Ayahs 33:1–31 یعنی جیسے اب تک معمول رہا ہے آئندہ بھی ہمیشہ ایک اللہ سے ڈرتے رہئے اور کافروں اور منافقوں کا کبھی کہا نہ مانیے۔ یہ سب مل کر خواہ کتنا ہی بڑا جتھا بنالیں، سازشیں کریں، جھوٹے مطالبات منوانا چاہیں عیارانہ مشورے دیں، اپنی طرف جھکانا چاہیں، آپ اصلاً پروا نہ کیجئے اور خدا کے سوا کسی کا ڈر پاس نہ آنے دیجئے۔ اسی اکیلے پروردگار کی بات مانیے اسی کے آگے جھکیے خواہ ساری مخلوق اکٹھی ہو کر آجائے اس کے خلاف ہرگز کسی کی بات نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ سب احوال کا جاننے والا ہے۔ وہ جس وقت جو حکم دے گا نہایت حکمت اور خبرداری سے دے گا۔ اسی میں تمہاری اصلی بہتری ہوگی۔ جب اس کے حکم پر چلتے رہو گے اور اسی پر بھروسہ رکھو گے تمہارے سب کام اپنی قدرت سے بنا دے گا۔ تنہا اسی کی ذات بھروسہ کرنے کے لائق ہے۔ جو سارے دل سے اس کا ہو رہا دوسری طرف دل نہیں لگا سکتا۔ دوسرا دل ہو تو دوسری طرف جائے لیکن سینہ میں کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کافر چاہتے تھے اپنی طرف نرم کرنا اور منافق چاہتے تھے اپنی چال سکھانا اور پیغمبر کو صرف اللہ پر بھروسہ ہے۔ اس سے زیادہ دانا کون۔ "
Ayah 33:42 یعنی جس طرح ایک آدمی کے سینہ میں دو دل نہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کی حقیقۃً دو مائیں یا ایک بیٹے کے دو باپ نہیں ہوتے۔ جاہلیت کے زمانہ میں کوئی بیوی کو ماں کہہ دیتا تو ساری عمر کے لئے اس سے جدا ہوجاتی۔ گویا اس لفظ سے وہ حقیقی ماں بن گئی۔ اور کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تو سچ مچ بیٹا سمجھا جاتا تھا اور سب احکام اس پر بیٹے کے جاری ہوتے تھے۔ قرآن کریم نے اس لفظی و مصنوعی تعلق کو حقیقی اور قدرتی تعلق سے جدا کرنے کے لئے ان رسوم و مفروضات کی بڑی شدو مد سے تردید فرمائی۔ اس نے بتلایا کہ بیوی کو ماں کہہ دینے سے اگر واقعی وہ ماں بن جاتی ہے تو کیا یہ دو ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ؟ ایک وہ جس نے اول جنا تھا، اور دوسری یہ جس کو ماں کہہ کر پکارتا ہے۔ اسی طرح کسی نے زید کو بیٹا بنا لیا تو ایک باپ تو اس کا پہلے سے موجود تھا جس کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے۔ کیا واقعی اب یہ ماننا چاہیے کہ یہ دو باپوں سے الگ الگ پیدا ہوا ہے۔ جب ایسا نہیں تو حقیقی ماں باپ اور اولاد کے احکام ان پر جاری نہیں کئے جاسکتے۔ چناچہ بیوی کو ماں کہنے کا حکم سورة تحریم میں آئے گا۔ اور لے پالک (منہ بولے بیٹے) کا حکم آگے بیان ہوتا ہے۔ ان دو باتوں کے ساتھ تیسری بات (بطور تمہید و تشریح کے) یہ بھی سنا دی کہ ایسی باتیں زبان سے کہنے کی بہتیری ہیں جن کی حقیقت واقع میں وہ نہیں ہوتی جو الفاظ میں ادا کی جاتی ہے جیسے کسی غیر مستقل مزاج یا دوغلے آدمی کو یا کسی قوی الحفظ اور قوی القلب یا ایسے شخص کو جو ایک وقت میں دو مختلف چیزوں کی طرف متوجہ ہو کہہ دیتے ہیں کہ اس کے دو دل ہیں، حالانکہ سینہ چیر کر دیکھا جائے تو ایک ہی دل نکلے گا۔ اسی طرح ماں کے علاوہ کسی کو ماں یا باپ کے سوا کسی کو باپ یا بیٹے کے سوا کسی کو بیٹا کہہ دینے سے واقع میں وہ نسبت ثابت نہیں ہوجاتی جو بدون ہمارے زبان سے کہے قدرت نے قائم کردی ہے۔ لہذا مصنوعی اور حقیقی تعلقات میں خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔
Ayah 33:53 یعنی ٹھیک انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف کی جائے کسی نے " لے پالک " بنا لیا تو وہ واقعی باپ نہیں بن گیا یوں شفقت و محبت سے کوئی کسی کو مجازاً بیٹا یا باپ کہہ کر پکار لے وہ دوسری بات ہے۔ غرض یہ ہے کہ نسبی تعلقات اور ان کے احکام میں اشتباہ و التباس واقع نہ ہونے پائے۔ ابتدائے اسلام میں نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو آزاد کر کے متبنّٰی کرلیا تھا۔ چناچہ دستور کے موافق لوگ انھیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارنے لگے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی سب زید بن حارثہ کہنے لگے۔
4 یعنی اگر باپ معلوم نہ ہو تو بہرحال تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں ان ہی القاب سے یاد کرو۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے زید بن حارثہ کو فرمایا۔ " انـــت اخوانا ومولانا۔ "
5 یعنی بھول کر یا دانستہ اگر غلط کہہ دیا کہ فلاں کا بیٹا فلاں، وہ معاف ہے بھول چوک کا گناہ کسی چیز میں نہیں، ہاں ارادہ کا ہے۔ اس میں بھی اللہ چاہے تو بخش دے۔
Ayah 33:66 مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نور اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبر ﷺ ہوئے۔ بنا بریں مومن (من حیث ھو مومن) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے حرکت فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پیشتر اس کو پیغمبر ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور ــــ اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اس سے بھی بمراتب بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چناچہ سنن ابی داؤد میں " انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ۔ " اور ابی بن کعب وغیرہ کی قرآت میں آیت " اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ الخ کے ساتھ وھو اب لھم " کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں غور کرو تو اس کا حاصل یہ ہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے ؟ یقینا امتی کا ایمان و روحانی وجود نبی کی روحانیت کبریٰ کا ایک پر تو اور ظل ہوتا ہے اور شفقت و تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اسکا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی تھی۔ لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت و تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اپنی نہیں کرسکتا۔ اسی لئے پیغمبر ﷺ کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان و مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور اگر نبی حکم دے دے تو فرض ہوجائے۔ " ان ہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔
7 یعنی دینی مائیں ہیں تعظیم و احترام میں اور بعض احکام میں جو ان کے لئے شریعت سے ثابت ہوں۔ کل احکام میں نہیں۔
8 حضرت کے ساتھ جنہوں نے وطن چھوڑا، بھائی بندوں سے ٹوٹے، آپ نے ان مہاجرین اور انصار مدینہ میں سے دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بنادیا تھا۔ بعدہ مہاجرین کے دوسرے قرابتدار مسلمان ہوگئے تب فرمایا کہ قدرتی رشتہ ناطہ اس بھائی چارہ سے مقدم ہے میراث وغیرہ رشتہ ناطے کے موافق تقسیم ہوگی۔ ہاں سلوک احسان ان رفیقوں سے بھی کئے جاؤ۔
9 یعنی قرآن میں یہ حکم ہمیشہ کو جاری رہا۔ یا تورات میں بھی ہوگا یا " کتاب " سے " لوح محفوظ " مراد ہو۔
Ayah 33:71 یعنی یہ قول وقرار کہ ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرے گا۔ اور دین کے قائم کرنے اور حق تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے گا۔ " آل عمران " میں اس میثاق کا ذکر ہوچکا ہے۔ " حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اوپر پیغمبر ﷺ کے حق میں فرمایا تھا کہ مومنین پر ان کی جان سے زیادہ تصرف رکھتا ہے، یہاں اشارہ کردیا کہ یہ درجہ نبیوں کو اس لئے ملا کہ ان پر محنت (اور ذمہ داری بھی) سب سے زیادہ ہے۔ اکیلے ساری خلق سے مقابل ہونا اور کسی سے خوف ورجاء نہ رکھنا۔ " پیغمبروں کے سوا کس کا کام ہوسکتا ہے۔ یہ پانچ پیغمبر جن کے نام یہاں خصوصیت سے لئے اولوالعزم پیغمبر کہلاتے ہیں۔ ان کی ہدایت کا اثر ہزاروں برس رہا اور جب تک دنیا ہے رہے گا۔ ان میں پہلے نام لیا ہمارے نبی کا حالانکہ عالم شہادت میں آپ کا ظہور سب کے بعد ہوا ہے۔ مگر درجہ میں آپ ﷺ سب سے پہلے ہیں، اور وجود بھی آپ کا عالم غیب میں سب سے مقدم ہے۔ کما ثبت فی الحدیث۔
Ayah 33:81 یعنی قول وقرار کے مطابق ان پیغمبروں کی زبانی اپنے احکام خلق کو پہنچائے اور حجت تمام کر دے تب ہر ایک سے پوچھ پاچھ کرے گا، تاکہ سچوں کا سچائی پر قائم رہنا ظاہر ہو اور منکروں کو سچائی سے انکار کرنے پر سزا دی جائے۔ آگے جنگ احزاب کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے سچے پیغمبر اور مومنین اور ان کے ظاہری ثمرات و نتائج ذکر کیے ہیں۔
Ayah 33:93 یعنی فرشتوں کی فوجیں جو کفار کے دلوں میں رعب ڈال رہی تھیں۔
4 ہجرت کے چوتھے پانچویں سال یہود بنی نضیر جو مدینہ سے نکالے گئے تھے (اس کا ذکر سورة " حشر " میں آئے گا) ہر قوم میں پھرے۔ اور ابھار اکسا کر قریش مکہ، بنی فزارہ اور غطفان وغیرہ قبائل عرب کی متحدہ طاقت کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہوگئے۔ تقریباً بارہ ہزار کا لشکر جرار پورے سازو سامان سے آراستہ اور طاقت کے نشہ میں چور تھا، یہود " بنی قریظہ " جن کا ایک مضبوط قلعہ مدینہ کی شرقی جانب تھا پہلے سے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کئے ہوئے تھے۔ نضیری یہود کی ترغیب و ترہیب سے آخرکار وہ بھی معاہدات کو بالائے طاق رکھ کر حملہ آوروں کی مدد کے لئے کھڑے ہوگئے۔ مسلمانوں کی جمعیت کل تین ہزار تھی۔ جن میں ایک بڑی تعداد ان دغاباز منافقوں کی تھی جو سختی کا وقت آنے پر جھوٹے حیلے بہانے کر کے میدان جنگ سے کھسکنے لگے۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ فرمایا۔ آخر حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے شہر کے گرد جدھر سے حملہ کا اندیشہ تھا خندق کھودی گئی۔ سخت جاڑے کا موسم تھا غلہ کی گرانی تھی بھوک کی وجہ سے صحابہ ؓ اور خود سرور عالم ﷺ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے۔ مگر عشق الٰہی کے نشہ میں سرشار سپاہی اور ان کے سالار اعظم اس سنگلاخ زمین کی کھدائی میں حیرت انگیز قوت اور ہمت مردانہ کے ساتھ مشغول تھے۔ مجاہدین پتھریلی زمین پر کدال مارتے، اور کہتے
" نحن الذین با یعوا محمدا علی الجھاد ما بقینا ابدا۔ "
ادھر سرکار محمدی سے جواب ملتا۔
" اللھم لا عیش الاعیش الاخیرۃ فاغفر للانصار والمھاجرۃ "
خندق تیار ہوگئی تو اسلامی لشکر نے دشمن کے مقابل مورچے جما دیے۔ تقریباً بیس پچیس روز تک دونوں فوجیں آمنے سامنے پڑی رہیں۔ درمیان میں خندق حائل تھی۔ باوجود کثرت تعداد کے کفار سے بن نہ پڑا کہ شہر پر عام حملہ کردیتے۔ البتہ دور سے تیر اندازی ہوتی رہی اور گاہ بگاہ فریقین کے خاص خاص افراد میدان مبارزت میں بھی دو دو ہاتھ دکھانے لگتے تھے۔ مشرکین اور یہود بنی قریظہ کے درمیان مسلمانوں کی جمعیت محصورین کی حیثیت رکتی تھی تاہم انہوں نے سب عورتوں بچوں کو شہر کی مضبوط و محفوظ حویلیوں میں پہنچا کر خود بڑی پا مردی اور استقامت کے ساتھ شہر کی حفاظت و مدافعت کا فرض انجام دیا۔ آخرکار نعیم ابن مسعود الاشجعی کی ایک عاقلانہ اور لطیف تدبیر سے مشرکین اور یہود بنی قریظہ میں پھوٹ پڑگئی، ادھر کفار کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کا غیر مرئی لشکر مرعوب کر رہا تھا۔ اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ نے ایک رات سخت خوفناک جھکڑ ہوا کا چلا دیا۔ پروا ہوا سے ریت اور سنگریزے اڑ کر کفار کے منہ پر لگتے تھے۔ ان کے چولھے بجھ گئے، دیگچے زمین پر جا پڑے، کھانے پکانے کی کوئی صورت نہ تھی۔ ہوا کے زور سے خیمے اکھڑ گئے گھوڑے چھوٹ کر بھاگ گئے لشکر پریشان ہوگیا، سردی اور اندھیری ناقابل برداشت بن گئی۔ آخر ابو سفیان نے جن کے ہاتھ میں تمام لشکروں کی اعلیٰ کمان تھی طبل رحیل بجا دیا۔ ناچار سب اٹھ کر بےنیل و مرام واپس چل دیے۔ (وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ ۭ وَكَان اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا) 33 ۔ الاحزاب :25) یہ جنگ " احزاب " کہلاتی ہے اور اسے " جنگ خندق " بھی کہتے ہیں۔ سخت جاڑے کے موسم اور فاقہ کشی کی حالت میں خندق کھودنا اور اتنے دشمنوں کے بیچ میں گھر کر لڑائی لڑنا یہ وہ حالات تھے جن میں منافق دل کی باتیں بولنے لگے اور مومن ثابت قدم رہے۔ اسی جنگ میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب آئندہ ہم کفار پر چڑھائی کریں گے وہ ہم پر چڑھ کر نہ آسکیں گے۔ چناچہ یہی ہوا۔
