلیغ الرسالۃ والشرائع والدعاء الی الدین الحق) (یعنی اس وقت کو یاد کیجیے جب ہم نے تمام نبیوں سے یہ عہد لیا کہ رسالت کی تبلیغ کریں گے، احکام شریعت پہنچائیں گے اور دین حق کی طرف بلائیں گے) مشکوٰۃ المصابیح ص 24 پر مسند احمد سے نقل کیا ہے جو حضرت ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ) (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) فرمایا تو سب نے بَلٰی کہا یعنی اقرار کیا کہ ہاں واقعی آپ ہمارے رب ہیں، اسی موقعہ پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ایک خصوصی عہد لیا گیا جو رسالت اور نبوت کے بارے میں تھا جو آیت (مذکورہ بالا) (وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ ) میں مذکور ہے۔ سورۂ آل عمران رکوع نمبر 9 میں بھی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے عہد لینے کا ذکر ہے اس کا بھی مطالعہ کرلیا جائے۔ (وَ اَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا) (اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا) جس عہد کا شروع آیت میں ذکر ہے بطور تاکید اسی کو دوبارہ ذکر فرمایا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ پہلے مذکورہ بالا عہد لینے کے بعد پھر اللہ کی قسم دلا کر دوبارہ عہد لیا جسے (مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا) سے تعبیر فرمایا۔ (ذکرہ فی الروح)
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال فرمائے اور اس نے کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار فرمایا ہے۔

(لِّیَسْءَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِھِمْ ) (تاکہ اللہ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال فرمائے) اس میں میثاق لینے کی حکمت بیان فرمائی اور مطلب یہ ہے کہ یہ میثاق اس لیے لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نبیوں سے دریافت فرمائے جو عہد کرنے میں سچے تھے کہ تم نے اپنے عہد کے مطابق اپنی امتوں کو تبلیغ کی یا نہیں ؟ صحیح بخاری جلد 2 ص 465 میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت نوح (علیہ السلام) کو لایا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تم نے تبلیغ کی ؟ تو وہ عرض کریں گے کہ اے رب میں نے واقعتہً تبلیغ کی، پھر ان کی امت سے سوال ہوگا کہ کیا انہوں نے تمہیں میرے احکام پہنچائے ؟ وہ کہیں گے نہیں ! ہمارے پاس تو کوئی نذیر (ڈرانے والا) نہیں آیا، اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے دعوے کی تصدیق کے لیے گواہی دینے والے کون ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے امتی ہیں۔ یہاں تک بیان فرمانے کے بعد آنحضرت سید دو عالم ﷺ نے اپنی امت کو خطاب کرکے فرمایا کہ اس کے بعد تم کو لایا جائے گا اور تم گواہی دو گے کہ بیشک حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تھی۔ مسند احمد وغیرہ کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے علاوہ دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتیں بھی انکاری ہوں گی اور کہیں گی کہ ہم کو تبلیغ نہیں کی گئی، ان کے نبیوں سے سوال ہوگا کہ تم نے تبلیغ کی ؟ وہ اثبات میں جواب دیں گے کہ واقعی ہم نے تبلیغ کی تھی، اس پر ان سے گواہ طلب کیے جائیں گے تو وہ بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کی گواہی پیش کریں گے۔ (درمنثور جلد 1 ص 144) حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سے یہ سوال ان کی امتوں کے سامنے ہوگا تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سچے تھے اور ان کے ماننے والے اپنے ایمان میں سچے تھے ان کے بارے میں سورة مائدہ کے آخری رکوع میں فرمایا (قَال اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ) (یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دے گی) جن لوگوں نے سچ کو جھٹلایا ان کے بارے میں فرمایا (وَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا) (اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار فرمایا) سورة زمر میں فرمایا (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بالصِّدْقِ اِِذْ جَاءَہُ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ) (سو اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور سچ کو جھٹلایا جب اس کے پاس آیا، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ )
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت جو تمہیں ملی ہے اسے یاد کرو جبکہ تمہارے پاس لشکر آگئے، سو ہم نے ان پر ہوا بھیج دی اور لشکر بھیج دئیے جنہیں تم نے نہیں دیکھا، اور اللہ ان کے کاموں کو دیکھنے والا ہے جو تم کرتے ہو،

غزوہ احزاب کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کی مدد اور کفار کی جماعت کی بدحالی اور بدحواسی اس رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر ہے جسے غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے، یہ 5 ہجری کا واقعہ ہے، تھوڑی سی تمہید کے بعد اس غزوہ کی تفصیل نقل کی جاتی ہے۔ مدینہ منورہ میں زمانہ قدیم سے یہودی رہتے تھے اور دو قبیلے یمن سے آکر آباد ہوگئے تھے جن میں سے ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام خزرج تھا، انہیں خبر دی گئی تھی کہ نبی آخر الزمان خاتم النبیین ﷺ اس شہر میں تشریف لائیں گے، یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کا اتباع کرنے کے لیے یہاں آکر بس گئے تھے۔ جب حضور انور ﷺ نے حج کے موقع پر اوس اور خزرج کو منیٰ میں ایمان لانے کی دعوت دی تو وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ یہودیوں کے سامنے حق ظاہر ہوگیا تب بھی ایمان نہ لائے (فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ کَفَرُوْا بِہٖ ) یہودیوں کے تین قبیلے مدینہ منورہ میں آباد تھے ان میں سے ایک بنی قینقاع اور دوسرا بنی نضیر اور تیسرا بنی قریظہ تھا۔ جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ان تینوں سے تعاون اور تناصر کا معاہدہ فرمالیا تھا۔ بنی نضیر کا یہ واقعہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ دو مقتولین کی دیت کے سلسلہ میں ان کے پاس تشریف لے گئے، یہودیوں نے کہا کہ آپ تشریف رکھئے ہم اس بارے میں مالی تعاون کریں گے، ادھر تو آپ ﷺ سے یہ کہا اور ادھر یہ مشورہ کیا کہ کوئی شخص اوپر چڑھ کر ان کے اوپر بھاری پتھر گرا دے، یہود میں سے ایک شخص نے اس کا ارادہ اور وعدہ کرلیا اور پتھر گرانے کے لیے اوپر چڑھ گیا، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کے مشورے سے مطلع فرما دیا اور آپ ﷺ جلدی سے واپس تشریف لے آئے اور آپ نے محمد بن مسلمہ ؓ کو یہود کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ تم لوگ مدینہ منورہ چھوڑ دو اور یہاں سے چلے جاؤ، منافقین نے یہودیوں کو بھڑکایا اور کہا تم یہیں رہو اور ہرگز مت جاؤ ہم تمہاری مدد کریں گے، اس سے ان کو تقویت پہنچ گئی اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ ہم مدینہ سے نہیں نکلیں گے اور ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد ہے وہ بھی توڑتے ہیں، جب ان کی طرف سے یہ پیغام آیا تو آپ ﷺ نے ان سے جہاد کرنے کی تیاری کی اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ کو نائب بناکر اور دیگر صحابہ کرام ؓ کو ساتھ لے کر بنو نضیر کے محلہ کی طرف روانہ ہوگئے (یہ محلہ شہر سے ذرا دور تھا) آپ ﷺ وہاں پہنچے تو وہ لوگ قلعہ بند ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا، منافقین نے یہودیوں کو خبر بھیجی کہ تم ڈٹے رہنا ہم تمہیں بےیارو مددگار نہیں چھوڑیں گے، اگر تم سے جنگ ہوئی تو ہم بھی ساتھ لڑیں گے مگر انہوں نے کچھ بھی مدد نہ کی لہٰذا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ ہمیں جلا وطن کردیں مگر قتل نہ فرمائیں اور ہمیں