Ayahs 33:1–31۔ ابن جریر جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے نبی ﷺ کو دعوت اسلام سے رک جانے کا مطالبہ کیا اور یہ شرط لگائی کہ وہ اپنا مالوں میں سے ایک حصہ آپ کو دیں گے اور ان منافقوں اور مدینہ منورہ کے یہودیوں نے اس بات سے ڈرایا کہ اگر آپ اس دعوت سے نہ لوٹے تو وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی اتقی اللہ لا تطع الکفرین والمنفقین یعنی اے نبی اللہ سے ڈرے کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع الکفرین میں کافرین سے مراد ابی بن خلف والمنفقین سے مراد ہے ابو عامر الراہب، عبداللہ بن ابی سلول اور الجد بن قیس
Ayah 33:41۔ احمد والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وصححہ وابن مردویہ والضیاء فی المختارہ وابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ایک دن نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ سے ایک کلمہ چھوٹ گیا تو ان منافقوں نے کہا جو آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان کے دو دل ہیں ایک دل تمہارے ساتھ ہے اور ایک دل ان کے ساتھ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماجعل اللہ لرل من قلبین فی جو فہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے لیے اس کے پیٹ میں دو دل نہیں بناتے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے خصیف کے طریق سے سعید بن جبیر و مجاہد و عکرمہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ ایک ایک آدمی دو دلوں والا پکارا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ کہ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے لیے اس کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے۔
3۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قریش میں سے ایک آدمی اپنی ذہانت کی وجہ سے دو دلوں والا کہلایا جاتا تھا وہ کہتا تھا ایک دل مجھے حکم کرتا ہے اور دوسرا دل مجھے روکتا ہے اور دوسرا دل مجھے روکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں وہ کچھ فرمایا جو تم سنتے ہو۔
5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بنو قہر میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میرے پیٹ میں دو دل ہیں یعنی ان دونوں میں سے ایک دل کے ساتھ محمد ﷺ کے دل سے زیادہ سمجھتا ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
6۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت قریش کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو بنو جمع میں سے تھا اس کو جمیل بن معمر کہا جاتا تھا۔
کسی انسان کے دو دل نہیں
7۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور اس میں بھول گئے اس میں سے ایک کلمہ آپ سے رہ گیا اس کو منافقوں نے سن لیا تو انہوں بہت باتیں بنائیں اور کہا کہ ان کے دو دل ہیں کیا تم نماز میں اس کے قول اور اس کے کلام میں نہیں سنتے کہ ان کا ایک دل تمہارے ساتھ ہے اور دوسرا دل اپنے اصحاب کے ساتھ ہے تو اس پر یہ آتی نازل ہوئی آیت یا ایہا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین سے لے کر آیت ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ تک۔
8۔ عبدالرزاق وابن جریر نے زہری (رح) سے آیت ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ کے بارے میں فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ان کے لیے بطور ضرب مثل ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کسی اور کا بیٹا تیرا بیٹا نہیں۔
9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیک آدمی اپنی بیوی سے کہا کرتا تھا کہ تو میرے نزدیک ایسی ہے جیسے میری امی کی پیٹھ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما جعل ازواجکم اللائی تظہرون منہن امہتکم اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے قرار دیا ہے۔
10۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وما جعل ازواجکم الئی تظہرون امہتکم کے بارے میں فرمایا یعنی اس کو تیری ماں نہیں بنایا جب کوئی مرد اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کی ماں نہیں بنایا لیکن اس میں کفارہ رکھ دیا۔ آیت وما جعل ادعیاء کم ابناء کم یعنی تیرے منہ بولے بیٹے کو تیرا بیٹا بنایا فرماتے ہیں اگر کوئی آدمی کسی کا بیٹا ہونے کا دعوی کرتا ہے تو وہ اس کا بیٹا نہیں ہے ہم کو ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جس شخص نے دعوی کیا اپنے غیر باپ کی طرف بیٹا ہونے کا جان بوجھ کر تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردیں گے۔
11۔ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت وماجعل ادعیاء کم ابناء کم اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے قرار دیا زید بن حارث ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayah 33:51۔ ابن ابی شیبہ والبخاری والترمذی والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ زید بن حارثہ ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ہم ان کو زید بن محمد پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا آیت ادعوہم لاباۂم ہو اقسط عنداللہ کہ ان کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارو اور وہ زیادہ انصاف کی بت ہے اللہ کے نزدیک تو نبی ﷺ نے فرمایا تو زید بن حارث بن شراحیل ہے۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بدر میں حاضر ہونے والوں میں سے تھے انہوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا پھر اس کا نکاح کردیا اپنے بھائی کی بیٹی ہند بن الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے اور وہ انصار میں سے ایک عورت کے غلام تھے جیسے نبی ﷺ نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور زمانہ جاہلیت میں جو آدمی کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا تو لوگ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور وہ میراث میں اس کا وارث ہوتا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا آیت ادعوہم لاباء ہم ہو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم، ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو یہی بات اللہ کے نزدیک بڑی انصاف کی ہے۔ پھر اگر تم نے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دوست ہیں تو صحابہ نے ان کو ان کے آباء کی طرف منسوب کردیا اور جس کا والد معلوم نہ ہو تو وہ دین میں اس کا منہ بولا بھائی تھا۔ سہلہ بنت سہل بن عمرو نبی ﷺ کے پاس ائیں اور کہنے لگیں کہ سالم کو حذیفہ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا آیت ادعوہم لاٰباء ہم کہ ان کو اپنے حقیقی باپوں سے پکارو۔ اور وہ میرے پاس اندر آجاتا ہے۔ اس حال میں کہ میں اکیلی ہوتی ہوں اور ہم ایک تنگ مکان میں رہتے تو نبی ﷺ نے فرمایا سالم کو اپنا دودھ پلادے تو تجھ پر حرام ہوجائے گا یعنی وہ تیرا بیٹٓ بن جائے گا اور اس سے نکاح کرنا حرام ہوگا اور پردہ بھی جاتا رہے گا۔
3۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زید بن حارثہ کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ننھیال کو بنی معن میں رہتے تھے جو بنو ثول سے تھے جن کا تعلق بنو طی سے تھا۔ یہ بنو طے کے لڑکوں کے ساتھ پکڑے گئے ان کو بیچنے کے لیے عکاظ بازار میں لایا گیا حکیم بن حزام بنو خویلد اپنے کاروبار کے لیے گئے ان کی پھوپھی خدیجہ ؓ نے ان کو ایک اچھا عر بھی غلام خریدنے کا حکم فرمایا اگر وہ ہر ممکن ہوسکے۔ جب وہ بازار میں آئے تو زید ؓ کو اس میں فروخت ہوتے ہوئے پایا اس کی خوبصورتی کو انہوں نے پسند کیا اور ان کو خرید لیا ان کو خدیجہ کے پاس لے آئے اور ان سے فرمایا میں نے تیرے لیے ایک ذہین غلام خریدا ہے۔ اگر تجھ کو اچھا لگے تو اس کو لے لینا اور اگر خوش نہ لگے تو اس کو چھوڑدینا اور مجھے یہ خوش لگا ہے۔ جب خدیجہ نے اس کو دیکھا تو اس کو پسند کیا اور ان کو لے لیا جب حضرت خدیجہ نے رسول اللہ ﷺ سے نکاح فرمایا اور وہ ان کے پاس تھے نبی ﷺ نے اس کی ذات کو پسند فرمایا تو آپ نے حضرت خدیجہ سے یہ لڑکا بطور تحفہ طلب فرمایا۔ تو حضرت خدیجہ نے فرمایا کہ وہ آپ کے لیے ہے اگر آپ اس کو آزاد کردیں تو میرے یعنی اس کی میراث میرے لیے ہوگی آپ نے اس شرط کا انکار فرمایا تو انہوں نے اس کو آپ کے لیے ہبہ کردیا کہ اگر آپ چاہیں تو اس کو آزاد کردیں اور اگر چاہیں تو اس کو روک لیں راوی نے کہا کہ وہ نبی ﷺ کے پاس جوان ہوگئے۔
پھر وہ یعنی زید بن حارثہ ابو طالب آپ کے چچا کے سامان تجارت کے ساتھ شام کی طرف نکلے۔ اپنی قوم کی زمین کے پاس سے گزرے تو ان کے چچا نے ان کو پہچان لیا اور اسکی طرف آیا اور پوچھا اے لڑکے تو کون ہے ؟ انہوں نے کہا اہل مکہ کا غلام ہوں پوچھا ان کے لوگوں میں سے ہو کہا نہیں پھر پوچھا تو آزاد ہے یا غلام ہے کہا بلکہ میں غلام ہو پوچھا کس کا ؟ کہا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کا پوچھا تو فرمایا یا عجمی ہے کہا بلکہ عربی ہوں پوچھا تیرے اہل و عیال کن لوگوں میں سے ہے کہا قبیلہ کلب میں سے پوچھا کون سے کلب میں سے کہا بنی عبدود میں سے کہا افسوس ہے تجھ کو تو کس کا بیٹا ہے کہا حارثہ بن شرحبیل کا بیٹٓ ہوں پوچھا تو کہاں پکڑا گیا ہے کہا اپنے ماموں کے گھر سے پوچھا تیرے ماموں کون ہیں کہا قبیلہ طی والے پوچھا تیری ماں کا نام کیا ہے سعدی پھر وہ اس کو چمٹ گئے اور کہا حارثہ کا بیٹٓ اور اس کا باپ کو بلایا اور کہا اے حارثہ یہ تیرا بیٹٓ ہے حارثہ اس کے پاس آئے جب اس کی طرف دیکھا تو پہچان لیا پوچھا تیرے آقانے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ کہا مجھے اپنے اہل و عیال اور اپنی اولاد پر ترجیح دیتے ہیں اور میں نے ان سے محبت کو پایا ہے میں جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔
حضرت زید بن حارثہ ؓ کی آپ ﷺ سے محبت
ان کے ساتھ ان کے باپ ان کے چچا اور ان کے بھائی سوار ہوگئے یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی حارثہ نے کہا اے محمد ﷺ آپ اللہ کے حرم کے رہنے والے ہیں اور اس کے پڑوسی ہیں اور اس کے گھر کے پاس رہنے والے ہیں تم غلام کو آزاد کرتے ہو قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہو میرا بیٹا آپ کا غلام ہے۔ ہم پر احسان فرمائیے اور یہی اس طرف اچھا سلوک کیجیے اور فدیہ میں ہم پر مہربانی کیجیے کیونکہ آپ اپنی قوم کے سردر کے بیٹے ہیں بیشک آپ جو پسند کریں گے ہم آپ کو فدیہ دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں اس سے بہتر تم کو دوں گا۔ انہوں نے کہا وہ کیا ہے فرمایا میں تم کو بتاتا ہوں اگر یہ تم کو اختیار کرتا ہے تو اس کو بغیر فدیہ یعنی بغیر مال کے لے جاؤ اور اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہے تو اس کو میرے پاس رہنے دو ۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین چیز عطا فرمائے آپ نے بہت احسان کیا رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلا کر فرمایا اے زید ! کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو کہا جی ہاں یہ میر باپ ہے میرا چچا ہے اور میرا بھائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے مجھے پہچان لیا ہے اگر ان کو پسند کرنے والا ہے تو ان کے ساتھ چلا جا اور اگر تو مجھے پسند کرے تو میں وہ ہوں جس کو تو جانتا ہے زید نے کہا میں آپ کے مقابلے میں کبھی بھی کسی کو پسند نہیں کروں گا آپ مجھ سے والد اور چچا کی جگہ پر ہیں۔ اس کے والد اور چچا نے اس سے کہا اے زید تو مالک ہونے پر غلام ہونے کو ترجیح دے رہے ہو۔ زید نے فرمایا میں اس آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
جب رسول اللہ ﷺ نے اس کے حرص کو دیکھا یعنی اس کی محبت کو دیکھا تو فرمایا تم گواہ ہوجاؤ کہ یہ آزاد ہے یہ میرا بیٹا ہے جو میرا وارث ہوگا اور میں اس کا وارث ہوں یہ سن کر اس کے والد اور اس کے چچا خوش ہوگئے جب انہوں نے آپ کی بارگاہ میں اس کرامت کو دیکھا زید زمانہ جاہلیت میں برابر زید بن محمد کہلاتے رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا آیت ادعوہم لاباء ہم کہ ان کو اپنے باپوں سے پکارو۔ تو زید بن حارثہ پکارے جانے لگے۔
4۔ ابن عساکر نے زید بن شیبہ کے طریق سے حسن بن عثمان (رح) سے روایت کیا کہ مجھے چن دفقہائے اہل علم نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ عامر بن ربیعہ کو عامر بن خطاب کہا جاتا تھا اور خطاب کی طرف منسوب کیے جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت اتاری کہا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی زید بن حارثہ اور سالم بن ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام اور مقداد بن عمرو کے بارے میں کہ ادعوہم لاٰ باء ہم کہ ان کو ان کے باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو۔
5۔ ابن جریر نے ابوبکرہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ادعوہم لاٰباء ہم ہو اقسط عنداللہ، فان لم تعلموا اٰباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو یہی بات اللہ کے بزدیک بڑے انصاف کی ہے پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ جس کے باپ کا علم بھی نہیں اور میں تو تمہارا دینی بھائی ہوں۔
6۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ادعوہم لاٰباء ہم ہو اقسط عند اللہ، فان لم تعلموا اٰباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو یہی بات اللہ کے نزدیک بڑے انصاف کی ہے پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ جس کے باپ کا علم بھی نہیں اور میں تو تمہارا دینی بھائی ہوں۔
6۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ادعوہم لاٰباء ہم ہو اقسط عنداللہ کے بارے میں روایت کیا کہ یہی بات بڑے انصاف والی ہے اللہ کے نزدیک فان لم تعلموا اٰباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم یعنی جب تو نہیں جانتا کہ اس کے باپ کے بارے میں تو وہ تمہارا دینی بھائی ہے اور دوست ہے۔
7۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فان لم تعلموا اٰباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم سے مراد ہے کہ اگر تو اس کے باپ کو نہیں جانتا تو وہ تیرا دینی بھائی ہے اور تیرا مولی فلاں کا مولی ہے۔
8۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر تم ان کے آباء کو نہیں جانتے کہ جن کے ناموں سے تم ان کو بلاؤ تو تم ان کی نسبت اس طرح کرو کہ وہ تمہارے دینی بھائی ہیں کہ تو یوں کہے عبداللہ، عبدالرحمن عبداللہ اور اس جیسے نام لے اور یہ کہ ان کو ان کے آقاؤں کے نام کی طرف منسوب کرو۔
9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت فان لم تعلموا اٰباء ہم فاخوانکم فی الدین وموالیکم کے بارے میں فرمایا کہ وہ تیرا دینی بھائی ہے اور تیرا مولی یعنی غلام بن فلاں ہے۔
10۔ ابن ابی حاتم نے سالم بن ابی الجعد رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ادعوہم لاٰباء ہم نازل ہوئی تو صحابہ کرام سالم کے باپ کو نہیں جانتے تھے لیکن وہ ابو حذیفہ کے مولی تھے کیونکہ وہ حضرت حذیفہ کے حلیف تھے۔
11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیس علیکم جناح فیما اخطأتم بہ اور ممانعت سے پہلے تم نے جو غلطی کی اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں یہ بات منع کرنے سے پہلے کی ہے۔ آیت ولکن ما تعمدت قلوبکم لیکن گناہ تو اس کا ہے جو تمہارے دلوں نے قصدا علیہ کیا۔ یعنی جب تم کو نہی کردی گئی یہ اس بات میں ہے۔
12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولیس علیکم جناح فیما اخطأتم کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تو کسی کو اس کے غیر باپ سے بلاتا ہے جبکہ تو جانتا ہے کہ فلاں اس کا باپ ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں لیکن تو نے ارادۃ ایسا نہیں کیا تھا۔
13۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا اور وہ نبی ﷺ سے مرفوع روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے غلطی کے بارے میں تجھ پر کوئی روایت نہیں لیکن میں جان بوجھ کر بات کرنے کی صورت میں تیرے لیے ڈرتا ہے۔
14۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم پر غلطی کرنے سے نہیں ڈرتا مگر میں تم پر جان بوجھ کر گناہ کرنے سے ڈرتا ہوں۔
Ayah 33:61۔ البخاری وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مومن نہیں ہے مگر میں دنیا آخرت میں تمام لوگوں سے میں اس کا زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم سو جس مومن نے مال چھوڑا اس کا خفیہ دوست ہو یا اس نے قرض چھوڑا جس میں کسی کا نقصان نہیں تھا۔ تو اس کو چاہیے کہ میرے پاس آجائے میں اس کا مولی ہوں۔
نبی کریم ﷺ کا امت سے محبت و شفقت
2۔ الطیالسی وابن مردویہ نے ابوہریر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فوت ہوجاتا تھا اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آتے آپ پوچھتے کہ اس نے مال چھوڑا ہے جو اس کے قرض کو کافی ہو اگر لوگ بتاتے یہ مال نہیں چھوڑا ہے تو آپ فرماتے تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ نے فرمایا میں مومنین کے ان کی ذاتوں سے زیادہ قریب ہوں جس نے قرض چھوڑا تو میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے وارث کا ہیں۔
3۔ احمد وابو داوٗد وابن مردویہ نے جابر ؓ عہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے میں ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیاہد اس کا قریبی ہوں جو آدمی مرگیا اور قرضہ چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔
4۔ ابن ابی شیبہ واحمد ولنسائی نے بردہ ؓ سے روایت کیا کہ میں علی ؓ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شریک ہوا میں نے ان سے کچھ زیادتی دیکھی جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں علی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے شان میں تنقید کی میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو متغیر دیکھا اور فرمایا اے بریدہ کیا میں ایمان والوں پر ان کی ذاتوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ آپ نے فرمایا میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس وجہ سے ان کے حق کو عظیم جانو۔
ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں
6۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم سے مراد ہے کہ ازواج مطہرات حرمت کے لحاظ سے ان کی مائیں ہیں کسی مومن کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بیویوں میں سے کسی سے نکاح کرے ان کی زندگی میں اگر وہ طلاق دے دیں اور نہ ان کی موت کے بعد ان سے کرسکتا ہے یہ ازواج مطہرات مومنوں پر اس طرح حرام ہیں جس طرح ان کی مائیں حرام ہیں۔
7۔ ابن سعد وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے ان سے کہا اے میری ماں تو انہوں نے فرمایا میں تمہارے مردوں کی ماں ہوں اور تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔
8۔ ابن سعد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں تم میں سے مردوں اور عورتوں کی ماں ہوں۔
9۔ عبدالرزاق نے وسعد بن منصور واسحق بن راہویہ وابن المنذر والبیقہی نے بجالہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک لڑکے پاس سے گزرے اور وہ مصحف (یعنی قرآن مجید) سے پڑھ رہا تھا۔ آیت النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم عمر نے فرمایا اے لڑکے وہو اب لہم کو مٹادے۔ اس نے کہا کہ یہ ابی کا مصحف ہے حضرت عمر ان کے پاس تشریف لے گئے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے قرآن غافل کرتا تھا اور آپ کو بازار میں تالیاں غافل کرتی ہیں۔
10۔ الفریابی وابن مردویہ والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آتی کو یوں پڑھتے تھے آتی النبی اولی بالمونین من انفسہم وازواجہ امہتہم یہ نبی مومنوں کے ساتھ خوف ان کے نفسوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور ان کے باپ ہیں اور نبی کی ہو یا مومنوں کی باتیں ہیں۔
11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم
12۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہوا ٰت لہم۔
13۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہو اٰت لہم۔
14۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمہجرین اور اللہ کی کتاب میں دوسرے مومنوں اور مہاجروں کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں یعنی مسلمان ایک زمانے میں اس حال میں رہے کہ وہ ہجرت کے ذریعے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ جبکہ اعرابی مسلمان کسی مہاجر کا وارث نہ بنتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملادیا تو میراث کی وجہ سے جاری ہوگئی۔
15۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا انتفعلوا الی اولیئکم معروفا۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے یعنی مہاجر بھائیوں سے کسی مومن سے سلوک کرنا چاہو تو جائز ہے یعنی تم ان حلیفوں کے حق میں وصیت کرتے ہو جن کے درمیان نبی ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان دوستی یعنی بھائی چارہ قائم کردیا تھا۔
16۔ ابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم نے محمد بن علی بن الحنیفہ (رح) سے آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروف کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی کہ مسلمان یہودی اور نصرانی کے حق میں وصیت کرسکتا ہے۔
17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اہل شرک کے ساتھ جو رشتہ داری ہے معروفا یعنی وصیت کرنا جائز ہے اور ان کے لیے میراث نہیں ہوگی آیت کان ذلک فی الکتاب مسطورا۔ یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے اور بعض قراءت میں یوں ہے کان ذلک فی الکتب مکتوبا۔ اور یہ اللہ کے پاس لکھا ہوا ہے کہ مشرک کسی مومن کا وارث نہیں ہوگا۔
18۔ عبدالرزاق نے قتادہ اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اس صورت میں کہ وہ تیرے کوئی رشتہ دار نہ ہو اور وہ تیرے دین کے خلاف ہو تو وہ اس کے حق میں وصیت کرے اور وہ تیرا ولی نسبت میں اور دین میں تیرا ولی نہیں۔
انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا گیا
Ayahs 33:7–81۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذاخذنا من النبیین میثاقہم یعنی نبیوں سے وعدہ لیا اور یہ آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے اس وقت لیا گیا آیت واخذنا منہم میثاقا غلیظا یعنی لوگ جو وعدہ لیتے ہیں اس سے بھی مضبوط وعدہ لیا آیت لیسئل الصدقین عن صدقہم تاکہ قیامت کے دن سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے جو پیغام پہچانے والے ہیں اور اس فریضہ کو ادا کرنے والے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذ اخذنا من النبین میثاقہم الایۃ سے مراد ہے۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا اخذنا من النبین میثاقہم الایۃ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نبیوں سے یہ وعدہ لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں گے اور ایک دوسرے کا اتباع کریں گے
3۔ الطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل ابو مریم غسانی ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ آپ کی نبوت کا آغاز کیسے ہوا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ لیا جیسے کہ دوسرے نبیوں سے وعدہ لیا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت واذ اخذنا من النبین میثاقہم ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی وعسی ابن مریم واخذنا منہم میثاقا غلیظا اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا وعدہ لیا اور آپ سے بھی نوح ابراہیم موسیٰ و عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے پکا وعدہ لیا اور میں ابراہیم کی دعا ہوں فرما آیت ربنا وبعث فیہم رسولا منہم (البقرہ آیت 129) کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیج دیجیے اور مسیح بن مریم کی بشارت ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی ماں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے قدموں کے درمیان سے ایک چراغ نکلا جس سے ان کے لیے شام کے محلات روشن ہوگئے۔
4۔ الطیالسی والطبرانی وابن مردویہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور پھر فیصلہ فرمادیا اور نبیوں سے پکا وعدہ لیا اور ان کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اہل یمن کو دائیں ہاتھ میں پکڑا اور اہل شام کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور رحمن کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں اور دائیں ہاتھ والے وہ ہیں جنہوں نے حق کی رغبت کو قبول کیا اور کہا لبیک وسعدیک میں تیری خدمت میں حاضر ہوں اے ہمارے رب اور فرمایا آیت الست بربکم کیا میں تمہارا رب نہیں آیت قالو ابلی انہوں نے کہا کیوں نہیں آپ ہمارے رب ہیں تو ان کے بعض کو بعض سے ملادیا اور ان میں سے ایک نے کہا اے میرے رب یا تو نے ہم کو کیوں ملادیا کیونکہ آیت لہم اعمال من دون ذلک ہم لہا عملون آیت (المومنون آیت 63) یعنی ان کے لیے اعمال ہیں ان کے علاوہ اسی کے لیے عمل کرنے والے ہیں فرما ایسا نہ ہو کہ وہ قیامت کے دن کہنے لگیں آیت انا کنا عن ہذا غفلین (الاعراف 32) کہ ہم اس پیغام سے غافل تھے پھر ان کو آدم علیہ اسللام کی پشت میں لوٹا دیا تو جنت والے جنتی ہیں اور دوزخ والے دوزخی ہیں ایک کہنے والے نے کہا تب عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک اپنے مقام کے لیے عمل کرے گا عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا تب عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک اپنے مقام کے لیے عمل کرے گا عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا تب تو ہم خوب کوشش کریں گے یا رسول اللہ۔
5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یارسول اللہ آپ سے کب وعدہ لیا گیا فرمایا جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔
6۔ ابن سعد ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا آپ کو کب نبی بنایا گیا فرمایا جب مجھ سے میثاق لیا گیا اس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے جب مجھ سے وعدہ لیا گیا۔
7۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الدلائل ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یارسول اللہ آپ کب نبی تھے فرمایا جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔
8۔ احمد والبخاری نے اپنی تاریخ میں الطبرانی والحاکم وصححہ وابو نعیم والبیہقی معانی الدلائل میسرہ الفخر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کب نبی تھے فرمایا جب آدم روح اور جسم کے درممیان تھے۔
9۔ الحاکم وابو نعیم والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے لیے کب نبوت ثابت ہوئی فرمایا جب آدم (علیہ السلام) جسم اور روح پھونکنے کے درمیان تھے۔
10۔ ابو نعیم نے صنابحی (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے پوچھا آپ کو کب نوت ملی فرمایا جب آدم (علیہ السلام) مٹی میں لتھڑے ہوئے تھے۔
11۔ ابن سعد نے ابن ابی جدعاء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کب نبی بنے فرمایا آیت جب آدم (علیہ السلام) روح اور جسم کے درمیان تھے۔
12۔ ابن سعدنے مطرف بن عبداللہ بن شجر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی سے سوال کیا یارسول اللہ آپ کب نبی بنائے گئے فرمایا جب آدم (علیہ السلام) روح اور مٹی کے درمیان تھے۔
