33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ڈرتے رہو آپ اللہ سے اور (دین کے بارے میں) کبھی بات نہیں ماننی کافروں اور منافقوں کی بیشک اللہ (سب کچھ) جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے

1 لفظِ " نبی " کا معنیٰ و مفہوم اور ایک مغالطے کا جواب : بعض لوگوں نے نبی کا ترجمہ کیا ہے " اے غیب کی خبر بتانے والے " تاکہ اس طرح وہ اس لفظ کریم ۔ نبی ۔ سے علم غیب کلی کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرسکیں۔ سو یہ ان کی اپنی ذہنی اختراع اور ایجاد بندہ ہے۔ ورنہ لفظِ " نبی " تو اردو میں بھی ایسا مشہور و معروف لفظ ہے کہ اس کے ترجمہ کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں۔ اور اگر کیا بھی جائے تو " پیغمبر " اور " پیامبر " وغیرہ کے کسی مترادف لفظ سے کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جمہور علماء و مفسرین کرام میں سے کسی بھی ثقہ عالم و مفسر نے آج تک اس لفظ کا اس طرح کا کوئی ترجمہ اپنی تفسیر میں نہیں کیا۔ اس طرح یہ بھی ایک ایسی بدعت ہے جس کا ارتکاب موصوف اینڈ کمپنی ہی کے حصے میں آیا ہے ورنہ اس سے پہلے جمہور امت میں سے کسی بھی ثقہ مفسر نے لفظ نبی کا اس طرح کا کوئی ترجمہ نہیں کیا۔ اور اسلامی تاریخ کی پوری چودہ صدیوں میں اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال شاید ہی کہیں سے مل سکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یوں نبی و رسول اصطلاحی الفاظ ہیں۔ اور اصطلا حی الفاظ کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ اور اگر کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیا بھی جائے تو اسی کے کسی مترادف لفظ سے کیا جاتا ہے۔ جیسے " پیغمبر " وغیرہ۔ نیز ایسے اصطلاحی الفاظ منقول شرعی کہلاتے ہیں۔ اور منقول شرعی میں اس کا اصل اور لغوی معنی متروک ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرات اہل علم کے یہاں معروف اور مشہور ہے۔ لیکن اگر سب کے باوجود مذکورہ بالا لوگوں نے لفظ " نبی " کا ترجمہ اس طرح کیا تاکہ اسطرح وہ اپنے شرکیہ عقائد کے لئے دلیل کشید کرسکیں مگر اس کے باوجود یہ کوشش ان کے لئے مفید مطلب نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے غیب کی جو بیشمار اور عظیم الشان خبریں دی ہیں ان کا نہ کسی نے کبھی انکار کیا اور نہ ہی کبھی کوئی انکار کرسکتا ہے بلکہ سارے دین کا تعلق ہی اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے عالم غیب اور اخبار غیبیہ سے ہے کہ توحید و رسالت، جنت و دوزخ، حشر و نشر اور حورو غلمان وغیرہ وغیرہ جیسے تمام اہم اور بنیادی امور و عقائد اور عظیم حقائق کا تعلق غیب ہی سے تو ہے جو ہر مومن پیغمبر کے سکھانے اور بتانے کے مطابق ہی جانتا اور مانتا ہے۔ اس لئے ان کے انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر اس کے باوجود اس سے علم غیب کلی ثابت نہیں ہوتا جو کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ ایسے تمام امور جن کا تعلق پیغمبر کے منصب نبوت و رسالت سے نہیں ہوتا۔ اور وہ بےحد و حساب ہیں۔ وہ نہ تو پیغمبر کو بتائے گئے اور نہ ہی ان کے بتانے کی کوئی ضرورت تھی۔ اور قرآن و سنت میں اس حقیقت کا ذکر و تذکرہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرمایا گیا ہے۔ اور کتنے ہی واقعات آپکی حیات مبارکہ میں ایسے پیش آئے جو قطعی طور پر اور پوری صراحت و وضاحت سے بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ عالم غیب نہیں تھے۔ یہاں تک کہ آپ کو زہر تک کھلایا گیا جس سے آپ ﷺ کے ایک ساتھی کی موت بھی واقع ہوگئی اور خود آپ ﷺ کو آخر وقت تک اس زہر خورانی کا اثر محسوس ہوتا رہا۔ سو مطلق علم غیب جس کا تعلق منصب نبوت و رسالت سے ہے اس کا تو کسی کو انکار نہیں، مگر وہ اہل بدعت کا مقصد نہیں۔ اور کلی غیب جو کہ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ اس لفظ کریم سے ثابت ہوتا نہیں کہ وہ خاصہ خداوندی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو جو ثابت ہے وہ ان کو مفید نہیں۔ اور جس کے وہ قائل ہیں وہ اس سے ثابت ہوتا نہیں ۔ فَلا دَلِیْلَ وَلا اسْتَدلالَ وَبِاللّٰہِ العیاذ مِنْ کل سُوْئٍ وَّزَیْغٍ و انْحِرَافٍ وَّ ضَلالٍ ۔ اللہ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 2 کفر و نفاق سے دین حق کا سمجھوتہ اور اشتراک ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کبھی بات نہیں ماننی کفار و منافقین کی "۔ کفار و مشرکین نبی اکرم ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم آپس میں صلح کرلیں تاکہ باہم سر پھٹول کی نوبت نہ آئے۔ آپ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں ہم آپ کے معبود کو برا نہیں کہیں گے۔ یعنی کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کیا جائے ۔ { وَدُّوا ْ لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ } ۔ چناچہ اس ضمن میں کفار کا ایک وفد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ پہنچا جس میں ابو سفیان بن حرب، عکرمہ بن ابوجہل اور متعب بن نصیر وغیرہ سرداران قریش شامل تھے۔ اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی یہی پیشکش دہرائی۔ مگر حق و باطل میں صلح صفائی اور باہمی اشتراک کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس موقع پر ان آیات کریمہ کو نازل فرما کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے ان لوگوں کے اس منصوبہ کی جڑ نکال دی اور شان نزول کا یہ قصہ تقریباً سب ہی معتبر تفاسیر میں موجود و مذکور ہے۔ مثلاً روح، معالم، قرطبی، خازن اور معارف وغیرہ وغیرہ۔ اور یہاں پر خطاب اگرچہ نبی اکرم سے ہے ﷺ مگر سنانا دراصل دوسروں کو ہے کہ اسطرح حق و باطل میں کسی اشتراک و آمیزش کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاکہ اہل باطل کی ایسی امیدوں کی جڑ کٹ جائے اور اہل حق راہ حق پر اور پکّے ہوجائیں۔ اور اس طرز خطاب و تعبیر میں بلاغت کا یہ انداز و اسلوب کارفرما ہے کہ کافر و منکر اس لائق ہی نہیں کہ ان سے براہ راست خطاب کیا جاسکے۔ دوسرے اس میں بتقاضائے بلاغت قوت اور زور بیان زیادہ ہوتا ہے جو کہ اصل مطلوب ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دین حق کا کفر و نفاق کے ساتھ کسی طرح کا کوئی امتزاج و اشتراک ممکن نہیں۔ یہ دونوں اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ نیز یہاں پر کفار و منافقین کا ایک ساتھ ذکر فرما کر اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ یہ دونوں اصل میں ایک ہی ہیں۔ اسلام دشمنی میں دونوں باہم متحد ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق اگر ہے تو یہ کہ ان میں سے ایک کھلم کھلا دشمنی اور مخالفت کرتا ہے اور ایک اپنے نفاق کے پردے میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 3 اللہ تعالیٰ کی صفت علم و حکمت حوالہ توکل علی اللہ کی دلیل کے طور پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ سب کچھ جانتا نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ پس آپ اس کے بھروسے پر اور اسی پر توکل کرتے ہوئے اس کے ہر حکم وارشاد کی تعمیل کریں۔ اس لئے اس کا ہر حکم حکمت سے لبریز اور علم قطعی و کامل پر مبنی اور اس پر محیط و مشتمل ہوتا ہے جس کا کوئی بدل ممکن ہی نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے پورے قرآن حکیم میں کہیں ایک بار بھی آنحصرت ﷺ کو آپ کے صریح نام نامی کے ساتھ نہیں پکارا ہے۔ یعنی کسی ایک مقام پر بھی آپ کو " یا محمد " کہہ کر خطاب نہیں فرمایا گیا بلکہ کسی وصف ہی سے پکارا گیا ہے جیسے " یا ایْھا الرّسول "، " یا ایھا النبی "، " یا ایھا المزمل " وغیرہ۔ جبکہ دوسرے انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کو ان کے اسمائے گرامی سے پکار کر خطاب فرمایا ہے۔ مثلاً " یا آدم "، " یا نوح "، " یا ابراہیم "، " یا موسیٰ "، " یا عیسیٰ "، " یا زکریا "، " یا یحییٰ " وغیرہ۔ سو اس میں جہاں ایک طرف آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تعظیم و تکریم اور عظمت مقام و رفعت شان کا اشارہ ہے وہیں دوسری طرف یہ درس بھی اسمیں موجود ہے کہ صریح نام سے پکارنا ادب کے تقاضوں کے خلاف اور ایک طرح کا گنوار پن ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء و شر۔ مگر برا ہو جہالت اور ہٹ دھرمی کا کہ ان عظیم الشان تعلیمات کے باوجود آج کا جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک اپنی پنجابی نظم میں پوری ہٹ دھرمی سے کہتا ہے، اور اعلانیہ اور فخریہ کہتا ہے کہ ۔ " اسیں یا محمد کہندے رہنا اے " ۔ یعنی دین خواہ کچھ کہے اور دینی تعلیمات کا تقاضا خواہ کچھ ہو ہم نے تو یا محمد کہتے ہی رہنا ہے۔ سو کیسی جرات و ہٹ دھرمی اور کس قدر جہالت و غباوت ہے یہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ والی اللہ المشتکی وھو المستعان ۔ بہرکیف یہاں پر اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت کی ان دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لیے توکل علی اللہ کی دلیل پیش فرما دی گئی کہ آپ کو سب سے بےخوف اور بےپروا ہو کر حق کی تبلیغ کرنی چاہیے کیونکہ جس اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے وہ علیم و حکیم ہے۔ اور اس کی ہر بات اور ہر حکم و ارشاد علم وحکمت پر مبنی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور پیروی کرتے رہو اس وحی کی جو بھیجی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے بیشک اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو

4 وحی الہی کی اتباع و پیروی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ پیروی کرتے ہیں اس وحی کی جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے آپ کے رب کی طرف سے "۔ سو وحی ربانی کی اتباع و پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ اس ارشاد ربانی میں کامیابی کی دو عظیم بنیادوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ ہمیشہ اتباع و پیروی کرتے رہو اور دوسرے یہ کہ پیروی بھی اس وحی کی جائے جو بھیجی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے کہ اس میں کسی خطا و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ سو وحی خداوندی کی اتباع و پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی کفیل وضامن اور فوز و فلاح کی شہ کلید ہے۔ اور اتباع حق صحت و سلامتی کی راہ ہے۔ اور اس کے برعکس " ابتداع " یعنی دین میں بدعتیں نکالنا ناکامی اور محرومی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ بدعت حق و ہدایت کے معارض اور ابتداع اتباع کی ضد ہے۔ اسی لیے یہاں پر پیغمبر کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اشرار کی تمام تر شرانگیزیوں کے باوجود اور ان کے علی الرغم آپ اس وحی کی اتباع اور پیروی کیے جاؤ جو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتاری جاتی ہے۔ حق و ہدایت اور فوز و فلاح کی راہ بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ یہی حق ہے خالق کا اس کے بندوں پر اور اسی میں بندوں کا بھلا اور بہتری ہے دنیا و آخرت میں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور بھروسہ اللہ ہی پر رکھنا کہ اللہ کافی ہے کارسازی کے لئے

5 اور کافی ہے اللہ کارسازی کیلئے : پس توکل اور بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھا جائے کہ اس کی کارسازی کے ساتھ نہ کسی اور کی کارسازی کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے ڈرنے کی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا علم بھی کامل ہے اور اس کی حکمت بھی کامل، اور وہ ہر چیز پر قادر اور اس سے پوری طرح باخبر بھی ہے تو پھر اس کے در کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جب اس وحدہ لاشریک کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہیں جو اس شان کی مالک ہو تو پھر اس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جس پر بھروسہ اور اعتماد کیا جائے۔ سو بھروسہ اور اعتماد کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ مگر افسوس کہ دین کی ان واضح تعلیمات کے باوجود آج کے جاہل مسلمان اور کلمہ گو مشرک کا بھروسہ و اعتماد طرح طرح کی بےاصل چیزوں اور عاجز مخلوق پر ہے۔ اور اسی بنا پر وہ طرح طرح کے شرکیہ ر اگ الاپتا اور نعرے لگاتا ہے۔ کہیں وہ کہتا ہے " سہارا پنجتن کا "، کہیں " یا علی مدد " اور کہیں " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ جن پاکیزہ ہستیوں کے نام سے شرک کیا جاتا ہے وہ سب خود زندگی بھر اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت و بندگی کرتی اور اسی کے آگے دست دعا وسوال دراز کرتی رہیں۔ اور ہر مشکل و مصیبت کے وقت اسی کو بلاتی پکارتی رہیں لیکن ظالموں نے بعد میں ان ہے کے نام پر شرک کا کاروبار شروع کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے اور نہ ہی اس نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم لوگ ظہار کردیتے ہو (تمہارے کہنے سے) تمہاری مائیں بنادیا اور نہ ہی اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ سب تمہارے اپنے مونہوں کی باتیں ہیں اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی سیدھی راہ بتاتا ہے1

