33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 33:49–50

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

ایماندارو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں کہ جس کی تم کو گنتی پوری کرنی پڑے، بس ان کو کچھ دے دو اور خوش اسلوبی سے چھوڑ دو ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کے لیے وہ بیویاں حلال کردیں کہ جن کو آپ نے ان کا مہر دے دیا اور وہ عورتیں بھی جو آپ کے ہاتھ لگیں، اس غنیمت سے جو اللہ نے تم کو عنایت کی ہے اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور پھوپھی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئی ہیں اور وہ ایماندار عورت بھی جو اپنی جان نبی کو بخش دے، بشرطیکہ نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے (یہ) خالص آپ کے لیے ہے اور مسلمانوں کے لیے نہیں۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کردیا ہے تاکہ آپ پر کوئی دقت نہ رہے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔

ترکیب : وامراۃ منصوب بفعل محذوف یفسر و ما قبلہ ای حللنا لک امراۃ مؤمنۃ ویمکن ان یکون معطوفا علی ماسبق ولا یمنعہ ان التی للاستقلال فی قولہ ان وھبت لان المراد بالاحلال الاعلام بالحل اذا وقع الفعل علی ذلک کما یقال ابحت لک الکلام بزیدان سلم علیک خالصۃ یمکن ان یکون حالا من الضمیر فی وھبت وان یکون صفۃ المصدر اے ھبۃً ویجوزان یکون مصدرا ای اخلصنا لک ذلک اخلاصا و قد جاءت فاعلہ مصدر امثل العاقبۃ۔ تفسیر … اول حکم : اس کے بعد خود اس صلائے عام کا نبی ( علیہ السلام) کو حکم دیتا ہے۔ فقال وبشر المؤمنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا کہ ایمانداروں کو خوشخبری دے کہ اللہ کا ان پر بڑا فضل ہے۔ دنیا میں ان کو ہر طرح سے سرفرازی دے گا۔ آخرت میں اجر عظیم دے گا۔ اب رہے کافر و منافق جو تصدیق نہیں کرتے اور طرح بطرح کے بہتان باندھتے اور طعن کرتے ہیں اور آپ کو اپنی مرضی کے موافق کرنا چاہتے ہیں۔ پس ولا تطع الکافرین والمنافقین ان کا کہنا نہ مان ودع اذاھم اور ان کی تکلیف اور ایذا سے درگزر کرو توکل علی اللہ اور اللہ پر بھروسہ رکھو یہ تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وکفیٰ باللہ وکیلا اور اللہ کارسازی کے لیے بس ہے۔ آپ کو ان کی کیا احتیاج ہے جو نہیں مانتا نہ مانے، زینب ؓ کے نکاح کا حضرت سے پچھلی آیتوں میں تذکرہ تھا، اس لیے کچھ احکام نکاح و طلاق و عدت کے متعلق بیان فرماتا ہے۔ فقال یا ایھا الذین آمنوا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیہن من عِدَّۃٍ تعتدونہا۔ یہ ایک حکم ہے کہ جس ایماندار عورت سے نکاح ہوا، پھر اس کے پاس جانے سے پہلے اس کو طلاق دینے کی ضرورت پڑجاوے تو اس عورت کے لیے کوئی عدت نہیں کہ جس کو تم گنو۔ اس کو اختیار ہے کہ طلاق کے بعد فوراً اور سے نکاح کرلے۔ من قبل ان تمسوھن ہاتھ لگانے سے پہلے، اگر اس کے معنی صحبت کرنا لیا جاوے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دینے میں عدت نہیں، اس سے یہ بات پیدا ہوگی اگر صحبت نہیں کی اور خلوت ہوئی تب بھی عدت نہیں، جیسا کہ امام شافعی (رح) کہتے ہیں اور اگر اس لفظ کو عام لیا جاوے کہ جس میں خلوت بھی آگئی، تو یہ معنی ہوں گے کہ صحبت اور خلوت سے پیشتر طلاق دینے میں عدت نہیں، پس اگر خلوت کا اتفاق ہوا اور صحبت نہ کی اور طلاق دے دی تو عدت بھی لازم ہوگی اور مرد کو پورا مہر بھی دینا پڑے گا، کیونکہ خلوت بمنزلہ صحبت کے ہے اور اس بات کا امتیاز کہ خلوت کے بعد صحبت کی یا نہیں مشکل ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد ; کا یہی قول ہے اور قرطبی اور ابن کثیر نے اس بات پر اجماع ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ مسئلہ اجماعی ہے۔ عدت تین حیض تک نکاح کرنے سے رکا رہنا اس عرصہ میں عورت اور سے نکاح نہ کرے اور جو حیض نہیں آتا تو تین مہینے تک بند رہے۔ المؤمنات کا لفظ یہ کہتا ہے کہ حکم مسلمان عورت کے لیے ہے، مگر حکم عام ہے۔ اگر اہل کتاب کی عورت سے نکاح کرکے صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو اس کے لیے بھی عدت نہیں، مگر مومنات کا لفظ اس لیے آیا کہ مسلمان کو بہتر یہی ہے کہ مسلمان ہی عورت سے نکاح کرے اور ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ پس یہ قید احترازی نہیں بلکہ اتفاقی ہے کہ یونہی اتفاق ہوا کرتا ہے۔ نکاح کے لغوی معنی صحبت کرنے کے ہیں، مگر قرآن میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے تو اس سے مراد عقد ہے، خواہ بطور حقیقت خواہ بطور مجاز فما لکم کا لفظ یہ کہہ رہا ہے کہ عدت میں عورت کو رکھنا مرد کا حق ہے، اگر وہ عدت میں نکاح کرنا چاہے تو یہ اس کو روک سکتا ہے، تعتدونہا من عددت الدراہم اس کے معنی گنتی کے ہیں اور بعض نے اس کو بالتخفیف بھی پڑھا ہے تو یہ اعتداء بمعنی ظلم سے ہوگا، جس کے معنی یہ ہوں گے کہ ان پر اس صورت میں عدت نہیں کہ جس کے اندر تم ان پر زیادتی کرو۔ والاول اقوٰی۔ شریعت نے عورت کے لیے عدت اس لیے مقرر کی ہے کہ حمل کا حال معلوم ہوجاوے۔ اگر فوراً نکاح کرلے یہ نہ معلوم ہو کہ پہلے خاوند کا حمل ہے یا دوسرے کا، جب صحبت نہیں تو پھر عدت سے کیا فائدہ ؟ دوسرا حکم : فمتعوھن و سرحوھن سراحًا جمیلا یہ دوسرا حکم ہے کہ ان کو متعہ دو اور صاف طور سے چھوڑ دو ، پھر ان سے کوئی دعویٰ نہ رکھو، یہ نہ ہو کہ ادھر میں لٹکائے رکھو۔ متعہ : اس عطیہ کا نام ہے جو خاوند کی طرف سے طلاق کے بعد بیوی کو دیا جایا کرتا ہے، جس کی تعیین میں علماء کا کسی قدر اختلاف ہے۔ حضرت عائشہ اور ابن عباس ؓ کے نزدیک تین کپڑے ہیں اور وہ کس قیمت کے ہوں ؟ یہ غنی اور تنگدست کے حال پر چھوڑا گیا ہے۔ کما قال علی الموسع قدرہ و علی المقترقدرہ، سورة بقرہ، مگر اس کی قیمت نصف مہر مثل سے زیادہ نہ ہو اور پانچ درہم سے کم نہ ہوں۔ امام شافعی (رح) نے اس کی مقدار حاکم کی رائے پر ٹھہرائی ہے۔ اب کلام ہے تو اس میں ہے کہ ایسی عورت کو کہ جس کو صحبت سے پہلے طلاق دی گئی ہو اس کو متعہ دینے سے کیا مراد ہے ؟ کیا واجب ہے یا مستحب اور اس کے سوا اس کو اور بھی کچھ ملنا چاہیے یا نہیں ؟ یہ مسئلہ سورة بقرہ میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے۔ کما قال وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لہن فریضۃ فنصف مافرضتم الآیۃ ان دونوں آیتوں پر نظر کرکے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر اس عورت کے لیے مہر معین نہیں ہوا اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی ہو تو اس کے لیے صرف متعہ دینا واجب ہے، مہر کچھ نہ ملے گا۔ اس آیت احزاب میں غالباً یہی مراد ہے اور اگر مہر 1 ؎ معین ہوچکا ہے تو نصف مہر ملے گا، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت میں ہے اور متعہ دینا اس صورت میں مستحب ہے نہ واجب، یہ اس لیے واجب ہوا کہ آخر اس عورت سے نکاح ہوا ہے۔ گو صحبت نہیں کی اور اس بیچاری کا مہر بھی معین نہیں اور اس پر طلاق کی عار عائد ہوتی ہے، ضرور اس کو کچھ دینا شرط مؤدت ہے۔ یا ایھا النبی انا احللنا لک ازواجک اللاتی اتیت اجورھن یہاں سے وہ احکام بیان فرماتا ہے جو خاص نبی ﷺ سے نکاح کی بابت متعلق ہیں، ہم کہہ چکے ہیں بلکہ ثابت کرچکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے یہ متعدد نکاح جو مدینہ میں آکر ہوئے، ان سے غرض یہی تھی کہ اپنی بیویوں کی ایک جماعت بناکے ان کو دینیات کے سیکھنے پر مامور کریں۔ دراصل یہ بیویاں دینی مدرسہ کے طالب العلم تھیں اور اسی نیت سے ان کو زوجیت میں لیا جاتا تھا تاکہ ان کو نان و نفقہ سے فراغ بالی ہوجائے اور خلوت و جلوت میں آپ سے مسائل سیکھیں، اس لیے ان کے اقسام اور اس مدرسہ کے داخلہ کے دستور اور پھر ان کے اسی غرض کے لحاظ پر حقوق بیان فرمانا ہے۔ ان بیویوں کی کئی قسم تھیں، یعنی کئی ایک طور سے آپ کے زنانہ مدرسہ میں ان کا داخلہ ہوا تھا۔ قسم اول : وہ بیویاں ہیں کہ جن کا معمولی طور پر نکاح ہوا اور آپ نے ان کا مہر ادا کردیا، جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔ اجور جمع اجربمعنی مہر۔ اٰتیت کے یہ معنی نہیں کہ جن کے مہر ادا کئے گئے، وہی آپ کو حلال تھیں اور جن کے ادا نہ ہوئے وہ حلال نہ تھیں، کیونکہ اگر سرے سے مہر کا ذکر بھی بوقت نکاح نہ آوے یا ادا نہ کیا جاوے یا مؤجل قرار پاوے سب صورتوں میں بیوی بالاتفاق حلال ہے بلکہ قید اتفاقی ہے، کس لیے کہ عرب میں مہر کم ہوتے تھے اور شوہر ان کو پہلے سے ادا کر ہی دیا کرتا تھا۔ یہ لاکھوں اور ہزاروں کے مہر نہ تھے، جو محض فخراً باندھے جاتے ہیں، جن کامیاں تو کیا اس کے خاندان سے بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس آیت کی بابت ابن زید ضحاک یہ کہتے ہیں کہ اس میں عام اجازت ہے کہ آپ محارم کے سوا جس سے چاہیں بلا تعداد نکاح کرلیں۔ مہر ادا کردیں، وہ مباح ہیں، جمہور کا یہ قول ہے کہ یہ حضرت ﷺ کی موجودہ بیویاں کی حلت بیان کی گئی ہے کہ جن کا آپ مہر ادا کرچکے تھے۔ اگر تعمیم ہوتی تو بنات عمک الخ جو آگے آتا ہے بیکار ہوجاتا ہے۔ قسم دوم و ما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک وہ عورتیں جو آپ کے ہاتھ کا مال تھیں، غنیمت میں ہاتھ آئی تھیں، جیسا کہ صفیہ و جویریہ جن کو آپ نے آزاد کرکے ان سے نکاح کیا اور اسی طرح ماریہ تھیں کہ جن کے بطن سے ابراہیم پیدا ہوئے تھے۔ یہ بھی آپ کے مکارم اخلاق میں سے تھا کہ لونڈیوں کو اس مرتبہ علیا پر پہنچادیا۔ مما افاء اللہ کی قید بھی اتفاقی ہے، ورنہ جو لونڈی خریدی جاوے یا ہبہ سے حاصل ہو وہ بھی حلال ہے۔ قسم سوم : و بنات عمک و بنات عماتک و بنات خالک و بنات خالاتک چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیاں بھی حلال ہیں۔ اگر آپ ان سے چاہیں نکاح کریں، مگر اس میں یہ شرط تھی۔ التی ھاجرن معک کہ وہ ہجرت کرکے تیرے ساتھ بھی آئی ہوں، کیونکہ اگر ہجرت میں شریک نہیں۔ گو مومنہ ہوں، ان سے آپ کا نکاح درست نہ تھا۔ ترمذی و ابن جریر و طبرانی نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ﷺ نے مجھ سے نکاح کی درخواست کی مگر میں نے ہجرت نہ کی تھی، اس لیے آپ کو منع کردیا گیا۔ قسم چہارم : و امراۃ مومنہ ان وھب نفسہا للنبی وہ عورت جو اپنا نفس نبی کو بخش دے یعنی وھبت لک نفسی کے صیغہ سے نکاح میں آئے، وہ بھی آپ کے لیے حلال تھی مگر صرف اس کا یہ کہہ دینا آپ کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا تھا کہ آپ اس کو خواہ مخواہ اپنی زوجیت میں داخل ہی کرلیں، بلکہ آپ کی مرضی پر منحصر تھا۔ کماقال ان اراد النبی ان یستنکحہا بشرطیکہ نبی کو اس سے نکاح کرنا بھی منظور ہو۔ تب اس کا وھبت نفسی کہنا ایجاب نکاح تھا اور آپ کا قبلت فرمانا قبول انہیں لفظوں سے عقد ہوجاتا تھا، مگر اس میں بھی یہ شرط تھی کہ وہ عورت مومنہ ہو، یعنی مسلمان۔ کتابیہ حضرت ﷺ کے نکاح میں نہیں آتی تھی۔ گو امت کے لیے کتابیہ سے نکاح درست ہے، مگر آپ کے بلند مرتبہ کے لائق یہ ناپاک باطن درست نہ تھی۔ خالصۃ لک من دون المؤمنین یہ نکاح بلفظ ہبہ و بغیر مہر و شہود خاص حضرت ﷺ کے لیے درست تھا نہ کہ اور کسی مسلمان کے لئے۔ بعض علماء نے جیسا کہ سعید بن المسیب و زہری و مجاہد وعطاء و ابن ربیعۃ و شافعی ومالک ہیں۔ خالصۃ لک میں نکاح بلفظ ہبہ کو بھی لیا ہے کہ ہبہ کے لفظ سے نکاح اور کسی کا نہیں ہوسکتا۔ یہ خصوصیت حضرت ﷺ کی تھی، مگر اور علماء خصوصاً کوفہ کے علماء جن میں ابراہیم نخعی و ابوحنیفہ (رح) ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اوروں کا نکاح بھی ہبہ اور تملیک کے لفظ سے ہوسکتا ہے اور آپ کی اس میں خصوصیت نہ تھی۔ خصوصیت صرف مہر اور گواہ نہ ہونے میں تھی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ خود حضرت ﷺ کا بھی کوئی نکاح بلفظ ہبہ نہیں ہوا، کس لیے کہ موہوبہ عورت کے بارے میں ان اراد البنی ان یستنکحہا کا لفظ وارد ہے، جو کوئی عورت یہ لفظ کہتی تھی تو گویا اپنا منشاء ظاہر کرتی تھی کہ میں نے اپنی جان کو دینی کاموں کے لیے نبی کی خدمت گزاری کے واسطے ہبہ کردیا، اس کے بعد آپ اس میں صلاحیت دیکھ کر اس کو زوجیت میں داخل کرتے تھے۔ علماء کا اس میں بھی اختلاف ہے، عبداللہ بن عباس ؓ و مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ﷺ کے گھر میں ایسی کوئی عورت نہ تھی کہ جو صرف نفس کو ہبہ کرکے آئی ہو، بلکہ جس قدر عورتیں آپ کے پاس تھیں یہ وہی تھیں کہ جن سے نکاح کیا تھا اور یہ بات بطور شرط و جزاء کے آیت میں ہے کہ اگر کوئی عورت ایسا کرے تو جائز ہے نہ یہ کہ ایسا کسی نے کیا بھی تھا اور علماء کہتے ہیں ہاں ایسی عورتیں تھیں، پھر کسی نے کہا ہے وہ زینب بنت خزیمہ ؓ ہلالیہ تھی، جس کو ام المساکین کہتے تھے۔ عروہ کہتے ہیں وہ خولہ بنت حکیم ؓ تھی۔ قبیلہ بنی سلیم کی۔ بحث قد علمنا ما فرضنا : چوتھی قسم کے سواء ان احکام نبویہ میں اور مسلمان بھی شریک ہیں، البتہ تعداد میں شریک نہیں، یہ چار سے زیادہ جمع نہیں کرسکتے۔ اس لیے فرماتا ہے، قدعلمنا مافرضنا علیہم فی ازواجہم کہ ان باتوں میں اور مومنین بجمیع وجوہ شریک نہیں ہیں۔ نہ چار سے زیادہ جمع کرسکتے ہیں، نہ بغیر مہر کے نکاح باندھ سکتے ہیں۔ ان کے اوپر جو کچھ حقوق زوجیت ہم نے مقرر کئے ہیں، وہ ہم کو معلوم ہیں، ہم ان کو بھول نہیں گئے ہیں کہ ان کو بھی ان کے حقوق مقررہ کو نسیاً منسیاً کرکے نبی کے ساتھ شریک کردیا جاوے اور نہ صرف بیویوں ہی کے حق بلکہ وفی ماملکت ایمانہم ان کی لونڈیوں کے بارے میں جو حقوق ان پر مقرر ہیں۔ اہل الذمہ کی عورت لونڈی نہیں ہوسکتی، حربی کی ہوسکتی ہے اور ان کے کھانے پینے کے رعایات اور حسن سلوک وغیرہ وہ بھی ہم کو معلوم ہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے، درمیان خالصۃ لک من دون المؤمنین کے اور درمیان لکیلا یکون علیک حرج کے اور کیلا بیان سابق سے متعلق ہے کہ یہ احکام مذکورہ بالا ہم نے تیرے لیے اے نبی اس لیے نافذ کئے کہ تجھ پر تنگی نہ ہو اور کوئی حرج واقع نہ ہو، بلکہ سہولت اور وسعت ہوجاوے۔ وکان اللہ غفورا رحیما اور اللہ جو ہے تو بخشنے والا مہربان ہے۔ بندوں سے جو احکام کی تعمیل میں کوئی قصور ہوجاوے تو اس پر بھی ہم معاف کردیتے ہیں۔ مہربانی کرتے ہیں اور ہماری مہربانی تھی جو تم پر سہل احکام نازل کئے۔ اس مقام پر کتب اصول فقہ میں ایک دلچسپ بحث کی ہے جس کا ذکر فائدہ سے خالی نہیں۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ مہر کی کوئی مقدار شرع نے قائم نہیں کی، زیادہ سے زیادہ کہیں تک ہو اور کم سے کم پیسے دو پیسے تک کا ہوسکتا ہے، جو چیز معاملات بیع و شراء میں قیمت ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ مہر ہونے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اہل ظواہر کے نزدیک قرآن مجید کی تعلیم بھی مہر ہوسکتی ہے اور ایسی قسم کی خدمات بھی، ان کے دلائل بہت سی صحیح احادیث و اقوال صحابہ ہیں مگر علماء کا ایک فریق کہ جن میں امام ابوحنیفہ (رح) بھی ہیں، مہر کی مقدار کمی کی جانب میں شارع کی طرف سے دس درہم ٹھہراتے ہیں کہ زیادہ کا شوہر کو اختیار ہے، مگر کم دس درہم سے نہ ہو، کیونکہ یہ کمی کی حد شرع نے مقرر کردی ہے، ان کے پاس بھی بہت سے دلائل ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ آیت ہے۔ فرض کے لغت میں معنی قطع کے ہیں، اس کا استعمال کبھی بمعنی ایجاب ہوا ہے اور کبھی بمعنی تقدیر یعنی اندازہ کرنا اور عرف شرع میں اس کا اخیر معنی میں اس قدر استعمال ہوا ہے کہ منقول ہونے کے بعد گویا حقیقت عرفیہ ہے، فرض کے معنی اندازہ کرنا اور جب اس کو متکلم کی طرف مستند کیا تو بہ معنی ہوگئے کہ ازواج کے بارے میں جو کچھ ہم نے ٹھہرادیا ہے، یعنی اس کا اندازہ مقرر کردیا ہے، وہ ہم کو معلوم ہے اور کلام مہر میں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مہر اللہ نے ٹھہرادیا اور اس کی حد مقرر کردی، زیادہ کی حد کی تو کوئی ضرورت نہ تھی، البتہ کم سے کم کی حد مقرر کی اور یہ مہر ایک عضو مخصوص کا عوض ہے اور شرع نے کم سے کم اعضاء کے قطع میں جو مقدار قائم کی ہے وہ دس درہم ہے۔ دس درہم سے کم پر چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کٹتا، معلوم ہوا کہ اس عضو کی قیمت یہ ہے، پس اس عضو کو اس پر قیاس کرلیا۔ اس کی بھی دس درہم سے کم قیمت نہ ہونی چاہیے اور آثار صحیحہ میں بھی اس کا بیان آگیا ہے اور صحابہ اور تابعین میں سے بھی اس طرف لوگ گئے ہیں، مگر اس دلیل میں فریق ثانی کو بہت کچھ کلام ہے۔ دوسری بحث : لونڈی غلاموں کی بابت : اس وقت کے نو تعلیم یافتہ یہ کہتے ہیں، غلام لونڈی رکھنا انسانی ہمدردی کے برخلاف اور نہایت مکروہ کام ہے، پھر تعجب ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اس فعل کو روا رکھا اور بہائم کی طرح سے لونڈی غلاموں کو خدمات پر مامور کرنے کی اجازت دی، لونڈیوں سے مباشرت کرنا جائز سمجھا۔ یہ بات پہلے انبیاء کے بھی برخلاف ہے۔ اس کا جواب بعض آزاد لوگوں نے قرآن و احادیث میں تاویل و تحریف کرکے یہ دیا ہے کہ اسلام میں یہ فعل ہرگز درست نہیں ہے، مگر عقلاء کے نزدیک یہ جواب ہو نہیں سکتا کس لیے کہ وہ کہاں تک قرآن و احادیث کی الٹ پلٹ کریں گے، پھر بھی یہ فعل اسلام میں ثابت ہی رہے گا۔ خصوصاً یہ آیات بہ آواز بلند کہہ رہی ہیں کہ اسلام نے لونڈیوں کی معاشرت کی بابت کچھ حقوق مقرر کردیے ہیں اور لونڈیوں سے صحبت کرنا جائز ہے، کما قال تعالیٰ قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم او ما ملکت ایمانہم اور اس سے پہلے کی یہ آیت انا احللنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک و بنات عمک الخ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک آسمانی سلطنت قائم کی ہے جس کا وعدہ اگلے انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی معرفت ہوا تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ یا دنیا میں قائم کرنے والا حضرت محمد ﷺ ہیں۔ دُنیاوی سلطنتیں خاص جہانداری اور حقوق عباد کے لیے ہیں۔ اس سے بڑھ کر خداوندی حقوق کا وہ مطالبہ نہیں کرتیں بلکہ آج کل کی شائستہ سلطنتیں ایسے حقوق کے مطالبہ کو برا جانتی ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی خدا تعالیٰ کو اور اس کے جمیع برگزیدہ انبیاء و اولیاء کو برا کہے بت کو پوجے اس کا انکار کرے، کچھ پروا نہیں، لیکن آسمانی سلطنت سب سے اول انہیں، حقوق کا مطالبہ کرتی ہے، اس کا فرض ہے کہ ایسے جرموں کی سزائیں دے اور خصوصاً کفر و شرک کے جرم کا مطالبہ سخت کرے مگر رحم دلی کے ساتھ اس سلطنت میں برتاوا کیا گیا ہے۔ اول ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے اگر نہ مانیں تو اس سلطنت کے خلاف میں ہونے سے ممانعت کی جاتی ہے اور ماتحتی پر مامور کیا جاتا ہے، اگر پھر بھی وہ مقابلہ پر آویں تو جنگ ہوتی ہے جس میں بجز قتل طرفین کے اور کیا ہوا کرتا ہے مگر عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کو اس جوش کے وقت میں بھی اس سے محفوظ رکھا ہے، پھر جو لوگ کہ قتل سے آزاد کئے جاتے ہیں، ان کو لونڈی غلام بنایا جاتا ہے۔ پھر ان کے آزاد کرنے کی یہاں تک تاکید اور ثواب بتلایا گیا ہے کہ بہت کو آزادی دلادی جاتی ہے اور غلامی کی حالت میں ان کے وہ حقوق قائم کئے ہیں کہ جو اور قوموں میں آزاد لوگوں کے لیے بھی نہیں، یہ داغ غلامی صرف اس جرمِ آسمانی کی یادگاری ہے۔ اب بتلاؤ اس میں بےرحمی ہے یا ان کے قتل کر ڈالنے میں جیسا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں ہوا، کیا اس میں دنیاوی جرائم کے قیدوں سے زیادہ بےرحمی ہے ؟ موسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں بھی غلام لونڈی رکھے جاتے تھے۔ دیکھو توریت 2 ؎ سفر احبار 25 باب درس 44۔ 1 ؎ توریت سفر خروج کے بائیسویں باب 16۔ 17 درس میں عورتوں کو مہر دینے کا ذکر ہے جس کے بعض جملے یہ ہیں۔ قولہ البتہ وہ مہر دے کہ اس سے نکاح کرے۔ وقولہ وہ کنواریوں کے مہر کے موافق اسے نقد دے یعنی مہر مثل یہ وطی بالشبہ وغیرہ کے احکام ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی شریعت میں بھی مہر دنیا ضروری بات تھی۔ 12 منہ 2 ؎ توریت سفر احبار کے 24 باب 16 ورس میں کفر بکنے والے کو ضرور مار ڈالنے کا حکم ہے۔ 12 منہ
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