Ayah 33:105 یعنی مدینہ کی شرقی جانب سے جو اونچی ہے اور غربی جانب سے جو نیچی ہے۔
6 یعنی دہشت و حیرت سے آنکھیں پھرنے لگیں اور لوگوں کے تیور بدلنے لگے۔ دوستی جتانے والے لگے آنکھیں چرانے۔
7 یعنی خوف و ہراس سے دل دھڑک رہے تھے گویا اپنی جگہ سے اٹھ کر گلے میں آلگے۔
8 یعنی کوئی کچھ سمجھتا تھا کوئی کچھ اٹکلیں لڑا رہا تھا۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ اس مرتبہ اور سخت آزمائش آئی، دیکھیے کیا صورت پیش آئے۔ کچے ایمان والوں نے خیال کیا کہ بس جی اب کی بار نہیں بچیں گے۔ منافقین کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آگے ان کے مقولے آرہے ہیں۔
Ayah 33:119 حضرت حذیفہ کو آپ نے دشمن کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا۔ اس کا مفصل قصہ حدیث میں پڑھو تو اس جھڑ جھڑانے کی کیفیت کا کچھ اندازہ ہو۔ یہاں ترجمہ کی گنجائش نہیں۔
Ayah 33:1210 بعض منافق کہنے لگے کہ پیغمبر ﷺ کہتے تھے کہ میرا دین مشرق و مغرب میں پھیلے گا اور فارس، روم، صنعاء کے محلات مجھ کو دیے گئے۔ یہاں تو مسلمان قضائے حاجت کو بھی نہیں نکل سکتے۔ وہ وعدے کہاں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے اب بھی ناامیدی کے وقت بےایمانی کی باتیں نہ بولیں۔
Ayah 33:1311 " یثرب " مدینہ طیبہ کا پرانا نام تھا۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری سے " مدینۃ النبی " ہوگیا۔
1 یعنی سارے عرب ہمارے دشمن ہوئے تو ہم کو رہنے کا ٹھکانا کہاں۔ سب لشکر سے جدا ہو کر گھر لوٹ چلو۔ اور حضرت لشکر کے ساتھ باہر کھڑے تھے۔ شہر میں مضبوط حویلیوں کے ناکے بند کر کے زنانے ان میں رکھ دیے تھے۔ یہ بہانہ کرنے لگے کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں کہیں چور گھس کر لوٹ نہ لیں۔ اور یہ محض جھوٹ بات بنائی تھی۔ غرض یہ تھی کہ بہانہ کر کے میدان سے بھاگ جائیں۔ چناچہ جو اجازت لینے آیا آپ اجازت دیتے رہے کچھ پروا تکثیر سواد کی نہ کی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف تین سو نفوس قدسیہ آپ کے ساتھ باقی رہ گئے۔
Ayah 33:142 یعنی جھوٹے حیلے بنا رہے ہیں۔ اگر فرض کرو یہ لوگ شہر میں ہوں اور کوئی غنیم ادھر ادھر سے گھس آئے پھر ان سے مطالبہ کرے کہ دین اسلام چھوڑ دو ۔ جسے بظاہر یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں، یا کہے کہ مسلمانوں سے لڑو اور فتنے فساد برپا کرو۔ اس وقت ان کا جھوٹ صاف کھل جائے، فوراً ان مطالبات کی تائید میں نکل پڑیں۔ نہ گھروں کے کھلے ہونے کا عذر کریں نہ لٹنے کا۔ بس بات چیت کرنے اور ہتھیار اٹھا کر لانے میں جو تھوڑی دیر لگے گی اسے مستشنٰی کر کے ایک منٹ کا توقف نہ کریں۔ اسلام کے ظاہری دعوے سے دستبردار ہو کر فوراً فتنہ و فساد کی آگ میں کود پڑیں۔
Ayah 33:153 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جنگ احد کے بعد انہوں نے اقرار کیا تھا کہ پھر ہم ایسی حرکت نہ کریں گے۔ " اس کی پوچھ اللہ کی طرف سے ہوگی کہ وہ قول وقرار کہاں گیا۔
Ayah 33:164 یعنی جس کی قسمت میں موت ہے وہ کہیں بھاگ کر جان نہیں بچا سکتا۔ قضائے الہٰی ہر جگہ پہنچ کر رہے گی اور اگر ابھی موت مقدر نہیں تو میدان سے بھاگنا بےسود ہے۔ کیا میدان جنگ میں سب مارے جاتے ہیں اور فرض کرو بھاگنے سے بچاؤ ہی ہوگیا تو کتنے دن ؟ آخر موت آنی ہے اب نہیں چند روز کے بعد آئے گی اور نہ معلوم کس سختی اور ذلت سے آئے۔
Ayah 33:175 یعنی اللہ کے ارادے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ نہ کوئی تدبیر اور حیلہ اس کے مقابلہ میں کام دے سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اسی پر توکل کرے اور ہر حالت میں اسی کی مرضی کا طلبگار رہے۔ ورنہ دنیا کی برائی بھلائی یا سختی نرمی تو یقیناً پہنچ کر رہے گی۔ پھر اس کے راستہ میں بزدلی کیوں دکھائے اور وقت پر جان کیوں چرائے جو عاقبت خراب ہو اور دنیا کی تکلیف ہٹ نہ سکے۔
6 یعنی عرب کی مخالفت سے ڈرتے ہو، اگر اللہ حکم دے تو مسلمان اب تم کو قتل کر ڈالیں۔
Ayah 33:187 یعنی ظاہری وضع داری اور دکھاوے کو شرما شرمی کبھی میدان میں آکھڑے ہوتے ہیں ورنہ عموماً گھروں میں بیٹھے عیش اڑاتے اور اپنی برادری کے لوگوں کو بھی جو سچے مسلمان ہیں جہاد میں آنے سے روکتے رہتے ہیں۔
Ayah 33:198 یعنی مسلمانوں کا ساتھ دینے سے دریغ رکھتے ہیں اور ہر قسم کی ہمدردی و بہی خواہی سے بخل ہے۔ ہاں غنیمت کا موقع آئے تو حرص کے مارے چاہیں کہ کسی کو کچھ نہ ملے سارا مال ہم ہی سمیٹ کرلے جائیں۔ اسی احتمال پر لڑائی میں قدرے شرکت بھی کرلیتے ہیں۔
1 یعنی آڑے وقت رفاقت سے جی چراتے ہیں، ڈر کے مارے جان نکلتی ہے اور فتح کے بعد آکر باتیں بناتے اور سب سے زیادہ مردانگی جتاتے ہیں اور مال غنیمت پر مارے حرص کے گرے پڑتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق طعن وتشنیع سے زبان درازی کرتے ہیں۔
2 یعنی جب اللہ و رسول پر ایمان نہیں تو کوئی عمل مقبول نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جہاں حبط اعمال کا ذکر ہے تو فرمایا کہ یہ اللہ پر آسان ہے۔ یعنی بظاہر اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کو دیکھتے ہوئے تعجب ہوتا ہے اور یہ بات بھاری معلوم ہوتی ہے کہ وہ کسی کی محنت کو ضائع کر دے۔ لیکن اس لئے بھاری نہیں رہتی کہ خود عمل ہی کے اندر ایسی خرابی چھپی ہوتی ہے جو کسی طرح اس کو درست نہیں ہونے دیتی۔ جیسے بےایمان کا عمل کہ ایمان شرط اور روح ہے ہر عمل کی، بدون اس کے عمل مردہ ہے پھر قبول کس طرح ہو۔ کافر کتنی ہی محنت کرے سب اکارت ہے۔