6 ہر شخص کے پہلو میں قدرت نے ایک ہی دل رکھا ہے : سو ارشاد فرما گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے کسی کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے "۔ کہ ایک کفر و شرک کے لئے ہو اور دوسرا ایمان و یقین کے لئے۔ سو جب دل ایک ہی ہے تو وہ ہر حال میں اور خالصتًا اللہ کی توحید اور اس کی محبت ہی کے لئے وقف ہونا چاہیے۔ اور ایک ہی کیلئے وقف ہوسکتا ہے یا صرف اللہ کیلئے یا غیر اللہ کیلئے۔ لہذا غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ پر ایمان و یقین کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور غیر اللہ کے آگے بھی جھکتے اور سرتسلیم و نیاز خم کرتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دوستی و وفاداری کا عہد بھی باندھتے ہیں اور انکے دشمنوں کے ساتھ ساز باز بھی کرتے ہیں۔ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کا دم بھی بھرتے ہیں اور اس کی ہدایت وتعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسروں کے طور طریقوں کو بھی گلے لگاتے ہیں۔ سو ایسے لوگ راہ حق و ہدایت سے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ کسی کے دھڑ میں قدرت نے دو دل نہیں رکھے کہ وہ ایک دل ادھر رکھے اور دوسرا ادھر۔ بلکہ دل ایک ہی ہے اور وہ ایک ہی طرف ہوسکتا ہے۔ اگر انسان کا دل یک رخی اور یک رنگی کی بجائے دو رخی اور دو رنگی کا شکار ہے تو وہ دل مریض ہے۔ اور یہ رویہ دل کی خرابی اور بیماری کی دلیل ہے۔ اور ہر عقل سلیم رکھنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کی خرابی کی اصلاح کر کے اپنے ارادوں میں ہم آہنگی پیدا کرے۔ 7 ظہار سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن سکتی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں نہیں بنایا جن سے تم ظہار کرلیتے ہو "۔ زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دیتا تو وہ اس پر ہمیشہ کے لئے حرام سمجھتی جاتی اور وہ اس پر اسی طرح حرام سمجھی جاتی جس طرح کہ کسی شخص کی حقیقی ماں اس پر حرام ہوتی ہے۔ اسلام کی تعلیمات مقدسہ نے آکر اصل حقیقت کو واضح کیا اور بتایا کہ محض منہ سے کہنے سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن سکتی۔ اور اس طرح اس کے لئے ماں کی حرمت ثابت نہیں ہوسکتی۔ ماں تو حقیقت میں وہی ہوتی ہے جس نے اس کو جنا ہوتا ہے اور وہ ایک ہی ہوتی ہے۔ سو جس طرح کسی دھڑ میں دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک شخص کی دو مائیں نہیں ہوسکتیں۔ البتہ جس شخص نے ایسی بےہودہ بات منہ سے نکالی اس کو اس کی سزا ملے گی جس کو کفارئہ ظہار کہا جاتا ہے۔ جس کا ذکر اٹھائیسویں پارے میں سورة مجادلہ میں آئے گا۔ سو جب ایک دھڑ میں دو دل نہیں ہوسکتے۔ ایک شخص کی دو مائیں نہیں ہوسکتیں۔ ایک آدمی کے دو باپ نہیں ہوسکتے تو پھر ایک انسان کے دو خدا اور دو معبود کسطرح ہوسکتے ہیں ؟ سو معبود برحق بھی ایک اور صرف ایک ہی ہے جو کہ سب کا خالق ومالک ہے۔ یعنی اللہ ۔ جل جلالہ ۔ وہی سب کا خالق ومالک اور حاکم و متصرف ہے اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں بھی کسی کو شریک کرنا جائز نہیں ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔ 8 منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بنایا "۔ زمانہ جاہلیت کی رسموں میں سے ایک اور رسم یہ بھی تھی کہ منہ بولے بیٹے (متبنی) کو وہاں پر حقیقی بیٹا سمجھ لیا جاتا اور اس پر حقیقی بیٹے کے احکام جاری کر دئے جاتے۔ اسی لئے جب آنحضرت ﷺ نے اس جاہلی رسم کو مٹانے اور عملی طور پر اس کی تردید کے لئے اپنے متبنیٰ حضرت زید بن حارثہ ؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینب بنت حجش ؓ سے نکاح فرمایا تو کفار و مشرکین وغیرہ نے اس پر گویا آسمان سر پر اٹھا لیا اور طرح طرح کے الزامات اور اعتراضات گھڑنا اور پھیلانا شروع کردیے۔ تو اس پر ان آیات کریمہ میں اصل حقیقت کو واضح فرمایا گیا اور بتایا گیا کہ لے پالک اور منہ بولے بیٹے محض تمہارے منہ کے کہنے سے اصل اور حقیقی بیٹے نہیں بن جاتے بلکہ انسان کا اصل اور حقیقی بیٹا وہی ہوتا ہے اور وہی ہوسکتا ہے جو کہ اس کی صلب اور اس کے نطفے سے پیدا ہوا ہو اور بس۔ سو جس طرح کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح کسی کے دو باپ بھی نہیں ہوسکتے۔ اسی لیے منہ بولے بیٹے کو اس کے اصل باپ کی نسبت سے بلانے پکارنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ بہرکیف وہ لوگ متبنیٰ یعنی منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے جو کہ ان کی دو دلی ہی کا ایک مظہر و نمونہ تھا کہ وہ لوگ صلبی بیٹے اور منہ بولے بیٹے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے تھے بلکہ دونوں کو ایک ہی مرتبے میں سمجھتے تھے ۔ اللہ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 9 راہ حق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ حق فرماتا ہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتا ہے "۔ یعنی تمہارے کہنے سے اور تمہارے مونہوں کی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔ اصل اور حقیقت وہی ہوتی ہے جو کہ واقع میں اور حقیقت نفس الامری کے مطابق ہوتی ہے اور راہ حق و صواب وہی ہوتی ہے اور وہی ہوسکتی ہے جس کی راہنمائی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ فرماتا ہے۔ سو معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے ارشاد یعنی وحی خدا وندی کے بغیرنہ تو حق اور حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے اور نہ ہی راہ صدق و صواب نصیب ہوسکتی ہے۔ پس وہ لوگ بڑے ہی خسارے اور سراسر اندھیرے میں ہیں جو ہدایات وحی سے منہ موڑ کر اور ان سے بےنیاز ہو کر طرح طرح کی گمراہیوں میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کی تمام باتیں تمہاری اپنی من گھڑت اور تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں۔ ان کا عقل و فطرت سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہدایت دین و شریعت سے کوئی تعلق۔ اس لیے یہ سب باطل، بےبنیاد اور عقل و نقل کیخلاف ہیں۔ حق اور صدق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے تم لوگوں کو بتارہا ہے۔ اور وہی تمہاری راہنمائی راہ حق و صواب کی طرف فرماتا ہے جو عقل و نقل اور فطرت سلیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرنے والی ہے۔ پس تمہارے لیے خیر اسی میں ہے کہ تم جاہلیت کے رسوم و رواج اور مخترعات و بدعات کے چنگل سے نکل کر حق و ہدایت کی اسی شاہراہ کو صدق دل سے اپناؤ۔ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم لوگ ان (اپنے منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اصلی باپوں کی نسبت سے ہی پکارا کرو اللہ کے یہاں یہ پورے انصاف کی بات ہے پھر اگر تم کو ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں اور تم پر اس صورت میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سے (بھول) چوک ہوجائے لیکن جو بات تم اپنے دل کے ارادہ سے کہو اور اللہ پاک بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے2

10 لے پالکوں کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے پکارنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ ان ۔ لے پالکوں ۔ کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت ہی سے پکارا کرو "۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ اس کے بعد حضرت زید ؓ کو زید بن محمد کی بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا جو کہ ان کے حقیقی باپ تھے۔ بہرکیف حکم فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی نسبت ہی سے پکارا کرو تاکہ ان کے نسب کا امتیاز باقی رہے۔ اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے قانون عدل و انصاف اور حق و صداقت کے زیادہ قریب اور اس سے زیادہ موافقت رکھنے والی ہے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان منہ بولے بیٹوں کو بالکل حقیقی بیٹوں کے برابر کردیا تو وہ سارا نظام وراثت و قرابت اور معیشت و معاشرت تلپٹ ہو کر رہ جائے گا جسکی بنیاد حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے رحمی رشتوں اور انسانی فطرت کے جذبات و داعیات پر رکھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسلام کے تمام احکام و قوانین خواہ وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و قسط ہی پر قائم ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی بھی ایسی بات داخل نہیں کی جاسکتی جو اس کے نظام عدل و قسط کے خلاف ہو ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے ۔ آمین۔ 11 لے پالک کے باپ کا پتہ نہ ہو تو وہ تمہارا دینی بھائی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم لوگوں کو انکے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں "۔ پس تم ان کو بھائی اور دوست ہی کہا کرو۔ چناچہ روایات میں ہے کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت زید کو فرمایا ۔ " اَنْتَ اَخُوْنَا وَ مَوْلانَا " ۔ (ابن جریر، ابن کثیر محاسن، صفوہ وغیرہ) ۔ یعنی " تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو "۔ دینی اخوت سے تو عربوں کو اول اول اسلام نے ہی روشناس کرایا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں عرب اس سے بالکل نا آشنا تھے۔ البتہ خاندانوں اور قبیلوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا ایک طریقہ ان کے یہاں حلف و ولاء کی صورت میں موجود تھا۔ اس لیے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہیں ان کے باپوں کے بارے میں کچھ پتہ نہ ہو کہ وہ کون ہیں۔ تو ایسی صورت میں یہ لے پالک تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں۔ یعنی ایسی صورت میں ان کی حیثیت دینی بھائی اور مولیٰ ہی کی قرار پائے گی لیکن ان کو صلبی بیٹے ہونے کی حیثیت کسی بھی طرح حاصل نہیں ہوگی۔ 12 اللہ تعالیٰ کی صفت بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ پس وہ ارحم الراحمین صرف خطا و قصور کو بخش دینے پر ہی اکتفا نہیں فرماتا بلکہ اپنی رحمتوں سے بھی نوازتا ہے کہ وہ غفور ہونے کے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے۔ سو اس معاملے میں اب تک جو غلطیاں تم سے جہالت کی بنا پر سرزد ہوگئیں ان پر وہ تمہارا کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا کہ وہ بڑا ہی غفور اور رحیم ہے۔ لیکن اس تنبیہہ و تذکیر کے بعد جس نے اس غلط بات پر اصرار کیا تو اس کا معاملہ الگ ہے کہ اس کی نوعیت غلطی کی نہیں جرم کی ہوگی۔ کیونکہ ایسی چیز تمہارے دلوں کے قصد و ارادہ اور دیدہ دانستہ تعمد کا نتیجہ ہوگی۔ جس کو وہ ضرور مواخذہ فرمائے گا کہ یہ اس کے عدل و انصاف کا تقاضا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اپنے قصد و ارادے سے ایسی برائی کے ارتکاب سے بچنا اور جو بلا قصد و ارادہ ہوجائے اس کو وہ معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 33:6–7

