Explained with ayahs 1–3
تنبیہ
کی ایک موثر صورت یہ بھی ہے کہ بڑے کو کہا جائے تاکہ چھوٹا چوکنا ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات تاکید سے کہے تو ظاہر ہے کہ اوروں پر وہ تاکید اور بھی زیادہ ہے۔ تقویٰ اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ثواب کے طلب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے۔ اور فرمان باری کے مطابق اس کے عذابوں سے بچنے کے لئے اس کی نافرمانیاں ترک کی جائیں۔ کافروں اور منافقوں کی باتیں نہ ماننا نہ ان کے مشوروں پر کاربند ہونا نہ ان کی باتیں قبولیت کے ارادے سے سننا۔ علم وحکمت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے چونکہ وہ اپنے وسیع علم سے ہر کام کا نتیجہ جانتا ہے اور اپنی بےپایاں حکمت سے اس کی کوئی بات…
Read the full tafseer →سورة الْاَحْزَاب 4
اس فقرے کے مخاطب پھر نبی ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ کو ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔ جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجانا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے۔ اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیل ارشاد کرنی چاہیے۔ اللہ اس کے لیے بالکل کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے۔ وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی، اور وہی اس امر…
Read the full tafseer →و توکل علی اللہ وکفیٰ باللہ وکیلاً ، یہ بھی اسی حکم کی تکمیل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں اور اپنے مقصد کی کامیابی میں صرف اللہ پر بھروسہ کریں کہ وہی کافی کارساز ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی کی رواداری کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ
آیات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ امور دین میں کفار سے مشورہ لینا بھی جائز نہیں۔ دوسرے امور جن کا تعلق تجربہ وغیرہ سے ہو ان میں مشورہ لینے میں مضائقہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
واتبع ما یوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (2۔ 3)
اوپر جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی ہے وہی بات مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اشرار کی تمام شر انگیزیوں سے بالکل بےپروا ہو کر تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی جانب سے آتی ہے اور یہ اطمینان رکھو کہ تمہارے ہر اقدام و عمل سے اللہ اچھی طرح باخبر رہتا ہے۔ اس آیت میں پہلا خطاب واحد سے ہے اور دوسرا بما تعملون جمع ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے یہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین کے معاملے میں یہی روش مسلمانوں کو بھی اختیار کرنی چاہیے۔
’ و توکل…
Read the full tafseer →3-1اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔
3-2ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: بعض اوقات کچھ کافر لوگ حضور اقدس ﷺ سے مختلف قسم کی تجویزیں پیش کرتے تھے کہ اگر آپ ہماری فلاں بات مان لیں تو ہم آپ کی بات مان لیں گے، بعض منافقین بھی ان کی تائید کرتے کہ یہ اچھی تجویز ہے، اور اس پر عمل کرنے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، حالانکہ وہ تجویز ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہوتی تھی، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسی تجویزوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے کام میں لگے رہئیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے، وہ خود ہی سارے معاملات ٹھیک کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یایھا النبی اتق اللہ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (1 – 3)
