33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا بیشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

اے نبی کریم وقت سے پہلے وعدہ خلافی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور مکہ والوں میں سے ابو سفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابو الاعور اسلمی کا اور مدینہ کے منافقوں میں سے عبداللہ بن ابی بن سلول اور معتب بن قشیر اور جعر بن قیس کی ان باتوں میں جس کے کرنے کے لیے یہ آپ سے کہہ رہے ہیں اتباع نہ کیجیے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ (الخ) جبیر نے بواسطہ ضحاک حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے رسول اکرم ﷺ کو اس چیز پر زور دیا کہ اپنی بات سے رجوع کرلیں تو ہم آپ کو آدھے اموال دیں گے اور مدینہ منورہ میں منافقین اور یہودیوں نے آپ کو اپنے طریقہ سے رجوع نہ کرنے پر قتل کرنے کی دھمکی دی تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اے نبی اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے۔
Ayahs 33:2–3

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کی پیروی کئے جانا بیشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

اور بذریعہ قرآن کریم جس چیز کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کو وعدہ پورا کرنے اور نہ کرنے کی پوری خبر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدد فرمانے کا آپ سے وعدہ فرمایا ہے یا یہ کہ ان دشمنوں سے آپ کی حفاظت کرنے پر پورا کارساز ہے۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا یہ سب تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے

اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے یہ آیت ابو معمر جمیل بن اسد کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ قوی حافظے کی وجہ سے اس کو دو دلوں والا کہا جاتا تھا۔ اور اسی طرح تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم اظہار کرلیتے ہو حرمت ابدی میں تمہاری ماں نہیں بنا دیا یہ آیت اوس بن صامت اور ان کی بیوی خولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اسی طرح تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنا دیا۔ یہ تو صرف تمہارے کہنے کی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ حق بات بتانا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔ شان نزول : مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ (الخ) امام ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ کو کچھ وسوسہ آیا اس پر جو منافقین آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہنے لگے کہ دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک دل تمہارے ساتھ ہے اور ایک دل ان کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔ اور ابن ابی حاتم نے حضیف کے طریق سے سعید بن جبیر مجاہد اور عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ ایک کو دو دلوں والا کہا جاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن جریر نے بواسطہ قتادہ حسن سے اسی طرح روایت نقل کی ہے باقی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ شخص کہتا تھا کہ میرا ایک دل تو مجھے حکم کرتا ہے اور دوسرا دل منع کرتا ہے۔ اور نیز ابن ابی نجیح کے طریق سے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت بنی فہم کے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ بدتمیز کہتا تھا کہ میرے پیٹ میں دو دل ہیں میں ہر ایک دل سے محمد کی عقل سے زیادہ سمجھتا ہوں۔ استغفر اللہ۔ اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت جمیل بن معمد قریشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بنی جمع سے تعلق رکھتا تھا۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(مومنو !) لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

تم ان کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل اور سچائی کی بات ہے اور اگر تم ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کرنا نہ جانتے ہو تو پھر تم ان کو اپنے دینی بھائیوں کے نام کے ساتھ مثلا عبداللہ، عبدالرحمن، عبدالرحیم کہا کرو یا اپنے دوستوں کے ناموں کے ساتھ پکارو اور اگر تم سے اس چیز میں بھول چوک ہوجائے تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ جو دل سے ارادہ کر کے کرو کہ ان کے حقیقی باپوں کے علاوہ دوسروں کی طرف جان بوجھ کر منسوب کرو تو اس پر اللہ تعالیٰ تمہاری پکڑ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سابقہ گناہوں کی مغفرت فرمانے والا اور آئندہ کے لیے رحیم ہے۔ یہ آیت حضرت زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ان کو متبنے ٰ بنا رکھا تھا تو دوسرے لوگ ان کو زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا اور سیدھا طریقہ بتا دیا۔ شان نزول : اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی یعنی تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک درست بات ہے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے مسلمانوں اور مہاجرین سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو (تو اور بات ہے) یہ حکم کتاب (یعنی قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

مسلمانوں کے انتقال کرجانے کے بعد نبی اکرم ﷺ ان کی اولاد سے خود ان کی ذات سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں کیونکہ آپ کا فرمان ہے کہ مسلمان انتقال کرجائے اور عیال چھوڑے تو میں اس کا متولی ہوں اور اگر قرض چھوڑے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں یا مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارث لے لیں۔ اور رسول اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور وجوب تعظیم میں مسلمانوں کی ماؤں کی طرح ہیں۔ اور نسبی قرابت والے وراثت میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مگر یہ کہ تم نے جن سے قرض لیا ہے یا اپنے دوستوں کے لیے تہائی مال میں وصیت کرنا چاہو تو وہ جائز ہے اور رشتہ داروں کو وراثت اور دوستوں وغیرہ کو وصیت میں سے حصہ لینا یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی ہے یا یہ کہ توریت میں یہ چیز موجود ہے جس پر بنی اسرائیل عمل کرتے ہیں۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور عہد بھی ان سے پکا لیا

اور جبکہ ہم نے تمام پیغمبروں سے وعدہ لیا کہ دوسروں کو احکام پہنچائیں گے اور ان میں سب سے پہلے آپ سے اقرار لیا کہ آپ اپنی قوم کو ایمان لانے کا حکم دیں گے اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء کرام گزرے ہیں اور جو جو ان پر کتابیں نازل ہوئی ہیں سب سے اپنی قوم کو باخبر کریں گے اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) سے بھی عہد لیا کہ پہلے بعد والوں کو احکام پہنچائیں گے اور بعد والے پہلوں کی تصدیق کریں گے اور سب اپنی اپنی قوموں کو ایمان لانے کا حکم دیں گے۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے انکی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

تاکہ قیامت کے دن مبلغین سے ان کی تبلیغ کی اور اقرار وعدہ کرنے والوں سے ان کے وفائے عہد کی اور اہل ایمان سے ان کے ایمان کی تحقیق کرے۔ اور انبیائے کرام اور اللہ کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے کہ اس عذاب کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل) کئے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کا انعام و احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم سے دشمن کو سخت آندھی اور فرشتوں کی مدد سے بھگا دیا جب تم پر کفار کے بہت سے لشکروں نے چڑھائی کردی تھی پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور فرشتوں کی جماعت کو مسلط کیا اور اللہ تعالیٰ تمہاری خندق کھودنے کو دیکھ رہے تھے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا (الخ) امام بیہقی نے دلائل میں حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے غزوہ احزاب کی رات کا منظر دیکھا ہے۔ ہم سب صف بنائے ہوئے بیٹھے تھے۔ ابو سفیان اور اس کے ساتھ جو لشکر تھا وہ اوپر کی طرف تھے اور بنو قریظہ نیچے کی طرف۔ ان کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں کا خوف تھا اور اس رات سے زیادہ سخت تاریک اور سخت آندھی والی رات ہم پر کبھی نہیں آئی۔ چناچہ منافقین رسول اکرم ﷺ سے یہ کہہ کر اجازت طلب کرنے لگے کہ ہمارے گھر خالی ہیں اور حقیقت میں وہ خالی نہ تھے مگر ان منافقین میں سے جو بھی آپ سے جانے کی اجازت طلب کرتا تھا آپ اس کو اجازت دے دیتے تھے چناچہ یہ سب کے سب میدان جنگ سے نکل گئے۔ جب ہم باری باری رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا دشمن کی قوم کی خبر لاؤ۔ چناچہ میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سخت ترین آندھی ان کے لشکر میں موجود ہے اور ان کا لشکر تھوڑا سا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹا۔ اللہ کی قسم میں پتھروں کی آواز ان کے کچاو وں میں سے سن رہا تھا اور ہوا اس کے ذریعے ان کو مار رہی تھی اور وہ ایک دوسرے سے جلدی بھاگنے کو کہہ رہے تھے۔ چناچہ میں نے آکر اس قوم کی حالت بیان کردی اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اے ایمان والو اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو۔ اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں بواسطہ کثیر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمرو، عمرو مزنی سے روایت نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے غزوہ خندق کے سال خندق کھودنا شروع فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے خندق کے درمیان سے ایک سفید گول پتھر نکالا رسول اکرم ﷺ نے کھدال لے کر اس پر ایسی ماری کہ وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور اس میں سے ایسی روشنی نکلی جس سے مدینہ منورہ کے دونوں کنارے روشن ہوگئے آپ سے اس کا سبب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے پہلی مرتبہ جو اس پتھر کے مارا تو میرے سامنے حیرہ کے محلات اور مدائن کسری روشن ہوگئے اور مجھے جبریل امین نے بتلایا کہ میری امت ان مقامات پر غلبہ پائے گی اور پھر میں نے دوسری مرتبہ جو مارا تو میرے سامنے سرزمین روم میں حمر کے محلات روشن ہوگئے اور مجھے جبریل امین نے اطلاع دی کہ میری امت ان مقامات پر بھی غلبہ پائے گی اور پھر میں نے تیسری مرتبہ مارا تو صنعاء کے محلات نظر آئے اور جبریل امین نے مجھے بتایا کہ آپ کی امت ان مقامات کو بھی فتح کرے گی۔ اس پر منافقین کہنے لگے کہ کیا تم لوگوں کو تعجب نہیں ہوتا کہ یہ تم سے باتیں کرتے ہیں اور تمہیں امیدیں دلاتے اور تم سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور یہ تم سے کہتے ہیں کہ یہ مدینہ سے حیرہ کے محلات اور مدائن کسری دیکھ رہے ہیں اور یہ کہ تم ان شہروں کو فتح کرو گے۔ حالانکہ اس وقت کھدالوں سے تم خندق کھود رہے ہو مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی : واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض الخ۔ یعنی جبکہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یوں کہہ رہے تھے۔ اور جبیر بن ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت معتب بن قشیر انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جو اس بات کا کہنے والا تھا۔ اور ابن اسحاق اور بیہقی نے بھی عروہ بھی زبیر اور محمد بن کعب قرضی سے روایت نقل کی ہے کہ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ محمد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قیصر و کسری کے خزانے دکھا رہے ہیں اور ہم میں سے کوئی اطمینان کے ساتھ بیت الخلاء تک بھی نہیں جاسکتا اور اوس بن قیظی نے اپنی ایک جماعت کے ساتھ کہا کہ ہمارے گھر مدینہ منورہ سے بارہ ہیں۔ سو ہمیں اپنی عورتوں اور بچوں میں جانے کی اجازت دیجیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم کی زبانی جبکہ ان لوگوں کی وجہ سے گھبراہٹ تھی اور شدت کا عالم تھا اپنی نعمتوں کو یاد دلانے اور ان لوگوں کو کافی م ہیں ے کے بارے میں جبکہ ان منافقین کی طرف سے بدگمانی ہورہی تھی اور یہ منافقین باتیں ملا رہے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

جبکہ کفار مکہ تم پر اوپر کی طرف سے بھی چڑھ آئے تھے یعنی طلحہ بن خویلہ اسدی اور اس کے ساتھی اور نیچے کی طرف سے بھی یعنی ابو الاعور اسلمی اور اس کے ساتھی اور ابو سفیان اور اس کے ساتھی اور جبکہ منافقین کی آنکھیں خندق میں اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھیں اور ان کے دل گھبرانے لگے تھے اور اے گروہ منافقین تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ اپنے نبی کی مدد نہیں فرمائے گا۔
Ayahs 33:11–12

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

اس خوف کے موقع پر مسلمانوں کا پورا امتحان کیا گیا اور خوب مشقت اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔ اور جبکہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی اور وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا مرض ہے یعنی معتب بن قشیر اور اس کے ساتھ یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فتوحات کے بارے میں محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

اور یہ اس وقت کی بات ہے جب بنی حارثہ بن الحارث نے اپنے ساتھیوں سے خندق میں کہا کہ اے مدینہ کے لوگو لڑائی کے لیے خندق یعنی معرکہ جنگ میں ٹھہرنے کا موقع نہیں تو مدینہ لوٹ چلو۔ اور بعض بنی حارثہ کے منافقین میں سے نبی اکرم سے مدینہ منورہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور آپ سے کہ رہے تھے کہ اے نبی اللہ ہمیں گھر جانے کی اجازت دیں ہمارے گھر خالی ہیں ہمیں چوروں کا ڈر ہے۔ حالانکہ وہ خالی نہیں ہیں یہ تو صرف میدان جنگ سے بھاگنے کے لیے یہ اپنی طرف سے باتیں کر رہے ہیں۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

اور اگر منافقین پر مدینہ منورہ میں اس کے سب اطراف سے کوئی لشکر آگھسے اور ان سے شرک کا ساتھ دینے کو کہے تو یہ فورا ہی اس کو قبول کرلیں گے اور اس کے قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کریں یا یہ کہ پھر اس بات کے قبول کرنے کے بعد یہ لوگ مدینہ میں بہت ہی کم ٹھہریں۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

حالانکہ یہی لوگ غزوہ احزاب سے پہلے اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ مشرکین کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عہد توڑنے والے سے قیامت کے دن اس نقض عہد کے بارے میں بارز پرس ہوگی۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

اے نبی کریم آپ بنی حارثہ کے منافقین سے فرما دیجیے کہ تمہیں بھاگنا کچھ نفع نہیں دے سکتا اور اس صورت میں دنیاوی زندگی سے تم چند ہی دنوں کے لیے ہی فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
Ayah 33:17

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ کون ہے جو تمہیں عذاب خداوندی سے بچا سکے اگر وہ تمہیں قتل کے ذریعے سے عذاب دینا چاہے اور اگر وہ تمہیں قتل سے بچانا چاہے تو وہ کون ہے جو تم سے اللہ کے اس فضل کو روک سکے اور یہ بنی حارثہ والے عذاب خداوندی کے مقابلہ میں نہ کوئی اپنا محافظ پائیں گے کہ وہ ان کی مدد کرسکے اور نہ کوئی مددگار جو عذاب الہی سے ان کو بچا سکے۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

اللہ تعالیٰ ان منافقین میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دوسروں کو لڑائی میں جانے سے منع کرتے ہیں اور جو منافقین اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ تم مدینہ میں ہمارے پاس آجاؤ اور یہ عبداللہ بن ابی بن سلول، جد بن قیس معتب بن قشیر تھے اور ان کی تو یہ حالت ہے کہ لڑائی میں دکھاوے کے لیے آتے ہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو تمہارے حق میں بخیلی لیے ہوئے بری نیت کے ساتھ۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

اے محمد ! جب دشمن کا خوف کا کوئی موقع آجاتا ہے جیسے خندق تو آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی اور نزع کا عالم طاری ہورہا ہو۔ پھر جب دشمن کا خوف دور ہوجاتا ہے تو تمہیں طعنے دینے لگتے ہیں اللہ کی راہ میں مال صرف کرنے سے بخل کرنے کے لیے یہ لوگ پہلے ہی سے اپنے ایمان میں سچے نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سب نیکیوں کو برائی سے تبدیل کر رکھا ہے اور ان کی نیکیوں کو اکارت کردینا اللہ کے نزدیک بالکل آسان ہے۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

اور خوف اور بزدلی کے ختم ہوجانے کے بعد عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کا یہ خیال ہے کہ کفار مکہ کا لشکر ابھی تک گیا نہیں اور وہ نعوذ باللہ رسول اکرم کو شہید ہی کر کے جائے گا۔ اور اگر بالفرض کفار مکہ کے یہ لشکر پھر لوٹ آئیں تو یہی منافقین دشمن کے خوف و دہشت اور اپنی بزدلی سے یہ تمنا کرنے لگیں کہ کاش مدینہ سے کہیں باہر چلے جائیں اور مدینہ میں بیٹھے بیٹھے معرکہ خندق کے بارے میں پوچھتے رہیں۔ اور اگر تم لوگوں کے ساتھ معرکہ خندق پر جانا ہی پڑجائے تو محض نام کرنے کو تھوڑا سا لڑیں۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

تم لوگوں میں سے ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتا ہو اور ثواب و انعام کی امید رکھتا ہو اور زبان و دل کے ساتھ کثرت سے ذکر الہی کرتا ہو رسول اکرم کا ایک عمدہ نمونہ اور آپ کے ساتھ غزوہ خندق میں حاضری میں ایک بہترین اقتدا موجود تھی۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

اب اللہ تعالیٰ بااخلاص مومنین کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ان حضرات نے کفار مکہ یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی موقع ہے جس کی چند دنوں پہلے اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ تقریبا دس دن کے اندر اندر کفار کی چڑھائی ہوگی اور کفار کے لشکروں کو دیکھنے کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان پر ان کے یقین میں اور اضافہ ہوگیا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں اور ترقی ہوگئی۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

ان مومنین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا اس کو پورا کر کے دکھایا اور بعض ان میں تو وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے یا یہ کہ اپنی زندگی پوری کرچکے یعنی حضرت حمزہ اور ان کے ساتھی اور بعض آخری وقت تک اس کے پورا کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں اور ابھی تک انہوں نے اس عہد میں ذرا بھی ادل بدل نہیں کیا۔ شان نزول : مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ (الخ) امام مسلم اور ترمذی نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میرے چچا انس بن النضر غزوہ بدر سے غائب رہے اس پر انہوں نے افسوس میں تکبیر کہی اور بولے کہ رسول اکرم کو پہلا معرکہ جنگ پیش آیا اور میں اس میں شامل نہیں رہا اگر اللہ تعالیٰ مجھے رسول اکرم کے ساتھ کسی لڑائی میں شرکت کا موقع دے گا تو اللہ تعالیٰ دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ چناچہ وہ غزوہ احد میں حاضڑ ہوئے اور کفار سے خوب لڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے تو ان کے جسم پر نیزے تلوار تیر وغیرہ کے اسی (80) سے زیادہ نشانات پائے گئے اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس میں سچے اترے۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

یہ واقعہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ عہد پورا کرنے والوں کو ان کے وعدہ پورا کرنے کا صلہ دے اور منافقین اگر حالت نفاق پر مرجائیں تو ان کو سزا دے یا موت سے پہلے انہیں توبہ کی توفیق دے۔ وہ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو اس حالت میں مرجائے اس پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

اور اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ یعنی ابو سفیان اور اس کے لشکروں کو غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ ان کی کچھ بھی مراد پوری نہ ہوئی اور نہ ان کو غنیمت اور خوشی حاصل ہوئی۔ اور آندھی اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے لڑائی کی مشقت کو دور کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرمانے میں بڑی قوت والا اور کفار کو سزا دینے میں زبردست ہے۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو انکے قلعوں سے اتار دیا اور انکے دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کردیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے

اور بنو قریظہ اور نضیر بن کعب بن اشرف اور حی بن اخطب وغیرہ نے جو کفار مکہ کی مدد کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان سب اہل کتاب کو ان کے قلعوں اور محلوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کا خوف بٹھا دیا۔ اس سے پہلے یہ لوگ صحابہ کرام سے ڈرتے نہ تھے بلکہ ان سے لڑنے پر آمادہ رہتے تھے اور ان کے لڑاکا لوگوں کو تم قتل کرنے لگے اور بچوں اور عورتوں کو قید کرلیا۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور انکی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اور ان کے گھروں اور مالوں کو تمہیں غنیمت میں دلوا دیا اور سرزمین خیبر کا بھی تمہیں مالک بنا دے گا جو ابھی تک تمہاری ملکیت میں نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ فتح و نصرت ہر ایک چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کردوں

اے نبی آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مطلقہ جوڑہ دے دوں اور تمہیں سنت کے مطابق طلاق دے دوں۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ (الخ) امام مسلم، امام احمد اور امام نسائی نے ابو الزبیر کے واسطہ سے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اکرم کی خدمت میں باریابی کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوئے انہیں اجازت نہیں دی گئی پھر حضرت عمر نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی مگر ان کو بھی نہ ملی اس کے بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی۔ چناچہ دونوں اند حاضر ہوئے رسول اکرم تشریف فرما تھے اور آپ کے چاروں طرف ازواج مطہرات بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ خاموش تھے۔ حضرت عمر نے اپنے دل میں کہا کہ میں حضور سے کوئی ایسی بات کرتا ہوں کہ ممکن ہے آپ کو ہنسی آجائے، چناچہ حضرت عمر اپنی بیوی کے بارے میں کہنے لگے یا رسول اللہ اگر زید کی بیٹی مجھ سے نفقہ کا مطالبہ کرے تو میں اس کی گردن توڑ دوں یہ سن کر رسول اکرم مسکرانے لگے حتی کہ آپ کے سامنے کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ آپ نے فرمایا یہ سب جو میرے اردگرد بیٹھی ہیں یہ نفقہ ہی کی درخواست کر رہی ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق، حضرات عائشہ کو مارنے کے لیے اور حضرت عمر حضرت حفصہ کو مارنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ تم رسول اکرم سے ایسی چیز مانگ رہی ہو جو آپ کے پاس نہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اختیار کی آیت نازل فرمائی۔ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ سے ابتدا فرمائی اور فرمایا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ تم اس میں جلدی نہ کرو۔ جب تک کہ اپنے والدین سے اس بارے میں مشورہ نہ کرلو۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا وہ کیا بات ہے آپ نے ان کے سامنے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔ یہ سن کو وہ بولیں کیا اس چیز کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پسند کرتی ہوں۔
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو پسند کرتی اور جنت کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے نیک کرداروں کے لیے جنت میں اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی اس کو دونی سزا دی جائے گی اور یہ بات خدا کو آسان ہے

اے نبی کی بیوی جو کوئی تم میں سے کھلی ہوئی بےہودگی کرے گی تو تمہیں دوہری یعنی جلد اور رجم دونوں سزائیں دی جائیں گی اور یہ سزا دینا اللہ تعالیٰ کو آسان ہے۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اسکے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

اور جو کوئی تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور جو نیک کام ہیں ان کو کرے گی تو ہم اس کو اس کا ثواب دوہرا دیں گے اور ان کے لیے جنت میں ایک عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کی بیویو ! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (کسی اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے اور دستور کے مطابق بات کیا کرو

اے نبی کی بیویو تم فرمانبرداری و گناہ اور ثواب و سزا میں معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تو بولنے میں نزاکت و نرمی مت کیا کرو کہ اس سے خرابی والے کو خیال فاسد ہونے لگتا ہے اور صحیح صحیح بات کہو۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

اور اپنے گھروں میں جمی بیٹھی رہو اور گھروں سے باہر مت نکلو اور وقار سے رہو اور کفار کے دستور کے مطابق باریک لباس پہن کر زیب وزینت مت کرو اور تم پانچوں نمازوں کی پابندی رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیا کرو اور تمام نیکیوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اے پیغمبر کی گھر والیو اللہ تعالیٰ کو ان احکام سے یہ منظور ہے کہ تم سے گناہ کی آلودگی کو دور رکھے اور تمہیں نافرمانیوں سے پاک صاف رکھے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

اور تم آیات قرآنیہ اور اوامرو نواہی حلال و حرام کے احکام کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں کو جاننے والا اور تمہارے اعمال سے پورا باخبر ہے یا یہ کہ نبی اکرم نے جس وقت تمہیں طلاق دینے کا ارادہ فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے اور تمہاری نیکیوں سے واقف ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ انکے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

حضرت ام سلمہ زوجہ نبی اکرم اور نسیبہ بنت کعب الانصاریہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ خیر اور بھلائی میں اللہ تعالیٰ صرف مردوں ہی کا ذکر فرماتے ہیں عورتوں کا کچھ تذکرہ نہیں کرتے اس پر حسب ذیل آیات نازل ہوئیں۔ کہ بیشک موحد مرد اور موحد عورتیں اور توحید کا اقرار کرنے والے مرد اور توحید کا اقرار کرنے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور ایمان میں سچے مرد اور سچی عورتیں اور احکام خداوندی پر قائم رہنے والے اور تکالیف پر صبر کرنے والے اور اسی طرح احکام خداوندی پر ثابت رہنے والی اور تکالیف پر صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع و خضوع کرنے والے مرد اور خشوع و خضوع کرنے والی عورتیں اور اپنے اموال میں سے خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور زبان و قلب کے ساتھ یا یہ کہ پانچوں نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور بکثرت یاد کرنے والی عورتیں اللہ تعالیٰ ان مردوں اور عورتوں کے لیے ان کے گناہوں کی مغفرت اور جنت میں اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ شان نزول : اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ (الخ) امام ترمذی نے تحسین کے ساتھ بواسطہ عکرمہ ام امارہ اور انصاریہ سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور عرض کیا کہ میں ساری باتیں مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں عورتوں کا کسی فضیلت میں ذکر نہیں کیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی بیشک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں۔ الخ اور امام طبرانی نے اچھی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ عورتوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر خیر ہوتا ہے اور عورتوں کا نہیں ہوتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سورة آل عمران کے آخر میں ام سلمہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ اور ابن سعد سے روایت کیا ہے کہ جب ازواج مطہرات کا تذکرہ کیا گیا تو اور عورتیں کہنے لگیں کہ اگر ہم میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہمارا بھی ذکر کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

حضرت زید اور حضرت زینب کو جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے آپس میں شادی کرنے کا حکم دے دیا اب دونوں کو اس کے خلاف کرنے میں کوئی اختیار نہیں رہتا۔ اور جو حکم خداوندی میں اس کے خلاف ورزی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑا۔ شان نزول : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ (الخ) امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت زید کے لیے حضرت زینب کو نکاح کا پیغام دیا وہ سمجھیں کہ آپ اپنی ذات کے لیے پیغام دے رہے ہیں جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ آپ حضرت زید کے لیے پیغام دے رہے ہیں تو انہوں نے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان دار عورت کو گنجائش نہیں۔ الخ۔ چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد انہوں نے فورا اس چیز کو قبول کرلیا اور خود کو سپرد کردیا۔ اور ابن جریر نے عکرمہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے حضرت زینب کو حضرت زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا انہوں نے اس سے انکار کیا اور بولیں کہ میں ان سے حسب و نسب کے اعتبار سے بہتر ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ نیز ابن جریر نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے عورتوں میں سب سے پہلے ہجرت کی تھی اور انہوں نے اپنی ذات کو رسول اکرم کے حوالہ کردیا تھا آپ نے حضرت زید بن حارثہ سے شادی کردی یہ چیز ان کو اور ان کے بھائی کو ناگوار گزری اور کہنے لگے کہ ہماری منشا حضور کی تھی۔ مگر آپ نے اپنے غلام سے شادی کردی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے (اپنی) حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