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

(اور یہ حقیقت واضح رہے کہ) نبی ایمان والوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشہ دار اللہ کی کتاب کی رو سے آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے مگر یہ کہ تم لوگ اپنے طور پر اپنے دوستوں کیساتھ کوئی بھلائی کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو) یہ بات اس کتاب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے3

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا عہد لیا اور آپ سے بھی اور نوح ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی اور ان سب سے ہم نے خوب پختہ عہد لیا

13 پیغمبر کے ایمان والوں پر حق کی عظمت شان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " پیغمبر ایمان والوں پر ان کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں "۔ کیونکہ امر واقع کے اعتبار سے پیغمبر اہل ایمان کے ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر ان کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انسان کی نفسانی خواہشات و میول اس کے لئے نقصان دہ اور مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔ بلکہ واقعتاً اور اکثر و بیشتر ایسے ثابت ہوتی ہیں۔ اور وہ اس کو کو نقصان اور دھوکہ دے سکتی ہیں بلکہ وہ بالفعل اور فی الواقع اس کو نقصان میں ڈالتی اور دھوکہ دیتی بھی ہیں کہ نفس انسانی کا تو کام ہی شرو فساد اور برائی پر ابھارنا ہے ۔ { اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بالسُّوْٓئِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ } ۔ جبکہ پیغمبر کی تعلیم انسان کے لئے سراسر خیر وبرکت اور عین رحمت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور اس کے بعد آنے والے آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور پیغمبر کی ہدایات وتعلیمات ہی ہیں جو انسان کو خواہشات نفس کی مضرتوں سے آگاہ کرتی اور ان کی ہلاکتوں سے بچاکر اور محفوظ رکھ کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ دکھاتی ہیں۔ سو پیغمبر کا حق انسان پر اس کی جان سے بھی زیادہ ہے اور اس کا حکم وارشاد ہر چیز پر مقدم ہے۔ پس ہم پر ہماری جانوں سے بھی کہیں بڑھ کر نبی کا حق اور ان کا حکم و ارشاد ہم پر نافذ ہوتا ہے ۔ " فہو أحُقّ بالاّتباع منَّا مِنْ انفسنا لاَنْفُسِنَا فَاِنَّہٗ اَرْأفُ بِنَا وَاً عْطَفُ عَلَیْنَا وَاَحَقُّ بِنَا مِنْ اَنْفُسِنَا فِیْ کُلِّ شَیْئٍ " ۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 512) ۔ " اَولیٰ لہم فی الحکم عَلَیْہِمْ وَلُزُوْمِہِمْ فی اتِبّاعِہٖ وَطَاَعتِہٖ فی نُفُوْذ حُکْمِہٖ فیہم ووُجُوْب طاعتہ علیہم " ۔ (معالم) ۔ " فاِنہ لَا یا مرہم ولا یرضٰی منہم الا بما فیہ صلاحہم و نَجَاحُہم بخلاف النَّفْسِ " ۔ (البیضاوی) وغیرہ وغیرہ۔ چناچہ بخاری و مسلم وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ مہربان اور حقدار ہوں۔ جس نے کوئی میراث چھوڑی وہ تو اس کے ورثہ کو ملے گی اور جس نے کوئی قرض یا اولاد چھوڑی وہ میرے ذِمّے ہے ۔ " من تَرَکَ مَالا فَلِورثَتَِہٖ و مَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضِیَاعًا فَاَنا مولاہ " ۔ (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس شان کرم و عنایت اور رحمت و شفقت کے جس کی کوئی مثال نہ آپ ﷺ سے پہلے کہیں مل سکتی ہے اور نہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کبھی مل سکے گی ۔ فَصَلَوَات اللہ وَسَلَامُہْ عَلَیْہِ وَعَلٰی الہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعْیِنَ ۔ مگر واضح رہے کہ آپ ﷺ کا اپنی امت سے یہ قرب وتعلق حسی اور جسمانی نہیں، معنوی اور روحانی ہے۔ اور آپ ﷺ اپنی امت کے باپ ہیں۔ لیکن حسی اور ظاہری اعتبار سے نہیں، بلکہ معنوی اور روحانی اعتبار سے۔ سو اس کا مطلب جیسا کہ حضرت ابن عباس وغیرہ حضرات نے فرمایا یہ ہے کہ جہاں اہل ایمان کے نفوس کا تقاضا ایک طرف ہو اور پیغمبر کے حکم کا تقاضا دوسری طرف تو پیغمبر کا حکم مقدم ہوگا۔ (ابن کثیر، خازن وغیرہ) ۔ پس اولویت سے یہاں پر مراد یہ ہے کہ پیغمبر کا حکم اہل ایمان کے لئے ان کی خواہشات اور انکے نفوس کے تقاضوں سے بھی مقدم ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّ اَوْلی النَّاسِ بِاِبْرَاہِیْمِ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَہَذَا النَّبِیُّ } ۔ پس اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس موقع پر جو قلم کاری فرمائی اور لکھا کہ " معلوم ہوا کہ حضور ہر مومن کے دل میں حاضر و ناظر ہیں کہ جان سے زیادہ قریب ہیں " وہ سراسر باطل و مردود اور ان لوگوں کی اپنی ذہنی اختراع ہے۔ علیم بذات الصدور ہونا اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا صرف اللہ پاک کی صفت ہے۔ یہ کسی اور کے لئے ماننا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہاں پر وارد لفظ { اولیٰ } سے یہ معنیٰ کشید کرنا سراسر مکابرہ اور سینہ زوری ہے۔ نیز اس صورت میں نبی کے سب پیروکاروں کو بھی ایسے ہی ماننا پڑے گا۔ کیونکہ ۔ { اِنَّ اَوْلٰی النَّاسَ بِاِبْرَاہِیْمِ لَلَّذِیْنَ اتبَعُوْہْ } ۔ میں بھی یہی لفظ وارد ہوا ہے۔ نیز اسی آیت میں آگے یہ لفظ " اولُوالارحام " کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے۔ تو پھر ان سب کو بھی حاضر و ناظر ماننا پڑے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نبی کا حق ہر مسلمان پر دوسرے عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ خود اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ (تدبر قرآن وغیرہ) ۔ اور رسول جو کچھ ارشاد فرماتا وہ اللہ ہی کی طرف سے اور اس کے نمائندے کے طور پر ارشاد فرماتا ہے۔ اس لیے ان کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ۔ { وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ } ۔ " جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی " ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 14 پیغمبر کی بیویاں اہل ایمان کی مائیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں "۔ یعنی صرف تعظیم و تکریم اور حرمت نکاح کے اعتبار سے۔ ورنہ حجاب اور وراثت وغیرہ کے باقی احکام کے اعتبار سے آپ سب اجنبیات کی طرح ہیں ۔ " ای فی التحریم و استحقاق التعظیم والا ففی مَا عَدَا ذَالِکَ فَہُنَّ کالْاَجْنِبَیّات " ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل اور صفوہ وغیرہ ) ۔ اور یہ اس تعلق کا قدرتی نتیجہ اور طبعی ثمرہ ہے جو ہر امتی کو اپنے پیغمبر سے ہوتا ہے یا ہونا چاہیئے۔ سو اگر اس تعلق میں نفاق وغیرہ کی کوئی آلائش نہ ہو تو فطری طور پر ہر مسلمان کے جذبات ازدواج مطہرات کے بارے میں وہی ہوں گے اور وہی ہونے چاہئیں جو شریف بیٹوں کے اندر اپنی ماؤں کیلئے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ کے ساتھ نسبت کی بنا پر ان کیلئے دلوں میں ایسا احترام اور ان کی عظمت کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کے ساتھ نکاح کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ سو امہات المومنین کا درجہ و مرتبہ بہت بڑا ہے کہ جس نسبت کا شرف ان کو ملا وہ بہت بڑا اور بےمثال شرف ہے ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہن اجمعین ۔ پس جو بدبخت ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ ایمان والے نہیں ہوسکتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 15 اہل ایمان کے باہمی حقوق کی بنیاد رحمی رشتوں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں " اللہ کی کتاب کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے۔ ابتدائے اسلام میں اخوت یعنی باہمی بھائی چارگی اور ہجرت کی بنا پر میراث جاری ہوتی تھی۔ اس آیت کریمہ سے اس کو منسوخ کردیا گیا اور صرف قرابت و رشتہ داری کو میراث کا سبب قرار دیا گیا ۔ " کان المسلمون یتوارثون بالہجرۃ والمؤاخاۃ حَتّٰی نزلتْ واُولوا الآرحام " ۔ (خازن : ج 5 ص 192 بحوالہ الجواہر : ج 3 ص 932) ۔ یعنی وراثت میں رشتہ دار دوسرے مسلمانوں اور مہاجروں سے زیادہ حق دار ہیں۔ پس رشتہ داروں کے ہوتے ہوئے دوسرے لوگ ان کے وارث نہیں بن سکیں گے۔ بہرکیف رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو امت میں جو امتیازی مقام حاصل ہے اس کے بیان فرمانے کے بعد اور جس پہلو سے حاصل ہے اس کو بیان کرنے کے بعد اب یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ باقی تمام اہل ایمان کے باہمی حقوق کی بنیاد رحمی رشتوں پر ہے۔ جیسا کہ سورة نسا کی آیات نمبر 7 سے 13 تک میں تقسیم میراث کے سلسلے میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ وہ آپس میں " الاقرب فالاقرب " کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث اور حقدار ٹھہریں گے۔ اور فی کتاب اللہ سے یہاں پر مراد سورة نساء کی یہی مذکورہ بالا آیات کریمات ہیں جن میں اسی فطری اصول و ضابطہ کے مطابق تقسیم میراث کا قانون بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ۔ { مِنَ الْمُوْمِنیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ } ۔ کے اس ٹکڑے کی تصریح سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلامی اخوت کی بنا پر مہاجرین اور انصار کے درمیان حقوق میں شرکت کا جو نظام شروع میں قائم کیا گیا تھا وہ ایک عارضی نظام تھا جس کو اب ختم کردیا گیا ہے۔ اور اب اہل ایمان کے باہمی رشتوں کی اصل بنیاد رحمی رشتوں پر ہی ہوگی۔ 16 حسن سلوک کے معاملے کا استثناء : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " مگر یہ کہ تم لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی بھلائی کرو "۔ یعنی میراث تو ان کو نہیں ملے گی لیکن یوں بر و احسان اور وصیت کے طور پر تم ان کے ساتھ کوئی نیکی کرنا چاہو تو کرسکتے ہو اس کی ممانعت نہیں ۔ وَبَقِیَ الْبِرُّ وَالْاحْسَانْ و الوَصِیَّۃُ ۔ (جامع البیان، ابن کثیر، محاسن التاویل، روح المعانی وغیرہ) ۔ سو اسلامی اخوت کی بنا پر مہاجرین اور انصار کے درمیان حقوق میں شرکت کا جو عارضی نظام شروع میں قائم فرمایا گیا تھا اس کو اس ارشاد سے منسوخ فرما دیا گیا اور واضح فرما دیا گیا کہ اب " الاقرب فالاقرب " کے اصول پر رشتہ دار ہی ایک دوسرے کے حقدار ٹھہریں گے۔ ہاں اگر کوئی ایسے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہے جو کہ میراث کے حقدار نہیں تو وہ ان حدود کے اندر رہ کر کرسکتا ہے جو شریعت مطہرہ نے ان کیلئے مقرر فرما دی ہیں اور جن کا بیان سورة نساء میں ہوچکا ہے ۔ { کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتَابِ مَسْطُوْرًا } ۔ سے مراد ایک قول و احتمال کے مطابق یہی ہے۔ جبکہ دوسرا قول آگے آرہا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے حسن سلوک کے معاملے کو مستثنیٰ فرما دیا گیا کہ حسن سلوک اور حسن معاملہ بہرحال مطلوب ہے۔ 17 یہ بات لکھی ہوئی تھی اس کتاب میں : یعنی یہ بات کہ میراث رشتہ داری ہی کی بنیاد پر جاری ہوگی یہ بدا جیسے کسی امر باطل پر مبنی نہیں جیسا کہ روافض وغیرہ بعض ملحدوں اور باطل پرستوں کا عقیدہ ہے بلکہ یہ تو اللہ پاک کی اس کتاب قدیم میں جو کہ غیر مبدل ہے شروع ہی سے لکھی ہوئی اور طے شدہ بات ہے۔ درمیان میں جو دوسرا حکم اس کے خلاف موجود تھا وہ اللہ پاک نے کچھ دوسری مصلحتوں اور حکمتوں کی بنا پر دیا تھا جس کا کامل علم بھی اسی کو ہے ۔ الذی لا یُبْدو اِنْ کان تعالیٰ شرع خلافہ فی وَقْتٍ لمَا لَہٗ مِنَ الْحِکْمَۃِ الْبَالِغَۃِ ۔ (جامع البیان، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور المراغی وغیرہ) ۔ سو مواخات، مہاجرین اور حلف وغیرہ کی بنا پر جو میراث تقسیم ہوتی تھی وہ ایک عارضی حکم تھا جو عارضی مصلحت کی بنا پر جاری فرمایا گیا تھا وہ اب ختم ہوگیا۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ اس ضمن میں اب صرف اتنی گنجائش باقی رہ گئی ہے کہ آدمی کے اعزہ واحباب میں سے جو میراث میں حق نہیں رکھتے ان کے ساتھ اگر کوئی حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہے تو وہ شریعت مطہرہ کی ان حدود مقررہ کے اندر رہ کر کرسکتا ہے جو اس بارے تقسیم میراث کے قانون کی صورت میں مقرر فرمائی گئی ہیں اور جن کا ذکر سورة نساء میں فرما دیا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ وہ (وحدہ لاشریک) پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں (کہ انہوں نے اس کی کہاں تک پابندی کی) اور کافروں کے لئے اس نے ایک بڑا ہی دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