13۔ ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جب یہ آیت واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح اور جب ہم نے نبیوں سے اور آپ سے اور نوح سے وعدہ لیا تلاوت فرماتے تو فرمائیے کہ مجھ سے خیر کا آغاز ہوا۔ اور بعثت کے لحاظ سے میں ان کے آخر میں ہوں یعنی تمام نبیوں کے آخر میں مجھے بھیجا گیا۔
14۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے میں انبیاء میں سب سے پہلا ہوں پیدائش کے لحاظ سے اور بعثت میں ان سب سے آخر میں ہوں۔
15۔ ابن ابی عاصم والضیاء فی المختارہ ابی بن کعب ؓ سے آیت واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں پہلے نوح (علیہ السلام) ہیں پھر اول پھر اول۔
16۔ الحسن بن سفیان وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل والدیلمی وابن عساکر نے قتادہ کے طریق سے حسن (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذ اخذنا من النبیین میثاقہم کے بارے میں فرمایا کہ میں پیدائش میں نبیوں میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں ان سب سے آخر میں ہوں ان سے پہلے نبیوں کے آغاز مجھ سے ہو۔
17۔ البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں پانچ آدمی بہترین ہیں نوح ابراہیم موسی، عیسیٰ اور محمد (علیہم السلام) اور ان میں بہترین محمد ﷺ ہیں۔
18۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت میثاقہم سے مراد ہے ان کا عہد۔
19۔ عبدبن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذ اخذنا من النییب سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے ان کی قوموں کے بارے میں وعدہ لیا۔
20۔ ابو نعیم والدیلمی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم میں سے کوئی ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے وعدہ لیا جس دن نبیوں سے وعدہ لیا گیا اس کے اعمال کی وجہ سے اس کے برے اعمال کو اس سے دور کردیا جاتا ہے اگر یہ کہ اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی۔
Ayahs 33:9–12غزوہ احزاب کا تذکرہ
1۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ وابن عساکر وابو نعیم والبیہقی کلاہما فی الدلائل میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم صف باندھے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو سفیان اور اس کے لشکر ہمارے اوپر تھے اور قبیلہ قریظہ کے یہودی ہماری جانب تھے ہم ان سے ڈر رہے تھے اپنے بچوں کے بارے میں ہم ایسی سخت اندھیری رات کبھی نہیں آئی اور نہ اس سے زیادہ تیز ہواوالی تھی اور ا سہوا کی آوازیں بجلی کڑک کی طرح تھیں اور یہ ایسا اندھیرا تھا کوئی اس میں سے اپنی انگلی کو نہیں دیکھ رہا تھا اور منافقوں نے نبی ﷺ سے اجازت لینا شروع کی اور کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور وہ غیر محفوظ نہیں تھے ان میں سے کسی نے بھی اجازت نہیں لی تو اس کو اجازت دے دی گئی وہ کھسک جاتے تھے جبکہ ہماری تعداد تین سو کے قریب تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ایک آدمی کے پاس یہاں تک کہ میرے پاس سے گزرے میرے پاس دشمن سے بچاؤ کا کوئی سامان نہ تھا اور نہ سردی سے بچاؤ کا کوئی جبکہ مگر ایک چادر میری بیوی کی تھی وہ میرے پاس تھی اور وہ چادر میرے گھٹنوں سے نیچے نہیں ہوتی آپ میرے پاس تشریف لائے اور میں اپنے گھٹنوں میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ کون ہے میں نے کہا حذیفہ ہوں میں زمین کی طرف سمٹ گیا میں نے عرض کیا ہا یا رسول اللہ کیونکہ کھڑا ہونا مجھے پسند نہ تھا آپ نے فرمایا کھڑا ہوجاؤ میں کھڑا ہوا آپ نے فرمایا قوم کے بارے میں ایک اطلاع ہے جاؤ حقیق خبر لے آؤ حذیفہ نے کہا اور میں قوم میں سے سب سے زیادہ ڈرپوک تھا اور ان میں سخت ٹھنڈک محسوس کرنے والا تھا میں باہر نکلا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کی حفاظت فرما اس کے آگے سے اس کے پیچھے سے اس کے دائیں سے اس کے بائیں سے اور اس کے اوپر سے اور اس کے نیچے سے حذیفہ نے کہا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے کوئی گھبراہٹ اور ٹھنڈک کسی پیٹ میں پیدا نہیں فرمائی مگر وہ میرے پیٹ سے نکل گئی میں ان میں سے کسی چیز کو نہی پاتا تھا جب میں لوٹا تو آپ نے فرمایا اے حذیفہ میں کوئی بات نہ کرتا یہاں تک کہ تم میرے پاس آجاؤ میں اپنے پڑاؤ سے نکلا یہاں تک کہ جب یہ دشمن کے لشکر کے قریب ہوا میں نے آگ کی روشنی میں دیکھا ان کے لیے جلائی گئی تھی کہ ایک فقرہ موٹے جسم کا آدمی ہے یہ جو آگ میں ہاتھ تاپ رہا ہے اور آگ پر ہاتھ مارتا ہے اور کہہ رہا ہے کوچ کوچ جلدی روانہ ہوجاؤ پھر وہ لشکر میں داخل ہوا اچانک لوگوں میں بنو عامر کے آدمی تھے وہ بھی کہہ رہے تھے کوچ کوچ اے آل عامر تمہارے لیے اب ٹھہرنا نہیں اور جب ان کے لشکر میں کوچ ہوا اور تو ان کا لشکر ایک بالشت بھی چلا تھا اللہ کی قسم میں نے ان کے کجاوی کی آوازیں سن رہا تھا اور ان کے درمیان سخت ہوا تھی جو ان کو پتھر مار رہی تھی پھر میں نبی ﷺ کی طرف نکلا جب میں آدھا راستہ یا اس سے زائد طے کرچکا تھا تو بیس کے قریب شہسوار تھے پگڑی باندھے ہوئے انہوں نے کہا اپنے نبی کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف ہے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا اور آپ ایک چادر میں لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ پر جب کوئی مشکل گھڑی پیش آتی تھی تو آپ نماز پڑھتے تھے میں نے آپ کو قوم کی صورتحال بتائی کہ میں نے ان کو کوچ کرتے ہوئے چھوڑا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذا جاء تکم جنود اے ایمان والوں تم یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے جب اچانک تمہارے پاس لشکر آگئے۔
حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کی اطاعت ووفاداری
