Ayah 33:11۔ (جیسا کہ اب تک ڈرتے رہے ہیں) اور جو اللہ سے ڈرے گا، وہ مخلوق کے ڈراوے دھمکیوں سے یقیناً بےنیاز وغیرہ متاثر رہے گا۔ (آیت) ” یایھا النبی “۔ محققین نے کہا ہے کہ بجائے اسم علم کے اسی اسم وصفی سے مخاطب کرنا رسول کی عظمت واکرام کے اظہار کے لئے ہے۔ ناداہ جل وعلابوصفہ دون اسمہ تعظیما لہ وتفخیما (روح) جعل نداء ہ بالنبی والرسول کر امۃ لہ وتشریفا (کشاف) انما لم یقل یا محمد تشریفا لہ وتنویھا بفضلہ (مدارک)
2۔ (جیسا کہ اب تک بھی نہیں مانا ہے) کافر تو دین کے خلاف مشورے کھلم کھلا دیتے ہی رہتے تھے اور منافقین درپردہ انہیں کے ہم رائے ہوجاتے تھے ...... اصطلاح قرآن میں (آیت) ” الکفرین “۔ کھلے ہوئے کافروں کے لئے آتا ہے۔ اور (آیت) ” المنفقین “۔ چھپے ہوئے کافروں کیلئے۔ عقائد کفر کے لحاظ سے دونوں یکساں وہم سطح۔
3۔ اور اس لئے اس کا ہر حکم حکمتوں اور مصلحتوں ہی پر شامل ہوتا ہے۔ کسی انسان کا یہ مشورہ دینا کہ فلاں حکم الہی خلاف مصلحت ہے، خود اپنے جہل وسفاہت کا ثبوت دینا ہے۔
Ayah 33:24۔ (اس لئے پیغمبر کی مخالفت ومزاحمت میں جو لوگ لگے ہوئے ہیں، خبردار رہیں کہ سب اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے) (آیت) ” واتبع ...... من ربک “۔ یعنی نہ خود رائی سے کام لیجئے، نہ کسی اور کے مشوروں پر کان دھرئیے۔ (آیت) ” بما تعملون “۔ سارے مخاطبین مراد ہیں۔ اور یا جمع تعظیمی ہے۔ قیل الخطاب للرسول ﷺ والجمع للتعظیم (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کامل کسی حال میں بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچ سکتا کہ تکلیفات شرعیہ اس سے ساقط ہوجائیں۔
Ayah 33:35۔ یہاں یہ بتادیا کہ کافر ہو یا منافق کسی کی بھی پیغمبر سے تدبیر مخالفت اللہ کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی۔
Ayah 33:46۔ عرف عام میں یہ جو کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں کے ایک نہیں، دو زبانیں ہیں، تو کہیں اس کا یہ مطلب تھوڑے ہی ہوتا ہے کہ واقعۃ اس کے منہ میں کے جوف کے اندر دو زبانیں ہیں۔ اسی طرح زبان کے اس مجاز استعارہ کے کہ فلاں کے دل ایک نہیں دو ہیں، یہ مطلب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں کہ اس کے جوف صدر کے اندر قلب بھی دو ہیں ..... تو اسی طرح کسی کو مجازا بیٹا کہہ دینے یا سمجھ لینے سے یہ کیوں لازم آجائے کہ معاملات بھی اس کے ساتھ صلبی بیٹوں کی طرف برتے جانے لگیں۔ آیت میں کوئی مسئلہ تشریع الابدان (اناٹومی) کا نہیں بیان ہورہا ہے صرف تمثیل کے پیرایہ میں یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ زبان میں جو مجاز مستعمل رہتے ہیں انہیں لفظی معنی میں واقعیت پر مبنی سمجھنے لگنا جہل ونادانی ہے۔ اس لئے اگر واقعی کبھی کسی انسان کے سینہ میں دو قلب نکل آئیں تو یہ کسی قرآنی بیان کے ذرا بھی معارض نہ ہوگا۔ قرآن اول تو کلیہ نہیں اکثر یہ بیان کررہا ہے۔ اور وہ بھی تشریح جسمانی سے ہٹ کر ایک بالکل دوسرے سیاق میں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے صوفیہ کے اس قول کی اصل نکل آئی کہ نفس ایک وقت میں دو طرف توجہ نہیں کرتا۔ یہ بھی فرمایا کہ اس سے اس شخص کا کذب ظاہر ہوگیا۔ جو تسبیح پھراتا جاتا ہے اور باتیں کرتا جاتا ہے۔ اور دعوی کرتا ہے کہ میں عین گفتگو کے وقت بھی ذکر میں مشغول رہتا ہوں۔ (آیت) ” بافواھکم “۔ میں اشارہ ہے کہ تم صرف زبان سے یہ کہہ رہے ہو، ورنہ دل تمہارے بھی اس پر نہیں جمتے۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ کلام انسانی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ کلام جو دل سے نکلے۔ دوسرے وہ جنہیں انسان محض زبان سے بک دے ایسے خرافاتی اقوال کے موقع پر قرآن یہی لفظ لاتا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ مسیحیوں کے قول مسیح کی ابن اللہیت سے متعلق ہے۔ قالت النصاری المسیح ابن اللہ ذلک قولھم بافواھھم۔ یعنی انہ لاحکم لہ وانما ھو قول لامعنی لہ ولا حقیقۃ (جصاص) (آیت) ” تظھرون منھن “۔ ظہار اسے کہتے ہیں کہ اپنی بیوی کی مثال اپنے ماں کے کسی عضو مستور سے دے دی جائے۔ مثلا یہ کہ تو میرے لئے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت۔ انت علی کظھر امی۔ بس ایسا فقرہ بول کر عرب میں مرد اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر حرام کرلیتا تھا۔
7۔ (جو واقعہ کے مطابق نہیں بلکہ خلاف واقعہ ہے) (آیت) ” وما جعل ادعیآء کم ابنآء کم “۔ ہر جاہلی قوم کی طرح عرب جاہلی بھی طرح طرح کی وہم پرستیوں میں مبتلا تھے۔ یہاں ان کی خانگی زندگی سے متعلق دو (2) ر یت رسموں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ وہ منہ بولے لڑکے یا لے پالک (متبنی) کو اپنے حقیقی یا صلبی فرزند کی طرح سمجھنے لگتے اور اس کی طلاق پائی ہوئی بیوی سے نکاح میں ان کے ہاں ایسی بدنامی ہوتی جیسے اپنی سگی بہو سے نکاح کرنے میں۔ تبنیت کی یہ اہمیت۔ کیتھولک مسیحیوں اور ہندوؤں میں بھی مشترک ہے۔ اسلام نے اس رسم پر ضرب لگائی اور بتایا کہ متبنی کی بیوی کو صلبی بیٹے کی بیوی پر قیاس کرنا کسی طرح درست نہیں۔ اور نہ اس سے نکاح کرنا کسی طرح موجب طعن۔ (آیت) ” وما جعل .... امھتکم “۔ دوسرا رواج یہ تھا کہ بیوی کو اشارہ وکنایہ میں ماں کہہ دیتے اور اس بناء پر اسے اپنے نکاح سے خارج سمجھنے لگتے۔ اس کے حقوق زوجیت ذرا بھی ادا نہ کرتے، لیکن اس کے ساتھ اسے اپنے سے جدا اور آزاد بھی نہ کرتے کہ وہ جس سے چاہے دوسرا نکاح کرلے، قید میں اپنے پہلے شوہر کے بدستور رہتی، گویا ایک ہی وقت میں مطلقہ بھی اور معلقہ بھی، اسلام نے آکر اس ظالمانہ دستور کا بھی خاتمہ کیا۔ اور بتایا کہ کوئی بیوی اس قسم کے فقروں سے ماں نہیں بن جایا کرتی۔ کانوا یظھرون من نساءھم فیقولون انت علی کظھر امی فاخبر اللہ تعالیٰ انما لاتصیر بمنزلۃ امہ فی التحریم (جصاص)
Ayah 33:58۔ چناچہ اس آیت کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ کے آزاد شدہ غلام جنہیں اب تک عرب اپنے مذاق ومحاورہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی انتہائی شفقت و رحمت دیکھ کر زید بن محمد ﷺ کہتے تھے، اب زید بن حارثہ کہے جانے لگے (آیت) ” ھو یھدی السبیل “ وہی سیدھا راستہ دکھاتا اور ہر جہل سے نکالتا ہے۔