یہ اس سورة کا آغار ہے جس میں اس نئے اسلامی معاشرے کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ یہ آغاز ہی بتاتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے اور وہ قواعد اور اصول کیا ہیں جن پر اسلامی نظام عملا قائم ہے۔ وہ تصورات کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے ضمیر و اخلاق پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسلام محض ہدایات اور وعظ نہیں ہے۔ نہ اسلام محض چند اخلاقی تعلیمات کا نام ہے ، نہ اسلام صرف قوانین کا مجوعہ ہے۔ نہ وہ محض رسم و رواج کا نام ہے۔ اسلام دراصل مذکورہ بالا تمام چیزوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن یہ سب چیزیں بھی اسلام نہیں ہیں ۔ اسلام دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 یعنی جیسے اب تک معمول رہا ہے آئندہ بھی ہمیشہ ایک اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کبھی کہا نہ مانیے۔ یہ سب مل کر خواہ کتنا ہی بڑا جتھا بنالیں، سازشیں کریں، جھوٹے مطالبات منوانا چاہیں عیارانہ مشورے دیں، اپنی طرف جھکانا چاہیں، آپ اصلاً پروا نہ کیجئے اور خدا کے سوا کسی کا ڈر پاس نہ آنے دیجئے۔ اسی اکیلے پروردگار کی بات مانیے اسی کے آگے جھکیے خواہ ساری مخلوق اکٹھی ہو کر آجائے اس کے خلاف ہرگز کسی کی بات نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ سب احوال کا جاننے والا ہے۔ وہ جس وقت جو حکم دے گا نہایت حکمت اور خبرداری سے دے گا۔ اسی میں تمہاری اصلی بہتری ہوگی۔ جب اس کے حکم پر چلتے رہو گے اور اسی پر بھروسہ…
Read the full tafseer →آیت 3 { وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔ ”اور آپ ﷺ اللہ پر توکل ّکیجیے۔ اور اللہ کافی ہے توکل کے لیے۔“
یعنی آپ ﷺ کو لوگوں کی طرف سے منفی پراپیگنڈے کا جو اندیشہ ہے اسے نظر انداز کردیجیے اور اللہ پر توکل اور بھروسہ کیجیے جس کا سہارا آپ ﷺ کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →1۔ الف یعنی تمہارے دشمن جیسی بھی باتیں بناتے ہیں اور جو الزام بھی آپ پر دھرتے ہیں دھرنے دو ۔ تمہارا کام فقط یہ ہے کہ وحی کا حکم بجا لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھو۔ ان دشمنوں سے نمٹنا یا ان کی سازشوں اور چالوں کو ناکام بنانا میرا کام ہے۔
Read the full tafseer →5۔ یہاں یہ بتادیا کہ کافر ہو یا منافق کسی کی بھی پیغمبر سے تدبیر مخالفت اللہ کے مقابلہ میں چل نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیت نمبر 1 تا 8
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے نبی اللہ سے ڈرتے رہئے یعنی اس کے تقویٰ پر قائم رہئے اور کافروں اور منافقوں کی وہ باتیں نہ مانئے جو آپ کی شریعت کے خلاف ہوں اللہ تعالیٰ ہونے والی شئ کا اس کے ہونے سے پہلے علم رکھتے ہیں اور جو چیز پیدا فرماتے ہیں اس کے بارے میں حکیم ہیں اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم اپ کی طرف بذریعہ وحی یعنی بذریعہ قرآن بھیجا جاتا ہے آپ اس پر چلتے رہئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے ایک قراءت میں تائے فو قانیہ کے ساتھ ہے اور آپ اپنے معاملہ میں اللہ ہی پر توکل رکھئے اور اللہ کارسازی کے اعتبار…
Read the full tafseer →و توکل علی اللہ . اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھئے۔
وکفی باللہ وکیلا . اور (تمام امور کا) اللہ پورا ذمہ دار ہے اور اس کی ذمہ داری کافی ہے۔ یہ حکم تَوَکُّل کا تتمہ ہے۔
زجاج نے کہا : یہ جملہ خبریہ ہے لیکن امر کے معنی میں ہے یعنی بمعنی انشاء ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذمہ داری کافی ہے ‘ آپ اس پر پورا کافی اعتماد رکھیں یعنی اللہ کی قدرت کامل ہے ‘ اس کا علم کامل ہے اور اس کی رحمت کاملہ ہے۔ تمام امور اسی کے سپرد ہیں ‘ کسی دوسرے کو سپرد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ (تمام باتیں جانتے ہوئے بھی) کوئی اپنے امور کو کسی غیر کے سپرد کرتا ہے تو وہ احمق ہے ‘ سبک سر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
اور بذریعہ قرآن کریم جس چیز کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ اس پر عمل کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کو وعدہ پورا کرنے اور نہ کرنے کی پوری خبر ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدد فرمانے کا آپ سے وعدہ فرمایا ہے یا یہ کہ ان دشمنوں سے آپ کی حفاظت کرنے پر پورا کارساز ہے۔
Read the full tafseer →ۙوَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے نتیجے میں کفار و منافقین کی طرف سے جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے، اس کی پروا مت کریں، اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ اس کے سپرد جو کام کر دیاجائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔
Read the full tafseer →آیت و توکل علی اللہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجئے وہی تیرا دفاع کرے گا اور جو آدمی تیرا ساتھ چھوڑ جائے وہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ آیت وکفی باللہ وکیلا، وکیل کا معنی نگہبان ہے۔ اہل شام کے ایک شیخ نے کہا : بنو ثقیف کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ایک سال تک لات سے انہیں متمتع ہونے دیں یہی وہ طاغیہ ہے جس کی بنو ثقیف عبادت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی : تاکہ قریش ہمارے اس مقام و مرتبہ کو جان لیں جو ہمارا آپ کے ہاں ہے تو نبی کریم ﷺ نے اس کا ارادہ کرلیا، تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ جن باتوں میں خوف کھاتے ہیں ان تمام امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ابن جریر جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے نبی ﷺ کو دعوت اسلام سے رک جانے کا مطالبہ کیا اور یہ شرط لگائی کہ وہ اپنا مالوں میں سے ایک حصہ آپ کو دیں گے اور ان منافقوں اور مدینہ منورہ کے یہودیوں نے اس بات سے ڈرایا کہ اگر آپ اس دعوت سے نہ لوٹے تو وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی اتقی اللہ لا تطع الکفرین والمنفقین یعنی اے نبی اللہ سے ڈرے کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع الکفرین میں کافرین سے مراد ابی…
Read the full tafseer →وَّتَوَكَّلْ [اور آپ ﷺ بھروسہ رکھیں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [اللہ پر ] وَكَفٰي بِاللّٰهِ [اور کافی ہے اللہ ] وَكِيْلًا [بطور کارساز کے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور اس پر توکل کیجیے، کافروں اور منافقوں کی بات مانئے
یہاں سے سورة احزاب شروع ہو رہی ہے، اَحْزَابْ حِزْب کی جمع ہے جو گروہ کے معنی میں آتا ہے، 5 ھ میں قریش مکہ اور بہت سے قبائل اور جماعتیں سب مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ طیبہ پر چڑھ آئے تھے۔ چونکہ ان کے بہت سے گروہ تھے اس لیے اس غزوہ کا نام غزوۂ احزاب معروف ہوا۔ اور چونکہ اس موقع پر خندق بھی کھودی گئی تھی (اور ظاہری اسباب میں وہی تمام گروہوں کے حملہ سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنی) اس لیے اس غزوہ کو غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں حضرت ابن عباس ؓ سے سورة الاحزاب کا سبب نزول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آغاز سورت بحکم تقویٰ و توکل وتحذیر از موافقت کفار منافقین
وتنبیہ برکید وعداوت مخاد عین و جواب از بعض مطاعن مخالفین برائے تسلیہ نبی کریم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین۔۔۔ الی۔۔۔ کان ذلک فی الکتب مسطورا۔
(ربط) گذشتہ سورت کے ختم پر کافروں سے اعراض کا اور انتظار کا حکم دیا گیا فاعرض عنہم وانتظر انہم منتظرون اور کافروں ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر کی دھمکی دی گئی اب اس سورت میں غزوہ احزاب میں اللہ تعالیٰ کی غیبی فتح ونصرت کا ذکر کر کے یہ بتلاتے ہیں کہ جس فتح ونصرت کے وعدہ کا آپ ﷺ کو انتظار تھا وہ پورا ہوگیا اور وہ آپ کے سامنے آگیا اور کافروں کو…
Read the full tafseer →5:۔ و توکل الخ۔ یہ تیسرا امر ہے۔ آپ بلا خوف و خطر توحید کی تبلیغ کرتے جائیں اور اگر کوئی ڈر خطرہ ہو تو اللہ پر بھروسہ کریں اور اپنے تمام معاملات خدا کے سپرد کریں اس سے بہتر کوئی کارساز اور حافظ و ناصر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
کوائف :
اس سورة کا نام سورة الاحزاب ہے جو کہ اس کی بیسیویں اور اکیسویں آیت میں آمدہ اسی لفظ سے ماخوذ ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی۔ جس کا معنی گروہ ، جماعت یا پارٹی ہوتا ہے۔ اس سورة میں ان غیر مسلم گروہوں کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر سن 5 ء میں مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سورة الفرقان سے لے کر سورة السجدۃ تک مکی سورتیں تھیں۔ سورة نور کے بعد اب یہ سورة پھر مدنی سورة ہے۔ اس سورة مبارکہ کی تہتر 37 آیات اور نو رکوع ہیں۔ یہ سورة 2821 الفاظ اور 0075 حروف پر مشتمل ہے۔
نزول :
جیسا کہ میں نے عرض کیا غزوہ احزاب سن 5 ھ میں واقع ہوا تھا اور اس کے بعد یہ سورة نازل ہوئی کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ 0 ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا 3
