33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 33:31–34

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی تو ہم اس کو دو بار اس کا بدلہ دیں گے اور اس کے لیے عزت کی روزی بھی تیار کر رکھی ہے۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! تم کسی عام عورتوں جیسی نہیں ہو، اگر تم اللہ سے ڈرتی رہو تو دبی زبان سے بات نہ کہا کرو، کیونکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ طمع کرے گا اور (بےرکاوٹ) دستور کے موافق کلام کیا کرو

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہا کرو اور (بناؤ سنگھار) دکھاتی نہ پھرا کرو جیسا کہ اگلے جاہلیت کے زمانہ میں دکھاتی پھرا کرتی تھیں اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو۔ اللہ بھی چاہتا ہے کہ اے گھر والو تم میں سے ناپاکی دور کردے اور تم کو خوب پاک کردے

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت کی باتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھو بیشک اللہ جو ہے تو بھید جاننے والا ‘ خبردار ہے۔

ترکیب : ومن شرطیۃ یقنت بالیاء رعایۃ للفظ من وبالتاء رعایۃ لمعنا ھا۔ تعمل معطوف علی یقنت نوتہا، جوابھا، واعتدنا، معطوف علی نوء تھا کا حد اصل احد وحد بمعنی الواحد ثم وضع فی النفیء العام مستوھا فیہ المذکر والمونث والواحد والکثیر والمغنی لستن کجماعۃ واحدۃ من جماعات النساء فی الفضل، اھل البیت منصوبا علی النداء والمدح من آیات بیان لمایتقی والحکمۃ معطوف علیٰ آیات اللہ۔ تفسیر : اس آیت کے متعلق یہ بات باقی رہ گئی، وہ یہ کہ علماء کی اس بارے میں بحث ہے کہ یہ اختیار کیا، تفویض طلاق تھی کہ نفس اختیار سے طلاق واقع ہوجاتی یا نہیں ؟ حسن اور قتادہ اور اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ یہ بات نہ تھی، بلکہ اس بات میں اختیار دیا تھا کہ دنیا کو اختیار کرتی ہو تو آؤ طلاق لے لو یا آخرت کو منظور کرتی ہو، خود طلاق لے لینے میں بھی اختیار نہ دیا تھا۔ بدلیل قولہ تعالیٰ فتعالین امتعکن و اسرحکن سراحا جمیلا اور عائشہ ؓ و مجاہد و عکرمہ و شعبی و زہری و ربیعہ وغیرہم علماء کہتے ہیں کہ ان کو ازخود طلاق لے لینے میں بھی اختیار دے دیا تھا۔ یہاں تک کہ جو بیوی یہ کہہ دیتی کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو بغیر آپ کے طلاق دینے کے اس پر طلاق پڑجاتی۔ پہلا قول بہت ٹھیک ہے۔ مسئلہ جو کوئی اپنی بیوی کو اختیار دے دے کہ خواہ تو مجھے اختیار کرلے، خواہ طلاق لے لے، پس اگر وہ اپنے خاوند کو اختیار کرلے تو جمہور کے نزدیک طلاق نہیں پڑتی، مگر زید بن ثابت اور علی ؓ کا قول ہے کہ زوج کے اختیار کرلینے پر بھی ایک طلاق بائن پڑجاوے گی اور یہی قول حسن اور لیث اور خطابی اور نقاش کا ہے جو اس نے امام مالک (رح) سے نقل کیا ہے۔ قوی اول بات ہے، کیونکہ صحیحین میں عائشہ ؓ کا قول مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا لیکن ہم نے حضرت ﷺ کو اختیار کرلیا، پھر اس سے ہم پر کوئی طلاق نہ واقع ہوئی اور قیاس بھی اسی کو چاہتا ہے کہ محض اختیار دینے سے طلاق واقع ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اگر عورت نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا تو جمہور کے نزدیک طلاق پڑجاوے گی، مگر عمرو ابن مسعود و ابن عباس ؓ و ابن ابی لیلیٰ اور ثوری اور شافعی (رح) یہ کہتے ہیں کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اور حضرت علی ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں، ایک طلاق بائن پڑے گی اور امام مالک (رح) کا بھی اسی طرف میلان ہے۔ اس کے بعد ازواج مطہرات کے لیے اور حکم سناتا ہے یا نساء النبی من یات منکن بفاحشہ مبینۃ الخ کہ اے نبی ﷺ کی بیویو ! جو کوئی تم میں سے صریح گناہ کرے گی تو دو چند عذاب دی جاوے گی اور یہ بات اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ فاحشہ مبینۃ زنا اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی بیویوں کو اس سے محفوظ و معصوم رکھا ہے اور ان کو پاک اور طاہر کیا تھا، پس یہ صرف تہدید ہے۔ جیسا کہ لئن اشرکت لیحبطن عملک ہے۔ یہ شرط ہے اور شرط وقوع کی مقتضی نہیں۔ بعض کہتے ہیں فاحشہ کا لفظ جب معرفہ ہو کر مستعمل ہوگا تو اس سے مراد زنا ہوگی یا لواطت اور جب نکرہ ہو کر مستعمل ہوگا تو اس سے مراد ہر ایک قسم کا گناہ اور جو اس کی نعت بھی آوے گی۔ جیسا کہ اس جگہ تو اس سے مراد خاوند کی نافرمانی اور سرکشی۔ یضاعف لہا العذاب گناہ کوئی کرے، گناہ ہے، مگر پھر بھی فرق ہے ایک عالم اس کی برائی سے واقف ہو کر کرے، ایک جاہل کرے دونوں میں فرق ہے۔ نبی ﷺ کی بیویاں بڑے رتبہ کی تھیں اور جو کوئی بلند مرتبہ ایسا کام کرے، اس کو دو چند سزا ہے۔ اس سزائے دو چند سے مراد عذاب آخرت ہے کہ وہاں دو چند عذاب ہوگا (مقاتل) ابن جریر کہتے ہیں۔ معاذ اللہ اگر ان سے یہ خطا سرزد ہوتی تو دو بار حد ماری جاتی، جیسا کہ لونڈی کی بہ نسبت آزاد عورت کو زیادہ حد ماری جاتی ہے اور عذاب سے مراد حد ہے۔ کماقال ولیشہد عذابھما طائفۃ من المومنین ومن یقنت منکن الخ القنوت الطاعۃ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے گی اور نیکی کرے گی تو اس طرح اس کو دو چند اجر ملے گا، کیونکہ وہ تمام عورتوں سے اشرف ہے، چناچہ خود اللہ ان کی بزرگی بیان فرماتا ہے یا نساء النبی لستن کا حد من النساء کہ اے نبی کی بیویو تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو، تمہارا مرتبہ بلند ہے۔ آنحضرت ﷺ پر اس موقع میں مخالفین اسلام یہ اعتراض کیا کرتے ہیں اور حضرت ﷺ کی سیرت پاک پر دھبہ لگایا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے کثرت ازواج پر اعتراض اور اس کا جواب : قولھم محمد باوجود اس دعوے کے کہ میں خاتم المرسلین ﷺ ہوں عورتوں کی طرف بڑے حریص تھے۔ قانون قدرت کے مطابق ہر مرد کو ایک عورت کافی ہے جو علاوہ حاجت انسانی پورا کرنے کے لیے اس کی ضروریات خانہ داری کو بھی بخوبی انجام دے سکتی ہے، پھر متعدد عورتیں رکھنا ایک قسم کی شہوت پرستی ہے جو اولو العزم لوگوں کی شان کے بالکل مخالف ہے۔ محمد ﷺ نے اور مسلمانوں کے لیے تو چار عورتوں کی حد لگادی اور اپنے لیے کوئی حد ہی نہیں رکھی اور ایک وقت نو بیویاں اور کئی ایک حرمین موجود تھیں اور ان کے لیے تو نکاح کرنے کی بھی قید تھی اور اپنے لیے تو یہ بھی قید نہ رکھی بلکہ جیسا کہ اگلی آیتوں میں آتا ہے جو کوئی عورت نبی کو اپنا نفس بخش دے 1 ؎ تو وہ نبی کو حلال ہے۔ وامراۃ مؤمنۃ ان وھبت نفسہا للنبی اور خود زید کی بیوی کو بغیر نکاح کے رکھ لیا اور کہہ دیا کہ میرا نکاح آسمان پر فرشتوں نے پڑھادیا ہے اور بھی ایسے واقعات گزرے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے ایک عورت کا شہرئہ حسن سن کر کسی کو بھیج کر اس کو بلایا اور عائشہ ؓ کے ڈر سے اس کو باہر باغ میں اتارا اور جب آپ نے اس پر ہاتھ دراز کیا تو اس نے کہا، میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، یعنی آپ کو پسند نہیں کیا۔ پھر آپ کو برا معلوم ہوا، جس لیے اس سے صحبت نہ کی، اس کے علاوہ اور مسلمانوں کو تو عورتوں میں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا کہ باری سے ہر ایک کے پاس رہا کریں اور اپنے لیے یہ بھی فرض نہ تھا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں آتا ہے ترجی من تشا منہن وتو وی الیک من تشاء اسی لیے عائشہ جل کر کہتی ہیں کہ کیا کوئی عورت اپنا نفس بھی ہبہ کرتی ہے اور جب یہ آیت ترجی اتری تو کہا کہ اللہ اے محمد ! تیری خواہشوں کو بہت جلد پوری کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم) اس لیے محمد ﷺ کی بیویوں میں بڑا جھگڑا رہا کرتا تھا، چناچہ ایک بار سب عورتیں آپ سے چمٹ گئیں، ایک کہتی تھی مجھ سے صحبت کر، دوسری کہتی تھی مجھ سے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور حجروں کے باہر ابوبکر ؓ نے عورتوں کی یہ بےہودہ باتیں سن کر کہا کہ اے محمد ! نماز کو آئیے اور ان کے منہ میں خاک ڈالئے۔ اس بات کو بھی بخاری نے نقل کیا ہے توبہ توبہ یہ شہوت پرستی اور یہ دعویٰ اور لطف یہ کہ اتنی تو بیویاں کیں اور اس قدر ان پر سخت احکام مقرر کئے، اس پر روٹی کپڑا مانگنے سے منع کردیا۔ پہلے انبیاء نے ایسا نہیں کیا۔ حضرت مسیح نے تو سرے سے کوئی بھی عورت نہیں کی اور دنیا میں جس قدر باکمال لوگ آئے ہیں وہ عورتوں سے نفرت ہی کرتے آئے ہیں۔ ان کو شہوت پرستی سے کیا علاقہ ؟ 1 ؎ بغیر گواہ اور مہر کے وہ نبی کے لیے حلال ہوجاتی ہے۔ جواب تحقیقی : اس کا جواب اگر منصف مزاج ذرا بھی انصاف کرے تو سب اعتراض اٹھ جاویں۔ یہ بات تمام اہل تاریخ کے نزدیک مسلم ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ میں عین جوش جوانی کے وقت جو انسانی قوٰی کے موجیں مارنے کا زمانہ ہوتا ہے، ایک بڑھیا عورت سے نکاح کیا، یعنی خدیجۃ الکبری ؓ سے جو حضرت سے عمر میں بہت زیادہ تھیں، وہی پاک باز عورت آپ کو غار حرا کے خلوت خانہ میں دوچار روز کا کھانا پانی دے آیا کرتی تھیں، ان کے انتقال کے بعد ایک اور عورت عمر رسیدہ سیاہ فام سے نکاح کیا جن کا نام حضرت سودہ ؓ تھا۔ باون برس کی عمر تک جو انتہا ئِ جوش جوانی کا موقع تھا یکے بعد دیگر انہیں بیویوں کے ساتھ زندگانی بسر کی، باوجودیکہ آپ خاندانی تھے۔ نہایت خوبصورت بھی تھے اور قریش آپ کو حسین مہ جبین عورتوں کا لالچ بھی دیتے تھے اور عرب کے دستور کے موافق مکہ جو آپ کا وطن تھا، متعدد حسین نوجوان عورتوں کا میسر آجانا کچھ بھی مشکل نہ تھا، کم مرتبہ کے آدمیوں کے پاس مکہ میں متعدد عورتیں رہتی تھیں اور یہ بات عرب کے نزدیک کچھ معیوب بھی نہ تھی، مگر آپ نے مطلق توجہ بھی نہ فرمائی۔ ہجرت سے کچھ دنوں آگے صدیق اکبر ؓ نے بڑی التجا کے ساتھ اپنی دختر نیک اختر عائشہ ؓ سے جو چھ برس کی لڑکی تھی، صرف نکاح کردیا تھا۔ جو بمنزلہ منگنی کے تھا، رخصت نہ کی تھی اور کرتے بھی تو یہ نہایت صغیر سن تھیں۔ مدینہ میں آکر جہاں ہر طرف سے مصیبت کے دروازے کھل گئے اور تمام عرب دشمن ہوگیا۔ ادھر مہاجروں کی فکر بھی آپ ہی کے سر پر پڑگئی تھی۔ عائشہ ؓ کو جوان ہونے پر رخصت کیا، اب اس پردیس میں اور اس مصیبت کے زمانہ میں اور اس تنگدستی میں کہ ہفتے کے ہفتے بےروٹی کے گزر جاتے تھے، کھجور کے چند دانوں اور پانی پر بسر اوقات ہوتی تھی اور اس عمر میں کہ پچاس سے تجاوز ہوگئی، جوانی کے زور جاتے رہے۔ بڑھاپا آگیا، کون دانشمند کہہ سکتا ہے کہ آپ نے اتنی بیویاں شہوت پرستی کے لیے کی تھیں ؟ اور معاشرت کا طریقہ نفرت انگیز اختیار کیا تھا ؟ پردیس میں تو اپنی عزت بڑھانے کے لیے خصوصاً اس قوم میں جاکر جو مددگار اور خاص مرید ہوں، کوئی نفرت کی بات ہو تو لوگ چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ مبادا لوگ بداعتقاد نہ ہوجاویں اور یہ ظاہر ہے کہ آپ سے کوئی انصار و مہاجر بداعتقاد نہ ہوں، پس عقل سلیم تاریخی واقعات پر نظر کرکے صاف صاف کہہ دے گی کہ اتنی بیویاں اور ان کے ساتھ یہ برتاوا شہوت پر مبنی نہ تھا اور جو ہوتا بھی تو یہاں آکر اس قدر عورتوں نے کیوں ازواج مطہرات میں داخل ہونے کی رغبت کی، مکہ میں جوانی کے وقت نہ کی ؟ معلوم ہوا کہ یہ اور بات تھی وہ یہ کہ حضرت ﷺ جس طرح خاتم المرسلین بنائے گئے تھے، اسی طرح آپ کے دین میں حلت و حرمت ‘ طہارت و نجاست ‘ مرد و عورت کے سب احکام تھے۔ مردوں میں سے تو علم دین سیکھنے کے لیے ایک جماعت اس کام کی ہو کر در دولت پر آپڑی تھی، جن کو اصحاب الصفہ کہتے تھے، اسی طرح عورتوں کی جماعت بھی اس کام کے لیے پر ضرور تھی کہ وہ عورتوں کو تعلیم دیا کریں۔ خصوصاً وہ مسائل جو عورتوں سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر غیر مرد سے سننا شرم کی بات ہے۔ اب یہ جماعت نساء اگر محض شاگردوں کے سلسلہ میں ہوتی۔ اول تو آپ ان اجنبی عورتوں سے وہ شرم کے متعلق مسائل حیض و نفاس غسل و جنابت بیان کرتے شرم کرتے اور وہ بھی ان کے دریافت کرنے سے شرم کرتیں۔ مقصود فوت ہوجاتا۔ دوم شاگردوں کا خلوت و جلوت میں رہنا ضروری بات ہے۔ جو قولاً و فعلاً ہر قسم کی تعلیم پاسکیں اور اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کو اجنبی عورتوں کے ساتھ رہنے سے بدگمانی پیدا ہوتی۔ سوم مردوں کی جماعت تعلیم پانے کے وقت صبر اور محنت کشی سے اپنے رزق کافی الجملہ آپ بندوبست کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں تو لکڑیوں کا گٹھ لاکر بیچ سکتے ہیں۔ بخلاف عورتوں ضعیف البنیان کے اس لیے ان کا بندوبست رزق و حاجات بھی حضرت ﷺ ہی کے ذمہ ٹھہرا اس لیے ان تلامذہ کو سلسلہ نکاح میں داخل کرنا پڑا۔ اگر غیر کی بیویاں ہوتیں تو ان کے خاوند ان کو اس قدر مہلت کیوں دیتے اور نیز اس میں یہ بھی مقصود تھا کہ آپ لوگوں کو صفت توکل تعلیم کریں کہ عورتوں کی کج خلقی پر برداشت کرنے کے عرب عادی ہوجاویں جو بےرحمانہ برتاؤ کیا کرتے تھے اور لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوجاوے کہ آنحضرت ﷺ اس عیالداری پر کسی کی بھی پروا نہ کرتے تھے۔ مشہور ہے کہ ایک بیوی کرکے سو کا غلام بننا پڑتا ہے اور بہت سی باتوں میں حق سے چشم پوشی کرنی پڑتی ہے، لہٰذا اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان نیک بیویوں کو جو دینی مدرسہ کی طالب علم تھیں اور وجوہ مذکورہ سے بضرورت ان کو سلسلہ زوجیت میں لایا گیا تھا۔ یہ سنادیا یا نساء النبی لستن کا حدٍ من النساء کہ تم اور عورتوں جیسی عورتیں نہیں ہو، تم خالص دین کے لیے اس بیت العلوم میں داخل کی گئی ہو اور اسی لیے وہ زوجیت معمولی سمجھ کر اور عورتوں کی طرح آرائش و تجمل کے سوالات کرکے حضرت ﷺ کو تکلیف دیتی تھیں، ان کو اختیار دیا گیا۔ جس پر وہ سمجھ گئیں، جب یہ بات تھی تو پھر آپ کے اس مدرسہ یا بیت العلم میں داخل ہونے کے لیے کس لیے تعداد مقرر ہوتی ؟ پھر کسی قدر کیوں نہ آویں، بشرط صلاحیت لینا ہی پڑتا تھا اور اسی لیے اس داخلہ کے لیے نکاح کا لفظ خاص نہ ہوا، انفس کے بخشنے اور دیگر امور مقررہ ان کی توسیع کے لیے جائز قرار پانے ضرور ہوئے اور اسی لیے پھر اور گواہوں کی بھی وہبت نفسی میں ضرورت نہ ہوئی اور اس لیے بیویوں کی طرح باری کے ساتھ ان کے پاس رہنا ضروری نہ ہوا، گو آپ اس پر بھی باری سے رہتے تھے اور ان کی اطمینان قلبی کی باتیں ملحوظ رکھتے تھے اور اگر کوئی عورت دور سے آئی ہو اور پھر اس کو مصائبِ دنیا دیکھ کر اس بیت العلم میں داخل ہونا منظور نہ ہوا تو آپ نے داخل نہ کیا اور باغ میں اتارنا کوئی عیب کی بات نہیں۔ رہا عورتوں کا باہمی جھگڑا سو یہ ان کی جبلی بات ہے اور معاذ اللہ اس شب میں وہ پاک باز بیویاں امر خاص کے لیے آپ سے خواستگار نہ تھیں۔ بات یہ تھی کہ آپ ایک کے گھر تشریف لے گئے، حضرت ﷺ کے انفاس متبر کہ کو ہر ایک غنیمت جانتی تھیں اور بھی آگئیں، گھر والے کو ناگوار گزارا جو ایک طبعی بات ہے، اس پر باہم کچھ قیل و قال تھی۔ جس کو سن کر صدیق اکبر ؓ اس وجہ سے کہ ان کی صاحبزادی بھی ان میں شامل تھیں۔ عورتوں پر بزرگانہ طور پر خفا ہوئے۔ اصل بات یہ تھی، اب مخالف اس کو جس پیرایہ میں چاہے ڈھالے۔ جواب الزامی : حضرت سلیمان اور دائود ( علیہ السلام) کی بیویاں اور حرمین تو سینکڑوں تھیں، پھر عیسائی اور یہودی ان کی کتابوں کو الہامی مانتے ہیں، اسی طرح ہنود کے ہاں کرشن جی کے چودہ سو گوپیاں ناچا گایا کرتی تھیں، اب خواہ اس کو آریہ لوگ بھجن کہیں یا کچھ اور ہم کچھ نہیں کہتے۔ رہا تعدد ازواج کا اعتراض سو اس کا جواب کئی بار ہوچکا کہ انسانی ضرورتیں بعض اوقات ایک بیوی سے پوری نہیں ہوسکتیں اور پہلی کا بغیر قصور چھوڑ دینا انسانی مروت کے خلاف ہے اور فرض کرو مرض یا کسی وجہ سے اولاد جننے کی اس میں صلاحیت نہیں، پس اسلام نے بضرورت تعدد ازواج کی اجازت اور وہ بھی مشروط دی کہ عدل پورا ہو۔ آمدم برسر مطلب، اس تمہید کے بعد پھر ازواج مطہرات کو چند احکام کی تعلیم دیتا ہے، ان اتقیتن اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو۔ یہ جملہ اس لیے فرمایا کہ صرف اسی بات پر بھروسہ نہ کرلینا کہ ہم نبی کی بیویاں ہیں، بلکہ یہ فضیلت تقویٰ کی وجہ سے ہے، چناچہ ازواج مطہرات ہمیشہ زیور تقویٰ سے آراستہ تھیں۔ بیشک اللہ نے مسلمان مردوں اور عورتوں اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لیے اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں کے لیے اور راست باز مردوں اور عورتوں اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں کے لیے اور خدا سے ڈرنے والے مردوں اور عورتوں اور خیرات کرنے والے مردوں اور خیرات کرنے والی عورتوں اور روزہ دار مردوں اور روزہ دار عورتوں اور پاک دامن مردوں اور پاک دامن عورتوں کے لیے اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لیے بخشش کا (صلہ) اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے نہ کسی ایماندار مرد اور نہ کسی ایماندار عورت کو یہ لائق ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو ان کو اپنے کام میں اختیار باقی رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ صریح گمراہ ہوا اور (یاد کرو) جبکہ آپ اس کو کہ جس پر اللہ نے احسان کیا اور آپ نے بھی احسان کیا یہ کہہ رہے تھے کہ اب اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور اپنے دل میں وہ بات مخفی رکھتے تھے کہ جس کو اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اور لوگوں سے ڈر رہے تھے اور ڈر نا تو زیادہ اللہ ہی سے چاہیے، پھر جب زید اس عورت سے اپنی غرض پوری کرچکا تو اس کا ہم نے آپ سے نکاح کردیا تاکہ ایمانداروں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں ممانعت نہ رہے، جبکہ وہ ان سے بےتعلقی کرچکیں اور اللہ کا حکم ہو کر رہتا ہے۔ نبی پر اس بات میں کچھ بھی ممانعت نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردی ہے۔ جیسا کہ اللہ کا پہلے لوگوں میں دستور تھا (ان پر نکاح کرنے میں کوئی ممانعت نہ تھی) اور اللہ کا حکم مقرر ہوچکا تھا۔ وہ پہلے لوگ جو اللہ کا پیام پہنچاتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہ ڈرتے تھے اور کافی ہے، اللہ حساب لینے کو۔ ترکیب : اعد اللہ الجملہ خبران۔ والخیرۃ مایتخیرو جمع الضمیر الاول لعموم مومن و مؤمنۃ لانھما فی حیز النفی و جمع الضمیر فی من امرھم التعظیم واللہ والواو واللحال سنۃ اللہ نصبہ علی المصدر ای سن ذلک سنۃ الذین یبلغون وصفۃ للذین خلوا ومدح لھم منصوب اومر فوع۔ الوطرا الحاجۃ۔ تفسیر … پہلا حکم : حضرت ﷺ کی حیات میں بھی اور آپ کے بعد بھی، جواب شرط کا محذوف ہے، فلستن کا حد من النساء اس پر دلالت کرتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا جواب فلا تخصنعن بالقول لوگوں سے جو بات چیت کرنے کا اتفاق ہو تو بات میں نرمی اور لگاوٹ نہ کرو۔ فیطمع الذی فی قلبہ مرض تاکہ ناپاک آدمی کہ جس کے دل میں شہوت اور بدکاری کا مرض ہے۔ طمع نہ کرے۔ وقلن قولا معروفا کھری بات کہو، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو عورتیں مہین مہین باتیں اور بڑے اخلاق سے اور ہنس ہنس کر کیا کرتی ہیں۔ خواہ وہ پاک اور صاف دل ہی کیوں نہ ہوں، مگر ناپاک آدمی کے دل میں گدگداہٹ اور تحریک باطل پیدا کردیتی ہیں۔ یہ ایک حکم تھا۔ دوسرا حکم : دوسرا حکم وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی۔ وقرن اہل مدینہ اور عاصم نے وقرن بفتح قاف پڑھا ہے اور لوگوں نے بکسر قاف پہلی قرأت کے موافق یہ معنی ہوں گے۔ افتر رن ای الزمن بیوتکن من قولھم قررت بالمکان اقر قرائا فحذفت الراء الاولیھی عین الفعل لثفل التضعیف ونقلت حرکتھا الی القاف کما فی ظللت ظلت وعلی الثانی فقیل ھو من قررت اقررت اقرمعناہ اقررن بکسر الراء فحذفت الاولی ونقلت حرکتھا الی القاف وقیل ھومن الوقارمن قولھم و قرفلاں یقرو قوراً اذا سکن واطمئن فھو امر کعدن من الوعد وصلن من الوصل یعنی اپنے گھروں میں بیٹھی رہا کرو، بغیر ضرورت باہر نہ جایا کرو۔ پردہ کا حکم : یہاں سے پردہ فرض ہوا۔ سامنے ہونے کی جیسا کہ پہلے جاہلیت میں دستور تھا۔ ممانعت ہوگئی، جیسا کہ اخیر جملہ میں فرماتا ہے۔ ولاتبرجن تبرج اظہار زینت اور مواقع زینت، مجاہد کہتے ہیں کہ پہلے عورتیں لوگوں کے سامنے آیا جایا کرتی تھیں۔ پس یہی تبرج جاہلیت ہے۔ (ابن کثیر) جاہلیت اولیٰ کے معنی ابن عباس ؓ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ کے زمانہ کو جاہلیت اولیٰ کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ نوح و ابراہیم ( علیہ السلام) کا درمیانی زمانہ بعض کہتے ہیں۔ موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) کا، مگر ابن عطیہ کا قول بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت اولیٰ سے اسلام سے پہلے کا زمانہ مراد ہے اور اس کو اولیٰ زمانہ اسلام کے لحاظ سے کہا نہ اس لیے کہ کوئی جاہلیت آخری اسلام کا وہ زمانہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ جس میں فسق و فجور رواج پایا گیا۔ ان آیات سے نبی ﷺ کی بیویوں کے لیے بلا ضرورت باہر جانا حرام ہوگیا تھا، ضرورت شرعیہ میں سے حج وعمرہ ہے۔ امت کی بیویوں پر گھر میں رہنا باہر نہ نکلنا، اس آیت سے بعض کے نزدیک واجب ہے، قوی تر یہی ہے کہ پردہ میں رہنا مستحب ہے اور اگر بضرورت باہر جاویں تو برقعہ میں یا ایسے چادرے میں کہ جس سے کوئی ستر کی چیز دکھائی نہ دے۔ یہ پردہ فرض ہے۔ اس میں جو کچھ حکمتیں ہیں، غیر قوموں کی بےپردہ عورتوں کے بیجا حالات دیکھ کر بخوبی سمجھ میں آسکتی ہیں۔ تیسرا حکم : تیسرا حکم واقمن الصلوٰۃ نماز ادا کریں۔ چوتھا حکم : چوتھا حکم واتین الزکوٰۃ زکوٰۃ دیں، اس میں صدقہ و خیرات بھی داخل ہے۔ پانچواں حکم : اس کے سوا اور جس قدر احکام شرعیہ ہیں، ان کو بھی بجا لاویں۔ کما قال واطعن اللہ و رسولہ یہ پانچواں حکم جمیع احکام کو شامل ہے، اس میں حج اور رمضان کے روزے بھی آگئے، مگر نماز اور زکوٰۃ کو تاکید و اہتمام کے لیے جداگانہ بیان کردیا۔ یہ وہ احکام ہیں جو تدبیر المنزل و اخلاق اور معاد اور حسن معاشرت کے اصل الاصول ہیں اور تہذیب و شائستگی کا عطر اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہرکم تطہیرا کہ اے اہل بیت نبی ! کے گھر والو یعنی بیویو ان احکام سے اللہ تم کو پاک کرنا اور تمہاری ناپاکی دور کرنا چاہتا ہے۔ الرجس الاثم والذنب، میل کچیل ظاہری کے سواء انسان کی اخلاقی بھی میل کچیل ہوتی ہے، جو مکارم اخلاق اختیار کرنے اور ذکر الٰہی اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے دور ہوتی ہے، وہ کسی دریا یا کنویں کے پانی یا کسی مصالح یا صابن سے دور نہیں ہوتی۔ اہل بیت کی تحقیق : اہل البیت کے لغوی معنی گھر والے کے ہیں اور اصطلاح میں خصوصاً عرب کے عرف میں اس لفظ کا اطلاق خاص بیوی پر ہوتا ہے، گو گھر میں بیٹا، بیٹی پوتا پوتی نواسہ نواسی بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح نوکر چاکر ‘ خادم بھی اور اسی طرح قرآن مجید میں ایک جگہ یہی اہل البیت کا لفظ خاص حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی پر بھی مستعمل ہوا ہے۔ اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت اور عرب بولتے ہیں، کیف اھلک یعنی گھر والی کی خیریت پوچھتے ہیں۔ ہمارے عرف میں بھی اہل خانہ گھر والی بیوی کو کہتے ہیں۔ اس لیے علمائِ اسلام کا ایک جم غفیر اس کا قائل ہوا ہے کہ اس آیت میں اہل البیت سے مراد آنحضرت ﷺ کی بیویاں ہیں، جس کو قرآنی مذاق کچھ بھی ہے۔ وہ سیاق وسباق میں نظر کرکے اس بات کو جلد تسلیم کرسکتا ہے۔ ابن عباس ؓ و عکرمہ وعطاء و کلبی و مقاتل و سعید بن جبیر اسی کے قائل ہیں۔ عکرمۃ کہتے ہیں، میں اس بات پر مباہلہ کرسکتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں، اول میں بھی خطاب نبی کی بیویوں سے ہے۔ کما قال قل لازواجک اور یہاں تک انہی کے متعلق احکام چلے آتے ہیں۔ گھر میں بیٹھنا وغیرہ اور بعد میں بھی انہی کی طرف خطاب ہے۔ واذکرن مایتلی فی بیوتکن اور بیت سے مراد آنحضرت ﷺ کا گھر ہے، جو حضرت ﷺ کی بیویوں کی رہنے کی جگہ ہے، جہاں آپ شب باش ہوتے تھے۔ ابوسعید خدری ؓ و مجاہد وقتادہ اور کل اہل شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اہل بیت سے مراد اس جگہ علی و فاطمہ و حسن و حسین ؓ ہیں، ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عنکم ویطہرکم مذکر کے صیغہ ہیں جو ازواج مطہرات پر اطلاق نہیں کئے جاتے۔ اس کا جواب ان کی طرف سے یہ ہے کہ لفظ اہل کی رعایت سے تذکیر کے صیغے کلام میں آجایا کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس آیت میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی پر اہل البیت کا اطلاق ہوا ہے، وہاں بھی علیکم مذکر کا صیغہ ہے۔ اب فریقین کے وہ دلائل کہ جن سے ہر ایک نے اپنے مطلب کو ثابت کیا ہے، روایات و احادیث و اقوال ہیں، جن کا ہر ایک فریق نے ڈھیر لگادیا ہے۔ پھر ہر ایک نے دوسرے کے راویوں میں کلام کیا ہے اور پھر ہر ایک فریق نے اس کا جواب دیا ہے، اگر اس سب کو نقل کروں تو یہ جلد بھی کافی نہ ہو، اس لیے سب کو ترک کرتا ہوں، مگر فریق ثانی کی ایک حدیث بڑی زور آور ہے۔ جس کو ام سلمہ و عائشہ وواثلہ بن الاسقع ؓ سے بطرق مختلفہ ترمذی و ابن المنذر و حاکم و ابن مرد و یہ بیہقی و ابن ابی حاتم و طبرانی و ابن ابی شبیہ و احمد و مسلم نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، گو اس کے بعض طرق محدثین کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ہیں۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فاطمہ و علی و حسن و حسین ؓ کو ایک سیاہ کمبلی میں لپٹاکر کہ جس کو آپ اوڑھے ہوئے تھے۔ یہ آیت پڑھی اور پھر یہ کہا اللہم ھو لاء اھل بیتی اللہم اذھب عنہم الرجس و طہرھم تطہیرا کہ اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں۔ ان کی ناپاکی دور کردے اور ان کو پاک کردے اور ایک حدیث انہی لوگوں نے یہ بھی روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ فجر کی نماز کو جب مسجد میں جاتے تھے تو فاطمہ ؓ کے گھر پر کھڑے ہو کر یا اہل البیت الصلوٰۃ الصلوٰۃ کہہ کر یہ آیت پڑھتے تھے اور مسلم نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں، یعنی ان کی مراعات رکھنا زید سے کسی نے پوچھا۔ اہل بیت کون ہیں، کیا حضرت ﷺ کی بیویوں میں ان کے اہل بیت نہیں ہیں ؟ کہا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت ہیں، لیکن آپ کے اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی اور عقیل اور جعفر اور عباس کی اولاد۔ ان تینوں حدیثوں کو صحیح مان لینا چاہیے، مگر ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ خاص علی و فاطمہ و حسنین ؓ ہی اہل بیت ہیں اور حضرت کی بیویاں اہل بیت نہیں ہیں، بلکہ پہلی حدیث تو یہی کہہ رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فاطمہ و علی، و حسن و حسین ؓ کو بھی کمبلی میں لے کر اہل بیت میں شامل فرمایا اور ان کے لیے دعا کی ورنہ کیا اللہ کو معلوم نہ تھا کہ یہی لوگ اہل بیت ہیں ؟ پھر ہؤلاء اہل بیتی کہنے کی کیا حاجت تھی ؟ اور اسی طرح دوسری حدیث سے پایا جاتا ہے اور تیسری حدیث تو ان دونوں کے مخالف ہے، اس کے علاوہ یہ قول زید کا ہے جو جعفر و عقیل علی و عباس کی اولاد ؓ کو اہل بیت کہہ رہے ہیں۔ قول فیصل : یہ ہے کہ دراصل اہل بیت تو ازواج مطہرات ہی ہیں اور ان میں حضرت ﷺ نے اپنے پیارے فرزندوں کو بھی شامل فرمالیا اور کیوں نہیں بال بچے اور بہت قریب کے عزیز و اقارب بھی گھر ہی کے لوگ شمار ہوتے ہیں۔ پس اعتقاد صحیح اور محبت خالص یہی ہے کہ ازواج مطہرات اور ان پاک باز لوگوں کو بھی اہل بیت سمجھ کر ان کا تہ دل سے ادب کرے، جن میں حضرت عائشہ صدیقہ اور فاطمہ زہرا اور حسنین بھی داخل ہیں۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ فائدہ : کیا حضرت علی و جعفر و عقیل و عباس کی اولاد بھی جو سینکڑوں برس کے بعد پیدا ہوئی اور ہوگی، سب اہل بیت ہیں ؟ حقیقت میں اہل بیت اور آل وہی لوگ تھے جو حضرت ﷺ کے سامنے موجود تھے اور ان کی اولاد اور اولاد در اولاد کو جو اہل بیت اور آل نبی کہا جاتا ہے تو مجازاً اور ادباً کس لیے کہ نہ یہ حضرت ﷺ کے گھر میں کبھی رہے ہیں نہ حضرت ﷺ ان کی عیالت کرتے تھے۔ حق بات یہی ہے باقی افراط وتفریط ہے جو تعصب یا فرط محبت پر مبنی ہے۔ چھٹا حکم : واذکرن مایتلی فی بیوتکن من آیات اللہ والحکمۃ ان اللہ کان لطیفًا خبیرا۔ یہ چھٹا حکم ہے کہ اے نبی کی بیویو ! وہ جو تمہارے گھروں میں آیات اللہ اور حکمت الٰہیہ کا درس ہوتا ہے۔ اس کو خوب یاد رکھو لوگوں کو سمجھائو۔ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی جزائِ خیر دے گا، کیونکہ وہ لطیف یعنی مہربان لطف کرنے والا خبردار ہے۔ اس پر تمہاری کوشش مخفی نہیں۔ یہ وہی اصلی حکم ہے کہ جس کے لیے یہ پاک باز باخدا بیویاں مدرسہ علم دینیہ میں داخل کی گئیں اور ان کو نبی کی زوجیت کا شرف عطاء کیا گیا۔ پہلے احکام تو خود ان کی تہذیب و شائستگی اور ادب صحبت اور حسن معاشرت کے لیے تھے اور یہ اس خاص مقصد کے لیے کہ جس کے لیے یہ بیویاں بنائی گئیں۔ آیات اللہ قرآن کی آیات اور حکمت سنت، یہ قرطبی کا قول ہے اور ممکن ہے کہ حکمت سے بھی قرآن ہی مراد ہو یا اسرار شریعت و رموز طریقت جو نبی ﷺ کی صحبت سے وقتاً فوقتاً ان کو حاصل ہوتے تھے اور یہ حاصل ہونا گویا ان پر پڑھا جانا یعنی پڑھ کر سنایا جاتا ہے، چناچہ ازواج مطہرات شب و روز اسی میں مصروف تھیں۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں اور ایماندار مردوں اور ایمان دار عورتوں کے لیے اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں کے لیے اور راست باز مردوں اور عورتوں اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں کے لیے اور (خدا سے) ڈرنے والے مردوں اور عورتوں اور خیرات کرنے والے مردوں اور خیرات کرنے والی عورتوں اور روزہ دار مردوں اور روزہ دار عورتوں اور پاک دامن مردوں اور پاک دامن عورتوں کے لیے اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مردوں اور بہت یاد کرنے والی عورتوں کے لیے بخشش (کا صلہ) اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

