Ayahs 33:1–2(33:2) اتبع۔ فعل امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ اتباع (افتعال) مصدرتبع مادہ۔ تو پیروی کر۔ تو اتباع کر۔
Ayah 33:3(33:3) توکل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ (اس کا تعدیہ بذریعہ علی ہوتا ہے) توکل (تفعل) مصدر تو بھروسا کر۔ تو اعتماد کر۔ تو توکل کر۔
کفی باللہ وکیلا : کفی یکفی (ضرب) کفایۃ کافی ہونا۔ کاف (صفت) کافی ۔ کفیتہ شرعدوہ۔ میں نے اس کو اس کے دشمن کے شر سے بچا دیا۔ کفی کے فاعل پر حرف باء زائد بھی آتا ہے جیسے آیت ہذا میں کفی باللہ وکیلا یعنی اللہ کی وکالت دوسرے کسی کی وکالت سے بےنیاز کردیتی ہے۔ لفظ اللہ حالت رفعی میں ہے اور وکیلا تمیز ہے۔
(وکالت : کوئی کام کسی کو سونپنا یا اس کے سپرد کرنا)
ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (یہ ایک حقیقت ہے جو اکثر و بیشتر ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے۔ اگر شاذو نادر کسی کے دو دل فی الواقع اس کے سینے میں پائے جائیں تو علم الایدان میں اس کی کئی وجاہت ملیں گی اور ایسے انسان کے زندہ رہنے کی کوئی مثال آپ کو نہ ملے گی۔ رحم مادر میں جنیب کی ابتدائی نشو و نما کے دوران کسی امر کی کمی بیشی اس کا سبب بن سکتی ہے جو بذات خود اس خالق حقیقی کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے)
اس مثال کے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح اس کی دو مائیں بھی نہیں ہوسکتیں۔ (اس کی ماں وہی ہے جس نے اسے جنم دیا) اور نہ ہی ایک اولاد کے (بیٹا ہو یا بیٹی) دو باپ ہوسکتے ہیں (بیٹے یا بیٹی کا باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہو بالفاظ دیگر آدمی اسی اولاد کا باپ کہلا سکتا ہے جو اس کے اپنے نطفے کی پیداوار ہو) ۔
زبانی کہنے سے اپنی حقیقی ماں کے بغیر نہ کوئی ماں ہوسکتی ہے اور اپنے نطفے کی اولاد کے علاوہ نہ کوئی اولاد ہوسکتی ہے۔
جوف۔ اندرونی حصہ جو خالی یا کھوکھلا ہو جوف کہلاتا ہے انسان کے پیٹ کو جوف کہتے ہیں لیکن چونکہ دل پیٹ میں نہیں سینہ میں ہوتا ہے اس لئے ترجمہ میں اسے سینہ ہی کہیں گے ؟
الی۔ یہ التی کی جمع ہے اسم موصول جمع ہے اسم موصول جمع مؤنث (وہ سب عورتیں) جو ۔ جنہوں۔
تظھرون منھن۔ الظھر کے معنی پیٹھ۔ پشت کے ہیں۔ اس کی جمع ظھور ہے ۔ انقض ظھرک (94:3) جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی۔ ظھر ظاہر ہونا۔ مثلاً ما ظھر منھا وما بطن (6:15) ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ ظھر پھیلنا۔ مثلاً ظھر الفساد فی البر والبحر (30:14) خشکی اور تری میں (لوگوں کے اعمال کے سبب) فساد پھیل گیا ۔ وغیرہ۔
تظھرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) وظھار مصدر سے تم ظہار کرتے ہو۔ الظھار کے معنی خاوند کا بیوی سے یہ کہنا : انت علی کظھر امی (تو میرے لئے اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پشت) چناچہ کہا جاتا ہے ظھر من امراتہ اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ فقرہ ظہار بول کر عرب میں مرد اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیا کرتا تھا۔
منھن میں ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ازواجکم کی طرف راجع ہے۔
ادعیاء کم، ادعیائ، دعی (بروزن فعیل بمعنی مفعول) کی جمع ہے مضاف کم ضمیر جمع مذکر مجاف الیہ۔ تمہارے منہ بولے بیٹے۔ تمہارے لے پالک۔
ادعیائ۔ بوجہ جعل کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ یہ جعل کا مفعول اول ہے اور ابناء مفعول ثانی۔ وما جعل ادعیاء کم ابناء کم کی جمع ہے فم اصل میں فوہ تھا ہ کو اگر واؤ کو م سے بدل دیا گیا۔ ذلکم قولکم بافواہکم یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے۔
ھو یھدی السبیل : ای اللہ یرشد الی سبیل الحق۔ اللہ راہ حق پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے۔ سیدھے راستہ پر چلاتا ہے !
Ayahs 33:4–5(33:5) ادعوہم ادعوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع ادعیاء ہے دعوۃ مصدر (باب نصر) تم ان کو پکارو۔ لاباء ہم : ای انسبوہم الی اباء ہم ان کو ان کے اصلی باپ کی طرف نسبت کرو۔
اقسط۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ قرین انصاف و عدل۔ قسط ھروف اضداد میں سے ہے۔ قسط بمعنی انصا بھی ہے مثلاً قرآن مجید میں ہے واقیموا الوزن بالقسط (55:9) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو۔ اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مارنا بھی ہے اس لئے یہ ظلم وجور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً واما القاسطون فکانوا لجھنم ضطیا (72:15) اور وہ جو بےراہ گنہگار ہیں تو وہ دوزخ کے ایندھن ہیں۔ باب افعال سے انصاف کے معنی میں آتا ہے مثلاً واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (49:9) اور انصاف سے کام لو۔ بیشک خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
موالیکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ موالی جمع ۔ (دینی) دوست کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تمہارے (دینی) دوست۔ مولی واحد۔ ولی مادہ۔
الولاء والتوالی کے اصل معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا وہ قرب خواہ بلحاظ مکان ہو یا نسب یا بلحاظ دین اور دوستی یا نصرت کے ہو یا بلحاظ اعتقاد کے ہو۔
جناح۔ گناہ ، جرم ، یہ جنوح سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وان جنحوا اللسلم فاجنح لہا (8:61) اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔ لہٰذا وہ گناہ جو حق سے مائل کر دے اور دوسری طرف جھکادے جناح سے موسوم ہوا۔ پھر ہر گناہ کے لئے استعمال ہونے لگا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کے ماں باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں تم ان کو یا اخی یا یامولای کہہ کر پکار سکتے ہو۔
اخطاتم ماضی جمع مذکر حاضر اخطار (افعال) مصدر سے۔ تم نے خطا کی۔ تم چوک گئے۔ فیما اخطاتم بہ میں ما موصولہ ہے اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ جو تم بھول کر کرو۔ تم سے بھول چوک ہوجائے۔ جو تم نادانستہ طور پر کر بیٹھو۔ (اس میں حکم نہی سے قبل کی خطائیں اور بعد کی نادانستہ خطائیں شامل ہیں)