وكل
والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال :
تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51]
( و ک ل) التوکل ( تفعل )
اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : من ربک متعلق بیوحیٰ وکیلا تمیز للکفیٰ باللہ فاعلہ والباء زائدۃ۔
تفسیر : احزاب حزب کی جمع جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں، اس سورة میں ان جماعتوں کا بھی تذکرہ ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ پر چڑھ کر آئی تھیں اور چاروں طرف سے مدینہ طیبہ کو گھیر لیا تھا، جس کی مدافعت کے لیے حضرت ﷺ نے شہر کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم دیا تھا، اس واقعہ کو غزوئہ خندق کہتے ہیں جو شوال کے مہینے میں احد کی لڑائی کے ایک برس بعد ہجرت کے پانچویں سال میں واقع ہوا تھا، اس لیے اس سورة کا نام سورة احزاب ہوگیا۔
یہ سورة بقول ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ مدینہ میں نازل ہوئی ہے، بعض روایتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سورة میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
یٰٓـاَیُّـھَاالنَّبِیُّ اَتَّقِ اللّٰہَ وَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰـفِـقِیْنَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ وَّاتَّبِعْ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلاً ۔ (الاحزاب : 1 تا 3)
(اے نبی ! اللہ سے ڈریں اور کفار اور منافقین کی باتوں پر کان نہ دھریں، بیشک اللہ علیم اور حکیم ہے۔ اور پیروی کیجیے اس چیز کی جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جارہی ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اور اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔ )
خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ السجدۃ کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ ہٹ دھرم لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے الاحزاب کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہٹ دھرم اور جاہلوں سے صرف اعراض ہی نہیں کرنا بلکہ ان کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہیں لانا۔ لہٰذاے نبی ﷺ آپ کو ہر حال میں وحی الٰہی کی اتباع کرنا ہے۔
مکہ معظمہ میں آپ کے مخالف مشرکین تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ کا واسطہ، یہود اور منافقوں سے پڑا۔ جو صبح و شام آپ کے خلاف سازشیں کرتے اور نئے سے نیا الزام لگاتے اور اسے پھیلاتے رہتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب ؓ کا نکاح اپنے متبنّٰی بیٹے زید ؓ بن حارثہ کے ساتھ کیا تاکہ مسلم معاشرے میں…
Read the full tafseer →3: وَّ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور تم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو) اپنا معاملہ اس کے سپرد کرو اور اس کی تدبیر کے حوالے کردو۔
وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (اور اللہ تعالیٰ کافی کا رساز ہے) محافظ ہے ہر معاملہ اسی کے حوالہ ہے۔
قول زجاج (رح) :
یہ الفاظ اگرچہ خبر کے ہیں مگر ان کا معنی انشاء کا ہے ای اکتف باللہ وکیلا محفوظ ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ پر اکتفاء کرو۔
Read the full tafseer →3، و توکل علی اللہ ، اللہ (کے دین) کی رسی کو مضبوطی سے تھا مے رکھو۔ یعنی اللہ پر مکمل بھروسہ کرو۔ ، وکفی باللہ وکیلا، اور وہی تمہارامحافظ ہے وہی تمہارے رزق کا کفیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 تا 3۔ ان آیتوں میں اللہ کے رسول اور امت کے لوگوں کو تقویٰ کا کافروں اور رمنا فقوں کے مشورہ کے نہ ماننے کا اور ہر کام میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر آدمی نافرمانی کو چھوڑدے اور ثواب کی امید پر اس کی عبادت کرے پھر فرمایا اللہ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کے حکموں کو مانو اور اس کی تابعداری کرو اور ہر کام میں اللہ ہی پر بھروسہ کرو کہ وہی بندوں کے سب کام بنانے والا انجام کار سے خبردار صاحب حکمت ہے ‘ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد مدینہ کے منافق جو بات کہتے تھے وہ اسلام کے برخلاف ہوتی تھی مثلا سورة الانعام میں گزر چکا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الاحزاب
