Ayahs 33:1–3ترکیب : من ربک متعلق بیوحیٰ وکیلا تمیز للکفیٰ باللہ فاعلہ والباء زائدۃ۔
تفسیر : احزاب حزب کی جمع جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں، اس سورة میں ان جماعتوں کا بھی تذکرہ ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ پر چڑھ کر آئی تھیں اور چاروں طرف سے مدینہ طیبہ کو گھیر لیا تھا، جس کی مدافعت کے لیے حضرت ﷺ نے شہر کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم دیا تھا، اس واقعہ کو غزوئہ خندق کہتے ہیں جو شوال کے مہینے میں احد کی لڑائی کے ایک برس بعد ہجرت کے پانچویں سال میں واقع ہوا تھا، اس لیے اس سورة کا نام سورة احزاب ہوگیا۔
یہ سورة بقول ابن عباس اور ابن الزبیر ؓ مدینہ میں نازل ہوئی ہے، بعض روایتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سورة میں سے بعض آیات آنحضرت ﷺ کے عہد میں منسوخ التلاوۃ ہوگئی ہیں۔ گو اس سے بھی قرآن مجید پر تحریف کا الزام قائم نہیں ہوسکتا، کس لیے کہ تحریف جب ہوتی ہے کہ جب آپ کے بعد قرآن میں کمی کی جاتی … یا آپ کے بغیر اجازت اور جبکہ منزل قرآن ہی نے کسی قدر اجزاء کو کسی حکمت سے کم کردیا تو پھر کسی کو کیا مجال گفتگو ہے، اس بحث کو ہم تعریف القرآن جواب تحریف القرآن میں خوب بیان کرچکے ہیں، مگر ابو مسلم وغیرہ محققین اس کے سرے سے قائل ہی نہیں، وہ ان آیات منسوخ التلاوۃ کو قرآنی آیات نہیں کہتے بلکہ وہ جملہ بطور تفسیر کے آنحضرت ﷺ نے پڑھے تھے، جس کو لوگوں نے آیت سمجھ کر اپنے مصاحف میں لکھ لیا، مگر جب قرآن اصلی حالت پر لکھوایا گیا عرضہ اخیرہ کے مطابق اس میں درج نہ ہونے دیا۔
سورة سجدہ کے اخیر میں آنحضرت ﷺ کو انتظار کا حکم دیا گیا تھا اور نصرت کا وعدہ بھی تھا، ایسی حالت میں کچھ عجب نہیں کہ کفار و منافقین نے آنحضرت ﷺ کو اپنی اطاعت پر آمادہ کرنا چاہا ہو کہ آپ فلاں فلاں باتیں مان لیں تو ہم آپ کے دین میں آجاتے ہیں، ورنہ ہم آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ستائیں گے۔ گو آپ سے یہ بات متوقع نہ تھی مگر ایسی خطرناک حالتوں میں طبیعت انسانی کا مائل ہوجانا کچھ بعید نہیں، اس لیے بنظر احتیاط آنحضرت ﷺ کو اول ہی آگاہ کردیا۔ فقال یا ایہا النبی اے نبی ! اس میں آنحضرت ﷺ کی کمال عزت ہے کہ قرآن مجید میں کسی جگہ آپ کا اسم مبارک لے کر نہیں پکارا گیا، بلکہ بلقب نبی یارسول یا مزمل یا مدثر یاد فرمایا گیا اتق اللہ اللہ سے ڈرا کرو اور کسی سے نہ ڈرو۔ اگرچہ آپ اللہ ہی سے ڈرتے تھے مگر یا اس پر دوام کے لیے یا ازد یاد کے لیے یہ حکم دیا کہ تقویٰ کا بےنہایت میدان ہے۔ ولا تطع الکافرین والمنافقین اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ ماننا۔ واحدی کہتے ہیں کافروں میں سے ابوسفیان و عکرمہ و ابو الاعور اور منافقوں میں سے عبداللہ بن ابی و عبداللہ بن ابی سرح آپ سے طرح طرح کی باتیں دھمکی دے کر کہا کرتے تھے کہ ایسا کر ایسا کر۔ ان کا کہنا اس لیے نہ مان کہ وہ یہ باتیں کہتے ہیں جس کو مصلحتِ الٰہی نہیں چاہتی تھی، ان اللہ کان علیما حکیما البتہ اللہ عالم ہے۔ ہر بات کی ابتداء و انتہاء شروع و انجام جانتا ہے، اس نے جو کچھ حکم دیا ہے اس میں سراسر حکمت ہے۔ پس و اتبع مایوحٰی الیک من ربک اللہ نے جو کچھ آپ کی طرف وحی کی ہے اسی پر چلو اور نہایت استحکام اور صدق دل سے وحی کا اتباع کرو، کس لیے کہ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا جو کچھ تم کرتے ہو اس کو اللہ خوب جانتا ہے، اس پر کوئی بات مخفی نہیں۔ ان سرکشوں کی دھمکیوں سے نہ ڈرو و توکل علی اللہ اللہ پر بھروسہ رکھو، وکفیٰ باللہ وکیلا وہ کافی ہے، سب کار وہی کردے گا، کوئی دشمن تم پر غلبہ نہ پاوے گا۔
حاصل کلام جب قومیں ورطہ ضلالت میں غرق ہوں اور جہالت کی تاریک اندھیریوں میں بند ہوں، اس وقت خدا کے ہادی کو جو قوانین ملیہ و احکام سیاسیہ کا سرچشمہ اس کا الہام ہو بڑا مستقل رہنا چاہیے، لوگوں کی بےہودہ خواہشوں کی تعمیل اور خلاف ایذاء و تکلیف کی کچھ بھی پروا نہ کرنا چاہیے۔ قرآن نے لوگوں کو ہمیشہ 1 ؎ کے لیے کیا عمدہ قانون بتلادیا ہے۔
1 ؎ یعنی کلام بھی اور خطاب بھی ہے۔ لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 33:4تفسیر … کسی کے دو دل نہیں : پہلے فرمایا تھا کہ خلوص کے ساتھ وحی کا اتباع کرو، اب ماجعل اللہ الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ مقتضائے خلوص یہی ہے کہ ایک طرف کا ہوجائے، دو دلی اچھی نہیں۔ اس دو دلی کو اس جملہ میں رد کیا۔ دو دلی یا دو رنگی کے باطل کرنے کے لیے یہ جملہ ضرب المثل ہے۔ محاورہ عرب میں اس محل پر یہی جملہ بولا کرتے ہیں کہ اللہ نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے ہیں، دل ایک ہی ہوتا ہے، اب اس میں محبت و اطاعت بھرلو یا بغض و نافرمانی۔ یہ نفاق کی قطع و برید کے لیے بڑا پراثر جملہ ہے، عرب کے شاطر و فہیم تفاخراً یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ ہمارے دو دل ہیں اور اسی لیے ابی عرب جمیل بن معمر کا یہ لقب ہوگیا تھا، اسی چالاکی پر مدینہ کے منافق دو طرفہ باتیں کیا کرتے تھے۔