ترکیب : اعد اللہ بجملۃ خبر ان والخیرۃ ما یتخیر والجمع الضمیر الاول لعموم مومن و مومنۃ لانھما فی حیز النفی وجمع الضمیر فی من امرھم للتعظیم واللہ والو او اللحال سنۃ اللہ نصبہ علی المصدر اے سن ذالک سنۃ الذین یبلغون صفۃ للذین خلو مدح لھم منسوب او مرفوع۔ الوطر الحاجۃ۔ تفسیر : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بالخصوص اور بھی مرد اور نیک عورتیں ایسے تھے کہ جو دین کی اشاعت میں بڑے سرگرم تھے۔ گویا انہوں نے اپنی جان و مال کو اسی کام کے لیے وقف کردیا تھا۔ جیسا کہ عشرہ مبشرہ اور اصحاب الصفہ اور ابوہریرہ و عبداللہ بن مسعود و عبداللہ بن عمرو ابن عباس ؓ اور عورتوں میں سے انصار و مہاجرین کی بہت سی عورتیں۔ ان آیات مذکورہ سے شاید ان کے دل میں یہ خطرہ گزرتا ہوگا کہ ازواج مطہرات ہی کی مساعی جمیلہ خدا کے ہاں پسند ہیں، جن کا آیات مذکورہ میں بیان ہوا اور ہماری کوشش چنداں قابل التفات نہیں، پس ان کی تسلی کے لیے یہ آیت ان المسلمین والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات الخ نازل ہوئی اور اسی کی مؤیّدیہ روایت ہے کہ جس کو عبداللہ بن حمید و طبرانی نے روایت کیا ہے کہ ام عمارۃ انصاریہ نے حضرت ﷺ کے پاس آکر یہ عرض کیا کہ مردوں ہی کا قرآن میں ذکر ہے، عورتوں کا کچھ بھی نہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح ام سلمہ ؓ سے احمد و نسائی و ابن جریر و ابن المنذر و طبرانی نے روایت کیا ہے اور ایسا ہی طبرانی و ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے جس کے اسناد کو سیوطی نے حسن کہا ہے۔ اس آیت میں مسلمان اور ایماندار مرد اور عورتوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ ہے اور ان کے لیے یہ چند اوصاف اس وعدہ کے لیے شرط قرار پائے ہیں۔ اسلام، ایمان، گرچہ عرف علماء میں دونوں لفظوں کا مصداق ایک ہی ہے مگر قرآن و احادیث میں مقامات متعددہ میں لغوی معنی کا لحاظ کرکے اسلام سے مراد انقیاد یعنی احکام ضروریہ کا بجالانا مراد لیا ہے۔ جیسا کہ حدیث جبرئیل سے ثابت ہے، جس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ ان تشہد ان لا الہ الا اللہ و تقیم الصلوٰۃ وتؤتی الزکوٰۃ و تحج البیت و تصوم رمضان اور ایمان میں اعمال کا ذکر نہیں، صرف اللہ اور رسول اور ملائکہ اور کتب الٰہیہ اور اس کے رسولوں اور تقدیر کی تصدیق کرنا اور یقین کرنا، اسی حدیث میں بیان ہوا ہے۔ قنوت یعنی عبادت و اطاعت، صبر یعنی شہوات و دیگر تکالیف کی برداشت کرنا۔ اس میں اشاعت دین کی تکالیف بھی آگئیں۔ خشوع اللہ سے عاجزی کرنا ‘ سرنگوں دنیا میں رہنا تکبر اور سرکشی نہ کرنا۔ صدقہ دینا، زکوٰۃ و خیرات اور دیگر نیک کاموں میں مال صرف کرنا، صوم روزہ رکھنا، عفاف پاک دامن رہنا۔ ذکرِ الٰہی کرنا اور بہت کرنا کسی وقت اس کو دل سے نہ بھلانا، یہاں تک کہ دست بکار دل بیار رہے۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