آیت نمبر : 3 ۔ 1
یعنی اے وہ ہستی ! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی ‘ اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ اس کے اوامرو نواہی پر عمل کیجیے ‘ اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے ‘ اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچایے اور تمام تمام مخلوق کی خیر خواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹاسکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کرسکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت…
Read the full tafseer →5 اور کافی ہے اللہ کارسازی کیلئے : پس توکل اور بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھا جائے کہ اس کی کارسازی کے ساتھ نہ کسی اور کی کارسازی کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے ڈرنے کی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا علم بھی کامل ہے اور اس کی حکمت بھی کامل، اور وہ ہر چیز پر قادر اور اس سے پوری طرح باخبر بھی ہے تو پھر اس کے در کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جھکنے کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جب اس وحدہ لاشریک کے سوا دوسری کوئی بھی ہستی ایسی نہیں جو اس شان کی مالک ہو تو پھر اس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جس پر بھروسہ اور اعتماد کیا جائے۔ سو بھروسہ اور اعتماد کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ مگر افسوس کہ دین کی ان واضح تعلیمات کے باوجود آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورت کے چار اہم نکات
تشریح : جو احکامات ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کو دیے جا رہے ہیں ان پر آنحضرت ﷺ تو پہلے ہی بڑی سختی سے پابندی کرتے تھے۔ اصل میں یہ احکامات انسانی زندگی کی اصلاح اور معاشرے کی بہبود کے لیے اس قدر ضروری اور اہم ہیں کہ ان کو تاکید کی شکل دینے کے لیے دہرایا گیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو مخاطب کر کے حکم دینے کا مطلب یہی ہے کہ تمام انسان ان احکامات کو غور سے سنیں اور ہمیشہ ان پر سختی سے عمل کریں۔
پہلا حکم : ” اللہ سے ڈرتے رہو “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس قدر عظیم و کبیر، حکمت والا اور طاقت والا ہے کہ تمام کائنات اسی کی پیدا کی ہوئی اسی کے حکم سے چل رہی ہے اور اسی کے حکم سے ختم ہوجائے گی۔ یہ سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الاحزاب
آیات 1 تا 8
اسرارو معارف
کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 3 کہ ” ایک دل میں ایمان و اخلاص ہو اور دوسرے میں کفر و نقاق “ کفر و اسلام اور ایمان و نفاق بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ صاحب ” و جیز “ لکھتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت کو توجہ الی اللہ اور توکل کا حکم دیا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ آدمی کے دو دل نہیں جو ایک اللہ کی طرف متوجہ کرے اور ایک غیر کی طرف، بلکہ دل ایک ہے سو اللہ تعالیٰ کی طرف لگانا چاہیے۔ ( حاشیہ جامع البیان) ۔4 یعنی جس طرح ایک سینہ میں دو دل نہیں ہوسکتے اور نہ بیوی ” ظہار “ کرنے یعنی ” انت علی کظھر امی “ کہہ دینے سے اس کی حقیقی ماں بن جاتی ہے، اسی طرح کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ…
Read the full tafseer →(33:3) توکل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ (اس کا تعدیہ بذریعہ علی ہوتا ہے) توکل (تفعل) مصدر تو بھروسا کر۔ تو اعتماد کر۔ تو توکل کر۔
کفی باللہ وکیلا : کفی یکفی (ضرب) کفایۃ کافی ہونا۔ کاف (صفت) کافی ۔ کفیتہ شرعدوہ۔ میں نے اس کو اس کے دشمن کے شر سے بچا دیا۔ کفی کے فاعل پر حرف باء زائد بھی آتا ہے جیسے آیت ہذا میں کفی باللہ وکیلا یعنی اللہ کی وکالت دوسرے کسی کی وکالت سے بےنیاز کردیتی ہے۔ لفظ اللہ حالت رفعی میں ہے اور وکیلا تمیز ہے۔
(وکالت : کوئی کام کسی کو سونپنا یا اس کے سپرد کرنا)
ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (یہ ایک حقیقت ہے جو اکثر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر ( ا تا 3) ۔