اس کے بعد اسی پر متفرع کرکے دو باتیں اور ارشاد فرماتا ہے جو احکام آیندہ کے لیے تمہید ہیں اور جن سے مخالفوں کے طعن اٹھانے منظور ہیں۔ اول و ماجعل ازواجکم الخ کہ تم جن بیویوں کو غصہ میں ماں کہہ بیٹھتے ہو، وہ تمہاری مائیں نہیں بن جاتیں۔ جاہلیت میں عرب کا دستور تھا کہ وہ خفا ہو کر بیوی کو کہہ دیتے تھے۔ انت کظہر امی تو مجھ پر اس طرح حرام ہے کہ جیسی میری ماں کی ظہر یعنی پشت مجھ پر حرام ہے۔ پشت کے نام سے کنایہ ستر خاص کی طرف ہوتا تھا، مگر شرم و تہذیب کے سبب ستر خاص کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ یہ جاہلیت میں طلاق سمجھی جاتی تھی۔ اسلام میں ایسی تشبیہات کو ظہار کہتے ہیں، اس کا حکم مفصل سورة مجادلہ میں آوے گا۔
اسلام میں متبنٰی کوئی چیز نہیں : دوسری بات وماجعل ادعیاء کم ابنآء کم کہ جن کو تم خوشی میں بیٹا کہہ لیتے ہو وہ درحقیقت تمہارے بیٹے نہیں بن جاتے، جس طرح وہ غصہ کی بات بیوی کو ماں نہیں کردیتی اسی طرح خوشی کی بات کہ کسی کو بیٹا کہہ لو یا بیٹا بنالو غیر کو بیٹا نہیں بنادیتی۔ جاہلیت میں دستور تھا کہ کوئی کسی کو بیٹا بنا لیتا تھا، یعنی متبنٰی کرلیتا تھا جس طرح کہ ہنود گود لے لیتے ہیں، پھر وہ شخص اصلی بیٹا سمجھا جاتا تھا اور اسی کی میراث بھی پاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی وحی سے پہلے زید بن حارثہ کلبی کو بیٹا کرلیا تھا، لوگ اس کو زید بن محمد کہا کرتے تھے، چناچہ بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے عمر ؓ سے کہ ہم زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قرآن میں آگیا ادعوھم لابا ئھم انتہٰی۔ تب آنحضرت ﷺ نے خود کہہ دیا کہ تو زید بن حارثہ بن شراجیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس الحاق اور اس نسبت جاہلیت کو بھی رد کردیا، اب اسلام میں متبنٰی بنانا کوئی چیز نہیں رہا۔ فقال ذلکم قولکم بافواھکم یہ صرف تمہاری منہ کی باتیں ہیں۔ عند اللہ ان کی کچھ بھی اصل نہیں نہ کسی کے لیے دو دل ہیں، نہ کوئی بیوی کسی کی ماں ہے، نہ کوئی غیر کا بیٹا بیٹا ہے۔ واللہ یقول الحق وھو یہدی السبیل سچی بات اللہ کہتا ہے اور وہی سیدھا رستہ بتاتا ہے نہ وہ کہ جو تم کہتے ہو۔
Ayah 33:5تیسری بات کی بابت سیدھا رستہ بتانے کے لیے یہ حکم دیتا ہے۔ ادعوھم لابائھم الخ کہ ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہتر اور انصاف کی بات ہے۔ اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو بھائی یا مولیٰ فلاں کہہ کے پکارا کرو۔ قال الزجاج موالیکم ای اولیاء وکم فی الدین اور بعض کہتے ہیں۔ اگر آزاد ہے اور اس کے باپ کا نام معلوم نہیں تو بھائی کہہ کے پکارو اور اگر غلام ہو تو مولیٰ فلاں اس کے آقا کے نام سے پکارو۔ موالی مولیٰ کی جمع ہے جو ولاء سے مشتق ہے جس کے معنی قرابت اور نزدیکی کے ہیں۔ قرابت نسبی کے علاوہ اسلام میں قرابت نسبی بھی معتبر ہے، پھر اس کی دو قسم ہیں۔ ایک مولاۃ و مواخاۃ کہ باہم دو شخصوں کا ایسا عقد دوستی مستحکم ہوجاوے کہ ایک دوسرے کے نیک و بد میں شریک ہونا لازمی سمجھے۔ ابتدائً اسلام میں اس سے وراثت بھی دلائی جاتی تھی اور آنحضرت ﷺ مدینہ میں اسی طرح سے ایک کو دوسرے کا بھائی قرار دیتے تھے جو ایک دوسرے کے رنج و راحت کا شریک ہوتا تھا۔ خصوصاً پردیسیوں کے لیے اس سے بڑا فائدہ تھا، اب بھی گو توریث نہ ہو، مگر اس قسم کی موالاۃ بڑی عمدہ بات ہے اور اسی طرح قبائلِ عرب میں موالاۃ ہوا کرتی تھی۔ خصوصاً پردیس اور غیر برادری کے لوگ کسی قبیلہ کے ساتھ ایسی برادری قائم کرکے بڑی عافیت سے زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ وہ شخص انہی کی طرف منسوب ہوا کرتا تھا، کہتے تھے مولیٰ فلاں، دوسری ولائِ عتاقت کہ جو کوئی کسی کو آزاد کرتا تھا تو آزاد کردہ اسی کی طرف منسوب ہوتا تھا۔ اس کو بھی مولیٰ فلاں کہتے تھے، اسی طرح جو کوئی کسی کے ہاتھ پر اسلام لاتا تھا وہ بھی اسی کی طرف منسوب ہوتا تھا، اس کو بھی مولیٰ فلاں کہتے تھی۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ عجمی لوگوں کے بزرگ جب اسلام لائے اپنے مرشدوں کے مولا کہلائے، جس کو بعض نے غلطی سے غلام ہونا سمجھ لیا۔ حاصل کلام یہ کہ جس قسم کی موالاۃ پائی جائے تو جس کے حق میں وہ موالاۃ ثابت ہو اس کی طرف منسوب کردو یہ بات عرب میں تحقیر کا سبب نہیں سمجھی جاتی تھی بلکہ اس قسم کا انتساب باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ ہاں اس اخیر زمانہ میں جبکہ اسلام دور دراز ملکوں میں پھیل گیا اور بزرگوں کی طرف موالاۃ کا جو انتساب چلا آتا تھا، وہ نسب کی طرف رجوع کرگیا۔ پچھلوں نے اپنے آپ کو انہی کی اولاد مشہور کردیا۔ سینکڑوں سید سینکڑوں صدیقی، سینکڑوں فاروقی ہزاروں عثمانی، ہندوستان میں اسی قسم کے ملیں گے۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے، حدیث میں آیا ہے کہ جو کوئی غیر باپ کو باپ جان کر بنادے تو کافر ہے اور اسی وجہ سے طعن فی الانساب کا دستور آج ہندوستان میں ہوگیا اور نئی قومیں جو اسلام میں داخل ہوتی ہیں خواہ دور جاہلیت میں شریف ہی کیوں نہ ہوں، ان کو یہ نالائق طعن کرنے لگے جو اسلام کے لیے ایک بدنما دھبہ بن گیا، فرماتا ہے۔ ولیس علیکم جناح اگر غلطی 1 ؎ سے تمہارے منہ سے نکل جاوے اور غیر کی طرف اس کو منسوب کردیا جاوے تو تم پر کچھ گناہ نہیں، ہاں عمداً کرو گے تو گناہگار ہوگے، وکان اللہ غفورًا رحیمًا۔