ہتھیار بھی نہ لے جانے دیں، اس کے علاوہ جتنا سامان اونٹوں پر لے جاسکیں اسے لے جانے کی اجازت دیں، آپ نے انہیں جلاوطن کرنا منظور فرمالیا اور حکم فرمایا کہ تین دن میں مدینہ منورہ سے نکل جاؤ، وہ لوگ مدینہ منورہ سے نکل کرخیبر میں آباد ہوگئے اور بعض لوگ شام چلے گئے (بطور تمہید یہ واقعہ ہم نے البدایہ والنہایہ جلد 4 ص 75 سے نقل کیا ہے، مفصل قصہ انشاء اللہ سورة الحشر کی تفسیر میں بیان کریں گے) یہود نے جو اموال چھوڑے وہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں تقسیم فرما دئیے، یہ 4 ہجری کا واقعہ ہے۔ غزوۂ احزاب کا مفصل واقعہ اب غزوہ احزاب کا واقعہ سنئے اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ بنو نضیر کو جب حضور انور ﷺ نے مدینہ منورہ سے جلا وطن کردیا تو وہ وہاں جاکر بھی شرارتوں سے اور اپنی یہود والی بیہودگیوں سے باز نہ آئے، ان کے چودھری مکہ معظمہ میں پہنچے اور قریش مکہ سے کہا کہ آؤ ہم تم مل کر داعی اسلام ﷺ سے جنگ کریں اور ان کو ان کے کام کو اور ان کے ساتھیوں کو سب کو ختم کردیں۔ قریش مکہ نے کہا (جو مشرک تھے) کہ تم اہل کتاب ہو، سچ بولو ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا دین بہتر ہے ؟ ان لوگوں نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ دین شرک کو دین توحید سے بہتر بتایا اور قریش سے کہہ دیا کہ تمہارا دین محمد ﷺ کے دین سے بہتر ہے، یہ بات سن کر قریش بہت خوش ہوئے اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لیے آمادہ ہوگئے، اس کے بعد یہودیوں کے سردار قبیلہ بنی غطفان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ دیکھو محمد ﷺ سے جنگ کرنا ہے قریش مکہ نے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا ہے تم لوگ بھی ہمارے ساتھ جنگ میں شریک ہوجاؤ تاکہ اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہی ختم ہوجائے، ان کے علاوہ دیگر قبائل کی جماعتیں بھی جنگ کرنے کے لیے تیار ہوگئیں۔ دشمنوں سے حفاظت کے لیے خندق کھودنا رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کے ارادہ بد کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے حضرات صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا، حضرت سلمان فارسی ؓ نے مشورہ دیا کہ مدینہ منورہ کے باہر خندق کھود لی جائے، انہوں نے بتایا کہ اہل فارس دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے یہ تدبیر اختیار کرتے ہیں، چناچہ خندق کھودی گئی جو مدینہ منورہ کے اس جانب تھی جدھر سے دشمنوں کے آنے کا اندیشہ تھا، اس خندق کی کھدائی میں سید دو عالم ﷺ خود شریک ہوئے، سردی کا موسم تھا اور ہر طرف سے خوف ہی خوف تھا، سید دو عالم ﷺ نے خود ہی خط کھینچ کر خندق کی حدود مقرر فرمائیں اور ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ کا رقبہ کھودنے کے لیے دیا، (بعض حضرات نے اس خندق کی لمبائی ساڑھے تین میل بتائی ہے) حضرت سلمان فارسی ؓ بڑے قوی اور تندرست آدمی تھے ان کے متعلق مہاجرین و انصار میں اختلاف ہوا، انصار نے کہا کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین نے کہا کہ ہم میں سے ہیں ان کو ہمارے ساتھ قطعہ کھودنے کے لیے دیا جائے، یہ سن کر سید دو عالم ﷺ نے فرمایا (سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلِ الْبَیْتِ ) (یعنی سلمان نہ مہاجرین میں سے ہیں نہ انصار میں سے ہیں بلکہ وہ ہمارے اہل بیت میں سے ہیں) جب دشمنوں کی جماعتیں مدینہ طیبہ کے قریب پہنچیں جن کی تعداد دس بارہ ہزار تھی تو انہوں نے خندق کھدئی ہوئی پائی اور کہنے لگے یہ تو عجیب دفاعی تدبیر ہے جسے اہل عرب نہیں جانتے تھے، وہ لوگ خندق کے اس طرف رہ گئے اور رسول اللہ ﷺ خندق کے اس طرف تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ جبل سلع کی طرف پشت کرکے قیام پذیر ہوگئے اور عورتوں اور بچوں کو حفاظت کی جگہوں یعنی قلعوں میں محفوظ فرما دیا۔