20 اخذ میثاق کی حکمت و مصلحت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ پوچھے سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ تاکہ ان کا سچ سب کے سامنے اور علی رؤس الاشہاد ظاہر ہوجائے اور وہ اس کا بدلہ پائیں۔ سو اس ارشاد عالی سے اس عہد و میثاق کی حکمت اور مصلحت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ تاکہ اس طرح لوگوں پر اتمام حجت ہوجائے اور راستبازوں سے ان کی راستبازی کے بارے میں پرسش اور کفار و منافقین سے ان کے کفر و نفاق کے بارے میں پوچھ گچھ ہو۔ اور اسی کے مطابق ہر گروہ کو اس کے اجر و صلہ سے نوازا جائے۔ کیونکہ اتمام حجت کے بغیر کسی کو سزا و جزا دینا عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ سو اس طرح عملی طور پر کھرے کھوٹے کے درمیان فرق وتمیز کا انتظام فرما دیا گیا تاکہ کل قیامت کے روز کوئی کسی طرح کا عذر نہ پیش کرسکے کہ اس کے سامنے حق کا پیغام نہیں آیا تھا۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو یاد کرو تم اللہ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر اس وقت فرمایا تھا جب کہ چڑھ آئے تھے تم پر بہت سے لشکر تو آخرکار ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی تھی اور ایسے بہت سے لشکر بھی (تمہاری مدد کے لئے) جو تمہیں نظر نہیں آرہے تھے اور اللہ پوری طرح دیکھ رہا تھا وہ سب کچھ جو تم لوگ کر رہے تھے1

21 غزؤہ اَحزاب کا تذکرہ اور اس سے متعلق بعض اہم دروس و عبر کا ذکر : اوپر پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا تھا کہ آپ ﷺ اللہ پر بھروسہ رکھیں اس کی کارسازی ہر طرح سے کافی ہے۔ سو اب اس کے کچھ ثمرات اور نتائج کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے " غزوئہ اَحزاب " اور پھر " غزوئہ بنی قریظہ " کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو دو رکوعوں تک چلا گیا۔ ان دونوں غزو وں کے تفصیلی واقعات تو تفسیر و سیرت کی بڑی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان مختصر فوائد میں انکے تفصیلی ذکر کی گنجائش نہیں۔ البتہ مختصراً اتنا جاننا چاہیے کہ یہود بنو قینقاع اور بنو نضیر جن کو انکے اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا تھا، انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں اور فریب کاریوں کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ جاری رکھا بلکہ انکو اور تیز کردیا اور ان کا دائرہ اور وسیع کردیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اور خاص کر بنو نضیر کے سردار حیی ابن اَخْطب نے عرب کے تمام قبائل کو اکسا بھڑکا کر ایک ایسے اجتماعی حملے کے لئے تیار کرلیا جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کا مکمل طور پر صفایا کردینا تھا۔ چناچہ اس مقصد کے لئے انہوں نے شوال 5 ھ میں چاروں طرف سے دشمنان اسلام کو یکجا کر کے ایک بھاری لشکر کی صورت میں مدینہ منورہ پر ایک ایسے زبردست حملے کا پروگرام بنایا کہ خاکم بدہن مسلمانوں کا ہمیشہ کے لئے صفایا اور خاتمہ کردیا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ چناچہ اس کے لئے کوئی بارہ ہزار بلکہ بعض روایات کے مطابق پندرہ ہزار کا لشکر جرار وہ مدینہ منورہ پر چڑھا لائے جس میں مشرق کی طرف سے غطفان کے قبائل بنو سلیم، فزارہ، مرۃ، اشجع اور سعد وغیرہ نے پیش قدمی کی، شمال کی طرف سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کے یہود نے اور جنوب کی طرف سے قریش اور ان کے حلیفوں نے۔ جبکہ اس لشکر جرار کے مقابلے میں اسلامی لشکر کی تعداد بمشکل تین ہزار تھی اور وہ بھی نہتے اور طرح طرح کے مسائل اور مصائب و مشکلات میں گھرے ہوئے۔ مگر وہ ایمان، اخلاص اور توکل علی اللہ کی دولت بےپناہ سے پوری طرح سرشار تھے۔ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے اس کے مقابلے میں حضرت سلمان فارسی ؓ کے مشورے کے مطابق جبل سلع کو اپنی پشت پر لے کر اس طرف ایک خندق کھدوائی جدھر سے دشمن کا حملہ متوقع تھا۔ اس خندق کو کچھ ہی دنوں میں مکمل کرلیا گیا اور تین ہزار مسلمانوں کا لشکر اس کی پناہ میں مقابلہ کے لئے صف بستہ ہوگیا۔ دشمن نے اس خلاف توقع صورت حال پر چار و ناچار خندق کے اس طرف ڈیرے ڈال دئیے۔ تقریباً ایک ماہ تک اسی طرح دونوں طرف فوجیں آمنے سامنے رہیں۔ اس دوران اکا دکا جھڑپیں تو ہوتی رہیں مگر کوئی باقاعدہ لڑائی نہیں ہوئی۔ ادھر یہودیوں کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور بدعہدیوں کی بنا پر اس دوران ایک اور خطرناک صورت حال یہ پیش آئی کہ مدینہ منورہ میں موجود یہود بنو قریظہ نے عین خطرے کے موقع پر مسلمانوں سے کیے ہوئے اپنے دیرینہ عہد و پیمان کو توڑ دیا اور صاف کہہ دیا ۔ " لا عَقْد بَیْنَنَا وَبَیْنَ مُحَمَّدٍ ولا عَہْدَ " ۔ کہ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان نہ کوئی عہد ہے نہ کوئی پیمان۔ اس وقت مسلمانوں کے لئے صورت حال کی سنگینی انتہا کو پہنچ گئی کہ باہر سے آئے ہوئے اس لشکر جرار کے ساتھ ساتھ اندرون مدینہ میں موجود یہود بھی پشت میں خنجر گھونپنے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت مومن و منافق کی تمیز و پہچان ہوگئی۔ کھرے کھوٹے الگ ہوگئے۔ اپنے پرائے کا پتہ چل گیا۔ مومنوں کا ایمان اور منافقوں کا نفاق کھل کر سامنے آگیا۔ آنکھیں پتھرا گئیں۔ کلیجے منہ کو آنے لگے۔ طرح طرح کی باتیں اور قسما قسم کے گمان ظاہر ہونا شروع ہوگئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے حملہ آور غطفان سے یہ پیشکش کر کے صلح کرنے کا ارادہ فرما لیا کہ وہ مدینہ منورہ کے پھلوں کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ لے کر واپس ہوجائیں۔ مگر جب آپ ﷺ نے اس بارے انصار کے سرداروں حضرت سعد بن عبادہ ؓ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ سے مشورہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی، اگر تو یہ اللہ پاک کی طرف سے آپ کو حکم ہے تو پھر ہماری طرف سے اس بارے کسی چون و چرا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم اسے بسر و چشم تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ آپ کی اپنی رائے ہے اور آپ ﷺ ہمیں بچانے کے لئے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ایسا قطعاً نہ کیجئے گا۔ ہم نے تو اس وقت بھی ان لوگوں کو حبہ تک دینا گوارا نہیں کیا جب کہ ہم کفر و شرک میں مبتلا تھے، تو اب جبکہ ہم نور ایمان سے مشرف ہوچکے ہیں کس طرح برداشت کرسکتے ہیں کہ یہ ہم سے خراج لیں۔ اب ہمارے اور ان کے درمیان تو تلوار ہی ہے یہاں تک کہ اللہ پاک ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تو تمہاری وجہ سے ایسا کرنا چاہتا تھا کہ پورا عرب تم پر پل پڑا ہے اور تم کو اس سلسلے میں اس قدر تکلیف برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ مگر جب تمہارے ایمان اتنے مضبوط اور تمہارے حوصلے اس قدر پختہ اور بلند ہیں تو اب صلح کے اس ارادے کو ختم کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ صلح نامہ پھاڑ دیا گیا اور جہاد مسلسل کے عزم مصمم کا اظہارو اعلان فرمایا دیا گیا، یہاں تک کہ آزمائش کی تکمیل پر اس مہیب فضا میں رحمت کی ہوا چلنے لگی اور ان گھٹا ٹوپ اندھیروں کے چھٹنے کا وقت آن پہنچا جس کے لئے قدرت کے دست غیب نے سب سے پہلے یہ سامان فرمایا کہ قبیلہ غطفان کی ایک شاخ اشجع کے ایک صاحب نعیم بن مسعود کے دل میں ایمان کی ایک کرن پھوٹی اور اس کے بعد انہوں نے اپنی خاص حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے دشمن کی صفوں میں پھوٹ ڈال دی۔ جسکے نتیجے میں باہر کے آئے ہوئے حملہ آور اور اندرون مدینہ موجود بنو قریظہ کے یہود بےبہبود آپس میں کٹ گئے۔ ادھر ایک ایسی سخت قسم کی آندھی چلی کہ دشمن کے خیمے اکھڑ گئے۔ جانور بھاگ گئے۔ دیگیں الٹ گئیں۔ برتن اڑ گئے۔ ہوا سے کنکر مٹی اور ریت اڑ اڑ کر ان کے مونہوں پر طمانچے رسید کرنے لگے۔ کفار پر خوف و ہراس اور سراسیمگی کا عالم طاری ہوگیا۔ رعب چھا گیا۔ یہاں تک کہ بڑے طمطراق، زور و شور اور ساز و سامان کے ساتھ حملہ کرنے والے اور اسلام اور مسلمانوں کے نام و نشان مٹا دینے کا زعم و گھمنڈ اور خمار رکھنے والے ان تمام لشکروں کو بےنیل مرام، خائب و خاسر اور ذلیل ور سوا ہو کر واپس ہونا پڑا اور انکو ناکامی و نامرادی کی سیاہی اپنے چہروں پر لئے اور پاؤں سر پر رکھ کر بھاگنا پڑا۔ اور آئندہ ہمیشہ کے لئے یہ لوگ مہزوم و مطرود ہوگئے اور نور حق کے اجالے میں پیغمبر اسلام ۔ صلوات اللہ و سَلَاَمُہ عَلَیْہ ۔ نے فرمایا ۔ " الاٰنَ نَغْزُوْہُمْ وَ لَایَغْزُوْنَا " ۔ " اب ہم ان پر حملہ کریں گے یہ ہم پر کبھی حملہ آور نہیں ہو سکیں گے "۔ چناچہ چشم فلک گواہ ہے کہ ایسے ہی ہوا۔ اس کے بعد ان دشمنان اسلام کو مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہونے کا حوصلہ پھر کبھی نہیں ہوسکا یہاں تک کہ اس کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد پورے جزیرئہ عرب سے ان کا صفایا ہوگیا اور نور حق کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے مٹانے والے یہ اشرار ہمیشہ کے لئے نیست و نابود ہوگئے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ 22 اہل ایمان کی غیر مرئی لشکروں سے مدد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے اتار دیے تمہاری مدد کے لیے ایسے لشکر جو تم لوگوں کو نظر نہیں آرہے تھے "۔ یعنی نوری فرشتوں کے لشکر۔ اور وہ دوسرے اسباب خفیہ جو تمہاری نظروں سے اوجھل تھے۔ اور اللہ پاک کے لشکروں کو اس کے سوا اور جان ہی کون سکتا ہے ؟ ۔ { وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ } ۔ بہرکیف اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے مسلمانوں کی نصرت و امداد اور تائید و حمایت کیلئے باد تند و تیز کے ساتھ ساتھ فرشتوں کے ایسے لشکر بھی بھیجے جو مسلمانوں کو نظر نہیں آرہے تھے لیکن وہ انکے شانہ بشانہ کفار و اَشرار کے لشکروں کے مقابلے میں نبرد آزما تھے۔ فرشتوں کے یہ لشکر مسلمانوں کو اگرچہ نظر نہیں آتے لیکن ان کی نصرت و امداد کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والے غیبی کارنامے مسلمانوں کی ڈھارس بندھانے اور ان کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ جس سے اہل ایمان کے دل مضبوط ہوتے رہتے ہیں اور انکے دشمنوں کے دلوں پر رعب پڑتا جاتا ہے۔ اور فرشتوں کے یہ لشکر مسلمانوں کو اگرچہ نظر نہیں آتے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفار کو بھی نظر نہ آئیں۔ بلکہ قرین قیاس یہ ہے کہ وہ کفار کی فوجوں کو نظر آئیں اور ہر چیز ان کی مرعوبیت کا باعث بنے۔ سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جب بندے کا ایمان و یقین سچا اور پکا ہوتا ہے اور اس کو اپنے خالق ومالک پر بھروسہ و اعتماد پورا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نصرت و امداد کے لیے ایسے ہی غیبی اسباب پیدا کرتا اور انتظام فرماتا ہے۔ اور اس طور پر کہ بندے کو اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 33:10–12