9۔ (تو انہیں پکارنے کے لیے یہ بھائی اور دوست کے رشتے کیا کچھ کم ہیں ؟ ) (آیت) ” اخوانکم فی الدین “۔ یعنی وہ تمہارے بھائی دینی اعتبار سے ہوں گے نسبی حیثیت سے نہیں کہ میراث وغیرہ جاری ہوسکے، فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ کسی سے بھائی کا رشتہ لے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن باپ کا رشتہ لینے میں، تاوقتیکہ نسب ہی مقصود نہ ہو، مضائقہ ہے۔ فیہ اباحۃ اطلاق اسم الاخوۃ وحظر اطلاق اسم الابوۃ من غیر جھۃ النسب (جصاص) (آیت) ” فان لم تعلموا ابآء ھم “۔ فقہاء نے باقتضاء النص یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جو چھوٹا بچہ پڑا ملے یا دارالاسلام میں اسیر ہو کر آجائے وہ مومن سمجھا جائے گا۔
10۔ (اس لئے اگر ایسا قصدا کہہ ڈالنے کے بعد بھی استغفار کرلو، تو اللہ معاف کردے گا) ممانعت کسی کو متبنی بنانے اور کہنے کی صرف ان اثرات مخصوص کے لحاظ سے ہے جو جاہلیت میں مرتب ہوتے تھے۔ باقی اگر کسی کو محض مجازا وشفقۃ بیٹا کہا جائے، یا جاہلیت کے آثار مخصوصہ کے ترتب کے بغیر کسی کو فرزندی میں لے لیا اور اسے جائداد بھی ساری کی ساری بطور ہبہ دیدی جائے تو اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ واما مارسمہ اھل زماننا حیث یقیمون شخصا مقامھم ویعطونہ مالا ویجعلونہ وارثافلیس ذلک بطریق الارث حقیقۃ بل بطریق الھبۃ وھو مشروع جدا (احمدی) (آیت) ” ما تعمدت قلوبکم “۔ کے تحت میں فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ نامحرم سے گفتگو کرنے میں نیت فاسد رکھنا یا اس کے تصور سے لذت حاصل کرنا یہ سب داخل معصیت ہے۔
Ayah 33:611۔ کیا انتہاء ہے اس شفقت وتعلق کی جو ہمارے نبی کو اپنی تمام امت کے ساتھ ہے۔ انسان خود اپنا دشمن وبدخواہ تو ہو بھی سکتا ہے اور بعض اوقات جہل وغباوت کی بناء پر بھی ہوجاتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ سے تو جن پر خفی سے خفی مصالح ومنافع روشن ہیں کسی حال میں بھی بدخواہی کا امکان نہیں۔ فانہ لایامرھم ولا یرضی منھم الا بما فیہ صلاحھم ونجاحھم بخلاف النفس فبذالک اطلق (بیضاوی) آیت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت مطلق اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے اور اس کے اندر تمام احکام ومعاملات آگئے۔ اے اولی لھم فی الحکم علیھم ولزومھم اتباعہ وطاعتہ (جصاص) فی نفوذ حکمہ فیھم ووجوب طاعتہ علیھم (معالم)
12۔ (وجوب تعظیم کے لحاظ سے) ” ازواج کا امہات ہونا باعتبار تعظیم کے ہے اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے۔ اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی۔ قال تعالیٰ (آیت) ’ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا “۔ اور بےحجابی کا تعظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ احتجاب اقرب الی التعظیم ہے۔ اس لئے ان احکام یعنی جو از خلوت ونظر ومس وامثالہا من امومیت ثابت نہیں۔ “ (تھانوی (رح) فیہ وجھان احدھما انھن کالامھات لھم فی وجوب الاجلال والتعظیم والثانی تحریم نکاحھن ولیس المراد انھن کالامھات فی کل شیء (جصاص) اے فی التحریم و استحقاق التعظیم لافی ماعداہ (احمدی) اے امھات المومنین فی تعظیم حقھن وتحریم نکاحھن علی التابید لافی النظر الیھن والخلوۃ بھن (معالم)
13۔ (بااعتبار ترکہ ومیراث کے) (آیت) ” اولوالارحام “۔ یعنی وہ رشتہ دار جن سے خون ملاہو۔ (آیت) ” فی کتب اللہ “۔ یعنی شریعت الہی میں۔ فی مافرض اللہ (بیضاوی) اے فی حکم اللہ (ابن کثیر)
14۔ یعنی اصل میراث میں تو حق متوفی کے عزیزوں ہی کا ہوتا ہے اور عامہ مہاجرین ومومنین کو جو اس میں حقدار بنادیا گیا تھا وہ انتظام عارضی تھا۔ ہاں ان کے ساتھ کوئی حسن سلوک کرنا چاہے تو وصیت جو مقدار ترکہ کے ایک ثلث پر جاری ہوسکتی ہے۔ اس میں گنجائش اب بھی باقی ہے۔
15۔ (کہ شریعت اسلامی میں قانون میراث، عزیزوں ہی سے متعلق ہوگا) (آیت) ” فی الکتب “۔ کتاب سے مراد لوح محفوظ لی گئی ہے۔ اے فی اللوح (بیضاوی)
Ayah 33:716۔ (احکام کے اتباع وتبلیغ کا) میثاق انبیاء پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکا۔
17۔ ان انبیاء کے ناموں کی تخصیص کی وجہ عجب نہیں کہ یہ ہو کہ یہ صاحب شریعت انبیاء تھے، یا جو بھی وجہ ہو۔ لفظ میثاق کے ساتھ غلیظ کے اضافہ سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ عہدوپیمان کو حلف یا دوسرے قیود کے ساتھ مؤکد کرنا اولی ہے۔
Ayah 33:818۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” الصدقین “۔ سچوں سے یعنی پیغمبروں سے۔ لفظ (آیت) ” الصدقین “۔ لاکر یہ خود بتا دیا کہ انبیاء نے اپنا عہد پورا کیا، اور اقرار میں سچے تھے۔ (آیت) ” لیسئل “ میں ل۔ کے، کے مرادف ہے ل کے یسال الصادقین (معالم) (آیت) ” صدقھم “۔ یعنی تبلیغ رسالت کے باب میں۔ اے من تبلیغھم الرسالۃ (معالم)
19۔ (قیامت کے دن) الکافرین “۔ میں وہ سب لوگ آگئے، جو صاحب وحی کے اتباع کے منکر ہیں۔
Ayah 33:920۔ (یعنی قریش مکہ کا لشکر، قبیلہ غطفان کا لشکر اور یہود کا لشکر) شوال 5 ہجری کا واقعہ ہے کہ اسلام کے مخالفین نے ایکا کرکے مدینہ پر دھاوابول دیا، اور شہر کو ہر طرف سے گھیر لیا۔ تاریخ میں اس جنگ کا نام جنگ احزاب ہے۔ چار ہزار کی تعداد میں تو قریش ہی کا لشکر تھا، جس میں تین سو سوار اور ڈیڑھ ہزار شتر سوار تھے۔ مجموعی تعداد ان لشکروں کی کم ازکم سات ہزار کی تھی، بغض تخمینے دس اور بارہ ہزار بلکہ بعض پندرہ ہزار کے بھی تھے۔ افسر اعلیٰ ابوسفیان قریشی تھا۔ عرب نے اتنی بڑی فوج کشی کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی، مسلمانوں کی جمعیت کل 3 ہزار کی تھی۔ حضرت سلمان فارسی ؓ صحابی کے مشورہ پر لشکر اسلام کے سالار اعظم ﷺ نے خود گھوڑے سوار ہو کر شہر کا دورہ کرنے کے بعد حکم دیا کہ شہر کے گرد جس جس رخ سے دشمن کا داخلہ ممکن ہے خندق کھوددی جائے۔ چناچہ شہر کے شمالی اور کسی قدر غربی رخ پر بھی ایک خندق تقریبا ساڑھے تین میل لمبی کھودی گئی۔ اور یہ کام 3 ہزار رضاکاروں کی دس دس کی تولیوں پر تقسیم کردیا گیا۔ غرض اس غزض اس غزوہ کو غزوۂ خندق بھی اسی بناء پر کہتے ہیں۔ ..... عرب کے لئے یہ ایک نئی حکمت جنگ تھی، اور قریش اس پر دنگ رہ گئے۔ محاصرہ طول کھنچتا گیا۔ یہاں تک کہ شوال ختم ہونے پر آگیا، اور ذی قعدہ شروع ہونے لگا جسے قبائل عرب صلح وامن کا مہینہ مانتے تھے۔ اور اس درمیان میں خود سپہ سالار اسلام ﷺ ہی کے حسن تدبیر سے دشمن اور حلیفوں کے آپس میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیل گئیں۔ سردار ابوسفیان بددل ہو ہی چلا تھا کہ حکم قضا سے ایک روز طوفان آندھی اور بارش کا، زور شور کا آیا، اور اس کی پوری زد لشکر کفار پر پڑی، خیمے اکھڑگئے، برتن لڑھک گئے، روشنیاں بجھ گئیں، غرض ابتری ہر طرف پھیل گئی، قریش کا لیڈر اس غیبی گولہ کی تاب اور بھی نہ لاسکا۔ میدان جنگ چھوڑ چل دیا، اور پھر اور سارے لیڈر بھی ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے۔