ولکن ما تعمدت قلوبکم : ای ولکن الاثم علیکم فیما تعمدت قلوبکم۔ لیکن اگر تمہارے دل قصدا ایسا کہیں تو اس کا گناہ تم پر ہوگا۔ تعمدت ماضی واحد مؤنث غائب تعمد (تفعل) مصدر سے ۔ جس کے معنی کسی چیز کے قصدا و عمدا کرنے کے ہیں (جو) انہوں نے ارادۃ کیا۔ تعمد سہو کی ضد ہے۔
Ayah 33:6(33:6) اولی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے ای احق واقرب الیہم۔ زیادہ مستحق اور زیادہ قریب (نیز ملاحظہ ہو آیت سابقہ)
جب اولی کا صلہ لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ نزدیک اور زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے۔ جیسے کہ اولی لک فاولی (75:34) تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔
النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم کا ترجمہ دو طرح ہوسکتا ہے :۔
(1) اہل ایمان کے لئے نبی کی ذات ان کی اپنی جانوں پر مقدم ہے۔
(2) نبی کی اہل ایمان کے ساتھ قربت اہل ایمان کی اپنی جانوں کی قربت سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی اہل ایمان جتنا اپنی جانوں کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہیں نبی کریم ﷺ اس سے زیادہ ان کی خیر خواہی کا خیال رکھتے ہیں۔
اول : اس حدیث شریف کی ثبت تعبیر ہے جسے بکاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے : لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین : (تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں) ۔
دوئم : کے مضمون میں حدیث شریف ہے :۔ ما من مومن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ اقراء وا ان شئتم : النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم : وانما مومن مات وترک مالا فلیرثہ عصبتہ من کانوا : ومن ترک دینا اوضیاعا فلیاتنی فانا مولاہ۔ (کوئی مومن ایسا نہیں جس کا دنیا و آخرت میں میں والی نہیں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسھم الآیۃ : اور جو مومن فوت ہو اور اپنے پیچھے مال چھوڑ جائے تو اس کے قریبی رشتہ دار وارث ہوں گے اور جو مومن قرضہ وغیرہ چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئے میں اس کا والی ہوں۔
حضور ﷺ کو مومنوں کی خیر خواہی کا جس قدر خیال تھا اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم (9:128) جو چیز تمہیں مضرت پہنچاتی ہے انہیں (نبی کریم ﷺ کو) بہت گراں گزرتی ہے (وہ) تمہاری بھلائی کے حریص ہیں اور اہل ایمان کے حق میں تو بہت ہی شفیق اور مہربان ہیں۔
اولوا الارحام۔ مضاف مجاف الیہ ۔ اولوا۔ والے۔ اس کی واحد نہیں آتی۔ الارحام رحم کی جمع ہے عورت کی بچہ دانی۔ اولوا الارحام رحم والے۔ ایک ہی رحم سے پیدا ہونے والے۔ قرابت والے۔ شکمی رشتہ دار۔
بعضھم ببعض آپس میں۔ ایک دوسرے کے ساتھ۔
فی کتب اللہ ای فی ما کتبہ فی اللوح بمطابق اس کے جو اس نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے یا اللہ کے احکام (وراثت) کے مطابق۔ من ۔ ابتدائیہ ہے۔ سے۔
واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ من المؤمنین والمھاجرین ۔ اللہ کی شریعت کی رو سے شکمی رشتہ دار دوسرے مؤمنین و مہاجرین سے زیادہ آپس میں قرابت داری رکھتے ہیں (یعنی دینی بھائی چارہ سے کونی رشتہ داری نزدیک تر ہے۔ سیاق وسباق کے مطابق یہ میراث کے متعلق ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جو مومنین و مہاجرین کو میراث میں حق دار بنادیا گیا تھا وہ ایک عارضی انتظام تھا۔ حکم ہوتا ہے کہ دراصل میراث میں متوفی کے خونی رشتہ داروں ہی کا حق ہوتا ہے۔ ہاں مہاجرین و مومنین کے ساتھ اگر حسن سلوک مطلوب ہو تو اس بارے میں وصیت ہوسکتی ہے جو اگلے جملہ میں مذکور ہے۔
الا۔ حرف استثنائ۔ مگر۔
ان تفعلوا میں ان مصدریہ ہے۔
اولیئکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے دوست ، تمہارے رفیق۔ اولیاء ولی کی جمع ہے۔
معروفا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ دستور کے مطابق۔ اچھا سلوک۔ دستور کے مطابق بھلی بات۔
الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا۔ مگر ہاں اپنے دوستوں کے ساتھ دستور کے مطابق بھلائی کرنا جائز ہے (یعنی شرع کے مطابق ان کے ھق میں وصیت کرسکتے ہو)
فی الکتب : الکتب سے لوح محفوظ مراد ہے یا قرآن مجید۔
مسطورا۔ اسم مفعول واحد مذکر ۔ منصوب (بوجہ خبر کان) لکھا ہوا۔ شطر یسطر (باب نصر) سطر بمعنی لکھنا۔
Ayah 33:7(33:7) واذا اخدنا : ای واذکر حین اخذنا۔ وہ وقت یاد کر جب ہم نے (عہد) لیا تھا۔
میثاقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا عہد۔ ان کے ساتھ کیا ہوا عہد و پیمان (یعنی احکام شریعت کی تبلیغ اور اس کے اتباع کا وعدہ)
ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسیٰ ابن مریم۔ اور آپ سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی۔ النبیین کے بعد بالتخصیص آپ کا اور دوسرے پیغمبروں کا نام لینا ان کے اولوا العزم اور صاحب شریعت ہونے کی وجہ سے ہے اور ان کی عظمت و شان کو واضح کرنا مقصود ہے پھر آپ ﷺ کا ذکر مبارک دوسرے پیغمبروں سے قبل لانا۔ حالانکہ زمانہ کے لحاظ سے آپ بعد میں تشریف لائے آپ جناب کی دوسرے پیغمبرون پر افضلیت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ یا بقول علامہ قرطبی (رح) حضور ﷺ سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔
کنت اولہم فی الخلق واخرھم فی البعث۔ یعنی پیدائش میں سب سے پہلے تھا اور بعثت میں سب نبیوں کے بعد۔
واخذنا منھم میثاقا غلیظا : ای عھد عظیم الشان او وثیقا قویا۔ ایک نہایت عظیم وعدہ اور نہایت پختہ میثاق۔ بعض کے نزدیک یہ وعدہ اتباع و تبلیغ احکام شریعت تھا جسے حلف لے کر مزید مؤکد کردیا گیا۔ یہ جملہ بذات خود اذا اخذنا من النبیین میثاقھم کے بعد تاکید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 33:8(33:8) لیسئل میں لام کی کا مرادف ہے ۔ اور میثاق لینے کی غایت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یسئل میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف اجع ہے۔ تاکہ (آپ کا رب) پوچھے۔
الصدیقین۔ امد فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ یسئل کے مفعول ہونے کے۔ الصادقین سے مراد پیغمبر ہیں۔ لفظ الصادقین لاکر یہ خود بتادیا کہ انبیاء نے اپنا عہد پورا کیا اور وہ اپنے اقرار میں سچے تھے۔
صدقہم۔ یعنی تبلیغ رسالت و دعوۃ الی الحق کے بارے میں۔