Ayah 33:6چونکہ اخوت فی الدین اور ولایت کا ذکر تھا اور ضمناً زید بن حارثہ کا بیٹا ہونا بھی باطل کردیا گیا تھا جس سے وہم گزرتا تھا کہ نبی کو اب کسی امتی سے کوئی تعلق نہیں رہا، اس لیے اس آیت النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسہم میں نبی ﷺ کا رشتہ بتلاکر اس وہم کو دفع کردیا گیا کہ نبی کا رشتہ قرابت مسلمانوں کے لیے ان کی ذات سے بھی زیادہ ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ہر ایک مومن کے لیے میں سب سے زیادہ ولی ہوں، دنیا اور آخرت میں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ دیکھو، النبی اولٰی الآیۃ جو کوئی مسلمان مال چھوڑ کر مرے تو اس کو اس کے قرابت دار لیویں جو کوئی ہوں، اگر قرض چھوڑے یا عیال چھوڑے تو میرے پاس قرض خواہ آوے کہ میں اس کا متولی اور کارکن اور متکفل ہوں اور اسی طرح اس کو بخاری (رح) نے باب استقراض میں روایت کیا ہے اور اسی کے معنی میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اور امام احمد نے روایت کیا ہے۔ ابو مسعود کی قرأت میں اس کے بعد وھو اب لھم بھی آیا ہے کہ نبی ﷺ مسلمانوں کا باپ ہے اور مجاہد کہتے ہیں کہ ہر
نبی امت کا باپ ہے اور اسی لیے سب اہل ایمان بھائی ہیں، ایک روحانی باپ کے بیٹے آگے جو آئے گا ماکان محمد ابا احد من رجالکم الایہ کہ محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں تو وہ اس کے مخالف نہیں ہے، کس لیے کہ یہاں باپ ہونے سے اور اسی طرح حضرت کی بیویوں کے ماں ہونے سے روحانی ماں باپ ہونا مراد ہے اور اس آیت میں جو باپ ہونے کا انکار ہے تو جسمانی باپ ہونے کا انکار ہے، جس کو عرف میں باپ کہتے ہیں۔
اور اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ نبی روحانی باپ ہے۔ عرفی باپ کے سبب دنیا کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور اس باپ کے طفیل کہ جس پر سینکڑوں ماں باپ کو قربان کردیا جاوے حیات ابدی نصیب ہوتی ہے۔ پس عرفی باپ کا جس قدر ادب اور اس کی اطاعت فرض ہے، اس سے لاکھ درجے بڑھ کر اس روحانی باپ کی اطاعت و محبت فرض ہے اور ہر طرح سے ادب واجب ہے۔ خود قرآن مجید میں ہے۔ فلا وربک الخ کہ تیرے رب کی قسم وہ ایماندار نہ ہوں گے، جب تک کہ دل سے تیرے فیصلہ کو تسلیم نہ کریں گے۔ صحیح میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ بخدا تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے جان اور مال اور اولاد سب لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوں اور روحانی باپ کی جب تک اس قدر محبت نہ ہوگی، کبھی سعادت نصیب نہ ہوگی، اس محبت سے مومن اس کے مقابلہ میں ماں باپ امیر غریب کسی کی پروا نہیں کرتا۔ نفسی فداک یا محمد ﷺ باوجود اس نص قطعی جاننے کے آنحضرت فداہ ابی وامی کو بڑے بھائی سے تشبیہ دینا گستاخی اور بدنصیبی ہے۔ اعاذ نا اللہ منہ۔
و ازواجہ امہتہم اور نبی کی بیویاں مسلمانوں کی ماں ہیں، یعنی جس طرح ماں کا ادب اور تعظیم واجب ہے اسی طرح ان کا بھی اور جس طرح ماں سے نکاح حرام ہے، ان سے بھی مگر اس میں نبی کی بیویوں کی بیٹیاں شامل نہیں، کس لیے کہ ان سے نکاح درست ہے۔ حیف ہے، ان لوگوں پر کہ جو حضرت ﷺ کی بیوی عائشہ صدیقہ ؓ سے گستاخی کرتے ہیں، اسی طرح حضرت ﷺ کی اولاد اور خاندان کی محبت و تعظیم لازم ہے۔ و اولوا الارحام الخ ابن عباس و سعید بن جبیر وغیرہ ؓ سلف سے خلف تک یہ کہتے ہیں کہ ابتدائِ اسلام میں جبکہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آتے تھے، ان کے خویش و اقارب کفر کی وجہ سے چھوٹ جاتے تھے تو مہاجرین و انصار میں ایک دوسرے کا اسلام و ہجرت اور باہمی بھائی چارہ کی وجہ سے وارث قرار دیا جاتا تھا۔ پھر جب لوگوں کے اقارب بھی اسلام میں داخل ہوئے تو یہ حکم اس آیت سے منسوخ
1 ؎ یہ جناح کا ترجمہ ہے جو بفتح معجمہ ہے۔
ہوگیا۔ اس آیت میں صاف حکم ہوگیا کہ ایماندار و مہاجر اقارب زیادہ تر ولی ہیں اور مہاجروں، ایمانداروں سے کہ جن سے مواخاۃ قائم ہوئی تھی۔ یہی وارث ہوں گے۔ الا ان تفعلوا الی اولیٰئکم معروفا ہاں اس کا مضائقہ نہیں کہ تم اپنے ان انصار و مہاجرین بھائیوں سے اور کوئی نیکی کرو، ہمدردی محبت اور مرتے وقت وصیت کر جاؤ کان ذلک الخ یہ حکم اس کتاب ازل میں مندرج ہوچکا جو کبھی نہ بدلے نہ متغیر ہو، یعنی کتاب قضاء و قدر میں۔
ابحاث : اول من قلبین مفعول لجعل ومن زائدۃ۔ فی جو فہ متعلق بجبل اوصفۃ لقلبین۔ لرجل متعلق بجعل اومفعول 1 ؎ اول ویمکن ان یکون المعنی ما جمع قلبین فی جوف رجل۔ ازواجکم موصوف الئی جمع التی والاصل اثبات الیاء و یجوز حذ فہا اجتزائً بالکسرۃ مضارع ظاھر و قریٔ مضارع تظاھر والاصل تظاھرون وقریٔ تظہرون والاصل تنظہرون فادغمت التاء الثانیۃ فی الظاء بعد ابد الھا طاء والجملۃ مع الموصول والصلۃ صفۃ لازواجکم وھی مفعول اول لجعل امہتکم مفعول ثان۔ وکذا ادعیاء کم مفعول اول و ابناء کم مفعول ثان لہ ادعیاء، جمع دعی فعیل بمعنی مفعول من الدعوۃ بالکسر۔ فی القاموس الدعوۃ بالکسر الادعاء فی النسب و ھذا الجمع علی خلاف القیاس لان القیاس ان یکون جمع الفعیل المعتل اللام اذا کان بمعنی فاعل افعلاء کتقی و اتقیاء وغنی و اغنیاء و ھھنا وان کان فعیل معتل اللام لان صلہ دعیوفا دغم لکنہ لیس بمعنی فاعل بل انہ بمعنی مفعول فکان القیاس جمعہ علی فعلی کقتیل و قتلی و جریح و جرحیٰ ، مریض و مرضیٰ ، فکانہ شبہ بفعیل بمعنی فاعل فجاء جمعہ شذو ذاعلیٰ افعلاء کا سیرو اسارٰی۔ کذاقیل ھوا قسط الضمیر المصدرا دعوا فاخوانکم بالرفع ای فھم اخو انکم و بالنصب ای فاد عوھم اخوانکم ولکن ماما فی موضع جرعطفا علے ما ویمکن ان یکون فی موضع رفع علی الابتداء والخبر محذوف بعضھم یجوزان یکون بدلاً وان یکون مبتداء فی کتب اللہ یتعلق باولیٰ وافعل یعمل فی الجار و المجرور و یجوزان ان یکون حالا والعامل فیہ معنی اولیٰ ۔ من المؤمنین والمہجرین بجوزان یکون متصلا باولی الارحام فینتصب علی التبین ای اعنی فیکون المعنی و اولو الارحام من المؤمنین والمہاجرین اولیٰ بالمیراث من الاجانب ویجوزان یکون صلۃ لاولی فیکون المعنی اولوا الارحام بحق القرابۃ اولیٰ بالمیراث من المؤمنین والمہاجرین بحق الدین والہجرۃ۔ الا ان تفعلوا استثناء اما متصل من اعم العام والتقدیر اولیٰ ببعض فی کل شیئٍ من الارث وغیرہ الا فی فعل المعروف من صدقۃ او وصیۃ فان ذلک جائز للاولیاء و اما منقطع والتقدیر لکن فعل المعروف للاولیاء لا باس بہ۔
دوم : ان آیات میں علاوہ کمال بلاغت و فصاحت کے امور سیاسیہ و اسرار حکمت کی نہایت رعایت کی گئی ہے۔ اول یہ کہ امور قدرت میں عادت اللہ کو کس محل پر بیان فرمایا کہ وہ ایک ظرف میں دو دل نہیں بناتا، کس لیے کہ قلب معدن ہے روح حیوانیِ کا ‘ جو نفس انسانی سے سب سے اول متعلق ہوتی ہے اور منبع ہے تمام قوٰی کا اگر جسم میں دو دل ہوں تو تناقض پیدا ہوجاوے، کیونکہ اگر ایک کو ان سب باتوں کے لیے کارآمد قرار دیں گے تو دوسرا بیکار ہوجاوے گا۔ انسان قدرت الٰہیہ کا آئینہ ہے، اس میں ایسی چیز کا بیکار رہنا حکیم مطلق کی حکمت کے خلاف ہے۔
دوم یہ کہ قدرتی باتوں کے علاوہ عادی اور عرفی باتوں میں بھی اس نے اپنے ہی قانون قدرت کو غالب رکھا ہے۔ انسان کے نام بدل دینے سے امور واقعیہ کی حقیقت نہیں بدل سکتی، اس کی نظیر میں دو باتیں پیش کیں۔ بیوی کو ماں کہنے سے ماں نہیں ہوجاتی، غیر کا بیٹا بیٹا کہنے سے اپنا بیٹا نہیں ہوجاتا، اس کے بعد بول چال میں ادب کی تعلیم فرمائی۔ واقعات کا لحاظ رکھ کر اور محبت کا برتاوا بتلایا کہ یہ کہہ کر پکارو اور اس میں بنی آدم کے باہمی سچے رابطے بھی بیان کردیے، وہ کیا دینی برادری، قرابت نسبی، موالاۃ، مواخاۃ، پھر امت سے جو رسول کو رابطہ ہے وہ بتلایا کہ وہ دینی باپ ہے۔ تمہارے حال پر عرفی باپ سے زیادہ مہربان ہے، نہ صرف وہی بلکہ اس کی بیویاں بھی تم پر تمہاری مائوں سے زیادہ شفیق ہیں، یعنی اس کا پاک خاندان بھی امت کے لیے رحمت الٰہی ہے ان کی ذات بابرکات سے بھی بیشمار فوائد امت کو پہنچتے ہیں اور اسی لیے نبی ﷺ نے اپنی اہل بیت کو نوح ( علیہ السلام) کی کشتی سے تشبیہ دی ہے۔ امت کو ان سے محبت و ادب ہی کرنا واجب نہیں بلکہ ان کے طریقے کی سچی پیروی بھی۔ واللہ اعلم۔
1 ؎ ای ما جعل اللہ لرجل من قلبین۔ 12 منہ
Ayah 33:7ترکیب : واذ مقدر باذکر میثاقہم مفعول لاخذنا ومن النبیین متعلق بہ و منک معطوف علی النبیین عطف الخاص علی العام ومن نوح وکذا ما بعدہ عطف علیٰ منک باعادۃ الجار لیصح العطف علی الضمیر المتصل واخذنا منہم الخ الجملۃ معطوف علی الجملۃ السابقۃ لبیان ہذا الوصف واعد عطف علی اخذنا او علیٰ ماول علیہ لیسئل کانہ قال فاثاب المؤمنین واعد للکافرین۔ بیضاوی
تفسیر : اتباع وحی کے حکم کو اول ماجعل اللہ الرجل من قلبین سے مؤکد کیا تھا کہ دل ایک ہے دو نہیں جو دو طرف لگاؤ پس خاص اللہ ہی کی طرف لگانا چاہیے۔ اب اسی حکم کو واذاخذنا من النبیین میثاقہم سے موکد کرتا ہے کہ تم کو وحی کا اتباع کرنا پر ضرور ہے، کس لیے کہ تم اے محمد ﷺ اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے سب نبیوں سے عہد لیا خصوصاً آپ سے اور نوح اور ابراہیم اور عیسیٰ بن مریم سے اور عہد بھی کیسا بڑا مستحکم عہد لیا۔
اب گفتگو اس میں ہے کہ وہ کیا عہد تھا اور کب لیا تھا ؟ دوسری بات کی بابت ابوجعفر رازی نے ربیع بن انس سے اور انہوں نے ابو العالیہ سے اور انہوں نے کعب سے یوں نقل کیا ہے کہ یہ عہد اس وقت لیا تھا کہ جب روز میثاق میں لوگوں کو آدم کی پشت سے باہر نکالا تھا اور تمام بنی آدم سے عہد لیا تھا جیسا کہ فرماتا ہے واذ اخذ ربک من بنی آدم الایۃ اور وہاں انبیاء سے بالخصوص عہد مؤثق لیا تھا اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے، چناچہ اور جگہ بھی اس عہد کا ذکر آیا ہے۔ کما قال اللہ واذ اخذا اللہ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمننن بہ ولتنصر نہ قال اقررتم واخذ تم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشاھدین، مگر بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ عہد انبیاء سے دنیا میں رسول بناکر بھیجے جانے کے بعد لیا تھا۔
اول بات کی بابت مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ انبیاء سے جو عہد لیا گیا تھا وہ اس بات کا تھا کہ دین الٰہی کو قائم رکھیں، احکامِ الٰہی لوگوں کو سنادیں۔ خدا تعالیٰ کی رضامندی ہر بات میں مقدم رکھیں اور باہم اتفاق رکھیں اور ایک دوسرے کی مدد کرے۔