اتق (توڈر۔ تقویٰ اختیار کر) ۔ لا تطع (پیچھے نہ چل۔ اطاعت نہ کر) ۔ اتبع (تو پیروی کر۔ کہنا مان) ۔ یو حی (وحی کی گئی) ۔ توکل (بھروسہ کر۔ توکل کر) ۔ وکیل (کام بنانے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر (1 تا 3) ۔ ” حضرت آدم (علیہ السلام) سے نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب کے سب معصوم ہیں۔ وہ اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں نہ تو وہ گناہ کرتے ہیں نہ ان سے گناہ کا ارتکاب ممکن ہے بلکہ ان کی طرف گناہ کی نسبت کرنا بھی گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو پوری زندگی اور اس کا ایک ایک لمحہ گواہ ہے کہ آپ نے تقویٰ اور خوف الہی کے ساتھ زندگی گذاری ہے۔ لیکن پھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول :
ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاسود سلمی جنگ احد کے بعد مدینہ طیبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی سلول کے یہاں مقیم ہوئے نبی ﷺ سے گفتگو کے لیے امان حاصل کرکے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات وعزی منات وغیرہ بوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرمادیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لیے ہے اور ہم لوگ آپ کو، آپ کے رب کو کچھ نہ کہیں گے ۔ تو نبی ﷺ کو ان کی گفتگو ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو نبی نے قتل کی اجازت نہ دی ، اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لیے قتل نہ کرو، مدینہ شریف سے نکال دو ، چناچہ…
Read the full tafseer →3۔ اور آپ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھیے اور اسی پر توکل کیجئے اور اللہ تعالیٰ با اعتبار کار ساز ہونے کے کافی ہے اور اللہ تعالیٰ بس ہے کام بنانے والا ۔ یعنی آپ اللہ پر توکل رکھیئے جیسا کہ آپ کیا کرتے ہیں ہمیشہ ایسا ہی توکل اور بھروسہ رکھا کیجئے اللہ تعالیٰ کار ساز اور کام بنانے کو کافی اور بس ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی، اس لئے کچھ اندیشہ نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو ، وہی سب کا کارساز اور نگہبان حقیقی ہے
3) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام آیا ہے اس کے مطابق عمل کرنا ہے اور یہی اصل الاصول ہے ، لوگوں کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو صاحب حکم حکم دے رہا ہے ان لوگوں کی حالت سے وہ ہر حال میں باخبر ہے ، وہ مخالفت کریں گے اور کس قدر مخالفت کریں گے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ ہاں ! آپ کی جو مخالفت کرتا ہے آپ اس کی بھی مخالفت برائے مخالفت نہ کریں گے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ ہاں ! آپ کی جو مخالفت کرتا ہے آپ اس کی بھی مخالفت برائے مخالفت نہ کریں بلکہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتے ہوئے اپنا کام کیے چلے جائیں جب آدمی کو یقین…
Read the full tafseer →Once again, the last statement: وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا (And place your trust in Allah and Allah is enough as a guardian- 3) is also a complement of the same order. Here it is being said: As for your approach, just pay no heed to what they say and, in order to succeed in your objective, you should trust no one but Allah for He, in Himself and by Himself, is the ultimate doer, maker and fixer of all matters and things. With Him there, you do not need to acquiesce in the opinion of anyone.
Ruling
The cited verse proves that, in religious matters, even…
Read the full tafseer →4 The addressee of this sentence is again the Holy Prophet. He is being instructed to the effect "Carry out the duty that is being entrusted to you with full confidence in Allah, and do not care at all even if the whole world turns hostile to you." When a man comes to know with certainty that a certain Command has been given by Allah, he should have the satisfaction that his whole well-being and his good lies in its compliance. Then, it is not for him to see and understand its wisdom, but he should carry it out with full confidence in Allah. Allah is enough for him that the servant should…
Read the full tafseer →