21۔ مراد فرشتوں کی فوج ہے۔ وھم الملائکۃ (ابن کثیر، معالم) بعض صحابہ (مثلا حضرت حذیفہ ؓ) کا جو فرشتوں کو دیکھنا مروی ہوا ہے۔ یہ (آیت) ” لم تروھا “۔ کے منافی نہیں۔ (آیت) ” لم تروھا “۔ سے مراد صرف اس قدر ہے کہ فرشتے عام طور پر غیر مرئی تھے۔ بطور کرامت وخرق عادت کسی خاص صحابی پر ان کا مکشوف ہوجانا اس عام قاعدہ عدم مرئیت کے معارض نہیں۔
22۔ (خصوصا تمہاری ہمت وثبات و استقلال، مستعدی، کار گزاری کو)
Ayah 33:1023۔ یعنی کچھ فوجیں آکر وادی مدینہ کے نشیبی حصہ میں خیمہ انداز ہوگئی تھیں، اور کچھ بالائی حصہ میں۔ مدینہ کی شرقی سمت اونچی ہے، اور غربی سمت نیچی، قبیلہ بنی اسد، قبیلہ غطفان کا لشکر سمت مشرق سے آیا تھا، اور قریش وبنی کنانہ کی فوجیں سمت مغرب سے۔
24۔ (مارے دہشت وہیبت کے) محاصرۂ جنگ کی شدت کا بیان ہورہا ہے، آنکھیں پھٹی رہ جانا، اور کلیجہ منہ کو آنے لگنا، انتہائی خوف و دہشت کی علامتیں ہیں۔ (آیت) ” بلغت القلوب الحناجر “۔ کے لفظی معنی مراد نہیں، مقصود عربی محاورہ کے مطابق شدت خوف کو بیان کرنا ہے۔ یجوزان یکون ذلک مثلا فی اضطراب القلوب ووجیبھا وان لم تبلغ الحناجر حقیقۃ (کشاف)
25۔ اور موقع شدت پر وسوسوں کا طبعی طور پر پیدا ہونا ایمان کیا معنی کمال ایمان کے بھی منافی نہیں۔
Ayahs 33:11–1226۔ اہل ایمان کی پختگی و استقامت کی یہ پوری اور سخت آزمائش تھی، شدید سردی کا موسم تھا، غلہ کی گرانی وکمیابی تھی۔ صحابہ بلکہ خود رسول اللہ ﷺ تک بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے، اس پر بھی ہمت و استقلال کا یہ عالم تھا کہ سنگلاخ زمین کی کھدائی بغیر کسی ” سفر مینا “ کی پلٹن کے، بغیر (Sappers And Miner) کے کسی دستے کے، اپنے ہاتھ سے جاری تھی، ظاہری مغلوبیت وبیچارگی کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک میں پھاؤ ڑا لے کر ایک پتھر پر جو ضرب لگائی تو آگ کے شرارے پیدا ہوئے اور ایسا تین بار ہر ہر ضرب پر ہوا۔ اس روشنی میں آپ ﷺ کی نگاہ کشفی کو ایران اور شام اور یمن کے محل دکھائے گئے۔ اور آپ نے اپنے رفیقوں کو بشارت دی کہ یہ سب ملک میری امت کودے دیئے گئے ہیں۔ کچے اور کمزور ایمان والے تو دو دلے ہو ہی رہے تھے۔ اور اپنی جان کی خیر منا رہے تھے۔ منافقین نے طنز و استہزاء سے کہنا شروع کیا کہ ” یہ لیجئے حالت تو یہ ہورہی ہے، اور خواب دیکھ رہے ہیں ایران اور روم کے شاہی محلوں کے۔ (آیت) ” ھنالک ابتلی “۔ الخ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بلاؤں کا پیش آنا، اور انہیں میں قبض وغیرہ مکروہات باطنی بھی داخل ہیں، کبھی امتحان صدق کے لئے بھی ہوتا ہے۔ پس سالک کو چاہئے کہ ان حالات میں صبر سے کام لے اور طاعت پر جما رہے۔
Ayah 33:1327۔ یعنی جب انہیں منافقین میں سے بعض لوگوں نے دوسروں کو مخاطب کرکے جنگ کے مورچوں پر کہا (آیت) ” منھم “۔ ضمیر انہیں لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر ابھی ابھی آچکا ہے۔ (آیت) ” المنفقون والذین فی قلوبھم مرض “۔
28۔ (کہ اب مورچوں پر جمے رہنا صریحا موت کے منہ میں جانا ہے) (آیت) ” یثرب “۔ مدینہ کا پرانا نام ہے۔ مدینۃ النبی تو ہجرت نبوی کے بعد نام پڑا۔
29۔ بعض کج دلے اور منافق۔ سالاراعظم ﷺ کی خدمت میں آکر طرح طرح کے بہانے تراشتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے گھروں کو غیر محفوظ حالت میں چھوڑ آئے۔ اور صرف عورتیں اور بچے ہیں، چوروں ڈاکوؤں کا ہر وقت خطرہ ہے۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے کہ یہ عذرات ان کے گڑھے ہوئے ہیں۔ ان کے گھر خود ان کے خیال میں بھی غیر محفوظ نہیں۔ اور نہ ان کی جانے سے یہ نیت ہے کہ انتظام کرکے پھر چلے آئیں گے، یہ تو بس جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” عورۃ “۔ یہاں ذات ” عورۃ “۔ کے معنی میں ہے۔ یعنی شگاف زدہ جس کے اندرداخلہ ممکن ہو۔ والعورۃ ذات العورۃ (کشاف) اے متخرقۃ ممکنۃ لمن ارادھا (راغب) (آیت) ” وماھی بعورۃ “۔ قرآن مجید میں یہ ترکیب جہاں جہاں بھی آئی ہے۔ اس وصف کی نفی کامل مراد رہی ہے۔ (آیت) ” وما ھم بمومنین “۔ ان میں ایمان ذرا بھی نہیں ہے) (آیت) ” وما ربک بظلام للعبید “۔ (آپ کا پروردگار بندوں کے حق میں ذرا سا بھی ظالم نہیں ہے)
Ayah 33:1430۔ یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آرائی اور اس میں ان کی شرکت کی یا کفر کی۔ اے الردۃ ومقاتلۃ المسلمین (بیضاوی) وھی الدخول فی الکفر (ابن کثیر) اے القتال کما قال الضحاک (روح)
31۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں داخل ہوجائے اور ان منافقوں سے کہے، کہ آؤ، ہم تم مل کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں تو یہ لوگ بلاتأمل آمادہ ہوجائیں، مسلمانوں کی لوٹ مار پر اٹھ کھڑے ہوں اور اس وقت ذرا خیال نہ کریں کہ آخر اب غیرمحفوظ گھروں کی کون حفاظت کرے گا۔ یہ سب ان کی انتہائی مذمت میں ارشاد ہورہا ہے۔ وھذا ذم لھم فی غایۃ الذم (ابن کثیر) (آیت) ” وما تلبثوا بھا “۔ ضمیر ھا بیوت کی طرف ہے۔ الضمیر علی کل تقدیر للبیوت (روح)
Ayah 33:1532۔ بدر کے بعد جب بعض مخلص مسلمان حسرت کررہے تھے کہ افسوس، ہم شرکت سے محروم رہ گئے تو بعض منافقین بھی اس گفتگو میں شامل ہوگئے۔ اور کہنے لگے اب جو کوئی موقع آیاتو ہم کسی سے پیچھے نہیں رہنے کے۔
33۔ قرآن مجید کا یہ ایک عام حکیمانہ اسلوب ہے کہ معین ومشخص واقعات کا ذکر کرتے کرتے عام اصول شریعت واخلاق بھی سنا دیتا ہے۔