نہ کسی ایمان دار مرد اور نہ کسی ایمان دار عورت کو یہ لائق ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حم دے تو ان کو اپنے کام میں اختیار باقی رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ صریح گمراہ ہوا۔

اس کے بعد علی العموم مرشد برحق یعنی جناب رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ فقال و ماکان لمومن ولا مؤمنۃ اذا قضٰی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلالا مبینا کہ کسی مومن مرد اور عورت کو اللہ اور رسول کے حکم دینے کے بعد یہ مجازباقی نہیں رہتا کہ اس کو عمل میں نہ لاوے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو صریح گمراہی میں پڑتا ہے، کیونکہ مرشد کامل اور ہادی برحق کے خلاف کرنا گمراہی میں پڑنا ہے۔ یہ ایک عام حکم ہے جو احکام سابقہ کے لیے سربمہر ہے، نہ اس میں زینب ؓ کے نکاح کا ذکر ہے نہ کسی اور کا، مگر مفسرین نے اپنی عادت کے موافق (کہ وہ آیت کے معنی سے چسپاں کرنے کے لیے کوئی قصہ یا واقعہ خواہ مخواہ گھڑ کر اس آیت کو اسی پر ڈھال دیا کرتے ہیں۔ گویا یہ آیت خاص اسی کے لیے نازل ہوئی ہے) یہ روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ نے زید ؓ سے نکاح کرنے کے لیے زینب بنت جحش ؓ سے پیغام دیا جو حضرت ﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ زینب ؓ نے زید کو حقیر جان کر انکار کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ تب زینب نے زید سے نکاح کرنا منظور کرلیا اور ان کی باہم شادی ہوگئی، مگر مؤرخین کہتے ہیں کہ زید سے زینب کا نکاح ہجرت سے آٹھ سال پہلے ہوچکا تھا اور یہ سورة ہجرت کے پانچویں برس نازل ہوئی ہے، پھر اس میں زینب کے نکاح کی طرف کیونکر اشارہ ہوسکتا ہے ؟ نبی کی نافرمانی یا کہو اللہ اور رسول کی کسی بات میں نافرمانی اگر انکار کے طور پر ہے تو کفر ہے اور اگر قبول ہے، مگر سستی سے یا خواہش نفسانی سے ہے تو فسق ہے۔ لوگوں کی ہدایت کا دارومدار نبی ( علیہ السلام) کی عظمت پر ہے، اس لیے مخالفوں کے بعض مطاعن کو جو حضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے (اور ایسا ہوتا ہی، آیا ہے کس لیے کہ کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں آیا ہے کہ جس کی کسی بات پر بھی لوگوں نے اپنی کجرائی بدباطنی کی وجہ سے انکار نہیں کیا ہے) دفع کرتا ہے۔ منجملہ ان مطاعن کے ایک طعن زید کی بیوی زینب سے نکاح کرلینے کے بارے میں تھا جو حضرت ﷺ نے زید کے طلاق دینے اور عدت گزر جانے کے بعد ایک حکم آسمانی اور مصلحتِ الٰہیہ کی وجہ سے کیا تھا۔
Ayahs 33:37–39