آپ ان بیویوں میں سے جس کو چاہیں الگ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جس کو آپ نے الگ کردیا تھا، اپنے پاس بلاؤ تو بس اس پر کچھ بھی گناہ نہیں یہ اس لیے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ رنج نہ کریں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دیں اس پر سب خوش رہیں اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والا تحمل والا ہے،

ترکیب : من ابتغیت من موضع نصب بابتغیت وھی شرطیۃ والجواب فلا جناح علیک ویمکن ان یکون مبتداء والعائد محذوف ای والتی ابتغی تھا والخبر فلا جناح کلہن منصوب علی توکید الضمیر فی اٰتیتھن والرفع علی توکید الضمیر فی یرضین من ازواج من مزیدۃ لتاکید الاستغراق و لو اعجبک حال من فاعل تبدل والتقدیر مفروضاً اعجابک بھن الا ما ملکت استثناء من النساء و ھو فی موضع رفع بدلا من النساء او فی موضع نصب علی اصلہ۔ تفسیر : ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ان بیویوں کی بابت معاشرت کے متعلق احکام سناتا ہے اور ہم بارہا ثابت کرچکے ہیں کہ یہ بیویاں دراصل مدرسہ دینیہ کی طالب علم تھیں جو بوجہ مذکورہ ان کو ازواج میں داخل کیا گیا تھا، احکام آیندہ کے لیے اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ فقال ترجی من تشاء فیہن وتؤوی الیک من تشاء ترجی مہموز اور غیر مہموز دونوں طرح سے آیا ہے۔ ارجاء تاخیر ارجئہ اخرۃ اس آیت کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر کا یہ قول ہے کہ یہ آیت شب ہاشی کے بارے میں ہے کہ آپ کو اختیار ہے جس کو چاہے مؤخر کیجئے ساتھ نہ نہ سولایے اور جس کو چاہے اپنے پاس بلایے۔ ایک حکم : یہ ایک حکم خاص آنحضرت ﷺ کے لیے تھا، آپ پر شب ہاشی میں برابری رکھنا واجب نہ تھا، بلکہ آپ کو اختیار دیا گیا تھا جس کے پاس چاہیں رات کو رہیں، جس کے پاس چاہیں نہ ر ہیں۔ بخاری و مسلم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں ان عورتوں پر جو اپنے نفس کو ہبہ کردیتی تھیں، عیب رکھتی تھی، پھر جب یہ آیت ترجی الخ نازل ہوئی تو میں نے کہہ دیا کہ یا حضرت اللہ تعالیٰ تیری خاطر رکھنے میں بہت جلدی کرتا ہے۔ یسارع فی ھواک کے یہ معنی ہیں کہ جو بات تجھ پر شاق گزرتی ہے، اللہ اس کو تجھ سے دور کردیتا ہے، اس کو تیری خاطر بہت منظور ہے۔ ابن زرین کہتے ہیں کہ جب امہات المومنین نے حضرت ﷺ کو نان نفقہ کے بارے میں تنگ کرنا شروع کیا اور آپ خفاء ہو کر ایک مہینے تک سب سے الگ ہوئے، تب آیت تخییر نازل ہوئی اور آپ نے سب کو کہہ دیا، اگر دار آخرت منظور ہے (کہ جس کے لیے تم کو بیوی بنایا گیا) تو جس حال میں رکھا جاوے اس پر رہنا منظور کرو اور جو دنیا مقصود ہو تو آؤ تم کو طلاق دے دوں سب بیویوں نے دار آخرت کو منظور کیا، تب باری سے رہنا بھی واجب نہ رہا یہ آیت اس بارے میں ہے، کیونکہ جب ان کو سمجھا دیا گیا کہ تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو تم خاص ایک دینی کام کے لیے بیویوں میں شامل کی گئی ہو، بیویوں نے بھی سمجھ لیا کہ ہم اسی لیے ہیں، تب سب اس بات پر راضی ہوگئیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے، کیونکہ اگر یہ آزادی پیغمبر ﷺ کو حاصل نہ ہو تو اور سینکڑوں اہم مقاصد دینی میں فرق آجاوے، رات دن بیویوں ہی کے جھگڑے سے فرصت و مہلت نہ ملے، مگر اس کے بعد بھی حتی المقدور آنحضرت ﷺ ان کے حقوق میں اپنی طرف سے برابری رکھتے تھے، جیسا کہ ابن العربی وغیرہ علماء کہتے ہیں اور اسی پر سب کا اتفاق ہے اور اس حدیث سے کہ جس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے، یہی سمجھا جاتا ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ ہماری باری کے دن جو آپ اور بیوی کے پاس رہنا چاہتے تھے تو ہم سے اجازت لیتے تھے۔ اس آیت نازل ہونے کے بعد۔ شعبی وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ آیت طلاق کے بارے میں ہے کہ جس کو آپ چاہیں طلاق دیں، جس کو چاہیں رکھیں، آپ کو اختیار ہے۔ ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اور حسن کہتے ہیں کہ یہ آیت نکاح کے لیے ہے کہ جس سے چاہیں آپ نکاح کریں جس سے چاہیں نہ کریں، آپ کو نکاح کی عام اجازت دی گئی ہے، اس تقدیر پر علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت ناسخ ہے، اگلی آیت لایحل لک النساء من بعد کی ومن ابتغیت ممن عزلت اور تو جس کو چاہے پاس بلالیوے ان میں سے کہ جن کو الگ کرچکا ہے، ساتھ ہونے سے یعنی جن کے ساتھ سونا ترک کردیا ہے، ان میں سے اگر کسی کو بلاوے اور ساتھ سلاوے فلاح جناح علیک تو تجھ پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ تتمہ ہے، ترجی من تشاء کا۔ ذلک ادنٰی ان تقر اعینہن ولایحزن ویرضین بما اتیتہن کلہن یہ اختیار اور تفویض تجھ کو اس لیے دیا گیا ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہوں اور جو کچھ آپ ان کو دیویں اس سے ہر ایک خوش رہے۔ کس لیے کہ جب ان کو یہ معلوم ہوجاوے کہ ہمارا شب باشی میں کوئی حق مقرر نہیں ہے، پھر جس قدر آپ جس سے التفات کریں گے وہ اس کو احسان سمجھے گی، مگر آپ نے اس پر بھی برابری رکھی، واللہ یعلم مافی قلوبکم اور تمہارے دلوں کے حالات کو اللہ خوب جانتا ہے کہ کس طرف زیادہ رغبت ہے، کس کی طرف کم وکان اللہ علیمًا حلیمًا اور اللہ خبردار ہے ہر چیز کا ظاہر و باطن اور ہر چیز کی حکمت و علت اس کو معلوم ہے، جو حکم دیتا ہے اس میں مصلحت دیکھ کردیتا ہے۔ علیم بھی ہے کہ جو بندوں سے احکام کی بجا آوری میں تقصیر ہوتی ہے تو وہ اس پر جلد عتاب نہیں کرتا۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

نہ اس کے بعد آپ کے لیے اور عورتیں حلال ہیں اور نہ یہ کہ ان کو بدل کر اور عورتیں کرلو، گو آپ کو ان کی صورت بھلی معلوم ہو، مگر آپ کے ہاتھ کا مال (لونڈیاں درست ہیں) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

دوسرا حکم : لایحل لک النساء من بعد یہ حضرت ﷺ کو دوسرا حکم ہے کہ آپ کو اور کوئی عورت حلال نہیں۔ مفسرین کے اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں۔ ابن عباس ؓ و مجاہد و ضحاک و قتادہ و حسن و ابن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت ﷺ کو ان موجودہ نو بیویوں کے سواء جو آپ کے پاس تھیں جنہوں نے اللہ اور رسول اور دار آخرت کو اختیار کیا تھا اور بیویوں سے نکاح کرنا منع ہوگیا تھا، ان کی اس نیکی کے بدلے میں اور وہ نو بیویاں یہ تھیں۔ عائشہ، حفصہ بنت عمر، اُم حبیبہ بنت ابی سفیان، سودہ بنت زمعہ ‘ اُم سلمہ بنت ابی امیہ، صفیہ بنت حی بن اخطب، جو خیبر کی رئیس یہودی کی بیٹی تھیں۔ میمونہ بنت الحارث ہلالیہ، زینب بنت جحش اسدیہ، جویریہ بنت حارثہ مصطلقیہ، ؓ حضرت ﷺ کی وفات تک یہی موجود رہیں۔ ان کے بعد اور کی اجازت تو درکنار ان کی جگہ اور عورت کا قائم کرنا ممنوع تھا کہ ایک کو طلاق دے کر اس کی جگہ اور دوسری کو لاویں اور نو کے عدد کو پورا رکھیں۔ کما قال ولا ان تبدل بہن من ازواج ولو اعجبک حسنہن مگر لونڈی رکھنے کی اجازت تھی۔ کما قال الا ما ملکت یمینک مگر وہ جو تیرے قبضہ میں لونڈی آجاوے۔ یہ آیت محکمہ ہے اسی پر اخیر تک حضرت رسول کریم (علیہ السلام) کا عمل درآمد رہا اور اس کے بعد ایک لونڈی آپ کے پاس آئی جس کا نام ماریہ تھا۔ یہ مقوقش بادشاہ مصر نے ہدیۃً آپ کی خدمت میں بھیجی تھی اس سے ابراہیم پیدا ہوئے تھے۔ آٹھویں سال ہجری میں ذی الحجہ کے مہینہ میں جو شیر خوارگی کے زمانہ میں انتقال کرگئے، انہی کی وفات پر حضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ وانی بفر اقک یا ابراھیم لمحزون کہ میں تیری جدائی سے اے ابراہیم غمگین ہوں۔ بعض علماء اس تقدیر پر اس آیت کو منسوخ کہتے ہیں۔ سنت سے اور آیت ترجی من تشاء سے چناچہ احمد و ابو دائود و ترمذی و نسائی نے عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ کو اجازت عام ہوگئی تھی اور ابی بن کعب و عکرمہ ابو رزین وغیرہ کہتے ہیں کہ النساء سے مراد وہ نو بیویاں نہیں بلکہ وہ چاروں اقسام جو پہلے مذکور ہوئے ان کے سوا اور کسی سے آپ کو نکاح کی ممانعت تھی اور تعداد اور تبدل میں آپ مختار تھے اوراقسام اربعہ ہی کے تبدل سے منع کئے گئے تھے اور انہی کی تائید کرتا ہے وہ قول کہ النساء سے مراد کتابیات و مشرکات ہیں کہ آپ کو شرک اور اہل کتاب یعنی غیر مذہب والی عورتیں درست نہیں، ہاں غیر مذہب والی لونڈیوں کا مضائقہ نہیں کس لیے کہ ام المومنین ہونے کا شرف مسلمان عورت ہی کو ہے اور یہی قوی ہے کس لیے کہ مدرسہ دینیہ کے لائق کافر نہیں ان کو نکاح میں لانے سے کیا فائدہ ؟ اس صورت میں آیت کو منسوخ کہنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔ وکان اللہ علی کل شیئٍ رقیبا اللہ ہر شے پر محافظ ہے، اس میں اشارہ ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے جو کام کرو اس بات کا خیال رکھو۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کھانے کے لیے اجازت دی جائے، بغیر اس کے کہ اس کے پکنے کا انتظار کرو، لیکن جب بلائے جاؤ تو داخل ہوجاؤ پھر جب کھانا کھاچکو تو اٹھ جایا کرو اور باتوں کے لیے جم کر نہ بیٹھا کرو، کیونکہ اس سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتا ہے اور حق بات کہنے سے اللہ شرم نہیں کرتا اور جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو، اس میں تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی ہے اور تم کو زیبا نہیں کہ اللہ کے رسول کو ایذا دو اور نہ یہ لائق ہے کہ اس کی بیویوں سے اس کے بعد کبھی بھی نکاح کرو، البتہ یہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی بات کو ظاہر کرو یا چھپاؤ تو اللہ تو ہر بات جانتا ہے۔