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب کہ چڑھ آئے تھے تم پر وہ لوگ (یعنی تمہارے دشمن) تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب پتھرا گئی تھیں آنکھیں اور منہ کو آگئے تھے کلیجے اور تم لوگ اللہ (پاک) کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے تھے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

(سو اس طرح اس) موقع پر خوب آزمائش کی گئی ایمان والوں کی اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا گیا بڑی سختی سے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

جب کہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا (کھلم کھلا) کہنے لگے تھے کہ ہم سے وعدہ نہیں کیا اللہ اور اسکے رسول نے مگر دھوکے اور فریب کا

23 غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب چڑھ آئے تم پر وہ لوگ۔ یعنی تمہارے دشمن ۔ تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی "۔ یعنی ہر طرف سے۔ اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اوپر سے مراد مدینہ کی مشرقی جانب ہو جدہر سے غطفان وغیرہ حملہ آور ہوئے تھے اور نیچے سے مراد وہ جانب ہو جدھر سے قریش وغیرہ آئے تھے۔ بہرکیف یہ غزؤہ اَحزاب کے ہولناک منظر کی تصویر کشی فرمائی گئی ہے تاکہ اس سے واضح ہوسکے کہ منظر کتنا ہولناک اور کس قدر مہیب اور خوفناک تھا تاکہ ان مہیب اور ہولناک اندھیروں میں خداوند قدوس کی طرف سے ملنے والی اس نصرت و امداد کی عظمت و اہمیت سے پوری طرح واضح ہوسکے جس سے اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے اہل ایمان کو انکے صدق و صفا اور ان کی قوت ایمان و یقین کی بنا پر نوازا تھا کہ مدد کرنا اور نوازنا اسی وحدہ لاشریک کی شان کرم و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف " فوق " اور " اسفل " دونوں کے ذکر سے مشرقی اور مغربی دونوں سمتوں سے حملے کا ذکر فرما دیا گیا۔ کیونکہ مشرقی سمت بلند تھی اور مغربی نشیب میں۔ اور دشمن اہل ایمان ہر طرف سے چڑھ آئے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 24 صورت حال کی ہولناکی کے طبعی اثر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور خوف کے مارے تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے تھے "۔ ایمان والوں کو تو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین تھا مگر منافق لوگ یہاں تک کہنے لگے تھے کہ محمد نے تو ہم سے قیصر و کسریٰ کے محلات کے وعدے کئے تھے مگر حال یہ ہے کہ آج ہم لوگ قضائے حاجت کے لئے باہر بھی نہیں نکل سکتے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان کی دولت کتنی بڑی دولت ہے اور اس کی قوت کس قدر عظیم قوت ہے۔ اور اس سے بندئہ مومن کو مصائب و مشکلات کے ہجوم میں بھی کس قدر امن و سکون نصیب ہوتا ہے۔ جبکہ دولت ایمان سے محروم لوگ ہر وقت تنگی ہی تنگی میں رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ضعیف الایمان اور روگ منافقت کے روگی لوگوں کے اس خوفناک منظر کو دیکھنے سے اوسان خطا ہوگئے اور خدائے پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی نصرت و امداد کے سب وعدے ان لوگوں کی نظروں میں مشکوک ہوگئے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ حال ضعیف الایمان اور منافق لوگوں کا تھا جبکہ سچے پکے مومن اس وقت بھی مطمئن تھے۔ اس لیے ان کی عزیمت و استقامت اور ان کے سکون و اطمینان کی تعریف آگے صاف اور صریح لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لئے اب یہاں ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں پس تم لوٹ چلو اور ان میں سے ایک اور گروہ نبی سے اجازت مانگ رہا تھا (اس بہانے سے) کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں حالانکہ وہ ایسے کسی خطرے میں نہیں تھے یہ لوگ محض بھاگنا چاہتے تھے