Ayah 33:1634۔ اور اس چند روز سے مراد عمر مقدار کا بقیہ حصہ ہے کہ یہ جو تم بھاگے بھاگے پھرتے ہو، اس سے عمر مقدر تو بڑھ نہیں سکتی۔
Ayah 33:1735۔ برائی مثلا یہی کہ وہ تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو کون تمہیں بچا سکتا ہے ؟ فضل مثلا یہ کہ وہ تمہیں زندہ رکھنا چاہے تو کون اس میں مانع ہوسکتا ہے ؟
36۔ ولی یا حمایتی وہ نفع پہنچا سکے، نصیر یا مددگار وہ جو ضرر سے بچا سکے۔
Ayah 33:1837۔ (تو تمہاری جان بچ جائے گی اور تم چین اور سکھ سے زندگی بسر کرسکو گے) (آیت) ” اخوانہم “۔ سے مراد وطنی یا قومی بھائی ہیں۔
Ayah 33:1938۔ یعنی یہ اپنی کم ہمتی اور ضعف ایمان کی بناء پر لڑائی میں شریک ہی کب ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی محض نام کرنے کے لئے شریک ہو بھی گئے تو یہ انہیں گوارا نہیں ہوتا کہ مال غنیمت مسلمانوں ہی کو ملے۔
39۔ یعنی مال غنیمت لینے کی خاطر مسلمانوں سے دل خراش باتیں کرتے ہیں۔ مثلا یہ کہ ہماری ہی مدد سے تمہیں یہ فتح میسر ہوئی، آیت میں منافقوں کی بزدلی اور حرص دونوں کا پورا بیان آگیا۔ (آیت) ” الخیر “۔ خیر سے مرا دیہاں مال ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اور متعدد موقعوں پر بھی ہے۔ المال والغنیمۃ (مدارک) اے علی الغنیمۃ (قرطبی)
40۔ یعنی ان میں ایمان تو پہلے ہی سے نہ تھا، اور اسی لئے تو ان کے کسی عمل اور ظاہری طاعت کا اجر نہیں۔ (آیت) ’ لم یؤمنوا “۔ یہ منافق صرف زبان سے دعوی اسلام کرتے تھے، حقیقۃ ایمان سے بالکل خالی تھے۔
Ayah 33:2041۔ یہ ان کی بزدلی کی انتہاء ہے کہ فوج چلی بھی گئی، اور یہ اب تک اس کے ڈر سے دبے سہمے ہوئے ہیں۔
42۔ منافقوں کے انتہائی اور ضرب المثل بزدلی کا ایک اور نقشہ۔ ان میں ہمت اتنی بھی نہیں کہ ان جگر دوز معرکوں کو دیکھنے کی تاب بھی لاسکیں۔ چاہتے ہیں کہ کہیں دور دیہات میں چلے جائیں، اور وہیں سے بس خبریں سن لیا کریں۔
Ayah 33:2143۔ (زندگی کے ہر شعبہ اور ہر پہلو میں، خصوصا ثبات و استقامت میں) رسول اللہ ﷺ کا اتباع تو مومنین پر چھوٹے بڑے ہر امر میں واجب ہے اور آپ ﷺ کی زندگی انسان کے لئے انفرادی واجتماعی، خانگی وملی، معاشری واخلاقی ہر ہر گوشہ میں شمع ہدایت ہے، لیکن یہاں اشارہ خصوصی معرکہ جنگ میں ثبات و استقامت سے متعلق ہے، فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ آیت کے اندر ایک اصل عظیم آگئی ہے۔ اور اس سے زندگی کے چھوٹے بڑے سارے معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی اقتداء وپیروی کے وجوب پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ھذہ الایۃ الکریمۃ اصل کبیر فی التاتی برسول اللہ ﷺ فی اقوالہ وافعالہ واحوالہ ولھذا امر تبارک وتعالی الناس بالتاتی بالنبی ﷺ یوم الاحزاب فی صبرہ ومصابرتہ ومرابطتہ ومجاھدتہ وانتظارہ الفرج من ربہ عزوجل دائما الی یوم الدین (ابن کثیر) الاسوۃ القدرۃ والاسوۃ مایتأتی بہ اے یتعزی بہ فیقتدی بہ فی جمیع افعالہ ویتعزی بہ فی جمیع احوالہ (قرطبی) (آیت) ” فی رسول اللہ “۔ اس لفظ نے صاف کردیا کہ یہ مقتدائی وصف رسالت کے اعتبار سے ہوگی۔ (آیت) ” رسول اللہ “۔ میں لفظ اللہ سے یہ نکتہ پیدا کیا گیا ہے کہ رسول کے کمالات شخصا آپ ﷺ کی جانب نہیں، براہ راست حق تعالیٰ ہی کی جانب منسوب ہیں (آیت) لمن ...... کثیرا “۔ یعنی مومن کامل کیلئے۔
Ayahs 33:22–2344۔ ” مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر ؓ اور ان کے رفقاء ہیں، یہ حضرات اتفاق سے غزوۂ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جائے گی .... مطلب یہ تھا کہ منہ موڑیں گے کہ مارے جائیں “۔ (آیت) ” ماعاھدوا اللہ علیہ “۔ کو اگر وسیع وعام معنی میں لیاجائے تو اس میں وہ تمام امور آجائیں گے جنہیں ہم نے بضمن ایمان اجمالا اور قرآن و حدیث سے تفصیلا قبول کیا ہے، اور اس معنی میں اسکی مصداق ساری امت محمدی ﷺ ہوگی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کاملین کے لیے کبھی امور مکروہہ بھی، اور ان ہی میں قبض بھی شامل ہے، زیادت معارف کا سبب بن جاتے ہیں۔
45۔ (شوق کے ساتھ، اس نذر کے پورے ہونے کا) وسیع معنی میں تمام زندہ مومنین صادقین اس میں داخل ہیں۔ (آیت) ” من قضی نحبہ “۔ یعنی شہید ہوگئے اور آخرتک ثبات میں فرق نہ آنے دیا۔ نحب کے لفظی معنی نذر کے ہیں۔ اور (آیت) ” قضی نحبہ “۔ کے معنی ہوئے کہ اس نے اپنی نذر اتاری۔ النحب النذر المحکوم بوجوبہ فقال قضی فلان نحبہ اے وفی بنذرہ (راغب) محاورہ میں کنایہ وفات پاجانے سے ہوتا ہے۔ اور یہی معنی سلف سے منقول ہیں۔ ویعبر ذلک عمن مات (راغب) قال الحسن مات علی ماعاھد علی (جصاص)
46۔ (اپنے اس عزم راسخ میں۔ بلکہ اس پر بدستور ثابت ہیں) (آیت) ’ ’ تبدیلا “۔ تنوین تصغیر کے لیے ہے، یعنی کسی نوع، کسی قسم کی ادنی تبدیلی ان میں نہیں ہوئی۔
Ayah 33:2447۔ (اس کی وسیع رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ منافق کو مخلص بنا کر قابل مغفرت بنادے) اس میں ترغیب آگئی تو بہ ورجوع کی۔ (آیت) ” الصدقین “ سے مراد ظاہر ہے کہ سچے مسلمان ہیں۔ (آیت) ” لیجزی “۔ ل تعلیل کا ہے والظاھر اللام للتعلیل (روح) (آیت) ” لیجزی ...... علیھم “۔ آیت سے یہ ظاہر ہے کہ مومن صادق کی نجات یقینی ہے، بخلاف اس کے منافق کی سزا مشروط ہے مصلحت تکوینی کے ساتھ۔ (آیت) ” اویتوب علیھم “۔ یعنی اگر اس کی مشیت یہی ہوئی تو منافقین کو بھی آخرت میں سزانہ ملے گی۔ ان کی تعذیب ومغفرت دونوں حق تعالیٰ کی مشیت پر معلق ہیں۔ اے فلایعذبھم بل یرحمھم سبحانہ ان شآء وظاھرہ ان کلامن التعذیب والرحمۃ للمنافقین یوم القیامۃ ولوماتوا علی النفاق معلق بمشیتہ تعالیٰ (روح) آیت، مسلک خارجیت قدیم وجدید دونوں کی تردید کے لیے بالکل کافی ہے۔ منافقین حقیقۃ کافر ہی ہوتے ہیں۔ ایمان رمق بھر بھی ان میں نہیں ہوتا۔ اس پر بھی حکم ان کے معذب ہونے کا قطعی طور پر نہیں صادر ہوتا، بلکہ انکی مغفرت ومغفوریت کی بھی گنجائش رکھ لی جاتی ہے۔ اور اس پہلو کو زور دار بنانے کے لیے اعلان اپنی عام غفوریت ورحیمیت کا بھی ساتھ ساتھ کردیا جاتا ہے۔ کہاں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ گنجائشیں اور وسعتیں اور کہاں بعض نافہم بندوں کی یہ تنگیاں اور سختیاں کہ پختہ پختہ مسلمان بھی قابل نجات نہیں، اس لییھ کہ ان سے فلاں فلاں لغزشیں بھی تو سرزد ہوچکی ہیں !