ترکیب : الا ان یوذن فی موضع الحال ای لا تدخلوا الا ماذونا لکم الی طعام متعلق بیوذن لا نہ فی معنی یدعو غیر ناظرین بالنصب علی الحال من الفاعل فی یدخلوا اومن المجرد فی لکم و یقرء بالجر علی الصفۃ للطعام وھو غیر جائز عندالبصریین میں لانہ جری علی غیر ماھولہ فیجب ان یبرزالفاعل فیکون غیر ناظرین انتم۔ ولا مستانسین معطوف علیٰ ناظرین اومقدر بفعل ای ولا تدخلوا اولا تمکثوا مستانسین۔ تفسیر : ازواج مطہرات کے حقوق جو نبی ( علیہ السلام) پر تھے، ان کو بیان فرما کر اب وہ حقوق بیان فرماتا ہے جو لوگوں پر ہیں اور نیز بزرگوں کے ساتھ حسن معاشرت کا کیا طریقہ ہے۔ ایک حکم : فقال یا ایھا الذین آمنوا لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم الی طعام غیر ناظرین انہ الخ یہ ایک حکم ہے، اس میں عام مسلمانوں کو حکم ہے کہ نبی ﷺ کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کہ تم کو کھانے کی اجازت دی جائے۔ دوسرا حکم : کھانے کی قید بھی اتفاقی ہے، کس لیے کہ اس آیت کے نازل ہونے کا یہی سبب تھا کہ حضرت ﷺ نے زینب ؓ کے نکاح پر لوگوں کی دعوت ولیمہ کی ‘ لوگ کھاپی کر باتوں میں مشغول ہوگئے، جیسا کہ عام لوگوں کی عادت ہے۔ آپ چاہتے تھے کہ چلے جاویں، شرم کے مارے کہہ نہ سکے، کئی بار اٹھے کہ لوگ اٹھ جاویں مگر تین آدمی پھر بھی باتوں میں مصروف ہی رہے، جب وہ اٹھ گئے تو حضرت ﷺ گھر میں آرام کے لیے تشریف لائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اس کو بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے تو جاؤ اور اس میں بھی یہ شرط ہے کہ پہلے ہی سے جاکر پکنے کے انتظار میں نہ بیٹھ جایا کرو۔ (اناہ نضجہ و ادراکہ یقال انی یانی اذا حان وادرک) جیسا کہ عرب کا دستور تھا، ہاں جب تم کو بلایا جاوے تو جاؤ پھر جب کھا چکو تو اٹھ جائو، باتیں کرنے کو نہ بیٹھ جایا کرو۔ (یہ دوسرا حکم ہے) کیونکہ اس میں نبی ( علیہ السلام) کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہ شرم کے مارے نہیں کہتے، لیکن اللہ کو حق بات بیان کرنے سے کوئی شرم نہیں، عام مسلمانوں کے گھروں کی بابت بھی یہی حکم ہے۔ تیسرا حکم : واذا سأَلتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب ولکم اطہر لقلوبکم و قلوبہن یہ تیسرا حکم ہے کہ نبی ﷺ کی بیویوں سے جو کوئی چیز مانگنی ہو تو پردہ کے باہر سے آواز دے کر مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی صفائی کے لیے عمدہ بات ہے۔ کس لیے کہ جوان عورت کے آمنے سامنے ہونے میں خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ اس آیت کو آیت حجاب کہتے ہیں۔ حجاب کا حکم : ابن جریر وغیرہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ شب کے وقت حضرت ﷺ کی بیویاں حاجت ضروری کے لیے باہر جایا کرتی تھیں اور عمر ؓ ہمیشہ حضرت ﷺ سے پردہ کرنے کے بارے میں عرض کیا کرتے تھے۔ ایک بار سودہ ؓ بھی نکلیں، لمبے قد کی عورت تھیں، عمر ؓ نے دیکھ کر کہا اے سودہ ! ہم نے پہچان لیا، اس غرض سے کہ پردہ کا حکم نازل ہو، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن سعد نے انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ پانچویں سال ہجری میں پردہ کا حکم ہوا اور میں اس وقت پندرہ برس کا تھا۔ بخاری نے بھی نقل کیا ہے کہ عمر ؓ کہتے ہیں میں نے کئی بار عرض کیا کہ آپ کے پاس نیک و بد سب طرح کے آدمی آتے ہیں، اگر امہات المومنین کو پردہ کا حکم ہوجاوے تو بہتر ہے۔ پس یہ آیت حجاب نازل ہوئی اور سودہ ؓ کے بارے میں جو عمر ؓ نے فرمایا ہے۔ بخاری کی کتاب التفسیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت حجاب کے بعد سودہ ؓ باہر نکلی تھیں اور یہی حدیث اس اسناد سے کتاب الطھارۃ باب خروج النساء میں موجود ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حجاب سے پہلے کا معاملہ ہے۔ سیوطی (رح) کہتے ہیں کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں کس لیے کہ اس حدیث میں جو آیا ہے خرجت سودۃ بعد ماضرب الحجاب اس حجاب سے مراد بدن ڈھانکنا ہے جس کا ذکر سورة نور میں آچکا ہے، اس کے بعد کسی غیر قوم نے امہات المومنین ؓ کو نہیں دیکھا اور یہ حکم گو وقرن فی بیوتکن سے بھی سمجھا جاتا تھا جو اس سے پہلی آیتوں میں آیا تھا مگر یہاں بالکل تصریح ہوگئی۔ اور یہی حکم سب مسلمانوں کی عورتوں کے لیے ہوگیا اور اس وقت سے مسلمانوں میں پردہ کا رواج ہوا۔ حقیقت میں یہ ایک ایسی عمدہ بات ہے کہ جس کو غیرت مند لوگ ہی جانتے ہیں۔ ہاں جن قوموں میں یہ رسم نہیں۔ (اور بجز اسلامیوں کے اور قوموں میں نہیں اور ہے تو انہی کی صحبت سے اور عہد آدم سے لے کر اب تک کسی قوم میں مروج نہیں) ان کی آزاد طبیعتیں جو چاہیں اس پر طعن کریں اور عورتوں کو قید میں ڈالنا یا اور کچھ کہیں مگر غیرت اور عصمت پسند طبائع اس کو بہت عمدہ رسم کہتی ہیں۔ چوتھا حکم : وما کان لکم ان تؤ ذوا رسول اللہ یہ چوتھا حکم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی قسم کی ایذا اور دکھ دینا مسلمانوں پر حرام ہے، خواہ زبان سے ایذاء دی جاوے یا آپ سے مخالفت کی جاوے اور آپ کے دین پاک میں کوئی بدعت ایجاد کی جاوے یا آپ کی یا آپ کے اقارب خصوصاً اہل بیت ؓ کی توہین کی جاوے حضرت ﷺ کے ازواج مطہرات پر کوئی عیب لگایا جاوے، سب حرام ہے، جس کی سزا جہنم ہے۔ اعاذ نا اللہ منھا۔ پانچواں حکم : ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا یہ پانچواں حکم ہے کہ نبی کے بعد یا آپ کے طلاق دینے کے بعد کسی مسلمان کو آپ کی بیویوں سے نکاح کرنا ابداً حرام ہے، ایک تو اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی دینی مائیں ہیں جو حقیقی مائوں سے بھی تعظیم و تکریم میں بڑھ کر ہیں اور ماں سے نکاح کرنا حرام ہے، دوسرا یہ کہ بیوی مرد کا فراش اور محکوم ہوتی ہے۔ اس کی خدمت کے لیے اس کو آمادہ رہنا پڑتا ہے، اگر ازواج مطہرات کے ساتھ نکاح کیا جاوے تو یہی ذلت ان کے لیے بھی ظہور میں آوے اور یہ شان نبوت کی پوری تو ہین، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان ذلکم کان عند اللہ عظیما کہ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے اور بڑا گناہ ہے۔ اور وجہ : اگر کوئی کہے اس میں بیویوں کی بڑی حق تلفی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کچھ بھی حق تلفی نہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت ﷺ کے بعد ان کا نان و نفقہ تو بیت المال کے ذمہ کردیا تھا اور آپ نے بھی اپنی حیات میں ان کو اس سے مطمئن فرمادیا تھا، اب رہی خواہش نفسانی سو اس سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو مستغنی فرمادیا تھا، انہی کے دل میں یہ ہوس باقی نہیں رکھی تھی۔ حضرت ﷺ کے بعد خود ان کو کسی کی بیوی بننا گوارا نہ تھا، اس صحبت کے بعد ان کو کس کی صحبت پسند آسکتی تھی۔ ذوق الطاف تو اے کاش نمی یافت دلم یاد ہر لحظہ تو اکنوں سبب صد الم ست اور وجہ : اور سب سے بڑھ کر ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہونے کی ایک اور وجہ ہے وہ یہ ہے کہ جس کام کے لیے یہ حضرت نبی ( علیہ السلام) کے نکاح میں آئی تھیں، یعنی علوم دینیہ سیکھنے اور پھر اس کو پھیلانے کے لیے یہ کام ان سے فوت ہوجاتا، کس لیے کہ یہ خانہ داری کے جھگڑوں میں اور بال بچوں کے جنجال میں پھنس کر اور دوسرے مرد کی پابند اور محکوم رہ کر کبھی اس کام کو سرانجام نہ دے سکتی تھیں اور ایک وجہ اور بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو گو موت عرفی عارض ہوئی انک میت و انہم میتون، مگر اس پر بھی ایک ایسی حیات ابدی حاصل تھی اور ہے کہ جو شہیدوں سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے، اس ہادی برحق کا تعلق اب بھی دنیا میں امت سے وہی ہے اور اسی لیے جسم اطہر کو خاک نہیں کھاسکتی اور اسی لیے بہت سے آثار غریب لوگوں نے مشاہدہ کئے ہیں۔ ان لحاظات سے آپ زندہ ہیں اور حیات النبی مشہور ہیں، پس زندہ کی بیوی کسی سے کیونکر نکاح کرسکتی ہے ؟ اور وجہ : ایک اور بھی وجہ ہے کہ بزرگوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرنا ان کی گستاخی ہے، اس کو طبائعِ سلیمہ برا جانتی ہیں اور اسی لیے ہندوئوں میں یہ مسئلہ مہاراجوں اور پیشوائوں کے لیے ایجاد ہوا تھا جو ان کے دیکھا دیکھی اور شرفائِ اہل ہند میں بھی رواج پایا گیا۔ غلط فہمی سے برہمنوں نے ازواج ثانی کو حرام کہہ دیا، مگر اسلام نے یہ بات خاص ازواج مطہرات ہی کے لیے رکھی ہے اور کے لیے نہیں ہاں طبیعت کا اختیار ہے، کچھ نکاح ثانی کے لیے مجبور بھی نہیں کیا ہے، مگر رسم ہنود اس کو ترک کرنا بھی ممنوع ہے۔ علماء کا اتفاق ہے کہ جو بیوی آپ کے نکاح میں آگئی، اس کا نکاح غیر سے حرام ہوگیا۔ خواہ صحبت کی ہو یا نہ کی ہو… بعض کہتے ہیں، اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو درست ہے کیونکہ اس مستعیذہ نے کہ جس کو صحبت سے پہلے آپ نے طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں اشعث بن قیس سے نکاح کیا جس کے سنگسار کرنے کا قصد کیا گیا، مگر جب یہ معلوم ہوا تو چھوڑ دیا گیا۔ (بیضاوی) اور لونڈیوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر حضرت ﷺ نے ان سے صحبت کی تو ان سے نکاح حرام ہے ورنہ نہیں، اس بارے میں خطرات قلبی سے دل پاک رکھنے کے لیے فرماتا ہے۔ ان تبدوا شیاء اوتخفوہ فان اللہ کان بکل شیئٍ علیما۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان عورتوں پر کچھ گناہ نہیں، اپنے باپ کے سامنے ہونے میں نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ اپنے ہاتھوں کے مال کے (یعنی غلاموں سے) اور اللہ سے ڈرتی رہا کرو۔ بیشک اللہ کے سامنے ہر چیز (موجود) ہے،