اعد ماضی واحد مذکر غائب ۔ اعداد (افعال) مصدر جس کے معنی تیار کرنے کے ہیں۔ یہ عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں اسی اعتبار سے اعداد کے معنی کسی چیز کے اس طرح تیار کرنے کے ہیں کہ وہ شمار کی جاسکے۔
الکافرین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور۔ انکار کرنے والے ۔ حق کو نہ ماننے والے۔ صاحب وحی کے اتباع کے منکر۔
عذابا الیما۔ موصوف و صفت۔ منصوب بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے ۔
جنود۔ جند کی جمع ۔ لشکر ۔ فوجیں۔ مراد الاحزاب (گروہ۔ ٹولیاں۔ پارٹیاں ۔ قریش کی پارٹی ابو سفیان کی قیادت میں، بنو اسد کے لشکری طلیحہ کی کمان میں۔ بنو غطفان عینیہ کے تحت، بنو عامر بن طفیل کے تحت۔ بنو سلیم ، بنو نضیر، بنو قریظہ کی سپاہ اپنے اپنے سالاروں کی کمان میں۔
ریحا ۔ وجنودا دونوں بوجہ ارسلنا کے مفعول ہونے کے منصوب ہیں۔ ریح وہ ہوا متحرک ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہے۔ ریح اصل میں روح تھا۔ ما قبل کے مکسور ہونے کی بناء پر واؤ کو ی سے بدل دیا گیا۔ اصل کے اعتبار سے اس کی جمع ارواح اور کسرہ ماقبل کی بناء پر اس کی جمع ریاح ہے۔ جنودا (ملائکہ کی فوجیں)
لم تروھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنودا کے لئے ہے جن کو تم نہ دیکھ سکے۔
Ayahs 33:9–10(33:10) من فوقکم۔ تمہارے اوپر کی طرف یعنی مشرق کی طرف سے۔ من اسفل منکم تمہارے نیچے کی طرف سے یعنی مغرب کی طرف سے۔ (مدینہ کی شرقی سمت اونچی ہے اور غربی سمت نیچی) اسفل افعل التفضیل کا صیغہ ہے اور غیر منصرف لہٰذا لام پر کسرہ کی بجائے فتح ہے۔ بمعنی سب سے نیچا۔ اعلی کی ضد ہے اور سفول مصدر۔ سفل پستی۔
فسل یسفل (کرم) اور سفل یسفل (نصر) سے بمعنی ادنی ہونا۔ کمینہ ہونا۔ پست کے معنوں میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔ اور ادنی اور کمینہ کے معنوں میں : ثم رددناہ اسفل سافلین (96:5) پھر ہم نے (رفتہ رفتہ) اس کی حالت کو (بدل کر) پست سے پست کردیا۔
زاغت۔ ماضی واحد مؤنث غائب زیغ (ضرب) سے مصدر۔ زیغ کے معنی حالت استقامت سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں۔ اذا زاغت الابصار جب آنکھیں اپنی ھالت استقامت سے پھر گئیں ۔ بوجہ دہشت و حیرت کے یا دوسری تمام چیزوں سے ہٹ کر دشمن پر مزکور ہونے کی وجہ سے۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ پتھرا گئی تھیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم (61:5) جب وہ (ازخود) صحیح راہ سے ہٹ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو اسی طرف جھکا دیا۔
بلغت القلوب الحناجر۔ اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے۔ الحناجر حنجرۃ کی جمع ہے۔ حلق ، گلہ، نرخرہ، حنجر مادہ۔
تظنون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ یہاں مضارع بمعنی ماضٰ آیا ہے ۔ تم گمان کرنے لگے تھے۔ ظن (باب نصر) سے مصدر۔
باللہ میں باء الصاق کی ہے۔ اللہ کے بارے میں۔ اللہ کے متعلق ۔ اللہ کے ساتھ۔
الظنونا ۔ ظنون ظن کی جمع ہے اور الف اشباع کا ہے (یعنی الف کے ما قبل حرف کی حرکت کو پوری طرح ادا کرنے کے لئے الف کا لانا حالانکہ وہاں کی ضرورت نہ ہے یہاں الظنون میں بھی درست تھا۔
مثال : ان اباھا وابا اباھا قد بلغا فی المجد غایتاھا۔ غایتاھا اصل میں غایتھا ہے الف راعایت شعری کے لئے لایا گیا ہے۔ ترجمہ : تحقیق ان کے باپ اور ان کے باپ کا باپ بزرگی کی انتہاء کو پہنچ گئے ہیں) الظنون کے متعلق روح المعانی میں ہے الظنون جمع الظن وھو مصدر شامل للقلیل والکثیر وانما جمع للدلالۃ علی تعدد انواعہ۔
(ظنون جمع ظن کی ہے اور ظن گو مصدر ہے اور قلیل و کثیر سب کو شامل ہے تاہم جمع کو اس لئے لایا گیا ہے کہ اس کے متعدد انواع پر دلالت کرے۔ لھذا وتظنون باللہ الظنونا۔ اور تم لوگ اللہ کے متعلق طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔ مخاطبین میں مخلص اور راسخ الایمان اور منافقین سب شامل ہیں۔ گوہر فرقے کی سوچ مختلف تھی اور اندیشے بھی مختلف تھے۔
Ayah 33:11(33:11) ھنالک۔ اسم ظرف مکان و زمان۔ اس جگہ ، وہاں ۔ اس وقت۔ اس موقع پر ۔
ابتلی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ابتلاء (افتعال) مصدر، وہ آزمایا گیا اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ المؤمنون ہے لہٰذا ترجمہ ہوگا۔ اس موقعہ پر ایمان والوں کو خوب آزما لیا گیا۔
زلزلوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ وہ ہلا ڈالے گئے۔ وہ جھنجھوڑے گئے۔ زلزالا مصدر۔ زلزل یزلزل کا مصدر ہے۔ بحالت نصب۔ اس کو زلزال کی کیفیت کی شدت اور اس کی تکرار کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی ان کو بار بار جھنجھوڑا گیا۔ وہ بار بار ہلا ڈالے گئے
شدیدا بمعنی سخت۔ شد سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا سیغہ ہے زلزالا کی صفت میں آیا ہے۔
Ayah 33:12(33:12) واذا یقول المنفقون۔ اس کا عطف اذزاعت الابصار پر ہے۔ یا اس کی تقدیر یوں بھی ہوسکتی ہے اذکراذ یقول المنفقون یاد کر جب منافقین کہہ رہے تھے۔
والذین فی قلوبھم مرض اور وہ جن کے دلوں میں مرض تھا۔ اس سے مراد منافقین کے علاوہ کوئی گردہ تھا جن کی طرف منافقین مائل تھے تاکہ ان کے مشتبہ ظاہر کیا جاوے یا اس سے مرادوی ضعیف الاعتقاد مسلم تھے جو عنقریب ہی ایمان لائے تھے۔ یا اس سے مراد خود منافقین بھی ہوسکتے ہیں اور عطف محض تغایر و صف کے لئے ہے۔
ما وعدنا اللہ میں ما نافیہ ہے۔
غرورا مصدر و اسم ، جھوٹی امید۔ دھوکہ ۔ دھوکہ دینا۔ غر بھولا ۔ فریب خوردہ۔ ناتجربہ کار۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے۔
Ayah 33:13(33:13) طائفۃ۔ گروہ ۔ جماعت۔ بعض لوگ۔ کچھ لوگ، طرف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔
منھم میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب یا منافقین کے لئے یا سب کے لئے ہے (للجمیع) جن کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے
یثرب مدینہ منورہ کا پہلے یہی نام تھا۔ غیر منصرف ہیبوجہ تانیث و معرفہ) یا بوجہ معرفہ ووزن فعل۔
لا مقام لکم ٹھہرنے کہ جگہ ۔ ٹھہرنے کا موقعہ (تمہارے لئے کوئی ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہے۔
ارجعوا فعل امر جمع مذکر رجوع (باب نصر) مصدر، تم واپس پھر جاؤ ۔