Ayah 33:2548۔ (اور انہیں محاصرۂ مدینہ سے ناکام، ناشاد، نامراد واپس جانا پڑا) (آیت) ” خیرا “۔ یعنی جو بھلائی ان کے خیال کے مطابق ہے۔ مراد فتح و کامیابی سے۔ اے ظفرا وسماہ خیرا بزعمھم (مدارک)
49۔ (کہ بغیر کسی بڑی لڑائی کے انہیں نجات دلادی) محمد بن عبداللہ (روحی فداہ) جس طرح حالت امن میں بہترین مدبر وبہترین منتظم تھے، اسی طرح حالت جنگ میں بہترین جنرل بھی تھے، ترتیب صفوف، مورچہ بندی وغیرہ تمام مسائل فن حرب میں بےمثال بصیرت رکھنے والے، لیکن باوجود اس سب کے قرآن مجید آپ ﷺ کے لشکروں کی فتح وظفر کو آپ ﷺ کے کمالات سپہ سالاری کی جانب نہیں، بلکہ اپنی ہی قدرت و حکمت کی جانب منسوب کرتا رہتا ہے۔ اور قرآن کا مقصود ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہر ہر شعبے میں بندہ کا تعلق براہ راست حق تعالیٰ ہی سے جڑا رہے۔
50۔ (اس کے لیے ایسا کرنا مشکل ہی کیا تھا) ۔
Ayah 33:2651۔ ان اہل کتاب سے مراد یہود بنی قریظہ ہیں، جو حوالی مدینہ میں اپنے بڑے بڑے مضبوط ومستحکم قلعوں اور گڑھیوں میں قلعہ بند رہا کرتے تھے۔ اور اس وقت تک مسلمانوں سے معاہدہ کیے ہوئے ان کے حلیف تھے۔ بعد کو عہد شکنی کرکے قتل واسارت دونوں کے مستحق قرار پائے۔ (آیت) ” صیاصیھم “۔ یعنی ان کے مایہ ناز مضبوب قلعے اور گڑھیاں۔ قیل فی الصیاصی انھا الحصون التی کانوا یمتنون بھا (جصاص)
Ayah 33:2752۔ یعنی ابھی تم ان مقامات تک پہنچے نہیں ہو، لیکن اس نے تو اپنے علم ازل میں تمہیں اس کا مالک کردیا۔ اشارہ ہے قبائل یہود کی ساری زمینوں اور جائیدادوں کی طرف جو بالآخر کچھ روز بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔ اس جزم کے ساتھ قبل از وقوع اعلان بجز حق تعالیٰ کے اور کر ہی کون سکتا تھا۔ (آیت) ” ارضالم تطؤھا “۔ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، قیامت تک جو علاقہ بھی کبھی مسلمان کے قبضہ میں آئے، سب اس میں داخل ہے۔ وھی مکۃ اوفارس والروم او خیبر او کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (مدارک) قیل کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (بیضاوی) وعد صادق فی فتح البلاد کالعراق والشام ولیمن ومکۃ وسائرفتوح المسلمین (بحر)
Ayah 33:2853۔ یعنی طلاق دے دوں کہ جہاں چاہو آزادی سے رہ کر دنیا حاصل کرو، فتح خیبر کے بعد جب مسلمانوں کو مالی وسعت اچھی خاصی ہوگئی تو ازواج مطہرات کو، جو ظاہر ہے کہ نبی اور صاحب وحی نہ تھیں، محض امتی تھیں، قدرۃ یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہیے، اسی خواہش کا اظہار رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا اور ذرا تقاضا کے ساتھ، رسول، صاحب وحی کے قلب مبارک کی اذیت کے لیے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی، یہ آیتیں اس پر نازل ہوئیں۔ یہ اختیار دینے کو تو دیدیا گیا۔ لیکن اس کے مل جانے کے بعد حضرت عائشہ ؓ سے لے کر کسی ایک بیوی صاحبہ تک نے عیش دنیاکو ترجیح نہ دی، سب کی سب بدستور اللہ و رسول کے ساتھ وابستہ رہیں۔ تعالین۔ اس کے لفظی معنی ” آؤ “ مراد نہیں، صرف یہ مراد ہے کہ ” ادھر متوجہ ہو “ ، یہ بات سنو “۔ جیسا کہ اردو محاورہ میں بھی بولتے ہیں۔ ومعنی تعالین اقبلن بارادتکن واختیار کن لاحد الامرین (مدارک) (آیت) ” تردن الحیوۃ الدنیا وزینتھا “۔ تردن “۔ کا لفظ بہت اہم ہے۔ دنیوی زندگی اور اس کے جائز عیش ہرگز ممنوع نہیں، ممنوع و مذموم انہیں مقصود بنالینا ہے۔ (آیت) ’ تردن “۔ اسی مفہوم کا ترجمان ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دنیا اور اس کی زینتوں کی محبت اللہ اور رسول سے بعد کا سبب ہے۔
Ayah 33:2954۔ یعنی اگر تم عالم آخرت کے ان مدارج عالی کو دوست رکھتی ہو جو زوجیت رسول پر مرتب ہونے والے ہیں۔ اور رسول کی زوجیت میں صبر و قناعت کے ساتھ بسر کرنے پر تیار ہو۔
55۔ یعنی جنت میں وہ درجات عالیہ جو زوجات نبی کے لیے مخصوص ہیں۔ (آیت) ” منکن “۔ من۔ بیانیہ ہے۔ تبعیضیہ نہیں۔ ازواج نبی تو محسنات سب کی سب تھیں۔ یہ نہیں کہ بعض ان میں نہ ہوں۔ من للتبیین لانھن کلھن جمن محسنات (بیضاوی) من لبیان لاللتبعیض (مدارک)
Ayah 33:3056۔ (آخرت میں) یعنی جتنی دوسرے شخص کو ملتی، اس کی دوگنی سزا۔ (آیت) ” بفاحشۃ مبینۃ “۔ مراد وہ سوء معاشرت ہے جو رسول اللہ ﷺ کے تکدرقلب کا باعث ہو، یا مطلق معصیت صریح مراد لی جائے۔ المراد الفاحشۃ النشوز وسوء الخلق (ابن عباس ؓ اے بمعصیۃ ظاھرۃ (معالم) وینبغی ان تحمل الفاحشۃ علی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (بحر) بعض محققین نے یہاں یہ خوب لکھا ہے کہ صفت (آیت) ” مبینۃ “۔ کا اضافہ خود اس کی دلیل ہے کہ یہاں مراد زناکاری ہو نہیں سکتی، جو ایک چوری چھپے کی چیز ہے لامحالہ مراد سوء معاشرت اور عدم ادائے حقوق زوج سے ہوگی، اور اگر مراد زنا کاری ہی لی جائے، جب بھی اس سے مرتبہ ازواج نبی کی منقصت ذرا بھی لازم نہیں آتی۔ اس لیے کہ یہ بات محض بطور فرض فرمائی گئی ہے۔ اور بطور فرض اس سے بھی بڑھ چڑھ کر سخت اور شنیع چیزیں قرآن مجید میں مذکور ہوچکی ہیں۔ اور بعض اہل علم نے تو یہ صراحت کردی ہے کہ لفظ فاحشۃ جب ال کے ساتھ معرفہ ہو کر آئے گا تو اس کے معنی حرام کاری کے ہوں گے اور جب تنوین کے ساتھ صیغہ نکرہ میں آئے گا تو اس کے مفہوم میں ہر قسم کے معصیت داخل ہوگی، اور جب موصوف ہو کر آئے گا (جیسا کہ یہاں صفت (آیت) ” مبینۃ “۔ کے ساتھ ہے) تو مراد سوء معاشرت اور عدم ادائے حقوق زوجیت سے ہوگی۔ وقال قوم الفاحشۃ اذا وردت معرفۃ فھی الزنا واللواط واذا وردت منکرۃ فھی سائر المعاصی واذا وردت منعوتۃ فھی حقوق الزوج و فساد عشرتہ (قرطبی) (آیت) ” یضعف ..... ضعفین “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ خواص وعلماء پر بمقابلہ عوام امت کے گرفت زیادہ سخت ہوگی اور اسی طرح ان کا اجر وثواب بھی عوام سے کہیں زیادہ ہے۔ لان النعمۃ کلما عظمت کان کفر انھا اعظم فیما یستحق بہ من العقاب اذ کان استحقاق العقاب علی حسب کفران النعمۃ (جصاص) ولذا کان الذم للعاصی العالم الجاھل کو ان المعصیۃ من العالم اقبح (مدارک) وسبب تضعیف العذاب ان الذنب منھن اقبح فان زیادۃ قبحہ تابعۃ لزیادۃ فضل المذنب والنعمۃ علیہ (روح)
