33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔ بےشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

یا یھا النبی اتق اللہ . اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ نبی کے لفظ سے خطاب کر کے تقویٰ کا حکم دیا ‘ محمد نہیں فرمایا ‘ اس سے تقویٰ کی اہمیت اور عظمت بتانا مقصود ہے کہ نبی ﷺ کو بھی اللہ سے ڈرنا اور تقویٰ رکھنا ضروری ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ان آیات کا نزول ابو سفیان بن حرب ‘ عکرمہ بن ابوجہل اور ابوالاعور ‘ عمرو بن سفیان سلمی کے حق میں ہوا۔ جنگ اہد کے بعد یہ تینوں شخص مدینہ میں آکر سر گروہ منافقین عبد اللہ بن ابی کے پاس ٹھہرے (اور رسول اللہ سے گفتگو کرنے کی درخواست کی) حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ چناچہ عبد اللہ بن ابی ‘ عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ سے درخواست کی کہ آپ لات ‘ عزیٰ اور مناۃ کا تذکرہ چھوڑ دیجئے ‘ ہمارے ان معبودوں کا ذکر برائی کے ساتھ نہ کیجئے اور یہ کہہ دیجئے کہ جو شخص ان کو پوجے گا ‘ یہ معبود اس کی شفاعت کریں گے۔ اگر آپ ایسا کرلیں گے تو ہم آپ کے اور آپ کے رب کا ذکر برائی کے ساتھ نہیں کریں گے اور آپ کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس وقت حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ کے پاس موجود تھے۔ حضور ﷺ کو کافروں کی یہ بات بہت شاق گزری۔ حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان کو قتل کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں ان کو امن دے چکا ہوں۔ پھر فرمایا : نکل جاؤ ‘ تم پر اللہ کی لعنت اور غضب۔ چناچہ حضور ﷺ نے ان کو مدینہ سے نکال دینے کا حکم دے دیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ خطاب کا رخ اگرچہ رسول اللہ کی طرف ہے لیکن تقویٰ کا حک مامت کو دینا مقصود ہے۔ ضحاک نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ سے ڈریں اور ان لوگوں سے آپ نے جو عہد کیا ہے ‘ اس کو نہ توڑیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ امر بالتقویٰ سے مراد ہے تقویٰ پر قائم رہنے کا حکم تاکہ دوسرے ممنوعات سے بازداشت ہوجائے۔ ولا تطع الکفرین . اور ان کافروں کا کہا نہ مانیں۔ یعنی عکرمہ ‘ ابو سفیان اور ابوالاعور کا کہا نہ مانیں۔ والمنفقین . اور (مدینہ کے) منافقوں کا بھی کہا نہ مانیں۔ یعنی عبد اللہ بن ابی ‘ عبد اللہ بن سعد اور طعمہ بن ابیرق کی بات نہ مانیں۔ ان اللہ کان علیما حکیما بیشک اللہ علیم و حکیم ہے۔ یعنی اپنی مخلوق کو جانتا ہے ‘ مخلوق کے مصالح و مفاسد سے واقف ہے اور اپنی حکمت کے مطابق حکم دیتا ہے۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اُسی کی پیروی کئے جانا۔ بےشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے

واتبع ما یوحی الیک من ربک . اور آپ کے رب کی طرف سے جو وحی آپ کے پاس آتی ہے اس کی پیروی کیجئے۔ یعنی توحید و اخلاص پر قائم رہیں۔ یہ جملہ حکم تقویٰ کی تائید اور کفار کی بات ماننے کی ممانعت کی تاکید ہے۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا . اور کوئی شک نہیں کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ یہ خطاب رسول اللہ اور صحابہ کو ہے کیونکہ تقویٰ کے حکم کا روئے سخن رسول اللہ اور امت سب کی طرف تھا اگرچہ صیغۂ مفرد کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس تشریح پر یہ جملہ امتثال حکم کی تاکید کا حامل ہوگا تاکہ سزا کا خوف اور جزا کی رغبت پیدا ہو اور دونوں جذبات کے زیر اثر امتثال امر کیا جائے۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