واخذنا منہم میثاقا غلیظا یہ دوسرا جملہ کوئی جدا جملہ نہیں کہ جس سے دوسرا عہد سمجھا جاوے بلکہ یہ پہلے جملہ کی تاکید اور اس کا بیان ہے کہ وہ عہد ایسا ویسا نہیں بلکہ بڑا سخت عہد لیا تھا۔ نبی کو جب اسرار غیب کا رازداں بنایا جاتا ہے تو اس سے اس قسم کا سخت عہد بھی لیا جاتا ہے۔
فائدہ : اول تو جمیع انبیاء کا ذکر عام طور سے کیا کہ ہم نے ان سے عہد لیا تھا، پھر ان میں سے پانچ نبیوں کا نام لیا جو بڑے اولو العزم اور صاحب شریعت تھے، اگرچہ دنیا میں حضرت ﷺ کا ظہور سب نبیوں کے بعد ہو کر آپ ہی پر سلسلہ نبوت تمام کردیا گیا، مگر آپ عالم ازلی میں سب سے پہلے نبی ہیں، چناچہ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس آیت کی شرح میں فرمایا ہے کہ میں سب نبیوں سے پیدا ہونے میں اول ہوں اور بھیجے جانے میں سب سے اخیر ہوں، اس لیے سب سے اول اللہ نے میرا ذکر کیا۔ اس روایت کے سلسلہ میں سعید بن بشیر راوی ضعیف ہے، مگر اس کی مؤید اور بہت سی صحیح حدیثیں موجود ہیں۔
Ayah 33:8لیسئل الصٰدقین عن صدقہم اس عہد لینے کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ یہ اس لیے لیا گیا کہ قیامت کے دن انبیاء سے سوال کرے جو اپنے عہد کے پورا کرنے میں صادق تھے کہ تم نے اپنے کام کو پورا اور عہد کو سچا کردیا۔ لوگوں کو احکام پہنچائے ؟ وہ کہیں گے ہاں۔ اس سے منکرین کا الزام دینا مقصود ہوگا اور ممکن ہے کہ صادقین سے انبیاء کی تصدیق کرنے والے لوگ مراد ہوں کیونکہ صادق کا مصدق بھی صادق ہے اور مومنین بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ جنہوں نے دنیا میں اپنا عہد سچا کردیا اور منکروں کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Ayah 33:9ترکیب : علیکم صفت لنعمۃ اللہ۔ اذ جاء تکم ھومثل اذ کنتم اعداء وقد ذکر فی آل عمران اذ جاء وکم بدل من اذا لا ولی وجنود معطوف علی ریحا لم تروھا صفۃ الجنود الظنونا بالالف فی المصاحف ووجھہ انہ راس ایۃ فشبہ با واخر الایات ویقرء بغیر الالف علی الاصل۔
تفسیر : یا ایھا الذین امنوا یہاں سے اپنی اطاعت کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنا احسان اور فضل یاد دلاکر کہ اے ایماندارو اس سخت وقت کو یاد کرو، جبکہ تمہارے اوپر لشکر چڑھ آئے اور تمہاری سخت حالت ہوگئی تھی، ہم نے ان کو ہزیمت دے کر تم سے ٹال دیا۔
غزوہ خندق کا واقعہ : یہ غزوئہ خندق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو موافق قول 1 ؎ صحیح کے شوال کے مہینے میں ہجرت کے پانچویں سال واقع ہوا تھا اور اس کا باعث یہ ہوا تھا کہ مدینہ کے پاس یہود کا ایک قبیلہ بنی النضیر رہتا تھا۔ ان کی بدعہدی اور شرارت کی وجہ سے نبی ﷺ نے ان کو وہاں سے نکال دیا تھا، ان میں سے بہت لوگ خیبر 2 ؎ جارہے تھے ان لوگوں میں سے سلام بن ابی الحقیق وسلام بن مشکم و کنانہ بن الربیع مکہ میں آئے اور قریش کو حضرت ﷺ کے اوپر چڑھائی کے لیے آمادہ کیا اور ان کی مدد کا وعدہ کیا، پھر وہاں سے نکل کر غطفان 3 ؎ کے قبیلہ کو بہکایا۔ یہ لوگ اول ہی سے حضرت سے بھرے بیٹھے تھے، لڑائی کے لیے آمادہ ہوگئے۔
قریش کے سپہ سالار ابوسفیان صخر بن حرب اور غطفان کا عیینہ ابن حصن تھا۔ سب کا مجمع قریب دس ہزار کے تھا۔ جب حضرت ﷺ کو خبر ہوئی کہ یہ لوگ آتے ہیں تو سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے مدینہ کے شرقی جانب میں خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں لوگوں نے بہت سے معجزات اور آیات بینات کا مشاہدہ کیا۔ پس مخالفین میں سے کچھ تو مدینہ سے شرقی جانب میں احد پہاڑ کے قریب آ اُترے اور کچھ مدینہ سے بلندی کے رخ اتر پڑے کما قال اللہ تعالیٰ واذا جاء وکم من فوقکم، مدینہ کے ایک رخ بلند سطح ہے، ایک رخ نشیب ہے، بلند سطح پر اترنے سے مراد اوپر سے آنا ہے۔ ومن اسفل منکم سے مراد نشیب کے سطح میں اترنا ہے۔ مدینہ کے لوگ چاروں طرف سے سخت محاصرہ میں آگئے، ہر طرح کی تکلیف اور ہر وقت کے خوف سے لوگوں کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ جس کو اللہ تعالیٰ ان آیات میں بیان فرماتا ہے۔
1 ؎ لیکن موسیٰ بن عقبہ وغیرہ کہتے ہیں۔ چوتھے سال ہوا تھا۔ 12 ابن کثیر
2 ؎ یہ ایک پہاڑی سلسلہ میں مدینہ سے کئی منزل جنوب و شمال کے رخ ایک گڑھی ہے اور چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں باغات اور چشمے بھی ہیں۔ 12 منہ
3 ؎ عرب میں بڑا قبیلہ تھا۔ 12 منہ
Ayahs 33:10–12واذا زاغت الابصار کہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں جیسا کہ ڈر کے وقت ہوا کرتا ہے۔ وبلغت القلوب الحناجر اور دل گلوں تک پہنچ گئے تھے۔ یہ ایک محاورہ عرب کی بات ہے۔ شدت خوف کے وقت یہ کہا کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے محاورہ میں کہتے ہیں۔ ناک میں دم آگیا تھا یا کہا کرتے ہیں دل باہر نکل پڑے تھے۔ کلیجہ پانی ہوگیا تھا، اس پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا اور تم اللہ سے طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے، بس سچیّ ایماندار تو یہی کہتے تھے ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، ضرور اسلام فتح یاب ہوگا اور منافق کہتے ہم مصیبت میں پڑگئے اور برے گمان دل میں پیدا کرتے تھے۔