ویستاذن۔ مضاع واحد مذکر غائب (مضارع بمعنی حکایت حال ماضی) اس کا عطف قالت پر ہے۔ وہ اجازت مانگنے لگا۔ یعنی ان میں سے ایک گروہ نبی کریم ﷺ سے (لڑائی سے واپس جانے ) اجازت مانگنے لگا۔
یقولون یا یستأذن سے حال ہے یا اس کی تفسیر مضارع بمعنی حکایت حال ماضی ۔
عورۃ : ای ذات عروۃ ۔ العورۃ انسان کے مقام ستر کو کہتے ہیں مگر یہ معنی کنایۃ ہیں۔ اصل میں یہ عار سے مشتق ہے۔ مظاہر ستر کے کھلنے سے بھی چونکہ عار محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے اسے عورۃ کہا جاتا ہے۔ عورت کو بھی عورت اس لئے کہا جاتا ہے کہ ام کے بےستر رہنے کو عار سمجھا جاتا ہے۔ یا ان کے مردوں کے سامنیآنے سے عار ہوتی ہے۔
ہر چیز جس کو چھپایا جائے اور کھلنے سے شرمایا جائے عورۃ کہلاتی ہے اس کی جمع عورات ہے کھلی جگہ جہاں سے جو چاہیے اند گھس جائے اسے بھی عورت کہتے ہیں ۔ اسی معنی میں اس کا استعمال آیت ہذا میں ہوا ہے ان بیوتنا عورۃ (ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے ما مبالغہ نفی کے لئے ہے اور واؤ حالیہ ہے۔
دوسری جگہ ہے قرآن مجید میں ثلاث عورات لکم (24:58) سے وہ اوقات مراد ہیں جب پردہ کیا جاتا ہے اور اس بےگہ وقت میں کسی کا اندر آجانا موجب عار ہے۔
مستعار عارضی استعمال کے لئے لائی گئی چیز کو مستعار اس لئے کہتے ہیں کہ اسے واپس لینا موجب عار سمجھا جاتا ہے۔
ان یریدون۔ میں ان نافیہ ہے۔ فرارا۔ منصوب مصدر (باب ضرب)
Ayah 33:14(33:14) ولو دخلت علیہم ۔ دخلت ماضی مجہول جس کا مفعول ، مالم یسلم فاعلہ البیوت ہے : ای ولو دخلت البیون علیہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب ان قائلین کے متعلق ہے جو کہتے تھے ان بیوتنا عورۃ۔
دخلت علیہم : دخلت علی فلان دارہ (فلاں کے خلاف اس کے گھر میں مداخلت کی گئی) سے ہے۔ بمعنی اگر ان قائلین یعنی چھٹی کی درخواست کرنے والوں کے خلاد (دشمن کی فوجیں مختلف اطراف سے ان کے گھروں میں) داخل کردی جاتیں) ۔
ثم سئلوا الفتنۃ۔ پھر (دشمن کی طرف سے) ان سے (مسلمانوں کے خلاف) فتنہ و فساد کا سوال کی جاتا۔ لاتوھا توبہ بلانامل منظور کرلیتے۔ لام تاکید ہے ھا الفتنۃ کے لئے ہے)
مطلب یہ ہے کہ اگر کہیں کافروں کا لشکر مدینہ میں (یا ان کے گھروں میں) داخل ہوجائے اور ان منافقوں سے کہے کہ آو ہم تم مل کر مسلمانوں سے مقابلہ کریں تو یہ لوگ بلاتائل آمادہ ہوجائیں۔ مسلمانوں کی ماٹھ کھڑے ہوں اور اس وقت ذرا خیال نہ کریں کہ آخراب غیر محفوظ گھروں کی کون حفاظت کرے گا۔ یہ سب ان کی انتہائی مذمت میں ارشاد ہو ریا ہے۔ (تفسیر الماجدی)
وما تلبثوابھا۔ ماضی جمع مذکر غائب تلبث (تفعل) مصدر۔ انہوں نے توقف نہ کیا۔ انہوں نے دیر نہ کی۔ وہ نہ ٹھرے ۔ انہوں نے ڈھیل نہ کی لبث مادہ۔
اس باب سے صرف اسی آیۃ میں استعمال ہوا ہے باقی جگہ قرآن مجید میں باب سمع سے آیا ہے۔ بمعنی ٹھہرنا۔ قیام کرنا۔ بھا میں ب ظرفیہ ہے اور ھا کی ضمیر بیوت کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ :۔ اور وہ (ان گھروں میں) تھوڑا وقت) ہی ٹھہرتے۔
یسیرا۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر منصوب۔ یسر مادہ ۔ تھوڑا۔ آسان۔ سہل آہستہ۔
کانوا عاھدوا۔ ماضی بعید کا صیغہ جمع مذکر گا ئب۔ انہوں نے وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ کرچکے تھے۔
یولون۔ مضارع جمع مذکر غائب تولیۃ (تفعیل ) مصدر پیٹھ دکھا کر بھاگنا۔
الادبار : دبر کی جمع ، پیٹھیں۔ لا یولون الادبار۔ (کہ) وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگیں کے۔
وکان عہد اللہ مسئولا۔ کان فعل ناقص عھد اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ۔ مسئولا : کان کی خبر۔ اور اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کی بازپرس ہوتی ہے۔
Ayahs 33:15–16(33:16) لن ینفعکم۔ مضارع نفی تاکید بلن صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تمہیں ہرگز نہیں نفع دیگا۔ (کیونکہ تقدیر کا لکھا تو ہو کر ہی رہے گا تم بستر پر ناک رگڑ رگڑ کر مرو گے یا جہاد میں شہید ہوگے۔ سب مقدر ہوچکا ہے اس سے کوئی مفر نہیں ہے)
واذا تب بھی۔ اس صورت میں بھی۔ اذا اصل میں اذن تھا وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدلا ۔ حرف جزاء ہے جملہ شرط محذوف۔ ای ان نفغکم الفرارکم یکن ذلک الا لزمان قلیل۔
لاتمتعون۔ مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو فائدہ حاصل کرنے نہیں دیا جائیگا۔ تم کو فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ تمتع (تفعل) مصدر ۔ فائدہ اٹھانا۔
قلیلا : ای زمانا قلیلا۔ بہت تھوڑی ہی مدت کے لئے یعنی عمر مقدر کا بقیہ حصہ۔
Ayah 33:17(33:17) قل ای قل یا محمد ﷺ
یعصمکم : یعصم مضارع واحد مذکر غائب عصم مصدر (باب ضرب) وہ بچائے گا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (کون) بچائے گا تم کو۔ عصمۃ۔ حفاظت۔ بچاؤ۔ گناہوں سے پاکیزگی۔
لہم۔ ان کے لئے ، اپنے لئے۔
Ayah 33:18(33:18) المعوقین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ منصوب المعوق واحد۔ روکنے والے۔ منع کرنے والے۔ العائق وہ جو لوگوں کو خیر اور بھلائی سے روکنے والا ہو لوگوں کو ان کے مقاصد سے روک کر اپنی طرف متوجہ کرنے والا۔ عاق یعوق (باب نصر) عوق وعیق مصدر۔ عاق کردینا ۔ کسی کو جائداد سے محروم کردینا۔ یعوق ایک بت کا نام ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا معبود تھا۔
وقالوا لا تذرون الہتکم ولا تذرن وداولا سواعا ولا یغوث ویعوق ونسرا (71:23) اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔
ہلم الینا۔ ہماری طرف آجاؤ۔ ہلم اسم فعل بمعنی امر ہے۔ واحد۔ تثنیہ جمع سب کے لئے آتا ہے۔ یہاں بطور فعل لازم آیا ہے لیکن بطور متعدی بھی استعمال ہوا ہے مثلاً قل ہلم شھداء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا۔ (6:15) کہو اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں۔
لا یاتون الباس (یہ لوگ) لڑائی میں نہیں جاتے۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب المعوقین والقائلین کے لئے ہے۔
قلیلا : ای لزمان قلیل۔ تھوڑے وقت کے لئے۔ بہت کم۔ برائے نام ۔
Ayah 33:19(33:19) اشحۃ۔ حریص لوگ ، کسی چیز پر توٹ پڑنے والے۔ شحیح کی جمع جس کے معنی حریص کے ہیں۔ الشح (اسم) کے معنی حرص کے ساتھ بخل کے بھی ہیں جو انسان کی عادت میں داخل ہوچکا ہے۔ ومن یوق شح نفسہ (59:9) اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا۔ اشحۃ علیکم تمہارے معاملہ میں پرلے درجے کے کنجوس اور بخیل ہیں اشحۃ یاتون کی ضمیر فاعل سے بوجہ حال ہونے کے یا المعوقین سے حال ہونے کے منصوب ہے۔