و توکل علی اللہ . اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھئے۔ وکفی باللہ وکیلا . اور (تمام امور کا) اللہ پورا ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کافی ہے۔ یہ حکم تَوَکُّل کا تتمہ ہے۔ زجاج نے کہا : یہ جملہ خبریہ ہے لیکن امر کے معنی میں ہے یعنی بمعنی انشاء ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذمہ داری کافی ہے ‘ آپ اس پر پورا کافی اعتماد رکھیں یعنی اللہ کی قدرت کامل ہے ‘ اس کا علم کامل ہے اور اس کی رحمت کاملہ ہے۔ تمام امور اسی کے سپرد ہیں ‘ کسی دوسرے کو سپرد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ (تمام باتیں جانتے ہوئے بھی) کوئی اپنے امور کو کسی غیر کے سپرد کرتا ہے تو وہ احمق ہے ‘ سبک سر ہے۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے

ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ . اللہ نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے۔ دل ‘ روح حیوانی اور تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے اسی وجہ سے ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے۔ اگر بالفرض دو دل ہوں تو وہ یا ایک دل سے سارے قلبی افعال سرانجام دے گا ‘ اس صورت میں دوسرا دل بےکار ہوگا ‘ یا دونوں دلوں سے ایک ہی کام کرے گا تب بھی دو ہونے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی ‘ یا ایک دل سے ایک کام اور دوسرے دل سے پہلے کام کے خلاف کام لے گا اس سے افعال قلبی میں کھلا ہوا تناقض پیدا ہوجائے گا۔ بغوی اور ابن ابی حاتم نے سدی اور ابن نجیح کی روایت سے مجاہد کا قول بیان کیا ہے کہ ایک شخص تھا ابومعمر جمیل بن معمر فہری ‘ اس شخص کی سمجھ بھی تیز تھی اور حافظہ بھی اتنا قوی کہ جو کچھ سنتا تھا ‘ یاد کرلیتا تھا۔ قریش کہتے تھے کہ ابومعمر کا جو حافظہ اتنا قوی ہے اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے دو دل ہیں۔ وہ خو بھی کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں۔ محمد ﷺ جو کچھ سمجھتے ہیں ‘ اس سے زیادہ سمجھ تو میرے ہر ایک دل میں ہے۔ میں ایک دل سے بھی ان سے زیادہ جانتا اور بہتر جانتا ہوں ‘ اس کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ بدر کے دن جب قریش کو شکست ہوگئی تو ابومعمر بھی بھاگ کھڑا ہوا ‘ ایک پاؤں میں جوتی تھی اور دوسری جوتی ہاتھ میں تھی۔ اسی حالت میں ابو سفیان کا سامنا ہوگیا تو ابو سفیان نے پوچھا : ابو معمر ! لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ابو معمر نے کہا : شکست کھا گئے۔ ابو سفیان نے کہا : تیرا یہ کیا حال ہے کہ ایک جوتی پاؤں میں اور ایک ہاتھ میں ہے۔ ابو معمر نے کہا : ارے ! میں تو دونوں جوتیاں پاؤں میں سمجھا تھا۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس کے دو دل نہیں ہیں ‘ اگر دو دل ہوتے تو ہاتھ میں پکڑی ہوئی جوتی کو نہ بھولتا۔ ابن ابی حاتم نے بسند ضعیف سعید بن جبیر اور مجاہد اور عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص تھا جس کو دو دل والا کہا جاتا تھا ‘ اسی کے بارے میں اس آیت کا نزول ہوا۔ ابن جریر نے بوساطت عوفی حضرت ابن عباس اور بوساطت قتادہ ‘ حسن بصری کا بھی یہی بیان نقل کیا ہے۔ اس بیان میں اتنا زائد ہے کہ وہ شخص کہتا تھا کہ میرا ایک دل مجھے (کسی کام کو) کرنے کا حکم دیتا ہے اور دوسرا دل منع کرتا ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے اور اس کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ایک بار کھڑے ہوئے ‘ اس وقت آپ کے دل میں کسی بات کا خطرہ پیدا ہوا۔ منافق جو آپ کے پاس اس وقت موجود تھے ‘ کہنے لگے : دیکھو ! اس شخص کے دو دل ہیں ‘ ایک تمہارے ساتھ ہے اور دوسرا اپنے رفیقوں کے ساتھ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ زہری اور مقاتل نے کہا : آیت میں کوئی دو دل والا آدمی مراد نہیں ہے ‘ نہ ظاہری ترجمہ مراد ہے بلکہ بطور مثال اللہ نے اس شخص کی حالت بیان کی ہے جو اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے اور اس شخص کی کیفیت بیان کی ہے جو دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنا لیتا ہے (ایک دل سے وہ بیوی اور دوسرے دل سے اسی کو ماں کہہ دیتا ہے۔ اسی طرح کبھی کسی لڑکے کو اپنا بیٹا کہتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اس کا بیٹا نہیں کسی اور کا بیٹا ہے) گویا کہنا یہ مقصود ہے کہ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے ‘ اسی طرح ظہار کرنے والے کی بیوی اس کی ماں نہیں ہوجاتی اور منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا۔ وما جعل ازواجکم الی تظھرون منھن امھتکم . اور نہ اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو ‘ تمہاری مائیں کردیا ہے۔ دور جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی شریعت میں (طلاق نہیں قرار دیا گیا بلکہ) ظہار کرنے والا جب تک کفارہ ادا نہ کرے اس وقت تک بیوی سے قربت صنفی کی ممانعت کردی۔ ظہار کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بی بی کو کہہ دے تو میرے لئے ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ ظہار کے مسائل ہم نے سورة مجادلہ میں بیان کر دئیے ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ظہار میں لفظ ظہر پشت سے بطور کنایہ پیٹ (شکم) مراد ہوتا تھا۔ پشت ہی شکم کا سہارا ہے اس لئے پشت بول کر بطن مراد لیا جاتا تھا۔ یا لفظ ظہار سے شدت حرمت کا اظہار مقصود ہوتا تھا کیونکہ دور جاہلیت میں پشت اوپر کر کے (یعنی پٹ کر کے) عورت سے جماع کو حرام سمجھا جاتا تھا۔ وما جعل ادعیاء کم ابناء کم . اور نہ اللہ نے تمہارے من بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے قرار دیا ہے۔ اَدْعِیَاء خلاف قیاس دَعِی کی جمع ہے۔ اگر فعیل بمعنی مفعول ہو تو اس کی جمع فَعْلٰی کے وزن پر آتی ہے جیسے جَرِیح کی جمع جرحیٰ اس لئے دَعِی کی جمع قیاساً دَعْویٰ آنی چاہئے تھی لیکن جو فعیل بمعنی فاعل ہو اس کی قیاسی جمع افعِلاً کے وزن پر آتی ہے جیسے تَقِی کی جمع اتقِیَاء اور سَخِی کی جمع اسخِیَاء۔ دَعِی اگرچہ فعیل بمعنی مفعول ہے لیکن ایک گونہ اس فعیل سے مشابہت ہے جو بمعنی فاعل ہوتا ہے اس لئے اس کی جمع ادعِیَاء آتی ہے۔ کسی کو بیٹا بنانے سے حقیقی بیٹے کے احکام اس پر جاری نہیں ہوجاتے ‘ نہ وہ میراث کا مستحق قرار پاتا ہے ‘ نہ اس سے نکاح حرام ہوجاتا ہے۔ آیت مذکورہ میں عرب کے ان جاہلی اقوال کی تردید کردی گئی ہے کہ دانشمند ‘ قوی حافظہ والے کے دو دل ہوتے ہیں۔ اور ظہار کرنے سے طلاق بائنہ پڑجاتی ہے۔ اور عورت شوہر کیلئے ہمیشہ کے واسطے ماں کی طرح حرام ہوجاتی ہے اور بنایا ہو ابیٹا حقیقی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے ‘ میراث کا بھی مستحق بن جاتا ہے اور ا سے نکاح بھی حرام ہوجاتا ہے اور بناوٹی بیٹے کے وہ تمام رشتہ دار حرام ہوجاتے ہیں جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں اور حرام ہوتے ہیں (جیسے حقیقی بیٹے کی بیوی ‘ بہن وغیرہ) نبوت سے پہلے رسول اللہ نے حضرت زید بن حارثہ بن شرجیل کلبی کو آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب سے ان کا رشتہ اخوت قائم کردیا تھا۔ حضرت زید نے اپنی بیوی حضرت زینب بنت حجش کو طلاق دے دی اور رسول اللہ نے ان سے نکاح کرلیا۔ منافق کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے خود تو اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا اور دوسروں کو منع کرتے تھے۔ اس پر آیت ذیل اللہ نے نازل فرمائی اور فرمایا۔ ذلکم قولکم بافواھکم . یہ تمہاری زبانی باتیں ہیں۔ یعنی اس کی کوئی واقعی حقیقت نہیں (الفاظ سے حقیقت نہیں بدلتی) ۔ وا اللہ یقول الحق . اور اللہ حق بات کہتا ہے جو واقعی اور سچی ہوتی ہے۔ وھو یھدی السبیل . اور وہی راہ حق دکھاتا ہے۔ حضرت عائشہ راوی ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کی بیوی سہلہ بنت سہل بن عمرو رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ابو حذیفہ کا آزاد کردہ غلام جس کو ابو حذیفہ نے بیٹا بنا لیا ہے ‘ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں اس وقت ایک کپڑا پہنے ہوتی ہوں۔ ہم سالم کو بیٹا ہی سمجھتے ہیں ‘ اس کا کیا حکم ہے ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