الغرض ایسا سخت وقت تھا کہ ھنالک ابتلی المؤمنون و زلزلوا زلزالا شدیدا کہ ایماندار آزمائے گئے اور سخت زلزلہ میں پڑے پر کھرے اور مخلص نکلے اور منافق لوگ کہ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض تھا یہ کہنے لگے ما وعدنا اللہ ورسولہ الاغرورا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو کچھ ہم سے وعدہ کیا تھا سب جھوٹ تھا۔ القصہ یہ کفار قریب ایک مہینے کے محاصرہ کئے ہوئے پڑے رہے۔ باہم کوئی صف بستہ ہو کر لڑائی نہیں ہوئی، البتہ تیر باری اور سنگ باری ہوتی رہی، البتہ ایک بار عمرو بن عبدود 1 ؎ عامری چند سواروں کو لے کر خندق سے نکل کر مسلمانوں کے قریب آگیا تھا، اس کے مقابلہ کو علی مرتضیٰ ؓ نکلے اور اس کو قتل کر ڈالا۔ آخرکار اللہ نے فضل کیا اور آسمانی لشکر بھیجا، ایک سخت آندھی چلائی اور سردی کے ایام تھے، اس میں سردی بھی نہایت تھی۔ کما قال فارسلنا علیہم ریحًا اس سے وہ نہایت پریشان ہوگئے۔ وجنودًا لم تروھا اور ملائکہ کا لشکر بھی بھیجا جو مسلمانوں کو دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آخر سب ہراساں ہو کر بھاگے، یہاں تک کہ طلیحہ بن خویلد اسدی نے کہا محمد ﷺ نے تم کو سحر میں گرفتار کرلیا، ہوا کے سوا گھوڑوں اور سواروں کی آہٹ ہر طرف سے معلوم ہوتی ہے۔ بھاگو بھاگو پس سب بھاگ گئے۔
1 ؎ فان الریۃ تنفخ من شدۃ الروغ فترتفع بارتفا عہا الی راس الحنجرۃ وھی مدخل الطعام والشراب بیضاوی اس تقدیر پر بھی کچھ اعتراض نہیں پڑتا، کیونکہ سخت خوف میں پھیپھڑا پھول کر گلے تک آجاتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 33:13ترکیب : یثرب غیر منصرف للتعریف و وزن الفعل وفیہ التانیث، یقولون حال او تفسیر لیستاذن عورۃ اے ذات عورۃ ویقرء بکسر الواو و الفعل منہ عور فھو اسم فاعل، لاتوہا بالقصر جاؤ ہاو بالمداعطوھا ماعندھم من القوۃ الایسیرا لبثایسیرا او زمانا یسیرا ای قلیلا۔ لایؤلون الادبار جواب القسم لان عاھد وابمعنی اقسموا ھلم ذکر فی الانعام الا انہ ھھنا متعدد ھذ الازم اشجۃ جمع شحیح بمعنی بخیل و نصبھا علی الحال من فاعل باوعلی الذم واشحۃ الثانی حال من الضمیر فی سلقوکم ینظرون حال من رایتہم بمعنی ابصرتھم تدورحال من فاعل ینظرون۔
تفسیر : ان آیات میں خدا تعالیٰ منافقوں کے ظنون فاسدہ اوراقوال کاذبہ کو نقل کرتا ہے جو اس حادثہ میں بجائے صبرو استقلال کے ان سے ظہور میں آئے اور اس واقعہ میں ان کی لاف زنی کا امتحان ہوگیا۔ تاکہ وقت مصائب اہل اسلام ایسے خیالات فاسدہ دل میں نہ لائیں۔ آیات میں کوئی بات چنداں تفسیر کرنے کے لائق نہیں، صاف ہیں۔
واذا قالت طائفۃ منہم یعنی منافقون کی ایک جماعت نے یہ کہا مقاتل کہتے ہیں وہ بنو سالم کے منافق تھے۔ سدی کہتے ہیں عبداللہ بن ابی اور اس کے یاروں نے کہا تھا، بعض کہتے ہیں بن قیظی اور اس کے دوستوں نے کہا تھا کہ یا اہل یثرب لامقام لکم کہ اے مدینہ والو تمہارے لیے یہاں ٹھہرنے کی جگہ نہیں یا تم دشمن کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے۔ میدان جنگ چھوڑ کر اپنے اپنے گھر چلو یا تم دین اسلام پر قائم نہیں رہ سکتے، دین چھوڑ کر کفر کی طرف رجوع کرو کہ دشمنوں سے پناہ پائو۔
یثرب ‘ ابو عبیدہ کہتے ہیں یثرب زمین کے ایک قطعہ کا نام ہے اور مدینہ اس کے ایک گوشہ میں آباد ہے، بعض کہتے ہیں خاص مدینہ کا پہلا نام یثرب ہے، بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھے ایسے شہر میں رہنے کا حکم ہوا جو اور شہروں کو کھا جاوے، اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔ الحدیث اس سے معلوم ہوا کہ یثرب مدینہ ہے اور آپ نے پھر یثرب نام لینے سے منع کیا، جیسا کہ امام احمد نے روایت کیا ہے تو اس لیے کہ یثرب کے نام میں سرزنش کے معنی پائے جاتے ہیں، اس لیے مدینہ نام لینا بہتر ٹھہرایا۔
ویستاذن فریق اور ایک جماعت منافقون کی آنحضرت ﷺ سے اجازت مانگتی تھی کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں، اجازت دیجئے کہ میدان چھوڑ کر گھر جاویں۔ یہ لوگ بنو حارثہ و بنو سلمہ کے تھے۔ خدا تعالیٰ ان کے عذر کو باطل کرتا ہے کہ یہ صرف انہوں نے بھاگنے کے لیے بہانہ بنایا ہے۔
Ayahs 33:14–19ولودخلت علیہم یعنی ان کے گھروں میں یا مدینہ میں مخالف داخل کئے جاتے۔ من اقطار ھا ای جو انبھا یعنی ہر طرف سے آجاویں۔
تفسیر : ثم سئلوا الفتنۃ پھر ایسی حالت میں ان سے دین سے پھرجانے کی یا مسلمانوں سے لڑنے کی درخواست کی جاوے تو آمادہ ہوجاویں، پھر گھروں کے اکیلے ہونے کا کچھ بھی عذر نہ کریں
ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے یعنی غزوہ خندق سے پیشتر بدر کی لڑائی کے بعد جبکہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوئے اور مسلمانوں کو اللہ نے کامیاب کیا تو اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ اب کبھی پیٹھ نہ دیں گے دل سے لڑیں گے۔ اس کے بعد قضاء و قدر کے مسئلہ سے متنبہ کرتا ہے۔ قل لن ینفعکم کہ اگر تقدیر میں مرنا اور قتل ہونا لکھا ہے تو اس بھاگنے سے کچھ فائدہ نہیں اور بالفرض اگر بھاگ کر بچے بھی تو کب تک ؟ اور اللہ کے سوا دنیا میں کوئی مددگار کار ساز نہیں، اگر وہ بھلائی یا برائی دینا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔
قدیعلم اللہ المعوقین تعویق ٹالنا دیر کرنا کچھ منافق ایسے ہی تھے جو جنگ میں شریک ہونے سے حیلے بہانے کرتے تھے اور اس پر طرہ یہ کہ اپنے بھائیوں سے بھی کہتے تھے کہ ہماری طرف آؤ جنگ میں نہ جائو۔ یہ ان کا شریک نہ ہونا اور تم کو روکنا ان کی بخالت کی وجہ سے ہے جو اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں اور خوف کی حالت میں ان پر غشی سی طاری ہوجاتی ہے، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اے محمد ﷺ تمہاری طرف دیکھتے ہیں، یعنی آپ ہی کو ماویٰ وملجا جانتے ہیں اور جب خوف کا وقت جاتا رہتا ہے تو بھلائی میں شریک ہونے کے لیے بڑی چرب زبانی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کے عمل برباد کردیے وہ بےایمان ہیں۔
Ayah 33:20یحسبون الاحزاب یہاں سے ان کی اور بزدلی بیان کرتا ہے کہ لشکروں کے چلے جانے پر بھی ان بزدلوں کو یقین نہیں ہوتا کہ کفار کے لشکر بھاگ گئے ہیں، جانتے ہیں کہ ابھی گھرے ہوئے پڑے ہیں اور اگر بارد گر کفار کے لشکر چڑھ آئیں تو یہ نامردے یہ آرزو کریں کہ اس وقت ہم مدینہ سے نکل کر باہر جنگلوں میں چلے جاویں اور وہاں سے تمہارا حال دریافت کیا کریں اور اگر وہ تمہارے پاس بھی رہیں تو بہت کم مخالف سے لڑیں۔
Ayah 33:21لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ یہاں سے منافقوں پر تعریض کرکے ان کے مقابلہ میں مخلصین کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ اس واقعہ میں ایسے ثابت قدم رہے۔ اسوۃ خصلۃ حسنۃ (بیضاوی) بکسر الہمزۃ و ضمہا اقتداء بہ فی القتال والثبات فی مواطنہ، (جلالین) یعنی تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنی عمدہ بات تھی، دیکھو وہ ان مواقع میں کیسے ثابت قدم رہے ہیں
Ayahs 33:22–24ولما را المؤمنون الاحزاب الآیۃ یہاں سے لے کر غفورا رحیما تک انہیں کا حال ہے۔ فمنھم من قضٰی نحبہ نذرہ کہ بعض کو ان سچے دین داروں میں سے وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے ہیں شہید ہوچکے ہیں۔ اور بعض منتظر ہیں اور عہد جو انہوں نے کیا تھا پورا کردیا، اس میں کچھ تغیر نہیں کیا۔
Ayah 33:25ورد اللہ الذین کفروا یہاں سے اپنی عنایت اور فضل کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان کافروں کو غصہ میں بھرا ہوا ردکر دیا، ہزیمت دے کر ان کو فائدہ نہ پہنچا، سب نوک دم بھاگے اور اللہ آپ اس جنگ کا کارساز ہوگیا۔
Ayahs 33:26–27وانزل الذین ظاھروھم ان کفار کے جو مددگار اہل کتاب تھے، یعنی بنی قریظہ جو مدینہ کے پاس رہتے تھے اور حضرت ﷺ سے عہد تھا، پھر عہد توڑ کر اس واقعہ میں کفار کے شریک ہوگئے تھے، ان کو ان کی گڑھیوں میں بند کردیا۔ صیاصی جمع صیصۃ وھی الحصون جب ابوسفیان وغیرہ بھاگ گئے تو یہ یہود مسلمانوں کے ڈر سے اپنی گڑھیوں میں جابیٹھے۔ پندرہ دن تک ان کا محاصرہ مسلمانوں نے کیا، ان کے دل میں خدا نے رعب ڈال دیا۔ آخرکار گڑھیوں سے باہر نکلے جوان مرد قتل کئے گئے اور عورتیں اور بچے غلام بنائے گئے اور ان کی جائیداد و املاک بےتکلف مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، یہ اس کی قدرت کاملہ کا ایک کرشمہ تھا۔ کما قال وقذف فی قلوبہم الرعب فریقا تقتلون و تاسرون فریقا و اور ثکم ارضہم و دیارھم واموالہم۔ وارضالم تطوھا اور اس کے سوا تم کو اے مسلمانو ! اور زمین کا بھی وارث کیا جو تمہارے پائوں تلے ابھی تک نہیں آئی۔ اس زمین کا وارث ہونا بطور پیشین گوئی کے فرمایا ہے چناچہ اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت سے ملکوں کا مالک کیا جیسا کہ فارس اور روم اور خیبر اور مکہ بلکہ کل عرب کا وکان اللہ علیٰ کل شی ئٍ قدیرا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 33:28–30ترکیب : ان شرطیۃ و جو ابھا فتعلین امتعکن و اسرحکن بالجزم علیٰ انہ جواب للامر فتعالین و بالرفع علی الاستیناف للمحسنات متعلق باعد منکن حال من المحسنات او بیان لاتبعیض اجراء عظیما مفعول لاعد یضاعف جواب من یات۔
تفسیر : اس سورة میں پیشتر اخلاق انسانی کی اصلاح ہے اور اس مسئلہ کو نہایت تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ معاشرت کے متعلق سب سے اول بات احکام الہیہ کا اتباع ہے۔ کس لیے کہ عقول عالیہ جو مؤید بالالہام ہیں، معاشرت و تمدن میں رسم و رواج سے جو تغیرات واقع ہوئے ہیں ان کا فیصلہ انہی کے ہاتھ ہے، اس لیے سب سے اول خود آنحضرت ﷺ کو اتباع وحی کا حکم بڑی تاکید سے دیا، اس کے بعد ان لوگوں کی سرزنش کی جو سخت حوادث میں احکام الہامیہ کی مخالفت کربیٹھے ہیں۔ جیسا کہ غزوئہ احزاب میں منافقوں سے ظہور میں آیا، جن کی مذمت پچھلی آیتوں میں کی گئی۔ کس لیے کہ رسول الٰہی کی مخالفت سخت محرومی کا باعث ہے۔ اب ایک بات اور اخلاق کے متعلق رہ گئی تھی، جن کو ان آیات یا ایھا النبی قل لازواجک الخ میں ارشاد فرماتا ہے۔ وہ مسئلہ معاشرت ازواج کا ہے۔