2۔ الفریابی وابن عساکر نے ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں اگر رسول اللہ ﷺ کو پاؤں تو میں ان کو سوار کرلوں گا اور میں ایسا ضرور کروں گا حذیفہ ؓ نے فرمایا میں نے احزاب کی رات کو دیکھا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں اور رسول اللہ ﷺ سخت ٹھنڈی رات میں نماز پڑھ رہے اس جیسی ٹھنڈک نہ اس سے پہلے تھی اور نہ اس کے بعد میں نے مڑ کر دیکھا آپ نے فرمایا کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو ان کافروں کی طرف جائے اور ان کی خبر ہمارے پاس لے آئے کہ اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میرے ساتھ رکھے تو ہم میں سے کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا اور سب چپ ہوگئے۔ پھر آپ نے دوبارہ فرمایا تو لوگ خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا اے ابوبکر عرض کیا میں اللہ کے رسول سے بخشش کا خواستگار ہوں۔ عرض کیا اگر آپ چاہیں تو میں چلا جاتا ہوں پھر فرمایا اے عمر حضرت عمر نے عرض کیا میں اللہ کے رسول سے بخشش کا خواستگار ہوں۔ پھر فرمایا اے حذیفہ میں نے عرض کیا میں حاضر ہوں میں کھڑا ہوا یہاں تک کہ میں آپ کے پاس آیا اور میرے دونوں پہلو سردی سے کپکپا رہے تھے۔ آپ نے میرے سر اور چہرے پر ہاتھ پھیرا پھر فرمایا اس قوم کے پاس جاؤ یہاں تک کہ ہمارے پاس ان کی خبر لے آؤ کسی سے اس وقت تک بات نہ کرنا یہاں تک کہ میرے پاس آجائے فرمایا اے اللہ اس کی حفاظت فرما اس کے آگے سے اس کے پیچھے سے اور دائیں اور بائیں سے اور اوپر نیچے سے یہاں تک کہ لوٹ آئے فلاں نے کہا اس کا بھیجنا مجھے زیادہ محبوب تھا دنیا اور مافیہا سے حذیفہ نے کہا کہ میں چلا اور میں اس طرح سے چل رہا تھا جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیج دی ہے جس نے اس کے خیموں کی رسیاں توڑ دی ہیں اور ان کے گھوڑوں کو بھگا دیا اور ان کے ہر چیز کو تباہ و برباد کردیا ابو سفیان بیٹھا ہوا آگ تاپ رہا تھا میں نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے ایک تیر لیا اور اپنی کمان پر چڑھا یا اور میں پھینکنے والا تھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آگئی کہ واپس آنے تک کسی میں سے بات نہ کرنا پھر میں نے اپنے تیر کو ترکش میں رکھ دیا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا خبردار تم میں دشمن کا جاسوس ہے ہر ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا میں نے بھی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ پکڑ ا میں نے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا سبحان اللہ تو مجھے نہیں جانتا میں فلاں بن فلاں ہوں اور وہ ہوازن میں سے ایک آدمی تھا میں رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹا اور آپ کو خبر دی جب میں نے آپ کو خبر دی تو آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ رات کے اندھیرے میں آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے اور مجھ سے گرمی چلی گئی رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے قریب کیا اور میں آپ کے قدموں کے قریب ہوگیا اور آپ نے اپنے کپڑے مبارک کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا اور میں نے اپنے پیٹ اور اپنے سینے کو آپ کے قدموں کے ساتھ چمٹا لیا جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو شکست دے دی اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروہا اور ہم نے ان پر ہوا بھیج دی اور ایسے لشکر جن کو تم نے نہیں دیکھا۔
3۔ ابن ابی حاتم وابن جریر وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنو اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذجاء کم کنود اے ایمان والو یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہے جب تمہارے پاس لشکر چلے آئے فرمایا کہ یہ ابو سفیان کا دن یعنی احزاب کا دن تھا۔
4۔ احمد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ خندق کے دن ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا کوئی ایسی دعا ہے جو ہم کریں کہ کلیجے منہ کو آلگے ہیں ؟ فرمایا ہاں تم یوں کہا آیت اللہم استرعوراتنا واٰمن روعاتنا، اے اللہ ہماری بےپردگیوں پر پردہ ڈال دے اور ہمارے خوفوں کو امن میں بدل دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے چہروں پر ہوا سے ضرب لگائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہوا کے ذریعہ شکست دی۔
5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے العظمۃ میں والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اذ جاء تکم جنود میں جنود سے مراد قبلوں عیینہ بن بدر ابو سفیان اور قریظہ ہیں آیت فارسلنا علیہم ریحا یعنی الصبا کی ہوا جو خندق کے دن لشکروں پر بھیجی گئی یہاں تک کہ اس ہوا نے ان کی ہانڈیوں کو الٹ دیا اور ان کے خیموں کو اکھیڑ دیا اور ان کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا آیت جنودا سے مراد فرشتے ہیں اور فرمایا کہ اس دن فرشتوں نے قتال نہیں کیا۔
6۔ ابن جریر وابن ابی حاتم فی الکنی وابن مردویہ وابو شیخ فی العظمۃ و ابونعیم نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب احزاب کی رات تھی تو ہوا شمال کی جانب سے جنوب کی طرف چلی اور اس نے کہا چلو اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرو جنوبی ہوا نے کہا کہ میں رات کو نہیں چلتی تو اس پر اللہ تعالیٰ غصے ہوئے اور اس کو بانجھ بنادیا اور ان کے خیموں کی رسیوں کو کاٹ دیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صبا کی ہوا سے میری مدد کی گئی۔ دبور سے قوم عاد ہلاک کی گئی اس کو فرمایا فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروہا۔
7۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دن کے شروع میں جنگ نہ ہو تو جنگ کو موخر کردو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور ہوا چلنے لگے۔
8۔ ابن ابی شیبہ والبخاری والنسائی وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آیت اذ جاء و کم من فوقکم ومن اسفل منکم غزوہ خندق کے بارے میں نازل ہوئی۔
فارس وروم کی فتح بشارت
9۔ ابن سعد وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی نے دلائل میں کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف المزنی رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کا نشانہ لگایا ہمارے لیے خندق میں سے ایک سفید گول چٹان نکل آئی ہماری گینتیاں ٹوٹ گئیں اور ہم پر مشقت پڑگئی ہم نے رسول اللہ ﷺ کو شکایت کی تو آپ نے سلمان سے کدال لیا اور اس چٹان کو ایک ضرب لگائی اور اس کو توڑ دیا اس میں سے آگ نکلی جس نے مدینہ کے دنوں کے درمیانی حصہ کو روشن کردیا گویا ایسا ہوا کہ تاریک رات میں چراغ و رسول اللہ ﷺ نے اللہ اکبر کہا تو مسلمانوں نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے اس کو دوسری ضرب لگائی اس نے اس چٹان کو ٹکڑے کردیا اس میں ایک چمک نکلی جس نے درمیانی حصہ کو روشن کردیا آپ نے کہا تو مسلمان نے بھی اللہ اکبر کہا پھر آپ نے اس کو تیسری ضرب لگائی جس نے اس چٹان کو توڑدیا اور اس میں سے ایک چمک نکلی جس نے لابتین کے درمیانی حصہ کو روشن کردیا آپ نے اللہ اکبر کہا تو مسلمانوں نے اللہ اکبر کہا ہم نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا میرے لیے پہلی ضرب میں حیرہ اور مدائن کسری کے محلات روشن کیے گئے گویا کہ وہ کتوں کی داڑھیں ہیں مجھے جبرئیل نے بتایا کہ میری امت ان پر غالب آئے گی اور دوسری ضرب میں میرے لیے روم کے سرخ محلات روشن کیے گئے گویا کہ وہ کتوں کی داڑھیں ہیں اور مجھے جبرائیل نے بتایا کہ میری امت ان پر غالب آئے گی اور تیسری ضرب میں میرے لیے صنعاء کے محلات روشن ہوگئے گویا کہ وہ کتوں کی داڑھیں ہیں اور مجھے جبرئیل نے بتایا کہ میری امت ان پر غالب آئے گی تمہیں کامیابی کی بشارت ہو تو مسلمان خوش ہوگے اور انہوں نے کہا سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں یہ وعدہ سچا ہے کیونکہ ہماری مدد کا وعدہ حصر کے بعد ہے لشکر چڑھ آئے تو مسلمانوں نے کہا ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادہم الا ایمان وتسلیمایہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور ان کے ایمان اور تسلیم کو اور زیادہ کردیا اور منافقوں نے کہا خوش نہ ہو کہ تم سے باتیں کرتا ہے وعدے کرتا ہے اور تم کو جھوٹی آرزویں دلاتا ہے وہ تم کو خبر دیتا ہے کہ وہ یثرب میں بیٹھ کر حیرہ اور مدائن کسری کے محلات دیکھتا ہے کہ وہ تمہارے لیے فتح ہوں گے۔ حالانکہ تم خندق کھود رہے ہو اور تم طاقت نہیں رکھتے سامنے آکر جنگ کرنے کی تو قرآن مجید نازل ہو آیت واذ یقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا۔ اور جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وہ لوگ بھی جن کے دلوں میں مرض تھا کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدہ کیا تھا وہ دھوکہ تھا۔
10۔ ابن اسحاق وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خندق کے متعلق آیات کو نازل فرمایا اور مسلمان پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ برے گمان کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو کافی ہوگی ان کے دشمن کے مقابلے میں اور اس گفتگو کو بھی کافی ہوگیا جو منافقوں نے کی فرمایا آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جاء تکم جنود فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروھا اور یہ لشکر تھے جو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے آئے وہ بنو غطفان بنو اسد اور بنو سلیم تھے اور وہ لشکر جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لڑنے کے لیے بھیجے وہ فرشتے تھے تو فرمایا اذ جاء وکم من فوقکم ومن افسل منکم جب لشکر آئے تمہارے پاس تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے سے وہ لوگ جو ان کے پاس ان کے اوپر کے راستوں سے آئے وہ بنو قریظہ تھے اور وہ لوگ جو ان کے پاس ان کے نیچے کے راستوں سے آئے وہ قریش اسد اور غطفان کے لشکر تھے پھر فرمایا آیت ہنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدید واذ یقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرورا۔ اس موقع پر مومنوں کا امتحان لیا گیا اور انکو سخت جھنجھوڑ ڈالا اور جبکہ منافق کہہ رہے تھے اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا نفاق کا کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ کیا تھا وہ دھوکہ تھ امعتب بن قشیر اور جو اس کی رائے پر تھے انہوں نے یہ بات کہی تھی آیت وزا قالت طائفۃ منہم یا اہل یثرب لا مقام لکم فارجعوا ویستاذن فریق منہم النبی اور جبکہ منافقوں کی ایک جماعت نے کہا اے یثرب والو تمہارے یہاں قیام کا کوئی موقعہ نہیں اس لیے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان میں سے ایک جماعت نبی سے اجازت مانگ رہی تھی اوس بن قیظی اور جو اس کی رائے پر تھے انہوں یہ بات کہی تھی پھر فرمایا آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا سے لے کر آیت لاتمتعون الا قلیلا۔ پھر اہل ایمان کے یقین کا ذکر فرمایا جب ان پر لشکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے ان کو گھیر لیا اور بنو قریظہ نے مشرکین کی مدد کی مسلمانوں پر مصیبت سخت ہوگئی اور فرمایا ولما رأ المومنون الاحزاب۔ سے لے کر ان اللہ کان غفور رحیما۔ تک اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی شکست کا ذکر فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو کافی ہوگیا اور آیت ورد اللہ الذین کفرو بغیظہم اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان کے غصے کے ساتھ واپس لوٹادیا۔
11۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر والبیہقی نے دلائل میں عروہ بن زبیر اور محمد بن کعب قرطی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ معتب بن قشیر نے کہا کہ محمد ﷺ خیال کرتے ہیں کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں میں سے کھائیں گے جبکہ ہم میں سے کوئی ایک بھی امن سے قضائے حاجت کے لیے نہیں جاسکتا اور اوس بن قیظی نے بنوحارث کی ایک جماعت میں کہا آیت ان بیوتنا عورۃ کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں جو مدینہ منورہ سے باہر تھے ہمارے لیے اجازت دیجیے کہ ہم اپنی عورتوں اپنی بیٹوں اور اپنی اولاد کی طرف لوٹ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل فرمائی جب وہ اس آزمائش سے فارغ ہوگئے جس میں وہ مبتلا تھے اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کو ان پر یاد دلایا جو ان پر کیں اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے ان کے دشمنوں کے لیے کافی ہوگیا جبکہ ایمان والوں کو اس بارے میں براگمان ہوا تھا اور ان باتوں کا ذکر کیا جو منافقوں نے کی تھیں فرمایا آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جاء تکم جنود فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروہا اور یہ لشکر قریش غطفان اور بنو قریظہ کے تھے اور وہ لشکر جو ان پر بھیجے گئے ہوا کے ساتھ وہ فرشتے تھے آیت اذجاء وکم من فوقکم سے مراد بنو قریظہ آیت ومن اسفل منکم سے مراد قریش اور غطفان والے تھے آیت ماوعنا اللہ ورسولہ الا غرورا کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے دھوکے کا وعدہ کیا اور یہ بات معتب بن زشیر اور اس کے ساتھیوں سے کہی تھی آیت واذا قالت طائفۃ منہم یا اہل یثرب اور جب کہا ایک جماعت نے ان میں سے اے یثرب والو یہ بات اوس بن قیطی اور جو اس کی قوم میں سے اس کے ساتھ تھے انہوں نے کہی تھی۔
12۔ ابن ابی شیبہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خندق کھودنے کا حکم فرمایا پہاڑ میں سے ہمارے لیے ایک بڑی سخت چٹان سامنے آگئی کہ جس میں کدال نہ داخل ہوتا تھا تو ہم نے اس کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شکایت کی رسول اللہ ﷺ نے اس چٹان کو دیکھا تو ایک کدال لیا اور اپنا کپڑا رکھا اور پڑھا بسم اللہ پھر ایک ضرب لگائی تو اس کا تیسرا حصہ توڑدیا اور آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا مجھے شام کی چابیاں دی گئیں اللہ کی قسم میں اس وقت کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں پھر دوسری ضرب لگائی تو اس کا اور تیسرا حصہ توڑدیا آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا مجھے فارس کی چابیاں دی گئیں اللہ کی قسم میں مدائن کے سفید محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور بسم اللہ پڑھا تو باقی ماندہ کو بھی توڑدیا آپ نے اللہ اکبر فرمایا اور فرمایا مجھے یمن کی چابیاں دی گئیں۔ اللہ کی قسم میں صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔
13۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذجاء وکم من فوقکم سے مراد عیینہ بن حصن ہے آیت ومن اسفل منکم سے مراد سفیان بن حرب ہے۔
14۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذجاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم یہ واقعہ خندق کے دن ہوا۔
15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے آیت اذ جاء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت احزاب کے دن نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کا ایک ماہ تک محاصرہ کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے خندق کھود دی ابو سفیان قریش اور ان کے ساتھیوں کو لے آیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے عفو (یعنی وہ زمین جو آپ نے کسی کو نہ دی تھی) تک آپہنچا اور عیینہ بن حصن جو بنو بدر سے تعلق رکھتا تھا وہ بنو غطفان اور اس کے ساتھیوں کو لے آیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے عفو تک آپہنچے۔ یہودیوں نے ابو سفیان کو لکا اور اس کی مدد کی اللہ تعالیٰ نے ان پر رعب اور ہوا کو بھیج دیا یہ بات بیان کی گئی کہ جب بھی وہ کوئی خیمہ گاڑتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس کی رسیوں کو کاٹ دیتے تھے اور جب بھی کسی جانور کو باندھتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس کی رسیاں کاٹ دیتے تھے۔ اور جب بھی انہوں نے آگ جلائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بجھا دیا یہاں تک کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ ہر قبیلہ کا سردار یہ کہتا تھا بنو فلاں میری طرف آجاؤ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس جمع تو کہتا بچاؤ بچاؤ تم اس وقت آئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رعب بھیج دیا۔
16۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذ جاء وکم من فوقکم سے مراد ہے عیینہ بن حصن نجد والوں میں سے تھا آیت ومن اسفل منکم سے مراد ہے ابو سفیان بن حرب جو اہل تہامہ میں سے تھا اور اس کے آمنے سامنے قریظہ تھے۔
17۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذزاغت الابصار سے مراد ہے آنکھیں پتھرا گئیں۔
18۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت وبلغت القلوب الحناجر سے مراد ہے کہ اس جگہ سے ان کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اگر ان سے گلا تنگ نہ ہوتا کہ دل ان سے باہر نکلے تو دل باہر نکل آتے۔
19۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وبلغت القلوب الحناجر سے مراد ہے کہ وہ گھبراگئے۔ ابن ابی شیبہ کے لفظ میں یوں ہے اگر دل حرکت کرتے یا زائل ہوتے تو اس کی جان نکل جاتے لیکن تو یہ صرف گھبرانا ہے۔
20۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتظنون باللہ الظنونا سے مراد ہے کہ انہوں نے مختلف گمان کیے منافقوں نے گمان کیا کہ محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب جڑ سے اکھیڑ دئیے جائیں گے (یعنی ان کو بالکل ملیا میٹ کردیا جائے گا) اور مومن یقین رکھتے تھے کہ جو ان سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا ہے وہ حق ہے عنقریب وہ سارے دینوں پر غالب آکر رہے گا۔
منافقین اللہ کے بارے میں مختلف گمان رکھتے تھے
21۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتظنون باللہ الظنونا سے مراد وہ منافق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختلف گمان رکھتے تھے آیت ہنالک ابتلی المونون سے مراد ہے کہ اس موقعہ پر ایمان والوں کا امتحان ہوا آیت ہنالک ابتلی المومنون یعنی منافقوں نے اپنے نفاق کی باتیں کیں جو ان کے دلوں میں تھا اور مومنوں نے حق اور ایمان کے ساتھ باتیں کی آیت قالو ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ انہوں نے کہا جو ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا ہے وہ حق ہے۔
22۔ ابن ابی شیبہ والبیہقی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے خندق کھودی تو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو سخت مشقت اٹھانی پڑی تین تک اس حال میں رہے کہ کوئی چیز نہیں کھائی یہاں تک کہ نبی ﷺ نے اپنے پیٹ مبارک پر بھوک کی وجہ سے پتھر باندھ لیا۔
23۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافقوں نے احزاب کے دن کہا جب انہوں نے مختلف قبائل کے لشکر دیکھے اور انہوں نے مسلمانوں کو ہر جانب سے گھیر لیا تھا اور وہ اللہ کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے تھے کہنے لگے کہ محمد ﷺ ہم سے فارس اور روم کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے تھے حالانکہ ہم یہاں گھیراؤ میں آچکے ہیں یہاں تک کہ ہم اپنی حاجت کے لیے بھی باہر نکل سکتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت واذ یقول المفقون والذین فی قوللوبہم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرور ا۔ اور جب منافقوں نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں مرض ہے کہا کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے دھوکہ کا وعدہ کیا ہے۔
24۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کھودی قریش کنانہ اور غطفان کے قبائل جمع ہوگئے۔ ابو سفیان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں قریش کا لطیحہ بطور اجرت دے گا وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے فنا میں آ اترے تھے۔ قریش وادی کے نشیب میں اترے تھے اور غطفان ان کی داہنی جانب اور طلحہ الاسدی بنو اسید میں سے ان کی بائیں جانب تھے یہود میں سے بنو قریظہ نے ان کی مدد کی نبی ﷺ کے قتال پر جب وہ نبی ﷺ پر حملہ کرنے کے لیے آئے اور نبی ﷺ نے خندق کھودی اس درمیان کہ آپ اس میں کدال کے ساتھ ضرب لگا رہے تھے تو اچانک وہ کدال ایک چٹان پر آپڑی اس میں سے ایک شعلہ نکلا حضرت سلمان ؓ نے منظر دیکا تو پوچھا یا رسول اللہ میں نے دیکھا کہ ہر ضرب سے ایک شعلہ کی طرح نکلا وہ آسمان کی طرف پھیل گیا آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کو دیکھا ہے عرض کیا ہاں رسول اللہ ! پھر آپ نے فرمایا تمہارے لیے مدائن کے دروازے اور روم کے محلات اور یمن کے شہر کھول دئیے جائیں گے یہ بات نبی ﷺ کے اصحاب میں پھیل گئی اور انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی انصار میں سے ایک آدمی نے کہا جس کو قشیر بن معتب کہا جاتا تھا کہا محمد ﷺ ہمارے لیے یمن کے شہروں اور مدائن کے سفید محلوں اور روم کے محلات کے فتح ہوجانے کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ ہم میں سے کوئی اپنی قضائے حاجت کو پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ قتل کردیا جاتا ہے اللہ کی قسم یہ دھوکہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت اتاری آیت واذ یقول المنفقون والذین فی قلوبہم مرض ما ودنا اللہ ورسولہ الا غرورا۔