ینظرون مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ دیکھتے ہیں۔ یہ رأیتھم سے حال ہے۔ یعنی تو دیکھے گا ان کو (اس حالت میں کہ) وہ دیکھ رہے ہونگے تمہاری طرف تدورا علینھم یہ حال ہے ضمیر فاعل ینظرون سے۔ اس حالت میں کہ ان کی آنکھیں چکرا رہی تھی۔ دار یدور یدور دور (نصر) گھومنا۔ پھرنا تدور وہ پھرتی ہے وہ چکر کھاتی ہے۔ مضارع واحد مؤنث حاضر۔ مطلب یہ کہ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اس حالت میں کہ ان کو آنکھیں چکرا رہی ہوں گی۔
کالذی۔ ک تشبیہ کے لئے الذی اسم موصول ۔ اسم شخص کی مانند۔
یغشی علیہ فعل مضارع مجہول واحد مذکر غائب غشی وغشیات (سمع) غشی علیہ بیہوش ہونا۔ غشی ولا ہونا ۔ (حالت مفعولی) یغشی علیہ من الموت۔ جس پر موت کی غشی طاری ہو۔
سلقوکم : سلقوا۔ ماضی جمع مذکرغائب سلق (باب نصر) مصدر۔ سلق البیض او البقل۔ انڈے یا سبزی کو آگ ہر پانی میں جوش دینا یا ابالنا۔ سلقہ بالکلامبات سے کسی کو ایذا پہنچانا۔
السنۃ حداد۔ موصوف و صفت السنۃ جمع لسان کی زبانیں۔ حداد حدید کی جمع۔ تیز۔ (صفت۔ حددت السکین میں نے چھری کی دھار تیز کی ، ہر وہ چیز جو بلحاظ غلقت یا بلحاظ معنی کے ایک ہو۔ جیسے نگاہ اور بصیرت اس کی صفت میں الحدید کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ کہتے ہیں ھو حدید النظر وہ تیز نظر ہے اور ھو حدید انفسہم وہ تیز فہم ہے اور قرآن مجید میں ہے فبصرک الیوم حدید۔ (50:22) تو آج تیری نگاہ تیز ہے اور جب زبان بلحاظ تیزی کے لوہے کی سی تاثیر رکھتی ہو تو اس کی صفت حدید بھی آجاتی ہے ۔ السنۃ حداد تیز زبان۔
پس سلقوکم بالسنۃ حداد کا ترجمہ ہوا :۔ تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں تیز زبانی کرتے ہیں۔ یعنی سوء کلام سے آپ کو ایذاء پہنچاتے ہیں۔
اشحۃ اوپر ملاحظہ ہو۔ اشحۃ علی الخیر مال غنیمت (یا محض مال) کے معاملہ میں سخت حریص و بخیل ۔ اشحۃ ضمیر فاعل سلوکم سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب الخیر بمعنی مال : ارشاد ہے وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔
فاحبطترتیب کا ہے احبط ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ احباط (افعال) مصدر۔ اس نے ضائع کر دئیے۔ اس نے اکارت کر دئیے۔ بےکار کر دئیے۔ یسیرا۔ آسان ، سہل۔ کان کی خبر کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 33:20(33:20) یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کرتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اوپر مذکور ہوئیں۔
لم یذھبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں گئے۔ یحسبون الاحراب لم یذھبوا۔ (دشمن بھاگ گئے لیکن یہ بزدل یہی) خیال کرتے ہیں کہ (دشمنوں کے) جتھے ابھی نہیں گئے۔
یات۔ مضارع واحد مذکر غائب (اگر ب تعدیہ مفعول پر ہو تو فعل متعدی ہوگا) اتیان (باب ضرب) مصدر۔ یات اصل میں یاتی تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یاء کو حذف کیا گیا۔ ان یات اگر وہ (دوبارہ پکٹ کر) آجائیں۔
یودوا مضارع مجزوم (بوجہ جزائ) جمع مذکر غائب مودۃ مصدر۔ وہ آرزو کریں گے۔ وہ خواہش کریں گے۔ وہ چاہیں گے۔
لو۔ کاش۔
بادون : باد کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مزکر۔ بداوۃ سے جس کے معنی صحرا میں اقامت اختیار کرنے کے ہیں۔ باویہ نشین۔ باہر والے ۔ صحرا نشین۔ البدو حضر کی ضد ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے وجاء کم من البدو (12:100) آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بدو بمعنی بادیۃ (صحرا) ہے۔ بدا یبدوا بدو و بدا کے معنی نمایاں اور ظاہر آئیں۔ اسے بدو (بادیۃ) کہا جاتا ہے۔ اور البادی کے معنی صحرا نشین کے ہیں۔
الاعراب : سلکان البادیۃ خاصۃ والواحد منھم الاعرابی صحرا کے رہنے والوں کو الاعراب کہتے ہیں اس کی واحد الاعرابی ہے اس کے مقابلہ میں جو عرب شہروں میں بشنے والے ہوں ان کو عربی کہتے ہیں۔
یودوا لو انھم بادون فی الاعراب۔ وہ یہ چاہیں گے کہ کاش وہ صحرا میں بسنے والے بدوؤں میں ہوتے (جہاں دشمن کے حملے سے بچے رہتے) ۔
یسئلون عن انبائکم یہ جملہ فاعل بادون سے حال ہے۔ (وہاں سے ہی آنے جانے والوں سے دریافت کرتے ہیں کہ الاحزاب کے ہاتھوں تمارا کیا حال ہوا ، اپنی بزدلی کی وجہ سے ان میں قتل و قتال کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بھی ہمت نہ تھی چہ جائے کہ اس قتال میں وہ خود حصہ لیتے)
Ayah 33:21(33:21) اسوۃ : الاسوۃ والاسوۃ (چوں قدرۃ وقدوۃ) انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس میں دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالتاچھی ہو یا بری۔ سرور بخش ہو یا تکلیف دہ۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لاگئی ہے۔
مفسرین نے اسوۃ کے کئی معنی لئے ہیں : چال ، ڈھنگ، نمونہ، عمل، پیشوا، رہنما، امام، غمگسار، مقتدی۔
حقیقت یہ ہے کہ حضور نبی کریم سرور دو عالم ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو (انفرادی ، اجتماعی، خانگی و ملی و معاشرتی و اخلاقی) کے لئے شمع ہدایت ہے ۔ لیکن یہاں اشارہ خصوصی معرکہ جنگ میں ثبات و استقامت سے متعلق ہے۔
اس جنگ میں آپ نے محنت و مشقت کی صعوبتیں سہیں۔ بھوک و پیاس کی کلفتوں کو برداشت کیا۔ حضور کا رخ انور زخمی ہوا، دندان مبارک شہید ہوئے ، قریبی عزیز و احباء کی جانیں قربان ہوگئیں۔ لیکن ان تمام حالات میں صبر و شکر ، ثبات و استقامت کا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔ (کلام میں اس کو صنعت تجرید کہتے ہیں اور صفات سے قطع نظر کرکے صرف ایک صفت سے غرض رکھنا) اسوۃ اسم ہے ۔ اس و مادہ
یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائبرجاء مصدر (باب نصر) ۔ ڈرتا ہے۔ اندیشہ رکھتا ہے۔ یا امید رکھتا ہے (اللہ تعالیٰ سے ملنے کی اور قیامت کے آنے کی) ۔
لمن کان یرجعوا اللہ ۔۔ بدل ہے۔ لکم کا کہ مقصود مخاطبین سے وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور روز قیامت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہیں۔
مثال : قال الملا الذین استکرقوا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم (7:75) اس کی قوم کے سرداروں نے جو کہ غرور رکھتے تھے ان کمزور (لفظہ معانی ! جو کمزور خیال کئے جاتے تھے) لوگوں سے جو ایمان لائے تھے ان میں سے۔ خطاب ان سے تھا الذین استضعفوا صرف توطیہ و تمہید کے لئے آیا ہے۔
Ayah 33:22(33:22) من المؤمنین میں من تبعیضیہ ہے اور مومنین سے مراد مطلقا ان سے ہے جو اخلاص سے ایمان لائے ہوئے تھے۔
رجال صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ رجال پر تنوین تعظیم کی ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قوت و مردانگی میں بےنظیر تھے۔ یقال فلان رجل فی رجال ای کامل الرجولیۃ بینھم (المنجد) یعنی اہل ایمان میں سے ایسے جواں مرد اور پاکباز عشاق بھی ہیں ۔ جنہوں نے اپنے رب کریم سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دکھایا۔
بعض کے نزدیک یہ حضرات انس بن نضیر، عثمان بن فعان، طلحہ بن عبید اللہ، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ، حمزہ ، مصعب بن عمر وغیرہ تھے ؓ اجمعین۔ یہ حضرات بعض وجوہ کی بنا پر جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے جس کا ان کو ازحد افسوس تھا۔ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اب کوئی ایسا موقعہ آیا تو وہ اپنی جانبازی کے جوہر دکھائیں گے۔
صدقوا ما عاھدو اللہ علیہ : صدقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ صدق (باب نصر) سے مصدر۔ انہوں نے سچ کر دکھایا۔ صدق فی الحدیث سچ بولنا۔ وصدق فی الوعد۔ وعدہ پورا کرنا۔ وصدق فی القتال۔ بےجگری سے لڑنا۔
ما موصولہ ہے۔ عاھدوا اللہ علیہ۔ جس کے متعلق انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا۔ معاھدۃ (مفاعلۃ) سے۔
منھم میں بھی من تبعیضیہ ہے۔ بعض ۔ کچھ، ہم ضمیرجمع مزکر غائب ان مؤمنین کے لئے ہے جس کا اشارہ ما عاھدوا اللہ علیہ میں ہے یا رجال جو اس سے قبل مذکور ہے۔
من موصولہ ہے۔
قضی تحیہ۔ قضی ماضٰ واحد مذکر غائب قضاء (باب ضرب) قضی یقضی قضاء پورا کرنا۔ ادا کرنا۔ مثلا قضی حاجتہ اس نے ضرورت کو پورا کیا۔ قضی وطرہ اپنی مراد کو پہنچا۔ قضی الصلوۃ نماز کو ادا کرنا۔ نحب نذر کو ادا کیا۔ اس نے اپنی منت پوری کردی۔ کبھی نحب سے کنایۃ موت مراد لی جاتی ہے کیونکہ موت بھی ہر جاندار کے گلے میں نذر کی طرح لازم ہے سو قضی نحبہ یا قضی اجلہ سے مراد موت آجانا ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسے تھے جو اپنی نذر پوری کرچکے۔ یعنی شیادت پاگئے۔ (مثلاً حضرت حمزہ اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ وغیرہ)
ومنھم من (اوپر مذکور ہوا) ینظر مضارع واحد مذکر غائب انتظار (افتعال) مصدر۔ وہ انتظار میں ہے۔ وہ منتظر ہے۔
اور ان میں وہ بھی ہیں جو راہ دیکھ رہے ہیں (کہ کب شہادت کی سعادت انہیں نصیب ہو) ان میں حضرت عثمان اور حضرت طلحہ وغیرہ ؓ ہیں۔
ما بدلوا تبدیلا۔ مافتی منفی جمع مذکر غائب ، انہوں نے نہیں بدلا۔ تبدیل (تفعیل) مصدر ۔ مصدر منصوب تاکید کے لئے یالا گیا ہے۔ یعنیوی اپنے ارادہ و عہد پر ثابت قدم اور پختہ ہیں انہوں نے ہرگز اپنا ارادہ نہیں بدلا۔
تفسیر ماجدی میں ہے کہ تبدیلا تنوین تصغیر کے لئے ہے یعنی کسی نوع ، کسی قسم کی ادنی تبدیلی بھی ان میں نہیں ہوئی۔ اس جملہ کا عطف صدقوا پر ہے اور ضمیر فاعل کا مرجع منتظرین ہے۔
Ayahs 33:23–24(33:24) لیجزی۔ لام تعلیل کا ہے یجزی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے منصوب بوجہ عمل لام۔ جزاء (باب ضرب) تاکہ وہ جزا دے۔ بدلہ دے۔ اس سے قبل وقع جمیع ماوقع (یہ سب کچھ اس لئے وقوع پذیر ہوا) مقدر ہے۔
الدقین : ای الذین صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ۔ جنہوں نے اللہ کے ساتھ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کردیا۔
بصدقہم۔ باء سببیہ ہے۔ صدقہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کا اپنے عہد کو پورا کر دکھانے کا فعل۔
یعذب مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل لام تعلیل۔ تاکہ وہ عذاب دیوے۔
او یتوب علیہم۔ یا ان کو معاف کردے۔ تاب یتوب توبا (باب نصر سے مصدر اگر الیٰ کے صلہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوں گے کہ بندے کا اپنے گناہوں سے روگردانی کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ اور اگر علی کے صلہ کے ساتھ ہو تو معنی ہوگا اللہ تعالیٰ کا کسی کے گناہ معاف کرکے اس کو اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔
غفورا (بڑا معاف کرنے والا) ۔ رحیما (نہایت رحم والا) منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
Ayah 33:25(33:25) رد ماضی واحد مذکر غائب رد (باب نصر) اس نے پھیر دیا۔ اس نے لوٹا دیا۔ اس نے واپس کردیا۔ پسپا کردیا۔ (یہاں معنی ہیں نامراد پسپا کر دئیے اللہ تعالیٰ نے)
بغیظھم۔ باء مصاحبت و ملابست کی ہے بمعنی مع غیظھم مضاف مضاف الیہ غیظ ھو اشد الغضب۔ سخت غصہ ، وہ گرمی جو انتہائی غضب کے وقت دل میں محسوس ہوتی ہے۔ بغیضہم۔ اسم موصول الذین سے حال ہے۔
لم ینالوا۔ مضارع نفی جحد بلم نیل مصدر باب سمع۔ وہ نہ پاسکے۔
خیرا بھلائی۔ مراد فتح و کامیابی۔ خیرا مال بھی ہوسکتا ہے جیسا قرآن مجید میں ہے وانہ لحب الخیر لشدید (100:8) اور وہ مال کی محبت میں بہت سخت ہے) ۔ ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرا : اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جنہوں نے کفر کیا تھا واپس لوٹا دیا درآں حالیکہ وہ اپنے ہی غصہ و غضب میں کھول رہے تھے۔ اور وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے تھے۔
کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب، (باب ضرب) صیغہ ماضی کا ہے لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر و نیز اسم مصدر۔ وہ چیز جو ضرورت پوری کر دے اور اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کفی اللہ المؤمنین القتال (متعدی بدو مفعول ہے) اور اللہ ہی کافی رہا مومنوں کے لئے جنگ میں (یعنی ان کو جنگ لڑنے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ اور دشمن خود ہی اپنے غصہ میں بھرے پیٹھے ناکام واپس ہوئے
قویا (صفت مشبہ طاقتور) عزیزا (مبالغہ کا صیغہ نہایت زبردست) دونوں منصوب بوجہ خبر کان کے ہیں۔