ترکیب : لا جناح استیناف، فی اباء ھن متعلق بمحذوف ای الدخول او مثلہ مایناسب المقام، واتقین اللہ استیناف او معطوف علی الکلام السابق لانہ فی معنی الانشاء و ان ترکناہ علی ظاہرہ فیجوز عطف الجملۃ الانشایۃ علی الجملۃ الخبریۃ عند الفصحاء، تسلیما مصدر موکد۔ تفسیر کن مردوں سے پردہ نہیں : آیت حجاب بظاہر عموم الفاظ کے لحاظ سے یہ کہتی تھی کہ ازواج مطہرات کے باپ بھائیوں، دیگر محارم سے بھی پردہ ہے اور اس میں بڑی وقت تھی، اس لیے اس آیت لاجناح علیہن فی آبائہن الخ میں اس بات کو ظاہر کردیا کہ ان لوگوں سے پردہ نہیں۔ اس آیت میں ہے کہ ازواج مطہرات کے باپوں اور ان کے بیٹوں سے عام ہے کہ حضرت سے ہوں یا ان کے پہلے خاوندوں سے ہوں اور ان کے بھائیوں سے عام ہے کہ عینی ہوں یا علاتی یا اخیافی یا رضاعی اور ان کے بھتیجوں سے اور ان کے بھانجوں سے اور ان کی خدمت گار عورتوں سے اور ان کے مملوک لونڈی غلاموں سے پردہ نہیں۔ خدمت گار عورتوں سے مراد علماء نے مسلمان عورتیں لی ہیں۔ بقرینہ اضافت نسائہن اور کافر عورتیں جو ازواج مطہرات کے سامنے جاتی تھیں تو ازواج مطہرات ان سے بجز منہ اور ضروری اعضاء کے سب بدن چھپاتی تھیں اور ماملکت میں بھی اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں، صرف لونڈیاں مراد ہیں۔ بعض کہتے ہیں لونڈی اور غلام دونوں بعض نے فیصلہ کیا ہے کہ نابالغ غلاموں کو اندر جانے کی اجازت تھی، اس مسئلہ کی کامل شرح سورة نور میں ہوچکی۔ اب کلام اس میں ہے کہ چچا اور ماموں کا کیوں ذکر آیت میں نہیں آیا، حالانکہ ان سے بھی پردہ نہیں ؟ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ ابائہن میں داخل ہیں، یعنی یہ بھی باپ عرف میں شمار کئے جاتے ہیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جمیع محارم کا ذکر سورة نور میں آچکا ہے۔ یہاں بعض کا ذکر کیا گیا۔ اس حکم کی تائید کے لیے فرماتا ہے۔ واتقین اللہ اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ سب باتوں میں خصوصاً پردہ کے امر میں کیونکہ ان اللہ کان علی کل شیئٍ شہیدا اللہ کے نزدیک ہر شے حاضر ہے کوئی بات اس سے مخفی نہیں، درحقیقت احکامِ الٰہی پر سرگرمی سے عمل جب ہی ہوسکتا ہے کہ جب انسان اس کو ہر وقت حاضر و ناظر سمجھے گا۔ اس حکم میں بھی اور عورتیں شریک ہیں، ان کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ پردہ میں رہا کریں اور بجز محرموں کے اور کوئی اندر نہ جایا کرے اور یہ بھی آواز دے کر۔ آنحضرت ﷺ کے ازواج مطہرات و اہل بیت اطہار کی تعظیم آنحضرت ﷺ کی تعظیم پر مبنی ہے، اس لیے اس کے بعد آنحضرت ( علیہ السلام) کی عزت و عظمت کا حال بیان فرما کر مسلمانوں کو اس کی رغبت دلاتا ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

البتہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ایمان والو ! تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجا کرو

ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی کا بیان : فقال ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجا کرتے ہیں۔ بخاری نے ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ سے مراد ملائکہ کے روبرو آپ کی ثناء و صفت کرنا ہے اور ملائکہ کی صلوٰۃ سے مراد دعا کرنا ہے اور ترمذی نے اپنی سنن میں سفیان ثوری وغیرہ بہت سے اہل علم سے نقل کیا ہے کہ اللہ کی صلوٰۃ سے مراد رحمت ہے اور ملائکہ کی صلوٰۃ سے استغفار ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نبی (علیہ السلام) کا وہ مرتبہ بتلاتا ہے جو اس کے نزدیک اور ملائِ اعلیٰ میں ہے کہ اللہ اس کی ثناء و صفت ملائِ اعلیٰ میں بیان کرتا ہے اور آپ پر رحمت بھیجا کرتا ہے اور ملائکہ آپ کے لیے دعا خیر کیا کرتے ہیں۔ پس مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ مقصد یہ کہ حضرت ﷺ کے ازواج اور ان کے متعلق احکام اور مخالفوں کے طعن سے یہ نہ سمجھ لینا کہ حضرت ﷺ بھی ایک معمولی آدمی ہیں، ہماری طرح سے آپ کے ساتھ بھی دنیاوی جھگڑے لگے ہوئے ہیں۔ نبی کو دنیاوی باتوں زن و فرزند سب سے الگ تھلگ رہ کر ملائکہ کی طرح رہنا چاہیے۔ یہ خیال نہ کرنا یہ باتیں بشریت کے لوازمات میں سے ہیں، روحانی طور پر آپ ملائکہ سے بھی بڑھ کر ہیں، کیونکہ عالم ملکوت کے بادشاہ اور اللہ تعالیٰ کے ایسے محبوب ہیں کہ وہ ملائکہ کے بھرے دربار میں آپ کی ثناء و صفت کرتا ہے اور دربار کے ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں اور مدح میں شریک ہوتے ہیں۔ ابحاث (1) صلوٰۃ کے معنی بلحاظ اللہ اور ملائکہ کے مختلف ہیں اور کتب اصول فقہ میں اس بات کو بڑے زور سے ثابت کیا ہے کہ ایک لفظ بول کر ایک ہی استعمال میں نہ تو حقیقی و مجازی دونوں معنی مراد لے سکتے ہیں، نہ ایک لفظ مشترک المعانی کے ایک سے زیادہ معنی مراد لے سکتے ہیں اور اس لفظ یصلون میں اللہ اور ملائکہ دونوں شریک ہیں اور لا محالہ دو معنی لینے پڑتے ہیں۔ پس اس کا جواب صاحب توضیح وغیرہ نے یہ دیا ہے کہ اس مقام پر ایک معنی مجازی ایسے وسیع مراد ہیں کہ جو حقیقی اور مجازی دونوں معنی کو شامل ہیں۔ صلوٰۃ کے لغوی معنی دعا کے ہیں اور یہی حقیقت لغوی ہے اور اس کے علاوہ مجازی اور وہ معنی مجازی ارادئہ خیر ہیں جو رحمت الٰہی اور استغفار و دعا، ملائکہ کو بھی شامل ہیں اور اسی معنی میں مسلمانوں کو اقتداء کرنے کا حکم ہوا ہے اور بعض 1 ؎ نے دوسرا لفظ یصلون محذوف مانا ہے۔ وفیہ و مافیہ۔ (2) بعض علماء کہتے ہیں کہ ضمیر واحد اور کلام واحد میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو ملانا جائز نہیں، مگر محققین کہتے ہیں اگر ملانا اس طور سے ہو کہ جس سے دونوں کی برابری سمجھی جاوے تو ممنوع ہے، جیسا کہ آپ نے اس خطیب کو کہ جس نے ومن یعصمھما کہا تھا۔ بئس الخطیب فرمایا کہ برا خطیب ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا۔ ومن یعص اللہ ورسولہ اور اس طرح سے نہیں تو جمع کرنا جائز ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ صیغہ یصلون میں اللہ اور ملائکہ دونوں شامل ہیں اور نیز صحیح بخاری میں آیا ہے کہ خیبر کے مقام پر آپ نے منادی سے کہا کہ یہ پکار دے ان اللہ و رسولہ ینہیانکم عن لحوم الحمر الاھلیۃ۔ یا ایھا الذین امنوا صلو علیہ وسلم وا تسلیما۔ جب اللہ اور ملائکہ آپ کی تعظیم کرتے ہیں تو ایماندارو تم بھی حضرت ﷺ پر درود بھیجو اور سلام۔ بخاری اور مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ کسی شخص نے حضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا حضرت ! آپ پر سلام کہنا تو ہم کو 2 ؎ معلوم ہوگیا ہے۔ صلوٰۃ تم پر کس طرح سے پہنچنی چاہیے، آپ نے فرمایا یوں کہو اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم انک حمید مجید اللہم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم انک حمید مجید اور ابن ابی شیبہ و عبداللہ بن حمید و احمد و نسائی نے طلحہ بن عبیداللہ سے آل ابراہیم بھی دونوں فقروں میں نقل کیا ہے اور دیگر احادیث صحیحہ میں اور طور سے بھی صلوٰۃ کا کہنا آیا ہے اور اسی طرح حضرت ﷺ کے صفات مختلفہ کو بھی اس میں شامل کیا ہے، مگر اکثر احادیث میں حضرت ﷺ کے ساتھ حضرت ﷺ کے آل پر بھی درود بھیجنے کا ذکر ہے۔ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں صلوا میں امر وجوب کے لیے آیا ہے، اس لیے سب کے نزدیک حضرت ﷺ پر درود بھیجنا واجب ہے، مگر اس کے اوقات و تعداد میں اختلاف ہے۔ مالک و طحاوی کے نزدیک عمر بھر میں ایک بار درود بھیجنا واجب ہے اور باقی مندوب اور بعض کہتے ہیں جس مجلس میں حضرت ﷺ کا ذکر آوے درود بھیجنا لازم ہے اور کرخی فرماتے ہیں، جب آپ کا نام سنے درود بھیجے اور اس میں احتیاط ہے۔ اور یہی جمہور کا قول ہے (مدارک) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک قاعدہ اخیرہ میں درود پڑھنا واجب ہے، اول میں سنت ہے۔ درود کے فضائل احادیث میں بکثرت وارد ہیں۔ گو حضرت ﷺ کو اس کی کچھ احتیاج نہیں بلکہ لوگوں کے فائدے کے لیے اس کا حکم دیا، خدا کے برگزیدہ لوگوں پر رحمت بھیجنے اور دعا کرنے سے اللہ اس دعا کرنے والے پر رحمت و برکت نازل کرتا ہے۔ دیکھو توریت سفر الخلیقہ کے بارہویں باب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے۔ قولہ ” اور میں تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا اور تو ایک برکت ہوگا اور ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں۔ برکت دوں گا اور اس کو جو تجھ پر لعنت کرتا ہے۔ لعنتی کروں گا “۔ الحمدللہ کہ یہ امت پنجگانہ نماز میں ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی برکت دیتی ہے۔ علماء کا اتفاق ہے کہ صلوٰۃ وسلام کا لفظ خاص آنحضرت ﷺ کے لیے ہے۔ تبعاً غیر پر بھی درست ہے، جیسا کہ عزوجل کا لفظ اللہ کے لیے مخصوص ہے اور ؓ صحابہ اور اہل بیت کے لیے اور (رح) اوروں کے لئے۔ 1 ؎ اور ہمارے نزدیک آیت میں دو معنی مراد نہیں بلکہ ایک کیونکہ اللہ صلوٰۃ بھیج رہا ہے جو اس کے مناسب ہے یعنی ثنا و صفت کرتا ہے اور ملائکہ اس بھرے دربار میں ہاں ہاں اور بجا بجا کرتے ہیں گویا دونوں مل کر ثناء و صفت کرتے ہیں 12 منہ 2 ؎ وہ تشہد میں آپ نے تعلیم فرمایا ہے یعنی التحیات میں السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ (ابن کثیر) 12 منہ
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں، ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو ایماندار مرد اور عورتوں کو ناکردہ گناہوں پر ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور بڑا گناہ اٹھایا۔

اس کے بعد حضرت ﷺ کو ایذا دینے والوں کی سزا بیان فرماتا ہے۔ ان الذین یوذون اللہ و رسولہ الخ کہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو آخرت میں ذلت کا عذاب ہوگا اور آپ کے ساتھ متبعین کا بھی رتبہ بیان فرماتا ہے۔ والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنات الخ کہ وہ جو ناحق مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں، ان پر بہتان لگتے ہیں اور صریح گناہ کا بار اٹھاتے ہیں۔
Ayahs 33:59–61

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، اس میں یہ ہوگا کہ وہ پہچانا جایا کریں گی، پھر ستائی نہ جاویں گی اور اللہ جو ہے تو معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافق اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں غلط خبریں اڑانے والے باز نہ آئیں گے تو آپ کو ہم ان کے پیچھے لگاویں 1 ؎ گے، پھر وہ اس شہر میں تیرے پاس نہ رہ سکیں گے، مگر بہت کم۔ پھٹکارے ہوئے 1 ؎ ان پر ابھار دیں گے۔