آنحضرت ﷺ کا ایلاء : منافقوں کی تکلیف آنحضرت ﷺ کو دلی عداوت اور پوشیدہ کفر کی وجہ سے تھی، مگر حضرات امہات المومنین ؓ کی طرف سے دنیاوی تجمل اور مرفہ الحالی کے سامان طلب کرنے سے بھی آنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف پہنچتی تھی، گو دل سے محبت اور ایمان رکھتی تھیں اور آپ کو اللہ کا رسول برحق جانتی تھیں، لیکن بااینہمہ اپنا شوہر بھی سمجھتی تھیں اور جیسا کہ عورتوں کی جبلت اور طینت ہے، آپ سے دنیاوی معاملات میں وہی برتاوا برتتی تھیں کہ جو معمولی عورتیں اپنے خاندانوں سے برتا کرتی ہیں، یہ لاؤ وہ لاؤ ہمارے پاس فلاں چیز نہیں فلاں کے پاس یہ کچھ ہے، اس پر متعدد بیویوں کی باہمی رقابت اور رشک اور بھی افروختگی کا باعث ہوتا تھا، اس لیے ایک بار آنحضرت ﷺ سب سے خفا ہو کر ایک مہینے تک الگ مکان میں بیٹھ گئے اور صحابہ ؓ کے پاس بھی تشریف نہ لائے، تب یہ آیات نازل ہوئیں جن میں ازواج مطہرات کو تعلیم و تہدید و ترغیب دی گئی۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کو دو باتوں میں اختیار دیا گیا اور اس لیے اس آیت کو آیت تخییر کہتے ہیں کہ اگر تم کو حیات دنیا اور اس کی آرائش منظور ہے تو آؤ میں تم کو کچھ دے 1 ؎ کر بالکل چھوڑ دوں، طریق سنت پر طلاق دے دوں، پھر تم جہاں چاہو جاکر دنیا حاصل کرو اور اگر تم کو اللہ اور اس کا رسول اور دار آخرت منظور ہے تو اللہ نے تم نیک بخت بیویوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اس آیت کے بعد ازواج مطہرات نے طلاق لینا منظور نہ کیا اور آخرت اور اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اور عہد کیا کہ آیندہ آنحضرت ﷺ سے اس قسم کے سوال نہ کریں گی۔ بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سب سے اول حضرت ﷺ نے مجھے فرمایا اور یہ بھی کہہ دیا کہ جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے صلاح لے کر کرنا، میں نے کہا وہ کیا ہے، فرمایا تو مجھے اختیار کرتی ہے اور آخرت کو یا دنیا کو۔ میں نے کہا، اس بارے میں ان سے کیا پوچھوں گی، میں نے اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا۔ اسی طرح سب بیویوں نے کہا، اسی مضمون کو مسلم نے اور ابن جریر اور احمد اور نسائی نے بھی روایت کیا ہے۔
1 ؎ متعہ طلاق جو مہر کی جگہ دیا جاتا ہے۔ کپڑوں کا جوڑا 12 منہ
اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی تو ہم اس کو دو بار اس کا بدلہ دیں گے اور اس کے لیے عزت کی روزی بھی تیار کر رکھی ہے۔ اے نبی کی بیویو ! تم کسی عام عورتوں جیسی نہیں ہو، اگر تم اللہ سے ڈرتی رہو تو دبی زبان سے بات نہ کہا کرو، کیونکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ طمع کرے گا اور (بےرکاوٹ) دستور کے موافق کلام کیا کرو اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہا کرو اور (بناؤ سنگھار) دکھاتی نہ پھرا کرو جیسا کہ اگلے جاہلیت کے زمانہ میں دکھاتی پھرا کرتی تھیں اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اللہ بھی چاہتا ہے کہ اے گھر والو تم میں سے ناپاکی دور کردے اور تم کو خوب پاک کردے اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت کی باتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو بیشک اللہ جو ہے تو بھید جاننے والا ‘ خبردار ہے۔
ترکیب : ومن شرطیۃ یقنت بالیاء رعایۃ للفظ من وبالتاء رعایۃ لمعنا ھا۔ تعمل معطوف علی یقنت نوتہا، جوابھا، واعتدنا، معطوف علی نوء تھا کا حد اصل احد وحد بمعنی الواحد ثم وضع فی النفیء العام مستوھا فیہ المذکر والمونث والواحد والکثیر والمغنی لستن کجماعۃ واحدۃ من جماعات النساء فی الفضل، اھل البیت منصوبا علی النداء والمدح من آیات بیان لمایتقی والحکمۃ معطوف علیٰ آیات اللہ۔
تفسیر : اس آیت کے متعلق یہ بات باقی رہ گئی، وہ یہ کہ علماء کی اس بارے میں بحث ہے کہ یہ اختیار کیا، تفویض طلاق تھی کہ نفس اختیار سے طلاق واقع ہوجاتی یا نہیں ؟ حسن اور قتادہ اور اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات نہ تھی، بلکہ اس بات میں اختیار دیا تھا کہ دنیا کو اختیار کرتی ہو تو آؤ طلاق لے لو یا آخرت کو منظور کرتی ہو، خود طلاق لے لینے میں بھی اختیار نہ دیا تھا۔ بدلیل قولہ تعالیٰ فتعالین امتعکن و اسرحکن سراحا جمیلا اور عائشہ ؓ و مجاہد و عکرمہ و شعبی و زہری و ربیعہ وغیرہم علماء کہتے ہیں کہ ان کو ازخود طلاق لے لینے میں بھی اختیار دے دیا تھا۔ یہاں تک کہ جو بیوی یہ کہہ دیتی کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو بغیر آپ کے طلاق دینے کے اس پر طلاق پڑجاتی۔ پہلا قول بہت ٹھیک ہے۔ مسئلہ جو کوئی اپنی بیوی کو اختیار دے دے کہ خواہ تو مجھے اختیار کرلے، خواہ طلاق لے لے، پس اگر وہ اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو جمہور کے نزدیک طلاق نہیں پڑتی، مگر زید بن ثابت اور علی ؓ کا قول ہے کہ زوج کے اختیار کرلینے پر بھی ایک طلاق بائن پڑجاوے گی اور یہی قول حسن اور لیث اور خطابی اور نقاش کا ہے جو اس نے امام مالک (رح) سے نقل کیا ہے۔ قوی اول بات ہے، کیونکہ صحیحین میں عائشہ ؓ کا قول مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا لیکن ہم نے حضرت ﷺ کو اختیار کرلیا، پھر اس سے ہم پر کوئی طلاق نہ واقع ہوئی اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے کہ محض اختیار دینے سے طلاق واقع ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو جمہور کے نزدیک طلاق پڑجاوے گی، مگر عمرو ابن مسعود و ابن عباس ؓ و ابن ابی لیلیٰ اور ثوری اور شافعی (رح) یہ کہتے ہیں کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور حضرت علی ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں، ایک طلاق بائن پڑے گی اور امام مالک (رح) کا بھی اسی طرف میلان ہے۔
1 ؎ بغیر گواہ اور مہر کے وہ نبی کے لیے حلال ہوجاتی ہے۔