25 " یثرب " کا معنیٰ و مفہوم ؟ : " یثرب " مدینہ منورہ کا پرانا نام تھا جو ثرب سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ خرابی اور مصیبت و بیماری وغیرہ کے آتے ہیں۔ اسی سے " تثریب " بنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ اور آپکی وہاں تشریف آوری سے پہلے چونکہ یہ جگہ خرابی و فساد کی جگہ ہوتی تھی اس لئے اس کو " یثرب " کہا جاتا تھا۔ اور یہاں کا بخار تو بڑا مشہور بخار تھا۔ مگر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی ہجرت اور اس خطے میں آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ خطہ امن و سلامتی کا خطہ، رحمت و عنایت خداوندی کا گہوارہ اور خیر و برکت کا مرکز بن گیا۔ اس لیے اس کا نام " یثرب " کی بجائے " طابہ " اور " طیبہ " پڑگیا۔ اور یہ " مدینۃ النبی "، " مدینہ الرسول " اور " المدینۃ المنورہ " مشہور ہوگیا۔ اور یہ اس کا اسم علم بن گیا۔ اور پوری روئے زمین میں صرف اسی بقعہ مبارکہ کا نام " المدنیۃ " پڑگیا۔ حالانکہ لغت کے اعتبار سے مدینہ ہر شہر کو کہا جاسکتا ہے۔ لہذا اب اس کو ٰٰ " یثرب " کہنا جائز نہیں۔ بہرکیف یہاں پر اس سے منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اور قرینے کی دلیل سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ اشارہ ان منافقینِ اَعراب کی طرف ہے جو مدینے کے قرب و جوار کے دیہاتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ اسلام تو لے آئے تھے لیکن ان میں ایک گروہ نہایت کٹر منافقین کا تھا جن کے بارے میں خود قرآن کہتا ہے ۔ { اَشَدُّ کُفْرًا وَّ نِفَاقًا } ۔ سو آیات کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کفر و نفاق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 26 منافقوں کی مفسدانہ کاروائیوں کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں نے اپنے گروپ کے لوگوں سے کہا کہ یثرب والو اب تم لوگوں کیلئے یہاں ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں پس تم لوٹ جاؤ "۔ یعنی اب محاذ جنگ پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں۔ لہذا تم لوگ اپنے گھروں کو واپس چلو۔ ظاہری معنیٰ تو یہ ہوئے مگر اندر اندر سے یہ لوگ دراصل یہ کہتے تھے کہ اب تم اپنے پرانے دین ہی کی طرف واپس ہوجاؤ کہ اب اس نئے دین میں رہنے کا تمہارے لیے کوئی مقام نہیں۔ اور ذومعنیین لفظ بولنا تو ان لوگوں کا طرئہ امتیاز اور پرانا وطیرہ تھا۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنے اپنے مقاصد خبیثہ کی تکمیل کرسکیں۔ سو نفاق اور ضعف ایمانی کے شکار ان لوگوں نے " اہل المدینۃ " کی بجائے " اہل یثرب " کہہ کر اپنے باطن کی اس کیفیت کا اظہار کردیا کہ اس شہر کے نئے نام یعنی " المدینۃ " کو قبول نہیں کیا تھا۔ شاید یہ لوگ ابھی تک اس گمان میں مبتلا رہے ہوں کہ اس شہر پر اسلام اور مسلمانوں کا قبضہ عارضی ہے۔ سابقہ حالات پھر لوٹ آئیں گے۔ سو اس خطاب کا حوالہ دیکر قرآن حکیم نے ایسے لوگوں کے باطن سے پردہ اٹھا دیا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے ایمان و یقین کی قوت سے محرومی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے منافقوں کی مفسدانہ کاروائیوں کا ایک نمونہ پیش کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کفر ونفاق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 27 منافق لوگوں کی حیلہ بازیوں کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں سے ایک اور گروہ پیغمبر سے اجازت مانگتا ہے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں حالانکہ وہ اس طرح کسی خطرے میں نہیں "۔ یہ لوگ تو محض بھاگنا جانتے ہیں۔ یعنی ایسا کوئی خاص خطرہ وہاں نہیں تھا جو خاص طور پر انہی کو لاحق ہوتا دوسروں کو نہ ہوتا۔ یہ لوگ تو محض بھاگنا چاہتے تھے ورنہ ان کے گھروں کا حال بھی ویسے ہی تھا جیسے دوسروں کا تھا۔ اور سب کی صورت حال ایک ہی جیسی تھی۔ بہرکیف اس ارشاد میں منافقین کے ایک دوسرے گروہ کے کردار کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ نبی ﷺ کے سامنے یہ عذر اور بہانہ پیش کرکے اجازت مانگتے تھے کہ چونکہ ہمارے گھر تنہا اور غیر محفوظ ہیں، اس لیے ہمیں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ سو پہلے گروہ نے مدینے والوں کو پست ہمت کرکے محاذ جنگ سے ہٹانے کی کوشش کی اور اب اس دوسرے گروہ نے اپنے لیے راہ فرار تلاش کرنے کی تدابیر کی تاکہ میدان دشمن کیلئے بالکل صاف ہوجائے اور ان کا یہ قول کہ " ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں " اس بات کا قرینہ ہے کہ ان لوگوں کا تعلق اطراف مدینہ سے تھا۔ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اپنے کفر و نفاق میں بڑے سخت ہیں۔
Ayahs 33:14–15

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور (ان کا اندرونی حال یہ ہے کہ) اگر گھس آئے ہوتے ان پر دشمن اطراف مدینہ سے پھر ان کو دعوت دی جاتی فتنہ (و فساد) کی تو یہ (فوراً ) اسمیں کود پڑتے اور کچھ بھی توقف نہ کرتے

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ خود اللہ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی پوچھ تو بہرحال ہونی ہی تھی

28 بہانہ بازوں کی محض بہانہ بازی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ محض ان لوگوں کی بہانہ بازی تھی ورنہ اگر دشمن کی کوئی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ان سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کو کہے تو یہ فوراً تیار ہوجائیں گے اور اس وقت ان کو ایسا کوئی خطرہ یاد نہ آئے گا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ یہ محض جہاد سے بھاگنے کے لئے بہانہ بازی کر رہے تھے۔ " فتنہ " سے یہاں پر مراد ارتداد اور مسلمانوں سے لڑنا ہے ۔ " الرِّدَّۃُ ومُحَاَرَبۃُ المسلمین " ۔ (جامع البیان ج 2 ص 124) سو اگر کوئی اسلام دشمن قوت حملہ آور ہو کر ان سے مرتد ہوجانے کو یا مسلمانوں سے لڑنے کیلئے کہے تو یہ بےدریغ ان کی بات مان لیں گے اور اس وقت یہ لوگ ایسی کوئی بات نہیں کریں گے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ سو ان کی یہ باتیں محض میدان جنگ سے بھاگنے کا بہانہ ہیں۔ (الکشاف، المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال -