Explained with ayahs 1–3
تنبیہ
کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بےپایاں حکمت سے اس کی کوئی بات…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 3
اس فقرے میں خطاب نبی ﷺ سے بھی ہے اور مسلمانوں سے بھی اور مخالفین اسلام سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ نبی اگر اللہ کے حکم پر عمل کر کے بدنامی کا خطرہ مول لے گا اور اپنی عزت پر دشمنوں کے حملے صبر کے ساتھ برداشت کرے گا تو اللہ سے اس کی یہ وفا دارانہ خدمت چھپی نہ رہے گی۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی کی عقیدت میں ثابت قدم رہیں گے اور جو شکوک و شبہات میں مبتلا ہوں گے، دونوں ہی کا حال اللہ سے مخفی نہ رہے گا۔ اور کفار و منافقین اس کو بدنام کرنے کے لیے جو دوڑ دھوپ کریں گے اس سے بھی اللہ بیخبر نہ رہے گا۔ لہٰذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے جس جزا یا سزا کا مستحق ہوگا وہ…
Read the full tafseer →(آیت) واتبع مایوحیٰ الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیراً ، یہ پہلے ہی حکم کا تکملہ ہے کہ آپ کفار و منافقین کی باتوں میں نہ آئیں، ان کی بات نہ مانیں بلکہ جو کچھ اللہ کی طرف سے آپ کو بذریعہ وحی بتلایا گیا ہے بس آپ اور صحابہ اسی کا اتباع کریں۔ چونکہ اس خطاب میں صحابہ کرام اور عام مسلمان بھی شامل ہیں، اس لئے آخر میں بصیغہ جمع بما تعملون فرما کر تنبیہ کردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
واتبع ما یوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (2۔ 3)
اوپر جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی ہے وہی بات مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اشرار کی تمام شر انگیزیوں سے بالکل بےپروا ہو کر تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے آتی ہے اور یہ اطمینان رکھو کہ تمہارے ہر اقدام و عمل سے اللہ اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔ اس آیت میں پہلا خطاب واحد سے ہے اور دوسرا بما تعملون جمع ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے یہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کے معاملے میں یہی روش مسلمانوں کو بھی اختیار کرنی چاہیے۔
’ و توکل…
Read the full tafseer →2-1یعنی قرآن کی اور احادیث کی بھی، اس لئے کہ احادیث کے الفاظ گو نبی کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے معانی و مفہوم من جانب اللہ ہی ہیں۔ اس لئے ان کو وحی خفی کہا یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: بعض اوقات کچھ کافر لوگ حضور اقدس ﷺ سے مختلف قسم کی تجویزیں پیش کرتے تھے کہ اگر آپ ہماری فلاں بات مان لیں تو ہم آپ کی بات مان لیں گے، بعض منافقین بھی ان کی تائید کرتے کہ یہ اچھی تجویز ہے، اور اس پر عمل کرنے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، حالانکہ وہ تجویز ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہوتی تھی، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسی تجویزوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے کام میں لگے رہئیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے، وہ خود ہی سارے معاملات ٹھیک کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3)
یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 یعنی جیسے اب تک معمول رہا ہے آئندہ بھی ہمیشہ ایک اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کبھی کہا نہ مانیے۔ یہ سب مل کر خواہ کتنا ہی بڑا جتھا بنالیں، سازشیں کریں، جھوٹے مطالبات منوانا چاہیں عیارانہ مشورے دیں، اپنی طرف جھکانا چاہیں، آپ اصلاً پروا نہ کیجئے اور خدا کے سوا کسی کا ڈر پاس نہ آنے دیجئے۔ اسی اکیلے پروردگار کی بات مانیے اسی کے آگے جھکیے خواہ ساری مخلوق اکٹھی ہو کر آجائے اس کے خلاف ہرگز کسی کی بات نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ سب احوال کا جاننے والا ہے۔ وہ جس وقت جو حکم دے گا نہایت حکمت اور خبرداری سے دے گا۔ اسی میں تمہاری اصلی بہتری ہوگی۔ جب اس کے حکم پر چلتے رہو گے اور اسی پر بھروسہ…
Read the full tafseer →آیت 2 { وَّاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ } ”اور آپ ﷺ پیروی کیجیے اس ہدایت کی جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی جا رہی ہے آپ ﷺ کے رب کی جانب سے۔“
{ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا } ”یقینا اللہ ان سب باتوں سے باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 جنگ احد کے بعد مدینہ پر خوف وہراس کی فضا :۔ اگرچہ اس سورة کا اکثر حصہ جنگ (احزاب 5 ھ) کے بعد نازل ہوا تاہم ابتدائی آیات جنگ احزاب سے بہت پہلے کی ہیں۔ مکہ میں تو آپ کے اور مسلمانوں کے دشمن صرف قریش مکہ تھے۔ مگر مدینہ جانے کے بعد مدینہ کے یہود، مشرکین اور منافقین سب آپ کے دشمن بن گئے تھے۔ جو اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو عارضی طور پر شکست ہوئی تھی اس نے دشمنوں کے حوصلے بہت بڑھا دیئے تھے۔ مشرک قبائل نے دو دفعہ رسول اللہ کو دھوکا دے کر تبلیغ کے لئے قاریوں کا مطالبہ کیا اور پھر انھیں قتل کردیا۔ مدینہ پر ہر وقت خوف و…
Read the full tafseer →4۔ (اس لئے پیغمبر کی مخالفت ومزاحمت میں جو لوگ لگے ہوئے ہیں، خبردار رہیں کہ سب اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے) (آیت) ” واتبع ...... من ربک “۔ یعنی نہ خود رائی سے کام لیجئے، نہ کسی اور کے مشوروں پر کان دھرئیے۔ (آیت) ” بما تعملون “۔ سارے مخاطبین مراد ہیں۔ اور یا جمع تعظیمی ہے۔ قیل الخطاب للرسول ﷺ والجمع للتعظیم (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کامل کسی حال میں بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچ سکتا کہ تکلیفات شرعیہ اس سے ساقط ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →واتبع ما یوحی الیک من ربک . اور آپ کے رب کی طرف سے جو وحی آپ کے پاس آتی ہے اس کی
پیروی کیجئے۔ یعنی توحید و اخلاص پر قائم رہیں۔ یہ جملہ حکم تقویٰ کی تائید اور کفار کی بات ماننے کی ممانعت کی تاکید ہے۔
ان اللہ کان بما تعملون خبیرا . اور کوئی شک نہیں کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
یہ خطاب رسول اللہ اور صحابہ کو ہے کیونکہ تقویٰ کے حکم کا روئے سخن رسول اللہ اور امت سب کی طرف تھا اگرچہ صیغۂ مفرد کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس تشریح پر یہ جملہ امتثال حکم کی تاکید کا حامل ہوگا تاکہ سزا کا خوف اور جزا کی رغبت پیدا ہو اور دونوں جذبات کے زیر اثر امتثال امر کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اور بذریعہ قرآن کریم جس چیز کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کو وعدہ پورا کرنے اور نہ کرنے کی پوری خبر ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدد فرمانے کا آپ سے وعدہ فرمایا ہے یا یہ کہ ان دشمنوں سے آپ کی حفاظت کرنے پر پورا کارساز ہے۔
Read the full tafseer →وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ : یعنی منہ بولے بیٹوں کے متعلق، جاہلیت کی کسی رسم کے متعلق، یا دنیا و آخرت کی کسی بھی بات کے متعلق آپ کسی کافر یا منافق کی بات ماننے کے بجائے اس حکم کی پیروی کریں جو آپ کو آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا : تم اللہ کی وحی یعنی قرآن و سنت کی پیروی کے بارے میں جو کچھ بھی کرتے ہو، وہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ تم اس کے احکام پر خوش دلی سے عمل کرو یا تنگ دلی سے، یا عمل نہ کرو، وہ تمہیں تمہارے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
3 یہاں جمع کے ساتھ خطاب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلے تمام خطاب بھی دراصل پوری…
Read the full tafseer →آیت واتبع مایوحی الیک من ربک مراد قرآن حکیم ہے اس میں جاہلیت کے مراسم کی اتباع سے جھڑکنا ہے اور ان سے جہاد کرنے اور لا تعلق ہونے کا حکم ہے اس میں ایسی دلیل موجود ہے کہ اس کی موجودگی میں رائے کا اتباع کو ترک کردیا جائے۔ خطاب نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو ہے۔
آیت ان اللہ کان بما تعملون خبیرا عام قراءت خطاب کی تاء کے ساتھ ہے ؛ یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ سلمی، ابو عمر و اور اسحاق کی قراءت یعملون ہے یعنی غائب کا صیغہ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان : آیت بماتعملون بصیرا (الفتح) میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن جریر جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے نبی ﷺ کو دعوت اسلام سے رک جانے کا مطالبہ کیا اور یہ شرط لگائی کہ وہ اپنا مالوں میں سے ایک حصہ آپ کو دیں گے اور ان منافقوں اور مدینہ منورہ کے یہودیوں نے اس بات سے ڈرایا کہ اگر آپ اس دعوت سے نہ لوٹے تو وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی اتقی اللہ لا تطع الکفرین والمنفقین یعنی اے نبی اللہ سے ڈرے کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع الکفرین میں کافرین سے مراد ابی…
Read the full tafseer →وَّاتَّبِعْ [اور آپ ﷺ پیروی کریں ] مَا [اس کی جو ] يُوْحٰٓى [وحی کیا جاتا ہے ] اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ [آپ ﷺ کی طرف آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] كَانَ [ہے ] بِمَا تَعْمَلُوْنَ [اس کی جو تم لوگ کرتے ہو ] خَبِيْرًا [خبر رکھنے والا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور اس پر توکل کیجیے، کافروں اور منافقوں کی بات مانئے
یہاں سے سورة احزاب شروع ہو رہی ہے، اَحْزَابْ حِزْب کی جمع ہے جو گروہ کے معنی میں آتا ہے، 5 ھ میں قریش مکہ اور بہت سے قبائل اور جماعتیں سب مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ طیبہ پر چڑھ آئے تھے۔ چونکہ ان کے بہت سے گروہ تھے اس لیے اس غزوہ کا نام غزوۂ احزاب معروف ہوا۔ اور چونکہ اس موقع پر خندق بھی کھودی گئی تھی (اور ظاہری اسباب میں وہی تمام گروہوں کے حملہ سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنی) اس لیے اس غزوہ کو غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے سورة الاحزاب کا سبب نزول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین
وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔
(ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…
Read the full tafseer →4:۔ واتبع الخ یہ دوسرا امر ہے اللہ کی طرف سے آپ پر جو امور و احکام دین وحی ہورہے ہیں آپ ان کی پیروی کریں کفار اور منافقین کی باتوں کی پیروی نہ کریں اللہ تعالیٰ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے اہل ایمان کو صلاح وتقوی کی راہیں سمجھاتا ہے اور کفار و منافقین کے مکروفریب سے باخبر کردیتا ہے ان اللہ خبیر بما یعملہ کلا الفریقین فیرشدک الی ما فیہ صلاح حالک و انتظام امرک و یطلعک علی ما یعملونہ من المکائکد والمفاسد (ابو لسعود ج 6 ص 763) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
کوائف :
اس سورة کا نام سورة الاحزاب ہے جو کہ اس کی بیسیویں اور اکیسویں آیت میں آمدہ اسی لفظ سے ماخوذ ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی۔ جس کا معنی گروہ ، جماعت یا پارٹی ہوتا ہے۔ اس سورة میں ان غیر مسلم گروہوں کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر سن 5 ء میں مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سورة الفرقان سے لے کر سورة السجدۃ تک مکی سورتیں تھیں۔ سورة نور کے بعد اب یہ سورة پھر مدنی سورة ہے۔ اس سورة مبارکہ کی تہتر 37 آیات اور نو رکوع ہیں۔ یہ سورة 2821 الفاظ اور 0075 حروف پر مشتمل ہے۔
نزول :
جیسا کہ میں نے عرض کیا غزوہ احزاب سن 5 ھ میں واقع ہوا تھا اور اس کے بعد یہ سورة نازل ہوئی کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا 2 ۙ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : من ربک متعلق بیوحیٰ وکیلا تمیز للکفیٰ باللہ فاعلہ والباء زائدۃ۔
تفسیر : احزاب حزب کی جمع جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں، اس سورة میں ان جماعتوں کا بھی تذکرہ ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ پر چڑھ کر آئی تھیں اور چاروں طرف سے مدینہ طیبہ کو گھیر لیا تھا، جس کی مدافعت کے لیے حضرت ﷺ نے شہر کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم دیا تھا، اس واقعہ کو غزوئہ خندق کہتے ہیں جو شوال کے مہینے میں احد کی لڑائی کے ایک برس بعد ہجرت کے پانچویں سال میں واقع ہوا تھا، اس لیے اس سورة کا نام سورة احزاب ہوگیا۔
یہ سورة بقول ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ مدینہ میں نازل ہوئی ہے، بعض روایتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سورة میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یٰٓـاَیُّـھَاالنَّبِیُّ اَتَّقِ اللّٰہَ وَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰـفِـقِیْنَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ وَّاتَّبِعْ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 1 تا 3)
(اے نبی ! اللہ سے ڈریں اور کفار اور منافقین کی باتوں پر کان نہ دھریں، بیشک اللہ علیم اور حکیم ہے۔ اور پیروی کیجیے اس چیز کی جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اور اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ )
خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ السجدۃ کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ ہٹ دھرم لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے الاحزاب کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہٹ دھرم اور جاہلوں سے صرف اعراض ہی نہیں کرنا بلکہ ان کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہیں لانا۔ لہٰذاے نبی ﷺ آپ کو ہر حال میں وحی الٰہی کی اتباع کرنا ہے۔
مکہ معظمہ میں آپ کے مخالف مشرکین تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ کا واسطہ، یہود اور منافقوں سے پڑا۔ جو صبح و شام آپ کے خلاف سازشیں کرتے اور نئے سے نیا الزام لگاتے اور اسے پھیلاتے رہتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب ؓ کا نکاح اپنے متبنّٰی بیٹے زید ؓ بن حارثہ کے ساتھ کیا تاکہ مسلم معاشرے میں…
Read the full tafseer →2: وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (اور اتباع کریں اس حکم کی جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے وحی کے ذریعہ بھیجا جانا ہے) تقویٰ پر ثابت قدمی اور کفار و منافقین کی عدم اطاعت میں۔ اِنَّ اللّٰہَ (بیشک اللہ تعالیٰ ) وہ ذات ہے جو آپ کی طرف وحی بھیجتا ہے۔ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (وہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے) وہ انے اور تمہارے اعمال سے پہلے سے باخبر ہے۔
ایک قول یہ ہے :
تعملونؔ کو جمع لائے کیونکہ اتبع سے مراد آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ ہیں۔
قراءت : ابوعمرو نے یاء سے یعملون پڑھا ہے مطلب یہ ہوگا منافقین اور کفار تمہارے خلاف جو مکر و تدابیر کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →2، واتبع مایوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا، ابوعمرہ کی قرأت میں ، یعملون خبیرا، ہے اور، یعملون بصیرا، یاء کے ساتھ ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 تا 3۔ ان آیتوں میں اللہ کے رسول اور امت کے لوگوں کو تقویٰ کا کافروں اور رمنا فقوں کے مشورہ کے نہ ماننے کا اور ہر کام میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر آدمی نافرمانی کو چھوڑدے اور ثواب کی امید پر اس کی عبادت کرے پھر فرمایا اللہ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کے حکموں کو مانو اور اس کی تابعداری کرو اور ہر کام میں اللہ ہی پر بھروسہ کرو کہ وہی بندوں کے سب کام بنانے والا انجام کار سے خبردار صاحب حکمت ہے ‘ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد مدینہ کے منافق جو بات کہتے تھے وہ اسلام کے برخلاف ہوتی تھی مثلا سورة الانعام میں گزر چکا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الاحزاب
آیت نمبر : 3 ۔ 1
یعنی اے وہ ہستی ! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی ‘ اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ اس کے اوامرو نواہی پر عمل کیجیے ‘ اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے ‘ اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچایے اور تمام تمام مخلوق کی خیر خواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹاسکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کرسکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت…
Read the full tafseer →4 وحی الہی کی اتباع و پیروی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ پیروی کرتے ہیں اس وحی کی جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے آپ کے رب کی طرف سے "۔ سو وحی ربانی کی اتباع و پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ اس ارشاد ربانی میں کامیابی کی دو عظیم بنیادوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک یہ کہ ہمیشہ اتباع و پیروی کرتے رہو اور دوسرے یہ کہ پیروی بھی اس وحی کی جائے جو بھیجی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے کہ اس میں کسی خطا و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ سو وحی خداوندی کی اتباع و پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی کفیل وضامن اور فوز و فلاح کی شہ کلید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورت کے چار اہم نکات
تشریح : جو احکامات ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو دیے جا رہے ہیں ان پر آنحضرت ﷺ تو پہلے ہی بڑی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ اصل میں یہ احکامات انسانی زندگی کی اصلاح اور معاشرے کی بہبود کے لیے اس قدر ضروری اور اہم ہیں کہ ان کو تاکید کی شکل دینے کے لیے دہرایا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو مخاطب کر کے حکم دینے کا مطلب یہی ہے کہ تمام انسان ان احکامات کو غور سے سنیں اور ہمیشہ ان پر سختی سے عمل کریں۔
پہلا حکم : ” اللہ سے ڈرتے رہو “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس قدر عظیم و کبیر، حکمت والا اور طاقت والا ہے کہ تمام کائنات اسی کی پیدا کی ہوئی اسی کے حکم سے چل رہی ہے اور اسی کے حکم سے ختم ہوجائے گی۔ یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 3 کہ ” ایک دل میں ایمان و اخلاص ہو اور دوسرے میں کفر و نقاق “ کفر و اسلام اور ایمان و نفاق بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ صاحب ” و جیز “ لکھتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت کو توجہ الی اللہ اور توکل کا حکم دیا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ آدمی کے دو دل نہیں جو ایک اللہ کی طرف متوجہ کرے اور ایک غیر کی طرف، بلکہ دل ایک ہے سو اللہ تعالیٰ کی طرف لگانا چاہیے۔ ( حاشیہ جامع البیان) ۔4 یعنی جس طرح ایک سینہ میں دو دل نہیں ہوسکتے اور نہ بیوی ” ظہار “ کرنے یعنی ” انت علی کظھر امی “ کہہ دینے سے اس کی حقیقی ماں بن جاتی ہے، اسی طرح کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(33:2) اتبع۔ فعل امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ اتباع (افتعال) مصدرتبع مادہ۔ تو پیروی کر۔ تو اتباع کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر ( ا تا 3) ۔
اتق (توڈر۔ تقویٰ اختیار کر) ۔ لا تطع (پیچھے نہ چل۔ اطاعت نہ کر) ۔ اتبع (تو پیروی کر۔ کہنا مان) ۔ یو حی (وحی کی گئی) ۔ توکل (بھروسہ کر۔ توکل کر) ۔ وکیل (کام بنانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” حضرت آدم (علیہ السلام) سے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب کے سب معصوم ہیں۔ وہ اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں نہ تو وہ گناہ کرتے ہیں نہ ان سے گناہ کا ارتکاب ممکن ہے بلکہ ان کی طرف گناہ کی نسبت کرنا بھی گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو پوری زندگی اور اس کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ آپ نے تقویٰ اور خوف الہی کے ساتھ زندگی گذاری ہے۔ لیکن پھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول :
ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاسود سلمی جنگ احد کے بعد مدینہ طیبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی سلول کے یہاں مقیم ہوئے نبی ﷺ سے گفتگو کے لیے امان حاصل کرکے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات وعزی منات وغیرہ بوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرمادیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لیے ہے اور ہم لوگ آپ کو، آپ کے رب کو کچھ نہ کہیں گے ۔ تو نبی ﷺ کو ان کی گفتگو ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو نبی نے قتل کی اجازت نہ دی ، اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لیے قتل نہ کرو، مدینہ شریف سے نکال دو ، چناچہ…
Read the full tafseer →2۔ اور آپ کے پروردگار کی جانب سے جو حکم آپ کی طرف بھیجا گیا ہے اور جو وحی آپ کی جانب کی گئی ہے آپ اس کی اتباع اور پیروی کیجئے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان تمام کاموں سے با خبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے ، یعنی آپ تو صرف اس کا اتباع کیجئے جو وحی آپ کی جانب کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اتق اور لا تطع اور اتبع اور توکل ان سب امرو نہی پر آپ پہلے ہی سے عامل ہیں، یہاں زیادہ مقصود مخالفین کو سنان ہے کہ ہمارے نبی تو اس حالت پر رہیں گے تم خائب و خاسر ہو کر بیٹھ رہو۔
Read the full tafseer →تفسیر :2 قرآن کریم کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ بار بار نبی کریم ﷺ ہی کو مخاطب کرکے بات کرتا ہے اگرچہ وہ بات ہر ایک مسلمان کو سمجھانا مقصود اصل ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہی اصول پیش نظر تھا اور زیر نظر آیت میں بھی یہی بات پیش نظر رکھ کر بات کی جارہی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو بتایا جارہا ہے کہ اگر ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم پر عمل کرکے بدنامی کا خطرہ مول لے گا اور اپنی ذاتی عزت پر دشمنوں کے حملے صبر کے ساتھ برداشت کرے گا تو اللہ رب العزت سے اس کی یہ وفادار انہ خدمت چھپی نہیں رہے گی۔ اس نے جو کچھ کیا محض اللہ کی رضا کے لئے کیا اور اس چیز کی اتباع کی جو اس کی طرف…
Read the full tafseer →What is said in verse وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (And follow what is revealed to you from your Lord. Surely Allah is All-Aware of what you do.) is actually a complement of the first order. It means: Do not be beguiled or taken in by what the disbelievers and hypocrites say and do not agree or yield to it. Instead of all that, whatever you have been told by Allah through walhy (revelation) remains the only thing you and your…
Read the full tafseer →3 This sentence is addressed to the Holy Prophet as well as to the Muslims and the opponents of Islam. It means : "If the Prophet earns defamation by acting according to the Command of Allah, and bears patiently the attacks of the enemy on his honour, his devoted and sincere services will not remain hidden from Allah. . The state of the Muslims who remain steadfast in their loyalty to the Prophet and of those who are involved in doubts and suspicions will be known to Allah. And AIlah will also not remain unaware of the attempts of the disbelievers and the hypocrites who try to defame the…
Read the full tafseer →