Ayah 33:203 یعنی کفار کی فوجیں ناکامیاب واپس جا چکیں لیکن ان ڈرپوک منافقوں کو ان کے چلے جانے کا یقین نہیں آتا۔ اور فرض کیجئے کفار کی فوجیں پھر لوٹ کر حملہ کردیں تو ان کی تمنا یہ ہوگی کہ اب وہ شہر میں بھی نہ ٹھہریں جب تک لڑائی رہے کسی گاؤں میں رہنے لگیں اور وہیں دور بیٹھے آنے جانے والوں سے پوچھ لیا کریں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔ لڑائی کا نقشہ کیسا ہے۔
4 یعنی باتوں میں تمہاری خیرخواہی جتائیں اور لڑائی میں زیادہ کام نہ دیں۔ محض مجبوری کو برائے نام شرکت کریں۔
Ayah 33:215 یعنی پیغمبر کو دیکھو، ان سختیوں میں کیا استقلال رکھتے ہیں۔ حالانکہ سب سے زیادہ اندیشہ اور فکر ان ہی پر ہے۔ مگر مجال ہے پائے استقامت ذرا جنبش کھاجائے۔ جو لوگ اللہ سے ملنے اور آخرت کا ثواب حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں اور کثرت سے خدا کو یاد کرتے ہیں ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات منبع البرکات بہترین نمونہ ہے۔ چاہیے کہ ہر معاملہ، ہر ایک حرکت و سکون اور نشست و برخاست میں ان کے نقش قدم پر چلیں اور ہمت و استقلال وغیرہ میں ان کی چال سیکھیں۔
Ayah 33:226 یعنی پکے مسلمانوں نے جب دیکھا کہ کفر کی فوجیں اکٹھی ہو کر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑی ہیں تو بجائے مذبذب یا پریشان ہونے کے ان کی اطاعت شعاری کا جذبہ اور ان کا یقین اللہ و رسول ﷺ کے وعدوں پر اور زیادہ بڑھ گیا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ تو وہ ہی منظر ہے جس کی خبر اللہ و رسول ﷺ نے پہلے سے دے رکھی تھی اور جس کے متعلق ان کا وعدہ ہوچکا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا۔ (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) 2 ۔ البقرۃ :214) اور سورة ص میں جو مکیہ ہے فرمایا تھا۔ (جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ) 38 ۔ ص :11)
Ayah 33:237 یعنی منافقین نے جو عہد کیا تھا پچھلے رکوع میں گزر چکا۔ (وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ) 33 ۔ الاحزاب :15) اسے توڑ کر بےحیائی کے ساتھ میدان جنگ سے ہٹ گئے۔ ان کے برعکس کتنے پکے مسلمان ہیں جنہوں نے اپنا عہد و پیمان سچا کر دکھلایا۔ بڑی بڑی سختیوں کے وقت دین کی حمایت اور پیغمبر کی رفاقت سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ اللہ و رسول ﷺ کو جو زبان دے چکے تھے، پہاڑ کی طرح اس پر جمے رہے۔ ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جو اپنا ذمہ پورا کرچکے یعنی جہاد ہی میں جان دے دی جیسے شہدائے بدر و احد جن میں سے حضرت انس بن النضر ؓ کا قصہ بہت مشہور ہے اور بہت سے مسلمان وہ ہیں جو نہایت اشتیاق کے ساتھ موت فی سبیل اللہ کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب کوئی معرکہ پیش آئے جس میں ہمیں بھی شہادت کا مرتبہ نصیب ہو۔ بہرحال دونوں قسم کے مسلمانوں نے (جو اللہ کی راہ میں جان دے چکے، اور جو مشتاق شہادت ہیں) اپنے عہد و پیمان کی پوری حفاظت کی اور اپنی بات سے ذرہ بھر نہیں بدلے۔
فائدہ : حدیث میں نبی کریم ﷺ نے حضرت طلحہ کو فرمایا ھٰذا ممن قضٰی نحبہ (یہ ان میں سے ہے جو اپنا ذمہ پورا کرچکے) گویا ان کو اسی زندگی میں شہید قرار دے دیا۔ یہ وہ بزرگ ہیں جو جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لئے اپنے ہاتھ پر تیر روکتے رہے حتٰی کہ ہاتھ شل ہو کر رہ گیا۔ ؓ وارضاہ۔
Ayah 33:241 یعنی جو عہد کے پکے اور قول وقرار کے سچے رہے ان کو سچ پر جمے رہنے کا بدلہ ملے اور بدعہد دغا باز منافقوں کو چاہے سزا دے اور چاہے توبہ کی توفیق دے کر معاف فرما دے۔ اس کی مہربانی سے کچھ بعید نہیں۔
Ayah 33:252 یعنی کفار کا لشکر ذلت و ناکامی سے پیچ وتاب کھاتا اور غصہ سے دانت پیستا ہوا میدان چھوڑ کر واپس ہوا، نہ فتح ملی نہ کچھ سامان ہاتھ آیا۔ ہاں عمرو بن عبدود جیسا ان کا نامور سوار جسے لوگ ایک ہزار سواروں کے برابر گنتے تھے اس لڑائی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ سے کھیت رہا۔ مشرکین نے درخواست کی کہ دس ہزار لے کر اس کی لاش ہمیں دے دی جائے۔ آپ نے فرمایا وہ تم لے جاؤ، ہم مردوں کا ثمن کھانے والے نہیں۔
3 یعنی مسلمانوں کو عام لڑائی لڑنے کی نوبت نہ آنے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر وہ اثر پیدا کردیا کہ کفار از خود سراسیمہ اور پریشان حال ہو کر بھاگ گئے۔ اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔
Ayah 33:264 یہ یہود " بنی قریظہ " ہیں۔ مدینہ کے شرقی جانب ان کا مضبوط قلعہ تھا اور پہلے سے مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کئے ہوئے تھے۔ جنگ احزاب کے موقع پر حیی ابن اخطب کے اغواء سے تمام معاہدات بالائے طاق رکھ کر مشرکین کی مدد پر کھڑے ہوگئے۔ ان میں سے بعض نے مسلمان عورتوں پر بزدلانہ حملہ کرنا چاہا جس کا جواب حضرت صفیہ ؓ نے بڑی بہادری سے دیا۔ جب کفار قریش وغبرہ عاجز ہو کر چلے گئے تو " بنو قریظہ " اپنے مضبوط قلعوں میں جا گھسے۔ نبی کریم ﷺ جنگ احزاب سے فارغ ہو کر غسل وغیرہ میں مشغول تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے۔ چہرہ پر غبار کا اثر تھا فرمایا۔ یا رسول اللہ ! آپ نے ہتھیار اتار دیے حالانکہ فرشتے ہنوز ہتھیار بند ہیں۔ اللہ کا حکم ہے کہ " بنو قریظہ " پر حملہ کیا جائے۔ فوراً منادی ہوگئی کہ " بنو قریظہ " کے بدعہد یہودیوں پر چڑھائی ہے۔ نہایت سرعت کے ساتھ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کا محاصرہ کرلیا۔ چوبیس پچیس دن محاصرہ جاری رہا۔ آخر محصورین تاب نہ لاسکے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیام بھیجنے شروع کیے۔ اخیر میں ان کی طرف سے بات اس پر ٹھہری کہ ہم قلعوں سے باہر آتے ہیں اور " اوس " کے سردار حضرت سعد بن معاذ کو حکم ٹھہراتے ہیں (کیونکہ وہ ان کے حلیف تھے) جو فیصلہ ہمارے حق میں حضرت سعد کردیں گے ہم کو منظور ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی قبول فرما لیا۔ قصہ مختصر سعد تشریف لائے اور بحیثیت ایک مسلم حکم کے فیصلہ کیا کہ بنی قریظہ کے سب جوان قتل کردیے جائیں اور عورتیں لڑکے سب قید غلامی میں لائے جائیں اور ان کے اموال و جائیداد کے مالک مہاجرین ہوں خدا اور رسول ﷺ کی مرضی اور ان کی بد عہدی کی سزا یہ ہی تھی۔ اور یہ فیصلہ ٹھیک ان کی مسلمہ آسمانی کتاب " تورات " کے موافق تھا۔ چناچہ تورات کتاب استشناء اصحاح 20 آیت 10 میں ہے " جب کسی شہر پر حملہ کرنے کے لئے تو جائے تو پہلے صلح کا پیغام دے اگر وہ صلح تسلیم کرلیں اور تیرے لئے دروازے کھول دیں تو جتنے لوگ وہاں موجود ہوں سب تیرے غلام ہوجائیں گے۔ لیکن اگر صلح نہ کریں تو تو ان کا محاصرہ کر اور جب تیرا خدا تجھ کو ان پر قبضہ دلا دے تو جس قدر مرد ہوں سب کو قتل کر دے۔ باقی بچے، عورتیں، جانور اور جو چیزیں شہر میں موجود ہوں سب تیرے لئے مال غنیمت ہوں گے۔ " اس فیصلہ کے مطابق کئی سو یہودی جوان قتل کئے گئے اور کئی سو عورتیں لڑکے قید ہوئے اور ان کے املاک و اموال پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔
Ayah 33:275 یہ زمین جو مدینہ کے قریب ہاتھ لگی حضرت نے مہاجرین پر تقسیم کردی۔ ان کے گزران کا ٹھکانا ہوگیا اور انصار پر سے ان کا خرچ ہلکا ہوا۔ اور دوسری زمین سے مراد خیبر کی زمین ہے جو اس کے دو برس بعد ہاتھ لگی اس سے حضرت کے سب اصحاب آسودہ ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ قیامت تک جو زمینیں فتح کی جائیں سب اس میں شامل ہیں واللہ اعلم۔
Ayahs 33:28–296 حضرت کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوگئے چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں۔ ان میں سے بعض نے آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی کہ ہم کو مزید نفقہ اور سامان دیا جائے جس سے عیش و ترفہ کی زندگی بسر کرسکیں حضرت کو یہ باتیں شاق گزریں۔ قسم کھالی کہ ایک مہینہ گھر میں نہ جائیں گے۔ مسجد کے قریب ایک بالا خانہ میں علیحدہ فروکش ہوگئے۔ صحابہ مضطرب تھے۔ ابوبکر و عمر اس فکر میں ہوئے کہ کسی طرح یہ گتھی سلجھ جائے۔ انھیں زیادہ فکر اپنی اپنی صاحبزادیوں (عائشہ اور حفصہ) کی تھی کہ پیغمبر کو ملول کر کے اپنی عاقبت نہ خراب کر بیٹھیں۔ دونوں نے دونوں کو دھمکایا اور سمجھایا۔ پھر حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ انس اور بےتکلفی کی باتیں کیں۔ آپ منشرح ہوئے ایک ماہ بعد یہ آیت تخییر اتری۔ یعنی اپنی ازواج سے صاف صاف کہہ دو کہ دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرلیں۔ اگر دنیا کی عیش و بہار اور امیرانہ ٹھاٹھ چاہتی ہیں تو کہہ دو کہ میرے ساتھ تمہارا نباہ نہیں ہوسکتا۔ آؤ کہ میں کچھ دے دلا کر (یعنی کپڑوں کا جوڑا جو مطلقہ کو دیا جاتا تھا) تم کو خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں (یعنی شرعی طریقہ سے طلاق دے دوں) اور اگر اللہ رسول ﷺ کی خوشنودی اور آخرت کے اعلیٰ مراتب کی طلب ہے تو پیغمبر کے پاس رہنے میں اس کی کمی نہیں۔ جو آپ کی خدمت میں صلاحیت سے رہے گی اللہ کے یہاں اس کے لئے بہت بڑا اجر تیار ہے۔ اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ جنت کے سب سے اعلیٰ مقام میں پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ رہیں۔ نزول آیت کے بعد آنحضرت ﷺ گھر میں تشریف لائے اول عائشہ کو حکم سنایا۔ انہوں نے اللہ و رسول ﷺ کی مرضی اختیار کی پھر سب ازواج نے ایسا ہی کیا۔ دنیا کے عیش و عشرت کا تصور دلوں سے نکال ڈالا۔ حضرت ﷺ کی ازواج سب نیک ہی رہیں۔ الطیبات للطیبین۔ مگر حق تعالیٰ قرآن میں صاف خوشخبری کسی کو نہیں دیتا تاکہ نڈر نہ ہوجائے۔ خاتمہ کا ڈر لگا رہے یہی بہتر ہے۔ آگے ان عورتوں کو خطاب ہے جو نبی کی معیت اختیار کرلیں کہ انکا درجہ اس نسبت کی وجہ سے بہت بلند ہے چاہیے کہ ان کی اخلاقی اور روحانی زندگی اس معیار پر ہو جو اس مقام رفیع کے مناسب ہے کیونکہ علاوہ ان کی ذاتی بزرگی کے وہ امہات المومنین ہیں۔ مائیں اپنی اولاد کی بڑی حد تک ذمہ دار ہوتی ہیں۔ لازم ہے کہ ان کے اعمال و اخلاق امت کے لئے اسوہ حسنہ بنیں۔
Ayah 33:307 بڑے کی غلطی بھی بڑی ہوتی ہے۔ اگر بالفرض تم میں کسی سے کوئی بد اخلاقی کا کام ہوجائے تو جو سزا اوروں کو اس پر ملتی ہے اس سے دگنی سزا ملے گی۔ اور اللہ پر آسان ہے یعنی تمہاری وجاہت اور نسبت زوجیت سزا دینے سے اللہ کو روک نہیں سکتی۔
Ayah 33:311 یعنی نیکی اور اطاعت پر جتنا اجر دوسروں کو ملے اس سے دو گنا ملے گا۔ اور مزید برآں ایک خاص روزی عزت کی عطا ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی بڑے درجہ کا لازم ہے کہ نیکی کا ثواب دونا اور برائی کا عذاب دونا۔ " خود پیغمبر ﷺ کو فرمایا۔ (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ) 17 ۔ الاسراء :75)
2 یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کی طرح نہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے تم کو سیدالمرسلین کی زوجیت کے لیے انتخاب فرمایا اور امہات المومنین بنایا۔ لہذا اگر تقویٰ و طہارت کا بہترین نمونہ پیش کرو گی جیسا کہ تم سے متوقع ہے۔ اس کا وزن اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہوگا۔ اور بالفرض کوئی بری حرکت سرزد ہو تو اسی نسبت سے وہ بھی بہت زیاد بھاری اور قبیح سمجھی جائے گی۔ غرض بھلائی کی جانب ہو یا برائی کی عام مومنات سے تمہاری پوزیشن ممتاز رہے گی۔
Ayah 33:323 یعنی اگر تقویٰ اور خدا کا ڈر دل میں رکھتی ہو تو غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے (جس کی ضرورت خصوصا امہات المومنین کو پیش آتی رہتی ہے) نرم اور دلکش لہجہ میں کلام نہ کرو۔ بلاشبہ عورت کی آواز میں قدرت نے طبعی طور پر ایک نرمی اور نزاکت رکھی ہے۔ لیکن پاکباز عورتوں کی شان یہ ہونی چاہیے کہ حتی المقدور غیر مردوں سے بات کرنے میں بہ تکلف ایسا لب و لہجہ اختیار کریں جس میں قدرے خشونت اور روکھا پن ہو اور کسی بد باطن کے قلبی میلان کو اپنی طرف جذب نہ کرے۔ امہات المومنین کو اس بارے میں اپنے مقام بلند کے لحاظ سے اور بھی زیادہ احتیاط لازم ہے تاکہ کوئی بیمار اور روگی دل کا آدمی بالکل اپنی عاقبت تباہ نہ کر بیٹھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " یہ ایک ادب سکھایا کہ کسی مرد سے بات کہو تو اس طرح کہو جیسے ماں کہے بیٹے کو۔ اور بات بھی بھلی اور معقول ہو۔
Ayah 33:33"4 یعنی اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرتی اور اپنے بدن اور لباس کی زیبائش کا اعلانیہ مظاہرہ کرتی تھیں۔ اس بداخلاقی اور بےحیائی کی روش کو مقدس اسلام کب برداشت کرسکتا ہے اس نے عورتوں کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہریں اور زمانہ جاہلیت کی طرح باہر نکل کر حسن و جمال کی نمائش کرتی نہ پھریں۔ امہات المومنین کا فرض اس معاملہ میں بھی اوروں سے زیادہ مؤکدہ ہوگا جیسا کہ " لستن کا حد من النسآء " کے تحت میں گزر چکا۔ باقی کسی شرعی یا طبعی ضرورت کی بناء پر بدون زیب وزینت کے مبتذل اور ناقابل اعتناء لباس میں مستشر ہو کر احیانا باہر نکلنا بشرطیکہ ماحول کے اعتبار سے فتنہ کا مظنہ نہ ہو، بلاشبہ اس کی اجازت نصوص سے نکلتی ہے اور خاص ازواج مطہرات کے حق میں بھی اس کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ متعدد واقعات سے اس طرح نکلنے کا ثبوت ملتا ہے لیکن شارع کے ارشادات سے یہ بداہتہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پسند اسی کو کرتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت بہرحال اپنے گھر کی زینت بنے اور باہر نکل کر شیطان کو تاک جھانک کا موقع نہ دے۔ اس کی تفصیل ہمارے رسالہ " حجاب شرعی " میں ہے۔ رہا ستر کا مضمون یعنی عورت کے لیے کن اعضاء کو کن مردوں کے سامنے کھلا رہنا جائز ہے۔ اس کا بیان سورة نور میں گزر چکا۔ (تنبیہ) جو احکام ان آیات میں بیان کیے گئے تمام عورتوں کے لیے ہیں۔ ازواج مطہرات کے حق میں چونکہ ان کا تاکد و اہتمام زائد تھا اس لیے لفظوں میں خصوصیت کے ساتھ مخاطب ان کو بنایا گیا۔ میرے نزدیک " يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ تک ان احکام کی تمہید تھی۔ تمہید میں دو شقیں ذکر تھیں۔ ایک بےحیائی کی بات کا ارتکاب۔ اس کی روک تھام فلا تخضعن بالقول سے تبرج الجاہلیۃ الولی تک کی گئی۔ دوسری اللہ و رسول کی اطاعت اور عمل صالح، آگے واقمن الصلوٰۃ سے اجرا عظیما تک اس کا سلسلہ چلا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ برائی کے مواقع سے بچنا اور نیکی کی طرف سبقت کرنا سب کے لیے ضروری ہے مگر ازواج مطہرات کے لیے سب عورتوں سے زیادہ ضروری ہے۔ ان کی ہر ایک بھلائی برائی وزن میں دوگنی قرار دی گئی۔ اس تقریر کے موافق " فاحشۃٍ مبینۃٍ " کی تفسیر بھی بےتکلف سمجھ میں آگئی ہوگی۔
5 یعنی اوروں سے بڑھ کر ان چیزوں کا اہتمام رکھو۔ کیونکہ تم نبی سے اقرب اور امت کے لیے نمونہ ہو۔
6 یعنی اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ نبی کے گھر والوں کو ان احکام پر عمل کرا کر خوب پاک و صاف کر دے اور ان کے رتبہ کے موافق ایسی قلبی صفائی اور اخلاقی ستھرائی عطا فرمائے جو دوسروں سے ممتاز و فائق ہو (جس کی طرف یطہرکم کے بعد تطہیرا بڑھا کر اشارہ فرمایا ہے) یہ تطہیر و اذہاب رجس اس قسم کی نہیں جو آیت وضو میں ( وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكُمْ ) 5 ۔ المائدہ :6) سے یا " بدر " کے قصہ میں لیطہرکم بہ ویذہب عنکم رجز الشیطان (انفال، رکوع 2) سے مراد ہے۔ بلکہ یہاں تطہیر سے مراد تہذیب نفس، تصفیہ قلب اور تزکیہ باطن کا وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو کامل اولیاء اللہ کو حاصل ہوتا ہے اور جس کے حصول کے بعد وہ انبیاء کی طرح معصوم تو نہیں بن جاتے ہاں محفوظ کہلاتے ہیں۔ چناچہ لفظ یرید اللہ لیذہب الخ فرمانا اور اراد اللہ نہ فرمانا خود اس کی دلیل ہے کہ اہل بیت کے لیے عصمت ثابت نہیں (تنبیہ) نظم قرآن میں تدبر کرنے والے کو ایک لمحہ کے لیے اس میں شک و شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں اہل بیت کے مدلول میں ازواج مطہرات یقینا داخل ہیں۔ کیونکہ آیت ہذا سے پہلے اور پیچھے پورے رکوع میں تمام تر خطابات ان ہی سے ہوئے ہیں اور " بیوت " کی نسبت بھی پہلے وقرن فی بیوتکن میں اور آگے واذکرن مایتلی فی بیوتکن میں ان کی طرف کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں یہ لفظ عموما اسی سیاق میں مستعمل ہوا ہے۔ حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کو خطاب کرتے ہوئے ملائکہ نے فرمایا اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اہل البیت (ہود، رکوع 7) مطلقہ عورت باوجودیکہ نکاح سے نکل چکی مگر عدت منقضی ہونے سے پہلے بیوت کی نسبت اسی کی طرف کی گئی چناچہ فرمایا۔ (لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ ) 65 ۔ الطلاق :1) حضرت یوسف کے قصہ میں " بیت " کو زلیخا کی طرف منسوب کیا۔ (وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ) 12 ۔ یوسف :23) بہرحال اہل بیت میں اس جگہ ازواج مطہرات کا داخل ہونا یقینی ہے بلکہ آیت کا خطاب اولا ان ہی سے ہے لیکن چونکہ اولاد و داماد بھی بجائے خود اہل بیت (گھر والوں) میں شامل ہیں بلکہ بعض حیثیات سے وہ اس لفظ کے زیادہ مستحق ہیں۔ جیسا کہ مسند احمد کی ایک روایت میں احق کے لفظ سے ظاہر ہوتا ہے اس لیے آپ کا حضرت فاطمہ، علی، حسن، حسین ؓ کو ایک چادر میں لے کر " اللہم ہولاء اہل بیتی " الخ وغیرہ فرمانا یا حضرت فاطمہ کے مکان کے قریب گزرتے ہوئے " الصلوٰۃ اہل البیت یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس " الخ سے خطاب کرنا اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ گو آیت کا نزول بظاہر ازواج کے حق میں ہوا اور ان ہی سے تخاطب ہو رہا ہے مگر یہ حضرات بھی بطریق اولیٰ اس لقب کے مستحق اور فضیلت تطہیر کے اہل ہیں باقی ازواج مطہرات چونکہ خطاب قرآنی کی اولین مخاطب تھیں اس لیے ان کی نسبت اس قسم کے اظہار اور تصریح کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 33:347 یعنی قرآن و سنت میں جو اللہ کے احکام اور دانائی کی باتیں ہیں، انھیں سیکھو، یاد کرو، دوسروں کو سکھاؤ اور اللہ کے احسان عظیم کا شکر ادا کرو کہ تم کو ایسے گھر میں رکھا جو حکمت کا خزانہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
8 اس کی آیتوں میں بڑے باریک بھید اور پتے کی باتیں ہیں اور وہ ہی جانتا ہے کہ کون اس امانت کے اٹھانے کا اہل ہے اس نے اپنے لطف و مہربانی سے محمد ﷺ کو وحی کے لیے اور تم کو ان کی زوجیت کے لیے چن لیا۔ کیونکہ وہ ہر ایک کے احوال و استعداد کی خبر رکھتا ہے کوئی کام یوں ہی بےجواز نہیں کرسکتا۔
Ayah 33:359 یعنی تکلیفیں اٹھا کر اور سختیاں جھیل کر احکام شریعت پر قائم رہنے والے۔
1 یعنی تواضع و خاکساری اختیار کرنے والے یا نماز خشوع و خضوع سے ادا کرنے والے۔
2 بعض ازواج مطہرات نے کہا تھا کہ قرآن میں اکثر جگہ مردوں کا ذکر ہے عورتوں کا کہیں نہیں اور بعض نیک بخت عورتوں کو خیال ہوا کہ آیات سابقہ میں ازواج نبی کا ذکر تو یا عام عورتوں کا کچھ حال بیان نہ ہوا اس پر یہ آیت اتری۔ تاکہ تسلی ہوجائے کہ عورت ہو یا مرد کسی کی محنت اور کمائی اللہ کے یہاں ضائع نہیں جاتی۔ اور جس طرح مردوں کو روحانی اور اخلاقی ترقی کرنے کے ذرائع حاصل ہیں عورتوں کے لیے بھی یہ میدان کشادہ ہے۔ یہ طبقہ اناث کی دلجمعی کے لیے تصریح فرما دی۔ ورنہ جو احکام مردوں کے لیے قرآن میں آئے وہ ہی عموما عورتوں پر عائد ہوتے ہیں۔ جداگانہ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ ہاں خصوصی احکام الگ بتلا دیے گئے ہیں۔
Ayah 33:363 حضرت زینب ؓ امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تھیں آنحضرت ﷺ نے چاہا کہ ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کردیں۔ یہ زید اصل سے شریف عرب تھے۔ لیکن لڑکپن میں کوئی ظالم ان کو پکڑ لایا اور غلام بنا کر مکہ کے بازار میں بیچ گیا۔ حضرت خدیجہ ؓ نے خرید لیا اور کچھ دنوں بعد آنحضرت ﷺ کو ہبہ کردیا۔ جب یہ ہشیار ہوئے تو ایک تجارتی سفر کی تقریب سے اپنے وطن کے قریب سے گزرے، وہاں ان کے اعزہ کو پتہ لگ گیا۔ آخر ان کے والد، چچا اور بھائی حضرت کی خدمت میں پہنچے کہ آپ ﷺ معاوضہ لے کر ہمارے حوالہ کردیں، فرمایا کہ معاوضہ کی ضرورت نہیں، اگر تمہارے ساتھ جانا چاہے خوشی سے لے جاؤ۔ انہوں نے حضرت زید سے دریافت کیا۔ حضرت زید نے کہا کہ میں حضرت کے پاس سے جانا نہیں چاہتا۔ آپ ﷺ مجھے اولاد سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہیں اور ماں باپ سے زیادہ چاہتے ہیں۔ حضرت نے ان کو آزاد کردیا اور متبنیٰ بنا لیا۔ چناچہ لوگ اس زمانہ کے رواج کے مطابق " زید بن محمد " کہہ کر پکارنے لگے تاآنکہ آیت (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ ) 33 ۔ الاحزاب :5) نازل ہوئی۔ اس وقت ' زید بن محمد " کی جگہ پھر " زید بن حارثہ " رہ گئے چونکہ قرآن کے حکم کے موافق ان کے نام سے اس نسبت عظیمہ کا شرف جدا کرلیا گیا تھا شاید اس کی تلافی کے لیے تمام صحابہ کے مجمع میں سے صرف ان کو یہ خاص شرف بخشا گیا کہ ان کا نام قرآن میں تصریحا وارد ہوا جیسا کہ آگے آتا ہے۔ " فلما قضی زید منہا وطرا۔ " بہرحال حضرت زینب کی خاندانی حیثیت چونکہ بہت بلند تھی اور زید بن حارثہ بظاہر داغ غلامی اٹھا کر آزاد ہوئے تھے اس لیے ان کی نیز ان کے بھائی کی مرضی زید سے نکاح کرنے کی نہ تھی لیکن اللہ و رسول کو منظور تھا کہ اس طرح کی موہوم تفریقات و امتیازات نکاح کے راستہ میں حائل نہ ہوا کریں۔ اس لیے آپ ﷺ نے زینب اور ان کے بھائی پر زور دیا کہ وہ اس نکاح کو قبول کرلیں۔ اسی وقت یہ آیت اتری اور ان لوگوں نے اپنی مرضی کو اللہ و رسول ﷺ کی مرضی پر قربان کردیا اور زینب کا نکاح زید بن حارثہ سے ہوگیا۔
Ayah 33:374 یعنی زید نے طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی، زینب سے کچھ غرض مطلب نہ رہا۔
5 حضرت زینب زید کے نکاح میں آئیں تو وہ ان کی آنکھوں میں حقیر لگتا۔ مزاج کی موافقت نہ ہوئی۔ جب آپس میں لڑائی ہوتی تو زید آکر حضرت ﷺ سے ان کی شکایت کرتے اور کہتے میں اسے چھوڑتا ہوں حضرت منع فرماتے کہ میری خاطر اور اللہ و رسول ﷺ کے حکم سے اس نے تجھ کو اپنی منشاء کے خلاف قبول کیا۔ اب چھوڑ دینے کو وہ اور اس کے عزیز دوسری ذلت سمجھیں گے۔ اس لیے خدا سے ڈرو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگاڑ مت کر۔ اور جہاں تک ہو سکے نباہ کی کوشش کرتا رہ۔ جب معاملہ کسی طرح نہ سلجھا، اور بار بار جھگڑے قضیے پیش آتے رہے تو ممکن ہے آپ ﷺ کے دل میں آیا ہو کہ اگر ناچار زید چھوڑ دے گا تو زینب کی دلجوئی بغیر اس کے ممکن نہیں کہ میں خود اس سے نکاح کروں لیکن جاہلوں اور منافق کی بدگوئی سے اندیشہ کیا کہ کہیں گے اپنے بیٹے کی جورو گھر میں رکھ لی۔ حالانکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ کے نزدیک " لے پالک " کو کسی بات میں حکم بیٹے کا نہیں۔ ادھر اللہ کو یہ منظور تھا کہ اس جاہلانہ خیال کو اپنے پیغمبر ﷺ کے ذریعہ سے عملی طور پر ہدم کر دے تاکہ مسلمانوں کو آئندہ اس مسئلہ میں کسی قسم کا توحش اور استنکاف باقی نہ رہے اس نے پیغمبر ﷺ کو مطلع فرمایا کہ میں زینب کو تیرے نکاح میں دینے والا ہوں۔ کیوں دینے والا ہوں ؟ اس کو خود قرآن کے الفاظ " لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائہم " صاف صاف ظاہر کر رہے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے نکاح میں دینے کی غرض یہ ہی تھی کہ دلوں سے جاہلیت کے اس خیال باطل کا بالکل قلع قمع کردیا جائے اور کوئی تنگی اور رکاوٹ آئندہ اس معاملہ میں باقی نہ رہنے پائے۔ اور شاید یہ ہی حکمت ہوگی جو اول زینب کا نکاح زید سے زور ڈال کر کرایا گیا۔ کیونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ نکاح زیادہ مدت تک باقی نہ رہے گا۔ چند مصالح مہمہ تھیں جن کا حصول اس عقد پر معلق تھا۔ الحاصل آنحضرت ﷺ خود اپنے ذاتی خیال اور اس آسمانی پیشین گوئی کے اظہار سے عوام کے طعن وتشنیع کا خیال فرما کر شرماتے تھے اور زید کو طلاق کا مشورہ دینے میں بھی حیا کرتے تھے لیکن خدا کی خبر سچی ہونی تھی اور اس کا حکم تکوینی و تشریعی ضرور تھا کہ نافذ ہو کر رہے۔ آخرکار زید نے طلاق دے دی۔ اور عدت گزر جانے پر اللہ نے زینب کا نکاح آنحضرت ﷺ سے باندھ دیا۔ اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ دل میں جو چیز چھپائے ہوئے تھے وہ یہ ہی نکاح کی پیشین گوئی اور اس کا خیال تھا اسی کو بعد میں اللہ نے ظاہر فرما دیا۔ جیسا کہ لفظ " زوجنا کہا " سے ظاہر ہے اور ڈر اس بات کا تھا کہ بعض لوگ اس بات پر بدگمانی یا بدگوئی کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کر بیٹھیں یا گمراہی میں ترقی نہ کریں چونکہ مصالح مہمہ شرعیہ کے مقابلہ میں اس قسم کی جھجک بھی پیغمبر کی شان رفیع کے لئے مناسب نہ تھی۔ اس لیے بقاعدہ " حسنات الابرابر سیأت المقربین " اس کو عتاب آمیز رنگ میں بھاری کر کے ظاہر فرمایا گیا۔ جیسا کہ عموما انبیاء (علیہم السلام) کی حالات کے ذکر میں واقع ہوا ہے۔ (تنبیہ) ہم نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نکاح کی خبر پہلے سے دے دی تھی۔ اس کی روایات فتح الباری سورة احزاب کی تفسیر میں موجود ہیں۔ باقی جو لغو اور دوراز کار قصے اس مقام پر حاطب اللیل مفسرین و مورخین نے درج کر دئیے ہیں ان کی نسبت حافظ ابن حجر لکھتے ہیں۔ " لاینبغی التشاغل بہا " اور ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " احببنا ان تضرب عنہا صفحًا لعدم صحتہا فلا نور دہا۔ "
Ayahs 33:38–391 یعنی اللہ کا حکم اٹل ہے جو بات اس کے یہاں طے ہوچکی ضرور ہو کر رہے گی۔ پھر پیغمبر ﷺ کو ایسا کرنے میں کیا مضائقہ ہے جو شریعت میں روا ہوگیا۔ انبیاء و رسل کو اللہ کے پیغامات پہنچانے میں اس کے سوا کبھی کسی کا ڈر نہیں رہا۔ (چنانچہ آپ ﷺ نے بھی پیغام رسانی میں آج تک کسی چیز کی پروا نہیں کی نہ کسی کے کہنے سننے کے خیال سے کبھی متاثر ہوئے) پھر اس نکاح کے معاملہ میں رکاوٹ کیوں ہو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح سلیمان (علیہ السلام) کی کثرت ازواج مشہور ہے۔ جو الزام سفہاء آپ ﷺ کو دے سکتے ہیں انبیائے سابقین کی لائف میں اس سے بڑھ کر نظیریں موجود ہیں۔ لہذا اس طرح کی سفیہانہ اور جاہلانہ نکتہ چینیوں پر نظر نہیں کرنا چاہیے۔ آگے بتلایا ہے کہ زید بن حارثہ جن کو آپ ﷺ نے متبنی کرلیا تھا آپ ﷺ کے واقعی بیٹے نہیں بن گئے تھے کہ ان کی مطلقہ سے آپ ﷺ نکاح نہ کرسکیں۔ اور ایک زید کیا۔ آپ ﷺ تو مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں۔ کیونکہ آپ کی اولاد میں یا لڑکے ہوئے جو بچپن میں گزر گئے۔ اور بعض اس آیت کے نزول کے وقت پیدا ہی نہیں ہوئے۔ یا بیٹیاں تھیں جن میں سے حضرت فاطمہ زہرا ؓ کی ذریت دنیا میں پھیلی۔
Ayah 33:402 یعنی کسی کو اس کا بیٹا نہ جانو۔ ہاں اللہ کا رسول ﷺ ہے اس حساب سے سب ان کے روحانی بیٹے ہیں جیسا کہ ہم (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ) 33 ۔ الاحزاب :6) کے حاشیہ میں لکھ چکے ہیں۔
3 یعنی آپ ﷺ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی، بس جن کو ملنی تھی مل چکی۔ اسی لیے آپ ﷺ کی نبوت کا دورہ سب نبیوں کے بعد رکھا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی اخیر زمانہ میں بحیثیت آپ کے ایک امتی کے آئیں گے خود ان کی نبوت و رسالت کا عمل اس وقت جاری نہ ہوگا۔ جیسے آج تمام انبیاء اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں مگر شش جہت میں عمل صرف نبوت محمدیہ کا جاری وساری ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) (زمین پر) زندہ ہوتے تو ان کو بھی بجز میرے اتباع کا چارہ نہ تھا۔ بلکہ بعض محققین کے نزدیک تو انبیائے سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیاء ﷺ کی روحانیت عظمیٰ ہی سے مستفید ہوتے تھے۔ جیسے رات کو چاند اور ستارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں حالانکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا۔ اور جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔ بدین لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے، آپ ہی کی مہر لگ کر ملی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (تنبیہ) ختم نبوت کے متعلق قرآن، حدیث، اجماع وغیرہ سے سینکڑوں دلائل جمع کر کے بعض علمائے عصر نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ مطالعہ کے بعد ذرا تردد نہیں رہتا کہ اس عقیدہ کا منکر قطعا کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔
4 یعنی وہ ہی جانتا ہے کہ رسالت یا ختم نبوت کو کس محل میں رکھا جائے۔