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جبکہ اس کو کہ جس پر اللہ نے احسان کیا آپ نے بھی احسان کیا یہ کہہ رہے تھے کہ اب اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور اپنے دل میں وہ بات مخفی رکھتے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اور لوگوں سے ڈر رہے تھے اور ڈرنا تو زیادہ تو اللہ ہی سے چاہیے پھر جب زید اپنی عورت سے اپنی غرض پوری کرچکا تو اس کا ہم نے آپ سے نکاح کردیا، تاکہ ایمان داروں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کی ممانعت نہ رہے، جبکہ وہ ان سے بےتعلقی کرچکیں اور اللہ کا حکم ہو کر رہتا ہے۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی پر اس بات میں کچھ بھی ممانعت نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردی ہے جیسا کہ اللہ کا پہلے لوگوں میں دستور تھا (ان پر نکاح کرنے میں کوئی ممانعت نہ تھی) اور اللہ کا حکم مقرر ہوچکا تھا۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ پہلے لوگ جو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہ ڈرتے تھے اور کافی ہے اللہ حساب لینے کو۔

تفسیر … زینب ؓ کے قصہّ کی تحقیق اور مخالفوں کا جواب : فقال اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس واللہ احق ان تخشہ، اس آیت میں ضرور ایک واقعہ گزشتہ کی طرف اشارہ ہے اور باتفاق مفسرین وہ زید بن حارثہ ؓ اور اس کی بیوی زینب بنت جحش ؓ کے جھگڑے کی طرف اشارہ اور اسی پر آیت کے الفاظ چسپاں ہیں۔ وہ قصہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ضمانت و کفالت اور بڑی کوشش سے زینب کا نکاح زید سے ہوا تھا۔ زینب قوم کی قریش اور اس پر تند خو تھیں، اکثر معاملات میں میاں بیوی کی تو تو میں میں رہتی تھی۔ آخر ناچار ہو کر زید نے حضرت ﷺ سے شکایت کی اور بجز آپ کے اس کا تھا کون اور یہ بھی ظاہر کیا کہ میں اس کو طلاق دیتا ہوں، اس کی بدمزاجی سے میرا اس کا نباہ ہو نہیں سکتا۔ حضرت ﷺ نے زید کو کہ جس پر اللہ نے انعام کیا، اس کو مشرف بااسلام کیا اور خود حضرت ﷺ نے بھی اس پر انعام کیا کہ اس کو آزاد کیا۔ منع کیا اور کہا طلاق نہ دے، کیونکہ جانتے تھے کہ پھوپھی کی بیٹی ہے، میں نے ہی اس کا نکاح کروایا ہے۔ آخر پھر مجھ کو ہی اس کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور کیا جاوے گا اور میں جو اس سے نکاح کروں گا تو لوگ مجھے طعنہ دیں گے کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ یہ بات تھی کہ جس کو حضرت ﷺ دل میں مخفی رکھتے تھے۔ یعنی سوچے ہوئے تھے اور اسی سبب سے لوگوں کی طعنہ زنی سے ڈرتے تھے، جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو تنبیہ کرتا ہے کہ لوگوں سے کیا ڈرتا ہے۔ اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ لوگوں سے ڈرنا اور ایک ناجائز رسم کے توڑنے میں رسول کو دل میں لوگوں کے طعنہ کا خوف کرنا، خدا کے نزدیک ناپسند بات تھی کہ جس کی نسبت فرماتا ہے۔ تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ تو اپنے دل میں جو بات سوچ کر چھپاتا اور لوگوں سے ڈرتا ہے۔ اللہ اس کو ظاہر ہی کرکے رہے گا، چناچہ خدا نے اس کو ظاہر کردیا۔ جیسا کہ خود فرماتا ہے۔ فلما قضٰی زید منہا وطراً زوجنا کہا کہ جب زید ؓ اس عورت یعنی زینب ؓ سے اپنی حاجت پوری کرچکا، نکاح کرکے گھر میں رکھ کے طلاق دے دی تو اس کا نکاح ہم نے اے نبی تجھ سے کردیا، یعنی ہم نے اس کے نکاح کرنے کا تجھ کو حکم دیا۔ بخاری و ترمذی و احمد وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ زید بن حارثہ زینب کی شکایت لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے اس کو یہی سمجھایا کہ نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر اس پر یہ آیت و تخفی فی نفسک الخ نازل ہوئی، پھر اس سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرلیا اور اس کا ایسا ولیمہ کیا کہ جو کسی بیوی کا ولیمہ نہیں کیا۔ سب لوگوں کو گوشت اور روٹی کی دعوت کھلائی۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ خود خدا نے یا آسمان پر فرشتے نے نکاح پڑھادیا تھا اور چپ چاپ زینب کے پاس چلے گئے تھے۔ جیسا کہ معترض روایات میں غور نہ کرنے سے سمجھتا ہے۔ زوجنا کا فرمانا حضرت ﷺ کے دلی خوف کا اظہار کردینا ہے کہ جس کو آپ دل میں لوگوں کے ڈر سے مخفی رکھتے تھے اور اے نبی ! تجھ سے اس کا نکاح ہم نے کیوں کردیا۔ لکی لایکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم اذا قضوا منہن وطرًا وکان امر اللہ مفعولا کہ مسلمانوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں جبکہ وہ ان کو طلاق دے چکیں کوئی ممانعت نہ رہے۔ یعنی یہ عورت اسلام میں محرمات میں سے نہیں ہے اور ایک رسم کی وجہ سے لوگ اس کو حرام جانتے ہیں۔ یہ رسم اور الحاق جاہلیت مٹ جاوے۔ درحقیقت ایسے رسوم کے توڑنے میں لوگوں پر بڑے حملے ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں چچی اور ممانی سے نکاح کرنا بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی اس رسم کے توڑنے کے لیے کرلیتا ہے تو دیکھئے اس پر کیسے کیسے بہتان باندھے جاتے ہیں اور کیسے حملے ہوتے ہیں ؟ فرماتا ہے یہ بات ہو کر رہنے والی تھی، خدا کو اس کا مٹانا منظور تھا۔ ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ کوئی اگر شبہ کرے کہ اس رسم کو نبی ﷺ سے کیوں مٹوایا، کسی اور کا نکاح کرکے اس کو توڑ دینا تھا، اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ نبی پر کیا عیب ہے اور کیا تنگی اور ممانعت ہے اس کام کے کرلینے میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا یا اس کو اس پر مامور کردیا۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل اگلے انبیاء اور صلحاء میں بھی اللہ کا یہی دستور چلا آیا ہے کہ وہ ان کے ہاتھ سے رسوم جاہلیت کو تڑوایا کرتا ہے، انہی کو اس کے توڑنے پر مامور کیا کرتا ہے، کیونکہ نشانہ ملامت بننا انہیں مرد ان خدا کا کام ہے۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا اور اللہ کی بات مقرر ٹھہرائی گئی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ٹلتی نہیں ہو کر رہتی ہے اور یہ دستور رسم شکنی کن لوگوں کا ہے ؟ الذین یبلغون رسٰلت اللہ و یخشونہ ولا یخشون احدًا لا اللہ ان کا جو اللہ کے احکام پہنچایا کرتے ہیں اور اللہ کے سوا وہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں، کسی کے طعن وتشنیع اور برا بھلا کہنے کی ان کو کچھ پروا نہیں ہوتی ہے۔ وکفی باللہ حسیبا اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو، جو ان پاک بازوں پر طعن کرتے ہیں۔ ان سے وہ ضرور حساب لے گا، باز پرس کرے گا۔ یہ ہیں ان آیات کے صاف صاف معنی جن پر کوئی بھی خدشہ کسی مخالف کا وارد نہیں ہوسکتا۔ واضح ہو کہ اسلام میں ظاہر ہو کر مخالف ہمیشہ سے اپنی کاریگری کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے بہت سی جھوٹی حدیثیں بھی گھڑی ہیں، جن سے اسلام اور پیغمبر پر بدنما دھبہ لگانا مقصود ہوتا ہے اور قرآن مجید کی تفسیر کرنے میں بھی وہ ایسی روایات شامل کردیتے ہیں کہ جن سے آیات کا مطلب الٹ پلٹ ہوجائے اور اسلام پر کوئی عیب لگے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر انہوں نے ایسا کیا ہے۔ منجملہ ان کے یہاں بھی عجیب و غریب روایات گھڑی ہیں۔ کسی نے کہہ دیا کہ زینب ؓ اچھے کپڑے پہنے کھڑی تھی۔ پیغمبر ﷺ جو زید ؓ کے گھر میں گئے، زینب کو دیکھ کر فریفتہ ہوگئے اور اللہم مقلب القلوب پڑھ کر چلے آئے۔ زینب ؓ اس لگاوٹ کو سمجھ گئی، اس نے زید سے کہہ دیا، زید کو غیرت آئی طلاق دے دی آپ نے جھٹ پٹ نکاح کرلیا، بلکہ بےنکاح کئے شوق میں آکر اس کے گھر میں گھس گئے اور اس سے ہم بستر ہوئے اور جو کسی نے پوچھا تو کہہ دیا کہ میرا نکاح اس سے آسمان پر ہوچکا ہے۔ تخفی فی نفسک کے معنی زینب کی محبت اور اس کا عشق مراد لیا ہے اور بعض نے کہا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ دل میں تو یہ تھا کہ زید اس کو چھوڑ دے، لیکن اس کو لوگوں سے ڈر کر ظاہر نہیں کرتے تھے اور بظاہر زید کو کہتے تھے کہ اس کو طلاق نہ دے۔ معاذ اللہ معاذ اللہ نبی ( علیہ السلام) پر کیا کیا بہتان باندھتے ہیں۔ زینب تو آپ کی پھوپھی زاد بہن تھی، لڑکپن سے آپ کے سامنے ہوتی تھی اور کون عورت تھی کہ جو حضرت ﷺ سے پردہ کرتی تھی، پھر کیا آج ہی حضرت ﷺ نے زینب کو دیکھا تھا اور اگر ابتداء سے محبت تھی تو زید سے کیوں نکاح کروایا، جو بمشکل اس کے ورثاء راضی ہوئے تھے۔ آپ ہی کیوں نہ کرلیا جو بڑی خوشی سے اس کے وارث منظور کرتے۔ ان بےدینوں سے تو یہ بہتان بندی کچھ بھی تعجب نہیں مگر تعجب تو اپنے بعض 1 ؎ سیدھے سادھے بھولے بھالے مفسرین سے ہے کہ جنہوں نے ان کی روایات کو اپنی تفاسیر میں نقل کردیا اور ان کے اس کہنے سے دھوکے میں آگئے۔ حد ثنا فلان عن فلان۔ یہ حضرات تو بس اس حد ثناء پر غش ہیں، پھر نہیں دیکھتے کہ اس کے راوی کیسے ہیں اور یہ روایت کیسی ہے ؟ جو مخالفین اسلام ان روایات یا ان سادہ لوح مفسرین کے اقوال سے آنحضرت ﷺ پر عیب لگاتے ہیں، وہ عیب دراصل آنحضرت ﷺ پر کچھ بھی نہیں لگتا، بلکہ ان راویوں پر۔ نہ ہم ان بےہودہ روایات کی صحت کے قائل ہیں نہ ان پر جو اعتراضات پڑتے ہیں، ان کے جواب کے ذمہ دار ہیں۔ 1 ؎ برخلاف محققین مفسرین کے اللہ ان کو جزائِ خیر دے انہوں نے اس مقام پر ہمارے موافق معنی لکھے ہیں ابن کثیر نے ان روایات پر ذرا بھی توجہ نہ کی اور کہہ دیا کہ یہ چھوڑ دینے کے قابل ہیں۔
Ayahs 33:40–41

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں (زید کے بھی نہیں) لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں پر مہر ہیں اور اللہ ہر بات جانتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