اور جبکہ آپ حضرت زید سے فرما رہے تھے (جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور آپ نے بھی ان کو آزاد کر کے ان پر انعام فرمایا) کہ اپنی بیوی کو طلاق مت دو اور حق سے ڈرو اور آپ زید کے طلاق دینے کی صورت میں اپنے دل میں حضرت زینب سے نکاح کرنے کے ارادہ کو چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ بذریعہ قرآن حکیم ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں کے طعن کا بھی اندیشہ کر رہے تھے اور ڈرنا تو آپ کو اللہ ہی سے زیادہ مناسب ہے۔ چناچہ جب حضرت زید کا حضرت زینب سے جی بھر گیا اور انہوں نے ان کو طلاق دے دی اور طلاق کی عدت بھی پوری ہوگئی تو ہم نے حضرت زینب سے آپ کا نکاح کرا دیا تاکہ اس کے بعد مسلمانوں کو اپنے مونہہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے بارے میں کسی قسم کی کوئی تنگی نہ رہے، جبکہ وہ عورتیں ان کی موت یا طلاق کی عدت پوری کرچکیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم تو ہو کر ہی رہنے والا تھا۔ کہ رسول اکرم ﷺ کی حضرت زینب سے شادی ہوجائے۔ شان نزول : وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ (الخ) امام بخاری نے حضرت انس سے روایت کیا ہے یہ آیت مبارکہ حضرت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام حاکم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رسول اکرم کی خدمت میں حضرت زینب کی شکایت کرنے کے لیے آئے آپ نے فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام مسلم اور احمد و نسائی نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت زینب کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اکرم نے حضرت زید سے فرمایا کہ تم میرا پیغام نکاح زینب کو پہنچاؤ، حضرت زید ان کے پاس پہنچے اور ان کو اس چیز کی اطلاع دی، حضرت زینب نے فرمایا کہ میں جب تک اپنے پروردگار سے مشورہ نہ کرلوں کچھ نہیں کہہ سکتی یہ کہ وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوگئیں اس کے بعد قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی اور رسول اکرم بغیر اجازت کے حضرت زینب کے پاس تشریف لے گئے اور صحیح یاد ہے کہ جب رسول اکرم ان کے پاس تشریف لے گئے تو آپ نے ہمیں گوشت روٹی کھلایا تھا کھانے کے بعد سب باہر چلے آئے صرف چند آدمی مکان میں باتیں کرتے رہ گئے۔ مجبورا رسول اکرم باہر تریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ ہولیا چناچہ رسول اکرم تمام ازواج مطہرات کے حجروں کا گشت لگانے لگے پھر حضور کو لوگوں کے چلے جانے کی اطلاع دی، بہرحال حضور واپس تشریف لاکر حجرہ میں داخل ہوگئے اور میں بھی ساتھ داخل ہونا چاہتا تھا مگر حضور نے میرے اور اپنے درمیان پردہ چھوڑ دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی اور اس کے ذریعے سے جو نصیحت ہوتی تھی وہ لوگوں کو کردی۔ یعنی اے ایمان والو نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ اور امام ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم نے جب حضرت زینب سے شادی کی تو لوگ کہنے لگے کہ آپ نے اپنے لڑکے کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر ﷺ پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے انکے لئے مقرر کردیا اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم ٹھہر چکا تھا

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے حق میں بھی یہی معمول کر رکھا ہے جو رسول اکرم سے پہلے گزرے ہیں۔ چناچہ حضرت داؤد کی اور یا کی بیوی سے اور حضرت سلیمان کی بلقیس سے شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا تجویز کیا ہوا حکم ضرور پورا ہوتا ہے۔
Ayah 33:39

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(اور) جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور خدا کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے

ان حضرات کی شادی کے بارے میں بھی جو احکام خداوندی کو پہنچایا کرتے تھے یعنی داؤد و سلیمان (علیہما السلام) اور رسول اکرم اور احکام پہنچانے میں اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ حساب لینے والا کافی ہے۔
Ayah 33:40

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

رسول اکرم ﷺ حضرت زید کے باپ نہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں کہ آپ کے بعد اب کوئی بھی نبی نہ ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے قول و فعل کو خوب جانتا ہے۔