57۔ یعنی یہ نہیں کہ اللہ کسی کی وجاہت کی مروت یا دباؤ میں آکر اپنی سزا کے نفاذ میں ترمیم کرنے لگے۔
Ayah 33:3158۔ یہ صلہ جنت میں ازواج نبی کے لئے مخصوص ہوگا۔ (آیت) ” رزقا “۔ رزق پر حاشیہ کہیں پہلے گزر چکا ہے۔ کہ اس سے مراد محض کھانے پینے ہی کی نہیں، بلکہ ہر قسم کی نعمتیں ہوتی ہیں۔ عربی میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے (آیت) ” اجرھا مرتین “۔ اہل خصوصیت کا عصیان بھی اوروں کے عصیان سے اشد ہوتا ہے، اس طرح ان کی طاعت بھی اوروں کی طاعت سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ بس وعدہ ووعید دونوں میں وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ اور خصوصا مقام کلام میں یہ کہنا ممکن ہے کہ حضرات امہات المومنین سے خدمت اطاعت کا صدور حضور ﷺ کے قلب کو راحت افزا زیادہ ہوگا۔ اور اسی طرح اس کے خلاف کا صدور آپ ﷺ کے لیے کلفت افزازیادہ ہوگا “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” اعتدنا “۔ میں اضافت تشریفی ہے۔ یعنی خود ہم نے تیار کیا ہے۔ (آیت) ” منکن “۔ من یہاں بھی بیانیہ ہے۔ تبعیضیہ نہیں، وہ رزق کریم کیا ہے ؟ اس کا تعین حد انسانی سے ماوراء ہے۔ بہرحال کوئی ایسا صلہ ہوگا جو دوسرے عطیوں سے ممتاز تر ہے۔
Ayah 33:3259۔ ازواج نبی ؓ عنھن کا مرتبہ وشرف امت کی عام عورتوں سے یقیناً کہیں زائد ہے۔ لیکن یہ شرط بہرحال ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہے کہ جادۂ تقوی سے قدم نہ ہٹنے پائے۔ یا حرف خطاب جلب تو جہ مزید کے لیے ہے۔ (آیت) ” کا حد من النسآء “ یعنی تم میں صرف انسانیت ہی نہیں۔ بلکہ دوسرے اوصاف فاضلہ بھی ہیں۔ جن سے مساوات ومماثلت ممکن نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تینوں آیتوں کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ جس کی فضیلت زیادہ ہے اس کا عصیان و اطاعت دونوں اوروں سے اشد واکمل ہیں۔ اور یہی اصل ہے۔
ع :” نزدیکاں رابیش بود حیرانی “ کی۔
60۔ عورت کی آواز میں جو قدرتی نرمی اور لوچ ہوتا ہے اس کو بڑا دخل مرد کی خواہش نفسانی کے ابھارنے میں ہے۔ چناچہ جدید نفسیین نے بھی اس کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ اسلام کے ہمہ داں۔ ہمہ بین۔ شارع عزوجل نے نفس کے اس محرک کو بھی اجراء احکام میں پوری طرح پیش نظر رکھا ہے۔ اس کی ہدایت امت کی ہر عورت کے لیے ہے کہ اپنی آواز کی نزاکت سے کسی نامحرم کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دے۔ اور ازواج نبی کیلیے ان کے شرف واحترام کی مناسبت سے اس کا اور زیادہ اہتمام ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اسباب فتنہ سے بچنے کا ارشاد ہے۔ اگرچہ اسباب بعید ہی ہوں۔ خصوصا عورتوں کے باب میں۔ عرب کی تہذیب جاہلی میں آج کل کی جاہلی تہذیبوں کی طرح یہ دستور تھا کہ لیڈیاں تصنع کے بڑے بڑے طریقوں سے آواز اور لب و لہجہ میں طرح طرح کی رعنائی، نزاکت اور لفریبی پیدا کرتی تھیں۔ یہ ہنر وہاں کی فیشن ایبل سوسائٹی میں داخل تھا، اس لیے اس کی ممانعت خاص طور پر ہوئی۔ کماکانت الحال علیہ فی نساء العرب من مکالمۃ الرجال ترغبھم الصوت ولینہ مثل کلام المریبات والمؤسات (قرطبی) اور جب مطلق گفتگو کے باب میں یہ اہتمام ہے تو نغمہ وموسیقی ظاہر ہے کہ عورت حلق ودہن سے نکلا ہوانامحرم کے حق میں کیا حکم رکھے گا۔
61۔ یعنی حیاء وعزت وآبرو کے جو قاعدے شرفاء میں چلے ہوتے ہیں، اپنا لب و لہجہ ان کے مطابق رکھو، تاکہ کسی بدکردار فاسد المزاج کو آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہ پڑے۔ اس حکم کی جو اہمیت مدینہ کی ناموافق فضا میں تھی، وہی اہمیت عام مومنات کے لیے آج کی غیر صالح فاسقانہ فاجرانہ فضا میں بھی ہے۔ ہاں مضبوط شریفانہ لہجہ اور ہے اور دلشکن اور دلآزار لہجہ اور۔ فقہاء نے اس پر قیاس کرکے لکھا ہے کہ اسی طرح مردوں کو بھی تلذذ فاسقانہ کی باتیں کرنا حرام ہیں۔ اور خود مردوں مردوں، عورتوں عورتوں کے درمیان بھی، اور فقہاء حنفیہ نے اس آیت کے ذیل میں متعدد مسئلے ذکر کیے ہیں۔ مثلا یہ کہ عورت کے لیے اتنی بلند آواز سے گفتگو کرنی درست نہیں جسے مرد سنیں۔ وفیہ الدلالۃ علی ان الاحسن بالمرأۃ ان لاترفع صو تھا بحیث یسمعھا الرجال (جصاص) اور یہ بھی کہ جب عورت کے پیر کے زیوروں کی آواز ممنوع ہے تو جوان عورت کے کلام کی آواز تو بدرجہ اولی ممنوع ٹھہرے گی۔ وکذلک قال اصحابنا وقال اللہ تعالیٰ فی ایۃ اخری ولا یضر بن بارجلھن الخ فاذا کانت منھیۃ عن السماع صوت خلخالھا فکلامھا اذا کانت شابۃ تخشی من قبلھا الفتنۃ اولی بالنھی عنہ (جصاص)