ادعوھم لاباءھم . ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو۔ یعنی حقیقی باپوں سے ان کا نسب ملاؤ۔ ھو اقسط عند اللہ . یہی بات اللہ کے نزدیک بڑے انصاف کی ہے۔ اَقْسَطُ اسم تفضیل کا صیغہ ہے لیکن نسبتی زیادتی مراد نہیں ہے بکہ فی نفسہ عدل کی زیادتی مراد ہے ‘ یعنی کامل سچی بات۔ بخاری نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہم زید کو زید بن حارثہ نہیں کہتے تھے بلکہ زید بن محمد کہتے تھے یہاں تک کہ آیت اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عنْدَ اللہ نازل ہوئی (اس کے بعد ہم زید بن حارثہ کہنے لگے) ۔ وان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم . پھر اگر تم کو ان کے باپوں (کے ناموں) سے واقفیت نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دوست ‘ ان کو دینی بھائی اور اپنے دوست کہو۔ ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ . اور (ممانعت سے پہلے) تم نے جو غلطی کی (یا ممانعت کی بھولے سے بےساختہ غلطی ہوگئی) اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ولکن ما تعمدت قلوبکم . گناہ تو اس کا ہے جو تمہارے دلوں نے قصداً غلطی کی ہو۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابوبکر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے جانتے ہوئے (اپنے باپ کو چھوڑ کر) کسی دوسرے کو اپنا باپ ظاہر کیا ‘ اس پر جنت حرام ہے۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین واحمد وابو داؤد و ابن ماجۃ۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے (اپنے باپ کو چھوڑ کر) کسی دوسرے کو اپنا باپ بتایا ‘ یا کسی (آزاد کردہ غلام) نے اپنے مولیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنا مولیٰ ہونے کی نسبت کی ‘ اس پر قیامت کے دن تک اللہ کی مسلسل لعنت ہوگی۔ رواہ ابو داؤد۔ سیوطی نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔ وکان اللہ غفورًا رحیمًا . اور اللہ بڑا معاف کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔ خطاکار سے درگزر فرماتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ منہ بولا بیٹا بنانا ہمارے یعنی امام شافعی کے نزدیک ناقابل اعتبار ہے ‘ اس دعویٰ سے بیٹا ہونے کا حکم جاری نہیں ہوتا۔ لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر غلام کو بیٹا بنایا تو غلام آزاد ہوجائے گا اور کسی مجہول النسب کو اپنا بیٹا ظاہر کیا اور وہ شخص ایسا ہے جس کا الحاق (عمر وغیرہ کے لحاظ سے) اس مدعی ابوت سے ہوسکتا ہے تو اس کو اس مدعی ابوت کا بیٹا مان لیا جائے گا۔ لیکن یہ قاضی بیضاوی کی بھول ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک کسی غلام کو صرف اتنا کہہ دینے سے کہ میں نے تجھے بیٹا بنا لیا ‘ اس مجہول النسب کا نسب ثابت نہیں ہوجاتا بلکہ امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ اگر کسی آقا نے اپنے غلام کو جو عمر میں آقا سے کم ہو یا زیادہ ‘ یہ بات کہہ دی کہ یہ میرا بیٹا ہے تو غلام آزادہو جائے گا اور آقا کے کلام کو درست قرار دینے کیلئے مجازی معنی پر محمول کیا جائے۔ گویا آقا نے جو غلام کے متعلق کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے ‘ اس کا مجازی معنی یہ ہے کہ آزاد ہے۔ سبب بول کر مجازاً مسبب مراد لیا جاسکتا ہے۔ بنوت (بیٹا ہونا) آزادی کا سبب ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے محرم قرابتدار کا (وراثتہً یا خرید کر یا بطور ہبہ) مالک ہوگیا تو وہ محرم آزاد ہوجائے گا۔ رواہ احمد و اصحاب السنن۔ صاحبین کا قول امام کے قول کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اگر کسی آق نے اپنے غلام کو جو آقا سے عمر میں زائد ہے ‘ یہ بات کہہ دی کہ یہ میرا بیٹا ہے تو غلام آزاد نہ ہوگا۔ اس اختلاف کی بنیاد ایک دوسرا اختلافی ضابطہ ہے جس کی تفصیل اصول فقہ میں مذکور ہے۔ اصل اختلافی قاعدہ یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک مجازی معنی مراد لینے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ حقیقی معنی ممکن بھی ہو ‘ فقط تکلم میں حقیقی معنی کی صحت مجازی معنی کی طرف رجوع کرنے کیلئے کافی ہے ‘ اس لئے آقا سے زیادہ عمر والے غلام کو اگر آقا نے اپنا بیٹا کہہ دیا تو غلام آزاد ہوجائے گا۔ صاحبین کے نزدیک مجاز ‘ حقیقت کے قائم مقام حکم میں ہوتا ہے۔ اگر کسی جگہ حقیقی معنی کا امکان ہی نہ ہو تو مجاز کی طرف رجوع کرنا درست نہیں ‘ پس صورت مذکورہ میں غلام آزاد نہ ہوگا۔ اور اگر کسی مجہول النسب کو اپنا بیٹا قرار دیا اور مجہول النسب ایسا ہے کہ اس کے نسب کا الحاق اس مقر سے ہوسکتا ہے یعنی آقا سے اتنا چھوٹا ہے کہ اس کا حقیقی بیٹا ہونا ممکن ہے تو چونکہ آقا نے خود اقرار کیا ہے اس لئے اس مجہول النسب کا بیٹا ہونا مقر کے حق میں مان لیا جائے گا مگر دوسرے کے ہق میں اس مقر کے اقرار سے مجہول کی ابنیت ثابت نہ ہوگی ‘ اسی لئے اگر کسی مجہول النسب کو کسی نے اپنا بھائی ہان ظاہر کیا تو نہیں مانا جائے گا اور مقر کے باپ سے مجہول النسب کا نسب نہیں جوڑا جائے گا۔ ہاں اگر مرتے وقت تک مقر اپنے اقرار پر قائم رہا اور کوئی دوسرا وارث بھی نہ ہوا ‘ نہ اصحاب فرائض میں سے ‘ نہ عصبات میں سے ‘ نہ ذوی الارحام میں سے تو مقر لہ کو مقر کا ترکہ دے دیا جائے گا ‘ بیت المال پر ایسے مقر لہ کو مقدم قرار دیا جائے گا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر کسی کے متعلق پورے مال کی وصیت کی ہو تو اس پر بھی مقر لہ مذکور کو تقدم حاصل نہ ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے تھے۔ کچھ لوگ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم جہاد پر جانے کیلئے تیار ہیں لیکن اپنے اپنے والدین سے دریافت کرلیں۔ اس پر ذیل کی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

النبی اولی بالمومنین من انفسھم . نبی مؤمنوں کے ساتھ خود ان کے نفسوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی مؤمنوں کا جو تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہے ‘ ان سب سے زیادہ نبی کا مؤمنوں سے تعلق ہے۔ اسی تعلق کی وجہ سے نبی کا حکم مؤمنوں پر نافذ ہے اور پیغمبر کی اطاعت سب پر واجب ہے۔ ماں باپ کا حکم بھی اگر نبی کے حکم کے خلاف ہو تو اس کی مخالفت بھی لازم ہے۔ پس پیغمبر کو ہی جہاد پر بھیجنے اور راہ خدا میں جان خرچ کرنے کا حکم دینے کا حق حاصل ہے۔ حضرت ابن عباس اور عطاء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب نبی کسی کو کسی کام کی دعوت دیں اور اس کا نفس کسی دوسری بات کا خواہش مند ہو تو نفس کی اطاعت سے نبی کی اطاعت اولیٰ ہے کیونکہ نبی تمما مسلمانوں کے مصالح اور مفاسد سے بوحی الٰہی خوب واقف ہیں۔ نبی مؤمنوں کیلئے اسی بات کو پسند کرتے اور اسی کام کا حکم دیتے ہیں جس میں مؤمنوں کی بہبودی اور کامیابی ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا : حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُفٌ رَحِیْمٌ۔ انسان کا نفس ہمیشہ بدی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر اللہ کا کرم ہو۔ انسان کا نفس بڑا ناحق کوش اور بہت ہی نادان ہے ‘ اس لئے ضروری ہے کہ مؤمنوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی محبت اپنے نفسوں سے بھی زیادہ ہو ‘ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم نفس کی حکومت پر غالب ہو اور رسول خدا کی مؤمنوں پر شفقت اتنی ہو کہ خود ان کو اپنے نفوس پر نہ ہو۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ میں اس کی نظر میں اس کے باپ ‘ اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ رواہ البخاری و مسلم فی صحیحیھما عن انس۔ حضرت ابوہریرہ روای ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر مؤمن سے دنیا و آخرت میں میرا تعلق سب سے زیادہ ہے۔ اگر اس کا ثبوت چاہتے ہو تو پڑھو آیت النَّبِیُّ اَوْلٰی بالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ پس جو مؤمن مال چھوڑ کر مرے تو اس کے مال کے وارث اس کے عصبات ہوں گے ‘ جو بھی ہوں اور جو مؤمن نادار بیوی بچوں کو چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آجائیں ‘ میں ان کا متولی ہوں۔ وازواجہ امھتھم . اور نبی ﷺ کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں۔ یعنی ان کا حق (ماؤں کی طرح) بڑا ہے ‘ ان سے ہمیشہ کیلئے (ہر مؤمن کا) نکاح حرام ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح ماؤں کو دیکھنا اور ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا جائز ہے ‘ اسی طرح پیغمبر ﷺ کی بیبیوں کو دیکھنا اور ان کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا جائز ہے۔ امہات المؤمنین کو دیکھنا اور خلوت میں ان کے ساتھ بیٹھنا تو ایسا ہی ناجائز ہے جیسے اجنبی عورتوں کے ساتھ۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِذَا سَأَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ اگر امہات المؤمنین سے تم کو کوئی سامان مانگنا ہو تو پردہ کی اوٹ سے مانگو۔ امہات المؤمنین کی بیٹیوں کو امت کی بہنیں نہیں کہا جاتا ‘ نہ ان کے بہن بھائی امت کی خالائیں اور ماموں ہیں (نسبی رشتہ نہیں ہے) ۔ امام شافعی نے فرمایا : حضرت زبیر نے حضرت اسماء سے نکاح کی اور حضرت اسماء حضرت عائشہ کی بہن تھیں لیکن کسی نے نہیں کہا کہ حضرت اسماء مؤمنوں کی خالہ تھیں۔ اسی طرح رسول اللہ نے اپنی لڑکیوں کا نکاح حضرت عثمان اور حضرت علی سے کیا تھا (اگر حضور ﷺ کی صاحبزادیاں امت کی بہنیں ہوتیں تو ان سے کسی کا نکاح نہیں ہوتا) ۔ شعبی نے مسروق کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ کو اماں کہا ‘ آپ نے فرمایا : میں تمہاری ماں نہیں ہوں ‘ تمہارے مردوں کی ماں ہوں۔ بیہقی نے سنن میں بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اللہ نے جو حضور ﷺ کی بیویوں کو مؤمنوں کی مائیں قرار دیا ہے ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ ماؤں کی طرح ازواج مطہرات سے امت کا نکاح حرام ہے۔ حضرت ابی بن کعب کی قرأت میں آیا ہے : وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ وَھُوَ اَبٌ لَھُمْ یعنی رسول اللہ مؤمنوں کے دینی باپ تھے ‘ ہر پیغمبر اپنی امت کا دینی بات ہوتا ہے۔ سب کی ابدی زندگی کی جڑ پیغمبر ہی ہوتا ہے اسی لئے سب مؤمن آپس میں دینی بھائی ہیں۔ واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ من المؤمنین والمھٰجرین . اور اللہ کی کتاب میں (دوسرے) مؤمنوں اور مہاجروں کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ کتاب اللہ سے مراد ہے فیصلۂ خداوندی ‘ یا لوح محفوظ ‘ یا قرآن کی یہی آیت ‘ یا آیت میراث۔ بَعْضُْھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ کا یہ مطلب ہے کہ میراث کے زیادہ مستحق ہیں ‘ اسی لئے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جس نے مال چھوڑا تو اس کے وارث اس کے عصبات ہوں گے ‘ جو بھی ہوں۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ میں مِنْ تفضیلیہ ہے ‘ ابتداء اسلام میں مہاجر ‘ مہاجر کا وارث ہوتا یا دینی موالات (انصار و مہاجرین کی اخوت دینی) موجب میراث تھی۔ اس آیت سے وہ حکم منسوخ ہوگیا (اور دوسرے مہاجرین و مؤمنین کے مقابلہ میں قرابتدار اپنے قرابتدار کی میراث کا مستحق قرار دیا گیا) قتادہ نے کہا : مسلمان ہجرت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ (بغوی) کلبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے مسلمانوں میں باہم رشتۂ اخوت قائم کرا دیا تھا۔ حضور ﷺ دو دو مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتے تھے ‘ آخر یہ آیت نازل ہوئی (تو پچھلا دستور منسوخ ہوگیا) ۔ اُولُوا الْاَرْحَام یعنی وہ قرابتدار جو ذوی الفروض بھی نہیں اور عصبات بھی نہیں ہیں ‘ امام شافعی کے نزدیک کسی حال میں وارث نہیں ہوتے۔ ہمارے نزدیک ذوی الفروض اور عصبات کے موجود نہ ہونے کی صورت میں ترکہ کے وارث ذوی الارحام ہوتے ہیں۔ آیت مذکورہ سے ہمارے قول کا ثبوت ملتا ہے (ذوی الفروض وہ قرابتدار ہوتے ہیں جن کا میراثی حصہ قرآن میں مقرر کردیا گیا ہے اور عصبات وہ لوگ ہیں جو ذوی الفروض کے موجود نہ ہونے کی صورت میں کل ترکہ کے وارث ہوجاتے ہیں اور ذوی الفروض موجود ہوں تو ان کے مقررہ حصے دینے کے بعد اگر کچھ مال بچتا ہو تو اس کے وارث یہ عصبات ہوجاتے ہیں ‘ ان کے بعد اولوا الارحام کا درجہ ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اولوا الارحام وارث ہی نہیں ہوتے ‘ اگر عصبات موجود نہ ہوں تو ترکہ کا مال بیت المال میں داخل کردیا جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ آیت میں اولوا الارحام کو دوسرے مؤمنوں کے مقابلہ میں ترجیح دی گئی ہے ‘ اس لئے اگر عصبات نہ ہوں تو دوسرے رشتہ داروں کو ترکہ تقسیم کردیا جائے اور کوئی رشتہ دار نہ ہو تو مجبوراً بیت المال میں داخل کیا جائے۔ مترجم) ۔ الا ان تفعلوا الی اولیاء کم معروفا . مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے (یعنی مہاجر بھائیوں سے یا کسی مؤمن سے) یہ سلوک کرنا چاہو (تو جائز ہے) ۔ معروف سے مراد وصیت ہے۔ جس دوست کے متعلق وصیت کی جائے ‘ اس کا حق وارثوں سے مقدم ہے۔ فعل معروف کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن سنت اور اجماع نے اس عموم کو کل ترکہ کے ایک تہائی کے ساتھ مخصوص کردیا ہے یعنی صرف ایک تہائی ترکہ کی وصیت کرنے کا حق میت کو ہے۔ اولوا الارحام کو میراث کا سب سے زیادہ مستحق قرار دیا گیا۔ اس سے وصیت والے دوستوں کو مستثنیٰ کرلیا گیا (یعنی جن دوستوں کو مال دینے کی وصیت کی ہو ‘ ان پر قرابتدار ترجیح نہیں رکھتے) ۔ یا استثناء منقطع ہے موالات اور ہجرت کو پہلے استحقاق میراث کا موجب قرار دیا گیا تھا ‘ اب اس کو منسوخ قرار دیا اور حسب منشاء دوستوں کیلئے ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کو جائز کردیا۔ بعض علماء نے من المؤمنین و المہاجرین میں لفظ مِنْ کو بیانیہ کہا ہے یعنی جو مؤمن اور مہاجر (میت کے) رشتہ دار ہوں ‘ وہ میراث کے زیادہ مستحق ہیں۔ مطلب یہ کہ کافر و مسلم اور مہاجر وغیرہ کے درمیان سلسلۂ توارث قائم نہیں ہوگا۔ ہاں اگر کافر یا غیر مہاجر قرابتدار ہوں تو ان کیلئے وصیت کی جاسکتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : یہ قول قتادہ ‘ عطاء اور عکرمہ کا ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر مِنْ کو بیانہ قرار دیا جائے گا تو اولیٰ (جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے) اس کا ستعمال عام افعل التفضیل کے خلاف ہوجائے گا ‘ کیونکہ اولیٰ پر نہ تو الف لام ہے ‘ نہ یہ مضاف ہے ‘ نہ اس کی کے صلہ میں مِنْہے اور استعمال اسم تفضیل کے یہی تین طریقے ہیں۔ اس کے علاوہ مِنْکو بیانیہ قرار دینے سے مسلم و کافر کے درمیان توارث کی نفی پر نہ صراحۃً کوئی لفظ دلالت کر رہا ہے ‘ نہ معنوی مفہوم کے طور پر ہی یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ مؤمن کے اولیٰ بالمیراث ہونے سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ اگر مؤمن وارث موجود نہ ہو تو مؤمن کی میراث کافر کو (اس صورت میں بھی) نہ دی جائے۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا . یہ (حکم) کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں ‘ یا قرآن میں۔ بعض علماء کے نزدیک الکتاب سے مراد توریت ہے۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی اُن سے پکّا لیا

واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم واخذنا منھم میثاقا غلیظا . اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے (تمام) انبیاء سے اور (خصوصاً ) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسیٰ بن مریم سے عہد لیا تھا اور ان (سب) سے پکا وعدہ لیا تھا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا تھا جب پشت آدم سے سب کو برآمد کیا گیا تھا۔ اللہ نے سب سے عہد لیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں گے ‘ دوسروں کو بھی اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دیں گے ‘ اپنی اپنی امت کے بہی خواہ رہیں گے اور ہر ایک دوسرے کی مدد کرے گا۔ اَلنَِّییِّیْنَکا لفظ تمام انبیاء کو شامل ہے ‘ سب ہی پیغمبر اس میں آگئے لیکن اس کے بعد چند پیغمبروں کا نام بنام خصوصی تذکرہ اس لئے کیا کہ یہ پیغمبر اولوالعزم تھے ‘ ان پر کتابیں اور صحیفے نازل کئے گئے تھے ‘ ان کو الگ الگ مستقل شریعتیں دی گئی تھیں۔ پھر رسول اللہ کی عظمت شان ظاہر کرنے کیلئے دوسرے پیغمبروں کے ذکر سے پہلے آپ کا ذکر (بطور خطاب) کیا گیا۔ اس تقدیم ذکر سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے جو رسول اللہ نے فرمائی تھی کہ پیدائش کے آغاز کے لحاظ سے میں سب لوگوں سے مقدم ہوں اور بعثت و نبوت کے لحاظ سے سب سے پیچھے (آیا ہوں) رواہ سعد عن قتادۃ مرسلاً ۔ ولکن رواہ البغوی عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرۃ متصلاً ۔ (بروایت بغوی) قتادہ نے حدیث مذکور بیان کرنے کے بعد) کہا : یہی (مضمون) ہے آیت وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَھُمْ الخ کا۔ اس میں اللہ نے رسول اللہ کا ذکر نوح ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ اور عیسیٰ سے پہلے کیا ہے۔ ابن سعد نے اور ابو نعیم نے حیلہ میں میسرہ فجر بن سعد کی وساطت سے بروایت ابو الجدعاء اور طبرانی نے کبیر میں حضرت ابن عباس کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس وقت نبی تھا جب آدم روح اور جسم کے درمیان (کشاکش میں) تھے۔ میثاق غلیظ ‘ پکا وعدہ ‘ عظیم الشان عہد ‘ یا وہ وعدہ جس کو ایمان کے ساتھ پختہ کیا گیا تھا۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

لیسئل الصدقین عن صدقھم . (ایسا اس لئے کیا) تاکہ (قیامت کے دن) سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے۔ یعنی ایسا کرنے کی غرض یہ تھی کہ انبیاء صادقین سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے اپنی اپنی امتوں سے کیا کہا تھا ‘ یا کافروں کو ذلیل کرنے اور لاجواب بنانے کیلئے کافروں سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی ‘ یا انبیاء کی تصدیق کرنے والوں سے ان کی تصدیق کے متعلق پوچھا جائے گا (کیا تم نے انبیاء کی تصدیق کی تھی) کیونکہ سچے کی تصدیق کرنے والا بھی سچا ہوتا ہے ‘ یا ان مؤمنوں سے جنہوں نے اپنے وعدوں کو سچ کر دکھایا تھا ‘ ان کے صدق کی بازپرس ہوگی یہاں تک کہ ان کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا جائے گا۔ واعد للکفرین عذابا الیما . اور کافروں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