ایمان دارو اللہ کو بہت یاد کیا کرو

ترکیب : ولکن بالتشدید فخبرہ محذوف ای ولکن رسول اللہ اب من غیر وراثتہ۔ او یقال ولکن کان رسول اللہ، بکرۃ واصیلا ظرفان للتسبیح تحیتھم اضافۃ المصدر الی المفعول مبتداء وسلام خبرہ یوم یلقونہ ظرف لہ۔ ای یحیون یوم لقائہٖ تعالیٰ عند الموت او الخروج من القبر او دخول الجنۃ بالسلام یقال لھم السلام علیکم او یخبر بالسلامۃ من کل مکروہ و آفتہ فضلا کبیرا اسم ان لہم خبرہ ومن اللہ صفتہ والجملۃ معطوف علی محذوف مثل فواقب احوال امتک۔ ماکان محمد ابا احد من رجالکم اب ان کے اس طعن کا جواب دیتا ہے کہ محمد ﷺ نے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا کہ محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ ہی نہیں کیونکہ اس وقت فاطمہ زہرا ؓ اور بعض صاحبزادیاں تھیں، وہ مرد نہیں اور صاحبزادے قاسم و طیب وغیرہ لڑکپن میں انتقال کرچکے تھے، رہے حسن و حسین ؓ گو وہ حقیقی بیٹے نہ تھے بلکہ نواسے مگر مرد یعنی بالغ جوان وہ بھی اس وقت نہ تھے، بچے تھے۔ مطلب یہ کہ زید کے آپ باپ نہیں پھر کس وجہ سے طعن کرتے ہو ؟ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین لیکن اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے پچھلے ان کی نبوت کا سلسلہ ختم کرنے والے ہیں۔ ابن عامر و عاصم نے خاتم کو بفتح تاء پڑھا ہے جس کے معنی ہیں مہر کے کہ آپ سب نبیوں کی مہر ہیں۔ جب کسی چیز پر بند کرکے مہر لگادیتے ہیں تو اس میں اور نہیں داخل ہوتی۔ اسی طرح آپ سے سلسلہ نبوت کو تمام کرکے اس پر مہر کردی گئی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آوے گا اور دوسرے قراء نے بکسر تاء اسم فاعل کا صیغہ قرار دیا ہے، مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ خاتم النبیین پر دلیل عقلی : احادیث صحیحہ میں بھی تصریح آگئی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ قصر نبوت میں ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی، سو وہ اینٹ آپ ہیں۔ اس کو بخاری و مسلم و احمد و ترمذی وغیرہ نے مختلف صحابیوں سے روایت کیا ہے، مختلف عبارات میں اور اسی پر تمام امت کا اتفاق ہے اور اجماع اور دلیل عقلی اس پر یہ ہے کہ آپ سے پہلے سینکڑوں انبیاء دنیا میں آئے اور گمراہی کی کوئی صورت باقی نہیں رہی، طرح بطرح احکام کے تبدیل و تغیر کرنے سے اصلاحیں ہوتی رہیں، آخر جو کچھ کسر باقی رہ گئی تھی وہ آپ کے عہد میں پوری کردی گئی، رہی نئی پیش آنے والی ضرورتیں ان کی تدبیر بھی کتاب و سنت میں رکھ دی گئی ہے، وقتاً فوقتاً مجدد یا مجتہد یا حکیم امت کتاب و سنت سے وہ حاجت برآری کرسکتے ہیں۔ نئے نبی بھیجنے میں سیاست ملیہ میں بڑا انقلاب واقع ہوتا ہے جس میں ہزاروں گمراہ ہوجاتے ہیں، اس لیے اس مشقت اور زحمت کو اپنے بندوں سے دور کردیا، جس کی طرف وکان اللہ بکل شیئٍ علیما میں اشارہ ہے کہ عواقب امور اللہ کی نظر میں ہیں، اس کی مصلحت وہ خوب جانتا ہے اور نیز آیندہ آیات میں بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ حضرت ﷺ کے بعد قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نبی آویں گے، جیسا کہ اہل اسلام بلکہ عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے، پھر آپ خاتم کیونکر ہوگئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نئے نبی نہیں ہیں، بلکہ آپ سے پہلے ہوچکے ہیں اور زمین پر آکر حضرت ﷺ کے دین کی اشاعت کریں گے۔ آپ کے نائب ہوکر۔ بندوں پر خدا نے ایسے نبی کے بھیجنے سے بڑا احسان کیا ہے، اس لیے اس نعمت کے شکریہ میں حکم دیتا ہے۔ یا ایھا الذین امنوا اذکرو اللہ ذکر اکثیرا کہ اے ایمان والو ! اللہ کو بہت یاد کیا کرو، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور بعثت انبیاء سے مقصود بھی یہی ہے کہ بندے اپنے اللہ کو یاد کیا کریں۔
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور اس کی صبح و شام پاکی بیان کیا کرو۔

و سبحوہ بکرۃ واصیلا اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو۔ سبحان اللہ بحمدہ سبحان اللہ العظیم کہو۔ بری باتوں سے اس کی پاکی بیان کرو کہ وہ سب عیبوں سے پاک ہے، بعض علماء نے اس سے صبح اور عصر کی نماز مراد لی ہے، ذکرِ الٰہی اور تسبیح و تہلیل کے بہت کچھ فضائل احادیث میں آئے ہیں۔ انسان کا دنیا کی کمائی میں سے یہی بڑا حصہ ہے، پھر جس کو خدا نصیب کرے۔
Ayahs 33:43–48

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو (کفر کی) اندھیریوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لائے اور وہ ایمان والوں پر بڑا مہربان ہے۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن مومنین خدا سے ملیں گے ان کے لیے سلام کا تحفہ ہوگا اور ان کے لیے عزت کا اجر تیار کر رکھا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کو گواہی دینے اور خوشی اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا ہے

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف لوگوں کو بلانے کو اور روشن چراغ بناکر بھیجا ہے

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور نبی ﷺ خوشخبری دو ایمانداروں کو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ ماننا اور ان کی ایذا سے درگزر کرتے رہو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ کافی ہے کارسازی کو۔

ھوالذی یصلی علیکم و ملائکۃ ‘ صلوٰۃ کا لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے اور جب ملائکہ کی طرف تو استغفار مگر یہاں مراد معنی مشترک ہیں، وہ عنایت و توجہ بطرف اصلاح کار بندگان یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ اللہ اور عالم بالا کو تمہارے حال پر مہربانی ہے، اس لیے اس نے رسول بھیجا۔ لیخرجکم من الظلمات الی النور تم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاوے۔ وکان بالمؤمنین رحیما وہ مومنین پر نہایت مہربان ہے، یہ دنیا کی رحمت ہے اور آخرت میں تحیتہم یوم یلقونہ سلام جس دن ملیں گے یا مرنے کے بعد وہ ان سے السلام علیکم کہے گا جس کے معنی یہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ واعد لھم اجرا عظیما اور ایمانداروں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کی شرح کرتا ہے کہ نبی کریم کے اوصاف بیان فرماتا ہے۔ فقال یا ایہا النبی انا ارسلنک شاھدا و مبشرا و نذیرًا و داعیا الی اللہ باذ نہ و سراجا منیرا کہ اے نبی ! ہم نے (یہ نہیں کہ ازخود بن گیا) تجھ کو بھیجا ہے شاہد اور مبشر اور نذیر اور داعی الی اللہ اور سراج منیر بناکر۔ شاہد نبی ہے عقول و آراء لوگوں کے تعارض میں اور عادات و رسوم کے اختلاف میں اور تجارب کی کشمکش میں کہ جہاں کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ رائے لگاتا ہے، خدا کی طرف سے اصلی اور سچی بات کے حق ہونے کی شہادت یعنی گواہی دیتا ہے، اس کی شہادت پر فیصلہ ہوتا ہے۔ وہی لوگوں کو نیک کاموں کے عمدہ نتیجہ کا مژدہ اور بشارت دے کر کمرہمت بندھوا دیتا ہے۔ سعادت حاصل کرنے میں سرگرم کردیتا ہے۔ وہی بارگاہ کبریائی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، اس کے حکم سے اس کے گھر میں جاکر نعمتیں حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ صلاے عام پکارتا ہے، ادھر آؤ شہنشاہ حقیقی کی بارگاہ میں تم کو میں لے چلوں میرے پیچھے پیچھے چلے آئو، کوئی مانع نہ ہوگا۔ وہی سراج منیر چراغ روشن ہے۔ (سراج منیر محاورہ عرب میں آفتاب کو کہتے ہیں، تمام دنیا ظلمات اور اندھیروں میں ٹکراتی پھرتی تھی، جب اللہ تعالیٰ کا یہ جہاں آفتاب مکہ کے پہاڑوں پر جلوہ گر ہوا اس نے مشرق سے مغرب تک کو منور کردیا، جس نبی میں یہ اوصاف ہوں اور اس نے دنیا کو منور کردیا ہو، اس کے بعد اور نبی آکر کیا کرے گا، ایک آفتاب کے بعد دوسرے کی کیا ضرورت ؟