Ayah 33:26(33:26) انزل ماضی واحد مذکر غائب انزال (افعال) سے اس نے اتارا اس نے نازل کیا۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ الذین اسم موصول ظاھروھم : ظاھروا ماضی جمع مذکر غائب مظاھرۃ (مفاعلۃ) سے باہمی معاونت کرنا۔ پشتیبانی کرنا۔ ظاھروا میں ضمیر فاعل اسم موصول الذین کے لئے ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ الاحزاب کے لئے ہے۔ من تبعیضیہ ہے اہل الکتب مضاف مضاف الیہ اہل یہود۔
الذین ظاھروہم من اہل الکتاب ۔ اہل کتاب میں سے وہ لوگ جنہوں نے دشمنوں کے جتھوں کی امداد کی تھی۔ یہ جملہ الذین کی نعمت میں جو انزل کا مفعول ہے۔ اور مراد اس سے بنو قریظہ ہیں جو اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ دوستی کے پابند تھے۔ لیکن کفار کا لشکر۔ اس کا طمطراق، امن کا سامان حرب دیکھ کر بنو نضیر (ایک اور یہودی قبیلہ) کے ایماء پر عہد شکنی کا ارتکاب کرکے لشکر کفار کے ساتھ مل گئے تھے۔
من صیاصیہم : من حرف جار ہے صیاصیہم مضاف مضاف الیہ۔ صیاصی صیصۃ کی جمع ہے بمعنی قلعہ۔ گڑھی، ہر وہ چیز جس کے ذریعہ تحفظ کیا جائے صیصۃ کہلاتی ہے۔ اسی اعتبار سے گائے کے سینگ اور مرغ کے خار کو بھی صٰصۃ بولتے ہیں۔ ص ی ص مادہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین کی طرف راجع ہے۔
مطلب یہ کہ :۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے قلعے سے باہر اتار لایا۔ (محاصرہ کے طول سے تنگ آکر وہ خود باہر آئے اور صلح کی چادر جوئی پر مجبور ہوگئے)
قذف۔ ماضی واحد مذکر غائب قذف (باب ضرب) سے مصدر۔ قذف کے اصل معنی تیر کو دور پھینکنے کے ہیں۔ پھر تیر کی شرط کو ساقط کرکے دور پھینکنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اسی بناء پر دور دراز کے شہر کو بلدۃ قذیفۃ بولتے ہیں قرآن مجید میں ہے ویقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے ان پر (انگارے) پھینکے جاتے ہیں پھر محض اتارنے یا ڈال دینے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ مثلا فاقذفیہ فی الیم (20:39) پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو ۔ یہاں آیت ہذا میں بھی ڈالنے دہشت ڈال دی۔ مجازا گالی دینا۔ تہمت زنا لگانا کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔
فریقا۔ فریق، گروہ ، (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) ایک فریق کو۔ یہاں فریق سے مراد آدمیوں کا گروہ۔ لان القتل وقع علی الرجال (کیونکہ فیصلہ یہی ہوا تھا کہ بنو قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے) مفعول کو فعل سے مقدم بوجہ اعتناء و استعظام لایا گیا
تقتلون۔ تم قتل کرتے ہو۔ تم قتل کرو گے۔ یہاں مضارع بمعنی حکایت حال ماضی آیا ہے (ایک فریق کو) تم نے قتل کردیا۔
تاسرون۔ تم اسیر کرتے ہو۔ تم قید کرتے ہو۔ اسر (باب ضرب) سے جس کے معنی قید میں باندھنے کے ہیں۔ مضارع بمعنی حکایت ماضی ۔ تم نے قید کرلیا۔ (اس میں عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے کی طرف اشارہ ہے)
Ayah 33:27(33:27) اور ثکم : اور ث ماضی واحد مذکر غائب ۔ ایراث (فعل) سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو وارث بنایا۔ اس کا عطف انزل پر ہے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے ارضہم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی۔ (بمعنی زیر کاشت اراضی مشتمل پر باغات و فصلات) دیارھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی۔ (بمعنی ان کے حصون قلعے، گڑھیاں) اموالہم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعولرابع، ان کے مال (بمعنی مویشی و نقد مال) وارضا لم تطواھا (اور زمین جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھا۔ جو بعد میں مسلمانوں کی تحویل میں آنے والے ملک تھے) لم تطوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وطی یطا (باب سمع) وطا۔ مصدر وطی الشیء برجلہ پاؤں کے نیچے روندنا۔ پامال کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ان ناشئۃ الیل ہی اشد وطا (73:6) کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے۔ لم تطوھا جس کو تم نے اپنے پاؤں تلے نہیں روندا۔ یعنی جہاں (ابھی تک) تم نے پاؤں نہیں رکھا۔ ھا ضمیر ارضا کے لئے ہے، و ط ء مادہ۔
قدیرا صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر بحالت نصب۔ نصب بوجہ خبر کان ہے۔ قدیر وہ ہے جو اقتضاء حکمت کے موافق جو چاہے کرے۔ شرعی اصطلاح میں قدیر کا اطلاق غیر اللہ پر نہیں ہوتا۔
فتعالین فاء ترتیب کا ہے۔ تعالین فعل امر جمع مؤنث حاضر۔ تعالیٰ (تفاعل) سے تعالیٰ یتعالی تعالیٰ : تعال امر کا صیغہ ہے بمعنی بلند مقام کی طرف بلانا۔ پھر ہر جگہ بلانے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی رفعت منزلت کے ہیں۔ گویا تعالوا میں رفعت منزلت کے حصول کی دعوت ہے۔ تعال : ہلم کا ہم معنی ہے۔ فتعالین تو تم آؤ۔
امتعکن امتع : متع یمتع تمتیع (تفعیل) سے مضارع کا صیغہ واحد متکلم ہے۔ تمتیع کے معنی تھوڑا بہت فائدہ پہنچانا یا تھوڑا بہت اسباب و مال دینا کے ہیں۔ کن ضمیر مفعول جمع مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔ میں تمہیں کچھ مال و متاع دیدوں ۔
اسرحکن اسرح۔ سرح یسرح تسریح (تفعیل) سے مضارع واحد متکلم ہے۔ تسریح کے معنی چھوڑنے یا رضصت کرنے کے ہیں۔ تسریح کے اصل معنی جانوروں کو چعنے کے لئے چھوڑ دینے کے ہیں۔ استعارۃ اس کے معنی طلاق دینے کے بھی ہیں۔ خود طلاق کا لفظ اطلاق الابل (اونٹ کا پائے بند کھولنا) کے محاورہ سے مستعار ہے۔
سراحا جمیلا موصوف و صفت۔ سراحا۔ رضصت کرنا۔ چھوڑنا۔ طلاق دینا۔ تسریح سے اسم ہے۔ جیسے تبلیغ سے بلاغ ہے خوبی کے ساتھ رخصت کرنا۔ اسرحکن سراحا جمیلا۔ تمہیں خوبصورتی کے ساتھ (آبرو مندانہ طریقہ سے) رخصت کروں۔
Ayahs 33:28–29(33:29) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) سے اس نے تیار کیا ہوا ہے۔ اس نے تیار کر رکھا ہے۔ اس نے تیار کیا۔ اعداد ، عد سے مشتق ہے جس کے معنی شمار کرنے کے ہیں۔ اعداد کا مطلب ہوا کہ کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔
محسنت۔ محسنۃ کی جمع ہے جو محسن سے مؤنث ہے۔ اسم فاعل جمع مؤنث ہے۔ نیکو کار عورتیں۔
منکن۔ میں من تبعیض کے لئے ہے۔ تم میں سے وہ جو نیکوکار ہیں۔
اجرا عظیما۔ موصوف و صفت نصب بوجہ اعد کے مفعول ہونے کے ہے۔
Ayah 33:30(33) 30) ینساء النبی یا حرف نداء نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے بنی کی بیبیو ! بیویو !