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

جہاں کہیں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مارے گئے۔

ترکیب : یدنین ھو مثل قولہ قل لعبادی یقیموا الصلوٰۃ فی ابراھیم فتذکرہ من جلا بیبھن للتبعیض فان المرۃ ترخی بعض جلبا بھا والبعض علی راسھا ثم لایج اور ونک عطف علیٰ نغرینک و ثم للدلاتہ علی ان الجلاء اشد علیھم من سائر المصائب۔ الاقلیلا زمانا اوجوار اقلیلا، ملعونین نصب علی او الحال والاستثناء یتنا ولہ لایجاورون الاملعونین۔ تفسیر : پیغمبر ( علیہ السلام) اور مومنین کی ایذاء کی برائی کے بعد ایذاء کے بعض اسباب دور کرنے کی تدبیر بتلاتا ہے۔ فقال یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین الخ ابن سعد نے طبقات میں ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت ﷺ کی بیویاں حاجت ضروری کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ (جب تک گھروں میں پاخانے نہ بنے تھے) اور منافق لوگ رستہ میں ان پر آوازے کستے تھے، یعنی چھیڑ چھاڑ کرتے تھے، اس کی بیویوں نے شکایت کی تو ان لوگوں سے کہا گیا کہنے لگے کہ ہم تو لونڈیوں کو چھیڑا کرتے ہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی، پردہ کے بعد بھی حاجت ضروریہ و شرعیہ کے لیے پردہ کے ساتھ عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت تھی۔ جیسا کہ بخاری کی اس حدیث سے سمجھا جاتا ہے کہ جس میں شب کو سودہ ؓ کے باہر جانے اور عمر ؓ کے باہر جانے کا ذکر ہے۔ پائخانے کو بھی جاتی تھیں، شب کے وقت نماز میں بھی شریک ہوتی تھیں، رستہ میں منافق چھیڑا کرتے تھے۔ یہ بھی بڑی ایذاء تھی۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ نبی کی بیویاں اور بیٹیاں اور مسلمانوں کی عورتیں جو بضرورت باہر نکلیں تو چادر میں چھپ کر نکلیں، تاکہ معلوم ہوجاوے کہ لونڈیاں نہیں بیویاں ہیں، کیونکہ لونڈیوں کا لباس اور ہوتا ہے، وہ کپڑا اس طرح سے اوڑھ کر نہیں نکلتی ہیں۔ اس لیے حضرت عمر ؓ نے ایک بار کسی لونڈی کو چادرے میں لپٹے ہوئے جاتے دیکھ کر فرمایا کہ کمبخت بیویوں کے مشابہ ہوا چاہتی ہے، اس کپڑے کو اتار۔ پھر بیوی سمجھ کر کوئی نہیں چھیڑتا تھا۔ جلابیب جمع جلباب بڑا کپڑا اوڑھنا وغیرہ کہ جس سے تمام بدن سر سے پائوں تک ڈھک جاوے۔ وکان اللہ غفوراً رحیما اور جو پردہ کے بارے میں کچھ قصور ہوجاوے بشریت سے تو اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ منافقوں کی ایک اور بھی ایذا رسانی تھی، وہ یہ کہ مدینہ میں طرح طرح کی خوفناک خبریں اڑا کر لوگوں کو پریشان کیا کرتے تھے کہ فلاں بادشاہ چڑھ کر آتا ہے وہ آکر یوں قتل عام کرے گا۔ فلاں قوم آتی ہے، ان سب کی نسبت فرماتا ہے۔ لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ کہ اگر یہ منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دل میں مرض ہے، شک و شبہ یا مرض زناکاری ہے اور وہ جو افواہیں اڑایا کرتے ہیں، باز نہ آویں گے تو لنغرینک بہم تو اے نبی ! تجھ کو ہم ان پر ابھاریں گے اور مسلط کریں گے۔ ثم لایج اور ونک فیہا الا قلیلا کہ پھر وہ تیرے پاس مدینہ میں بہت ہی کم رہنے پاویں گے۔ ملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلا اور مدینہ سے باہر نکل کر بھی خوش حال نہ رہیں گے، بلکہ ذلیل و خوار ہو کر جہاں کہیں پاویں پکڑے جاویں اور قتل کئے جاویں۔ یہ جملہ بطور تہدید کے ہے کہ اگر منافق اس بات سے باز نہ آویں گے تو جہاں پائے جاویں گے قتل کئے جاویں گے۔ والذین فی قلوبہم اور اس کے بعد جو جملے بطور عطف کے آئے ہیں، ان سے منافق ہی مراد ہیں۔ واؤ زائد ہے۔ جیسا کہ اس شعر میں ؎ الی الملک القرم و ابن الہمام ولیث الکتیبۃ فی المزوحم بعض کہتے ہیں کہ منافق کئی قسم کے مدینہ میں تھے۔ بعض وہ تھے کہ جن کے دل میں مرض تھا۔ زنا کاری کا وہ اسی لیے رستہ میں آتے جاتے عورتوں کو چھیڑا کرتے تھے اور بعض غلط افواہیں اڑایا کرتے تھے۔ الارجاف من الرجفۃ وھی الزلزلۃ سمی الاخبار الکاذب لکو نہ متزلزلاً غیر ثابت۔ بیضاوی۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جیسا کہ اللہ کا دستور چلا آیا ہے، پہلی امتوں میں اور اللہ کے دستور کو تو کبھی بدلا ہوا نہ پاوے گا۔

سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل کہ ہمیشہ سے اللہ کا دستور یوں ہی چلا آتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو غارت ہی کرتا ہے۔ ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلا اور اللہ کا یہ دستور کبھی نہیں پلٹے گا، اس کے بعد منافق اپنی اس حرکت بد سے باز آگئے تھے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ آپ سے قیامت کا وقت پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تجھے کیا خبر کہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔

ترکیب : قریباً 1 ؎ ای شیئا قریبا و انتصابہ علی انہ خبر کان، قریب فعیل وھو اذاکان فی معنی المفعول کما فی ھذہ الایۃ فیستوی فیہ المذکر والمؤنث کما فی قولہ تعالیٰ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین فلا یقال قریبۃ۔ وقیل المعنی تکون الساعۃ عن قریب ای فی زمان قریب وانتصابہ علی الظرفیۃ والتذکیر لکون الساعۃ فی معنی الیوم او الوقت مع ان الساعۃ لیس مونثا حقیقیا، یوم ظرف فیقولون الرسولا لرعایۃ الفواصل۔ 1 ؎ ولاحاجۃ اے التقدیر الشی الموصوف۔ تفسیر : آنحضرت ﷺ دنیاوی عذاب کے سواء قیامت کے عذاب سے بھی ان بدکاروں، سرکشوں کو خوف دلایا کرتے تھے، لیکن وہ بدبخت اس بات کو کب باور کرتے تھے۔ ہنسی اور تمسخر کی راہ سے پوچھتے تھے کہ وہ قیامت کب آوے گی، چناچہ ان آیتوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ فقال یسئلک الناس عن الساعۃ کہ لوگ آپ سے قیامت کا سوال کرتے ہیں کہ وہ کب ہو ؟ یہ سوال کرنے والے وہی بدکردار منافق تھے اور ان کے ساتھ اور کافر بھی شریک تھے۔ اس طرح سے سوال کرنے کا قرآن مجید میں بہت جگہ ذکر آیا ہے، کیونکہ منکر نظام عالم کا بگڑنا محال جانتے تھے اور قدم دہری کے قائل تھے اور پھر اس کو ابدی بھی جانتے تھے۔ جیسا کہ آج کل ہنود کے فرقے قائل ہیں اور مشرکوں میں یہ عقیدہ مدت سے چلا آتا ہے۔ قیامت کا وقت ایک مصلحت سماویہ کی وجہ سے مخفی رکھا گیا ہے، اس لیے اس کا تو کچھ بھی جواب نہیں دیا نہ یہاں نہ قرآن مجید میں اور کسی جگہ مگر اس آنے والی مصیبت کا حال بیان کردیا اور یہی مواقع انداز میں مناسب تھا اور اس جگہ گو وقت معین تو نہ بتلایا مگر یہ بات بتلادی کہ اس کا وقت بہت دور نہیں بلکہ قریب ہے، فقال انما علمہا عنداللہ وقال ومایدریک لعل الساعۃ تکون قریبًا۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے، میں اور قیامت اس طرح سے ہیں اور اپنی دو انگلیوں کو ملاکر دکھایا۔ (متفق علیہ) یعنی جس طرح سے یہ دونوں ملی ہوئی ہیں، اسی طرح قیامت کبریٰ اور میری بعثت ملی ہوئی ہے۔ غرض یہ کہ نزدیک زمانہ آگیا ہے۔ واضح ہو کہ احادیث صحیحہ میں موت کو بھی قیامت کہا ہے اور یہ قیامت صغریٰ ہے۔ من مات فقد قامت قیامتہ اور کبھی انقراض قرن کو بھی قیامت کہا ہے، اس کو قیامت وسطیٰ کہتے ہیں۔ اگر قیامت صغریٰ و وسطیٰ ہی مراد ہوں تو اس کا قرب آنکھوں کے سامنے ہے۔ انسان کی زندگی حباب کی بقاء سے کمتر ہے، مرتے ہی اس پر دار و گیر آخرت شروع ہوجاتی ہے۔ خود ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے، اس کا وقت کیا پوچھنا ؟
Ayahs 33:64–68

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

اللہ نے کافروں پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھا،

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے نہ کوئی حمایتی پاویں گے اور نہ مددگار،

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

اس دن کہ آگ میں ان کے منہ الٹ جاویں گے، کہنے لگیں گے، اے کاش ! ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہنا مانا سو انہوں نے ہم کو گمراہ کردیا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب ! ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔

ان اللہ لعن الکافرین الخ یہاں سے ان غفلت شعار لوگوں کا وہ معاملہ بیان فرماتا ہے جو آخرت میں بہت جلد ان کے سامنے آنے والا ہے کہ یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، ان کو اس بلا سے وہاں کوئی نہ چھڑا سکے گا، اس روز آگ میں ان کے منہ الٹے پلٹے جاویں گے۔ منہ سے مراد ان کی ذات ہے، یعنی وہ الٹے پلٹے جاویں گے کہ جس طرح کباب کو بھونتے وقت الٹا پلٹا کرتے ہیں، یہ دنیا میں ان کے الٹنے پلٹنے کی سزا ہے کہ کبھی کچھ کبھی کچھ کرتے تھے جو نفاق کی شان ہے اور وہاں ان کو اپنے مذہب اور اس کے پیشوائوں کا حال معلوم ہوگا کہ انہوں نے ہم کو مفت بد راہ کیا، اس لیے جل کر کہیں گے کہ خداوند ان کو دوگنا عذاب دے، ایک ان کی گمراہی کا دوسرا ہمارے گمراہ کرنے کا۔