Ayah 33:3362۔ یعنی بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلو اور مردوں سے اختلاط کے مواقع نہ آنے دو ۔ شرعی یا دنیوی ضرورتوں سے، پابندی ستر و حجاب باہر نکلنا اس سے مستثنی ہے۔ فیلزمن البیوت فان مست الحاجۃ الی الخروج فلیکن علی تبذل وتسترتام (قرطبی) مقصود اس حکم سے اختیار عفت وپارسائی ہے۔ بس اگر کوئی عورت فاحشہ باوجود فحش کاری پردہ کرتی ہے تو وہ بھی اس حکم کی عاصی ہی کہی جائے گی۔ (آیت) ” وقرن “۔ کو بعض مفسرین نے وقار سے مشتق قرار دیا ہے۔ اے کن اھل وقار وھدوء وسکینۃ (جصاص) مقصود اس صورت میں بھی وہی رہتا ہے۔ وفیہ الدلالۃ علی ان النسآء مامورات بلزوم البیوت منھیات عن الخروج (جصاص) اے لا تخرجن منھا ولا زمن الاقامۃ فیھا (احمد) اے الزمن بیوتکن فلاخترجن لغیرحاجۃ (ابن کثیر)
63۔ اس میں قانون ستروحجاب کو توڑ کر باہر آزادانہ گھومنے پھرنے کی قطعی ممانعت ہے۔ ستروحجاب کی اتنی تاکید وپابندی کے بھی عورت کی ” آزادی “ کے دلائل قرآن مجید سے ڈھونڈے جانا جسارت اور ڈھٹائی کی انتہا ہے ! (آیت) ” الجاھلیۃ الاولی “۔ نظام جاہلی۔ ہر نظام غیراسلامی ہے۔ جاھلیت اولی سے مراد وہ مشرکانہ تہذیب و تمدن ہے، جو اسلام سے قبل، دنیا خصوصا عرب میں یونانی ورومی تمدن کے اثر سے رائج تھی، مکہ و مدینہ میں عورتیں بن ٹھن کر اس طرح باہر آزادانہ گھوما پھرا کرتی تھیں، جس طرح آج فرنگی قوموں میں دستور ہے۔ اور یہ لفظ اولی کا اضافہ خود اس کی دلیل ہے کہ ایک دوسری جاہلی تہذیب (الجاھلیۃ الاخری) کا نقشہ شروع ہی سے اسلام کے پیش نظر رہا ہے۔ (آیت) ” تبرج الجاھلیۃ “ کی شرح سب نے یہی لکھی ہے کہ اس تہذیب کی عورتیں آزادی سے مردوں کے ساتھ چلتی پھرتی، بیٹھتی بولتی رہتی تھیں۔ اور یہاں ممانعت اسی سے آئی ہے۔ عن مجاہد قال کانت المرأۃ تمشی بین ایدی القوم فذلک تبرج الجاھلیۃ (جصاص) عن قتادۃ قال کانت لھن مشیۃ وتکسروتغنج فنھا ھن اللہ عن ذلک (جصاص) وقیل ھو اظھار المحاسن للرجال (جصاص)
64۔ (اور اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں) ترتیب کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ عورت پر حیاداری، حفظ وناموس کی تاکید نماز وزکوۃ کے حکم سے بھی مقدم رکھی گئی ہے۔ محققین نے لکھا ہے کہ آیت میں خطاب ازواج نبی سے ہے، لیکن جو تعلیم دی گئی ہے وہ ساری امت کی عورتوں کے لیے ہے۔ فھذہ الامور کلھا مما ادب اللہ تعالیٰ بہ نساء النبی ﷺ صیانۃ لھن وسائر نساء المومنین مرادات بھا (جصاص) فقیہ مالکی قاضی ابوبکر عبداللہ بن العربی اندلسی (متوفی 542 ھ۔ ) کہتے ہیں کہ میں نے اپنی سیاحی میں کوئی ایک ہزار مقامات دیکھ ڈالے۔ نابلوس کی عورتوں سے بڑھ کر پاکدامن کہیں اور کی نہیں پائیں۔ ان کی درمیان میں مہینوں ٹھہرا رہا۔ شہر میں یہ کبھی چلتی پھرتی نظر نہ آئیں۔ بس صرف جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے نکلتی تھیں، اور بعد نماز اپنے گھروں میں پھر داخل ہوجاتی تھیں۔ اور پردہ داری اور باعصمتی کی کیفیت میں نے مسجد اقصی کی معتکف عورتوں میں بھی پائی۔ ورنہ اور جگہ میں نے جہاں جہاں عورتوں کو بےپردہ چلتے پھرتے پایا۔ طرح طرح کی برائیوں اور فتنوں ہی میں مبتلا دیکھا۔ ولقد دخلت نیفا علی الف قریۃ من بریۃ فما رایت اصون عیالا ولا اعف نساء من نسآء ’ نابلس “ التی رمی فیھا الخلیل (علیہ السلام) بالنار، فانی اقمت فیھا اشھرا فما رأیت امرأۃ فی طریق نھارا الایوم الجمعۃ فانھن یخرجن الیھا حتی یمتلی المسجد منھن فاذا قضیت الصلاۃ وانقلین الی منازلھن لم تقع عینی علی واحدۃ منھن الی الجمعۃ الاخری وسائر القری تری نسآء ھا متبرجات بزینۃ وعطلۃ متفرقات فی کل فتنۃ وعضلۃ وقدرأیت بالمسجد الاقصی عفائف ماخرجن من معتکفھن حتی استشھدن فیہ (ابن العربی) یہ حال 542 ھ سے قبل کا ہے تو ظاہر ہے کہ آج 369 1 ھ میں کوئی غیر تمند مومن قاہرہ اور اسکندر یہ، تہران وانقرہ، بغداد ودمشق، کراچی ولاہور، دہلی ولکھنؤ کی کھلم کھلا بیحیائیاں دیکھنے کی تاب کہاں سے لاسکتا ہے۔ نابلوس آج جس قدیم شہر کا نام ہے۔ وہ فلسطین میں بیت القدس کے شمال میں واقع ہے۔ توریت میں اس کا ذکر سیکم (Si.CHEM) کے نام سے آیا ہے۔ اب خدا معلوم شیخ ابن العربی کی مراد اسی شہر سے تھی یا کسی اور سے۔
65۔ یعنی معصیت ونافرمانی کی آلودگی سے پاک کرکے، عقیدہ، عمل، ظاہر، باطن ہر چیز میں خوب جلا پیدا کردے۔ شریعت الہی نے انسان کی آزادی پر جو بھی قیود وحدود عائد کیے ہیں سب کا منشا بس یہی ہے کہ انسان کو بہتر انسان بنادے، جسم، روح، عقل ہر اعتبار سے پاک صاف ہو نہ یہ کہ اس کی راہ کو خواہ مخواہ سخت وتنگ بنادے۔ (آیت) ” انما یریداللہ “۔ چناچہ ظاہر ہے کہ جب اللہ نے ارادہ کرلیا تو وہ اپنے ارادہ کو پورا کرکے بھی رہا۔ سیاق سے بالکل ظاہر ہے کہ اھل بیت سے مراد ازواج نبی ﷺ ہیں، اور یہی مفہوم سلف سے منقول بھی ہے۔ نزلت فی نسآء النبی ﷺ خاصۃ (ابن جریر عن عکرمہ) ارادہ باھل البیت نسآء النبی۔ نزلت فی نسآء النبی خاصۃ (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ اہل سنت کا اس میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں کہ آیت کا سبب نزول ازواج النبی ہی ہیں۔ اور اہل بیت سے اولاوہی مراد ہیں۔ البتہ گفتگو اس میں ہوئی ہے کہ آیا ان کے علاوہ بھی کوئی مراد ہے ؟ سو محققین اہل سنت کا فیصلہ ہے کہ لفظ کے عموم میں ازواج نبی کے علاوہ بھی ہستیاں داخل ہیں۔ قال عکرمۃ انھا نزلت فی شان نسآء النبی ﷺ فان کان المراد انھن کن سبب النزول دون غیرھن فصحیح وان ارید انھن المراد فقط دون غیرھن ففی ھذا نظر فانہ قدوردت احادیث تدل علی ان المراد اعم من ذلک (ابن کثیر) والذی یظھرمن الایۃ انھا عامۃ فی جمیع اھل البیت من الازواج وغیرھن (قر طبی) اہل بیت کے جو متعارف معنی اردو میں چلے ہوئے ہیں وہ بھی حدیث سے نکلتے ہیں۔ لیکن یہاں ذکر صرف اصطلاح قرآنی کا ہے۔ قرآنی مجید میں دوسری جگہ بھی اہل بیت کا لفظ ایک پیغمبر کی زوجہ محترمہ ہی کے لیے آیا ہے۔ (ہود۔ ع۔ 7) رجس۔ معنی گندگی۔ گناہ۔ سوء خلق دونوں پر شامل ہے۔ یطھر۔ اول تو باب تفعیل ہے خود بھی مبالغہ کے لیے۔ مبالغہ، پھر تاکید مزید کے لیے تطھیرا یعنی خوب ہی پاک وصاف کردے اور طہارت کا درجہ کامل واعلی نصیب کردے۔ جیسا کہ ازواج نبی کی شان رفیع کا مقتضی ہے پوری آیت رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مزید شرف واحترام کے اظہار کے لیے ہے۔
Ayah 33:3466۔ (اور خود بھی اس پر عمل کرو، اور دوسروں تک بھی اسے پہنچاؤ) امر اللہ ازواج رسولہ بان یخبرن بما انزل اللہ من القران فی بیوتھن وما یرین من افعال النبی ﷺ واقوالہ فیھن حتی یبلغ ذلک الی الناس فیعملوا بما فیہ ویقتدوا بہ (ابن العربی) اور یہیں سے بعض نکتہ رس فقہاء نے مسائل دین میں خبر واحد کے قبول کا جواز نکالا ہے۔ وھذا یدل علی جواز قبول خبر الواحد من الرجال والنساء فی الدین (ابن العربی) (آیت) ” فی بیوتکن “۔ رسول اللہ ﷺ کا کوئی الگ مستقل مکان حجرات ازواج کے علاوہ تو تھا نہیں۔ یہاں (آیت) ” بیوتکن “۔ لاکر بیوی صاحبان کو اس شرف وفضیلت کی یاد دلائی گئی ہے کہ نزول وحی و حکمت خاص تمہارے ہی گھروں میں تو ہوتا ہے۔ تم سے بڑھ کر ان علوم وحقائق وشرائع کا حامل اور کون ہوگا۔ (آیت) ” ایت اللہ “۔ یعنی قرآن مجید۔ اے القران (مدارک) (آیت) ” الحکمۃ “۔ یعنی احکام شریعت وفہم قرآنی۔ اے السنۃ اوبیان معنی القران (مدارک)
67۔ (اس لیے اس کے احکام کی تعمیل کا اہتمام نہایت درجہ واجب ہے) (آیت) ” لطیفا “۔ لطیف وہ جو احوال قلوب کو بھی خوب جانتا ہے۔ (آیت) ” خبیرا “۔ خبیر۔ وہ جس پر اعمال پوشیدہ سے پوشیدہ بھی روشن ہیں۔
68۔ یعنی وہ مرد وزن جو اسلام کے اعمال ظاہری، نماز، روزہ وغیرہ پر قائم ہوں۔ الفاظ کا رخ اقرار و اعمال اسلامی کی طرف ہے۔
Ayah 33:3569۔ یعنی وہ مرد وزن جو عقائد صحیح کے پابند ہوں۔ الفاظ کا اشارہ عقائد اسلامی کی جانب ہے۔
70۔ اعمال و عقائد دونوں کا ذکر اوپر آچکا۔ اب یہاں زور فرماں برداری پر ہے۔ یعنی یہ جو کچھ کررہے ہیں براہ انقیاد، بلاکراہت وپیش کررہے ہیں۔ المرادین علی الطاعات القائمین بھا (روح)
71۔ یہ صدق جامع ہے صدق قول، صدق عمل، صدق نیت، صدق ایمان ایمان، ہر قسم کے صدق کا، قیل فی القول والعمل (روح)
72۔ صبر یعنی ثبات و استقامت، اپنے سارے عنوانات کے ساتھ، یعنی طاعتوں پر بھی، معاصی کی طرف سے بھی، مصائب پر بھی، علی المکارہ وعلی العبادات ومن المعاصی (روح)
73۔ یہ خشوع شامل ہے عبادات میں توجہ قلب پر اور عادات میں تواضع پر بھی۔
74۔ تصدق میں زکوٰۃ و صدقہ نفل وغیرہ سب آگئے۔
75۔ آیت میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی تصریح برابر ہوتی چلی گئی ہے۔ حالانکہ قرآن کا عام دستور ہے کہ مردوں کے ذکر میں عورتیں ضمنا وتبعا شامل ہی سمجھ لی جاتی ہیں۔ اہل تفسیر نے توجیہ یہ کی ہے کہ یہاں اصلا ومستقلا مدح ازواج پیمبر ہی کی مقصود تھی، اور جو مقصود ہو اسے ضمنا وتبعا نہیں پیش کیا جاتا۔ مردوں کے لیے (آیت) ” الحفظین فروجھم “۔ اور عورتوں کے لیے صرف (آیت) ” الحفظت “۔ گویا مردوں کے لیے تصریح اور عورتوں کے لیے کنایہ۔ اہل تفسیر نے اس کی بھی توجیہ دو طرح پر کی ہے۔ ایک یہ کہ اس میں عورتوں کو تعلیم ہے حیائے ذکری کی، وہ سمجھیں کہ اللہ انکی تعلیم تک میں کنایہ پر کفایت کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مرد کے لیے صرف اعضائے مردانہ کا تحفظ کافی ہے۔ بخلاف اس کے عورت کی ہر چیز عورت ہوتی ہے۔ اسے اپنے حفظ کے لیے احتیاط اپنے رفتار وگفتار، لباس وآواز ہر چیز میں رکھنا لازمی ہے۔
Ayah 33:3676۔ حکم کا اطلاق عمومی ظاہر ہے۔ اس اعلان عام کے علاوہ اشارہ ایک واقعہ خاص کی جانب بھی ہے۔ زینب بنت جحش خاندان بنی اسد سے رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد تھیں۔ حسن صورت میں ممتاز لیکن ساتھ ہی مزاج کی بھی تیز، آپ ﷺ نے انکانکاح زید بن حارثہ ؓ صحابی سے کردینا چاہا۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب خصوصی تھے۔ یہاں تک کہ مدتوں عوام میں زید بن محمد کرکے مشہور رہے، لیکن ایک زمانہ میں نصرانی غلام رہ چکے تھے۔ اور پھر صورت کے لحاظ سے بھی کچھ ممتاز نہ تھے۔ زینب اور ان کے بھائی کو نکاح اپنے شرف نسب کی بناء پر، ان آزاد شدہ غلام کے ساتھ پسند نہ آیا۔ تامل کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جب رسول ایک امر کا فیصلہ کرچکے تو اب کسی امتی کو چون وچرا کی گنجائش ہی کہاں باقی رہی۔ آیت کی اس تنبیہ شدید کو سن کر حضرت زینب ؓ نے نکاح، انہیں زیدبن حارثہ70۔ کے ساتھ منظور کرلیا۔ آیت سے یہ مسئلہ بھی صاف ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے جو احکام ہوتے ہیں وہ واجب التعمیل ہی ہوتے ہیں۔ ؛ یہ نہیں کہ ان کی تعمیل وعدم تعمیل اپنی خوشی پر ہو۔ فیہ الدلالۃ علی ان اوامر اللہ تعالیٰ واوامر رسولہ للوجوب لانہ قد نفی بالایۃ ان تکون لنا الخیرۃ فی ترک اوامر اللہ واوامر الرسول ﷺ (جصاص) دل ذلک علی ان الامر للوجوب (مدارک)