من شرطیہ ہے۔ جو کوئی۔
یات مضارع واحد مذکر غائب اثیان (باب ضرب) مصدر۔ یہ اصل میں یاتی تھا۔ شرط میں واقع ہونے کی وجہ سے یا حذف ہوگئی۔ یہ فعل لازم ہے بمعنی آتا ہے یا آئے گا۔ لیکن اگر اس کے بعد مفعول پر ب ہو تو متعدی ہوگا۔ اور بمعنی لاتا ہے یا لائے گا ہوگا : من یات بفاحشۃ جس کسی نے بےہودگی کا ارتکاب گیا۔
منکن میں من تبعیض کے لئے ہے کن ضمیر جمع مؤنث حاضر۔ تم عورتوں میں سے ۔
فاحشۃ مبینۃ ۔ موصوف و صفت۔ کھلی بےہودگی۔ حالت جر بوجہ عمل باء حرف جار۔
یضعف۔ مضاف مجہول مجزوم بوجہ شرط واحد مذکر غائب کا صیغہ ۔ دوگنا کیا جائے گا۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ ضعف مادہ۔ لہا میں ہا ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔
ضعفین۔ دو چند۔ دوگنا۔ ضعف کا تثنیہ۔
Ayah 33:31ومن یقنت منکن للہ ورسولہ
(33:3 1) ومن یقنت : میں وائو عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے من شرطیہ ہے یقنت مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب۔ مذکر کا صیغہ من کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ قنت یقنت (باب نصر) قنوتا۔ خشوع و خضوع کرنا۔ خاکساری کرنا۔ مطیع ہونا۔ اطاعت کرنا۔ نماز میں دعا کرنا۔ (دعائے قنوت) ومن یقنت اور جو تابعداری کرے گی ۔
منکن۔ من بیانیہ ہے تبعیض کے لئے نہیں ہے۔ کن ضمیر جمع مؤنث حاضر۔ تم میں سے۔ وتعمل۔ وائو عاطفہ ہے۔ تعمل مضارع مجزوم بوجہ شرط واحد مؤنث غائب، صیغہ تانیث رعایت معنی کے لحاظ سے۔ تعمل کا عطف یقنت پر ہے۔ اور جو عمل کرے گی۔ وتعمل عملا صالحا اور جو تم میں سے نیک عمل کرے گی !
نؤتھا۔ مضارع جمع متکلم ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جواب شرط تو ہم اس کو دیں گے۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اجرھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر نؤت کا مفعول۔ اس عورت کا ثواب ۔ اس عورت کے عمل کا اجر۔ مرتین۔ دو مرتبہ۔ دو بار۔ دو چند، دوہرا (دوسروں کی نسبت دوگنا) مثلی ثواب غیرھا۔
اعتدنا۔ ماضی جمع متکلم اعتاد (افعال) مصدر سے۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ عدد مادہ۔ اعتاد اصل میں اعداد تھا۔ دال اول کو تاء میں بدل دیا گیا ہے۔ الاعداد (افعال) کے معنی ہیں تیار کرنا۔ مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقائ۔ اور اعددت لک ھذا کے معنی ہیں۔ میں نے یہ چیز تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو حسب ضرورت اس سے لے سکتے ہو۔ اعد اور اعتد ہم معنی ہیں مثلاً واعد لہم جنت (9: 1 00) اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں اور واعتدنا لہم عذابا الیما (4: 1 8) ایسے لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اعتدنا (اعتاد) مادہ ع ت د سے بھی مشتق ہوسکتا ہے العتاد کے معنی ضرورت کی چیزوں کا ذخیرہ کرلینا ہے اور یہی معنی ہیں اعداد کے اور اعتدنا کے اور اعتدنا کا عطف نؤتھا پر ہے۔
رزقا کریما۔ موصوف وصفت۔ عمدہ نعمت۔ عزت والی روزی۔ صفت موصوف مل کر اعتدنا کا مفعول۔ رزق سے مراد محض کھانے پینے والی اشیاء ہی نہیں یہ ایک وسیع المعانی لفظ ہے۔ اور ہر قسم کی نعمتوں کو شامل ہے۔ نؤتھا۔ اجرھا اور اعتدنا لھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع اسم موصول من ہے۔
Ayah 33:32(33:32) ینساء النبی۔ یا حرف ندا نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادیٰ ۔ لستن ماضی جمع مؤنث حاضر۔ لیس سے۔ تم نہیں ہو۔ لیس فعل ناقص ہے ماضی کا معنی رکھتا ہے ماضی کی پوری گردان بھی آتی ہے لیکن مضارع امر، اسم فاعل، اسم مفعول اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اس لئے غیر منصرف کہلاتا ہے۔ دوسرے افعال ناقصہ کی طرح اس کا اسم بھی مرفوع اور خبر منصوب آتی ہے۔
کا حد من السماء ، عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح ای لیس کل واحد منکن کشخص واحد من نساء عصرکن تم میں سے کوئی ایک اپنے وقت کی عورتوں میں سے کسی ایک کی مانند نہیں ہے (یعنی تم ان سے افضل ہو بوجہ شرف زوجیت رسول اکرم ﷺ ) ۔
ان اتقین، ان حرف شرط ہے اتقیتن ماجی جمع مؤنث حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم سب پرہیزگاری کرو۔ اگر تم سب ڈرتی رہو۔ فلا تخضعن بالقول۔ فاء سببیت کا ہے لا تخضعن فعل نہی جمع مؤنث حاضر۔ پس تم نرمی اختیار مت کرو۔ تم ملائمت نہ کرو۔ خضوع مصدر (باب فتح) نرمی کرنا۔ تواضع اختیار کرنا یہاں مراد بات چیت میں ملائمت اختیار کرنا ہے ای ان استقبلتن احدا من الرجال فلا تخضعن۔ اگر تم کسی آدمی سے دوچار ہو تو کلام میں نرمی اختیار مت کرو۔
(ف) ان اتقیتن جملہ شرطیہ ہے اس کی مندرجہ دو صورتیں ہیں۔
(1) لستن کا حد من النساء جواب شرط ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اگر تم نے پرہیزگاری اختیار کی تو تم دوسری عورتوں میں سے کسی دوسری عورت کی مانند نہیں ہو (یعنی اس صورت میں تم اس سے افضل ہوگی) ۔ یا
(2) اس جملہ شرطیہ کا جواب : فلا تخضعن ہے ای ان اردتن التقوی فلا تخضعن یعنی اگر تم پرہیزگاری اختیاری کرنا چاہو تو پھر (کلام میں) ملائمت اختیار مت کرو۔
فیطمعتعقیب یا سببیت کا ہے یطمع مضارع واحد مذکر غائب طمع مصدر (باب فتح) مضارع کا نصب بوجہ جواب نہی کے ہے۔ (مبادا) وہ طمع کرنے لگے۔ لالچ کرنے لگے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الذی فی قلبہ مرض وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔
قلن۔ فعل امر جمع مؤنث حاضر۔ قول مصدر (باب نصر) تم بات کرو، تم کلام کرو۔ قولا معروفا۔ القول المعروف الذی لا تنکوہ الشریعۃ ولا النفوس : قول معروف وہ ہے کہ نہ شریعت ناپسند کرے اور نہ لوگوں کی دل آزاری کا باعث ہو۔